3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 3:1–2

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے۔ (سورة آل عمران۔ سورة نمبر 3۔ تعداد آیات 200)

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ وہ (ہستی) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو خود زندہ (سب کو) تھامنے والا ہے، اسی نے (جو اس عظمت و شان کا مالک ہے)

1 حروف مقطعات اور ان سے مقصود و مراد ؟ : سورة کریمہ کے شروع کے یہ حروف " حروف مقطعات " کہلاتے ہیں۔ کیونکہ ان کو کاٹ کر اور الگ الگ کر کی پڑھا جاتا ہے اور ان سے مقصود و مراد کے بارے میں کتب تفسیر میں مختلف اقوال اور احتمالات پائے جاتے ہیں۔ لیکن راحج قول کے مطابق حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ ان کی صحیح اور حقیقی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لہذا ان کے بارے میں مجمل طور پر یہی کہنا چاہیئے کہ " اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمُرَادِہ " " ان کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے "۔ اس کی کچھ مزید تفصیل اس سے پہلے سورة بقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے۔ اس لیے اسی کی طرف رجوع کرلیا جائے۔
Ayahs 3:3–4

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اتاری آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ، جو تصدیق کرنے والی ہے ان سب کتابوں کی جو اس سے پہلے آچکی ہیں، اور اسی نے اتارا تورات کو بھی اور انجیل کو بھی،

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت (و راہنمائی) کیلئے، اور اسی نے اتارا (حق و باطل کے درمیان) فرق کردینے والی چیز کو2، بیشک جن لوگوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں (عظیم الشان نعمت) کا، ان کے لئے بڑا سخت عذاب ہے، اور اللہ بڑا ہی زبردست، (اور) انتقام لینے والا ہے،

4 قرآن حکیم ایک بےمثل کتاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اتاری آپ پر یہ کتاب یعنی قرآن حکیم، جو سراسر حق و صدق ہے، اس کے اندر جو کچھ بیان فرمایا گیا وہ بھی عین حق و صواب ہے۔ خلق خدا کی ہدایت و رہنمائی کے جس عظیم الشان مقصد کیلئے اس کو نازل فرمایا گیا ہے، وہ بھی نہایت عظیم الشان مقصد اور عین حق و صواب ہے، اور حفاظت کے جس بےمثل نظام کے ساتھ اس کو اشرف الملائکہ کے ذریعے اشرف الرسل پر اتارا گیا ہے، وہ بھی بےمثال اور قطعی طور پر حق و صواب ہے۔ پھر جس طرح اس کو اتارنے والی ذت اقدس و اعلیٰ کی عظمت شان اور جلالت قدر کا کوئی کنارہ نہیں۔ اسی طرح اس کے اس کلام حق ترجمان کی عظمتوں اور بلندیوں کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں۔ بےمثل اور بےمثال رب نے بےمثل و بےمثال کتاب نازل فرما کر اپنی مخلوق پر بےمثل و بیمثال کرم فرمایا۔ پس کتنے ہی بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس کتاب عزیر کا انکار کرتے اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیم - 5 تورات و انجیل سے مراد ؟ : واضح رہے کہ تورات و انجیل سے مراد وہ کتاب نہیں ہے جو کہ آج بائبل کے نام سے موجود و معروف ہے۔ اور جو " عہد نامہ قدیم " اور " جدید " پر مشتمل ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کتابیں الہامی نہیں ہیں، بلکہ ان میں زیادہ حصہ انسانی عمل کا نتیجہ ہے۔ مثلًا " عہدنامہ قدیم " جو اس وقت دنیا میں موجود و معروف ہے وہ دراصل عزرا کاہن (حضرت عزیر) کی مرتب کردہ کتاب ہے، جو انہوں نے اپنی قوم کے کچھ دوسرے بزرگوں کی مدد سے مرتب کی تھی، جبکہ بخت نصر کی طرف سے یروشلم کی تباہی کے ایک عرصہ بعد بنی اسرائیل کے بچے کھچے لوگ بابل کی اسیری سے رہائی پانے کے بعد واپس یروشلم آئے تھے، اور بیت المقدس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ تو اس طرح بنی اسرائیل کی پوری تاریخ مرتب کی گئی، جو اب موجودہ بائبل کی پہلی سترہ کتابوں پر مشتمل ہے۔ اور اس تاریخ کے چار ابواب یعنی " خروج "، " احبار "، " گنتی "، اور " استثنائ " حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی سیرت پر مشتمل ہیں، اور اس سیرت کے ضمن میں ہی تاریخ نزول کی ترتیب کے مطابق تورات کی وہ آیات بھی حسب موقع درج کردی گئیں، جو عزرا اور ان کے مددگار بزرگوں کو دستیاب ہو سکیں۔ پس اب تورات دراصل انہی منتشر اجزاء کا نام ہے، جو سیرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) میں بکھرے ہوئے ہیں، جن کو اس طرح تلاش کیا جاسکتا ہے، کہ اس تاریخی بیان کے دوران جہاں کہیں سیرت موسوی کا مصنف کہتا ہے کہ " خدا نے موسیٰ سے یہ فرمایا " یا " موسیٰ نے کہا کہ خداوند تمہارا خدا یوں کہتا ہے "، وہیں سے تورات کا کوئی جز شروع ہوتا ہے۔ پس اہل کتاب کی تحریفات کے باوجود تورات کا جو کچھ حصہ مل سکتا ہے وہ اسی طرح سے مل سکتا ہے، اور اس کا طریقہ یہی ہے۔ اسی طرح انجیل کا حال بھی یہی ہے، کہ آج " متی "، " مرقس "، " لوقا " اور " یوحنا " کے نام سے جو " اناجیل اربعہ " دنیا میں موجود ہیں، وہ دراصل انسانی تصنیفات ہیں، جو حضرت عیسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ایک زمانہ بعد لکھی گئی ہیں۔ بلکہ حقیقی انجیل دراصل آپ کے وہ الہامی خطبات اوراقوال ہیں جو آپ نے اپنی زندگی کے آخری اڑھائی تین سالوں میں بطور نبی ارشاد فرمائے تھے، اور ان میں سے جس قدر ارشادات بعد کے لوگوں کو زبانی یا تحریری طور پر کسی بھی طرح مل سکے، ان کو انہوں نے ان " اناجیل " کی تصنیف کے دوران ان تاریخی واقعات کے ضمن میں حسب موقع درج کردیا، جن کو انسانی کلام سے ممیز کرنے کا کوئی ذریعہ بعد کی دنیا کیلئے اس کے سوا نہیں رہ جاتا کہ جہاں سیرت عیسوی کا مصنف کہتا ہے کہ " مسیح نے یہ فرمایا " یا " انہوں نے لوگوں کو یہ تعلیم دی " یا " خداوند نے مسیح کو یوں فرمایا " صرف وہی اجزاء اصل انجیل ہیں۔ پس اسی طرح کے منتشر اجزاء وہ الہامی کلام ہے جو انجیل میں موجود ہے، اور جن کی قرآن حکیم تصدیق کرتا ہے، نہ کہ ان تاریخی واقعات کے اس مجموعے کی جو کہ انسانی تصنیف و تالیف ہے کہ وہ الہامی نہیں انسانی کلام ہے، اور انجیل کے اندر موجود و منتشر ان الہامی اجزاء کو اگر یکجا مرتب کر کے دیکھا جائے تو ان کے اور قرآنی تعلیمات کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ملے گا کہ ان دونوں کا منبع ومصدر درحقیقت ایک ہی ہے۔ مگر لوگوں کے ہاتھوں نے اس کو بندوں کے کلام میں خلط ملط کردیا ہے۔ اور اس طرح اس کو کچھ کا کچھ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ پر کوئی چیز چھپی نہیں، نہ زمین (کی پستیوں) میں، اور نہ آسمان (کی بلندیوں) میں،3

8 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ پس جس طرح اس کا اقتدار کامل ہے، اسی طرح اس کا علم بھی محیط و شامل ہے۔ لہذا نہ کوئی اس سے چھپ سکتا ہے اور نہ اس کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو اللہ ایسی شان اور قدرت کا مالک ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے طرح طرح کے وسیلے اور واسطے گھڑنا، جس طرح کہ اہل بدعت وغیرہ کرتے ہیں سخت بےجا بات اور ایک گمراہ کن مشرکانہ فلسفہ ہے۔ سو وہ وحدہ لاشریک اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور وراء الوراء ہے، اس کو اسی طرح مانا جائے جیسا کہ وہ خود بتائے یا اس کا رسول بتائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس طرح کے تصوات اس کے حق میں قائم کرنا، گمراہیوں کی گمراہی ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ۔ اسی لئے اس وحدہ لا شریک کیلئے اپنی طرف سے مثالیں گھڑنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا ہے کہ وہ خالق ہے اور دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اس کو ویسا ہی مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے۔ (علیہ السلام) -
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ (وحدہ لاشریک) وہی ہے جو تمہاری صورت گری فرماتا ہے تمہاری ماؤں کے رحموں اندر جیسے چاہتا ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ لاشریک) کے، جو بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

9 انسانوں کی صورت گری حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت کا ایک عظیم الشان اور بےمثل نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہی ہے جو ماؤں کے رحموں کے اندر انسان کی صورت گری فرماتا ہے جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان و بےمثل اور محیر العقول نمونہ و مظہر ہے۔ اس لئے تمہاری فطرت اور فطرت کے تقاضوں سے جس طرح وہ وحدہ لاشریک واقف و آگاہ ہوسکتا ہے، اس طرح نہ دوسرا کوئی ہوسکتا ہے اور نہ خود تم ہوسکتے ہو، کہ کسی کیلئے بھی ایسی واقفیت و آگہی ممکن نہیں۔ اس لئے اس کی ہدایت و رہنمائی پر اعتماد کئے بغیر تمہارے لئے کوئی چارہ کار نہیں کہ اس کے بغیر راہ حق و صواب میسر آہی نہیں سکتی۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جس ذات اقدس نے استقرار حمل سے لیکر اس کے بعد کے مختلف مراحل میں تمہاری زیست وبقاء اور جسمانی نشوونما کیلئے اس طرح کا عظیم الشان اور بےمثل انتظام فرمایا ہے، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحوں کی غذا کا انتظام نہ فرمائے۔ جبکہ جسم کے مقابلے میں اصل اور مقصود روح ہی ہے ؟ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب تمہاری اس تخلیق اور صورت گری میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر خود اپنی ذات، اپنے آغاز، اور اپنے جسم و جان ہی میں غور کرے تو اس کو حضرت حق کے وجود باجود، اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ، اور رحمت و عنایت شاملہ کے ایسے قطعی اور عظیم الشان شواہد ملیں گے کہ یہ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے، لیکن مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس کی طرف غور کرتا ہی نہیں۔ اس کی ساری تگ و دو اپنے بطن وفرج کی شہوات و خواہشات میں گھر کر اور الجھ کر رہ گئی ہے۔ اور اس حد تک کہ اس نے جو ہر عقل کے اس عظیم الشان اور بےمثال عطیہ خداوندی کو اس کے اصل مقصد کی بجائے بطن و فرج اور اس کے تقاضوں کا غلام بنا کر رکھ دیا ہے ۔ واِلَّا مَا شَائَ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ وتعالیٰ ۔ سو انسان کا وجود اور اس کی شکل وصورت خالق کی قدرت وحکمت کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ ہے۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہ ہی ہے جس نے آپ پر یہ (عظیم الشان) کتاب اتاری، جس کی کچھ آیتیں محکم ہیں،4 جو کہ اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں، جب کہ اس کی کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں5، سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی (اور ٹیڑھ) ہے، وہ اس کی انہی آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں، جو کہ متشابہ ہیں، فتنہ (و فساد) کی تلاش میں، اور ان (سے اپنی مرضی) کا مطلب نکالنے کے لئے حالانکہ ان کا (حقیقی) مطلب کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ (وحدہ لاشریک) کے1، اور جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر (اللہ کی مراد کے مطابق) ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں، اور (حقیقت یہ ہے کہ) سبق وہی لوگ لیتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں،

10 " محکم " کا معنیٰ اور اس سے مراد ؟ : سو ایسی آیات کریمات وہ ہوتی ہیں جن کے مفاہیم واضح، اور ان کی مراد متعین ہوتی ہے۔ ور ان کے مفہوم و مراد کو سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ " محکم " اِحکام سے ماخوذ ہے۔ جس کے اصل اور لغوی معنی پختگی اور مضبوطی کے ہوتے ہیں۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی سب ہی آیات محکم اور پختہ ہیں، کہ وہ سب ہی اپنے ظاہر و باطن، الفاظ و معانی، تراکیب و مبانی، اور اپنے مطالب و مقاصد، کے اعتبار سے نہایت مضبوط اور محکم ہیں، جن میں کسی طرح کا کوئی خلل اور فتور راہ نہیں پاسکتا۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی سب ہی آیات محکم ہیں۔ چناچہ سورة ھود میں ارشاد فرمایا گیا { کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَاتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ } (ھود۔ 1) یعنی " یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم بنایا گیا پھر ان کی تفصیل کی گئی ایک ایسی ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے جو کہ نہایت ہی حکمت والی، انتہائی باخبر ہے "۔ اور دوسرے معنی " محکم " کے واضح اور ظاہر کے ہیں۔ یعنی جس کا معنی و مطلب ایسا ظاہر و واضح ہو کہ اس کے سمجھنے میں کوئی دقت و دشواری نہ ہو۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی آیتیں دو قسم پر ہیں۔ ایک وہ جن کے معانی و مطالب ظاہر و واضح ہیں۔ اور دوسری وہ جو ایسی نہیں ہیں۔ سو اسی اعتبار سے یہاں فرمایا گیا کہ قرآن حکیم کی آیات دو قسم پر ہیں۔ " محکم " اور " متشابہ " یعنی انہیں سے کچھ تو وہ آیات کریمات ہیں جن کے معانی و مطالب ظاہر اور واضح ہیں، اور کچھ اس کے برعکس دوسری نوعیت کی ہیں۔ جن کے یا تو سرے سے اصل معنی ہی معلوم نہیں یا ان کے معنی مراد واضح نہیں۔ یہ دونوں قسم کی آیتیں برحق اور منزل من اللہ ہیں اور دونوں ہی اللہ پاک کی عظمت و حکمت کی مظہر و نمونہ ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 1 1 محکم آیتیں ہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں : کہ ہدایت و رہنمائی کے جس مقصد عظیم کیلئے قرآن حکیم کو نازل فرمایا گیا ہے، اس کا تعلق انہی آیات کریمات سے ہے۔ اور طالب حق کیلئے ایمان اور عمل صالح جو کہ اصل مدار نجات ہے، کے بارے میں کوئی خفاء و تشنگی باقی نہیں رہ جاتی۔ ایمان و اخلاق، عبادات و معاملات، عقائد و اعمال، اور فرائض و واجبات وغیرہ سب کچھ جو کہ ایک انسان کے عمل اور اس کی ہدایت اور فلاح و نجات کیلئے ضروری اور اس کے لئے مطلوب ہے، وہ سب انہی آیات محکمات کے ذریعے بتمام و کمال واضح فرما دیا گیا ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْْنَ ۔ سو ان آیات کریمات کی حیثیت اصل اور " ام الکتاب " کی ہے۔ اور باقی ساری آیات کا مرجع و مرکز یہی " محکمات " ہوتی ہیں۔ ساری بحث کا دارومدار انہی پر ہوتا ہے۔ باقی تمام شاخیں انہی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کوئی نزاع اور خلاف پیدا ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی انہی کی کسوٹی پر پرکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ پھر انہی آیات محکمات کا یہ درجہ و مقام ہے کہ ان کو اصول قرار دے کر ان سے مسائل مستنبط کئے جائیں اور ان مسائل پر اسی طرح اعتماد کیا جائے جس طرح اصولوں پر کیا جاتا ہے۔ سو یہی صحت و سلامتی کی راہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ 12 " متشابہ " کا معنیٰ اور اس سے مراد : " محکم " کی طرح متشابہ کی بھی کی دو صورتیں، اور دو قسمیں ہیں، اور اس کے بھی دو معنی و مطلب بنتے ہیں۔ ایک یہ کہ " متشابہ " کے معنی ہوں " تشابہ " اور " مشابہت " والی۔ یعنی باہم ایک جیسی اور آپس میں ملتی جلتی۔ سو اس اعتبار سے قرآن حکیم کی سب ہی آیات " متشابہ " ہیں۔ یعنی وہ اپنی عمدگی و تاثیر، صداقت و حقانیت، اِعجاز و بلاغت، اور کمال و جامعیت وغیرہ صفات حمیدہ اور خصائص و مزایا، اور کلام الہٰی ہونے کے اعتبار سے باہم دیگر متشابہ اور ایک جیسی ہیں۔ ان میں باہم کوئی فرق و اختلاف نہیں۔ سو اسی بناء پر اس پوری کتاب حکیم کو " متشابہ " قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورة زمر میں اس بارے ارشاد فرمایا گیا { اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْث کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ } الاٰیۃ (الزمر۔ 23) یعنی اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے یہ سب سے عمدہ کلام ایک ایسی عظیم الشان کتاب کی صورت میں، جس کی آیتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی، اور دہرائی جانے والی ہیں۔ اور دوسرا معنی " متشابہ " کا یہ ہے کہ یہ " تشابہ " اور " اشتباہ " کے معنی میں ہو۔ یعنی ان کے معانی و مطالب سے متعلق اشتباہ پایا جاتا ہو۔ سو اس اعتبار سے قرآنی آیات دو قسم پر ہیں۔ ایک " محکم " اور دوسری " متشابہ " جیسا کہ یہاں ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ سو اس اعتبار سے " متشابہ " سے مراد وہ آیات ہیں جن کے معنی مراد واضح نہ ہوں۔ خواہ اس اعتبار سے کہ ان کی دلالت علی المعنی ہی واضح نہ ہو، جیسا کہ حروف مقطعات ہیں کہ ان کی کسی خاص معنی مرادی پر کوئی دلالت ہی واضح نہیں۔ اس لئے کہ " الٓم " یا " الٓرٓ "، " طٰہٰٓ " یا " طٰسٓمّٓ " وغیرہ کے کوئی خاص معنیٰ ان کی دلالت لغوی کے اعتبار سے واضح نہیں۔ اسی لئے ان کے بارے میں راحج قول حضرات اہل علم کا یہی ہے کہ " اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمُرَادِہٖ " کہ " ان کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یا یہ ہو کہ لغوی معنیٰ تو واضح ہوں مگر معنی مراد واضح نہ ہوں، جیسا کہ { یَدُ اللّٰہٗ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ } اور { بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتَان } اور { وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ } اور { وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّک } وغیرہ آیات کریمہ میں ہے، کہ ان میں وارد شدہ الفاظ " َ یَدٌ "، " نَفْسٌ "، اور " وَجْہٌ " وغیرہ کے لغوی معنی تو معلوم و مفہوم اور واضح ہیں، مگر ان کے وہ معانی و مفاہیم حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کیلئے نہیں لئے جاسکتے جو مشہور و معروف ہیں، کیونکہ ان کے یہ مشہور و معروف معانی و مفاہیم تو مخلوق کیلئے ہیں۔ جبکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان اقدس واعلیٰ اس سے پاک، بالا، اور وراء لوراء ہے۔ کہ وہ خالق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے لئے صحیح طریقہ اور سلامتی کی راہ یہی ہے کہ حضرت حق کے بارے میں ان الفاظ و کلمات کے معانی و مفاہیم سے متعلق یوں کہا جائے کہ " جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور حضرات سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ اور یہی مخاوف و محاذیر سے محفوظ اور سلامتی کی راہ ہے۔ بہرکیف " متشابہ " کے دو معنیٰ اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ اور یہ دونوں اپنے طور پر اور اپنے اپنے دائرے میں صحیح ہیں، جیسا کہ اوپر تفصیل سے گزرا ۔ والحمد اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ان دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ 13 " زائغین " کا طریقہ " متشابہات " کے پیچھے پڑنا : سو ایسے لوگ " متشابہ آیات " کے پیچھے لگتے ہیں، تاکہ اس طرح وہ اپنے عقائد ِباطلہ، اور خیالات فاسدہ کی تائید و تصدیق کا مواد جمع کر کے ان نصوص کو خلق خدا کے اغواء واضلال کے مقاصد خبیشہ کیلئے استعمال کرسکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے ایسے لوگوں سے بچنے اور ان سے ہوشیار رہنے کی تلقین فرمائی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آپ ؓ سے ارشاد فرمایا کہ " عائشہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو کہ متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں، تو جان لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں فرمایا ہے "۔ پس تم ان سے بچ کر رہنا، (بخاری، کتاب التفسیر، سورة آل عمران) ۔ اسی لئے جیسا کہ مسنددارمی میں مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ ۔ ؓ ۔ نے صبیغ بن علی نامی ایک شخص کی ایسے ہی سوالات کرنے پر سخت پٹائی کی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سر کو لہولہان کردیا تھا، اور اس کو آپ ؓ نے تب چھوڑا جبکہ اس نے کہا کہ " حضرت بس کیجئے، معاف کیجئے، اب میرے دماغ سے وہ خمار اتر گیا ہے "۔ (تفسیر القاسمی ج ا 99) اسی لئے حضرت ابن عباس ؓ سے جب کوئی شخص اس طرح کے سوالات کرتا تو آپ ؓ اس کو فرماتے کہ تم اس لائق ہو کہ تمہارے ساتھ وہی حشر کیا جائے جو حضرت عمر ؓ نے صبیغ بن علی کے ساتھ کیا تھا۔ ( القاسمی ج 2 ص 38) ۔ بہرکیف " متشابہات " کے پیچھے لگنا " زائغین " کا طریقہ ہے، اور اس طرح ان بدبختوں نے طرح طرح کے ہولناک فتنوں کے دروازے کھولے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ جَلَّ وَعَلَا ۔ مثال کے طور پر قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ کو " کلمۃ اللہ "، " اللہ کا فرمان " قرار دیا گیا ہے۔ اور یہی بات ان کے بارے میں انجیل میں بھی فرمائی گئی۔ یعنی قرآن اور انجیل دونوں میں۔ آنجناب کو اللہ کا فرمان قرار دیا گیا ہے اور اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ چونکہ آپ ﷺ کی ولادت فطرت کے عام قاعدے اور معروف ضابطے کے خلاف باپ کے واسطے کے بغیر محض والدہ ماجدہ سے ہوئی تھی، اس لئے آپ کو " کلمۃ اللہ "، " اللہ کا فرمان " قرار دیا گیا کہ آپ کی ولادت با سعادت محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ " کن " سے ہوئی تھی مگر " زائغین " نے اس لفظ کو من مانے معنی پہنا کر کچھ کا کچھ بنادیا۔ یہاں تک کہ اسی بناء پر دین عیسوی کا حلیہ بگاڑ دیا اور اس دین توحید سے بدل کر شرک کا پلندہ اور ایک گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا جو نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 14 " متشابہات " کی مراد اللہ ہی جانتا ہے : یعنی وقف لازم لفظ جلالہ " اللہ " پر ہے۔ اور آگے " وَالرَّاسِخُوْنَ " الخ جملہ مستانفہ ہے۔ اور یہی قول جمہور علماء و مفسرین کا ہے۔ جیسے حضرت ابن عباس ؓ ، ابن عمر ؓ ، ابن مسعود ؓ ، ابی بن کعب ؓ ، عروۃ بن الزبیر ؓ ، ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ حضرت حسن بصری (رح) اور امام مالک (رح) وغیرہ کا، کہ ان سب حضرات کے نزدیک " متشابہات " کا علم صرف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کو ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور " راسخین فی العلم " اس پر ایمان رکھتے ہیں اور کہتے ہیں، کہ یہ سب حق اور سچ ہے، اور ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ " محکم آیات " پر چونکہ ہمیں عمل کرنا تھا اس لئے اس کی مراد واضح فرما دی گئی جبکہ " متشابہات " پر ہمارا کوئی عمل موقوف نہیں تھا۔ اس لئے اسکی توضیح و تعیین نہیں فرمائی گئی۔ اور جمہور کا یہی قول حنفیہ کے یہاں بھی معتبر و مختار ہے۔ (روح، مظہری، قرطبی، کبیر، القاسمی، المعارف، جواہر، اور مراغی، وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا قول اس بارے میں یہ ہے کہ وقف لازم لفظ جلالہ پر نہیں، بلکہ لفظ " علم " پر ہے۔ یعنی " را سخین فی العلم " بھی اس کی تفسیر و تاویل کو جانتے ہیں، مگر یہ قول پہلے قول کے مقابلے میں مرجوح ہے۔ تفصیل مطولات میں انشاء اللہ ۔ مفصل تفسیر لکھنے کا موقع اگر ملا تو اس میں اس بارے میں پوری تفصیلی بحث کی جائیگی ۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِیْنُ ۔ بہرکیف کتاب حکیم کی آیات کریمات دو طرح ہیں " محکم " اور " متشابہ "۔ " محکمات " کا تعلق چونکہ اصول و مبادی اور انسان کے عمل سے ہے۔ اس لیے ان کی مراد واضح ہے تاکہ انسان اس کے مطابق اپنے عقیدہ اور عمل کو درست کرے۔ جبکہ " متشابہات " پر اس کا کوئی عمل موقوف نہیں، اس لیے ان کی مراد کو واضح نہیں فرمایا گیا۔ بہرکیف متشابہات کے بارے میں پہلا قول جو کہ عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہے وہ جمہور اہل علم کا ہے، جب کہ دوسرا قول شیعہ اور بعض متکلمین وغیرہ کا ہے۔ (تدبر قرآن وغیرہ) ۔ سو متشابہات کی اصل مراد اللہ ہی جانتا ہے اور اسی کا علم کامل اور محیط ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ - 15 صحیح سبق عقل سلیم رکھنے والے ہی لیتے ہیں : یعنی ایسی عقول جو ہر طرح کے انحراف اور میل کچیل سے پاک صاف اور محفوظ ہیں، اور زیغ و ضلال اور خواہش پرستی و نفس پرستی وغیرہ کا کوئی زنگ ان کو نہ لگا ہو۔ کہ ایسے ہی صاف ستھرے اور خالص و سلیم عقل والے لوگ صحیح سبق لیتے اور نصیحت قبول کرتے ہیں۔ ورنہ جن کی عقلیں کسی طرح کے زیغ و ضلال اور فساد و انحراف کا شکار ہوجاتی ہیں، ان کو نہ راہ حق سوجھتی ہے، اور نہ ہی ان کو آیات و دلائل سے سبق لینے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ اسی لئے قرآن پاک ایسے مواقع میں " اُولُوا العُقُوْل " نہیں " اُولُوالالباب " فرماتا ہے۔ اس لئے عام طور پر اردو تراجم میں جو اس کا ترجمہ " عقلمند " وغیرہ جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس لفظ کا پورا اور مکمل ترجمہ نہیں بنتا، کیونکہ " عقل " اور " لُبْ " کے درمیان فرق ہے کہ " لُبْ " اصل میں خالص اور سلیم عقل کیلئے موضوع ہے، جبکہ عقل عام ہے۔ ہر طرح کی عقل کو شامل ہے۔ اگرچہ ہویٰ و ہوس، اور زیغ و ضلال کے زنگ نے اس کو کھالیا ہو، اور ظاہر ہے کہ ایسی عقل کا کوئی اعتبار نہیں، کہ وہ ماؤف ہوچکی ہوتی ہے۔ چناچہ ایسے کتنے ہی لوگوں نے طرح طرح کے باطل کو اپنایا ہے، اور انہوں نے جمادات و نباتات، اور حیوانات بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انسانی شرم گاہوں تک کی پوجا کر ڈالی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ایسے لوگوں کی عقلیں ہویٰ و ہوس کی میل کچیل سے لتھڑ کر مسخ ہوچکی ہوتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو پھر ایسی عقلوں کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے ؟ سو صحیح طور پر غور و فکر کرنے اور اشیاء سے صحیح سبق لینے اور صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے اس عقل سلیم کی ضرورت ہوتی ہے، جو ہر قسم کی میل کچیل سے پاک صاف ہو اور اس پر کوئی زنگ نہ لگا ہو ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم من کل زیغ و ضلال -
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(اور وہ دعا کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب، پھیر نہ دینا ہمارے دلوں کو (راہ حق و صواب سے) اس کے بعد کہ تو (اپنے کرم سے) ہمیں نواز چکا ہے (حق و) ہدایت (کی دولت) سے اور عطا فرما دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت بیشک تو (اے ہمارے مالک ! ) بڑا ہی بخشنے والا (سب کچھ عطا کرنے والا) ہے،3

16 وہّاب کا معنی و مفہوم ؟ : یعنی " الوھاب " چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے، اس لئے اس کا مفاد یہ ہے کہ وہ سب کچھ بخشنے والا، ہر کسی کو بخشنے والا، اور بےحد و حساب عطاء کرنے والا ہے۔ اور اس کی بخشش وعطاء کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک لمحہ کے اندر اس کی نعمتوں کے جس قدر خزانے تقسیم ہو رہے ہیں، ان کی بھی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز چونکہ یہاں پر مبتداء و خبر دونوں معرفہ ہیں، اس لئے اس میں حصر کا معنی پیدا ہوگیا کہ یہ سب کچھ صرف اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتا ہے، جو وہ محض اپنی رحمت و عنایت سے عطا فرماتا ہے۔ جل و علاشانہ ۔ واضح رہے کہ اسی لفظِ " وہاب " کے ساتھ جو کہ اللہ پاک کی ایک عظیم الشان صفت ہے یائے نسبت لگانے سے لفظ " وہابی " بنتا ہے جس کو اہل بدعت اہل حق کے خلاف طعن وتشنیع کے طور پر استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک عظیم الشان شرف ہے، کہ اس کے معنی ہیں وہّاب والا، یعنی " اللہ والا "، مگر اہل بدعت چونکہ اس کو بری نیت سے اور اہل حق کے خلاف طعن و تشینع کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس لئے وہ دوہرا نقصان اٹھاتے ہیں کہ اس طرح ایک طرف تو یہ لوگ لاشعوری طور پر حضرات اہل حق کی حقانیت کا اقرار کرتے، اور ان کو یہ لوگ خود " اللہ والا " قرار دیتے ہیں، اور دوسرا نقصان وہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ چونکہ وہ " وہابی " کے اس لفظ کو طعن وتشنیع کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس لئے اس طرح وہ اپنی محرومی اور بدنصیبی کو اور پکا کرتے جاتے ہیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے شرک و بدعت کی نحوست کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے، اور اس کی کھوپڑی الٹی اور اوندھی ہوجاتی ہے جس سے وہ سیدھی بات کو بھی الٹا دیکھنے لگتا ہے اور راہ حق و ہدایت سے بہک اور بھٹک کر کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب بیشک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو ایک ایسے (ہولناک اور) عظیم الشان دن میں، جس میں کوئی شک نہیں، بیشک اللہ خلاف نہیں فرماتا اپنے وعدہ کے،

17 اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا : لہذا اس عظیم الشان اور ہولناک دن نے بہرحال واقع ہونا ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے۔ پس تو اے ہمارے خالق ومالک، ہمیں اپنے کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے اس دن کی ہولناکیوں اور ناکامیوں سے محفوظ رکھنا، اور اس کی رسوائی سے بچانا، کہ تیرے کرم اور تیری عنایت کے سوا ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں۔ محض تیرا ہی آسرا اور سہارا ہے۔ تَبَارَکْتَ و تَعالَیْتَ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے " راسخین فی العلم " کی اس دعا کو ذکر فرمایا گیا ہے، جو وہ اپنے رب کے حضور اپنے ایمان و یقین کی دولت کی حفاظت کے لئے کرتے ہیں۔ سو اس کے حضور عرض کرتے ہیں کہ راہ حق میں ان کے جمے ہوئے قدم کبھی اور کہیں اکھڑنے اور راہ حق سے ہٹنے اور پھرنے نہ پائیں۔ اور فتنوں کے مقابلے میں وہ خدائے وہّاب ہمیشہ اپنی ایسی روحانی کمک سے ان کو نواز دے جو ان کو راہ حق پر ثابت قدم رکھے۔ بہرکیف یہ " راسخین فی العلم " کی دعا ہے جو وہ اپنے رب کے حضور کرتے ہیں تاکہ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہیں اور ان کے جمے ہوئے قدم کبھی اکھڑنے نہ پائیں۔ سو وہ رجوع الی اللہ کی دولت سے بھی پوری طرح سرشار ہوتے ہیں جو ان کا اصل سہارا ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 3:10–11

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفرو (باطل) پر، ان کو اللہ کے مقابلے میں نہ تو ان کے مال کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ان کی اولادیں، اور یہی لوگ ہیں جو ایندھن ہوں گے (دوزخ کی) اس ہولناک آگ کا،4

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنے حال و مال کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں) جیسا کہ فرعون والے اور وہ لوگ تھے جو کہ ان سے بھی پہلے گزر چکے ہیں، کہ انہوں نے بھی ہمیں جھٹلایا ہماری آیتوں کو، جس کے نتیجے میں اللہ نے (آخرکار) ان کو پکڑا، ان کے گناہوں کے سبب اور اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے،

18 اہل کفر کا انجام نہایت ہولناک ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل کفر کا انجام نہایت ہی ہولناک ہوگا اور ان کو اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال کچھ کام آسکیں گے اور نہ ان کی اولادیں۔ جن کا یہ اپنے طور پر بڑا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں۔ اور اعلانیہ اور فخریہ طور پر کہتے ہیں ۔ { نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَّاَوْلادًا } ۔ (سبا۔ 35) کہ " ہم مال و دولت میں بھی سب سے بڑھ کر ہیں اور آل اولاد میں بھی "۔ لہذا ہم ٹھیک اور ہمارا راستہ بھی ٹھیک۔ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا ؟ اور جب ہم ایسے اور اس قدر مال و دولت اور آل و اولاد رکھنے والے ہیں تو پھر کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے، مگر حقیقت میں یہ محض ایک دھوکہ ہے جو شیطان اور اس کے اعوان و اَنصار کی طرف سے ان لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ قدر و قیمت اصل میں حق کی، اور حق کے قبول کرنے کی ہے، نہ کہ متاع دنیا کے اس حطام زائل کی۔ البتہ اس مال و متاع دنیا کی قدر و قیمت اس صورت میں ہوسکتی ہے، جبکہ حق کو قبول کرنے کے بعد اس کو راہ حق میں، اور اپنے خالق ومالک کی رضا کی طلب میں صرف و خرچ کیا جائے، کہ اس صورت میں یہ عارضی اور فانی اشیاء بھی دائمی اور قیمتی بن جائیں گی۔ اور اگر یہ چیزیں اس کے برعکس حق کی قبولیت کی بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں، تو پھر یہ الٹا دائمی عذاب کا باعث بن جائینگی، اور یہ سب سے بڑا خسارہ اور انتہائی ہولناک نقصان ہے۔ اور اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک خسارہ کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 19 کافرو منکر دوزخ کا ایندھن ۔ والعیاذ باللہ : کہ انہوں نے اپنے مال و متاع پر نظر کرتے ہوئے، اور اس کے زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دولت حق اور راہ صدق و صواب سے منہ موڑ لیا۔ اور اس طرح انہوں نے دائمی ناکامی اور ابدی خسران کو اپنے گلے کا ہار بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ سب کچھ چونکہ انہوں نے اپنے ارادہ و اختیار سے اور ازخود کیا، اس لئے یہ اپنی اس ابدی ناکامی اور دائمی خسارہ کے ذمہ دار خود ہیں۔ سو دنیاوی مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا یہ پہلو بڑا ہی خطرناک اور سخت نقصان دہ ہے کہ اس کی بناء پر انسان تکبر میں مبتلا ہو کر راہ حق و صواب سے اعراض کرتا، اور منہ موڑ لیتا ہے۔ اور ایسی ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ کلمہ حق و ہدایت کو سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ اور اس طرح وہ دائمی خسارہ و ہلاکت کے عمیق گڑھے اور گہری کھائی میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگوں کے لئے یہاں پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو حساب و کتاب کے اس یوم عظیم میں ان کے مال و اولاد کچھ بھی کام نہ آسکیں گے اور یہ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں ہمیشہ کے لئے ایندھن بنیں گے جہاں ان کو ہمیشہ کے لئے رہنا اور جلنا ہوگا۔ نہ ان سے وہاں کا عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی یہ اس سے کسی طرح چھٹکارا پاسکیں گے، اور نہ ہی ان کو وہاں پر موت آئے گی کہ کسی طرح ان کو وہاں سے رہائی مل سکے۔ سو کفر وانکار ہلاکتوں کی ہلاکت اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کہہ دو ان لوگوں سے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر کہ عنقریب ہی تم کو (اس دنیا میں بھی) مغلوب ہونا ہے، اور (پھر قیامت کے روز) تم کو ہانک کرلے جایا جائے گا، جہنم کے (ہولناک گڑھے) کیطرف، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔1

22 کفر و انکار کا نتیجہ ذلت و رسوائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ تم لوگوں کو عنقریب مغلوب ہونا پڑے گا جیسا کہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مشرکین مکہ کا حال بدر و اَحزاب وغیرہ کے معرکوں میں ہوا۔ اور جیسا کہ قبائل یہود بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بنو قریظہ کا حال مدینہ طیبہ میں ہوا کہ ان کو قتل، قید، اور جلاوطنی وغیرہ کی ذلتیں اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بناء پر اٹھانا پڑیں، اور پھر فتح مکہ اور فتح خیبر کے بعد ان سب کی ایسی تذلیل ہوئی کہ ارض حر میں کو ان کے وجود اور ان کے کفر سے ہمیشہ کیلئے پاک و صاف کردیا گیا۔ اور اس کے بعد بھی جب کبھی ایسے کھلے کفر کا مقابلہ سچے اہل ایمان سے ہوا تو ان کو مال و دولت کی کثرت، اور مادی ذرائع و وسائل کی بہتات کے باوجود منہ کی کھانی پڑی، جیسا کہ آج بھی اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، چناچہ دور حاضر کی سب سے بڑی شیطانی قوت (سپر پاور) روس نے جب اپنی مادی ترقی کے زعم و گھمنڈ میں اپنی پوری قوت اور جدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا، اور اس زعم اور گھمنڈ کے ساتھ کہ آگے کوئی ہماری اس ہولناک طاقت کا مقابلہ کرنے والا نہیں، اور ہم سیدھے جا کر خلیج عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ جائینگے، اور حسب منشاء ان سے استفادہ کرینگے، تو افغانستان کے وہ نہتے مسلمان جن کے پاس نہ حرب و ضرب کا کوئی سامان تھا، نہ کوئی مادی اسباب و وسائل، اور نہ کوئی فوجی تعلیم و تربیت، اور خود افغانستان کی اس وقت کی حکومت بھی اپنی بےدینی کی بناء پر، روس کی کیمونسٹ حکومت اور اس کی طرف سے بھیجی جانے والی کمیونسٹ فوج کے ساتھ تھی، اور پوری طرح اس کی پٹھو اور کٹھ پتلی بن چکی تھی، اور اسی کی دعوت پر روسی فوج افغانستان میں داخل ہوئی تھی، مگر دنیا نے دیکھا اور کھلی آنکھوں دیکھا کہ اس سب کے باوجود ان نہتے اور بےسہارا مسلمانوں نے اپنے ایمان و یقین کے بل بوتے پر وقت کی اس سب سے بڑی شیطانی سپر پاور اور اس کی بھیجی ہوئی ڈیڑھ لاکھ فوج کا مقابلہ کیا، تو اس کی اس مزاحمت کی بناء پر جو کہ محض ایمانی جذبہ و قوت پر قائم تھی، نہ صرف یہ کہ روسی خلیج کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل نہ کرسکے، بلکہ ان کو ہر طرح کے ہتھیار استعمال کرنے، اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے، کے باوجود اپنی جان چھڑانا مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ اربوں کھربوں کے مالی نقصان، اور ہزارہا فوجیوں کے جانی خسارہ اٹھانے اور شدید ترین ذلت و خواری سے دوچار ہونے کے بعد ان کو وہاں سے واپس لوٹنا پڑا۔ اور اس حال میں کہ سوویت یونین کی اس سپرپاور کا خود اپنا وجود ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور وہ دنیا کے نقشے سے ہمیشہ کیلئے مٹ گئی۔ اور یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ مشرقی یورپ میں واقع اس کی ہمنوا تمام حکومتوں کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس طرح دنیا کا نقشہ ہی بدل کر کچھ کا کچھ ہوگیا، اور دنیا بھر کے لوگ اسلام کے اس تازہ اور زندہ معجزہ کو ماننے پر مجبور ہوگئے۔ اور یہی حال آج مسلم جمہوریہ چیچنیا کی معرکہ آرائی کا ہے کہ روس وہاں بھی اپنی بھرپور قوت آزمائی اور ڈیڑھ سال کی لگاتار آتش فشانی اور گولہ باری کے باوجود چیچنیا کے مسلمانوں کو زیر کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہا ہے، حالانکہ تعداد اور اسباب و وسائل کے اعتبار سے یہ مقابلہ ایسے ہے جیسے کہ ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ۔ اسی طرح قلب یورپ میں واقع مسلم ریاست جمہوریہ بوسنیا ہر زگوینا میں ہوا کہ کفر کے علمبرداروں کو وہاں کے نہتے اور معصوم و بےگناہ مسلمانوں پر ہر قسم کے مظالم ڈھانے کے باوجود ہمیشہ کی ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہونا پڑا۔ اور اسی طرح کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک حریت، فلسطینی مسلمانوں کی حرکت انتفاضہ وغیرہ وغیرہ وہ نمونے حق و باطل کی معرکہ آرائیوں کے آج بھی ایسے موجود ہیں، کہ کفر و باطل اپنے بےپناہ مادی وسائل اور ہر طرح کے ظلم و جبر کے باوجود نہ صرف یہ کہ اہل حق کو زیر نہیں کرسکا بلکہ ان ایمانی تحریکوں کی بناء پر آج دنیا بھر میں ابنائے کفر و باطل پر ایک لرزہ طاری ہے۔ فَصَدَقَ اللّٰہُ الْقَائِلُ { اَنْتُمُ اْلاَعْلَوْْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْن (آل عمران۔ 139) کہ " غلبہ و سربلندی تمہارا ہی مقدر و نصیب ہے، بشرطیکہ تم اپنے دعوی ایمان میں سچے ہوؤ "۔ سو حقیقی غلبہ اور سچی عزت حق اور اہل حق ہی کا مقدر ہے۔ آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی اور اس سے پہلے دنیا کی اس زندگی میں بھی۔ بس شرط اتنی ہے کہ مسلمان مسلمان ہو ۔ وباللّٰہ التوفیق وَہُوَالہادی الی سوائ السبیل ۔ سو ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور کفر و انکار باعث محرومی۔ 23 قیامت کے روز کفار کی تذلیل کا ایک منظر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفار کو قیامت کے روز جانوروں کی طرح ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا جس طرح کہ جانوروں کو ہانک کرلے جایا جاتا ہے۔ کیونکہ حق کے منکر اور اس کے دشمن اپنے آپ کو خواہ کچھ بھی سمجھیں، اور کچھ بھی کہیں، لیکن حقیقت میں وہ بہرحال جانور، بلکہ اس سے بھی کہیں بدتر مخلوق ہیں، کہ نہ وہ اپنے خالق ومالک کے آگے جھکتے ہیں، نہ اس کو پہچانتے ہیں، اور نہ انکو اپنی عاقبت و انجام کی کوئی فکر ہے۔ بس حیوانوں کی طرح اپنے پیٹوں کو بھرنا، خواہ کسی بھی طرح سے ہو، اور اپنے تن و توش کی خدمت اور بہتری کیلئے دوڑ دھوپ کرنا، جس طرح بھی ہوسکے، ان لوگوں کا مقصد حیات ہے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ حق سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے روکنے اور محروم کرنے کی فکر و کوشش کرتے ہیں، جو کہ ایک حیوان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے ایسے لوگ ان سے بھی برے { شَرُّالْبَرِیَّۃَ } اور " بدترین مخلوق " ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے { إِنَّ شَرَّ الدَّوٓابّ عِنْدَ اللّٰہ الَّذِیْنَ کَفُرُوْا فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ } (الانفال۔ 55) " بیشک بدترین جانور اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر (و باطل) پر اڑ گئے، پھر وہ ایمان نہیں لاتے "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِیْنَ کفَرُوْا مِنْ اَھْل الْکِتَاب والمُشْرِکیْنَ فِیْ نَارِجَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اْوٓلئکَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ } (البینتہ۔ 6) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہاں پر ان کافروں سے مراد یہود مدینہ ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن سے حضور ﷺ نے غزؤہ بدر کے معرکے کے بعد فرمایا تھا کہ تم لوگ ایمان لے آؤ تاکہ ایسے انجام سے بچ سکو، تو انہوں نے کہا محمد اپنی قوم کے ان جاہل اور گنوار لوگوں پر غلبے سے دھوکے میں نہیں پڑنا ہم سے جب مقابلہ ہوگا تو پتہ چل جائے گا۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ تو اس سے ان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ ان سے کہو کہ تم دنیا میں بھی مغلوب ہوؤ گے اور اس کے بعد آخرت میں بھی تمہیں ہانک کر دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ کی طرف لے جایا جائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اس کے کچھ ہی عرصہ بعد یہود و بنو قریظہ کو ان کی خیانت و بددیانتی کی بناء پر قتل کیا گیا اور بنونضیر کو جلا وطن کیا گیا۔ خیبر بھی فتح ہوگیا اور باقی ماندہ یہود پر جزیہ عائد کردیا گیا۔ سو اصل قوت اور اصل دولت ایمان و یقین کی قوت و دولت ہے۔ اَللّٰھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِیّتَا عَلَیْہ واحفظنا من کل زیغ وزلل - 24 دوزخ بڑا ہی برا ٹھکانہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کو بتادو کہ تم لوگوں کو ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے جہاں تم لوگوں نے اپنے کئے کرائے کے نتیجے اور بدلے میں ہمیشہ رہنا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دوزخ کی اس ہولناک آگ میں ہمیشہ جلتے رہنے کا یہ عذاب ان لوگوں کے اپنے اس کفر وعناد کی بناء پر ہوگا، جس کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا، اور یہ ایسا ہولناک انجام اور خوفناک عذاب ہوگا کہ اس جہاں میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ سو کتنے محروم اور کس قدر بدبخت ہیں وہ کفار جن کو اس انجام سے دوچار ہونا ہے، اگرچہ اس دنیا میں وہ اربوں کھربوں کے مالک ہی کیوں نہ رہے ہوں، کہ یہ سب کچھ یہیں رہ جائیگا، اور انہوں نے بالآخر اس ہولناک اور ابدی و دائمی عذاب میں مبتلا ہونا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر محرومیوں کی محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے مقابلے میں ایمان دارین کی فوز و فلاح کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ -
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

وہ بیشک تمہارے لئے (حق و باطل کی پہچان کے لئے) بڑی نشانی تھی ان دو گروہوں (کی مڈ بھیڑ) میں، جن کا (بدر کے مقام پر) باہم مقابلہ ہوا جن میں سے ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں (اور اس کی رضا کے لئے) لڑ رہا تھا، اور دوسرا گروہ جو کہ کافروں کا تھا، وہ (عین معرکہ کے وقت) مسلمانوں کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا آنکھوں کے اعتبار سے اور اللہ تائید فرماتا اپنی مدد سے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی بناء پر) جس کو چاہتا ہے، بیشک اس میں بڑا سامان عبرت ہے چشم بینا رکھنے والوں کے لئے۔2

25 معرکہ حق و باطل میں سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا تمہارے لئے اے لوگو حق اور باطل کے ان دونوں گروہوں کے ٹکراؤ میں بڑا سامان عبرت و بصیرت تھا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی جماعت، اپنی قلت تعداد اور قلت وسائل و اَسباب کے باوجود محض اپنی ایمانی قوت کی بناء پر، اور اپنے خالق ومالک کی تائید و حمایت اور اس کی نصرت و امداد کے آسرے اور سہارے پر، اپنے سے کئی گنا بڑی اور ایک ایسی جماعت کا مقابلہ کر رہی تھی، جو کہ آلات حرب و ضرب سے لیس اور تعداد و سامان وغیرہ کے اعتبار سے ان سے کئی گنا بڑھ کر تھی۔ اور پھر اس معرکہ آرائی میں بالآخر فتح و غلبہ بھی اسی چھوٹی جماعت کو نصیب ہوتا ہے، جو ایمانی قوت سے سرشار تھی۔ پس اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے، اور اصل سہارا و اعتماد اللہ پاک کی مدد و عنایت کا سہارا ہے، جس کے مقابلے میں کوئی قوت بھی غالب نہیں آسکتی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلا غالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ بَعْدِہ وَ عَلَی اللّٰہ فَلْیَتَوَکَّل الْمُؤْمِنُوْنَ } (آل عمران۔ 160) سو معرکہ بدر میں اس کا ایک عملی اور عمدہ نمونہ تمہارے سامنے موجود تھا، اور سبق لینے اور عبرت پکڑنے والوں کیلئے اس میں بڑا سامان عبرت و بصیرت تھا مگر غفلت اور ہٹ دھرمی کا کیا کیا جائے کہ وہ محرومیوں کی محرومی ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ - 26 معرکہ بدر کی ایک خاص عنایت خداوندی کا ذکر وبیان : سو اس سے معرکہ بدر میں اہل ایمان کیلئے ایک خاص رحمت و عنایت خداوندی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ دشمن ان کو عین معرکہ کے دوران اپنے سے دوگنا دیکھ رہا تھا تاکہ اس طرح ان کی ہمتیں ٹوٹیں، اور مسلمانوں کا رعب ان پر چھا جائے اور وہ شکست کھا جائیں۔ سو یہ بھی اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی اسی غیبی امداد کا ایک حصہ ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا اور ان کی تائید و نصرت فرماتا ہے ۔ جَلّ وَعَلَا ۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ } واضح رہے کہ جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں بھی بین القوسین اشارہ کیا ہے یہ عین معرکے کی حالت کا بیان ہے، جبکہ لڑائی شروع ہونے سے قبل کفار مسلمانوں کو اپنے سے کم دیکھ رہے تھے جیسا کہ وہ واقع میں تھے بھی کم۔ اسی لئے سورة انفال میں ارشاد فرمایا گیا { وَیُقَلِّلُکُمْ فِیْ اَعْیُنِہِمْ } الایۃ (الانفال۔ 44) (روح، قرطبی، مراغی، اور معارف وغیرہ) ۔ اس کے علاوہ اس میں کچھ دوسرے اقوال بھی ہیں، جو کہ انشاء اللہ ہم اپنی مفصل تفسیر کے موقع پر ذکر کریں گے۔ بہرکیف جب انسان کا ایمان و یقین درست ہوتا ہے اور اس کے دل کا بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی عنایات سے طرح طرح سے نوازتا ہے اور ہمیشہ نوازتا ہے۔ سبحانہ تعالیٰ - 27 چشم بینا رکھنے والوں کیلئے سامان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اس میں بڑا سامان عبرت ہے دیدہ بینا رکھنی والوں کے لیے کہ قوت اصل میں ایمانی قوت ہی ہے۔ اور مدد دراصل خدائی مدد ہی ہے۔ پس جو لوگ ایمانی قوت سے سرشار اور خداوندی تائید و نصرت سے سرفراز ہوتے ہیں، غلبہ بہرحال انہی کا ہوتا ہے، خواہ وہ تعداد اور سامان حرب و ضرب کے اعتبار سے کتنے ہی تھوڑے اور کمزور کیوں نہ ہوں۔ سو ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس سے اور اس کی قوت سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ وباللہ التوفیق و ھو الہادی الی سواء السبیل ۔ " عبرت " کا لفظ دراصل " عبور " سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہوتا ہے " عبور کرنا "، " پار ہونا " وغیرہ۔ اس لئے عبرت کے معنی ہوتے ہیں ایک حقیقت سے عبور کر کے دوسری تک پہنچ جانا۔ سو صاحب بصیرت شخص ایک حقیقت سے دوسری کی طرف عبور کر کے بڑے اہم درس لیتا ہے اور یہی فرق ہوتا ہے ایک صاحب بصیرت اور ایک بلید شخص میں، کہ ایک اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتا جب کہ دوسرے کے لئے ایک معمولی سی نشانی ایک ادنیٰ سی تنبیہ، اور ایک سرسری سا اشارہ حقائق کے دفتر کھولنے کے لئے کلید بن جاتا ہے۔ سو ایسے ہی لوگ قرآن پاک کے نزدیک " اولوا الابصار " کہلاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت کا نور بھی ہوتا ہے جو ان کو جزء میں کل اور قطرہ میں دجلہ دیکھنے کا اہل بنا دیتا ہے۔ وَبِاللّٰہ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائ السَّبِیْل ۔ وَھُوَ عَلٰی کُلّ شَیْئٍ قَدِیْرِ-
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

خوشنما بنادیا گیا لوگوں کے لئے مرغوبات نفس کی محبت کو، جیسے عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے جمع کردہ ڈھیر، نشان کئے ہوئے (عمدہ) گھوڑے، مویشی اور کھیتی3 ( مگر یہ سب کچھ تو دنیا کی (چند روزہ) زندگی کا سامان ہے، (اور بس) جب کہ (اصل اور) عمدہ ٹھکانا اللہ ہی کے پاس ہے،

28 فتنہ و فساد کی ایک جڑ کی نشاندہی : سو مرغوبات نفس کی محبت کا خوشنما بنا دیاجانا فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس کی بناء پر انہوں نے انہی چیزوں کو اپنا ممطمح نظر اور مقصد حیات بنادیا، یہانتک کہ وہ ان کی محبت میں مستغرق ہو کر اپنے خالق ومالک کو، اور اس کے حقوق کو بھی بھول گئے، اور اپنے انجام اور آخرت سے بھی غافل ہوگئے۔ اور اس طرح وہ اصل مقصد سے منہ موڑ کر اور انہی فانی چیزوں کی تحصیل و تکمیل، اور ان کے جوڑنے جمع کرنے میں مشغول و منہمک ہوگئے۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب لوگ متاع عمر کی اپنی پوری پونجی اسی راہ میں صرف کردیتے ہیں، اور اپنی آخرت اور وہاں کی حقیقی زندگی میں خالی ہاتھ پہنچتے ہیں، جو کہ سب سے بڑا نقصان اور خساروں کا خسارہ ہے، اور ایسا کہ اس کی پھر تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے میں دین حنیف کا دنیا والوں پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ان کو خبردار کرتا ہے کہ رک جاؤ، باز آجاؤ اور اس ہولناک ناکامی سے بچ جاؤ مگر غفلت کی ماری دنیا ہے کہ وہ سن کے ہی نہیں دے رہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مرغوبات دنیا، یعنی مال و اولاد، اور زن و زمین وغیرہ کی نفس محبت جو کہ طبعی اور فطری حدود کے اندر ہو تو بری نہیں بلکہ وہ تو ایک درجے میں ضروری اور محمود و مطلوب ہے کہ اس پر انسان کی شخصی اور نوعی بقاء کا دارومدار ہے۔ اس لئے یہاں پر محض ان چیزوں کی طبعی محبت اور رغبت زیر بحث نہیں بلکہ برائی ان کی تزئین کی گئی ہے۔ اور تزئین کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز اس طرح کسی کی آنکھوں میں کھب جائے کہ اس کے اثر سے آدمی ہر چیز کو اس کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے۔ اس لئے مذموم و ممنوع دراصل یہی تزیین ہے کہ اس سے آگے طرح طرح کے فتنے پیدا ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر فتنے سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت و عنایت کی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 29 " حرث " کے تاخیر ذکر میں ایک نکتہ : " حرث " یعنی کھیتی کے مرغوبات نفس میں سب سے آخر میں بیان کرنے میں ایک خاص علمی نکتہ یہ ہے کہ " حرث " یعنی کھیتی ضرورت کے لحاظ سے اگرچہ ان مرغوبات میں سب سے پہلے ہے، مگر شہوت و خواہش کے اعتبار سے وہ ان میں سب سے آخر میں ہے۔ اس لئے یہاں پر اس کا ذکر سب سے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے تعبیر قرآنی کی ان باریکیوں اور لطافتوں کے۔ فَلِلّٰہ الْحَمْدُ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف مرغوبات نفس کی محبت میں کھوجانا اور انہی کے پیچھے لگ جانا بڑے ہی ہولناک انجام کی طرف جانے والا راستہ ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ خواہشات نفس میں سب سے پہلے عورت کا نمبر آتا ہے، پھر بیٹوں کا، پھر سونے اور چاندی کے ذخیروں کا، پھر نشان زدہ عمدہ گھوڑوں کا، پھر مویشی اور کھیتی کا۔ یعنی اسی ترتیب کے مطابق جو کہ اس آیت کریمہ میں پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 30 متاع دنیا کی بےحقیقتی کا ذکر وبیان : سو دنیا کی چند روزہ زندگی کا یہ سامان آخرت کے مقابلے میں ہیچ ہے اور اس کی حقیقت و حیثیت آخرت کے اس عالم جاودانی کے مقابلے میں محض ایک سراب اور خواب کی سی ہے۔ پس دنیائے فانی کے اس متاع زائل کو مقصد حیات بنا کر آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں کو بھول جانا ایک ایسا ہولناک خسارہ ہے جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا، اور جس کی حیات دنیا کی اس محدود و مختصر فرصت کے خاتمے کے بعد تلافی و تدراک کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ ِحق و ہدایت پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے اور نفس و شیطان کے ہر فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے دنیا کی ناپائیداری کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا اور مرغو بات دنیا کی بےحقیقتی کی طرف بھی اور اس بات کی طرف بھی کہ دنیائے فانی کی ان فانی اور عارضی لذتوں کے پیچھے لگ کر آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو فراموش کردینا کس قدر بڑی حماقت اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ ہر شر و مکروہ سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی ہی طرف رجوع رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 31 اصل اور عمدہ ٹھکانہ اللہ ہی کے پاس ہے : جو اتنا عمدہ اور اس قدر نفیس ہے کہ اس کا یہاں اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پس اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے { وَذَالِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْن } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مومن صادق کو ہمیشہ آخرت کے اس حسن ثواب اور عمدہ ٹھکانے کو ہی اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور دنیاوی زندگی کے اس متاع فانی میں سے بس اتنے ہی حصے کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیئے جو بدرجہ ضرورت و کفایت ہو اور بس۔ اور اس طرح توسط و اعتدال کی راہ پر چل کر وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوجائے گا اور اسی کی تعلیم اس کو اس دعائے ربانی میں دی گئی ہے { رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الآخِرَۃ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ } سو دنیا ایک دارفانی ہے، اور آخرت عالم جاودانی، جیسا کہ کہا جاتا ہے " اَلدُّنْیَا دَارُمَفَرٍّ والآخرۃ دار مقر " اور عقل ونقل دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ باقی کو فانی پر ترجیح دی جائے۔ جیسا کہ فرمایا گیا { وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی } ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔