Al-Ahzaab 33:36

Al-Ahzaab · from ayah 36

33:36

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ؕ— وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا ۟ؕوَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is not for a believing man or a believing woman, when Allah and His Messenger have decided a matter, that they should [thereafter] have any choice about their affair. And whoever disobeys Allah and His Messenger has certainly strayed into clear error.

— Saheeh International

Juz 22 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ahzaab

All translations of 33:36

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملہ میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ یقینا صریح گمراہی میں جا پڑا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کسی مومن یا مومنہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو ان کے لے اس میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور روا نہیں کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے جب کہ فیصلہ فرما دے اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں یہ بات کہ ان کو اس کے بعد بھی اختیار حاصل رہے اپنے اس معاملے میں اور جس نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی تو یقینا (اس نے اپنا ہی نقصان کیا کہ یقینی طور پر) وہ پڑگیا کھلی گمراہی میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور کسی مومن یا مومنہ کے لئے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑا اور (اس وقت کو بھی یاد کیجیے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔ } اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

— محترمہ رفعت اعجاز

It does not behove a believer, male or female, that when Allah and His Messenger have decided an affair they should exercise their choice. And whoever disobeys Allah and His Messenger has strayed to manifest error.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is not open for a believing man or a believing woman, once Allah and His messenger have decided a thing, that they should have a choice about their matter; and whoever disobeys Allah and His messenger, he indeed gets off the track, falling into an open error.

— Muhammad Taqi Usmani

It is not open for a believing man or a believing woman, once Allah and His messenger have decided a thing, that they should have a choice about their matter; and whoever disobeys Allah and His messenger, he indeed gets off the track, falling into an open error.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is not for a believer, man or woman, when Allah and His Messenger have decreed a matter that they should have any option in their decision. And whoever disobeys Allah and His Messenger, he has indeed strayed into a plain error.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And it becometh not a believing man or a believing woman, when Allah and His messenger have decided an affair (for them), that they should (after that) claim any say in their affair; and whoso is rebellious to Allah and His messenger, he verily goeth astray in error manifest.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is not for a believing man or a believing woman, when Allah and His Messenger have decided a matter, that they should [thereafter] have any choice about their affair. And whoever disobeys Allah and His Messenger has certainly strayed into clear error.

— Saheeh International

The believing men and women must not feel free to do something in their affairs other than that which has been already decided for them by God and His Messenger. One who disobeys God and His Messenger is in plain error.

— Muhammad Sarwar

And it behoves not a believing man and a believing woman that they should have any choice in their matter when Allah and His Apostle have decided a matter; and whoever disobeys Allah and His Apostle, he surely strays off a manifest straying.

— Muhammad Habib Shakir

And it is not for a believing man or a believing woman, when Allah and His apostle have decreed an affair, that they should have any choice in their affair. And whosoever disobeyeth Allah and His apostle hath strayed with a manifest straying.

— Abdul Majid Daryabadi

It is not fitting for a Believer, man or woman, when a matter has been decided by Allah and His Messenger to have any option about their decision: if any one disobeys Allah and His Messenger, he is indeed on a clearly wrong Path.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 33:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حضور ﷺ کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت زید بن حارث ؓ کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا " میں اس سے نکاح نہیں کروں گی آپ نے فرمایا ! ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کرلو۔ حضرت زینب ؓ نے جواب دیا کہ اچھا پھر کچھ مہلت دیجئے میں سوچ لوں۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر حضرت زینب ؓ نے فرمایا۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ اس نکاح سے رضامند ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ تو حضرت زینب ؓ نے جواب دیا کہ بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا اور روایت میں ہے کہ وجہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَحْزَاب 65 یہاں سے وہ آیات شروع ہوتی ہیں جو حضرت زینب سے نبی ﷺ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں۔ سورة الْاَحْزَاب 66 ابن عباس، مجاہد، قَتادہ، عِکْرِمَہ اور مقاتل بن حَیّان کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لیے حضرت زینب ؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تھا اور حضرت زینب ؓ اور ان کے رشتہ داروں نے اسے نامنظور کردیا تھا۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے یہ پیغام دیا تو حضرت زینب ؓ نے کہا، انا خیر منہ نسباً ، " میں اس سے نسب میں بہتر ہوں "۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ انہوں نے جواب میں یہ بھی کہا تھا کہ لا ارضاہ لنفسی وانا ایّم قریش "۔ میں اسے اپنے لیے پسند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو گنجائش نہیں جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا (گو وہ دنیا ہی کی بات کیوں نہ ہو وجوباً) حکم دے دیں کہ (پھر) ان (مومنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی) رہے (یعنی اس اختیار کی گنجائش نہیں رہتی کہ خواہ کریں یا نہ کریں بلکہ عمل ہی کرنا واجب ہوجاتا ہے) اور جو شخص (بعد حکم وجوبی کے) اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا اور (اس وقت کو یاد کیجئے) جب آپ (فہمائش و مشورہ کے طور سے) اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا (کہ اسلام کی توفیق دی جو انعام دینی ہے اور غلامی سے چھڑایا کہ نعمت دنیویہ ہے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وما کان لمومن ولا مامنۃ اذا تضی اللہ ورسولہ امرا این یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعض اللہ ورسولہ فقد صل ضللا مبینا (36) یہ آگے آنے والے واقعہ کی تمہید ہے اور اس میں جو بات فرمائی گئی ہے کہ اس کا تعلق خاص حضرت زید ؓ و حضرت زینب ؓ سے نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت ایک کلیہ کی ہے۔ اوپر آیت 6 میں فرمایا ہے کہ النبی اولی بالمومنین من انفسھم (نبی کا حق مومنوں پر خود ان کے اپنے مقابل میں زیادہ ہے) اسی کی روشنی میں یہ قطعی اصول بیان فرمادیا کہ جب اللہ اور رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو اس میں کسی مومن یا مومونہ کے لے کسی چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36-1یہ آیت حضرت زینب ؓ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ ، جو کہ اصلا عرب تھے، لیکن کسی نے انھیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا لیکن نبی ﷺ سے حضرت خدیجہ کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انھیں رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کردیا تھا۔ آپ ﷺ نے انھیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی ﷺ نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کو نکاح کا پیغام بیجھا، جس پر انھیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وضاحت کی بنا پر تامل ہوا، کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

31: یہ آیت کریمہ چند ایسے واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی جن میں حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے بعض صحابہ کے لیے کسی خاتون سے رشتہ دیا، مگر وہ خاتون یا ان کے رشتہ دار شروع میں اس رشتے پر راضی نہیں ہوئے۔ حافظ ابن کثیر نے یہ واقعات تفصیل سے بیان کیے ہیں، اور ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جن صحابہ کے نکاح کا پیغام دیا تھا، ان میں کوئی خرابی نہیں تھی، لیکن خاتون یا ان کے گھر والوں نے صرف اپنی خاندانی یا مالی فوقیت کی وجہ سے شروع میں ان کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ دوسری طرف حضور نبی کریم ﷺ غالباً یہ چاہتے تھے کہ لوگ صرف اپنی خاندانی یا مالی فوقیت کی وجہ سے اچھے رشتوں سے انکار کرنے کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 191 ایک نظر میں یہ سبق بھی اسلامی سوسائٹی اور اسلامی جماعت کے درمیان باہم روابط کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ یہ سبق دراصل اسلامی سوسائٹی سے رسم تنبیت کو ختم کرنے اور نئے اسلامی معاشرے میں روابط کو اپنے حقیقی اصولوں پر قائم کرنے کیلئے ہے۔ اللہ نے اس رسم کو ختم کرنے کے لئے ، اس کا عملی آغاز خود نبی ﷺ سے کرایا۔ اہل عرب کے اندر یہ رواج تھا کہ جس طرح بیٹے کی مطلقہ حرام ہوتی ہے اسی طرح معبنی (منہ بولے بیٹے) کی مطلقہ بھی اس شخص پر حرام سمجھی جاتی تھی۔ اسلامی معاشرے میں معبنی کی مطلقہ عورت کو حلال قرار دینے کے لیے کسی مثال اور نظیر کا پایا جانا ضروری تھا۔ کسی مثال کے بغیر محض قانون بنانے سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 حضرت زینب ؓ امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تھیں آنحضرت ﷺ نے چاہا کہ ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کردیں۔ یہ زید اصل سے شریف عرب تھے۔ لیکن لڑکپن میں کوئی ظالم ان کو پکڑ لایا اور غلام بنا کر مکہ کے بازار میں بیچ گیا۔ حضرت خدیجہ ؓ نے خرید لیا اور کچھ دنوں بعد آنحضرت ﷺ کو ہبہ کردیا۔ جب یہ ہشیار ہوئے تو ایک تجارتی سفر کی تقریب سے اپنے وطن کے قریب سے گزرے، وہاں ان کے اعزہ کو پتہ لگ گیا۔ آخر ان کے والد، چچا اور بھائی حضرت کی خدمت میں پہنچے کہ آپ ﷺ معاوضہ لے کر ہمارے حوالہ کردیں، فرمایا کہ معاوضہ کی ضرورت نہیں، اگر تمہارے ساتھ جانا چاہے خوشی سے لے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب آئندہ آیات میں حضور اکرم ﷺ سے حضرت زینب رض کے نکاح سے متعلق معاملے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ پہلے رکوع میں اس مضمون کی تمہید کے طور پر ُ منہ بولے بیٹے کے بارے میں مختصر حکم آیا تھا ‘ لیکن یہاں پر اس معاملے کے تمام اہم پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثلاً پہلے حضور ﷺ کے حکم اور خواہش کے مطابق حضرت زینب رض کا نکاح حضرت زید رض بن حارثہ سے ہونا ‘ بعد میں ناچاقی کی شکایت پر بھی حضور ﷺ کا حضرت زید رض کو طلاق نہ دینے کی ہدایت کرنا ‘ پھر حضور ﷺ کا یہ سوچنا کہ چونکہ میں نے اصرارکر کے نکاح کروایا تھا ‘ اس لیے اب اگر طلاق ہوئی تو حضرت زینب رض کے لیے اس کے علاوہ تلافی کی کوئی صورت نہیں ہوگی کہ میں خود ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

55 آزاد شدہ غلاموں کا معاشرہ میں مقام :۔ اس سورة کے آغاز میں پہلے بتایا جاچکا ہے کہ عرب معاشرہ میں کثیر تعداد غلاموں کی تھی۔ اور غلاموں کو ایک حقیر اور دوسرے درجہ کی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی غلام آزاد کردیا جاتا، جسے مولیٰ کہا جاتا تھا، تو بھی آزاد لوگوں کا معاشرہ اسے اپنے آپ میں جذب کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ اسلام اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کرنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس اصلاح کا آغاز نبی کی ذات اور اس کے گھرانہ سے کیا جائے۔ خ سیدہ زینب کا اللہ اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا :۔ آپ کا ایک غلام زید بن حارثہ تھا جسے آپ نے آزاد کرنے کے بعد اسے اپنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ حکم کا اطلاق عمومی ظاہر ہے۔ اس اعلان عام کے علاوہ اشارہ ایک واقعہ خاص کی جانب بھی ہے۔ زینب بنت جحش خاندان بنی اسد سے رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد تھیں۔ حسن صورت میں ممتاز لیکن ساتھ ہی مزاج کی بھی تیز، آپ ﷺ نے انکانکاح زید بن حارثہ ؓ صحابی سے کردینا چاہا۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب خصوصی تھے۔ یہاں تک کہ مدتوں عوام میں زید بن محمد کرکے مشہور رہے، لیکن ایک زمانہ میں نصرانی غلام رہ چکے تھے۔ اور پھر صورت کے لحاظ سے بھی کچھ ممتاز نہ تھے۔ زینب اور ان کے بھائی کو نکاح اپنے شرف نسب کی بناء پر، ان آزاد شدہ غلام کے ساتھ پسند نہ آیا۔ تامل کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب رسول ایک امر کا فیصلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–40

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن اور فرمانبردار مرد اور فرمانبرادر عورتیں اور ایمان میں مخلص مرد اور مخلص عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے اولی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور زندہ رکھنے والی عورتیں اور حرام سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے معاصی سے مغفرت اور اطاعت پر اجر عظیم تیار کر رکھا ہے، اور (دیکھو) کسی مومن مرد اور مومن عورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان لمؤمن ولا مؤمنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم اور جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا قطعی حکم دے دیا ہو تو پھر کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کو اپنے امر کا خود اختیار نہیں رہتا۔ نزول آیت کے بعد حضرت زینب راضی ہوگئیں اور انہوں نے مان لیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے زید کو بازار عکاظ سے خریدنے کے بعد آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا ‘ پھر حضرت زینب کو پیام نکاح بھیجا۔ حضرت زینب نے خیال کیا کہ اپنے ساتھ نکاح کا پیام بھیجا ہے ‘ اس لئے راضی ہوگئیں لیکن بعد کو معلوم ہوا کہ زید کی طرف سے پیام بھیجا ہے تو آپ کو ناگوار ہوا اور انکار کردیا اور زینب کے بھائی عبد اللہ بن جحش…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حضرت زید اور حضرت زینب کو جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے آپس میں شادی کرنے کا حکم دے دیا اب دونوں کو اس کے خلاف کرنے میں کوئی اختیار نہیں رہتا۔ اور جو حکم خداوندی میں اس کے خلاف ورزی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑا۔ شان نزول : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ (الخ) امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت زید کے لیے حضرت زینب کو نکاح کا پیغام دیا وہ سمجھیں کہ آپ اپنی ذات کے لیے پیغام دے رہے ہیں جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ آپ حضرت زید کے لیے پیغام دے رہے ہیں تو انہوں نے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ۔۔ : ”الْخِـيَرَةُ“ ”تَخَیَّرَ یَتَخَیَّرُ“ (تفعّل) کا مصدر ہے، جیسا کہ ”تَطَیَّرَ“ کا مصدر ”اَلطِّیَرَۃُ“ ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں، اس وزن پر اس باب سے یہی دو مصدر آتے ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے کا یا اپنے سے الگ ہونے کا اختیار دیں، تاکہ واضح ہوجائے کہ آپ ﷺ اپنی ذات کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ اب فرمایا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بیویوں کو ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا گیا، اس طرح ہر آدمی کو ہر کام میں آپ ﷺ کا حکم ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ہے۔ بلکہ کچھ کام ایسے ہیں جن میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قتادہ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت حجش کو دعوت نکاح دی وہ آپ ﷺ کی پھوپھی زاد تھیں حضرت زینب نے یہ گمان کیا کہ دعوت نکاح حضور ﷺ نے اپنے لیے دی ہے جب انہیں یہ پتہ چلا کہ حضور ﷺ حضرت زید کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا، انکار کیا اور ایسا کرنے سے مانع ہوگئیں، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس وقت حضرت زینب نے بات مان لی اور حضرت زید سے شادی کرلی۔ ایک روایت میں ہے یہ خود بھی اس سے انکاری ہوئیں اور انکا بھائی عبدا للہ بھی اس سے انکاری ہوا کیونکہ قریش میں ان کا بڑا ذیشان خاندان تھا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ماننا واجب ہے 1۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے تاکہ زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیں۔ آپ زینت بنت جحش ؓ کے پاس تشریف لائے اور اس کو نکاح کا پیغام دیا تو اس نے کہا میں اس سے نکاح نہیں کروں گے آپ نے فرمایا اس سے نکاح کرلو زینب نے عرض کیا یارسول اللہ میں اپنے بارے میں مشورہ کروں گی ابھی دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت اتاری آیت وماکان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا اور جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا قطعی حکم دیدیا ہو تو ہر کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اپنے امر کا خود…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ [اور نہیں ہے ] لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ [کسی مومن مرد اور نہ ہی کسی مومن عورت کے لئے ] اِذَا قَضَى [جب فیصلہ کر دے ] اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ [اللہ اور اس کا رسول ] اَمْرًا [کسی معاملہ کا ] اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ [کہ ہو ان کے لئے ] الْخِـيَرَةُ [اختیار ] مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ [ان کے کام میں ] وَمَنْ يَّعْصِ [اور جو نافرمانی کرتا ہے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ اور اس کے رسول کی ] فَقَدْ ضَلَّ [تو وہ بھٹک گیا ہے ] ضَلٰلًا مُّبِيْنًا [صریحا بھٹکنا ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 36 ۔ اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی ﷺ نے حضرت زید ؓ کے لئے بی بی زینب ؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تھا اور بی بی زینب ؓ ور ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہوجائے تو اس پر عمل کرنا لازم ہے، خلاف ورزی کرنا جائز نہیں عرب میں یہ دستور تھا کہ دوسروں کی اولاد کو بیٹا بنالیا کرتے تھے اور جو شخص بیٹا بناتا تھا اسی کی طرف نسبت کرکے اِبْنِ فُلاَنٍ کہتے تھے، اور ایک رواج یہ بھی تھا کہ لوگ چلتے پھرتے کسی بچہ کو لے کر کسی شہر میں لے جاتے جہاں کوئی پہچانتا نہ ہوتا وہاں اسے اپنا غلام بنا کر بیچ دیتے تھے۔ زید بن حارثہ ؓ کا تعارف زید بن حارثہ ؓ اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جا رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے ان پر قبضہ کرلیا جبکہ ان کی عمر آٹھ سال تھی، پھر انہیں مکہ معظمہ لے آئے اور سوق بنی عکاظ میں (جو مکہ معظمہ کے قریب ایک بازار لگتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بیان حرمت اعراض وعدول از فیصلہ خدا و رسول ﷺ کہ ایں نوعے است از انواع ایذاء رسول ﷺ قال اللہ تعالیٰ وما کان لمومن ولامومنۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان اللہ بکل شیء علیما۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسلمین اور مسلمان اور مومنین اور مومنات کے لئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور اسلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کے حوالہ اور سپرد کر دے اور خدا اور رسول جو حکم دیں۔ دل وجان سے بسرو چشم اس کو قبول کرے اور بجالائے مرد ہو یا عورت ہو جب خدا کا رسول کوئی حکم دے تو ایمان اور اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سامنے سر جھکا دیں غرض یہ کہ اس آیت میں خدا و رسول کے فیصلہ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ وما کان الخ، یہ ترک اطاعت پر تخویف و تہدید ہے مومن مرد و عورت دل و جان سے اسے تسلیم کرنے میں توقف نہ کرے جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–37

گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی ان صفات کا ذکر کیا جن کے ذریعے وہ کمال حاصل کرسکتے ہیں اور ان صفات کو اسلام کی بنیادی قدریں قرار دیا اس سے پہلے اللہ نے ازواج مطہرات کی حیثیت اور مرتبے کو بیان فرمایا اور ان کی کوتاہیوں پر تنبیہ فرمائی۔ پیشتر ازیں غزوہ خندق کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی۔ اس سے بھی قبل اللہ نے نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا ذکر کیا اور امت کو خبردار کیا کہ نبی کے اعزازو اکرام کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قول و فعل سے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کو اذیت پہنچے۔ اب آج کی آیات میں بھی یہی مضمون مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔ ارشاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا۝ 3 6ۭ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

اس کے بعد علی العموم مرشد برحق یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ فقال و ماکان لمومن ولا مؤمنۃ اذا قضٰی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلالا مبینا کہ کسی مومن مرد اور عورت کو اللہ اور رسول کے حکم دینے کے بعد یہ مجازباقی نہیں رہتا کہ اس کو عمل میں نہ لاوے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو صریح گمراہی میں پڑتا ہے، کیونکہ مرشد کامل اور ہادی برحق کے خلاف کرنا گمراہی میں پڑنا ہے۔ یہ ایک عام حکم ہے جو احکام سابقہ کے لیے سربمہر ہے، نہ اس میں زینب ؓ کے نکاح کا ذکر ہے نہ کسی اور کا، مگر مفسرین نے اپنی عادت کے موافق (کہ وہ آیت کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلاَ مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّـکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا۔ (الاحزاب : 36) (کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کردیں تو ان کے لیے اس معاملہ میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑگیا۔ ) آیت کا پس منظر اس آیت کا ایک خاص پس منظر ہے اور وہی اس کا شان نزول بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ جو انسانوں کے انفرادی اور اجتماعی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں ذکر ہونے والے اوصاف حمیدہ کا تقاضا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن کہلوانے کا حق نہیں رکھتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کو اپنے لیے قطعی اور آخری فیصلہ تسلیم نہ کرلے۔ نبی نے معاشرے میں سماجی اونچ نیچ ختم کرنے کے لیے اپنے متبنّٰی بیٹے زید کے لیے حضرت زینب کا رشتہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے طلب کیا زینب ؓ اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے اسے ناپسند جانا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم قریش کے رؤسا ہیں اور زید ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت زینب آپ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھی انہوں نے نکاح کے پیغام کے ردعمل میں یہ الفاظ کہے کہ ” اَنَا خَیْرٌ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: : رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ کے نکاح کا پیغام اپنی پھوپھی زاد زینب بنت حجش کو بھیجا۔ ان کے بھائی عبداللہ بن حجش نے انکار کیا تو یہ نازل ہوئی۔ وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ (کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لئے گنجائش نہیں) یعنی کسی مومن و مومنہ کیلئے درست نہیں۔ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا (جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں) کاموں میں سے کسی کام کا۔ اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ (کہ ان کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار رہے) کہ وہ اس معاملہ میں جس بات کا چاہیں چنائوکریں بلکہ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی رائے کو رسول ﷺ کی رائے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 36، وماکان لمؤمن ولا مؤ منۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیر ۃ من امرھم، اس آیت کا نزول زینت بنت حجش اسدیہ اور اس کے بھائی کے متعلق ہوا۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ بن حجش تھا اور ان کی ماں امیہ بنت عبدالمطلب آپ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ ﷺ نے حضرت زینت کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجا اور وہ اس پر راضی ہوگئی۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے لیے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے۔ اس لیے راضی ہوگئیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ زید کی طرف سے پیغام بھیجا ہے تو آپ کونا گوار ہوا اور انکار کردیا اور زینت کے بھائی عبد اللہ بن حجش نے بھی یہ رشتہ پسند نہیں کیا۔ حضرت زینت اور ان کے بھائی عبد اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–40

36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 36 جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لئے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ (اذا قضی اللہ ورسولہ امرا) ” جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کردیں “ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو (ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم) ” ان کے لئے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے “ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں ؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اللہ اور رسول کا حکم ماننا واجب ہے قول باری ہے (وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا اقضی اللہ ورسولہ امر ا ان لیکون لھم الخیرۃ من امرھم) کسی مومن یا مومنہ کے لئے یہ درست نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی امر کا حکم دے دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے اوامروجوب پر محمول ہوتے ہیں اس لئے کہ آیت میں اس بات کی نفی کردی گئی ہے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے اوامر کو ترک کرنے کا کوئی اختیار ہوتا ہے۔ اگر یہ اوامروجوب پر محمول نہ ہوتے تو ہمیں ان کو ترک کرنے اور ان پر عمل کرنے کا اختیار ہوتا جبکہ آیت نے اس اختیار کی نفی کردی ہے۔ خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 مومن کے ایمان کا اصل اور اہم تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن کے لیے کسی اختیار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی مسلمان مرد یا عورت کی یہ شان نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اس کیلئے کوئی اختیار باقی رہ جائے "۔ یہ آیت کریمہ حضرت زینب بنت حجش ۔ ؓ ۔ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ آنحصرت ﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ کے لئے حضرت زینب کو منگنی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کردیا کہ ان کا تعلق قریش کے اونچے خاندان سے تھا۔ وہ رسول اللہ کی پھوپھی حضرت امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی تھیں جبکہ حضرت زید ؓ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–36

مرد اور عورتیں ثواب میں برابر ہیں تشریح : ان آیات میں مردوں اور عورتوں کو عبادات اور ان پر ملنے والے ثواب میں برابر شمار کیا گیا ہے یہاں خاص طور سے ہر عبادت میں مرد و عورت کا ذکر کر کے اس بات کو پکا کردیا گیا ہے کہ عبادات میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ کے ذکر کو کثرت سے کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مثلاً یہ وضو کی قید سے آزاد ہے۔ وقت، سمت، جگہ اور رکوع و سجود کی قید سے آزاد ہے۔ بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور دنیاداری کا ہر کام عبادت میں شمار ہونے لگتا ہے۔ دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ دیگر عبادات یعنی ارکان اسلام توحید،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–40

آیات 35 تا 40 اسرارومعارفف مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے : چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 کہ چاہے اس پر عمل کرے اور چاہے نہ کرے بلکہ ہرحال میں عمل کرنا ضروری ہے۔ ( دیکھئے قصص : 68)3 ابن جریر (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے زید ؓ بن حارثہ کے لئے حضرت زینب ؓ بن حجش کو پیغام نکاح دیا۔ مگر حضرت زینب ؓ نے اپنی شان کے خلاف سمجھ کر اس نکاح سے انکار کردیا۔ آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے فرمایا :” بلی فانکحیہ “ ( کیوں نہیں، تم ان سے ضرور نکاح کرو) اس پر حضرت زینب ؓ نے کہا : ” اچھا میں اس پر غور کروں گی “ یہ گفتگو جاری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت زینب ؓ نے عرض کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے یہ فیصلہ منظور ہے۔ آیت کی شان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(33:36) ماکان لمؤمن۔ مومن مرد کا حق نہیں ہے۔ مومن مرد کے لئے یہ درست نہیں ہے۔ قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب، قضا وقضاء مصدر۔ قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینا۔ اس کی چار اقسام ہوسکتی ہیں۔ (1) قضاء قولی (الٰہی) ۔ (2) قضاء قولی (بشری) ۔ (3) قضاء عملی (الٰہی) قضاء ارادی (الٰہی ) بھی ہوسکتا ہے۔ (4) قضاء عملی (بشری) ۔ (1) قضاء قولی (الٰہی) کی مثال :۔ وقضی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ (1 7:23) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد نے فرمایا۔ کہ اس کے سوا کو کی عبادت نہ کرو۔ (2) قضاء قولی (بشری) کی مثال قضی الحاکم بکذا۔ حاکم نے فلاں فیصلہ کیا۔ (3) قضاء عملی (الٰہی) کی مثال :۔ واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 40 الخیرۃ : اختیار امسک : روک لے مبدی : ظاہر کرنے والا وطر : حاجت زوجنا : ہم نے نکاح کردیا ادعیاء : بلاتے ہیں۔ پکارتے ہیں یبلغون : وہ پہنچاتے ہیں یخشون : وہ خوف رکھتے ہیں۔ ڈرتے ہیں حسیب : حساب لینے والا تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 ان آیات میں حضرت زید ؓ ابن حارثہ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، طلاق ، پھر اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح ، منہ بولے بیٹوں کی شرعی حیثیت کے اہم ترین مسئلوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ حضرت زید ؓ ابن حارثہ بنو کلب کے حارثہ ابن شراحیل کے بیٹے تھے ۔ والد کا نام سعدٰی بنت ثعلبی تھا اور ان کا تعلق قبیلہ طے کی شاخ بنی معن سے تھا ۔ جب حضرت زید…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 1) شان نزول : یہ آیت حضرت زینب بنت حجش ؓ اسدیہ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، ایک مرتبہ حضور پرنور نے زید بن حارچہ کی جن کو نبی ﷺ نے آزاد کیا تھا، اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے نبی ﷺ نے زینب سے جو آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں منگنی کرنی چاہی، انہوں نے انکار کیا اور عرض کرنے لگیں، یارسول اللہ میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں اور قریش کی سردار ہوں میں اپنے لیے زید کو پسند نہیں کرتی ، ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش نے بھی انکار کیا، اس وقت میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئیں کہ جب خدا اور رسول ایک بات کا حکم دے چکے تو پھر ایمان والوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[35] حکم کا اطلاق عمومی ظاہر ہے۔ اس اعلان عام کے علاوہ اشارہ ایک خاص واقعہ کی جانب بھی ہے۔ زینب بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ ؓ سے کرنا چاہا جو آپ کے صحابی اور منہ بولے بیٹے تھے اور مدتوں عوام میں زید بن محمد ﷺ نام سے مشہور رہے لیکن ایک زمانے میں وہ غلام رہ چکے تھے۔ زینب اور ان کے بھائی کو اپنے حسب و نسب کی بناء پر آزاد شدہ غلام سے نکاح پسند نہ تھا لہذا تامل کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت اتری۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–36

مرد اور عورت دونوں برابر کے مکلف ہیں ! 1: مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کی زندگی کے دائرے الگ الگ ہیں ۔ مگر جہاں تک اخلاق وروحانیت کا تعلق ہے ۔ دونوں کے لئے مراتب میں بڑھنے کے لئے شریعت کے دورازے کھلے ہیں ۔ دونوں اسلام وایقان کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں ۔ دونوں شیوہ اطاعتکو وہ تیار کرسکتے ہیں ۔ دونوں کے لئے صدق وصفاضروری ہے ۔ دونوں صبر اور شکر کے زیور سے آراستہ ہوسکتے ہیں ۔ دونوں کے لئے صدقات ، صوم وصلوٰت کے باب وا ہیں ۔ دونوں برابر کے مکلف ہیں ۔ کہ اپنی خواہشات نفس کو قابو میں رکھی ۔ دونوں ذکروفکر کی پاک وادیوں میں گامزن ہوسکتے ہیں ۔ یعنی تمام فیوض وبرکات سے بہرہ مندی کا استحقاق دونوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36۔ اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو یہ بات لائق اور مناسب نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا حکم دے دے تو پھر ان مومن مردوں یا عورتوں کو اس کام کا کوئی اختیار باقی رہے اور جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہوا تو یقینا وہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑا ۔ یعنی جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حکم کر دے تو بھی مومن مرد یا مومن عورت کو اختیار شرعی باقی نہیں رہتا کہ چاہے اس کام کو کرے یا نہ کرے بلکہ اس حکم کی تعمیل واجب ہوتی ہے اور جو کوئی اس حکم کے بجا لانے میں سرتابی یا پس و پیش کرے گا تو ایسا کرنے والا صریح گمراہی میں مبتلا ہوگا یعنی حکم کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اگلی آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ جب گزشتہ آیت کے نزول پر نکاح منظور کرلیا گیا تو اتفاق سے باہم مزاجوں میں توافق نہ ہوا۔ حضرت زید ؓ نے طلاق دینا چہا، اور حضور ﷺ سے مشورہ کیا، آپ نے فہمائش کی کہ طلاق مت دو ، مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی آخر پھر طلاق کا عزم ظاہر کیا۔ اس وقت آپ کو وحی سے معلوم ہوا کہ زید ضرور طلاق دیں گے اور زینب کا آپ سے نکاح ہوگا، اور اس وقت مصلحت بھی یہی تھی کیونکہ اول تو یہ نکاح خلاف مرضی ہونے سے موجب رنج طبعی ہوا تھا پھر اس پر طلاق دینا اور زیادہ موجب کلفت و دل شکنی تھا، اس دل شکنی کا تدارک جس سے حضرت زینب کی اشک شوئی ہوسکتی تھی اس سے بہتر اور کوئی نہ تھا کہ حضور ان سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

(حاشیہ گزشتہ صفحہ) 11 ۔ ام المومنین صفیہ ؓ کا مختصر حال صفیہ بنت حی بن اخطب بن شعبہ سبط ہارون (علیہ السلام) تھیں۔ ان کی والدہ کا نام برہ بنت سموال تھا ان کا پہلا نکاح سلام بن مشکم سے ، دوسرا نکاح کنانہ بن ابی الحقیق سے ہوا۔ وہ جنگ خیبر میں مارا گیا تھا اور حضرت صفیہ اس جنگ کے سبایا میں تھیں۔ وحید کلبی کو دحیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے نے عرض کیا کہ مجھے ایک عورت ملک یمین سے مل جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لے لو۔ انہوں نے صفیہ کو لینا چاہا لیکن اس میں اختلاف رونما ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سیدہ ہے اور ایسی عورت دحیہ کو مل جانے کی کوئی وجہ ؟ اس بحت وتمحیص کے بعد یہ طے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It has been repeatedly explained earlier that the majority of injunctions appearing in Surah Al-Ahzab relate to the reverence, love and perfect obedience of the Holy Prophet ﷺ or to the prohibition of causing any pain to him. The verses cited above have also been revealed in connection with some incidents of this nature. One such incident related to Sayyidna Zayd Ibn Harithah who was the slave of someone. It was during the days of Jahiliyyah that the Holy Prophet ﷺ had bought him from the famous bazaar of ` Ukaz. He was still very young at that time. The Holy Prophet ﷺ had freed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 From here begin the verses which were sent down in connection with the Holy Prophet's marriage with Hadrat Zainab. 66 Ibn 'Abbas, Qatadah, 'Ikrimah and Muqatil bin Hayyan say that this verse was sent down at the time when the Holy Prophet proposed Hadrat Zainab for Hadrat Zaid, and Zainab and her relatives did not agree. According to Ibn 'Abbas, when the Holy Prophet made the proposal, Hadrat Zainab said, "I am better than him in lineage." Ibn Sa'd says that she also said, "I do not approve him for myself. I am a Quraishite by birth. " The same sort of disapproval was expressed by her…

Read the full tafseer →