Ayah 3:1ربط آیات
یہ قرآن کریم کی تیسری سورت (آل عمران) کا پہلا رکوع ہے پہلی سورت یعنی فاتحہ جو پورے قرآن کا خلاصہ ہے اس کے آخر میں صراط مستقیم کی ہدایت طلب کی گئی تھی اس کے بعد سورة بقرہ الم ذلک الکتاب سے شروع کر کے گویا اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ سورة فاتحہ میں جو سیدھے راستے کی دعا کی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کر کے یہ قرآن بھیج دیا، جو صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے پھر سورة بقرہ میں اکثر احکامات شرعیہ کا جمالی اور تفصیلی بیان آیا ہے، جس کے ضمن میں جابجا کفار کی مخالفت اور ان سے مقابلہ کا بھی ذکر آیا آخر میں اس کو (فانصرنا علی القوم الکافرین) کے جملہ دعائیہ پر ختم کیا گیا تھا، جس کا حاصل تھا کفار پر غلبہ پانے کی دعا، اس کی مناسبت سے سورة آل عمران میں عام طور پر کفار کے ساتھ معاملات اور ہاتھ اور زبان سے ان کے مقابلہ میں جہاد کا بیان ہے، جو گویا (فانصرنا علی القوم الکافرین) کی تشریح و تفصیل ہے۔
خلاصہ تفسیر
سورة آل عمران کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس مقصد عظیم کا ذکر ہے جس کی وجہ سے کفر و اسلام اور کافر و مومن کی تقسیم اور باہمی مقابلہ شروع ہوتا ہے، اور وہ اللہ جل شانہ کی توحید ہے، اس کے ماننے والے مومن اور نہ ماننے والے کافر وغیر مسلم کہلاتے ہیں، اس رکوع کی پہلی آیت میں توحید کی عقلی دلیل مذکور ہے، اور دوسری آیت میں نفلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے اس کے بعد کی آیت میں کفار کے کچھ شبہات کا جواب ہے۔
معارف و مسائل
توحید کی طرف دعوت تمام انبیاء کا وظیفہ رہا ہے
دوسری آیت میں جو نقلی دلیل توحید کی پیش کی گئی ہے، تشریح اس کی یہ ہے کہ جس بات پر بہت سے انسان متفق ہوں، خصوصاً جبکہ وہ مختلف ملکوں کے باشندے اور مختلف زمانوں میں پیدا ہوئے ہوں، اور درمیان میں سینکڑوں ہزاروں برس کا فاصلہ، اور ایک کی بات دوسرے تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں، اس کے باوجود جو اٹھتا ہے وہی ایک بات کہتا ہے جو پہلے لوگوں نے کہی تھی، اور سب کے سب ایک ہی بات اور ایک ہی عقیدہ کے پابند ہوتے ہیں تو فطرت اس کے قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی توحید کا مضمون انسانوں میں سب سے پہلے حضرت آدم ؑ لے کر آئے اور ان کے بعد ان کی اولاد میں تو مسلسل اس بات کا چلنا کچھ بعید نہ تھا، لیکن زمانہ دراز گزر جانے اور اولاد آدم کے وہ تمام طریقے بدل جانے کے بعد پھر حضرت نوح ؑ آتے ہیں، اس چیز کی دعوت دیتے ہیں جس کی طرف آدم ؑ نے لوگوں کو بلایا تھا ان کے زمانہ دراز گزرنے کے بعد ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) ملک عراق و شام میں پیدا ہوتے ہیں، اور ٹھیک وہی دعوت لے کر اٹھتے ہیں، پھر موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اور ان کے سلسلہ کے انبیاء آتے ہیں، اور سب کے سب وہی ایک کلمہ توحید بولتے ہیں اور وہی دعوت دیتے ہیں، ان پر زمانہ دراز گزر جانے کے بعد عیسیٰ ؑ وہی دعوت لے کر اٹھتے ہیں، اور آخر میں سید الانبیاء سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ وہی دعوت لے کر تشریف لاتے ہیں۔ اب اگر ایک خالی الذہن انسان جس کو اسلام اور توحید کی دعوت سے کوئی بغض اور بیر نہ ہو سادگی کے ساتھ ذرا اس سلسلہ پر نظر ڈالے کہ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء (علیہم السلام) مختلف زمانوں میں مختلف زبانوں میں، مختلف ملکوں میں پیدا ہوئے، اور سب کے سب یہی کہتے اور بتلاتے چلے آئے، اکثر ایک کو دوسرے کے ساتھ ملنے کا بھی اتفاق نہیں ہوا، زمانہ تصنیف و تالیف اور کتابت کا بھی نہ تھا، کہ ایک پیغمبر کو دوسرے پیغمبر کی کتابیں اور تحریریں مل جاتی ہوں، ان کو دیکھ کر وہ اس دعوت کو اپنا لیتے ہوں، بلکہ انہی میں ہر ایک دوسرے سے بہت قرنوں کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس کو اسباب دنیا کے تحت پچھلے انبیاء کی کوئی خبر نہیں ہوتی، البتہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پاکر ان سب کے حالات و کیفیات سے مطلع ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کو اس دعوت کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ اب کوئی آدمی ذرا سا انصاف کے ساتھ غور کرے کہ اگر ایک لاکھ چوبیس ہزار انسان مختلف زمانوں میں اور مختلف ملکوں میں ایک ہی بات کو بیان کریں تو قطع نظر اس سے کہ بیان کرنے والے ثقہ اور معتبر لوگ ہیں یا نہیں، اتنی عظیم الشان جماعت کا ایک ہی بات پر متفق ہونا ایک انسان کے لئے اس بات کی تصدیق کے واسطے کافی ہوجاتا ہے اور جب انبیاء (علیہم السلام) کی ذاتی خصوصیات اور ان کے صدق و عدل کے انتہائی بلند معیار پر نظر ڈالی جائے تو ایک انسان یہ یقین کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان کا کلمہ صحیح اور ان کی دعوت حق اور فلاح دنیا و آخرت ہے۔
شروع کی دو آیتوں میں جو مضمون توحید کا ارشاد فرمایا گیا ہے اس کے متعلق حدیث کی روایات میں ہے کہ بعض نصاری آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان سے مذہبی گفتگو جاری ہوئی، آنحضرت ﷺ نے اللہ جل شانہ کی توحید کے ثبوت میں یہی دو دلیلیں باذن خدا وندی پیش فرمائی جن سے نصاری لاجواب ہوئے۔
اس کے بعد تیسری اور چوتھی آیت میں بھی اسی مضمون توحید کی تکمیل ہے تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا بیان ہے جس سے کسی جہان کا کوئی ذرہ چھپا ہوا نہیں۔
اور چوتھی آیت میں اس کی قدرت کاملہ اور قادر مطلق ہونے کا بیان ہے کہ اس نے انسان کو بطن مادر کے تین اندھیریوں میں کیسی حکمت بالغہ کے ساتھ بنایا، اور ان کی صورتوں اور رنگوں میں وہ صنعتکاری فرمائی کہ اربوں انسانوں میں ایک کی صورت دوسرے سے ایسی نہیں ملتی کہ امتیاز نہ رہے، اس علم محیط اور قدرت کاملہ کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ عبادت صرف اسی کی کی جائے اس کے سوا سب کے سب علم وقدرت میں یہ مقام نہیں رکھتے اس لئے وہ لائق عبادت نہیں۔
اس طرح توحید کے اثبات کے لئے حق تعالیٰ شانہ کی چار اہم صفات ان چار آیتوں میں آگئیں پہلی اور دوسری آیت میں صفات حیات ازلی و ابدی اور قیامیت کا بیان ہوا تیسری سے چھٹی آیت تک علم محیط اور قدرت کاملہ مطلقہ کا اس سے ثابت ہوا کہ جو ذات ان چار صفات کی جامع ہو وہی عبادت کے لائق ہے۔
Ayah 3:2پہلی آیت میں ارشاد ہے (الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم) اس میں لفظ الم تو متشابہات قرآنیہ میں سے ہے جس کے معنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان ایک راز ہیں جس کی تفصیل اس رکوع کی آخری آیتوں میں آتی ہے اس کے بعد (اللہ لا الہ الا ھو) میں مضمون توحید کو ایک دعوے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی معبود بنانے کے قابل نہیں۔ اس کے بعد (الحی القیوم) سے توحید کی عقلی دلیل بیان کی گئی جس کی تشریح یہ ہے کہ عبادت نام ہے اپنے آپ کو کسی کے سامنے انتہائی عاجز و ذلیل کر کے پیش کرنے کا اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جس کی عبادت کی جائے وہ عزت وجبروت کے انتہائی مقام کا مالک اور ہر اعتبار سے کامل ہو، اور یہ ظاہر ہے کہ جو چیز خود اپنے وجود کو قائم نہ رکھ سکے اپنے وجود اور اس کی بقاء میں دوسرے کی محتاج ہو اس کا عزت وجبروت میں کیا مقام ہوسکتا ہے اس لئے بالکل واضح ہوگیا کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں نہ خود اپنے وجود کی مالک ہیں اور نہ ہی اپنے وجود کو قائم رکھ سکتی ہیں وہ خواہ پتھر کے تراشیدہ بت ہوں یا پانی اور درخت ہوں یا فرشتے اور پیغمبر ہوں ان میں کوئی بھی لائق عبادت نہیں لائق عبادت وہی ذات ہو سکتی ہے جو ہمیشہ سے زندہ موجود ہے اور ہمیشہ زندہ و قائم رہے گی اور وہ صرف اللہ جل شانہ کی ذات ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
Ayahs 3:3–5اس کے بعد دوسری آیت میں توحید کی نقلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے ارشاد ہے (نزل علیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ، وانزل التورة والانجیل من قبل ھدی للناس وانزل الفرقان) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی توحید کا مضمون جو قرآن نے بیان کیا ہے یہ کچھ قرآن کی یا پیغمبر اسلام ﷺ کی خصوصیت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی توراة و انجیل وغیرہ کتابیں اور انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ نے بھیجے ہیں، ان سب کا یہی دعوی اور یہی کلمہ تھا، قرآن مجید نے آ کر ان سب کی تصدیق کی ہے، کوئی نیا دعوی پیش نہیں کیا، جس کے سمجھنے یا ماننے میں لوگوں کوئی الجھن ہو۔
آخری دو آیتوں میں توحید کی دلیل کا تکملہ حق تعالیٰ کی صفات علم وقدرت کے بیان سے کیا گیا ہے، کہ جو ذات علم محیط ازلی کی مالک ہے، اور جس کی قدرت ہر شے پر حاوی ہے، وہی اس کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، ناقص علم اور محدود قدرت والے کو یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 3:6مذکورہ آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے
اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی قابل معبود بنانے کے نہیں، اور وہ زندہ (جاوید) ہیں، سب چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے پاس قرآن بھیجا ہے واقعیت کے ساتھ اس کیفیت سے کہ وہ تصدیق کرتا ہے ان (آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے ہوچکی ہیں اور (اسی طرح) بھیجا تھا توریت اور انجیل کو اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے (اور اسی سے قرآن کا ہدایت ہونا بھی لازم آگیا، کیونکہ ہدایت کا مصدق بھی ہدایت ہے) اور اللہ تعالیٰ نے (انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کے واسطے) بھیجے معجزات، بیشک جو لوگ منکر ہیں اللہ تعالیٰ کی (ان) آیتوں کے (جو توحید پر دلالت کرتی ہیں) ان کے لئے سزا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب (اور قدرت) والے ہیں (کہ بدلہ لے سکتے ہیں اور) بدلہ لینے والے (بھی) ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے (نہ کوئی چیز) زمین میں اور نہ (کوئی چیز) آسمان میں (پس ان کا علم بھی نہایت کامل ہے) وہ ایسی ذات (پاک) ہے کہ تمہاری صورت (شکل) بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے (کسی کی کیسی صورت اور کسی کی کیسی صورت، پس ان کی قدرت بھی کامل ہے، حیات اور قومیت اور علم اور قدرت جو امہات صفات سے ہیں ان میں کامل طور سے بلا شرکت موجود ہیں جس سے ثابت ہوا کہ) کوئی عبادت کے لائق ہیں، بجز اس (ذات پاک) کے (اور) وہ غلبہ والے ہیں (منکر توحید سے انتقام لے سکتے ہیں لیکن) حکمت والے (بھی) ہیں (کہ مصلحت دنیا میں ڈھیل دے رکھی ہے)۔
Ayah 3:7ربط آیات
پچھلی چار آیتوں میں توحید باری تعالیٰ کا اثبات تھا، اس آیت میں توحید کے خلاف بعض شبہات کا جواب ہے، واقعہ اس کا یہ ہے کہ ایک دفعہ نجران کے کچھ نصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور مذہبی گفتگو شروع کی، آپ ﷺ نے نصاری کے عقیدہ تثلیث کی تردید بڑی تفصیل سے فرما کر توحید باری تعالیٰ کو ثابت کیا، آپ ﷺ نے اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ کی صفات حیات دائمہ، قدرت کاملہ، علم محیط اور قدرت تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے یکتا اور منفرد ہونے سے استدلال کیا، اور یہ سب مقدمات نصاری کو تسلیم کرنا پڑے، جب توحید ثابت ہوگئی تو اسی سے تثلیث کے عقیدہ کا بطلان بھی ثابت ہوگیا، ان لوگوں نے قرآن کے ان الفاظ پر اپنے کچھ شبہات پیش کئے جن میں عیسیٰ ؑ کا روح اللہ یا کلمة اللہ ہونا مذکور ہے کہ ان الفاظ سے حضرت عیسیٰ ؑ کی شرکت الہیت ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان شبہات کو ختم کردیا کہ یہ کلمات متشابہات ہیں، ان کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان ایک راز ہیں، جن کی حقیقت پر عوام مطلع نہیں ہوسکتے، عوام کے لئے ان الفاظ کی تحقیق میں پڑنا بھی روا نہیں، ان پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے کہ جو کچھ ان سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق ہے، مزید تفتیش اور کھود کرید کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
خلاصہ تفسیر
وہ (اللہ تعالی) ایسا ہے جس نے نازل کیا تم پر کتاب کو، جس کا ایک حصہ وہ آیتیں ہیں جو کہ اشتباہ مراد سے محفوظ ہیں، (یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے) اور یہی آیتیں اصلی مدار ہیں (اس) کتاب (یعنی قرآن) کا (یعنی جن کے معنی ظاہر نہ ہوں ان کو بھی ظاہر المعنی کے موافق بنایا جاتا ہے) اور دوسری آیتیں ایسی ہیں جو کہ مشتبہ المراد ہیں (یعنی ان کا مطلب خفی ہے، خواہ مجمل ہونے کی وجہ سے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارض ہونے کی وجہ سے) سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کے اسی حصہ کے پیچھے ہو لیتے ہیں جو مشتبہ المراد ہے (دین میں) شورش ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس (مشتبہ المراد) کے (غلط) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے (تاکہ اپنے غلط عقیدہ میں اس سے مطلب حاصل کریں) حالانکہ اس کا (صحیح) مطلب بجز حق تعالیٰ کے کوئی اور نہیں جانتا (یا اگر وہ خود قرآن یا حدیث کے ذریعہ سے صراحة یا اشارة بتلادیں، جیسے لفظ صلوٰة کی مراد صراحة معلوم ہوگئی، اور استواء علی العرش وغیرہ کی تاویل بعض کی رائے پر قواعد کلیہ سے معلوم ہوگئی، تو بس اسی قدر دوسروں کو بھی خبر ہوسکتی ہے، زیادہ معلوم نہیں ہوسکتا، جیسے مقطعات قرآنیہ کے الف لام میم وغیرہ کے معنی کسی کو معلوم نہیں ہوئے، اور بعض کی رائے پر استواء علی العرش کے معنی بھی معلوم نہیں ہوئے) اور (اسی واسطے) جو لوگ علم (دین) میں پختہ کار (اور فہیم) ہیں وہ (ایسی آیتوں کے متعلق) یوں کہتے ہیں کہ ہم اس پر (اجمالا) یقین رکھتے ہیں سب (آیتیں ظاہر المعنی بھی خفی المعنی بھی) ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں (پس ان کے جو کچھ معنی اور مراد واقع میں ہوں وہ حق ہیں) اور نصیحت (کی بات کو) وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو کہ اہل عقل ہیں (یعنی عقل کا مقتضا بھی یہی ہے کہ مفید اور ضروری بات میں مشغول ہو مضر اور فضول قصہ میں نہ لگے)۔
معارف و مسائل
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آیات محکمات اور متشابہات کا ذکر فرماکر ایک عام اصول اور ظابطے کی طرف اشارہ کردیا ہے، جس کے سمجھ لینے کے بعد بہت سے شبہات اور نزاعات ختم ہوسکتے ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں، ایک قسم کو محکمات کہتے ہیں اور دوسری کو متشابہات۔ محکمات ان آیات کو کہتے ہیں جن کی مراد ایسے شخص پر بالکل ظاہر اور بین ہو جو قواعد عربیہ کو اچھی طرح جاننے والا ہو، اور جن آیات کی تفسیر اور معانی ایسی شخص پر ظاہر نہ ہوں ان کو متشابہات کہتے ہیں ، (مظہری ج 2)
پہلی قسم کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے ام الکتاب کہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ساری تعلیمات کا اصل اصول یہی آیات ہوتی ہیں جن کے معانی اور مفاہیم اشتباہ و التباس سے پاک ہوتے ہیں۔
اور دوسری قسم کی آیات میں چونکہ متکلم کی مراد مبہم اور غیر متعین ہوتی ہے اس لئے ان آیات کے بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو پہلی قسم کی طرف راجع کر کے دیکھنا چاہئے، جو معنی اس کے خلاف پڑیں ان کی قطعا نفی کی جائے، اور متکلم کی مراد وہ سمجھی جائے جو آیات محکمات کے مخالف نہ ہو، اور کوئی ایسی تاویل اور توجیہہ صحیح نہ سمجھی جائے گی جو اصول مسلمہ اور آیات محکمہ کے خلاف ہو، مثلا قرآن حکیم نے مسیح ؑ کی نسبت تصریح کردی کہ (ان ھو الا عبد انعمنا علیہ۔ 34: 95) ایسے ہی دوسری جگہ ارشاد ہے (ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم خلقہ من تراب۔ 3: 95)
ان آیات اور انہی کی مثل دوسری بہت سی آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور اس کی مخلوق ہیں، لہذا نصاری کا ان کے بارے میں الوہیت اور ابنیت کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں۔
اب اگر کوئی شخص ان سب محکمات سے آنکھیں بند کر کے صرف کلمة اللہ اور روح منہ وغیرہ متشابہات کو لے دوڑے اور اس کے وہ معنی لینے لگے جو محکمات قرآنیہ اور متواتر بیانات کے منافی ہوں تو یہ اس کی کجروی اور ہٹ دھرمی ہوجائے گی۔
کیونکہ متشابہات کی صحیح مراد صرف اللہ ہی کو معلوم ہے وہی اپنے کرم و احسان سے جس کو جس قدر حصہ پر آگاہ کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، لہذا ایسے متشابہات سے اپنی رائے کے مطابق کھینچ تان کر کوئی معنی نکالنا صحیح نہیں ہے۔
(فاما الذین فی قلوبھم زیغ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو لوگ سلیم الفطرت ہوتے ہیں، وہ متشابہات کے بارے میں زیادہ تحقیق و تفتیش نہیں کرتے، بلکہ اجمالا ایسی آیات پر ایمان لے آتے ہیں کہ یہ بھی اللہ کا بر حق کلام ہے، اگرچہ اس نے کسی مصلحت کیوجہ سے ہم کو ان کے معانی پر مطلع نہیں فرمایا، در حقیقت یہی طریقہ سلامتی اور احتیاط کا ہے، اس کے برخلاف بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں کجی ہے، وہ محکمات سے آنکھیں بند کر کے متشابہات کی کھوج کرنے میں لگے رہتے ہیں، ان اور ان سے اپنی خواہش کے مطابق معانی نکال کر لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں جو متشابہات کی تفتیش میں لگے ہوئے ہیں تو آپ ان سے دور بھاگیں، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (قرآن) میں کیا ہے۔ (بخاری ج 2) ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر تین باتوں کا خوف ہے، اول یہ کہ مال بہت مل جائے جس کی وجہ سے باہمی حسد میں مبتلا ہوجائیں اور کشت و خون کرنے لگیں، دوسری یہ کہ کتاب اللہ سامنے کھل جائے (یعنی ترجمہ کے ذریعہ ہر عامی اور جاہل بھی اس کے سمجھنے کا مدعی ہوجائے) اور اس میں جو باتیں سمجھنے کی نہیں ہیں یعنی متشابہات ان کے معنی سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں، حالانکہ ان کا مطلب اللہ ہی جانتا ہے، تیسری یہ کہ ان کا علم بڑھ جائے تو اسے ضائع کردیں اور علم کو بڑھانے کی جستجو چھوڑ دیں۔ (ابن کثیر بحوالہ طبرانی)
(والراسخون فی العلم یقولون امنا بہ) راسخون فی العلم سے کون لوگ مراد ہیں ؟ اس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں، راجح قول یہ ہے کہ ان سے مراد اہل السنة والجماعة ہیں جو قرآن وسنت کی اسی تعبیر و تشریح کو صحیح سمجھتے ہیں جو صحابہ کرام سلف صالحین اور اجماع امت سے منقول ہو، اور قرآنی تعلیمات کا محور اور مرکز محکومات کو مانتے ہیں، اور متشابہات کے جو معانی ان کے فہم و ادراک سے باہر میں کوتاہ نظری اور قصور علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو خدا کے سپرد کرتے ہیں، وہ اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور نہیں ہوتے، بلکہ ہمیشہ حق تعالیٰ سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں ان کی طبعیتیں فتنہ پسند نہیں ہوتیں کہ متشابہات ہی کے پیچھے لگی رہیں، وہ محکمات اور متشابہات سب کو حق سمجھتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں، البتہ ایک قسم یعنی محکمات کے معانی ہمارے لئے معلوم کرنے مفید اور ضروری تھے تو اللہ تعالیٰ نے وہ پوشیدہ نہیں رکھے بلکہ کھول کھول کر بیان کردیئے اور دوسری قسم یعنی متشابہات کے معانی اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے بیان نہیں فرمائے۔ لہذا ان کا معلوم کرنا بھی ہمارے لئے ضروری نہیں، ایسی آیات پر ایمان اجمالا لے آنا ہی کافی ہے۔
(طبرانی ملخصا)
Ayahs 3:8–9ربط آیات
پچھلی آیت میں حق پرستوں کے ایک کمال کا ذکر تھا کہ وہ باوجود علمی کمال رکھنے کے اس پر مغرور نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا کرتے تھے، اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ ان کے دوسرے کمال کو بیان فرما رہے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کیجئے بعد اس کے کہ آپ ہم کو (حق کی طرف) ہدایت کرچکے ہیں اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت (خاصہ) عطا فرمایئے (وہ رحمت یہ ہے کہ راہ مستقیم پر قائم رہیں) بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں، اے ہمارے پروردگار (ہم یہ دعا کجی سے بچنے کی اور حق پر قائم رہنے کی کسی دنیاوی غرض سے نہیں مانگتے بلکہ محض آخرت کی نجات کے واسطے، کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ) آپ بلاشبہ تمام آدمیوں کو (میدان حشر میں) جمع کرنے والے ہیں اس دن میں جس (کے آنے) میں ذرا شک نہیں (یعنی قیامت کے دن میں اور شک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خلاف نہیں کرتے وعدہ کو (اس لئے قیامت کا آنا ضرور ہے اور اس واسطے ہم کو اس کی فکر ہے)
معارف و مسائل
پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت اور ضلالت اللہ ہی کی جانب سے ہے اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کے دل کو نیکی کی جانب مائل کردیتے ہیں اور جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کے دل کو سیدھے راستہ سے پھیر لیتے ہیں۔ چناچہ ایک حدیث میں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی دل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، وہ جب تک چاہتے ہیں اس کو حق پر قائم رکھتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں اس کو حق سے پھیر دیتے ہیں۔ وہ قادر مطلق ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اس لئے جن لوگوں کو دین پر قائم رہنے کی فکر ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنے اللہ سے استقامت کی دعا مانگتے ہیں، حضور اکرم ﷺ ہمیشہ استقامت کی دعا مانگا کرتے تھے چناچہ ایک حدیث میں ہے یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ۔ (مظہری، ج 2)
Ayahs 3:10–11خلاصہ تفسیر
بالیقین جو لوگ کفر کرتے ہیں ہرگز ان کے کام نہیں آسکتے، ان کے مال (دولت) اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ برابر بھی ایسے لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے (ان لوگوں کا معاملہ ایسا ہے) جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا اور ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا (وہ معاملہ یہ تھا) کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو (یعنی اخبار و احکام کو) جھوٹا بتلایا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر دارو گیر فرمائی ان کے گناہوں کے سبب اور اللہ تعالیٰ (کی دارو گیر بڑی سخت ہے کیونکہ ان کی شان یہ ہے کہ وہ) سخت سزا دینے والے ہیں (اسی طرح معاملہ ہوگا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی، سو ان کو بھی ایسی ہی سزا ہوگی اور) ان کفر کرنے والے لوگوں سے (یوں بھی) فرما دیجئے کہ (تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ دارو گیر صرف آخرت میں ہوگی، بلکہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ ہوگی، چناچہ دنیا میں) عنقریب تم (مسلمانوں کے ہاتھ سے) مغلوب کئے جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف جمع کر کے لے جائے جاؤ گے، اور (جہنم) ہے برا ٹھکانا۔
Ayah 3:12معارف و مسائل
قل للذین کفروا ستغلبون ممکن ہے کوئی اس آیت سے یہ شبہ کرے کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مغلوب ہوں گے، حالانکہ سب کفار دنیا کے مغلوب نہیں ہیں لیکن یہ شبہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ یہاں کفار سے مراد تمام دنیا بھر کے کفار نہیں ہیں، بلکہ اس وقت کے مشرکین اور یہود مراد ہیں، چناچہ مشرکین کو قتل و قید اور یہود کو قتل و قید کے ساتھ ساتھ جزیہ اور جلا وطنی کے ذریعہ مغلوب کیا گیا تھا۔
Ayah 3:13ربط آیات
پچھلی آیات میں کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی تھی اب اس آیت سے اس کی ایک مثال بطور دلیل کے بیان فرماتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
بیشک تمہارے (استدلال کے) لئے بڑا نمونہ دو گروہوں (کے واقعہ) میں جو کہ باہم (بدر کی لڑائی میں) ایک دوسرے سے مقابل ہوئے تھے، ایک گروہ تو (یعنی مسلمان) اللہ کی راہ لڑتے تھے اور دوسرا گروہ وہ کافر لوگ تھے (اور کافر اس قدر زیادہ تھے کہ) یہ کافر اپنے (گروہ) کو دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمانوں سے کئی حصے (زیادہ) ہیں (اور دیکھنا بھی کچھ وہم و خیال کا نہیں بلکہ) کھلی آنکھوں دیکھنا (جس کے واقع ہونے میں شبہ نہیں تھا، لیکن کفار کے باوجود اس قدر زیادہ عدد ہونے کے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب کیا) ، اور (غالب اور مغلوب کرنا محض قبضہ خداوندی ہی میں ہے) اللہ تعالیٰ اپنی امداد سے جس کو چاہتے ہیں قوت دیدیتے ہیں (سو) بلا شبہ اس (واقعہ) میں بڑی عبرت ہے (اور نمونہ) ہے دیکھنے والوں کے لئے۔
معارف و مسائل
اس آیت میں جنگ بدر کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جس میں کفار تقریبا ایک ہزار تھے جن کے پاس سو اونٹ اور ایک سو گھوڑتے تھے، دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ اوپر تھے، جن کے پاس کل ستر اونٹ دو گھوڑے اور چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں اور تماشہ یہ تھا کہ ہر ایک فریق کو حریف مقابل اپنے سے دو گنا نظر آتا تھا، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار کے دل مسلمانوں کی کثرت کا تصور کر کے مرعوب ہورہے تھے اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور کامل توکل و استقلال سے خدا کے وعدہ (ان یکن منکم مائة صابرة یغلبوا مائتین۔ 8: 66) پر اعتماد کر کے فتح و نصرت کی امید رکھتے تھے، اگر ان کی پوری تعداد جو تین گنا تھی منکشف ہوجاتی تو ممکن تھا خوف طاری ہوجاتا اور یہ فریقین کا دوگنی تعداد دیکھنا بعض احوال میں تھا، ورنہ بعض احوال وہ تھے جب ہر ایک کو دوسرے فریق کی جمعیت کم محسوس ہوئی، جیسا کہ سورة انفال میں آئے گا۔
بہرحال ایک قلیل اور بےسروسامان جماعت کو ایسی مضبوط جمیعت کے مقابلے میں ان پیشنگوئیوں کے موافق جو مکہ میں کی گئی تھیں اس طرح کامیاب کرنا، آنکھیں رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا عبرت ناک واقعہ ہے۔ (فوائد علامہ عثمانی)
Ayah 3:14خلاصہ تفسیر
ربط آیات
پہلی آیتوں میں کفار و مشرکین کی مخالفت اور ان کے مقابلہ میں جہاد کا ذکر تھا، اور ان آیات میں اسلام و ایمان کی مخالفت اور تمام بد اعمالیوں کی اصل منشاء کو بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ حب دنیا ہے، کوئی جاہ و مال کے لالچ میں حق کی مخالفت اختیار کرتا ہے کوئی نفسانی خواہشات کی وجہ سے اور کوئی اپنی آبائی رسوم کی محبت کے سبب حق کے مقابلہ پر کھڑا ہوجاتا ہے، اور ان ساری چیزوں کا خلاصہ ہے حب دنیا، مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے۔
خوشنما معلوم ہوتی ہے (اکثر) لوگوں کو محبت مرغوب چیزیں (مثلا) عورتیں ہوئیں بیٹے ہوئے، لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے، نشان لگے ہوئے گھوڑے ہوئے (یا دوسرے) مویشی اور زراعت ہوئی (لیکن) یہ سب استعمالی چیزیں ہیں دنیوی زندگانی کی اور انجام کار کی خوبی (کی چیز) تو اللہ ہی کے پاس ہے (جو بعد موت کے کام آوے گی جس کی تفصیل اگلی آیت میں آتی ہے) آپ (ان لوگوں سے یہ) فرما دیجئے کیا میں تم کو ایسی چیز بتلادوں جو (بدرجہا) بہتر ہو ان (مذکورہ) چیزوں سے (سو سنو) ایسے لوگوں کے لئے جو (اللہ تعالیٰ سے) ڈرتے ہیں ان کے مالک (حقیقی) کے پاس ایسے باغ ہیں (یعنی بہشت) جن کی پائین میں نہریں جاری ہیں ان (بہشتوں) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور ان کے لئے) ایسی بیبیاں ہیں جو (ہر طرح) صاف ستہری کی ہوئی ہیں (اور ان کے لئے) خوشنودی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھتے (بھالتے) ہیں، بندوں (کے حال) کو (اس لئے ڈرنے والوں کو یہ نعمتیں دیں گے، آگے ان ڈرنے والوں کی بعض تفصیلی صفات ذکر کی جاتی ہیں (یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے، اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیجئے (اور وہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور راست باز ہیں اور (اللہ تعالیٰ کے سامنے) فروتنی کرنے والے ہیں اور (نیک کاموں میں مال کے) خرچ کرنے والے ہیں اور اخیر شب میں (اٹھ اٹھ کر) گناہوں کی معافی چاہنے والے ہیں۔
معارف و مسائل
دنیا کی محبت فطری ہے مگر اس میں غلو مہلک ہےحدیث میں ارشاد ہے (حب الدنیا راس کل خطیئة) یعنی دنیا کی محبت ہر برائی کا سرچشمہ ہے۔ پہلی آیت میں دنیا کی چند اہم مرغوب چیزوں کا نام لے کر بتلایا گیا ہے کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی محبت خوشنما بنادی گئی ہے، اس لئے بہت سے لوگ اس کی ظاہری رونق پر فریفتہ ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھتے ہیں، جن چیزوں کا نام اس جگہ لیا گیا ہے وہ عام طور پر انسانی رغبت و محبت کا مرکز ہیں، جن میں سب سے پہلے عورت کو اور اس کے بعد اولاد کو بیان کیا گیا ہے، کیونکہ دنیا میں انسان جتنی چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے ان سب کا اصلی سبب عورت یا اولاد کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد سونے چاندی اور مویشی اور کھیتی کا ذکر ہے، کہ یہ دوسرے نمبر میں انسان کی رغبت و محبت کا مرکز ہوتے ہیں۔ خلاصہ و مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی محبت طبعی طور پر انسان کے دلوں میں ڈل دی ہے، جس میں ہزاروں حکمتیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر انسان طبعی طور پر ان چیزوں کی طرف مائل اور ان سے محبت کرنے والا نہ ہوتا تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجاتا، کسی کو کیا غرض تھی کہ کھیتی کرنے کی مشقت اٹھاتا، یا مزدوری و صنعت کی محنت برداشت کرتا، یا تجارت میں اپنا روپیہ اور محنت صرف کرتا، دنیا کی آبادی اور بقا اس میں مضمر تھی کہ لوگوں کی طبائع میں ان چیزوں کی محبت پیدا کردی جائے جس سے وہ خود بخود ان چیزوں کے مہیا کرنے اور باقی رکھنے کی فکر میں پڑجائیں، صبح اٹھ کر مزدور اس فکر میں گھر سے نکلتا ہے کہ کچھ پیسے کمائے، مالدار اس فکر میں گھر سے نکلتا ہے کہ پیسے خرچ کر کے کوئی مزدور لائے جس سے اپنا کام نکالے، تاجر بہتر سے بہتر سامان مہیا کر کے گاہک کے انتظار میں بیٹھتا ہے کہ پیسے حاصل کر ے، گاہک سو کوششیں کر کے پیسے لے کر بازار پہنچتا ہے کہ اپنی ضروریات کا سامان خریدے غور کیا جائے تو سب کو دنیا کی انہیں مرغوبات کی محبت نے اپنے اپنے گھر سے نکالا، اور دنیا کے تمدنی نظام کو نہایت مضبوط و مستحکم اصول پر قائم کردیا ہے۔
دوسری حکمت یہ بھی ہے کہ اگر دنیوی نعمتوں سے رغبت و محبت انسان کے دل میں نہ ہو تو اس کو اخروی نعمتوں کا نہ ذائقہ معلوم ہوگا نہ ان میں رغبت ہوگی، تو پھر اس کو کیا ضرورت کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کر کے جنت حاصل کرے، اور برے اعمال سے پرہیز کر کے دوزخ سے بچے۔
تیسری حکمت اور وہی اس جگہ زیادہ قابل نظر ہے یہ ہے کہ ان چیزوں کی محبت طبعی طور پر انسان کے دل میں پیدا کر کے انسان کا امتحان لیا جائے کہ کون ان چیزوں کی محبت میں مبتلا ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھتا ہے اور کون ہے جو ان چیزوں کی اصل حقیقت اور ان کے آنی فانی ہونے پر مطلع ہو کر ان کی فکر بقدر ضرورت کرے اور ان کو آخرت کی درستی کے کام میں لگائے، قرآن مجید کے ایک دوسرے مقام میں خود اس تزیین کی یہی حکمت بتلائی گئی ہے۔ ارشاد ہے(انا جعلنا ما علی الارض زینة لھا لنبلوھم ایھم احسن عملایعنی ہم نے بنایا جو زمین پر ہیں زمین کی زینت، تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے)
اس آیت سے معلوم ہوگیا کہ دنیا کی ان مرغوب چیزوں کو انسان کے لئے مزین کردینا بھی ایک فعل خداوندی ہے، جو بہت سی حکمتوں پر مبنی ہے، اور بعض آیات جن میں اس قسم کی تزیین کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جیسے (زین لھم الشیطان اعمالھم 8: 84) ان میں ایسی چیزوں کی تزیین مراد ہے جو شرعا اور عقلا بری ہیں، یا تزیین کا وہ درجہ مراد ہے جو حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے برا ہے، ورنہ مباحات کو مزین کردینا مطلقا برا نہیں، بلکہ اس میں بہت سے فوائد بھی ہیں، اس لئے بعض آیات میں اس تزیین کو صراحة حق تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جیسے ابھی بیان کیا گیا ہے۔
خلاصہ کلامیہ ہے کہ دنیا کی لذیذ اور مرغوب چیزوں کو حق تعالیٰ نے اپنے فضل و حکمت سے انسان کے لئے مزین فرما کر ان کی محبت اس کے دل میں ڈال دی، جس میں بہت سی حکمتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان کا امتحان لیا جائے کہ ان سرسری اور ظاہری مرغوبات اور اس کی چند روزہ لذت میں مبتلا ہونے کے بعد وہ اپنے اور ان سب چیزوں کے رب اور خالق ومالک کو یاد رکھتا ہے اور ان چیزوں کو اس کی معرفت اور محبت کا ذریعہ بناتا ہے یا انہی کی محبت میں الجھ کر اصلی مالک و خالق کو اور آخرت میں اس کے سامنے پیشی اور حساب و کتاب کو بھلا بیٹھتا ہے، پہلا آدمی وہ ہے جس نے دنیا سے فائدہ اٹھایا اور آخرت میں بھی کامیاب رہا، دنیا کی مرغوبات اس کے لئے سنگ راہ بننے کے بجائے سنگ میل بن کر فلاح آخرت کا ذریعہ بن گئیں، اور دوسرا شخص وہ ہے جس کے لئے یہی چیزیں حیات آخرت کی بربادی اور دائمی عذاب کا سبب بن گئیں، اور اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ چیزیں دنیا میں بھی اس کے لئے عذاب ہی بن جاتی ہیں، قرآن کریم میں ایسے ہی لوگوں کو متعلق ارشاد ہے(فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوۃ الدینا9: 55) " یعنی آپ ﷺ ان کافروں کے مال اور اولاد سے متعجب نہ ہوں کیونکہ ان نافرمانوں کو مال، اولاد دینے سے کچھ ان کا بھلا نہیں ہوا بلکہ یہ اموال و اولاد آخرت میں تو ان کے لئے عذاب بنیں گے " یہی دنیا میں بھی رات دن کی فکروں اور مشاغل کے باعث عذاب ہی بن جاتے ہیں۔
الغرض دنیا کی جن چیزوں کو حق تعالیٰ نے انسان کے لئے مزین اور مرغوب بنادیا ہے، شریعت کے مطابق اعتدال کے ساتھ ان کی طلب اور ضرورت کے موافق ان کو جمع کرنا دنیا و آخرت کی فلاح ہے، اور ناجائز طریقوں پر ان کا استعمال یا جائز طریقوں میں اتنا غلو اور انہماک جس کے سبب آخرت سے غفلت ہوجائے باعث ہلاکت ہے مولانا رومی ؒ نے اس کی کیا اچھی مثال بیان فرمائی ہے
آب اندر زیر کشتی پشتی است
آب در کشتی ہلاک کشتی است
یعنی دنیا کا سازوسامان پانی کے مانند ہے، اور اس میں انسان کا قلب ایک کشتی کی طرح ہے، پانی جب تک کشتی کے نیچے اور اردگرد رہے تو کشتی کے لئے مفید اور معین اور اس کے مقصد وجود کو پورا کرنے والا ہے، اور اگر پانی کشتی کے اندر داخل ہوجائے تو یہی کشتی کی غرقابی اور ہلاکت کا سامان ہوجاتا ہے، اس طرح دنیا کے مال و متاع جب تک انسان کے دل میں غلبہ نہ پالیں، اس کے لئے دین میں معین و مددگار ہیں، اور جس وقت اس کے دل پر چھا جائیں تو دل کی ہلاکت ہیں، اسی لئے آیت متذکرہ میں چند خاص مرغوبات دنیا کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے(ذلک متاع الحیوۃ الدنیا واللہ عندہ حسن الماب) " یعنی یہ سب چیزیں دنیوی زندگی میں صرف کام چلانے کے لئے ہیں، دل لگانے کے لئے نہیں، اور اللہ کے پاس ہے اچھا ٹھکانا،" یعنی وہ ٹھکانا جہاں ہمیشہ رہنا ہے، اور جس کی نعمتیں اور لذتیں نہ فنا ہونے والی ہیں نہ کم یا ضعیف ہونے والی۔
Ayahs 3:15–17دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید توضیح کرنے کے لئے فرمایا (قُلْ اَؤ ُ نَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے جو دنیا کی ناقص اور فانی نعمتوں میں مست ہوگئے ہیں فرما دیجیے کہ میں تمہیں ان سے بہت بہتر نعمتوں کا پتہ دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور اس کے فرمانبرداروں کو ملیں گی، وہ نعمتیں سرسبز باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ہر قسم کی گندگی سے پاک وصاف بیبیاں ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہے، پچھلی آیت میں دنیا کی چھ بڑی نعمتوں کو شمار کیا گیا تھا کہ لوگ ان کی محبت میں مست ہیں، یعنی عورتیں اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر اور عمدہ گھوڑے اور مویشی اور کھیتی، ان کے مقابلے میں آخرت کی نعمتوں میں بظاہر تین چیزوں کا بیان آیا، اول جنت کے سرسبز باغات، دوسرے پاک صاف عورتیں، تیسرے رضائے خداوندی، باقی چیزوں میں سے اولاد کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ دنیا میں تو انسان اولاد کی محبت اس لئے کرتا ہے کہ اولاد سے اس کو اپنے کاموں میں مدد ملتی ہے، اور اس کے بعد اس سے اس کا نام زندہ رہتا ہے، آخرت میں نہ اس کو کسی کی مدد کی ضرورت رہے گی، نہ یہ فنا ہوگا کہ اپنے بعد کے لئے کسی ولی یا وارث کی تلاش ہو، اس کے علاوہ دنیا میں جس کی اولاد ہے وہ سب اس کو جنت میں مل جائے گی، اور جس کی اولاد دنیا میں نہیں ہے اس کو اول تو آخرت میں اولاد کی خواہش ہی نہیں ہوگی، اور کسی کو خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ بھی دیدیں گے، جامع ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی جنتی کو اولاد کی خواہش ہوگی تو بچہ کا حمل پھر ولادت، پھر اس کا بڑا ہوجانا یہ سب تھوڑی دیر میں ہوجائے گا، اور اس کا مقصد پورا کردیا جائے گا۔ اسی طرح جنت میں سونے چاندی کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ دنیا میں تو سونا چاندی اس لئے مطلوب ہے کہ اس کے بدلہ میں دنیا کا سامان خریدا جاتا ہے، اور ہر ضرورت کی چیز اسی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے، آخرت میں نہ کسی خریدو فروخت کی ضرورت رہے گی، نہ کسی چیز کا معاوضہ دینے کی ضرورت، بلکہ جس چیز کو جنتی کا دل چاہے گا، وہ فورا مہیا کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ جنت میں خود بھی سونے چاندی کی کمی نہیں، کیونکہ روایات سے ثابت ہے کہ جنت کے بعض محلات ایسے ہوں گے جن کی ایک اینٹ سونے کی اور دوسری چاندی کی ہوگی۔ بہرحال آخرت کے لحاظ سے وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں سمجھی گئی۔ اس طرح گھوڑوں کا کام دنیا میں تو یہ ہے کہ ان پر سواری کر کے مسافت سفر طے کی جائے وہاں نہ سفر کی ضرورت نہ کسی سواری کی، البتہ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ اہل جنت کو جمعہ کے روز عمدہ گھوڑے سواری کے لئے پیش کئے جائیں گے جن پر سوار ہو کر اہل جنت اپنے اعزاء و احباب سے ملاقات کے لئے جایا کریں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہاں گھوڑے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے، جس کا ذکر کیا جائے، اسی طرح مویشی جو کھیتی کا کام دیتے ہیں یا دودھ کا، یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں بغیر ان مویشی کے واسطے کے خود عطا فرمادی ہیں۔
یہی حال کھیتی کا ہے کہ دنیا میں تو کھیتی کی مشقت مختلف اجناس کے پیدا کرنے کے لئے اٹھائی جاتی ہے جنت میں یہ ساری اجناس خودبخود مہیا ہوں گے، وہاں کسی کو کھیتی کی ضرورت ہی کیا ہوگی، اور کسی کو خواہ مخواہ کھیتی ہی سے محبت ہو تو اس کے لئے یہ بھی ہوجائے گا۔ جیسا کہ طبرانی کی بعض روایات حدیث میں ہے کہ اہل جنت میں سے ایک شخص کھیتی کی تمنا کرے گا تو سارا کھیتی کا سامان جمع کردیا جائے گا، پھر کھیتی کا بونا، لگانا، پکنا اور کاٹنا یہ سب چند منٹ میں ہو کر سامنے آجائے گا، اس لئے نعمائے آخرت میں صرف جنت اور جنت کی حوروں کا ذکر کردینا کافی سمجھا گیا، کیونکہ اہل جنت کے لئے قرآن کریم میں یہ وعدہ بھی ہے کہ (وفیھا ما تشتیھہ الانفس۔ 43: 71) یعنی ان کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے، اس جامع اعلان کے بعد کسی خاص نعمت کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن ان میں سے چند مخصوص نعمتوں کا ذکر کردیا گیا جو ہر جنتی کو بےمانگے ملیں گی، یعنی جنت کے سرسبز باغات اور حسین و جمیل عورتیں اور ان جامع نعمتوں کے بعد ایک سب سے بری نعمت کا ذکر کیا گیا، جس کا عام طور پر انسان کو تصور بھی نہیں ہوتا، اور وہ اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا و خوشنودی ہے، جس کے بعد ناراضی کا خطرہ نہیں رہتا، چناچہ حدیث میں ہے کہ جب سب اہل جنت جنت پہنچ کر مسرور و مطمئن ہوچکیں گے، اور کوئی تمنا نہ رہے گی جو پوری نہ کردی گئی ہو تو اس وقت حق تعالیٰ خود ان اہل جنت کو خطاب فرمائیں گے کہ اب تم راضی اور مطمئن ہو، کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں، وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار آپ نے اتنی نعمتیں عطا فرمادی ہیں کہ اس کے بعد اور کسی چیز کی کیا ضرورت رہ سکتی ہے، حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب میں تم کو ان سب نعمتوں سے بالا تر ایک اور نعمت دیتا ہوں، وہ یہ کہ تم سب کو میری رضا اور قرب دائمی طور پر حاصل ہے، اب ناراضی کا کوئی خطرہ نہیں، اس لئے نعمائے جنت کے سلب ہوجانے کا یا کم ہوجانے کا بھی خطرہ نہیں۔
انہی دو آیتوں کا خلاصہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا(الدینا ملعونۃ و ملعون ما فیھا الا ما ابتغی بہ وجہ اللہ وفی روایۃ الا ذکر اللہ و ما والاہ او عالما او متعلما۔ " دنیا معلون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے بجز ان چیزوں کے جن کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کا ذریعہ بنا لیا جائے، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ بجز ذکر اللہ اور اس چیز کے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور بجز عالم اور طالب علم کے " یہ حدیث ابن ماجہ اور طبرانی نے بروایت حضرت ابوہریرہ نقل فرمائی ہے۔
Ayah 3:18خلاصہ تفسیر
ربط آیات
سابقہ آیات میں توحید کا بیان ہوا ہے مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں بھی توحید خداوندی کا مضمون ایک خاص انداز سے بیان فرمایا گیا ہے کہ اس پر تین شہادتوں کا ذکر ہے ایک خود اللہ جل شانہ کی شہادت دوسرے اس کے فرشتوں کی، تیسرے اہل علم اللہ جل شانہ کی شہادت تو بطور مجاز ہے مراد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کی ذات وصفات اور اس کے تمام مظاہر و مصنوعات اللہ تعالیٰ کی توحید کی کھلی نشانیاں ہیں۔
ہر گیا ہے کہ از زمین روید
وحدہ لا شریک لہ گوید
اس کے علاوہ اس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول اور کتابیں بھی اس کی توحید پر شاہد ہیں، اور یہ سب چیزیں حق تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو گویا خود اس کی شہادت اس بات پر ہے کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔
دوسری شہادت فرشتوں کی ذکر کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کے تکوینی امور کے اہلکار ہیں، وہ سب کچھ جان کر اور دیکھ کر شہادت دیتے ہیں کہ لائق عبادت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ تیسری شہادت اہل علم کی ہے کہ اہل علم سے مراد انبیاء (علیہم السلام) اور عام علماء اسلام ہیں، اسی لئے امام غزالی ؒ اور ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ اس میں علماء کی بڑی فضیلت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے مطلق وہ لوگ مراد ہیں جو علمی اصول پر صحیح نظر کر کے یا کائنات عالم میں غور و فکر کر کے حق جل وعلا شانہ کی وحدانیت کا علم حاصل کرسکیں اگرچہ وہ ضابطہ کے عالم نہ ہوں اور دوسری آیت میں اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام کا مقبول ہونا اس کے سوا کسی دین و مذہب کا مقبول نہ ہونا بیان کر کے مضمون توحید کی تکمیل فرمائی، اور اس سے اختلاف کرنے والوں کی تباہ حالی بیان فرمائی، مختصر تفسیر ان دونوں آیتوں کی یہ ہےگواہی دی ہے اللہ نے (کتب سماویہ میں) اس (مضمون) کی کہ بجز اس ذات (پاک) کے کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں، اور فرشتوں نے بھی (اپنے ذکر و تسبیح میں اس کی گواہی دی ہے، کیونکہ ان کے اذکار توحید سے بھرے ہوئے ہیں) اور (دوسرے) اہل علم نے بھی (اپنی تقریرات و تحریرات میں اس کی گواہی دی ہے، جیسا کہ ظاہر ہے) اور معبود بھی وہ اس شان کے ہیں کہ (ہر چیز کا) اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں (اور پھر کہا جاتا ہے کہ) ان کے سوال کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں وہ زبردست ہیں، حکمت والے ہیں، بلا شبہ دین (حق اور مقبول) اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور (اس کے حق ہونے میں اہل اسلام کے ساتھ) اہل کتاب نے جو اختلاف کیا (اس طرح سے کہ اسلام کو باطل کہا) تو ایسی حالت کے بعد کہ ان کو (اسلام کے حق ہونے کی) دلیل پہنچ چکی تھی محض ایک دوسرے سے بڑھنے کی وجہ سے (یعنی اسلام کے حق ہونے میں کوئی وجہ شبہ کی نہیں ہوئی، بلکہ ان میں مادہ دوسروں سے بڑا بننے کا ہے اور اسلام لانے میں یہ سرداری جو ان کو اب عوام پر حاصل ہے فوت ہوتی تھی، اس لئے اسلام کو قبول نہیں کیا، بلکہ الٹا اس کو باطل بتلانے لگے) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرے گا (جیسا ان لوگوں نے کیا) تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے حساب کا انجام عذاب ہوگا)۔
معارف و مسائل
آیت شہد اللہ الخ کے فضائل
یہ آیت شہادت ایک خاص شان رکھتی ہے، امام تفسیر بغوی ؒ نے نقل کیا ہے کہ یہود کے دو بڑے عالم ملک شام سے مدینہ طیبہ میں وارد ہوئے، مدینہ کی بستی کو دیکھ کر آپس میں تذکرہ کرنے لگے کہ یہ بستی تو اس طرح کی ہے جس کے لئے توراۃ میں پیشنگوئی آئی ہے کہ اس میں نبی آخر الزمان قیام پذیر ہوں گے، اس کے بعد ان کو اطلاع ملی کہ یہاں کوئی بزرگ ہیں جن کو لوگ نبی کہتے ہیں، یہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ پر نظر پڑتے ہی وہ تمام صفات سامنے آگئیں جو توراۃ میں آپ ﷺ کے لئے بتلائی گئی تھیں، حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ محمد ﷺ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، پھر عرض کیا کہ آپ احمد ﷺ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، میں محمد ہوں اور احمد ہوں، پھر عرض کیا کہ ہم آپ ﷺ سے ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ اس کا صحیح جواب دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا دریافت کرو، انہوں نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے ؟ اس سوال کے جواب کے لئے یہ آیت شہادت نازل ہوئی، آپ نے ان کو پڑھ کر سنادی، یہ دونوں اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ عرفات میں رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی تو اس کے بعد فرمایا(وانا علی ذلک من الشھدین یا رب (ابن کثیر) " یعنی اے پروردگار میں بھی اس پر شاہد ہوں ") اور امام اعمش ؒ کی ایک روایت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اس آیت کی تلاوت کے بعد یہ کہے کہ انا علی ذلک من الشاھدین۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرشتوں سے فرمائیں گے کہ " میرے بندے نے ایک عہد کیا ہے اور میں عہد پورا کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہوں، اس لئے میرے بندے کو جنت میں داخل کردو " (ابن کثیر)
اور حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہر نماز فرض کے بعد سورة فاتحہ اور آیۃ الکرسی اور آیت شھد اللہ (318) اور قل اللھم مالک الملک سے بغیر حساب (3: 26، 27) تک پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف فرمائیں گے اور جنت میں جگہ دیں گے اور اس کی ستر حاجتیں پوری فرمائیں گے، جن میں سے کم سے کم حاجت اس کی مغفرت ہے۔ (روح المعانی بحوالہ دیلمی)