3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہمیشہ رہنے ولا

آیت نمبر : 1 تا 2 : اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الم، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ یہ بالاجماع مدنی سورت ہے، نقاش نے بیان کیا ہے کہ تورات میں اس کا نام طیبہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 396 دارالکتب العلمیہ) اور حسن، عمرو بن عبید، عاصم بن ابی النجود اور ابو جعفر الرواسی نے ” الم ‘۔ اللہ “ الف وصل کو قطع کے ساتھ پڑھا ہے، اس تقدیر پر کہ الم پر وقف ہے جیسا کہ وہ اسماء اعداد مثلا واحد، اثنان ثلاثۃ اور اربعۃ وغیرہ میں وقف مقدر کرتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں اکٹھا اور ملا کر پڑھتے ہیں۔ اخفش سعید نے کہا ہے : الم، اللہ التقاء ساکنین کی وجہ سے میم کو کسرہ کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے، زجاج نے کہا ہے : یہ غلطی ہے، ثقیل ہونے کی وجہ سے عرب اس طرح نہیں کہتے، نحاس نے کہا ہے : پہلی قرات ہی قرات عامہ ہے اور متقدمین علمائے نحو نے اس میں گفتگو کی ہے۔ پس سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے میم کو فتحہ دیا جائے اور انہوں نے علمائے نحو نے اس میں گفتگو کی ہے، پس سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے میم کو فتح دیا جائے اور انہوں نے اس کے لئے فتحہ کو اختیار کیا ہے تاکہ کسرہ اور یا اور اس کے ماقبل کے کسرہ کے درمیان اسے جمع نہ کردیا جائے۔ اور کسائی نے کہا ہے : حروف تہجی کے ساتھ الف وصل مل جائے اور تو الف وصل کو حذف کر دے تو اسے الف کی حرکت کے ساتھ حرکت دے گا اور یہ کہے گا : (آیت) ” الم اللہ، والم اذکر، والم اقتربت۔ اور امام فراء نے کہا ہے : الم، اللہ کی اصل وہی ہے جسے رواسی نے پڑھا ہے پھر ہمزہ کی حرکت میم پر ڈال دی گئی، حضرت عمربن خطاب ؓ نے ’ الحی القیام “۔ پڑھا ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 397 دارالکتب العلمیہ) اور خارجہ نے کہا ہے : حضرت عبداللہ ؓ کے مصحف میں ” الحی القیم “ ہے وہ حروف جو سورتوں کے اوائل میں آئے ہیں ان کے بارے علماء کی آراء سورة البقرہ کے شروع میں بیان ہوچکی ہیں۔ اس حیثیت سے اس سورت میں (آیت) ” الم، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ ایسا جملہ آیا ہے جو قائم بنفسہ ہے۔ اور اس میں وہ تمام اقوال متصور ہو سکتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (2) امام کسائی نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور سورة آل عمران شروع کی اور پڑھا (آیت) ” الم، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ اور پہلی رکعت میں سو آیات تلاوت کیں اور دوسری رکعت میں بقیہ سو آیات پڑھیں (1) (سنن نسائی کتاب الافتتاح، جلد 1، صفحہ 154) ہمارے علماء نے کہا ہے : دو رکعتوں میں ایک سورت نہیں پڑھی جائے گی اور گر کسی نے ایسا کیا تو اس کے لئے جائز ہے، اور امام مالک نے المجوعہ میں کہا ہے : اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ (مہتم) بالشان نہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس میں صحیح یہ ہے کہ یہ جائز ہے حضور نبی مکرم ﷺ نے نماز مغرب میں سورة الاعراف تلاوت فرمائی اور اسے دو رکعتوں میں تقسیم کردیا (2) (ایضا) اسے نسائی نے بھی بیان کیا ہے اور ابو محمد عبدالحق نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) اس سورت کی فضیلت میں کئی آثار واخبار موجود ہیں اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ یہ سورت سانپوں سے امان ہے، اور فقراء اور محتاجوں کے لئے یہ خزانہ ہے۔ اور یہ آخرت میں اپنے قاری کی جانب سے جھگڑا کرے گی اور رات کے وقت جس نے اس کی آخری آیات پڑھیں اس کے لئے ساری رات قیام کرنے کی طرح کا ثواب لکھا جائے گا۔ وغیرذالک۔ داری ابومحمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے کہ ہمیں ابو عبید قاسم بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے عبید اللہ اشجعی نے بتایا، انہوں نے کہا مجھے مسعر نے بیان کیا، انہوں نے کہا : مجھے جابر نے اس حالت میں واقع ہونے سے پہلے بتایا جس میں وہ واقع ہوئے کہ حضرت شعبی (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے کہا : فقراء اور محتاجوں کے لئے سورة آل عمران کتنا بہترین اور اچھا خزانہ ہے جو رات کے آخری حصہ میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ (3) (فضائل القرآن سورالقرآن وآیاتہ صفحہ 238) (یعنی نوافل میں اس اس کی تلاوت کرتا ہے) محمد بن سعید نے، عبدالسلام نے جریری سے انہوں نے ابی السلیل سے بیان کیا ہے : ایک آدمی سیع جنگل میں پہنچا اور اس نے وادی مجنہ میں پناہ لی اور یہ وہ وادی ہے جس میں جو بھی چلتا تھا اسے سانپ ڈس لیتے تھے اور اس وادی کے کنارے پر دو راہب تھے، پس جب شام ہوئی تو اس ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا : قسم بخدا یہ آدمی ہلاک ہوگیا، راوی کا بیان ہیں۔ پس اس آدمی نے سورة آل عمران پڑھنی شروع کردی، دونوں راہبوں نے کہا : اس نے سورة طیبہ پڑھی ہے شاید نجات پا جائے گا، راوی کہتا ہے پس اس آدمی نے صحیح سالم صبح کی، اور مکحول سے روایت ہے : جس نے جمعہ کے دن سورة آل عمران پڑھی رات تک ملائکہ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ اور حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے : جس نے رات کے وقت سورة آل عمران کی آخری آیات پڑھیں تو اس کے لئے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا گیا اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے۔ اور مسلم نے نواس بن سمعان کلابی سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :” اسے قیامت کے دن قرآن کے ساتھ اور ان اہل قرآن ساتھ لایا جائے گا جو اس کے مطابق عمل کرتے رہے اور اس کے آگے سورة البقرہ اور آل عمران ہوں گی، اور رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں ابھی تک نہیں بھولا فرمایا : گویا کہ یہ دونوں دو بال یا دو سیاہ سیائے ہیں جن کے درمیان روشنی اور چمک ہے یا گویا یہ دونوں پرندوں کا گروہ ہیں جو صفیں باندھے ہوئے ہیں یہ دونوں اپنے اپنے قاری کی جانب سے جھگڑیں گی۔ (1) (صحیح مسلم، فضائل القرآن، جلد 1، صفحہ 270) مسلم نے ہی حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قرآن کریم پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفیع بن کر آئے گا تم زھراوین (یعنی) سورة البقرہ اور سورة آل عمران پڑھا کرو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی گویا کہ یہ دو بادل میں یا گویا کہ یہ دو سائے ہیں یا گویا کہ یہ دونوں پرندوں کے غول ہیں جو صفیں باندھے ہوئے ہیں اور یہ اپنے پڑھنے والوں کی جانب سے جھگڑا کریں گی، سورة البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے لے لینا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے اور جادوگر اس کی استطاعت نہیں رکھیں گے “۔ معاویہ نے کہا ہے : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ البطلہ سے مراد جادوگر ہیں (2) (صحیح مسلم، فضائل القرآن، جلد 1، صفحہ 270) مسئلہ نمبر : (4) سورة البقرۃ اور آل عمران کا نام الزھراوین رکھا گیا ہے اس بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں : (1) بلاشبہ یہ دونوں روشن کرنے والیاں ہیں، (زھراوین) الزھر اور الزھرۃ سے بنایا گیا ہے چونکہ ان کی ہدایت اور راہنمائی کی وجہ سے ان کے قاری کے لئے انکے انوار یعنی معانی ظاہر اور روشن ہوجاتے ہیں، (اس لئے ان کا نام زھراوین رکھا گیا) ّ (2) پھر اس لئے کہ ان کی قرات پر قیامت کے دن نور تام مرتب ہوگا اور یہی دوسرا قول ہے۔ (3) ان دونوں کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کو متضمن ہونے میں شریک ہیں، جیسا کہ ابو داؤد وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے، حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دونوں آیتوں میں ہے (آیت) ” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ اور وہ آیت جو آل عمران میں ہے (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (3) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 210، ایضا، باب الدعاء حدیث نمبر 1278، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے۔ الغمام کا معنی ہے وہ بادل جو اکٹھا اور گھنا ہو۔ اور الغیایۃ کا معنی بھی یہی ہے جب کہ وہ سر کے قریب ہو، اور یہی ظلۃ بھی ہے اور روایت کا معنی یہ ہے کہ ان دونوں کی تلاوت کرنے والا ان کے ثواب کے سائے میں ہوگا جیسا کہ ایک آدمی اپنے صدقہ کے سائے میں آئے گا۔ “ اور قولہ تحاجان کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے ملائکہ پیدا فرمائے گا جو ان کے ثواب کے عوض پڑھنے والے کی جانب سے جھگڑا کریں گے۔ (4) (کنز العمال جلد 6، صفحہ 371، حدیث نمبر 160109) جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ ” بلاشبہ جس نے (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو “۔ الآیہ پڑھی اللہ تعالیٰ ستر فرشتے پیدا فرما دے گا وہ اس کے لئے یوم قیامت تک استغفار کرتے رہیں گے۔ “۔ اور قولہ : بینھما شرقی اسے را کے سکون اور اس کے فتحہ کے ساتھ مقید کیا گیا ہے اور یہ روشنی پر تنبیہ ہے، کیونکہ جب فرمایا : سود اوان اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ دونوں تاریک ہیں تو اپنے قول بینھما شرق سے اس کی نفی کی گئی، یعنی یہ دونوں اپنی کثافت کے سبب ان کے درمیان جو ان کے نیچے ہوں گے اور سورج کی حرارت اور تپش کی شدت کے درمیان حائل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (5) اس سورت کا ابتدائی حصہ وفد نجران کے سبب نازل ہوا اس بارے میں محمد بن اسحاق نے محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل کیا ہے : وہ نصاری تھے جو ساٹھ سواروں پر مشتمل وفد بن کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ طیبہ حاضر ہوئے ان کے اشراف میں سے چودہ افراد پت تھا) ایک عاقب تھا جو قوم کا امیر اور ان میں صاحب رائے تھا، اور اس کا نام عبدالمسیح تھا۔ اور ایک ان کا معاون و مددگار سردار تھا اور انہیں اکٹھا کرنے والا تھا اس کا نام الایھم تھا، اور ابو حارثہ بن علقمہ بکر بن وائل میں سے ایک تھا وہ ان کا بشپ اور ان کا عالم تھا، وہ عصر کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے، وہ یمنی کپڑوں کے جبے اور چادریں پہنے ہوئے تھے تو حضور نبی کریم ﷺ کے اصحاب نے کہا : ہم نے ان کی مثل جما و جلال والا کوئی وفد نہیں دیکھا، ان کی نماز کا وقت ہوا، وہ اٹھے اور حضور نبی مکرم ﷺ کی مسجد میں مشرق کی طرف انہوں نے نماز پڑھی، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم انہیں چھوڑ دو “ پھر وہ کئی دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے اور رسول اللہ ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مناظرہ کرتے رہے اور وہ یہ گمان کرتے تھے کہ وہ ابن اللہ (یعنی اللہ تعالیٰ کے بیٹے) تھے، علاوہ ازیں وہ اضطراب میں ڈالنے والی شنیع باتیں کرتے رہے اور رسول اللہ ﷺ برائین ساطعہ کے ساتھ ان کا رد کرتے رہے اور ان کی کوئی مدد نہ کی گئی اور انہیں کے بارے میں اس سورت کی ابتدائی تقریبا اسی آیات نازل ہوئیں، یہاں تک کہ ان کا معاملہ اس حد تک جا پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دے دی، جیسا کہ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں مذکورہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 396 دارالکتب العلمیہ)
Ayahs 3:3–4

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمد ﷺ ! ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا، جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

آیت نمبر : 3 تا 4۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” نزل علیک الکتب “۔ کتاب سے مراد قرآن کریم ہے (آیت) ” بالحق “ اس سے مراد صدق (سچائی) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حجت غالبہ ہے اور قرآن کریم کو بتدریج تھوڑا تھوڑا کرکے نازل فرمایا، سو اسی لئے فرمایا : نزل اور تنزیل یکے بعد دیگرے مرۃ بعد مرۃ نازل کرنے کا کہتے ہیں، اور تورات اور انجیل دونوں یکبارگی نازل ہوئیں، سوا سی لئے (ان کے بارے) ارشاد فرمایا ” انزل “۔ اور ” بالحق “۔ میں بالکتاب سے حال کے محل میں ہے۔ اور بامحذوف کے متعلق ہے، تقدیر عبارت ہے اتیا بالحق اور یہ ” نزل “ کے متعلق نہیں ہے، کیونکہ وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے ان میں سے ایک حرف جر کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تیسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا، اور (آیت) ” مصدقا “ حال مؤکدہ ہے حال متقلہ نہیں، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ غیر مصدق یعنی غیر موافق ہو، یہ جمہور کا قول ہے اور بعض نے اس میں الانتقال کو مقدر مانا ہے، اس معنی کی بنا پر کہ وہ مصدق لنفسہ بھی ہے اور مصدق لغیرہ بھی۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لما بین یدیہ “۔ یعنی ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں۔ اور تورات کا معنی روشنی اور نور ہے۔ یہ مشتق ہے وری الزند اور وری سے یہ دونوں لغتیں ہیں جب، چقماق سے آگ نکلے (تو کہا جاتا ہے وری الزند) اور اس کی اصل توریۃ بروزن تفعلۃ ہے تازائدہ ہے اور یا متحرک ہے اس کا ماقبل مفتوح ہے اسے الف سے بدل دیا گیا اور یہ بھی جائز ہے یہ یہ تفعلۃ ہو اور پھر را کسرہ سے فتحہ کی طرف منتقل ہوجائے، جیسا کہ انہوں نے جاریۃ میں جاراۃ اور ناصیۃ میں ناصاۃ کہا ہے اور یہ دونوں وزن فراء سے منقول ہیں۔ اور خلیل نے کہا ہے : اس کا اصل وزن فوعلۃ ہے پس اصل ووریۃ ہوئی، پھر پہلی واؤ کو تا سے بدل دیا گیا جیسا کہ تولج “ میں بدلا گیا ہے اور یہ اصل میں وولج تھا فوعل کے وزن پر اور یہ ولجت سے ماخوذ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 398 دارالکتب العلمیہ) اور پھر یا متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا گیا۔ اور فوعلۃ کا وزن تفعلۃ کی نسبت زیادہ (قابل استعمال) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ التوراۃ یہ التوریۃ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے کسی شے کے بارے تعریض کرنا اور اسے دوسرے سے چھپانا تو گویا تورات میں زیادہ کنایات ہیں اور بغیر کسی تصریح اور وضاحت کے اشارات ہیں، یہ مورج کا قول ہے۔ اور جمہور نے پہلا قول اختیار کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھارون الفرقان وضیاء وذکرا للمتقین “۔ مراد تورات اور انجیل ہیں، انجیل، افعیل کے وزن پر النجل سے ماخوذ ہے اور یہی اصل ہے، اور اس کی جمع اناجیل اور توراۃ کی توار بنائی جاتی ہے، پس انجیل علوم اور حکم (کے معنی) کے لئے اصل ہے۔ اور کہا جاتا ہے ،: لعن اللہ ناجلیہ یعنی اللہ اس کے والدین پر لعنت کرے۔ کیونکہ والدین اس کی اصل ہیں (اس لئے انہیں ناجلیہ کہا گیا) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نجلت الشیء سے بنا ہے جب تو کسی شے کو نکالے (تو یہ جملہ بولتا ہے) پس انجیل کے ساتھ علوم وحکم نکالے گئے ہیں اور اس معنی میں اولاد اور نسل کو اس کے نکلنے کی وجہ سے نجلا کہا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : الی معشر لم یورث اللوم جدھم اصاغرھم وکل فحل لھم نجل : اس میں لفظ نجل نکالنے کے معنی میں ذکر کیا گیا ہے۔ النجل سے مراد وہ پانی ہے جو زمین سے پھوٹ کر نکلتا ہے اور استنجلت الارض کا معنی ہے زمین پانی رسنے کی وجہ سے دلدلی ہوگئی، اور اسی کو نجال کہتے ہیں جب اس سے پانی نکلنے لگے پس اسی معنی کی بنا پر اس کا نام انجیل رکھا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حق کا درس دینے والا عافیت بنا کر نازل کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ النجل فی العین سے ہے، اس کا معنی ہے آنکھ کا وسیع اور کشادہ ہونا (1) (معالم التنزیل جلد 1، صفحہ 424) اور طعنۃ نجلاء ہے یعنی بڑا نیزہ، شاعر نے کہا ہے : ربما ضربۃ بسیف سقیل من بصری وطعنۃ نجلاء اس میں طعنۃ نجلاء بڑے نیزہ کے معنی میں مذکور ہے۔ اور اس کے ساتھ انجیل کا نام رکھا گیا ہے، کیونکہ یہ اصل ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے لئے نکالا ہے اور اسے ان پرنور اور ضیاء کے ساتھ پھیلا دیا گیا ہے، وسیع کردیا ہے۔ اور کہا گیا ہے : کہ التناجل کا معنی التنازع (جھگڑا کرنا) ہے اور لوگوں کے اس جھگڑا کرنے کی وجہ سے اس کا نام انجیل رکھا گیا ہے اور شمر نے بعض سے بیان کیا ہے : انجیل سے مراد ہر کتاب ہے جو لکھی ہوئی ہو اور اس کی سطریں وافر ہوں اور یہ بھی کہا گیا ہے : نجل، بمعنی عمل اور صنع ہے، یعنی کام کرنا، کسی نے کہا ہے : وانجل فی ذاک الصنیع کما نجل (اس کاروبار میں تو بھی کام کر جیسے اس نے کیا۔ ) اور یہ قول بھی ہے کہ تورات اور انجیل سریانی زبان کے الفاظ ہیں، اور کہا گیا ہے کہ انجیل سریانی میں انکلیون ہے، اسے ثعلبی نے بیان کیا ہے، جوہری نے کہا ہے : انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے اسے مذکر ومونث دونوں طرح ذکر کیا جاتا ہے، پس جس نے مونث ذکر کیا ہے اس نے صحیفہ کا ارادہ کیا ہے اور جس نے مذکر ذکر کیا ہے اس نے کتاب مراد لی ہے کئی دوسروں نے کہا ہے : کبھی قرآن کو انجیل بھی کہا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے قصہ میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا : یا رب اری فی الواح اقواما انا جیلھم فی صدورھم فاجعلھم امتی (اے میرے رب میں تختیوں میں کئی اقوام کو دیکھ رہا ہوں ان کی کتابیں انکے سینوں میں ہیں پس تو انہیں میرا امتی بنا دے) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا تلک امۃ احمد وہ احمد ﷺ کی امت ہے، بلاشبہ اس میں آپ نے اناجیل سے قرآن مراد لیا ہے، اور حسن نے والانجیل ہمزہ کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 399 دارالکتب العلمیہ) اور باقیوں نے کسرہ کے ساتھ مثلا اکلیل اس میں دونوں لغتیں ہیں، اور یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ یہ ان میں سے ہو جنہیں عربوں نے اسماء عجمیہ میں سے عربی بنایا ہے، اور اس کی ان کے کلام میں کوئی مثال نہ ہو۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من قبل “ یعنی قرآن کریم سے پہلے (آیت) ” ھدی للناس “۔ (لوگوں کی ہدایت کے لئے) ابن فورک نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے ھدی للناس المتقین “۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 399 دارالکتب العلمیہ) یعنی متقی لوگوں کی راہنمائی کے لئے، اور اس کی دلیل سورة البقرہ میں (آیت) ” ھدی اللمتقین “ ہے۔ پس اس عام کو اس خاص کی طرف لوٹا دیا گیا ہے اور ھدی یہ حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں واقع ہے اور الفرقان سے مراد قرآن کریم ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

آیت نمبر : 5۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اشیاء کے بارے تفصیلی علم رکھنے کی خبر ہے اور اس کی مثل قرآن کریم میں کثیر آیات ہیں۔ پس وہ جانتا ہے اسے بھی جو ہوچکا، اسے بھی جو ہوگا اور اسے بھی جو نہ ہوگا، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے الہ یا اس کے بیٹے ہو سکتے ہیں حالانکہ ان پر کئی اشیاء مخفی ہیں۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

آیت نمبر : 6۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھو الذی یصورکم “۔ اللہ تعالیٰ نے ماؤں کے رحموں میں انسان کی تصویریں بنانے کی خبر دی ہے اور رحم کی اصل رحمۃ سے ہے، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جن کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم کیا جاتا ہے اور صورۃ کا اشتقاق صارہ الی کذا سے ہے جب وہ اس کی طرف مائل ہوجائے، پس صورت مائل ہوتی ہے ایک شبیہ اور ہیئت کی طرف۔ اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی عظمت وشان کو بیان کرتی ہے اور اس کے ضمن میں نجران کے عیسائیوں کا رد ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ہیں جنکی تصوریں بنائی گئیں اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی عقلمند انکار نہیں کرسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورة الحج اور المومنون میں تصویر کی شرح اور وضاحت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسی طرح حضور نبی مکرم ﷺ نے حدیث ابن مسعود ؓ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 400 دارالکتب العلمیہ) میں اس کی وضاحت کی ہے، جیسا کہ وہاں اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور اس میں طبائعیین کا بھی رد ہے کیونکہ وہ اسے مستقل فاعل بناتے ہیں اور ان کا رد آیۃ التوحید میں گزر چکا ہے اور مسند ابن سنجر میں حدیث ہے۔ (ان کا نام محمد بن سنجر ہے) ‘’ بیشک اللہ تعالیٰ جنین کی ہڈیاں اور اس کی غضاریف (کچی ہڈیاں جو کھائی جاسکتی ہیں) مرد کی منی سے اور اس کی چربی اور گوشت عورت کی منی سے پیدا فرماتا ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 400 دارالکتب العلمیہ) اور اس میں اس پر بہت بڑی دلیل ہے کہ بچہ مرد اور عورت کے پانی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صریحا موجود ہے۔ (آیت) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی “۔ (الحجرات : 13) ترجمہ : اے لوگو ! ہم نے پیدا کیا ہے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ثوبان ؓ کی حدیث میں ہے “ کہ ایک یہودی نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : میں ایک شے کے بارے آپ سے سوال کرنے کے لئے آیا ہوں۔ سوائے نبی یا ایک آدمی یا دو آدمیوں کے اہل زمین میں سے کوئی اسے نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا : ” تجھے نفع ہوگا اگر میں تجھے بتا دوں ؟ “ اس نے کہا : میں کان لگا کر پورے غور سے سنوں گا، پھر اس نے کہا : میں بچے کے بارے آپ سے پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد، اور جب وہ دونوں جمع ہوجائیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہو تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے بچہ (مذکر) پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب ہو تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے بچی پیدا ہوتی ہے (1) (صحیح مسلم، کتاب المحیض، جلد 1، صفحہ 146) الحدیث، اس کا بیان سورة الشوری کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کیف یشآء “ یعنی جسے وہ چاہتا ہے خوبصورت یا بدصورت، سیاہ اور سفید، طویل القامت یا پستہ قدم، اعضاء کے اعتبار سے صحیح سالم یا اپاہج (پیدا کرتا ہے) یہاں تک کہ اس کا شقی (بدبخت) ہونا اور سعید ہونا وغیرہ۔ حضرت ابراہیم بن ادھم (رح) سے ذکر کیا گیا کہ قرآء آپ کے پاس جمع ہیں تاکہ جو احادیث آپ کے پاس ہیں وہ انہیں سنیں۔ تو آپ نے انہیں فرمایا : میں تم سے چار چیزوں کے سبب مشغول ہوں اور میں روایت حدیث کے لئے فارغ نہیں ہوں، تو آپ سے عرض کی گئی : وہ مشغولیت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ان میں سے ایک یہ ہے کہ یوم میثاق میں غور وفکر اس حیثیت سے کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یہ جنت میں ہوں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ جہنم میں ہوں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ “ اور میں نہیں جانتا اس وقت میں کون سے فریق میں تھا اور دوسری یہ ہے کہ رحم میں میری صورت بنائی گئی تو اس فرشتے نے کہا جو رحموں پر مقرر ہے :” اے میرے رب ! یہ شقی ہے یا سعید ہے (2) (صحیح بخاری، باب ذکر الملائکہ، حدیث نمبر 2969، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) تو میں نہیں جانتا اس وقت اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا، اور تیسری چیز یہ ہے کہ جس وقت ملک الموت میری روح قبض کرے گا تو یہ کہے گا : ” اے میرے رب ! کفر کے ساتھ یا ایمان کے ساتھ “ تو میں نہیں جانتا جواب کیسا ہوگا، اور چوتھی شے یہ ہے کہ وہ کہے گا۔ (آیت) ” وامتازو الیوم ایھا المجرمون “۔ (یسین) ترجمہ : اور (حکم ہوگا) اے مجرمو ! (میرے دوستوں سے) آج الگ ہوجاؤ۔ تو میں نہیں جانتا میں کون سے فریق میں ہوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ یعنی اس کے سوا کوئی خالق نہیں اور نہ کوئی مصور (تصویر بنانے والا) ہے اور یہ اس کی وحدانیت پر دلیل ہے، پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے الہ مصور ہوسکتے ہیں حالانکہ ان کی تصویر بنائی گئی ہے یعنی وہ مصور ہیں۔ (آیت) ” العزیز “۔ سے مراد وہ ہے جو مغلوب نہیں ہو سکتا۔ ” الحکیم “۔ سے مراد ذوالحکمت (صاحب حکمت) یا محکم “۔ (حکم (دانا بنانے والا) دینے والا) ہے۔ یہ اس کے مقابلہ میں اخص ہے جو تصویر کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے۔