3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 3:1

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

الف۔ لا ... م می ... م

” ا لٓمَّٓ“ حروف مقطعات میں سے ہے : 1: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے حاشیہ ” 1 “ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ حروف جن سورتوں کے ابتداء میں آئے ہیں ان کے مضامین میں اس بات کی زندہ شہادت موجود ہے کہ ان حروف سے قارئین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آنے والے مضامین پر غور کرو۔ ان کو سرسری نظر سے پڑھ کر آگے مت نکل جاؤ ۔ زیر نظر سورة ہی پر غور کرو کہ کتنا اہم مضمون ابتدائے سورت ہی سے شروع ہوگیا ہے کہ عیسائی قوم کے لوگو ! ذرا خیال کرو کہ تم نے کس طرح مسیح (علیہ السلام) کو اللہ ، اللہ کا بیٹا یا اللہ کا ایک جزء تسلیم کرلیا جب کہ اللہ خالق ہے اور مسیح اس کی مخلوق ہے۔ چنانچہ احادیث اور کتب تفسیر میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے کہ کچھ عیسائی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کے متعلق مناظرہ کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کی ابتدائی 84 آیات کریمان نازل فرمائیں۔ ابن اسحٰق نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے محمد بن سہل بن ابی امامہ نے کہا کہ جب نجران کے نمائندے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے متعلق سوال کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو ان کے متعلق سورة آل عمران کے شروع سے 84 آیات تک نازل ہوئیں۔ پھر اس کی تفصیل بھی تفاسیر میں موجود ہے کہ ان کی تعداد ساٹھ تھی جن میں سے 14 شخص سردار تھے اور پھر ان میں سے تین ان کے لیڈر اور ایک ان سب کا بڑا امیر تھا۔ پھر اس مناظرہ کی پوری تفشیل بھی کتب تفاسیر میں موجود ہے۔ ہم انشاء اللہ انہی آیات کی تفسیر میں آگے چل کر اس کا مفصل بیان کریں گے۔ عرب کا نقشہ سامنے ہو تو جنوب میں جو علاقہ یمن کے نام سے موسوم ہے اس میں ایک مقام نجرات کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعث کے وقت یہ آبادی مسیحیوں کی تھی 10 ھ میں ان کے 14 اکابر وفد کی صورت میں جن کی کل تعداد ساٹھ کے قریب تھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے دوران گفتگو ان کے عقائد تثلیث و انبیت کی تردید ان ہی کی زبان سے واضح طور پر کرادی ۔ جس مقصد کو لے کر وہ حاضر ہوئے ان میں بری طرح ناکام ہوئے اور ایسے بھاگے کہ پھر کبھی اس بحث کو اٹھانے کا نام بھی نہ لیا۔ سورة آل عمران میں جابجا اشارے اسی طرح پائے جاتے ہیں۔ سورة بقرہ میں جس طرح اصل ختاب بنی اسرائَل کا شاخ یہود سے تھا اسی طرح اس سورة مبارکہ میں خطاب بنی اسرائیل کی شاخ نصاریٰ سے ہے اور اکثر مسیحیوں ہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہمیشہ زندہ ہے وہ { القیوم } ہے

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں : 2: نادان لوگوں نے اپنی اپنی جگہ چاہے کتنے ہی الٰه اور معبود بنا رکھے ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلا شرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے جو کی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور صرف یہی نہیں کہ وہ بذتہ زندہ ہے بلکہ اس کے بل بوتے پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا خواہ وہ کوئی ہو ، نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے نہ اس کے اختیارات میں اور نہ ہی اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھہرا کر زمین و آسمان میں جہاں بھی کسی اور کو معبود یعنی الٰه بنایاجارہا ہے۔ سراسر ایک جھوٹ گھڑا جارہا ہے جس کا سر ہے نہ پاؤں بلکہ یہ حقیقت کے خلاف ایک جنگ لڑی جارہی ہے۔ اللہ وہ ذات ہے جس کو فنا وزوال نہی : 3: اللہ ہی کی وہ ذات ہے جس کو فنا وزوال نہیں۔ ہرچیز اس سے قائم ہے۔ وہ اپنے قیام کے لیے کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے حَییٌّ و قَیُّوْمٌ ہونے کا مقتضیٰ یہی تھا کہ انسان کی زندگی و قیام کی تمام احتیاجات مہیا کر دے۔ پھر ظاہر ہے کہ احتیاجات دو طرح کی ہیں۔ جسمانی اور روحانی اس نے جس طرح پہلی کا انتظام کیا اسی طرح دوسری کا بھی سروسامان کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے روحانی احتیاجات کے لیے انسان کو دو چیزیں دیں۔ ” اَلْكِتَابُ “ ” اَلْفُرْقَانُ “ ۔ ” اَلْكِتَابُ “ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو ہدایت وسعادت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ ” اَلْفُرْقَانُ “ جو ہر عقل ہے جو اسے سمجھتا اور قبول کرتا ہے۔ پہلی چیز تعلیم ہے اور دوسری کی استعداد کہا جاتا ہے۔ پہلی ہدایت کی قوت فاعلہ ہے اور دوسری قوت منفعلہ۔ ” اَلْحَییٌّ الْقَیُّوُمُ “ سے توحید کی عقلی دلیل بیان کی گئی ہے جس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ عبادت نام ہے اپنے آپ کو کسی کے سامنے انتہائی عاجز و ذلیل کر کے پیش کرنے کا اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جس کی عبادت کی جائے وہ عزت و جبروت کے انتہائی مقام کا مالک ہو اور ہر اعتبار سے وہ کامل بھی ہو اور یہ ظاہر ہے کہ جو چیز خود اپنے وجود کو قائم نہ رکھ سکے اپنے وجود اور اس کی بقاء میں دوسروں کی محتاج ہو اس کا عزت و جبروت میں کیا مقام ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ جب دنیا میں جتنی چیزیں ہیں نہ خود اپنے وجود کی مالک ہیں اور نہ ہی خود اپنے وجود کو قائم رکھ سکتی ہیں۔ وہ خواہ کون ہوں ؟ خواہ پتھر کے تراشیدہ بت ہوں یا وہ شخصیتیں جن کے یہ بت بنائے گئے۔ وہ پانی اور درخت ہوں یا فرشتے اور رسول ان میں سے کوئی ہے جو خود اپنے وجود کا مالک ہو ؟ کون ہے جو خود اپنے وجود کو قائم رکھ سکے ؟ نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ان میں لائق عبادت بھی نہیں۔ لائق عبادت تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو ہمیشہ سے زندہ اور موجود ہے اور ہمیشہ زندہ اور قائم رہے گی۔ وہ تو صرف اور صرف وہی ہے جس کو ہم ” اللہ “ کے نام سے پکارتے ہیں اور یاد کرتے ہیں۔ اس لیے اس کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا لائق ہو۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے آپ ﷺ پر سچائی کے ساتھ کتاب نازل کی جو اس سے پہلے جس قدر کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان سب کی تصدیق کرنے والی

” الْكِتٰبَ “ کا نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے : 4: رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئی ” ال کتاب “ وہی ہے جس کو قرآن کریم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت ہدایت وسعادت کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب صرف اور صرف قرآن کریم ہی ہے۔ کیونکہ اس میں اس سے پہلے نازل شدہ کتابوں کی تعلیم بھی مکمل طور پر آگئی ہے۔ پہلی کتابیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل کی گئی تھیں لیکن ان کے ماننے والوں نے ان میں اس قدر تحریف کی کہ حق و باطل کو ملا کر رکھ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آهستہ آهستہ ان کی زبان بھی محفوظ نہ رہی۔ آج وہ اپنی اصل شکل و صورت میں موجود ہی نہیں ہیں بلکہ ان کا صرف نام ہی نام باقی رہ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن کریم نازل فرما کر جس قدر ان گزشتہ کتابوں میں حق باقی رہ گیا تھا اس کو اسی ” ال کتاب “ میں محفوظ کردیا ہے۔ قرآن کریم گویا مجموعہ ہے ان سب تعلیمات کا جو اس سے پہلے آسمان کی طرف سے دنیا میں منتقل ہوئی تھیں۔ تورات میں ہو یا انجیل اور زبور ہو یا صحائف ابراہیمی ان کی وہ الٰہی تعلیم اس قرآن کریم ” ال کتاب “ میں موجود ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ اب خود نازل کرنے والے نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ممکن ہی نہیں۔ ترجمہ و تفسیر میں خواہ جو کچھ ہو لیکن اس کو اصل متن قرآنی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں دی جاسکتی اور ” ال کتاب “ وہی قرآنی متن ہے نہ کہ ترجمہ و تفسیر۔ اسی چیز کو قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے : وَاَنْزَلْنَا اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَھُمْیْمِنًا عَلَیْهِ. (المائدۃ 5 : 48) ” اور اے پیغمبر اسلام ! اس طرح ہم نے تمہاری طرف سچائی کے ساتھ کتاب بھیجی جو ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو پہلے سے موجود ہیں اور یہ کتاب قرآن کریم ان پر جو اس سے پہلے کتابیں نازل ہوچکی ہیں نگہبان ہے۔ “ قرآن کریم تورات و انجیل کی تصدیق کرتا ہے : 5: یہ گویا قرآن کریم کی نقلی دلیل بیان کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا مضمون جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے یہ کچھ قرآن کریم کی یا پیغمبر اسلام ﷺ کی خصوصیت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی تورات و انجیل اور دوسری کتب آسمانی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ہیں ان سب کا یہی دعویٰ ہے اور یہ کچھ ان سب میں بیان کیا گیا تھا۔ قرآن کریم نے کیا کیا ؟ یہی کہ آکر ان سب کی تصدیق کردی اور کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا جس کے سمجھنے یا ماننے میں لوگوں کو کوئی الجھن پیش آئے۔ اب اگر کوئی اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ خود سوچے کہ اس نے تسلیم نہ کر کے قرآن کریم کا کیا بگاڑا۔ جو بگاڑا اس نے اپنا ہی بگاڑا کیونکہ اس نے جو قرآن کریم کی مخالفت کی تو گویا دراصل اس نے مخالفت اپنی ہی کتاب کی کی۔ اگر وہ تورات کو مانتا ہے تو اس کی اور انجیل کو مانتا ہے تو اس کی اور اس طرح وہ ” اپنامنہ اپنی چپیڑ “ کا مصداق ہوا ہے اور ان سب مخالفین کی مثال ایسی ہی ہے جیسے مثل مشہور ہے کہ ” دھوبی کا کتاب گھر نہ گھاٹ کا “ انہوں نے قرآن کریم کو جھٹلا کر خود اپنی تسلیم شدہ کتابوں پر اپنے ہاتھوں لکیر کھینچ دی ہے۔ قرآن کریم کی تصدیق کا مطلب کیا ہے ؟ 6: وضاحت اس کی کیا ہے ؟ اہل کتاب کی طرف سے یہ سوال بطور اعتراض کیا جاتا تھا کہ تورات و انجیل کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی ؟ آگے چل کر اس سورت میں اس کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ آئے گا مگر یہاں بھی اس کی اصل اور میں (Main) وجہ بتا دی ہے اور اس طرح بتائی ہے کہ اب ان دونوں فرقوں کو سر کھجلانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ جواب دیا ہے اور ایسا دیا ہے کہ وہ انگشت بدنداں رہ گئے اور سوال پر سوال کرنے کے عادی اوپر نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکے۔ قرآن کریم کا یہی وہ معجزہ ہے جس نے دنیا کے بڑے بڑے مفکرین کو سرگرداں کردیا ، وہ سوچتے ہیں اور سوچتے ہی چلے جاتے ہیں ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور زبانیں ہیں کہ کچھ بول نہیں سکتیں۔ اب جواب کو دیکھو کہ کتنا مختصر اور کتناجامع ؟ ان کو بتایا جارہا ہے کہ اس کے نازل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پہلی کتابوں میں جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق پیش گوئیاں تھیں ان کی تصدیق کے لیے ضروری تھا کہ یہ کتاب نازل ہوتی گویا سابقہ وحی الٰہی یعنی تورات و انجیل بغیر نزول قرآن خود سچی نہ ٹھہرتی تھی۔ قرآن کریم نے نازل ہو کر ان پیش گوئیوں کی تصدیق کر کے جو تورات و انجیل میں بیان کی گئی تھیں ان کے سچا ہونے کا ثبوت فراہم کردیا اور تم بھی عجیب لوگ ہو کہ تم ہی یہاعتراض کرتے ہو کہ قرآن کریم کے نازل ہونے کی ضرورت کیا تھی ؟ کوئی کہتا جو کچھ کہتا لیکن تم کو تو یہ بات زیبا نہیں تھی۔ تم ہی سوچ لو کہ تم نے کیا کہہ دیا ؟ افسوس کہ تم نے اس شیشہ میں ذرا اپنا منہ دیکھ لیا ہوتا۔ تورات وہی کتاب ہے جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی: 7: ” التوراة “ اس لفظ کے عبرانی ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن عربی اور عبراین زبانیں بہت ملتی جلتی ہیں۔ یہ لفظ بھی ان دونوں زبانوں میں ملتا جلتا ہے۔ اہل عرب کے نزدیک توریت ” وری “ سے ہے اور کو فیوں کے نزدیک اصل میں ” تفعلة “ کے وزن پر ہے اور بصریوں کے نزدیک فوعل کے وزن پر جس کا اصل ” ووراة “ تھا اور وت سے قاعدہ کے مطابق بدل گئی اور ” وری “ کے معنی آگ نکلنے کے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بھی آتا ہے : ” اَلنَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ “ (الواقعہ 56 : 71 ) اور واریت کے معنی ” سترت “ ہیں یعنی ایک چیز کو چھپا دیا جس سے قرآن کریم میں ہے کہ : ” لِبَاسًا یُّوَارِىُ سَوْاٰتِكُمْ “ (الاعراف 7 : 26) یا ” حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ “ (ص 38 : 32) پس توریت کو توریت یا تو اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ پتھر سے آگ نکالنے کی مثل ہے یعنی بڑی مشقت سے اس میں کچھ روشنی پیدا ہوتی ہے جیسے ابتدائے تاریخ عالم میں پتھر سے آگ نکالی جاتی تھی اور اس کے بالمقابل قرآن کریم کو اللہ نے ایسا نور بیان فرمایا کہ : یَكَادُ زَیْتُھَا یُضْیِىُ وَلُوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ (النور 24 : 35 ) کہ اس کا تیل اتنا صاف و شفاف ہے کہ خود بخود جل اٹھتا ہے گو اسے آگ نہ بھی چھوئے اس لیے توریت کو توریت کہتے ہیں کہ اس میں بعض مضامین مستتر یعنی چھپے ہوئے اور مخفی حالت میں تھے۔ اس طرح اس پر جتنا غور کرتے جاؤ گے اتنے ہی حجاب کھلتے جائیں گے اور توریت کا توریت ہونا اور قرآن کریم کا قرآن کریم ہونا واضح ہوتا جائے گا اور یہ بات بھی بالکل سچ ہے کہ توریت کے مخفی مضامین کو قرآن کریم نے کھول کھول کر رکھ دیا ہے اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس کے آنے کے بعد دنیا میں ایک قسم کی روشنی ہو گئی ہے اگرچہ آج اس کے ماننے والے خود اندھیرے میں رہ گئے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اسلاف پر نظر کریں تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ ہمارے ہی آباء تھے اور اس قرآن کریم کے پڑھنے والے تھے جن کے توسط سے یہ روشنی پیدا ہوئی۔ ان شاطر قوموں نے ہمارے ہی ” دیئے “ سے اپنا ” دیا “ روشن کیا تھا مگر چالاکی یہ کی کہ اپنا ” دیا “ روشن کر کے ہمارا ” گل “ کردیا۔ توریت اس مجموعہ کتاب کا نام ہے جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا۔ قرآن کریم نے ایک جگہ اس کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر نازل ہونے کا بھی ذکر فرمایا ہے ۔ ” وَاٰتَیْنٰھُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ “ (والصافات 37 : 117) ” اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب عطا کی “ جیسا کہ آج بھی یہ موجود کل پانچ کتابیں ہیں جو بائبل کی ابتداء میں موجود ہیں جن کے نام حسب ذیل ہیں : ” پیدائش “ جس کا دوسرا نام تکوین بھی ہے۔ ” خروج “ ۔ ” احبار “۔ ” اعداد “ جس کا دوسرا نام ” گنتی “ ہے۔ ” استثناء “ البتہ پرانے نسخوں میں پانچ کتابوں کی تقسیم نہیں ہے بلکہ پیدائش سے لے کر استثناء تک ایک ہی مجموعہ ہے جس کو کئی چھوٹے اور بڑے ابوابوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے اسی تورات کو نو رو ہدایت فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَاٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ ھُدًى لِّبَنِىْ اِسْرَائِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِىْ وَكِیْلًا . (الانفال 17 : 2) ” اور اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ ٹھہرایا اور حکم دیا کہ دیکھو ! میرے سوا اور کسی کو اپنا کارساز نہ ٹھہراؤ ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد ہوا : اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةً فِیْھَا ھُدًى وَّنُوْرٌ یَّحْكُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اَسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَیْهِ شُھَدَآءَ. (المائدہ 5 : 44) ” بلاشبہ ہم نے تورات نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اللہ کے نبی جو احکام الٰہی کے فرمانبردار تھے اسی کے مطابق یہودیوں کو حکم دیتے رہے۔ نیز ربی و احبار یعنی یہود کے علماء و مشائخ بھی اسی پر کاربند رہے کیونکہ وہ کتاب اللہ پر محافظ ٹھہرائے گئے تھے اور اس کے حکموں پر گواہ تھے۔ “ انجیل وہی کتاب ہے جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی: 8: ” الانجیل “ عبری اور سریانی دونوں زبانوں میں یہ لفظ اسی تلفظ سے استعمال ہوتا ہے جس کے معنی خوشخبری کے ہیں۔ اہل عرب نے انجیل کا مادہ ” بخل “ سے لیا ہے اور ” بخل “ کے معنی نسل اور ولد کے بھی ہیں۔ نجلت الارض کے معنی ہیں کہ میں نے زراعت کے لیے اس کو پھاڑا۔ انجیل کی جمع اناجیل ہے اور حدیث میں صحابہ کرام ؓ کی صفت میں آتا ہے۔ ” صُدُوْرُھُمْ اَنَا جِیْلُھُمْ “ ان کے سینے ان کی انجیلیں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ انجیل بمعنی بشارت سے ہی ماخوذ ہو اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ” صحابہ کے سینے بشارتوں سے بھر ہوئے ہیں۔ یا یہ کہ جو عظیم الشان بشارت انجیل لائی تھی وہ اب صحابہ ؓ کے سینوں میں ہے۔ کیونکہ وہ بشارت محمد رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی تھی۔ انجیل قرآن کریم کے نزدیک وہ کتاب ہے جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور جس شکل و صورت میں وہ عیسائیوں کے پاس تھی اس کو انجیل ہی کہا گیا ہے۔ گو وہ چار کتابیں جو عیسائیوں کی اصطلاح میں اناجیل کے نام سے موسوم ہیں ان میں سے کوئی بھی عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ انجیل نہیں بلکہ وہ چار الگ الگ اشخاص کی تصنیفات ہیں۔ ایک ” متی “ کی۔ ایک ” مرقس “ کی۔ ایک ” لوقا “ کی اور ایک ” یوحنا “ کی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بائبل صرف توریت واناجیل کے مجموعہ کا نام نہیں یہودیوں کے نزدیک تو بائبل اس مجموعہ کا نام ہے جس کے شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچ کتابیں ہیں اور ان کے علاوہ اور بہت سی کتابیں انبیاء کی وہ اس میں شامل کرتے ہیں ایوب ، یونس ، حزقیل ، دانیال وغیرہ کی کتاب کے علاوہ حضرت داؤد کی زبور بھی اس مجموعہ میں شامل ہے اور بعض کتب کی شمولیت کے متعلق اختلاف بھی چلا آیا ہے یعنی عام مروج نسخہ میں 35 کتابیں شامل ہیں جو سپٹوایجنٹ نسخہ میں ہیں اور عیسائی اس مجموعہ کا نام تو پرانا عہد نامہ رکھتے ہیں اور ہر چہار اناجیل اور ” اعمال “ ” حواریین “ اور ” پولوس “ اور دیگر رسولوں کے خطرط اور مکاشفات یوحنا کے مجموعہ کو نئے عہد نامہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور پھر پرانے اور نئے عہد نامہ کل کو بائبل کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس الہامی کتاب کی بھی عجیب کیفیت ہے کہ کتابوں کی کتابیں بعض نسخوں میں شامل ہیں اور بعض سے خارج کردی گئی ہیں۔ اناجیل کے متعلق جیسا کہ ذکر ہوا عیسائیوں کے ہاتھ میں نہ صرف مسیح ہی کی کوئی انجیل نہیں بلکہ وہ چار اناجیل جو ان کے پاس ہیں وہ بھی ان لوگوں کی لکھی ثابت نہیں ہوتیں جن کے ناموں پر وہ مشہور ہیں بلکہ ان کے لکھنے والے کوئی اور لوگ ہیں۔ متی کی انجیل کی تصنیف پر بحث کرتا ہوا پادری ڈملو اپنی تفسیر میں لکھا ہے ” جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس انجیل کا براہ راست متی کی تصنیف ہونا غیر اغلب ہے۔ “ (ص 620) اور آگے چل کر دکھایا ہے کہ متی نے کوئی کلمات وغیرہ مسیح کے جمع کئے ہوں گے جس کو اسی مصنف نے استعمال کیا ہے اور اس کا تصنیف کا زمانہ جو خود پادری صاحبان بتاتے ہیں 70 عیسوی ہے مگر واقعات سے 150 عیسوی سے پیشتر مروجہ اناجیل اربعہ میں سے کسی کی انجیل کا کتاب کی صورت میں موجود ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ لوقا اور مرقس کی اناجیل کو عموماً ان مصنفوں کا سمجھا گیا ہے مگر نئی تحقیقات کی رو سے ان اناجیل کے مصنف ہونے پر شبہ کیا گیا ہے اور یہی حال یوحنا کی انجیل کا ہے جو پہلی صدی عیسوی کے آخر میں لکھی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔ ان ساری باتوں کے باوجود توریت و انجیل کا لفظ اپنی ظاہری صورت سے ان کتابوں پہ بولا جاسکتا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھیں بلاشبہ وہ محرف ہوچکی ہیں اور اس بات پر خود اہل کتاب کو بھی اتفاق ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں اب بھی کچھ نہ کچھ سچ موجود ہے۔ جو ان عبارات کو پڑھنے سے واضح ہوتا جاتا ہے اور سب سے بڑی ہدایت ان میں یہی موجود ہے کہ دونوں کتابیں نبی کریم ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں کرتی ہیں اور انجیل تو صاف طور پر کہتی ہے کہ ” کامل ہدایت کی راہیں سکھانے والا میرے یعنی مسیح کے بعد آنے والا ہے۔ “ اس لیے قرآن کریم نے انجیل کی بہت جگہ پر تصدیق کی چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَقَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَاٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ ہُدًى وَّنُوْرٌ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ. (المائدۃ 5 : 46) ” پھر ان نبیوں کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو چلایا تورات کی تصدق کرتا ہوا جو اس کے سامنے موجود تھی اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تورات کی جو پہلے سے موجود تھی سراسر تصدیق ہے اور متقی انسانوں پر سعادت کی راہ کھولنے والی ہے اور یکسر پندو نصیحت۔ “
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

پہلے توراۃ وانجیل بھی لوگوں کی ہدایت ہی کیلئے نازل کی گئی تھیں ، یہ کتاب حق و باطل میں امتیاز کرنے والی نازل فرمائی ہے لیکن جو لوگ اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں یقینا انہیں سخت عذاب ملنے والا ہے اور اللہ سب پر غالب اور مجرموں کو سزا دینے والا ہے

قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو ” الفرقان “ کہلانے کی مصداق ہے : 9: قرآن کریم الفرقان کیسے ؟ ” الفرقان “ یعنی نیک و بد اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت قرآن کریم ہی ہے۔ ” فرقان “ دراصل حق و باطل میں فرق کو کہتے ہیں جیسے امام راغب نے المفردات میں بیان کیا ہے کہ قرآن کریم میں جنگ بدر کو بھی فرقان کہا ہے۔ ” یَوْمَ الْفُرْقَانِ “ (الانفال 8 : 41) مؤمن کو جو نور حق و باطل میں فرق کرنے کا دیا جاتا ہے اسے بھی فرقان ہی کہا : ” اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمُ فُرّقَانًا “ (الانفال 8 : 29 ) قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ” فرقان “ بھی ہے گو پہلے قرآن کریم کے نزول کا ذکر فرمایا جا چکا ہے مگر دوبارہ دوسرے لفظ کو لا کر بیان کرنے سے خاص مقصود ہے۔ وہاں فرمایا تھا کہ یہ کتاب مقتضائے حکمت کے مطابق نازل ہوئی ہے یعنی ضرورت حقہ کو پورا کرنے والی ہے۔ اس جگہ توریت و انجیل کا ذکر کر کے ان کی تحریف کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے جس کی بتفصیل سورة بقرہ میں بیان کردیا تھا تو اس لیے جب تحریف ہوگئی تو حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کوئی کتاب نہ رہی پس اللہ تعالیٰ نے فرقان حمید کو نازل کیا کہ اس سے حق و باطل میں فرق واضح ہوجائے۔ چناچہ وہ ہوگیا اور اس وجہ سے قرآن کریم کو ” الفرقان “ کہا گیا ہے۔ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والے کون ہیں ؟ 10: اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والے اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے سے انکار کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے سے منکر ہوگئے۔ اس لیے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اپنی کتابوں نے پیش گوئی کے طور پر بتا دیا تھا کہ خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت ہوگی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو لوگوں کے سامنے وقتاً فوقتاً یہ بیان کرتے رہتے تھے۔ سورة بقرہ میں اس کی تفصیل بھی گزر چکی ہے اب ان ہی لوگوں نے انکار کرنے میں پہل کردی حالانکہ ان کے پاس نکار کی کوئی گنجائش ہی موجود نہ تھی۔ ایک ایک کر کے وہ سب نشان دیکھ چکے تھے جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کے متعلق ان کو بتائے اور پڑھائے جاتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پہچان لیا ہے جس طرح انسان اپنی اولاد کو پہچانتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ پختہ دلائل سے ان کو معلوم ہے۔ اس وقت یہ جو تسلیم نہیں کر رہے تو صرف ان کو یہ دکھ کھا گیا ہے کہ آنے والے رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق بنی اسرائیل سے کیوں نہیں۔ حالانکہ یہ بات بھی ان پر واضح کردی گئی تھی کہ اس کا تعلق ” تمہارے بھائیوں “ سے ہوگا تم سے نہیں اور ظاہری ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بھائی تو بنی اسماعیل ہی تھے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق بھی بنی اسماعیل ہی کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ ذریت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے متعلق تھے۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو سزا دینے پر قادر ہے : 11: اللہ تعالیٰ نے اسمائے صفات میں سے ایک اسم ” منتقم ‘ اور ” ذوانتقام “ ہے یعنی سزا پہنچانے والا۔ سزا دینے والا۔ مجرم کے لیے اس وقت تک تو گنجائش موجود ہے جب تک کہ وہ زندہ ہے کیونکہ کسی وقت بھی وہ اپنے جرم تائب ہو سکتا ہے اور تائب کے متعلق اسلام کا فیصلہ ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے جرم کیا ہی نہیں اور توبہ نام ہے اقرار جرم کرنے کے بعد آئندہ وہ کام نہ کرنے کا اقرار کرنا اور اس طرح معافی اس چیز کا نام ہے کہ جو اس فعل کی سزا اس کو ملنا تھی وہ نہ دے کر اس کو معافی دی جائے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور بخش دے اور معاف فرما دے اس کو کون روک سکتا ہے ؟ ہاں ! جہاں اس نے اعلان فرما دیا کہ اس مجرم نے اگر جرم سے توبہ نہ کی تو اور بغیر توبہ کئے جرم کرتا ہی مرگیا تو اس کو معاف نہیں کیا جائے گا جیسے شرک کرنے والا تو یقیناً ایسا ہی ہوگا کیونکہ فیصلہ الٰہی کے خلاف ممکن نہیں ہو سکتا۔ مجرموں کے لیے سزا اس لیے لازم ہے کہ انہوں نے توبہ نہ کی اور جرم کرتے کرتے مر گئے۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جہاں وہ رحمن ، رحیم اور رؤف ہے وہاں وہ عادل بھی ہے اور صفت معدلت کا اظہار مجرموں اور سرکشوں کے مقابلہ میں سزا و انتقام ہی ہو سکتا ہے۔ اسے سزا دینے میں ہرگز کوئی عار نہیں آتا کہ اس عار سے بچنے کے لیے اسے مسیحیت کے عقیدہ کی طرح مصلوبیت اور کفارہ کے پیچ در پیچ راستے اختیار کرنے پڑیں۔ جن لوگوں نے اپنے خدا کو صرف رحیم ہی رحیم مانا ہے اس کا خدا کامل نہیں بلکہ ناقص ہے۔ خیال رہے کہ سورة کا اصل موضوع مسیحیت کی تردید ہے اس لیے عموماً ایسی ہی صفات کا اثبات کیا گیا ہے جن سے مسیحیت ہی کے کسی نہ کسی پہلو پر ضرب لگے۔ عزیز یعنی سزا دینے پر قادر ہے۔ اور ہر حال میں سب سے بالادست اور قویٰ تر ہے۔ وہ مسیحیوں کا خدا نہیں کہ انسانی قالب اختیار کر کے طرح طرح کی کمزوریوں اور بیچارگیوں کا شکار بن جائے اور دشمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر سولی پر موت تک پائے۔ اس کی صفت عزیزیت اس تخیل ہی سے انکار کرتی ہے۔
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں (اور نہ ہی ہو سکتی ہے) وہ زمین میں ہو یا آسمان میں

علم الٰہی سے کوئی بات پوشیدہ نہیں وہ ہرچیز کو جاننے والا ہے : 12: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کو مخصوص الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے اور غرض دراصل حضرت مسیح کی صفات باری سے عاری ہونے کا بیان ہے۔ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہر وقت اور ہر حال میں ذہن نشین رہنا چاہیے کہ وہ جس بات کو بیان کرنا چاہتا ہے اس کو ہمیشہ ایسے لطیف طریق پر بیان کرتا ہے کہ کسی دوسرے کو ناگوارنہ گزرے اور جو کچھ اس کو کہنا ہے وہ کہہ بھی دے۔ پھر وہ ایک لفظ میں بہت سا مضمون بیان کردیتا ہے۔ اس جگہ غور کرو کہ بجائے اس کے کہ یہ بیان فرماتا کہ مسیح کو کوئی علم نہ تھا مگر اتنا ہی جتنا کہ ایسے برگزیدہ انسانوں کو ہوتا ہے اور پھر اناجیل سے اس طرح کی مثالیں پش کرتا جو یقیناً اب بھی مل سکتی ہیں۔ لیکن اس موضوع کو اس طرح بیان فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے گویا عیسائیوں کو یہ بتا دیا کہ مسیح پر بہت سی چیزیں مخفی تھیں۔ اگر اس طرح بیان کرتا تو بھی کرسکتا تھا لیکن اس نے نہایت ہی میٹھا اور پیارا انداز بیان اختیار کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کا نام بھی نہیں لیا اور وہ سب کچھ کہہ دیا جو کہا جاسکتا تھا کہ مسیح انسان ہے مخلوق ہے نہ خالق و الٰه۔ حالانکہ ان کی اپنی کتاب انجیل میں ایسا بیان موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر بہت کچھ مخفی تھا مثلاً انجیر کے وقت کا واقعہ جو آج بھی انجیل میں ان الفاظ کے اندر موجود ہے کہ : ” دوسرے دن جب وہ بیت عقیاہ سے نکلے اس کو بھوک لگی اور اس نے دور سے انجیرکا ایک درخت جس میں پتے تھے دیکھ کر اس کی طرف گیا کہ شاید اس میں کچھ پائے مگر جب اس کے پاس پہنچا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔ “ (مرقس : 11 ، 12 ، 13 ) اس واقعہ پر غور کرو اور ان الفاظ کو دیکھو کہ ” شاید اس میں کچھ پائے۔ “ اور ” انجیر کا موسم نہ تھا “ قابل غور ہیں یا نہیں ؟ حضرت مسیح کو باوجود انجیر کاموسم نہ ہونے کے یہ خیال تھا کہ شاید وہاں کچھ انجیریں مل جائیں کس قدر علم کی عاجزی کا اظہار ہے۔ یہ تو عملی اعتراف عجز ہے دوسری جگہ لفظوں میں بھی اپنے علم کے ناقص ہونے کا اظہار کیا ہے۔ چناچہ لکھا ہے کہ : ” لیکن اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے ، نہ بیٹا مگر صرف باپ۔ “ (متی 36 : 24) قرآن کریم نے یہ للکار کر بتایا کہ جو کچھ جانے اور کچھ نہ جانے وہ ” الٰہ “ اور ” رب “ نہیں ہو سکتا کیونکہ نہ جاننا ایک نقص ہے اور اللہ ہر نقص سے پاک ہے وہ اللہ کا ہے کو اللہ ہوا جس کو کچھ علم ہو اور کچھ نہ ہو۔ یاد رکھو کہ علم باری ہر حیثیت سے کامل ہے اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز پر حاوی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا : رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ 1ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ 0038 (ابراہیم 14 : 38) ” اے ہمارے رب ! ہم جو کچھ چھپاتے ہیں وہ بھی تو جانتا ہے جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ بھی تو جانتا ہے۔ آسمان و زمین کی کوئی چیز نہیں جو تجھ سے پوشیدہ ہو۔ “ یہاں آسمان و زمین کا مخصوص ذکر کیوں ؟ 13: ” الارض و السماء “ آسمان و زمین کے نام اس سلسلہ میں اس لیے لئے گئے ہیں کہ علم انسان کی وسعت گرفت انہی حدود کے اندر محدود ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ دراصل خطاب مسیحیوں سے ہے کہ تم جو مسیح کو خدا مانتے ہو تو بتاؤ ان کا علم کامل کیسے تھا ؟ اور خدا نے بندہ کی شکل اختیار کر کے کیسے اتنا بڑا نقص اپنے اندر گوارا کرلیا ؟ گویا اللہ کو جس نے اپنے وہم کے مطابق کوئی شکل و صورت دی جیسے مسیحیوں نے مسیح کو رب بھی کہا اور انسان کی شکل و صورت بھی دی اور اللہ کو ناقص بنا دیا کیونکہ وہ شکل و صورت کا محتاج ہوا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو محتاج ہو وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ سورة کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ ان آیات کریمات کا اصل نکتہ نظر سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کی نفی اور اس کی عبدیت کا اثبات ہے اور اس کے لیے پیرایہ بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والوں کا دل بھی نہ دکھے اور بات بھی سچ سچ کہہ دی جائے نہ تو بات میں کسی قسم کی لچک ہو کہ اس کو ذومعنی بنایا جائے اور نہ ہی طریقہ بیان ایسا اختیار کیا جائے کہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی بڑھنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان آیات کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مسیح کی خدائی کے خلاف استدلال بھی ہو اور نصاریٰ ” نہ “ کا لفظ بھی استعمال نہ کرسکیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے مسیح کی الوہیت کا رداس انداز سے فرمایا کہ سرداران مسیحیت اس رد الوہیت میں شریک ہو کر ” ہاں “ ” ہاں “ کی صدائیں بلند کرتے رہے اور انجام کار جب آپ ﷺ نے پوچھا کہ ” پتھر تم ہی بتاؤ کہ جو تم دعویٰ کرتے ہو وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ “ تو وہ ایسے دم بخود ہوئے کہ ان کو بھاگنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا اور ایسے گئے کہ پھر کبھی آنے کا نام بھی نہ لیا۔ چناچہ ابن جریر نے ربیع سے روایت بیان کی ہے کہ : نصاریٰ کی جماعت کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عیسیٰ ابن مریم کے متعلق آپ ﷺ سے بحث کی اور آپ ﷺ کو کہا کہ اسکا باپ کون ہے ؟ اور اللہ پر بہتان اور جھوٹ کہا۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس نے اپنی بیوی بنائی ہے اور نہ ہی بیٹا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ کوئی بیٹا نہیں ہوتا مگر وہ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہمیشہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر فنا آئے گی ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہرچیز کو قائم رکھنے والا ہے اور اس کی نگہبانی کرتا ہے اور حفاظت کرتا ہے اور اس کو رزق دیتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان چیزوں پر اختیار رکھتا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ و مخفی نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ! فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ان چیزوں میں سے کچھ جانتا تھا سوائے اس کے جس کا علم اسے دیا گیا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے رب نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت جس طرح چاہا اس کی ماں کے رحم میں بنائی اور آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے رب نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت جس طرح چاہا اس کی ماں کے رحم میں بنائی اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب کھانا نہیں کھاتا اور پانی نہیں پیتا اور نہ ہی قضائے حاجت کرتا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک عورت نے حمل میں لیا جس طرح عورت حمل میں لیا کرتی ہے۔ پھر اس کو جنا جس طرح عورت اپنا بچہ جنا کرتی ہے۔ پھر اس کو غذا دی گئی جس طرح بچوں کو غذا دی جاتی ہے اور پھر وہ کھانا کھاتا تھا۔ پانی پیتا تھا۔ قضائے حاجت کرتا تھا انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا پھر جو تم دعویٰ کرتے ہو وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ غور کریں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت ، پیدائش اور ان کی بندگی کے متعلق کون سی بات تھی جس کی وضاحت نہ فرما دی اور الوہیت عیسیٰ کی کس طرح تردید کردی لیکن افسوس کہ اہل اسلام کے علماء نے بھی کیا سمجھا اور کس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کو مافوق الفطرت بنانے کی کوشش کی اور رسول اللہ ﷺ کے ان واضح ارشادات کو کس طرح پس پشت ڈال دیا اور لکیر کے فقیر ہو کر لکیر پیٹتے چلے گئے۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ جس طرح چاہتا ہے ماں کے شکم میں تمہاری صورت بنا دیتا ہے یقینا کوئی معبود نہیں مگر وہی غالب آنے والا حکمت والا ہے

اللہ ہی وہ مصور ہے جس نے سب کی تصویریں بنائیں : 14: ” یصور “ تصویر صورت بنانے کا نام ہے اور صورة وہ ہے جس سے کسی چیز کے ” عین “ کا نقش ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ دوسری اشیاء سے الگ ہوجاتی ہے اور یہ دو طرح پر ہے ایک محسوس جسے خاص و عام بلکہ حیوان بھی پہنچانتے ہیں اور دوسرے معقول جسے صرف خواص ہی پہچان سکتے ہیں جیسے وہ صورت جس سے انسان مخصوص ہے یعنی عقل و رویہ اور وہ معانی جن سے ایک شے دوسری سے مخصوص ہوتی ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کے انسان کی صورت بنانے کا ذکر ہے وہاں یہ دونوں صورتیں مراد ہوتی ہیں (امام راغب) جیسے : خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ (الاعراف 7 : 11) ” ہم نے تمہیں پیدا کیا تمہاری صورتیں بنائیں اور بہتر سے بہتر صورتیں بنائیں۔ “ فِىْ اَىِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ (الانفطار 82 : 8) ” پھر جیسی صورت بنانا چاہی اس کے مطابق ترکیب دے دی۔ “ اور ایک حدیث میں فرمایا : ععع ان اللّٰه خلق ادم علی صور تہ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ایک خاص صورت پر پیدا کیا۔ یعنی انسان کی ایک مخصوص صورت بنائی یعنی وہ ہیئت جس کا ادراک آنکھ سے اور عقل سے ہوتا ہے جس سے انسان کو دوسری مخلوق پر فضیلت ہے۔ (راغب) یاد رہے کہ اس جگہ صورة میں ” ہ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تشبیہ کے لیے نہیں یا اس لیے نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ کی بھی کوئی صورت ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ کیوں ؟ اس لیے کہ اللہ صورت سے بھی پاک ہے اور تشبیہ سے بھی پاک ہے بلکہ علی سبیل الملک ہے یعنی اس کی مل ہونے کے لحاظ سے اور علی سبیل التشریف یعنی اس کی عزت کے لحاظ سے جیسے بیت اللہ ، نافتہ اللہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر کہ وہ انسان کی صورت رحم میں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس میں دو اہم حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ تمہاری فطرت کو جیسا وہ جانتا ہے نہ کوئی دوسرا جان سکتا ہے نہ تم خود جان سکتے ہو لہٰذا اس کی راہنمائی پر اعتماد کئے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جس نے تمہارے استقرار حمل سے لے کر بعد کے تمام مراحل تک ہر موقع پر تمہاری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں تک کو پورا کرنے کا اہتمام کیا ہے کس طرح ممکن تھا کہ وہ دنیا کی زندگی میں تمہاری ہدایت و رہنمائی کا انتظام نہ کرتا حالانکہ تم سب سے بڑھ کر اگر کسی چیز کے محتاج ہو تو وہ یہی ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ وہ ذات کیسی ذات ہے جس نے کئی قسم کی تاریکیوں میں انسان کی نہ صرف جسمانی بلکہ اس کی اخلاقی اور روحانی تصویر بھی بنا دی ہے جیسے دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے : یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ 1ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ (الزمر 39 : 6) ” وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تاریکیوں یعنی پردوں میں ایک شکل کے بعد دسوری شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے اس کی سلطنت ہے۔ “ ایک طرح سے یہ بھی الوہیت مسیح کے بطلان کی دلیل ہے جیسا کہ گزشتہ حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ جو حالات دوسرے انسانوں پر گزرتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی گزرے ہیں ان پر بھی رحم مادر میں وہ سب حالتیں یکے بعد دیگرے آئیں جیسا کہ دوسرے انسانوں پر آتی ہیں۔ مصور حقیقی اللہ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں : 15: ” الٰہ “ کے معنی اس جگہ یہی ہو سکتے ہیں کہ وہی ” مصور حقیقی “ ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو صورت بنانے والا ہو۔ وہی سب کی تصویریں بنانے والا ہے اور وہی خالق ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں۔ ہر ایک جملہ گویا کہ الوہیت عیسیٰ کے انکار میں بیان ہوا ہے اور اس طرح بیان ہوا ہے کہ اس کو تسلیم کرنے پر فطرت مجبور کرتی ہے اور جو اس کو تسلیم نہ کرے وہ گویا فطرت کے تسلیم کرنے سے منکر ہے۔ ابن جریر میں حضرت ابن مسعود ؓ اور ابن عباس ؓ اور دیگر صحابہ سے اس روایت کا بیھ اس آیت کی تفسیر میں ذکر کیا گیا ہے کہ انساین پیدائش اس طریقہ پر ہوتی ہے کہ پہلے وہ نطفہ ہوتا ہے پھر چالیس دن کے بعد علقہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نطفہ سے لے کر وہ تمام حالات انسانی پیدائش کے آئے ہیں جو دوسرے انسانوں پر آتے ہیں کوئی خصوصیت پر بنائے پیدائش ان کے حالات میں نہیں۔ ان کی طرف قرآن کریم نے خود اشارہ فرمایا ہے جہاں ارشاد ہوا : ” فَحَمَلَتْهُ “ پس مریم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو حمل میں لے لیا (مریم 19 : 22) اور اس کی تشریح میں خود نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ععع ” ان عیسیٰ حملتہ امراة کما تحمل المراة ثم وضعتہ کما تضع المراة “ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک عورت نے حمل میں لیا جس طرح عورتوں کو حمل ہوتا ہے اور اس کو جنا جس طرح عورتیں جنتی ہیں۔ پھر انسانی پیدائش کی تفصیل خود قرآن کریم کی آیات نے بیان فرمائی ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ0012 ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪0013 ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا 1ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ 1ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ0014 ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ0015 ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 0016 (المؤمنون) ” اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ” نطفہ “ کو ہم نے ” علقہ “ بنایا ایک ٹھہر جانے اور جماؤ پانے کی جگہ میں پھر……” علقہ “ کو ایک گوشت کا ٹکڑا سا کردیا۔ پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچہ پیدا کیا۔ پھر ڈھانچے پر گوشت کی تہه چڑھا دی۔ پھر دیکھو کس طرح اسے بالکل ایک دوسری ہی طرح کی مخلوق بنا کر نمودار کردیا ؟ تو کیا ہی برکتوں والی ہستی ہے اللہ کی۔ پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا۔ پھر دیکھو اس پیدائش کے بعد تم سب کو ضرور مرنا ہے اور مرنے کے بعد ایسا ہونا ہے کہ قیامت کے دن اٹھائے جاؤ ۔ “ ایک جگہ ارشاد ہوا : ” کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ؟ اور اسے ایک مقررہ اندازے تک محفوظ مقام پر نہیں رکھا ؟ پھر ہم نے اس کا اندازہ کیا سو ہم کیا ہی اچھا اندازہ کرنے والے ہیں ؟ “ (المرسلات 77 : 20 ، 22 ) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” وہ پروردگار ! جس نے تمہارا وجود مٹی سے پیدا کیا پھر ” نطفہ “ سے۔ پھر ” علقہ “ سے۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ تم طفویت کی حالت میں مادر شکم سے نکلتے ہو۔ پھر بڑے ہوتے ہو اور سن تمیز تک پہنچتے ہو اس کے بعد تمہارا جینا اس لیے ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی منزل تک پہنچو۔ پھر تم میں سے کوئی تو ان منزلوں سے پہلے یہ مرجاتا ہے اور کوئی چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اپنے مقررہ وقت تک زندگی بسر کرتا رہے اور تم عقل و فکر سے کام لو۔ “ (مؤمن 40 : 67) ایک جگہ فرمایا : ” لوگو ! اگر تمہیں اس بات میں شک ہے کہ آدمی دوبارہ کیسے جی اٹھے گا ؟ تو اس بات پر غور کرو کہ ہم نے تم کو کس چیز سے پیدا کیا ؟ مٹی سے پھر اس طرح کہ پہلے ” نطفہ “ ہوتا ہے پھر ” علقہ “ بنتا ہے پھر متشکل اور غیر متشکل گوشت کا ایک ٹکڑا اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ تم پر اپنی قدرت کی کار فرمائیاں واضح کردیں پھر دیکھو جس نطفہ کو ہم چاہتے ہیں تکمیل تک پہنچائیں اسے عورت کے رحم میں ایک مقررہ وقت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر جب نطفہ تکمیل کے تمام مراحل طے کرلیتا ہے تو طفولیت کی حالت میں تمہیں باہر نکالتے ہیں تم پر یکے بعد دیگرے ایسی حالتیں طاری کرتے ہو کہ بالآخر اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جاتے ہو۔ پھر تم میں کوئی تو ایسا ہوتا ہے جو بڑھاپے سے پہلے ہی مر جاتا ہے اور کوئی ایسا ہوتا ہے جو بڑھاپے تک پہنچتا ہے ، اور پھر عمر کی نکمی حالت کی طرف لوٹا دیاجاتا ہے کہ سمجھ بوجھ کا دجہ پاکر پھرنا سمجھی کی حالت میں پڑجائے۔ “ (الحج 22 : 5) تعجب ہے کہ ایسی صراحت کے ہوتے ہوئے مفسرین نے بعض عجیب عجیب قصے بنالیے ہیں اور بعض مفسرین نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ایک ہی گھڑی کے لیے حضرت مریم صدیقہ کو حمل ہوا تھا اور فوراً حضرت مسیح پیدا بھی ہوگئے۔ اب عیسائیوں کے لیے غور کا مقام ہے کہ جس شخصیت کو ماں نے حمل میں لیا اور پھر وہ رحم مادر میں خلقاً بعد خلقٍ بڑھتا رہا اور اپنے وقت مقرر پر ماں نے اس کو جنم دیا پھر اس کی پرورش کی جس طرح مائیں اپنی اولاد کی پرورش کرتی ہیں۔ پھر وہ اللہ۔ اللہ کا بیٹا یا تین میں سے ایک اقنوم ہونے کے بعد تین ایک ایسے ہوگیا ؟ آخر اس گورکھ دھندہ کا مطلب کیا ؟ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) مخلوق نہیں ؟ پھر جو مخلوق ہے وہ خالق کیسے ہوگیا ؟ مختصر یہ کہ اس آیت نے بھی سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کا مکمل طور پر رد کردیا اور واضح کردیا کہ وہ خالق نہیں بلکہ مخلوق تھا۔ معبود نہیں بلکہ عبد تھا اور یہی اس سورة کا اصل مضمون ہے۔