Explained with ayahs 2–4
آیت الکرسی اور اسم اعظم
آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے اور الم کی تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں، آیت (اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ڬ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۭ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الْبَقَرَة 278
یعنی نادان لوگوں نے اپنی جگہ چاہے کتنے ہی خدا اور معبود بنا رکھے ہوں، مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلا شرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے، جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں، بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور جس کے بل بوتے ہی پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھیرا کر زمین یا آسمان میں کہاں بھی کسی اور کو معبود (الہ) بنایا جا رہا ہے، ایک جھوٹ گھڑا جا رہا ہے اور حقیقت کے خلاف…
Read the full tafseer →پہلی آیت میں ارشاد ہے (الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) اس میں لفظ الم تو متشابہات قرآنیہ میں سے ہے جس کے معنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان ایک راز ہیں جس کی تفصیل اس رکوع کی آخری آیتوں میں آتی ہے اس کے بعد (اللہ لا الہ الا ھو) میں مضمون توحید کو ایک دعوے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی معبود بنانے کے قابل نہیں۔ اس کے بعد (الحی القیوم) سے توحید کی عقلی دلیل بیان کی گئی جس کی تشریح یہ ہے کہ عبادت نام ہے اپنے آپ کو کسی کے سامنے انتہائی عاجز و ذلیل کر کے پیش کرنے کا اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جس کی عبادت کی جائے وہ عزت وجبروت کے…
Read the full tafseer →اس آیت میں جو اسمائے حسنی مذکور ہیں سب کی تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض کی تفسیر سورة فاتحہ میں، بعض کی سورة بقرہ میں۔
صفاتِ حیات و قیومیت کے اسرار و مقتضیات : یہ امر، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کرچکے ہیں، ملحوظ رہے کہ اس سورة میں استدلال بیشتر صفاتِ الٰہی سے ہے۔ صفات الٰہی میں سب سے پہلے صفات حیات و قیومیت کو لیا ہے۔ ان دونوں صفتوں کے اسرار و حقائق پر ہم آیت الکرسی کے اسرار و حقائق کے ضمن میں گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں ان کا اعادہ باعث طوالت ہوگا۔ یہاں موقع کلام کی مناسبت سے ان صفات کا حوالہ کتاب الٰہی کی ضرورت کے اثبات کے پہلو سے ہے۔ چناچہ بعد کی آیات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہورہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 حَیُّ اور قَیُوم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات ہیں جن کا مطلب وہ ازل سے ابد تک رہے گا اسے موت اور فنا نہیں قیوم کا مطلب سارے کائنات کا قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں سے ایک مانتے تھے گویا ان کو کہا جا رہا ہے جب حضرت عیسیٰ ؑ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانہ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت عرصہ بعد کا ہے تو پھر وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہوسکتے ہیں نیز ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے تھی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے بھی ہمکنار ہوں گے اور عیسائیوں کے بقول ہمکنار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہاں قرآن کریم نے لفظ فرقان استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو، قرآن کریم کا ایک نام فرقان بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے ؛ چنانچہ بعض مفسرین نے یہاں فرقان سے قرآن ہی مراد لیا ہے، دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں جو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا، نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یوں اس سورت کا آغاز ان منکرین اسلام اہل کتاب پر تنقید سے ہوتا ہے ‘ جو رسول ﷺ کی رسالت کا انکار کررہے تھے ‘ حالانکہ وہ اپنے دین کی بنیاد پر اور اہل کتاب ہونے کے ناطے نبوت ‘ رسالت ‘ کتب سماوی اور وحی الٰہی کے تصور سے واقف تھے ‘ اس لئے ان کا فرض تھا کہ سب سے پہلے اسلام لاتے اور رسول ﷺ کی تصدیق کرتے بشرطیکہ ان کی تصدیق صرف دلیل اور حجت کے اطمینان پر موقوف ہوتی۔
اس فیصلہ کن حملے میں ‘ ان تمام شبہات کی بیخ کنی کردی جاتی ‘ جو اہل کتاب کے دلوں میں پائے جاتے تھے ‘ یا جنہیں وہ جان بوجھ کر مومنین کے دلوں میں ڈالنا چاہتے تھے ‘ اس لئے ان کا پروپیگنڈا کرتے تھے ۔ اس تنقید میں ان راستوں اور ان دروازوں کی…
Read the full tafseer →1 نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک موقرو معزز وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ " بنی بکر بن وائل " سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اسکی مذہبی صلابت اور مجد و شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اسکے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا…
Read the full tafseer →آیت 2 اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ لا الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
یہ الفاظ سورة البقرۃ میں آیت الکرسی کے آغاز میں آ چکے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک اسم اعظم ہے ‘ جس کے حوالے سے اگر اللہ سے کوئی دعا مانگی جائے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ یہ تین سورتوں البقرۃ ‘ آل عمران اور طٰہٰ میں ہے۔ 1
آنحضور ﷺ نے تعینّ کے ساتھ نہیں بتایا کہ وہ اسم اعظم کون سا ہے ‘ البتہ کچھ اشارے کیے ہیں۔ جیسے رمضان المبارک کی ایک شب لیلۃ القدرجو ہزار مہینوں سے افضل ہے ‘ اس کے بارے میں تعین کے ساتھ نہیں بتایا کہ وہ کون سی ہے ‘ بلکہ فرمایا : فَالْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ 2 اسے آخری عشرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ حقیقی الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو ہمیشہ سے زندہ و قائم ودائم ہو اور پوری کائنات کے انتظام کو سنبھالنے والا اور اس نظام میں قدرت و تصرف کے پورے اختیار رکھتا ہو۔ جس الٰہ میں یہ صفات نہ پائی جائیں وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اس معیار کے مطابق تمام معبودان باطل خواہ وہ جاندار ہوں، موجود ہوں یا فوت ہوگئے ہوں اور خواہ بےجان ہوں سب کی نفی ہوگئی۔
Read the full tafseer →3 ۔ (نہ بہ حیثیت اقنوم کے نہ کسی اور حیثیت سے) یعنی اس خدائے واحد کا شریک کوئی نہ ذات میں ہے نہ افعال میں، دنیا میں بہ کثرت ایسے مشرک مذہبوں کا وجود رہ چکا ہے اور اب بھی ہے جو کہتے ہیں کہ خدائے اعظم تو بیشک ایک ہی ہے لیکن اس کے ماتحت شعبہ وار چھوٹے چھوٹے خدا دیوتا اور دیویاں تو بہت سی ہیں۔ قرآن مجید ان سب کی تردید کرکے کہتا ہے کہ نفس وجود ہی کسی دوسرے خدا کا نہیں نہ چھوٹے کا نہ بڑے کا، الوہیت و ربوبیت تمامتر ایک ہی ذات میں ہے۔ آیت علاوہ ان جاہلی مذاہب کے خاص طور پر مسیحی عقائد کے بھی رد میں ہے۔
4 ۔ (آیت) ” الحی “۔ وہ وہ خدا ہے جو ہمیشہ زندہ ہی ہے، زندہ ہی رہا اور زندہ ہی رہے گا۔ موت کا اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الم اللہ ہی اپنی مراد کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو (نظام کائنات کو) سنبھالے ہوئے ہے اس نے اے محمد آپ پر قرآن کو جو کہ خبر دینے میں صداقت پر مشتمل ہے بتدریج نازل فرمایا اپنے سے سابق کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس کے نازل کرنے سے پہلے تورات اور انجیل نازل کیں حال یہ ہے کہ وہ رہ نما ہیں (ھُدًی) التوراۃ والانجیل سے حال ہے، یعنی یہ دونوں کتابیں ان لوگوں کو گمراہی سے ہدایت کی جانب رہنمائی کرنے والی ہے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور ان دونوں میں اَنْزَل کی تعبیر اختیار…
Read the full tafseer →الۗـۗمَّ اللّٰهُ : یعقوب کے نزدیک الم پر وقف ہے اور اَﷲُ سے الگ ابتداء ہے۔ جمہور کے نزدیک وقف نہیں ہے اور الم اَﷲُ
قراءت ہے سیبویہ کے نزدیک اللہ کا الف ساقط کردیا گیا اور میم کے فتحہ کو اللہ کے لام سے ملا دیا گیا۔ زمخشری کے نزدیک میم پر فتحہ اللہ کے الف کا دیدیا گیا پھر الف کو ساقط کردیا گیا۔ میم کو کم سے کم دو حرکات کے برابر اور زیادہ سے زیادہ چھ حرکات کے بقدر کھینچنا جائز ہے۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : یعنی سوائے اللہ کے کوئی اِلٰہ موجود نہیں ہے۔
الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ : یعنی وہ حی وقیوم ہے۔
ابن ابی شیبہ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو امامہ کی مرفوع حدیث بیان کی کہ اللہ کا اسم اعظم تین…
Read the full tafseer →(2) اور (رب کریم) زندہ جاوید ہیں، تمام چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں
Read the full tafseer →اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ : یہ اس سورت کا دعویٰ ہے اور وفد نجران کو دعوت کی مناسبت سے اس کے اثبات پر زور دیا گیا ہے۔
الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ : یہ اسمائے حسنیٰ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ حیات اور قیومیت اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اسے موت اور فنا نہیں۔ ”الْقَيُّوْمُ“ کا مطلب ہے ساری کائنات قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی عیسیٰ ؑ کو اللہ یا اللہ کا بیٹا یا تین میں سے ایک مانتے تھے۔ گویا ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب عیسیٰ ؑ اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی پیدائش کا زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت نمبر : 1 تا 2 :
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الم، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ یہ بالاجماع مدنی سورت ہے، نقاش نے بیان کیا ہے کہ تورات میں اس کا نام طیبہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 396 دارالکتب العلمیہ) اور حسن، عمرو بن عبید، عاصم بن ابی النجود اور ابو جعفر الرواسی نے ” الم ‘۔ اللہ “ الف وصل کو قطع کے ساتھ پڑھا ہے، اس تقدیر پر کہ الم پر وقف ہے جیسا کہ وہ اسماء اعداد مثلا واحد، اثنان ثلاثۃ اور اربعۃ وغیرہ میں وقف مقدر کرتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں اکٹھا اور ملا کر پڑھتے ہیں۔
اخفش سعید نے کہا ہے : الم، اللہ التقاء ساکنین کی وجہ سے میم کو کسرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) ابن الانباری نے المصاحف میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” ھو الحی القیوم “ پڑھا
(2) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے ” القیوم “ سے مراد ہے ہر چیز کو قائم کرنے والا۔
(3) ابو عبید سعید بن منصور اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” الحی القیام “۔
(4) ابو عبید سعید بن منصور محمد بن حمید ابن داؤد ابن الانباری اکٹھے مصاحف میں ابن المنذر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا کہ حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی تو سورة آل عمران کو شروع فرمایا اور یوں پڑھا لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔
(5) ابن ابی داؤد نے…
Read the full tafseer →[ اللّٰہُ : اللہ ] [لَآ اِلٰــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ہُوَ : وہ ہے ] [الْحَیُّ : جو (حقیقتاً ) زندہ ہے ] [الْقَیُّوْمُ : جو (حقیقی) نگران و کفیل ہے ]
Read the full tafseer →الحی القیوم کی تفسیر :
(اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) اس میں اولاً اللہ جل شانہ کی توحید بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اس سے تمام مشرکین کی تردید ہوگئی۔ ثانیاً اللہ جل شانہ، کی دو بڑی اہم صفات ذکر فرمائیں یعنی الحی القیوم۔
حَیٌّ:
یعنی زندہ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ قَیُّوْمُ جو ساری مخلوق کو قائم رکھنے والا ہے اسی نے سب کو پیدا فرمایا۔ وہی سب کی پرورش فرماتا ہے اسی نے سب کا وجود باقی رکھا ہے وہ جب چاہے گا سب کو فنا کر دے گا۔ اور وہ خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ظاہر ہے کہ جو ذات ان صفات سے متصف ہے وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اثبات توحید وبیان محکم درابطال الوہیت عیسیٰ بن مریم ومناظرہ نبی کریم ﷺ بانصارائے نجران۔
قال اللہ تعالی، الم اللہ لاالہ الاھوالحی۔۔۔ الی۔۔۔ الحکیم۔
محمد بن اسحاق وغیرہ سے منقول ہے کہ سورة آل عمران کے شروع کی تراسی آیتیں نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں نجران علاقہ یمن میں ایک شہر کا نام ہے جو اس زمانہ میں عیسائیوں کا علمی مرکز تھا نبی کی نبوت و رسالت کی خبر جب اطراف اور اکناف میں پہنچی تو یہ خبر سن کر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد، مناظرہ اور مباحثہ کے لیے نبی کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ میں اس وفد میں ساتھ سوار تھے جن میں سے چودہ آدمی خاص طور پر بڑے شریف اور معزز تھے اور ان چودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 ۔ پہلا حصہ۔ توحید
ذکرِ مضمون توحید بار اول :۔ اس پر کلام سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۔ یہ دعویٰ توحید ہے۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ مبتدا محذوف کی خبر ہے (مدارک ج 1 ص 113) یہاں سے لے کر اَلْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ تک دعوی توحید کی پہلی دلیل ہے۔ جو تین ضمنی دلیلوں پر مشتمل ہے۔ (1 1) دلیل وحی۔ (2) دلیل نقلی اور (3) دلیل عقلی۔ پہیل دونوں دلیلوں کا ذکر اشارۃً ہے اور تیسری کا صراحۃً ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف :
سورۃ کا نام آل عمران ہے۔ چونکہ اس سورة میں عمران کی اولاد کا ذکر ہے اس لیے اس کا نام آل عمران ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلی سورة میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر ہے ، تو اس کا نام سورة بقرہ ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ عمران دو ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد۔ چونکہ اس سورة میں زیادہ تر حضرت مریم ؓ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے یہاں پر عمران سے مراد حضرت مریم ؓ کے والد ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی پیغمبر نہیں تھے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی پیغمبر نہیں۔ البتہ یہ دونوں حضرات نیک ، صالح اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الۗمَّۗ 1 ۙ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ 0 ۙالْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ 2 ۭ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
إله
جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا .…
Read the full tafseer →الم اس کی تشریح سورة بقرہ میں ہوچکی۔ اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ ان عیسائیوں کے مقابلہ میں ان کے تینوں عقیدے بطلان کے لئے یہ ایک چھوٹا سا جملہ بیشمار دلائل اور براہین کا مجموعہ ہے۔ ان کے تین عقیدے یہ تھے۔ اول تثلیث کہ خدا اور عیسیٰ اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا بعض حضرت مریم علیھا السلام کو تیسرا اقنوم قرار دیتے تھے۔ دوم حضرت عیسیٰ خدا ہے ٗ انسان کی شکل میں خدا نے ظہور کیا تھا۔ سوم حضرت عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے۔ آج کل کے عیسائی بھی بجز چند فرقوں کے یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس آیت میں ان تینوں عقیدوں کو باطل کردیا۔ اللّٰہ لا الہ الا ھو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ صرف اس توحید سے تینوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
الٓـمَّٓ۔ لا اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَلا الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ ط نَزَّلَ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لا مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ 5 ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔ ط
(ال م۔ اللہ ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ زندہ اور قائم رکھنے والا۔ اس نے تم پر کتاب نازل کی حق کے ساتھ، تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے آگے سے موجود ہے اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل۔ اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط کلام : سورة البقرۃ کا اختتام ایمان کے بنیادی ارکان اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی دعا پر ہوا ہے۔ سورة آل عمران کی ابتداء میں بتلایا گیا ہے کہ جس اللہ پر تم نے ایمان لانا ہے۔ وہ ہمیشہ قائم دائم اور زندہ جاوید رہنے والا ہے۔ اسی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے تورات و انجیل نازل فرمائی اور اب اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نافرمانوں سے سخت انتقام لے گا۔
حروف مقطعات کے بعد اس عظیم سورة کی ابتدا توحید باری تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ یہاں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ جن میں جلالت وجبروت کے لہجے میں اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ زندہ اور قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1‘ 2:
اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وہ حی وقیوم ہے اس نے تم پر تورات و انجیل حق کے ساتھ اتاری۔ یہ اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس نے تورات و انجیل کو اتارا) ۔
انتقالِ حرکت کا مسئلہ :
الٓمٓ کی میم کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حرکت دی گئی۔ میری مراد ساکنین سے میم اور لفظ اللہ کی لام ہے۔ پھر میم کو ملانے کے لئے فتحہ دیا۔ جو کہ اخف الحرکات ہے اور کسرہ نہیں دیا کیونکہ ماقبل میم مکسور اور یائے ساکن ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(تفسیر) 1۔:
(آیت)” الم (حروف مقطعات میں سے ہے)
شان نزول :
2۔ (اللہ) کلبی اور ربیع ان انس نے بیان کیا کہ ان آیات کا نزول نجران کے نمائندوں کے متعلق ہوا جن کی تعداد ساٹھ تک تھی یہ سوار ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے یہ کل چودہ افراد تھے اور ان چودہ افراد میں تین اشراف تھے ، ان میں عاقب سب کا لیڈر اور مشیر تھا ، اس سے لوگ مشورہ طلب کرتے تھے اور اس کی رائے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے ، عاقب کا نام عبدال مسیح تھا اور امیر سفر سید تھا جس کا نام ایہم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ پادری اور قافلہ کے مذہبی عالم تھے ، رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے اس وقت یہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے ، ان کے اوپر یمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 ۔ 4) سورة آل عمران کی فضیلت میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں یہ سورت مدنی ہے اس سورت کی دو سو آیتیں ہیں اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر ہے کہ تفسیر ابن ابی حاتم بڑی صحیح تفسیر ہے اس میں اور صحیح تفسیروں میں جو روایتیں ہیں 1 ان کا حاصل یہ ہے کہ 9 ہجری میں کچھ عیسائی لوگ شام اور یمن کے ما بین میں ایک بخران بستی ہے وہاں سے اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان عیسائی لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے میں آنحضرت ﷺ سے بڑا مباحثہ کیا اس پر اس سورة کی اکثر آیتیں نازل ہوئیں جن میں مباہلہ کی آیت بھی ہے۔ مباہلہ کی پوری تفصیل تو اسی آیت کی تفسیر میں آئے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت 1-6
اس سورت کی شروع کی اسی (80) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انہیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورة بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی اور اسی کے لئے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قیومیت کی صفات سے ہے۔ (الحی) سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محکمات اور متشابہات کا بیان
قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 حروف مقطعات اور ان سے مقصود و مراد ؟ : سورة کریمہ کے شروع کے یہ حروف " حروف مقطعات " کہلاتے ہیں۔ کیونکہ ان کو کاٹ کر اور الگ الگ کر کی پڑھا جاتا ہے اور ان سے مقصود و مراد کے بارے میں کتب تفسیر میں مختلف اقوال اور احتمالات پائے جاتے ہیں۔ لیکن راحج قول کے مطابق حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ ان کی صحیح اور حقیقی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لہذا ان کے بارے میں مجمل طور پر یہی کہنا چاہیئے کہ " اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمُرَادِہ " " ان کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے "۔ اس کی کچھ مزید تفصیل اس سے پہلے سورة بقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے۔ اس لیے اسی کی طرف رجوع کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ حروف مقطعات میں سے ہے
اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب اسلام کا بول بالا ہونے لگا اور غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی تو بخران کے عسائیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آیا۔ یہ لوگ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ مانتے تھے۔ محمد ﷺ نے ان کو ثبوت دے کر سمجھانے کی کوشش کی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تو واحد ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا اس کو تو کسی نے پیدا نہیں کیا وہ ہر رشتہ سے بےنیاز ہے، بلکہ یہ تمام کائنات اس نے ہی پیدا کی ہے اور وہی اس سارے نظام کو چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران
آیات 1- 9
اسرارومعارف
الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم
جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔
سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 4 الحیی القیوم یہ اسماء حسنی صفات باری تعالیٰ ہیں۔ حیات اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے کہ دو آیتوں میں اسم اعظم ہے جس کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا رد نہیں فرماتے۔ شروع آیتہ الکرسی اللہ لا الہ الا ھو الحیی القیوم وشروع آیتہ آل عمران۔ بعض ورایات میں تین آیتیں مذکو رہیں اور تیسری آیت سورت طہ کی ہے یسعنت الوجوہ اللحی القیوم۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(3:2) الحی۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں ہے۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ القیوم قائم بالذات۔ ہر شے کو قائم رکھنے والا۔ دیکھو (2:255)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 6
نزل (اس نے نازل کیا) عزیز (زبردست) ذوانتقام (انتقام لینے والا) یصور (تصویر بناتا ہے، شکلیں بنایا ہے) الارحام (رحم ) پیٹ) کیف یشاء (جیسے وہ چاہتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6
نخران یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد نخران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں چودہ پندرہ آدمی خاص طور پر بڑے معزز اور سردار تھے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث شروع کی تو سورة آل عمران میں تقریباً 83 آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ
نے اس وفد کو جوابات دیئے۔
اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَالْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ اور الٓمّٓ ۔ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۔ ان دونوں آیتوں میں اسم اعظم ہے۔ ان کے پڑھنے کے بعد جو دعا مانگی جاوے قبول ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 271 صفحہ 211
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ خدائے واحد کے سوا کوئی عبادت ونیاز کا مستحق نہیں ، سارے سجدے اور تمام عبادتیں اسی کو زیبا ہیں ، اس لئے کہ زندہ اور قیوم خدا وہی ہے ، اس کے سوا سب فنا کے گھاٹ اترنے والے ہیں ، سب فانی اور حادث ہیں سب احاطہ امکان کے اندر ہیں اور سب ایسے ہیں جو اس کی عبادت کرنا باعث فخر ومباحات سمجھتے ہیں ، سب کا وظیفہ زندگی اس کی پرستش کرنا اور تسبیح و تقدیس کے مشغلوں میں مست رہنا ہے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1 الم ( تیسیر)
سورۂ بقرہ کی ابتداء میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ حروف مقطعات ہیں اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو حضرات ا س کے معنی بیان کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کے مدعی نہیں اور جو اس کے معنی بیان کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے دونوں فریق میں محض لفظی نزاع کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس کے حقیقی معنی سے آگاہ کردیا ہو۔ (تسہیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ حی وقیوم کے صفات لانے میں اشارہ ہے معبودان باطلہ کے معبود نہ ہونے کی دلیل عقلی پر کیونکہ ان میں یہ صفتیں نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں :
2: نادان لوگوں نے اپنی اپنی جگہ چاہے کتنے ہی الٰه اور معبود بنا رکھے ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلا شرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے جو کی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور صرف یہی نہیں کہ وہ بذتہ زندہ ہے بلکہ اس کے بل بوتے پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا خواہ وہ کوئی ہو ، نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے نہ اس کے اختیارات میں اور نہ ہی اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھہرا کر زمین و آسمان میں جہاں بھی کسی اور کو…
Read the full tafseer →The first verse of this section presents a rational proof of the Oneness of Allah; the second verse, the reported proof 1, followed by an answer to some doubts nursed by disbelievers towards the later part.
1. In the terminology of Islamic theology, a proof based on rational argument is called rational proof while a proof based on a verse of divine book or on a declaration made by an authority or a report narrated by a trustworthy person is called a reported proof.
The first word, Alif Lam Mim (الم ) at the head of the first verse be-longs to the special set of words used by the Qur'an which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1. For explanation see Surah 2, n. 278 above.
Read the full tafseer →