3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 3:1
(1) اللہ تعالیٰ ہی وفد بنی نجران (یعنی نجران کے عیسائیوں) کی حالت کو زیادہ جاننے والا ہے اور الم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، اولاد اور اس کے علائق سے پاک و برتر ہے۔
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہمیشہ رہنے ولا

(2) اور (رب کریم) زندہ جاوید ہیں، تمام چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں
Ayahs 3:3–4

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمد ﷺ !) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا، جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

(3) وہ معبود برحق جس نے جبریل امین کے ذریعہ ایسی کتاب نازل فرمائی جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور توحید کی تصدیق کرنے والی ہے، (یہ توحید خالص) جو اس سے پہلے آسمانی کتابوں میں بیان ہوچکی ہے اور اللہ کی ذات وہ ہے کہ جس نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے نزول سے پہلے اسی طرح نبی اسرائیل کو گمراہی سے راہ راست پر لانے کے لیے حضرت موسیٰ ؑ پر توریت اور حضرت عیسیٰ ؑ پر انجیل کو نازل فرمایا اور رسول اکرم ﷺ پر حلال و حرام کو بیان دینے والی کتاب قرآن کریم نازل فرمائی ، اور وفد نجران جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتا ہے، ان کے لیے دنیا وآخرت میں سخت سزا ہے اور اللہ تعالیٰ عذاب دینے اور گرفت کرنے پر قادر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”نزل علیک الکتب بالحق (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ربیع ؓ سے روایت کیا ہے کہ عیسائی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جھگڑنے لگے، اس پر اللہ تعالیٰ (آیت) ”الم۔ اللہ لا الہ“۔ سے تقریبا اسی آیات نازل فرمائیں۔ اور ابن اسحاق ؒ محمد بن سہل بن ابی امامہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وفد نجران نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آکر حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں گفتگو شروع کی تو ان کے بارے میں سورة آل عمران کی ابتدائی تقریبا اسی آیات نازل ہوئیں اور اس روایت کو امام بیہقی ؒ نے دلائل میں بھی روایت کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

(5) اللہ تعالیٰ سے وفدبنی نجران اور اسی طرح فرشتوں کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(6) وہ ایسی ذات ہے کہ جس طرح چاہتا ہے کوتاہ قد، دراز قد خوبصورت یا بدصورت نیک یا بد لڑکا یا لڑکی بناتا ہے، اس مصور حقیقی کے علاوہ نہ کوئی صورت بنانے والا اور نہ کوئی خالق ہے، جو اس پر ایمان نہ لائے، اس کو عذاب دینے میں بڑی قدرت رکھنے والا اور انسان شکل کے بنانے میں بڑی حکمت والا ہے۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

(7) اسی ذات نے جبرائیل امین ؑ کے ذریعے تم پر قرآن کریم کو نازل کیا، جس میں اکثر حصہ ہر طرح کے شک وشبہ سے محفوظ ہے یعنی حلال و حرام، جائز ناجائز غرضیکہ تمام اصولی وبنیادی چیزوں کو بیان فرمانے والا ہے، اس میں سے کوئی چیز بھی منسوخ نہیں ہوئی، یہ آیات ہی کتاب اللہ کی جڑ اور بنیاد ہیں اور ہر ایک کتاب آسمانی پر عمل کرنے کے لیے اصل اصول ہیں جیسا کہ فرمان الہی (آیت) ”۔ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم“۔ اور دوسری آیات ایسی ہیں جو یہودیوں کے لیے مشتبہ المراد (یعنی جن کے مفہوم میں قطعیت نہیں ہے) جیسا کہ اس کی ایک مثال حروف مقطعات ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ ان متشابہ آیات پر عمل منسوخ کردیا گیا اور جن لوگوں کے دلوں میں شک اور حق سے روگردانی ہے، جیسا کہ یہودیوں میں سے کعب بن اشرف، حی بن اخطب، جدی بن اخطب، وغیرہ ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کی آڑ میں اپنی بدنیتی کے سبب کفر وشرک اور گمراہی پر قائم رہنے کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس امت کا انجام دیکھنے کی غرض سے کہ مسلمان کس طرح ناکام ہوتے ہیں تاکہ مدینہ کی بادشاہت انہیں کے لیے رہے اور انجام کار اور صحیح مطلب سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے یہ بات ختم کرکے اب اللہ تعالیٰ از سر نو پھر کلام کو شروع فرماتے ہیں اور جو حضرات مثلا توریت کے علم میں پختہ کار ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر یقین رکھتے ہیں کہ محکم و متشابہ سب آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور احکام قرآنیہ سے علقمند حضرات ہی نصیحت قبول کرتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Ayahs 3:8–9

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کردیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما۔ تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا۔ بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

(8۔ 9) اہل ایمان یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہدایت حق عطا کردینے کے بعد ہمارے دلوں کو حق سے دور نہ کیجیے اور اسلام پر ہمیں ثابت قدم رکھیے اور ہم سے پہلے مسلمانوں کو یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کو آپ نبوت اور دین اسلام عطا فرمانے والے ہیں اور یہ وہ یہ بھی کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار آپ مرنے کے بعد تمام انسانوں کو بلاشبہ ایسے دن جمع کرنے والے ہیں، جس کے واقع ہونے میں ذرا بھی شک نہیں۔ مرنے کے بعد زندہ ہونا، حساب، پل صراط، جنت، دوزخ، اور میزان عمل ان میں بلاشبہ کوئی وعدہ خلافی نہیں۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچاسکے گا اور ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

(10) کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی یا ابوجہل اور اسکے ساتھی ہرگز ان کے اموال اور اولاد کی زیادتی عذاب الہی کے مقابلہ میں فائدہ مند نہیں ہوسکتی بلآخر یہ لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا، جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(11) جیسا کہ فرعون والوں کا معاملہ تھا، یعنی آپ کے ساتھ بھی آپ کی قوم قریش نے وہی معاملہ کیا کہ آپ کو جھٹلایا اور ستایا جیسا کہ موسیٰ ؑ کی قوم نے حضرت موسیٰ ؑ کو جھٹلایا اور ان کو ستایا تو ہم غزوۂ بدر کے دن ان کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کریں گے، یعنی انہیں شرمناک شکست دے کر کمزور مسلمانوں کو غلبہ عطا کریں گے جیسا کہ فرعون وآل فرعون کو غرق کرنے کے ان ان کے ساتھ کیا، پھر اسی طرح موسیٰ ؑ کی قوم کے ساتھ ہم نے سلامتی و عروج کا فیصلہ کیا اور اس طرح قوم موسیٰ ؑ سے پہلے لوگوں کا معاملہ بھی تھا کہ انہوں نے ہماری بھیجی ہوئی کتابوں اور رسولوں کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جھٹلانے کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کرڈالا اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ !) کافروں سے کہہ دو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

(12) اے محمد ﷺ آپ ان کفار مکہ سے یہ بھی فرما دیجیے کہ تم دنیا میں بھی بدر کے دن مارے جاؤ گے اور پھر قیامت کے روز جہنم میں جمع کیے جاؤ گے، وہ بہت بدترین ٹھکانہ ہے۔ شان نزول : (آیت) ”قل للذین کفروا (الخ) امام ابوداؤد ؒ نے اپنی سنن میں اور بیہقی ؒ نے دلائل میں بواسطہ ابن اسحاق محمد بن ابی سعید ؒ یا عکرمہ ؒ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اہل بدر سے جو واقعہ پیش آیا، اس کے بعد جب آپ مدینہ منور لوٹ کر تشریف لائے تو آپ بازار بنی قینقاع میں تشریف لے گئے جو یہودیوں کا اجتماع کا مرکز تھا اور ان سے فرمایا اے گروہ یہود ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی وہ معاملہ کرے تو جو قریش کے ساتھ بدر میں کیا گیا تو انہوں نے کہا اے محمد ﷺ الیعاذ باللہ خود پسندی اور بڑائی میں مبتلا نہ ہو اگر تم نے کفار کی ایک جماعت کو قتل کردیا تو وہ بیوقوف تھے، لڑنا نہیں جانتے تھے، واللہ اگر آپ ہمارے ساتھ لڑیں گے تو اپ کو پتاچل جائے گا کہ ہم مرد ہیں ہم جیسے لوگوں سے آپ کا سامنا نہ ہوا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ اولی الابصار تک نازل فرمائی۔ اور ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ فخاص یہودی نے بدر کے دن کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ نے قریش کو قتل کردیا اور ان پر غلبہ حاصل کرلیا تو یہ چیز ان کو دھوکا میں نہ ڈالے کیوں کہ قریش تو لڑنا نہیں جانتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لیے دو گروہوں میں (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑگئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی، ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے، جو اہل بصارت ہیں ان کے لئے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

(13) کفار مکہ رسول اکرم ﷺ کی نبوت کی شہادت کے لیے دو جماعتوں میں بڑی نشانی ہے کہ غزوہ بدر میں ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی اور دوسری جماعت ابوسفیان کی تھی، ایک جماعت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں لڑرہی تھی اور وہ صحابہ کرام ﷺ کی جماعت تھی جو تعداد میں صرف تین سو تیرہ یا کم و بیش تھے ، اور دوسری جماعت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والوں کی تھی جو کفار اہل قریش کی جماعت تھی یہ تعداد میں ایک ہزار تھے یہ لوگ کھلی آنکھوں سے اس بات کا مشاہدہ کررہے تھے کہ ہم تعداد میں اصحاب رسول اکرم ﷺ سے کئی گنا زیادہ ہیں اور (آیت) ”قل للذین کفروا“ کے ایک معنی یہ بھی بیان کیے گئے ہیں کہ آپ بنی قریظہ اور بنو نضیر سے فرما دیجیے کہ عنقریب تم قتل اور جلا وطنی کے ساتھ مغلوب کیے جاؤ گے اور پھر قیامت کے دن جہنم کی طرف جمع کیے جاؤ گے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ غزوہ بدر سے دو سال قبل ان کو اس چیز کی اطلاع دی گئی پھر اللہ تعالیٰ نے آگلی آیت نازل فرمائی کہ اے گروہ یہود تمہارے لیے رسول اکرم ﷺ کی نبوت کے لیے دو جماعتوں میں جن کا بدر میں مقابلہ ہوا نشانی ہے ان میں ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی تھی جو اللہ کے راستہ میں لڑرہی تھی، دوسری جماعت ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کی تھی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کرنے والی تھی اور اسے یہودیو تم ابوسفیان کی جماعت کو اصحاب رسول اللہ ﷺ سے اپنی آنکھوں سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو قوت دی اور غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کی مدد فرمانے میں اہل ایمان اور اہل دانش کے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں، اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے

(14) اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان دنیاوی نعمتوں کو بیان فرماتے ہیں جو کفار کو بھلی معلوم ہوتی ہیں، ان لوگوں کی محبت مرغوب چیزوں کے ساتھ تھی، مثلا باندیاں اور عورتیں غلام اور لڑکے اور مالوں کے انبار سونے اور چاندی کے سکے۔ اور قناطیر تین اور مقنطرہ نوکو بولتے ہیں اور نشان لگائے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور اونٹ گائے بکریاں اور کھیتیاں یہ سب چیزیں ان کو خوشنمامعلوم ہوتی ہیں۔ مگر یہ تمام چیزیں محض دنیاوی زندگی میں فائدہ مند ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں بیان کی ہیں۔ پھر بالآخر ان کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ان مذکورہ چیزوں کی بقا اور زندگی کی مثال گھر کے سامان رکابی اور پیالہ وغیرہ کی طرح ہے اور جو ان تمام چیزوں میں دل لگانا چھور دے اس کے لیے حقیقی خوبی آخرت یعنی جنت ہے۔
Ayah 3:15

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے کہو) کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو ؟ (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لئے خدا کے ہاں باغاتِ (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(15) اب اسی طرح آخرت کی نعمتیں ان کا بقا اور ان کی افضیلت بیان فرماتے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان کفار سے فرما دیجیے کہ تمہیں ایسی چیز بتلاؤں جو ان مذکورہ دنیاوی چیزوں سے بہت بہتر ہو ؟ تو سنو ایسے لوگوں کے لیے جو کفر وشرک اور تمام بےحیائی کی باتوں سے ڈرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھی ان کے لیے جنت میں ایسے باغات، جن میں درختوں اور مکانوں کے نیچے سے شراب طہور شہد دودھ اور پانی کی نہریں ہیں، یہ لوگ ان بہیشتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ جس میں نہ موت آئے گی اور نہ یہ لوگ وہاں سے نکالے جائیں گے، ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو حیض وغیرہ سے ہر طرح صاف ستھری ہوں گی اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی جو خوشنودی ورضا ہوگی وہ جنت اور ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
Ayahs 3:16–17

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

(16۔ 17) اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور ان کے جنت میں مراتب اور ان کے تمام اعمال دنیوی سے بخوبی واقف ہیں، اب آگے اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے حضرات کی بعض تفصیلی صفات بیان فرماتے ہیں۔ ایسے اہل ایمان دنیا میں بارگارہ خداوندی میں یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان لائے ہیں تو ہمارے زمانہ جاہلیت والے اور جاہلیت کے بعد والے تمام گناہوں کو معاف فرما دیجیے اور ہم سے دوزخ کے عذاب کو دور کو دیجیے یہ ایسے حضرات ہیں جو فرائض خداوندی کی بجا آوری اور گناہوں سے بچنے میں ثابت قدم رہنے والے ہیں اور ایمان میں سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابعداری کرنے والے ہیں اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرنے والے ہیں اور اخیر شب میں نماز تہجد وغیرہ پڑھنے والے ہیں۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(18) اب اللہ تعالیٰ اپنی توحید کو خود بیان فرماتے ہیں اگرچہ اس کی ذات کے علاوہ اور کوئی بھی اس کی توحید کے متعلق گواہی نہ دے تب بھی اس ذات الہی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم فرشتے اور انبیاء کرام اور مومنین بھی اس کی توحید کی قولی وعملی گواہی دیتے ہیں۔ اور معبود حقیقی ہر ایک چیز کا اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے اس سے انتقام لینے میں غالب اور حکمت والے ہیں اور اس نے بات کو حکم دیا کہ اس اللہ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم حاصل ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

(19) بیشک اللہ کا پسندیدہ دین اسلام ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے اور اس حقیقت کی اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انبیاء کرام اور مومنین نے گواہی دی ہے یہ آیت شام کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ کون سی گواہی کتاب اللہ میں سب سے بڑی ہے چناچہ آپ نے یہ آیت بیان کی اور وہ مشرف بااسلام ہوگئے، یہود ونصاری نے اسلام اور رسول اکرم ﷺ کے بارے میں باوجود اس کے کہ ان کی کتابوں میں اس چیز کے متعلق دلیل پہنچ چکی تھی جو اختلاف کیا ہے اس کا مقصد محض حسد ہے اور جو شخص محمد ﷺ قرآن کریم کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بدبختوں کو سخت عذاب دینے والے ہیں۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہوچکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو ؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مان لیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچادینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(20) ان لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں جو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دشمنی تھی اب اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتے ہیں کہ اگر یہود و نصاری نے اس کے بعد بھی آپ سے دین میں جھگڑا کیا تو آپ فرما دیجیے کہ میں تو اپنے دین اور عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرچکا ہوں اور میرے صحابہ کرام ؓ بھی ایسا ہی کرچکے ہیں اور اے نبی آپ یہود و نصاری اور اہل عرب سے فرما دیجیے کہ ہم اسلام لائے ہیں کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اسلام لے آئیں تو راہ راست پر آگئے اور اگر انہوں نے اس سے روگردانی کی تو آپ پر تو احکام کا پہنچا دینا فرض ہے باقی ان منکرین حق سے اللہ تعالیٰ خود سمجھ لیں گے کہ حقیقت میں کون ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لایا۔
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو

(21) بیشک جو لوگ انکار کرتے ہیں محمد ﷺ کے نبی برحق ہونے کا اور قرآن کریم کے کتاب الہی ہونے کا اور انبیاء کرام کو قتل کرتے ہیں حالانکہ یہ قتل کرنا خود ان کے نزدیک بھی برا ہے نیز ایسے مومنین کو بھی قتل کرتے ہیں جو انبیاء کرام پر ایمان لائے اور توحید کا حکم دیتے ہیں تو ایسے مومنین کے قاتلین کو ایک درد ناک سزا کی خبر سنا دیجیے کہ جس کی شدت ان کے جسموں سے گزر کر دلوں تک سرایت کرجائے گا۔
Ayah 3:22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کو کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

(22) ایسے لوگوں کی سب نیکیاں ضائع ہوگئیں اور ان کو آخرت میں بھی اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ خیبر والوں میں سے بنی قریضہ اور بنی نظیر نے زانی کے سنگسار کرنے سے انکار کیا تھا، اس کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات) سے بہرہ دیا گیا اور وہ اس کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کردے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے

(23) اے محمد ﷺ کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں علم توریت کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے (جس میں رجم وغیرہ کا بھی بیان ہے) اور اسی غرض نے قرآن کریم کی طرف ان کو بلایا بھی جاتا ہے تاکہ ان شادی شدہ مرد و عورت کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کریں کہ جنہوں نے خیبر میں زنا کیا ہے، ایسے مجرموں کے سنگسار کرنے کا اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اس میں سے بنو قریظہ اور اہل خیبر توریت کے اس واضح حکم سے دور بھاگتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اعراض وتکذیب محض اس وجہ سے ہے کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ ہمیں آخرت میں دوزخ کی آگ صرف چالیس دن کے لیے چھوئے گی ، شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین اوتوا (الخ) اب ابی حامت اور ابن منذر ؒ نے عکرمہ ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو توحید خدواندی کی دعوت دی تو ان میں سے نعیم بن عمرو اور حارث بن زید بولے، محمد ﷺ تم کون سے دین پر ہو ؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم ؑ کے دین اور انکی ملت پر، تو وہ بولے ابراہیم ؑ تو یہودی تھے، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، چلو توریت دیکھ لیں، وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے، اس چیز سے انہوں نے انکار کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کیا آپ ایسے لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کو آسمانی کتاب کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے، (لیکن اس کے باوجود وہ حق سے اعراض کرتے ہیں) (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

(24) اور ان یہودیوں کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ آخرت کے دنوں میں سے رات دن ہم دوزخ میں جائیں گے کہ ان میں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوگا اور یہ سزا کے وہ چالیس دن ہوں گے جن میں ہمارے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی اور ان کی اس تراشی ہوئی باتوں نے یہودیت پر قائم رہنے کے لیے ان کو دھوکا میں ڈال رکھا ہے یہ یا کہ اللہ کی طرف سے حکمت کے سبب عذاب کی تاخیر نے انہیں مبتلائے غفلت کر رکھا ہے۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پور اپور بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا

(25) اسے محمد ﷺ مرنے کے بعد اس دن جس کے آنے میں بالکل شک نہیں، ان لوگوں کا کیا حال ہوگا اور یہ کیا کریں گے اور اس دن یہ عالم ہوگا کہ ہر ایک نیک وبد کو اس کی نیکی اور بدی کا پورا پورا بدلا مل جائے گا درحقیقت نہ ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی اور ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا، بلکہ عدل کے جملہ تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

(26) اے محمد ﷺ آپ اللہ تعالیٰ سے اس طرح عرض کیجیے، اے اللہ ہمیں نیکی کے راستے پر چلا، اے تمام ملک کے مالک آپ ملک کا جتنا حصہ جس کو چاہیں دے دیتے ہیں یعنی رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کو اور جس سے چاہیں مثلا فارس وملک روم لے لیتے ہیں اور جسے چاہیں یعنی رسول اکرم ﷺ کو عزت دیتے ہیں اور عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں اور اہل فارس اور روم کو رسوا کرتے ہیں۔ عزت، بادشاہت اور مال غنیمت، نصرت و دولت یہ آپ کے قبضہ قدرت میں ہے اور آپ ہر شے پر قدرت رکھتے ہیں۔ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس وقت مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا تو اس نے کہا کہ فارس وروم کی بادشاہت ان کو کیسے حاصل ہوسکتی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں وہ کہتے تھے کہ کسری بادشاہ دیباج کے بستروں پر سوتا ہے، اگر آپ نبی ہیں تو پھر آپ کی بادشاہت کہاں گئی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”قل اللہم ملک الملک (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پروردگار دعا فرمائی کہ روم اور فارس کی بادشاہت آپ کی امت کو دے دی جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے

(27) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا نظارہ کراتے ہیں کہ وہ کبھی دن کو رات سے زیادہ بڑا اور کبھی رات کو دن سے بڑا کردیتے ہیں اور اس طرح اس رب علیم کا ایک کمال یہ ہے یہ وہ ذات نطفہ سے بچہ کو پیدا کردیتی ہے اور نطفہ کو انسان سے نکالتی ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ وہ ذات انڈے سے مرغی کو اور مرغی سے انڈے کو نکال دیتی ہے (یاد رہے کہ مرغی سے مراد محض مرغی نہیں بلکہ تمام انڈہ دینے والے جانور اس میں شامل ہیں) اور گیہوں کے دانے سے بالی کو اور بالی سے دانوں کو نکال دیتی ہے اور جس کو چاہتا ہے، بغیر محنت ومشقت کے (بطور وراثت وغیرہ) رزق دیتا ہے یا یہ کہ جس پر چاہتا ہے بغیر کسی تنگی اور سختی کے مال کی فراوانی کردیتا ہے ،
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنوں کو چاہئے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو تو مضائقہ نہیں اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے

(28) مسلمانوں کے لیے یہ چیز مناسب نہیں کہ وہ عبداللہ بن ابی یہودی اور اس کے ساتھیوں کو خالص ایمان والوں سے تجاوز کرکے دوست بنائیں، (کیونکہ حقیقی دوستی نظریات کی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے) اور جو کفار سے ایسی دوستی رکھے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور دوستی کے کسی درجے میں شمار نہیں ہوگا مگر یہ کہ کوئی مومن صرف زبانی دوستی کرکے ان کے شر سے نجات حاصل کرنا چاہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ناحق قتل کرنے اور احرام کاری اور مال حرام اور شراب پینے اور جھوٹی گواہی دینے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے ڈراتا ہے اور تمہیں بالآخر مرنے کے بعد اسی کے طرف لوٹ کر جانا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”لا یتخذ ال مومن ون“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے سعید ؒ یا عکرمہ ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حجاج بن عمرو اور ابن الحقیق اور قیس بن زید نے انصار کی ایک جماعت سے دوستی کی تاکہ ان کے دین میں فتنہ ڈالیں تو رفاعہ بن منذر اور عبداللہ بن جبیر اور سعد بن حثمہ ان حضرات نے انصار سے کہا، یہودیوں کی اس جماعت سے بچو اور ان سے دوستی کرنے میں احتیاط کرو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ تمہارے دین میں کوئی فتنہ پردازی کریں مگر ان انصاریوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کفار کو اپنا ہمراز اور دوست نہ بنائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(29) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر تم رسول اللہ ﷺ سے عداوت ودشمنی دل میں پوشیدہ رکھو یا آپ کی شان میں گستاخیاں کرکے زبان سے ظاہر کرو، وہ رب سب کچھ جانتا ہے اور سب پر بدلا دے گا اور صرف اتنا نہیں وہ تو تمام خیر و شر اور ایک ظاہر وچھپی ہوئی باتوں کو جانتے ہیں، وہ تمام آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے آگاہ اور آدمیوں کو جزا اور سزا دینے پر قادر ہیں، یہ آیت منافقین اور یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 3:30

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

(30) اور قیامت کا دن تو ایسا ہوگا جس دن ہر ایک انسان اپنے اچھے اور برے کاموں کو اپنے نامہ اعمال میں لکھا ہوا پائے گا اور یہ تمنا کرے گا کہ کیا اچھا ہوتا اس نفس اور اس برے عمل کے درمیان ایک بہت لمبی مسافت حائل ہوجائے اور اسی سبب اے مسلمانو ! تمہیں اللہ تعالیٰ گناہ کرنے سے ڈراتے ہیں کیوں کہ وہ مسلمانوں پر بہت ہی مہربان ہیں۔
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(31) محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے دین سے محبت رکھتے ہو تو میرے دین سے محبت رکھتے ہو تو میرے دین یعنی اسلام و پیغمبر اسلام کی اتباع کرو اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری محبت میں اضافہ فرمائیں گے، اور تمہاری یہودیت کے گناہوں کو بھی معاف فرمائیں گے۔ کیونکہ جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے بخشنے والے ہیں اور جو توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرما کر اسے مہلت معافی دیتے ہیں، یہ آیت کریمہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو عبداللہ ابن ابی بولا کہ محمد ﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ ہم ان سے اس طرح محبت کریں، جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے محبت کی اور بقیہ یہودی بولے ان کا منشایہ ہے کہ ہم ان کو رب حنان بنالیں جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو حنان بنایا۔
Ayahs 3:32–34

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(32۔ 33۔ 34) تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی کہ تم فرائض و واجبات میں اطاعت کرو اور اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ یہودیوں اور کافروں سے محبت نہیں فرماتے، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو یہودی بولے کہ ہم تو آدم ؑ کے دین پر ہیں اور مسلمان ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور اولاد ابراہیم موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اسلام کی وجہ سے تمام جہان والوں پر فضیلت عطا کی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران سے حضرت موسیٰ ؑ کے والد مراد نہیں۔ یہ ایک دوسرے کے دین پر ہیں اور بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ یہود کے اس دعوے کو خوب سننے والے اور ان کے انجام کو اور جو ان کے دین پر ہو، اس کے انجام وسزا کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔
Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

(35۔ 36) اور اے محمد ﷺ وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ جب حضرت مریم ؑ کی والدہ نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیا ہے، اور اے رب ! آپ دعاؤں کو سننے والے اور اس کی قبولیت اور جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اس کو بخوبی جاننے والے ہیں چناچہ جب انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے لڑکی جنی تو حضرت مریم ؑ کی والدہ حسرت سے عرض کرنے لگیں پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو انہوں نے جنا اللہ تعالیٰ اسے زیادہ جانتے تھے اور لڑکا خدمت وغیرہ میں کسی طرح اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا اور میں اس لڑکی کو اور اگر اس کی اولاد ہو تو شیطان مردود سے آپ کی پناہ اور حفاظت میں دیتی ہوں۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

(37) غرض کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا اور لڑکے کی جگہ مریم ؑ کو قبول فرما لیا اور عبادات کے سالوں، مہینوں، دنوں اور گھڑیوں میں عمدہ طور پر غذاؤں سے ان کی نشوونما فرمائی اور ان کو زکریا ؑ کی تربیت کے لیے سپرد فرمایا۔ اور اس عمدہ مکان میں جب مریم ؑ عبادت خداوندی میں مصروف تھیں تو حضرت زکریا تشریف لائے تو سردیوں کے میوے گرمیوں میں جیسا کہ گنا وغیرہ دیکھے اور گرمیوں کے میوے سردیوں میں جیسا کہ انگوروغیرہ ان کے پاس پاتے، وہ یہ دیکھ کر فرماتے کہ بغیر مشکل کے یہ چیزیں تمہارے پاس کہاں سے آتی ہیں وہ فرماتیں کہ اللہ کی جانب سے بواسطہ جبریل امین آئی ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں وقت بےوقت کے بغیر استحقاق اور اندازہ کے عطا فرماتے ہیں۔
Ayahs 3:38–39

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

(38۔ 39) اسی موقع پر حضرت زکریا ؑ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں خاص اپنے پاس سے کوئی نیک اولاد عطا فرمائے، بیشک آپ (اللہ ہی) دعا کے قبول فرمانے والے ہیں، سو ان (حضرت زکریاعلیہ السلام) سے پکار کر جبرائیل ؑ نے کہا اور جبکہ وہ بحالت نماز مسجد میں تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا جن کی شان یہ ہوگی کہ وہ کلمۃ اللہ (اللہ کی نشانی ہوں گے اور) یعنی عیسیٰ بن مریم ؑ کی جو کہ بغیر باپ کے پیدا کیے گئے ہیں تصدیق کرنے والے ہوں گے، دوسرے بردبار ہوں گے، تیسرے اپنے آپ کو دنیاوی لذات سے روکنے والے ہوں گے اور چوتھے اعلی درجہ کے نبی ہوں گے۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(40) تب جوابا حضرت زکریا ؑ نے بواسطہ جبرائیل ؑ جناب باری تعالیٰ میں عرض کیا کہ میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بھی بڑھاپے کی وجہ سے بچہ جننے کے قابل نہیں، تب اللہ کی طرف سے غائبانہ آواز آئی کہ اے زکریا ؑ جیسا تم سے کہا گیا ہے اسی طرح ہوگا۔