3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے۔

(1) ابن الانباری نے المصاحف میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” ھو الحی القیوم “ پڑھا (2) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے ” القیوم “ سے مراد ہے ہر چیز کو قائم کرنے والا۔ (3) ابو عبید سعید بن منصور اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” الحی القیام “۔ (4) ابو عبید سعید بن منصور محمد بن حمید ابن داؤد ابن الانباری اکٹھے مصاحف میں ابن المنذر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا کہ حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی تو سورة آل عمران کو شروع فرمایا اور یوں پڑھا لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (5) ابن ابی داؤد نے اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرات میں لفظ آیت ” الحی القیوم “ تھا۔ (6) ابن جریر ابن الانباری نے علقمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” الحی القیوم “ پڑھا۔ (7) ابن جریر ابن الانباری نے ابو معمر (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے علقمہ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا ” الحی القیوم “ اور حضرت عبد اللہ ؓ کے اصحاب ” الحی القیوم “ پڑھتے تھے۔ (8) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں عاصم بن کلیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ جمعہ میں جب خطبہ دیتے تھے تو سورة آل عمران کو پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ وفد نجران کا تذکرہ (9) ابن اسحاق ابن جریر اور ابن المنذر نے محمد بن جعفر بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کا وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس ساٹھ سواروں کے ساتھ آیا ان میں سے چودہ آدمی ان کے سرداروں میں سے تھے ان میں سے ابو حارثہ بن علقمہ، عاقب، عبد المسیح اور ایہم السید نے رسول اکرم ﷺ سے بات کی وہ ایہم نصرانیت میں اپنے بادشاہ کے دین پر تھا ان کا آپس میں باہم اختلاف تھا (بعض ان میں سے) کہتے تھے کہ (عیسیٰ علیہ السلام) وہی خدا ہے اور (بعض) کہتے تھے وہ خدا کا بیٹا ہے اور بعض کہتے تھے کہ وہ تین خداؤں میں سے ایک ہے اسی طرح نصرانیوں کا قول ہے اور وہ لوگ اپنے قول میں (اس بات سے) دلیل پکڑتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ (عیسیٰ علیہ السلام) وہی خدا ہے کیونکہ وہ مردوں کو زندہ کردیتے تھے بیماروں کو اچھا کردیتے تھے غیب کی خبریں دیتے تھے اور مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس کو پھونک دیتے تھے تو وہ اصلی پرندہ بن جاتا تھا حالانکہ یہ سارے کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں تاکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں کے لیے ایک معجزہ بنا دے اور بیٹا ہونے کا استدلال وہ اس سے کرتے کہ وہ کہتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی باپ نہیں تھا اور آپ نے گہوارہ (یعنی ماں کی گود) میں بات کی۔ آدم کے بیٹوں میں سے کسی نے پہلے ایسا نہیں کیا اور وہ لوگ جو تین میں کا تیسرا خدا ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے دلیل پکڑتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فعلنا (ہم نے کیا) امرنا (ہم نے حکم دیا) خلقنا (ہم نے پیدا کیا) اور قضینا (ہم نے فیصلہ کیا) اگر ایک خدا ہوتا تو فرماتا فعلت (میں نے کہا) اور امرت (میں نے حکم دیا) اور قضیت (میں نے فیصلہ کیا) اور خلقت (میں نے پیدا کیا) لیکن (وہ تین خدا ہیں) اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) اور (ان کی والدہ) مریم (علیہا السلام) ( اس لیے جمع کے الفاظ استعمال فرمائے) ان تمام کے عقیدہ کے مطابق قرآن نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ان کے قول کے بارے میں ذکر فرمایا جب ان کے دو بڑے علماء نے بات کی تو ان کو رسول ﷺ نے فرمایا تم اسلام لے آؤ انہوں نے کہا ہم تو اس سے پہلے اسلام لا چکے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا تم کو اسلام قبول کرنے سے یہ چیزیں مانع ہے جبکہ تم نے یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بیٹا ہے اور تم صلیب کی عبادت کرتے ہو اور خنزیر کھاتے ہو ان دونوں نے کہا پھر کون اس کا (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کا) باپ ہے ؟ آپ خاموش رہے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدہ اور ان کے دین کے اختلاف کے بارے میں سورة آل عمران کی اسی سے زائد آیات کو نازل فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) سورة کو شروع فرمایا ان کے عقائد سے اپنی پاکی اپنے خالق ہونے اور لا شریک ہونے کا ذکر فرمایا اور انہوں نے اپنی طرف سے جو کفر گھڑ رکھا تھا اور جو اللہ تعالیٰ کے شریک بنا رکھے تھے ان پر رد فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو وہ اعتقادات رکھتے تھے۔ ان سے ان کے اختلاف استدلال کیا تاکہ اس کے ذریعہ ان پر ان کی گمراہی واضح کر دے اور فرمایا لفظ آیت ” الم۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ یعنی اس کے علاوہ اس کے ساتھ اس کے کام میں کوئی شریک نہیں وہ ذات زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی اور عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے عقیدہ کے مطابق مرچکے ہیں ان کے عقیدے کے مطابق قیوم اسے کہتے ہیں جس کی بادشاہت قائم رہے زوال نہ آئے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو زوال آچکا (ان کے قول میں یعنی وہ جا چکے) ۔ (10) ابن اسحاق نے کہا کہ مجھے محمد بن سہل بن ابو امامہ ؓ نے بیان کیا جب نجران والے رسول ﷺ کے پاس آئے تاکہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کریں تو ان کے بارے میں سورة آل عمران کی ابتدائی اسی آیات نازل ہوئیں۔ (11) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ نصاری رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کیا اور کہنے لگے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھنے لگے ان کو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ہمارا رب زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر موت آچکی ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ ہمارا رب زندہ ہے اس کو موت نہیں آتی اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر موت آچکی ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے نہیں کہ ہمارا رب ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے اس کی نگرانی کرنے والا ہے اور اس کی حفاظت کرنے والا ہے اور اس کو رزق دینے والا ہے انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں پھر فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) اس میں سے کسی چیز کی طاقت رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز زمین میں چھپی ہوئی نہیں اور نہ آسمان میں۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے علاوہ بھی کوئی جانتے ہیں جو ان کو علم دیا گیا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) انہوں نے کہا نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ ہمارے رب نے رحم میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت بنائی۔ جس طرح چاہی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ اس سے نجاست خارج ہوتی ہے انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی ماں نے اپنے پیٹ میں اٹھایا جیسے کہ دوسری عورت اٹھاتی ہے۔ پھر اس کو جنا جیسا کہ دوسری عورت اپنے بچے کو جنتی ہے۔ پھر اس کو غذا دی جیسا کہ دوسری عورت اپنے بچے کو غذا دیتی ہے۔ پھر وہ کھانا کھاتے تھے اور پیتے تھے اور وہ قضائے حاجت بھی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں پھر آپ نے فرمایا پھر یہ کس طرح سے ہوگا جیسا کہ تم گمان کرتے ہو انہوں نے (ان سب باتوں کو) پہچان لیا پھر انکار کردیا معارضہ کرتے ہوئے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت ” الم۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ کو نازل فرمایا۔ (12) سعید بن منصور اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ” القیام “ پڑھا۔ (13) ابن جریر نے علقمہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ لفظ آیت ” الحی القیوم “ پڑھتے تھے۔ (14) الفریابی۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نزل علیک الکتب بالحق مصدقا لما بین یدیہ “ سے مراد ہے کہ جو کچھ اس سے پہلے کتاب یا رسول میں سے تھے۔ (15) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” مصدقا لما بین یدیہ “ سے مراد ہے (ان) معجزات میں سے جو اتارے گئے نوح، ابراہیم، ہود اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) پر۔ (16) عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” نزل علیک الکتب “ میں کتاب سے مراد قرآن ہے لفظ آیت ” مصدقا لما بین یدیہ “ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں لفظ آیت ” وانزل التورۃ والانجیل۔ من قبل ھدی للناس “ میں (تورات اور انجیل) دونوں کتابیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے۔ اور عصمت کا وعدہ ہے جنہوں نے ان کتابوں کو لیا اور ان کی تصدیق کی اور عمل کیا جو ان میں (احکام) ہیں ” وانزل الفرقان “ میں فرقان سے مراد قرآن ہے جو فرق کرتا ہے درمیان حق اور باطل کے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حلال کیا گیا اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حلال کیا گیا اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بیان کیا گیا اور اس میں اس کی حدود کی وضاحت کی گئی اور اس کے فرائض کو اس میں فرض کیا گیا اور اس میں اس کے بیان کو بیان کیا گیا اس کی اطاعت کا حکم دیا اور اس کی نافرمانی سے روکا گیا۔ (17) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانزل الفرقان “ یعنی الگ الگ کرنے والا ہے درمیان حق اور باطل کے جن گروہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا تھا (پھر فرمایا) لفظ آیت ” ان الذین کفروا بایت اللہ لہم عذاب شدید واللہ عزیز ذوانتقام “ یعنی اللہ تعالیٰ انتقام لینے والے ہیں کہ جو لوگ آیات کا علم رکھنے کے باوجود اور ان میں موجود احکام کی معرفت کے بعد انکار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لفظ آیت ” ان اللہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء “ یعنی جو کچھ وہ ارادہ کرتے ہیں جو کچھ وہ پروگرام بناتے ہیں اور جو کچھ وہ ناحق باتیں کرتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہ انہوں نے اس کو رب بنا لیا اور خدا بنا لیا اور ان کے پاس اس کے برعکس علم ہے سب اللہ تعالیٰ جانتے ہیں دھوکہ کرتے ہوئے اللہ سے اور اس کا انکار کرتے ہوئے پھر فرمایا لفظ آیت ” ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء “ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں میں سے تھے جن کی (اللہ تعالیٰ نے) رحم میں صورت بنائی (ان باتوں کو) نہ وہ دفع کرسکتے ہیں اور نہ ان کا انکار کرسکتے تھے۔ جیسا کہ نبی آدم میں سے اس کے علاوہ دوسری صورتیں بنائیں۔ وہ کس طرح خدا ہوسکتا ہے جبکہ ان کا یہ مرتبہ ہے۔ (18) ابن المنذر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” یصورکم فی الارحام کیف یشاء سے مراد ہے کہ مذکر اور مونث (جسے چاہے بنا دیں) ۔ رحم مادہ میں صورت گری (19) ابن جریر نے سدی کے طریق سے ابو مالک سے ابو صالح سے حضرت ابن عباس ؓ سے قرہ سے ابن مسعود سے اور دوسرے صحابہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء “ سے مراد ہے کہ جب نطفہ رحم میں واقع ہوتا ہے تو وہ جسم میں چالیس دن اسی طرح رہتا ہے چالیس دن کے بعد جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر وہ چالیس دن (کے بعد) گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے جب وہ پیدا ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو بھیجتے ہیں جو اس کی صورت بناتا ہے وہ فرشتہ اپنی انگلیوں کے درمیان مٹی کو لے کر آتا ہے اور اس میں گوشت کی بوٹی کو ملا دیتا ہے پھر اس کے ساتھ گوندھتا ہے پھر اس کی صورت بناتا ہے جس طرح حکم دیا جاتا ہے پھر (اللہ تعالیٰ سے) پوچھتا ہے مرد ہو یا عورت بدبخت ہو یا نیک بخت اور اس کا رزق کتنا ہوگا اور اس کی عمر کیا ہوگی اس کے اثر اور اس کے مصائب (یعنی تکلیفیں اور پریشانیاں) کیا ہوں گی تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں حکم فرما دیتا ہے تو (اسی طرح) فرشتہ لکھ دیتا ہے جب وہ مرجاتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے جہاں سے مٹی لی گئی۔ (20) عبد بن حمید ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء “ سے مراد ہے مرد ہو یا عورت سرخ سفید سیاہ پوری پیدائش والا یا نا مکمل پیدائش والا۔ (21) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے لفظ آیت ” ھو العزیز الحکیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عزیز یعنی غالب ہے اپنے انتقام لینے میں جب وہ انتقام لے (اور) الحکیم یعنی وہ حکمت والا ہے اپنے حکم میں یعنی اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
Ayahs 3:3–7

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ایسی کتاب جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے تھیں، اور اس سے پہلے نازل فرمایا تو ریت کو اور انجیل کو۔

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

جو لوگوں کے لیے ہدایت ہیں اور نازل فرمایا فرقان کو، بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غلبہ والا ہے بدلہ لینے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپی ہوئی کوئی چیز بیچ آسمان کے اور نہ زمین کے۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ ذات پاک صورتیں بناتی ہے تمہاری بیچ رحموں کے جیسے وہ چاہتا ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی غالب حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

بیشک اللہ ایسا ہے کہ اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اللہ وہ ہے جو تمہاری تصوریں بناتا ہے رحموں میں جس طرح چاہے، کوئی معبود نہیں اس کے سوا، وہ غلبہ والا ہے، حکمت والا ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اس میں آیات محکمات ہیں جو ام الکتاب ہیں اور دوسری آیات متشابہات ہیں سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ ان کے پیچھے پڑتے ہیں جو قرآن میں متشابہات ہیں فتنہ تلاش کرنے کے لیے اور اس کا مطلب تلاش کرنے کے لئے، اور نہیں جانتا اس کے مطلب کو مگر اللہ، اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل والے۔

(1) ابن جریر ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” محکمت “ سے مراد ہے ناسخ آیات حلت اور حرمت کے احکام والی آیات اور حدود اور فرائض والی آیات جن پر ایمان لایا جاتا ہے اور ” المتشبھت “ سے مراد ہے اس کی منسوخ مؤخر آیات مثالیں اور اس کی اقسام جن پر ایمان تو لایا جاتا ہے اور عمل نہیں کیا جاتا۔ (2) ابن جریر نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” المحکمات “ سے مراد وہ منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کرنے والی آیات ہیں (جو سابقہ حکم کو منسوخ کردیتی ہے) جن کی تابعداری کی جاتی ہے اور اسی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے لفظ آیت ” والمتشبھات “ جن کی تابعداری نہیں کی جاتی سے مراد وہ منسوخ شدہ آیتیں ہیں۔ (3) سعید بن منصور ابن ابی حاتم حاکم نے اس کو صحیح کہا اور ابن مردویہ نے عبداللہ بن قیس (رح) سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لفظ آیت ” منہ ایت محکمت “ سے مراد سورة انعام کی آخری تین آیات محکمات ہیں (پہلی آیت) ” قل تعالوا “ اور اس کے بعد دو آیتیں۔ (4) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے وجہ آخر سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” ایت محکمت “ کے بارے میں روایات کیا ہے کہ ” قل تعالوا “ سے آخری تین آیات تک اور ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ سے اس کے بعد والی تین آیات تک (آیات محکمات ہیں) ۔ (5) ابن جریر نے سدی کے طریق سے ابو مالک سے ابو صالح سے اور حضرت ابن عباس ؓ مرہ ابن مسعود اور صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ” محکمت “ سے وہ ناسخات مراد ہیں کہ جن پر عمل کیا جاتا ہے اور ” متشبھت “ سے منسوخات مراد ہیں۔ (6) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” محکمت “ سے حلال اور حرام مراد ہیں۔ (7) عبد بن حمید اور فریابی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” محکمت “ سے وہ آیات مراد ہیں جن میں حلال اور حرام کے بارے میں ہے۔ ان کے علاوہ اس میں سے متشابہ آیات ہیں جو بعض بعض کی کی تصدیق کرتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” وما یضل بہ الا الفسقین “ اور جیسے ان کا قول ہے لفظ آیت ” کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یؤمنون “ (انعام آیت 125) اور جیسے ان کا قول ہے لفظ آیت ” والذین اھتدوا زادہم ھدی واتہم تقوہم “ (محمد آیت 17) (8) ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” محکمت “ سے حکم کرنے والی اور تنبیہ کرنے والی آیات مراد ہیں۔ (9) عبد بن حمید ابن الضریس ابن جریر ابن ابی حاتم اسحاق بن سوید (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر (رح) اور ابو فاختہ (رح) سے اس آیت ” ھن ام الکتب “ کا جواب دیتے تھے ابو فاختہ (رح) نے کہا وہ سورتوں کے آغاز ہیں ان سے قرآن شروع ہوتا ہے لفظ آیت ” الم۔ ذلک الکتب “ اس کا سورة بقرہ شروع ہوتی ہے لفظ آیت ” الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ “ اس سے سورة آل عمران شروع ہوتی ہے یحییٰ (رح) سے فرمایا یہ وہ آیات ہیں جن میں فرائض ہیں امر اور نہی ہے حلال ہے حدود ہیں اور دین کا ستون ہیں (یعنی دین کی بنیادی چیزیں ہیں) ۔ (10) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” ھن ام الکتب “ سے اصل کتاب مراد ہے اس لیے کہ یہ چیزیں لکھی ہوئی ہیں ساری کتابوں میں۔ آیات محکم و متشابہ (11) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” محکمت “ سے مراد ہے رب کی حجت اور بندوں حفاظت جھگڑے اور باطل کو دفع کرنا نہ اس سے انہیں پھیرا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے تحریف کی جاتی ہے کہ جس معنی کے لیے ان کو وضع کیا گیا (اور) وہ آخر متشابہات یعنی دوسری متشابہات سچائی میں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں ان کو (ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف) پھیرا جاتا ہے ان کی تعریف کی جاتی ہے اور ان میں تاویل کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اپنے بندوں کو اس طرح آزمائش میں ڈالا ہے جیسا کہ ان کو حلال اور حرام کے بارے میں آزمائش میں ڈالا ہے نہیں پھیرا جاتا ان کو باطل کی طرف اور نہ ان کو حق سے دور کیا جاسکتا ہے۔ (12) ابن جریر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت حسن ؓ سے ” ام الکتاب “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے حلال و حرام مراد ہے پھر میں نے ان سے پوچھا لفظ آیت ” الحمد للہ رب العلمین “ (کیا ہے) تو انہوں نے فرمایا یہ ام القرآن ہے۔ (13) ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ جو فرمایا لفظ آیت ” ہن ام الکتب “ کیونکہ دین والا آدمی ان سے راضی ہوتا ہے (اور) لفظ آیت ” واخر متشابھات “ اور اور متشابہات سے مراد۔ الم۔ المص۔ المر اور السر ہیں۔ (14) ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” متشابہات “ قرآن میں وہ آیات ہیں کہ جن کے ذریعہ لوگ شبہ میں پڑجاتے ہیں اس لیے گمراہ ہونے والے ان سے گمراہ ہوگئے ہر فرقہ قرآن میں سے آیات پڑھتا ہے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت ان کے حق میں ہے اس میں سے (فرقہ) حرور یہ متشابہ آیت، میں سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون “ کو پڑھتے ہیں پھر وہ اس کے ساتھ (یہ آیت ” ثم الذین کفروا بربہم یعدلون “ ) بھی پڑھتے ہیں جب انہوں نے امام کو دیکھا کہ وہ بغیر حق کے فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا تحقیق اس شخص نے کفر کیا جس نے کفر کیا تو اس نے اپنے آپ کو رب کے برابر قرار دیا جس نے اپنے آپ کو اپنے رب کے برابر قرار دیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شرک کیا تو یہ فرقہ مشرک ہیں۔ (15) بخاری نے تاریخ میں ابن جریر نے ابن اسحاق کے طریق سے کلبی سے ابو صالح سے ابن عباس سے اور وہ جابر بن عبد اللہ بن رباب (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ (ایک مرتبہ) ابو یاسر بن اخطب جو یہودی تھا رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گذرا اور آپ سورة بقرہ کی ابتدائی آیات تلاوت فرما رہے تھے لفظ آیت ” الم۔ ذلک الکتب لا ریب فیہ “ پھر اپنے بھائی حی بن اخطب کے پاس آیا یہودیوں کے ساتھ اور کہنے لگا کیا تم جانتے ہو اللہ کی قسم میں نے محمد ﷺ کو ان آیتوں کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے جو ان پر اتاری گئیں یعنی لفظ آیت ” الم۔ ذلک الکتب لا ریب فیہ “ انہوں نے کہا کیا تو نے واقعی اس کو سنا ہے ؟ ابو یاسر نے کہا ہاں ! تو آپ چلے یہاں تک کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کیا آپ نے یہ آیت بھی تلاوت کی ہیں آیات میں سے جو آپ پر اتاری گئیں (یعنی) لفظ آیت ” الم ذلک الکتب “ آپ نے فرمایا کیوں نہیں پھر انہوں نے کہا ان حروف کے ساتھ انبیاء بھیجے گئے تو ان میں ان انبیاء کی بادشاہت کی مدت کو بیان کیا گیا (ان حروف سے معلوم ہوا) کہ آپ کی امت کی مدت یہ ہے الف کے لیے ایک ہے لام کے لئے تیس ہیں اور میم کے لیے چالیس ہیں اور یہ اکہتر سال ہوئے۔ پھر کہا (اے محمد ﷺ اس کے علاوہ کیا اور بھی تیرے پاس ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں (جیسے) ” المص “ تو کیا یہ بھاری ہے اور زیادہ لمبا ہے الف کے لیے ایک ہے لام کے لیے تیس ہیں میم کے لیے چالیس ہیں اور صاد کے لیے نوے ہیں اور یہ ایک سو اکتیس ہوئے کیا اس کے علاوہ بھی تیرے پاس ہے آپ نے فرمایا ہاں ” الر “ ہے تو کیا یہ پہلے سے بھاری ہے اور لمبا ہے الف کے لیے ایک ہے لام کے لیے تیس ہیں اور راء کے لئے دو سو ہیں یہ سب دو سو اکتیس سال ہوئے (پھر پوچھا) کیا اس کے علاوہ بھی تیرے پاس ہے ؟ فرمایا ہاں ” المر “ ہے تو کہا یہ زیادہ بھاری اور لمبا ہے یہ سب دو سواکہتر سال بنتے ہیں پھر کہا آپ کا معاملہ ہم پر شک میں پڑگیا یہاں تک کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ کو تھوڑا وقت دیا گیا یا زیادہ۔ پھر کہا کھڑے ہوجاؤ ان سے پھر ابو یاسر نے اپنے بھائی سے اور جو اس کے ساتھ تھے ان سے کہا تم نہیں پاتے ہو (یعنی تم نہیں جانتے ہو) کہ شاید یہ سب کچھ جمع کردیا گیا ہو محمد ﷺ کے لیے یعنی اکہتر اور ایک سو اکتیس اور دو سو اکہتر اور یہ سارے سات سو چار سال ہوئے پھر کہنے لگے کہ ان کا معاملہ ہم پر شبہ میں پڑگیا ہے علماء گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی لفظ آیت ” ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ھن ام الکتب واخر متشبھت “۔ (16) یونس بن بکیر نے مغازی میں ابن اسحاق سے محمد بن ابی محمد عکرمہ سے سعید بن جبیر سے ابن عباس سے اور جابر بن رباب ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابو یاسر بن اخطب نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گذرا اور آپ لفظ آیت ” فاتحۃ الکتب۔ الم ذلک الکتب “ پڑھ رہے تھے پھر تمام واقعہ ذکر کیا۔ (17) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاما الذین فی قلوبہم زیغ “ سے مراد شک والے ہیں تو وہ محکم کو متشابہ پر محمول کرتے ہیں اور متشابہ کو محکم پر اور وہ حق و باطل کو گڈ مڈ کردیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر اس کی حکمت کو گڈ مڈ کردیا اور فرمایا لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “ یعنی اس کی تاویل کو قیامت کے دن صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (18) ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” زیغ “ سے مراد شک ہے۔ (19) ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فاما الذین فی قلوبہم زیغ “ سے مراد منافق ہیں۔ (20) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فیتبعون ما تشابہ منہ “ یعنی وہ باب ہے کہ جس میں سے وہ گمراہ ہوئے اور اسی ہلاک ہوگئے ” وابتغاء تاویلہ “ اور دوسرے قوم میں ابتغاء الفتنۃ سے شبہات مراد ہیں۔ (21) عبد الرزاق سعید بن منصور عبد بن حمید بخاری مسلم دارمی ابو داؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم ابن حبان اور بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت ” ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ھن ام الکتب واخر متشبھت فاما الذین فی قلوبہم زیغ “ سے ” اولوا الالباب “ تک تلاوت کی سو جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو اس کی تعبیر میں جھگڑ رہے ہیں سو یہ وہ لوگ ہیں جو اس آیت سے مراد ہے سو بچو تم ان سے اور بخاری کے الفاظ یوں ہیں جب تو دیکھے ان لوگوں کو جو اتباع کر رہے متشابہ آیات کا یہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا سو بچو تم ان سے اور ابن جریر کے الفاظ یوں ہیں جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو پیروی کر رہے ہیں متشابہ آیات کی انہی کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا سو بچو تم ان سے اور ابن جریر کے الفاظ ہیں جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو پیروی کر رہے ہیں متشابہ آیات کی اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اس بارے میں سو یہ وہ لوگ ہیں پس ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (22) عبد الرزاق احمد عبد بن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم طبرانی ابن مردویہ بیہقی نے اپنی سنن میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ “ سے خوارج مراد ہیں (اور) لفظ آیت ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “ سے بھی خوارج مراد ہیں۔ آیات قرآنی کے بارے میں تاویلات فاسدہ (23) الطبرانی نے ابو مالک اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مجھے اپنی امت پر تین باتوں کا ڈر ہے کہ ان کے لیے مال زیادہ ہوجائے گا (پھر) وہ آپس میں حسد کرنے لگیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اگر ان کے لئے کتاب کھولی جائے گی تو مؤمن اس کو لے لے گا اور اس کی تاویل کو طلب کرے گا (اور فرمایا) لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولوا الالباب “ اور اگر ان کا علم زیادہ کریں گے تو وہ اس کو ضائع کردیں گے اور اس کی پرواہ نہیں کریں گے۔ (24) حاکم نے اس کو صحیح کہا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان چیزوں میں سے کہ جن کا مجھ کو اپنی امت پر خوف ہے یہ کہ ان میں مال کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ اس کے بارے میں آپس میں لڑیں گے اور اس پر ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور ان چیزوں میں سے کہ جن کا مجھے اپنی امت پر خوف ہے کہ ان کے لیے قرآن عام کردیا جائے گا حتی کہ اس کو مؤمن کافر اور منافق پڑھے گا تو مؤمن اس کے حلال کئے ہوئے کو حلال کرے گا۔ (25) ابو یعلی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی اور اسے یوں بکھیرے گی جس طرح ردی کھجوریں بکھیری جاتی ہیں اور وہ اس کا ایسا مطلب بیان کریں گے جو اس کا مطلب نہ ہوگا قرآن کریم کے بارے میں شک وشبہ نہ پڑے (26) ابن سعد ابن الضریس نے اپنے فضائل میں ابن مردویہ نے عمرو بن شعب (رح) سے روایت کیا ہے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک قوم کے پاس آئے جو قرآن کے معانی میں بات چیت کر رہے تھے آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا اس وجہ سے تم سے پہلی امتیں گمراہ ہوئیں اپنے انبیاء کے ساتھ اختلاف کرنے کی وجہ سے ٹکراتے تھے کتاب کو اس کے بعض حصے کو بعض کے ساتھ پھر فرمایا کہ بلاشبہ قرآن اس لیے نازل نہیں ہوا تاکہ بعض اس کا بعض کی تکذیب کرے لیکن اس لئے نازل ہوا کہ اور جو کچھ تم نے اس میں پہچان لیا ہے اس پر عمل کرو اور جو تم پر شک پڑجائے اس پر ایمان لے آؤ۔ (27) احمد نے وجہ آخر سے عمروبن شعب (رح) سے روایت کیا ہے کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم کے بارے میں سنا کہ وہ اپنی رائے سے قرآن پاک کے معانی کر رہے ہیں آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوگئے انہوں نے کتاب کے بعض حصے کو بعض کے ساتھ ٹکرایا حالانکہ اللہ کی کتاب اس لیے نازل کی گئی کہ اس کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے اور نہ جھٹلاؤ اس کے بعض حصے کو بعض کے ساتھ سو تم اس میں جو جانتے ہو اس کو تم کہو اور جس سے تم جاہل ہو تو اس کے جاننے والے کی طرف جاؤ۔ (28) ابن جریر حاکم نے اس کو صحیح کہا ابو نصر السجزی الابانۃ میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پہلی کتاب نازل ہوئی ایک دروازہ سے اور ایک حرپر اور قرآن نازل ہوا سات دروازوں سے سات حروف پر جھڑکنے والا اور حکم کرنے والا اور اس میں حلال اور حرام کے احکام ہیں اور محکم اور متشابہ اور مثالوں والی آیات ہیں سو حلال جانو تم اس کے حلال کو اور حرام جانو اس کے حرام کو اور اس پر عمل کرو جس کا تم حکم کئے گئے ہو اور رک جاؤ ان سے جس سے تم کو روکا گیا ہے اور عبرت حاصل کردہ اس کی مثالوں سے اور محکم آیات پر عمل کرو اور متشابہ آیات پر ایمان لے آؤ اور کہو تم لفظ آیت ” امنا بہ کل من عند ربنا “۔ (29) الطبرانی ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے موقوفا بھی روایت کیا ہے عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے فرمایا کہ (سابقہ) کتابیں آسمان کے ایک دروازہ سے نازل ہوتی تھیں (لیکن) قرآن مجید سات حرفوں پر سات دروازوں سے نازل ہوا (جس میں) حلال اور حرام (کے احکام) ہیں (بعض آیات) محکم ہیں اور بعض متشابہ ہیں اور مثالیں ہیں امر اور نہی ہیں سو اس کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو اور اس کی محکم آیات پر عمل کرو اور اس کے متشابہات پر رک جاؤ اور اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس لیے کہ ہر حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (30) ابن النجار نے تاریخ بغداد میں (انتہائی ضعیف سند کے ساتھ) حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنی محکم کتاب میں تمہارے لیے بیان فرما دیا جو چیزیں تمہارے لیے حلال اور جو چیز تم پر حرام ہیں پس اس کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حرام کو حرام جانو اور اس کے متشابہات پر ایمان لاؤ اور اس کے محکمات پر عمل کرو اور اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو۔ (31) ابن الضریس ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ قرآن کو پانچ قسم (کے احکام) پر نازل کیا گیا، حرام، حلال، محکم، متشابہ اور امثال پس تم حلال جانو حلال کو حرام کو حرام جانو ایمان لاؤ متشابہ پر عمل کرو محکم پر اور عبرت حاصل کرو مثالوں سے۔ (32) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ قرآن مجید نازل کیا گیا تمہارے نبی پر سات حروف پر سات دروازوں سے اور تم سے پہلے کتاب صرف ایک حرف پر اور ایک ہی دروازہ سے نازل ہوتی تھی۔ (33) ابن جریر نصر المقدسی نے الحجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید نازل کیا گیا سات حروف پر قرآن مجید میں شک کرنا کفر ہے جو کچھ تم اس میں جان لو اس پر عمل کرو اور جو کچھ تم اس میں نہ جانو تو اس کو کسی جاننے والے کی طرف لوٹا دو ۔ آیات قرآنی کی پانچ قسمیں (34) البیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید کے مطالب کو کھول کر بیان کرو اور اس کے غرائب کو تلاش کرو اور اس کے غرائب اس کے فرائض اور اس کی حدود ہیں کیونکہ قرآن پانچ قسموں پر نازل ہوا حلال و حرام محکم، متشابہ اور مثالیں سو تم حلال پر عمل کرو۔ اور حرام سے بچو۔ محکم کی تابعداری کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ اور مثالوں سے عبرت حاصل کرو۔ (35) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ قرآن مجید ذومعنی کئی فنون والا اور اس کے ظاہری علوم اور باطنی علوم ہیں اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے نہ کوئی اس کی انتہاء کو پہنچ سکتا ہے جو اس میں نرمی سے داخل ہوا وہ نجات پا گیا اور جو شخص اس میں سختی سے داخل ہوا وہ گمراہ ہوا (اس میں) خبریں مثالیں حرام اور حلال ناسخ اور منسوخ محکم اور متشابہ کے اور ظاہر اور باطن کے بارے میں سو اس کا ظاہر اس کی تلاوت ہے اور اس کا باطن تاویل ہے علماء کی خدمت میں بیٹھو اور بیوقوفوں سے کنارہ کش ہوجاؤ اور بچو تم عالم کی لغزش سے بچو۔ (36) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ نصاریٰ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کلمۃ اللہ اور اس کی روح ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں پھر انہوں نے کہا ہم کو یہی کافی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ “۔ (37) عبد الرزاق عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر ابن الانبار نے کتاب الاضداد میں اور حاکم نے اس کو صحیح کہا طاؤس (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اس کو (یوں) پڑھتے تھے لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ “۔ (38) ابو داؤد نے مصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ کی قرات میں اس طرح ہے لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ “۔ (39) ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ پر ان آیات کو پڑھا تو انہوں نے فرمایا علم میں ان کا رسوخ یہ ہے کہ تو ایمان لائے اس کی محکم اور اس کے متشابہات (آیات) پر لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “ یعنی وہ لوگ اس کی تاویل کو نہیں جانتے۔ (40) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ابو الشعثا اور ابو نہیک رحمہما اللہ سے دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ تم اس آیت کو ملا کر پڑھتے ہو حالانکہ یہ مقطوع ہے لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا “ ان کا علم ان کے قول پر ختم ہوگیا جو انہوں نے کہا۔ (41) ابن جریر نے عروہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والرسخون فی العلم “ سے مراد ہے کہ وہ اس کی تاویل کو نہیں جانتے لیکن وہ جانتے ہیں لفظ آیت ” امنا بہ کل من عند ربنا “ یعنی ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ یہ سب ان کے رب کی طرف سے ہے۔ (42) عبد بن حمید ابن جریر عمر بن عبد العزیز (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ علم میں رسوخ رکھنے والوں کے علم کی انتہاء ہوگئی قرآن کی تاویل میں یہاں تک کہ انہوں نے کہا لفظ آیت ” امنا بہ کل من عند ربنا “ ہم اس پر ایمان لائے یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ (43) ابن ابی شیبہ نے مصنف میں حضرت ابی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کتاب اللہ میں سے جو ظاہر ہو اس کے ساتھ عمل کرو اور جو چیز تجھ پر مشتبہ ہوجائے اس پر ایمان لے آؤ اور اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔ (44) ابن ابی شیبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ قرآن مجید کے مینار ہیں جیسے راستے کا مینار ہوتا ہے جس چیز کو تم پہچان لو اس کو مضبوطی سے پکڑ لو (یعنی اس پر خوب عمل کرو) اور جو چیز تم پر مشتبہ ہوجائے تو اس کو چھوڑ دو ۔ (45) ابن ابی شیبہ نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کیا ہے کہ قرآن مجید کے مینار ہیں جیسے راستے کا مینار ہوتا ہے اور کسی پر چھپا نہیں رہتا سو جو کچھ تم اس میں سے سمجھ لو پھر کسی سے سوال نہ کرو اور جس میں تم شک کرو تو اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو ۔ (46) ابن جریر نے اشھب کے طریق سے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” والرسخون فی العلم یقولون امنا بہ “ یعنی وہ لوگ اس کی تاویل کو نہیں جانتے۔ (47) ابن جریر ابن ابی حاتم طبرانی نے انس ابو امامہ واثلۃ بن الاسقع اور ابو درداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لفظ آیت ” والرسخون فی العلم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ شخص جو اپنے ہاتھوں سے نیک کام کرے اپنی زبان سے سچ بولے اور اسی کا دل (ایمان میں) پکا ہو اور وہ شخص جس کا پیٹ اور اس کی شرم گاہ پاک دامن ہوں تو وہ شخص لفظ آیت ” والرسخون فی العلم “ میں سے ہوگا۔ والرسخون فی العلم کی تعریف (48) ابن عساکر نے عبد اللہ بن یزید الاودی کے طریق سے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لفظ آیت ” والرسخون فی العلم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو شخص سچی بات کرنے والا قسم کو پورا کرنے والا اس کا پیٹ اور اس کی شرم گاہ پاک دامن ہوں تو یہ ” والرسخون فی العلم “ میں سے ہے۔ (49) ابن المنذر نے کلبی کے طریق سے اور ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے قرآن کی تفسیر چار قسم پر ہے وہ تفسیر جس کو علماء جانتے ہیں وہ تفسیر جس کا لوگ جہالت کی وجہ سے عذر نہیں کرسکتے حلال یا حرام میں سے وہ تفسیر جو عرب لوگ اپنی لغت کے ذریعہ جانتے ہیں اور وہ تفسیر کہ اس کی تاویل کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو اس کے جاننے کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے۔ (50) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قرآن مجید سات حروف پر نازل کیا گیا حلال اور حرام کوئی عذر نہیں کرسکتا اس کی جہالت کی وجہ سے اور وہ تفسیر جس کو عرب کے لوگوں نے اس کی تفسیر کی اور وہ تفسیر جو علماء نے اس کی تفسیر (بیان) کی اور اس کے متشابہات کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو شخص اس کے جاننے کا دعویٰ کرے اللہ کے سوا تو وہ جھوٹا ہے۔ (51) ابن جریر ابن المنذر نے ابن الانباری نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اس کی تاویل کو نہیں جانتے ہیں۔ (52) ابن جریر نے ربیع رحمۃ اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ علم میں رسوخ رکھنے والے اس کی تاویل کو نہیں جانتے ہیں اور وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ (53) ابن جریر ابن ابی حاتم عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یقولون امنا بہ “ سے مراد ہے کہ ہم محکم کے ساتھ ایمان لاتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ہم متشابہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن اس کی اطاعت نہیں کرتے حالانکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ (54) ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کل من عند ربنا “ یعنی سب آیتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو ان میں سے منسوخ کی گئیں اور جو منسوخ نہیں کی گئیں۔ (55) دارمی نے اپنی سند میں نصر المقدسی نے الحجہ میں سلیمان بن یسار ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی جس کو صبیغ کہا جاتا تھا مدینہ منورہ آیا اور قرآن مجید کے متشابہات کے بارے میں پوچھنا شروع کیا حضرت عمر ؓ نے اس کو بلا بھیجا اور اس کے لیے کھجور کی چھڑیاں تیار کر کے رکھ لیں (جب وہ آیا) تو اس سے پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں عبد اللہ صبیغ ہوں پھر فرمایا میں اللہ کا بندہ عمر ہوں پھر حضرت عمر ؓ نے کھجور کی چھڑیوں میں سے ایک چھڑی اٹھائی اور اس کو مارا یہاں تک کہ اس کا سر خون آلود ہوگیا اس نے کہا اے امیر المؤمنین آپ کا (مارنا) کافی ہوگیا وہ بات چلی گئی جو میں اپنے سر میں پاتا تھا (یعنی میرے سر میں فتور تھا وہ چلا گیا ) ۔ صبیغ عراقی پر تعزیر (56) دارمی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ صبیغ عراقی نے مسلمانوں کے لشکروں میں قرآن میں سے کئی چیزوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا یہاں تک کہ مصر میں آگیا عمرو بن عاص ؓ نے اس کو حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس بھیج دیا جب وہ ان کے پاس آیا تو حضرت عمر ؓ نے کھجور کی سبز ٹہنیاں منگوائیں اور اس کے ساتھ اس کو مارا یہاں تک کہ اس کی پیٹھ کو زخمی کردیا پھر اس کو چھوڑ دیا جب وہ صحیح ہوگیا پھر اس کو مارا پھر چھوڑ دیا یہاں تک کہ صحیح ہوگیا پھر اس کو بلوایا تاکہ پھر ماریں تو صبیغ ؓ نے فرمایا اگر تو میرے قتل کا ارادہ کرتا ہے تو مجھے اچھی طرح سے قتل کر اور اگر تو میرے علاج کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ کی قسم میں اب ٹھیک ہوگیا ہوں تو اس کو اس کے وطن کی طرف اجازت دے دی گئی اور ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ مسلمانوں میں سے کوئی آدمی اس کی مجلس میں نہ بیٹھے (57) ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے صبیغ کو مارا تھا قرآن کے ایک حرف کے بارے میں سوال کرنے پر کہ اس کی پیٹھ سے خون نکل آیا۔ (58) ابن الانباری نے مصاحف میں نصر المقدسی نے الحجہ میں ابن عساکر نے سائب بن یزید ؓ سے روایت کیا ہے ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گذرا ہوں جو قرآن مجید کے مشکل مقامات کی تفسیر کے بارے میں سوال کرتا تھا (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے اللہ ! مجھے قدرت دے دے اس سے (یعنی وہ آدمی کسی طرح میرے قابو میں آجائے) ایک دن ایک آدمی حضرت عمر ؓ کے پاس آیا اور اس نے (وہی قرآن مجید کے مشکل مقامات کے بارے میں) سوال کیا حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور آپ نے اپنی دونوں آستینیں چڑھا لیں اور اس کو کوڑے مارنے شروع کئے پھر (دوسرے لوگوں سے فرمایا اس کو بنیان پہنا دو اور اس کو کجاوہ پر سوار کر کے اس کے قبیلہ تک پہنچا دو پھر چاہئے کہ ایک آدمی خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہو اور (یوں) کہے کہ صبیغ نے علم کی طلب کی اور اس میں غلطی کی وہ برابر اپنی قوم میں ذلیل رہا بعد اس کے کہ پہلے ان کا سردار تھا۔ (59) نصر المقدسی نے الحجہ میں ابن عساکر نے ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر نے اہل بصرہ کی طرف لکھا کہ وہ صبیغ کے پاس نہ بیٹھا کریں تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ آتا اور ہم سوا فراد ہوتے تو ہم جدا ہوجاتے۔ (60) ابن عساکر نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ وہ صبیغ کے پاس نہ بیٹھا کریں اور اس کو مجروم کر دے عطا اور رزق سے (یعنی اس کو عطیات اور خرچہ نہ دیا کرے) ۔ (61) نصر نے الحجہ میں ابن عساکر نے زرعہ (رح) سے روایت کیا ہے میں نے صبیغ بن عسل کو بصرہ میں دیکھا گویا والوں نے ان کو آواز دی امیر المومنین عمر ؓ کے حق کو (یاد کرو) وہ لوگ کھڑے ہوجاتے اور اس کو وہیں چھوڑ دیتے۔ (62) نصر نے الحجہ میں ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ کو لکھا اما بعد ! صبیغ نے تکلف کیا مخفی کاموں میں ضائع کیا (اس کام کو) جس کا وہ والی بنایا گیا جب یہ خط تیرے پاس پہنچے تو اس سے خریدوفروخت نہ کرنا اگر وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت نہ کرنا اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازہ میں حاضر نہ ہونا۔ (63) الھرومی نے ذم الکلام میں امام شافعی (رح) سے روایت کیا کہ علم کلام والوں کے بارے میں میرا وہی نظریہ ہے جو حضرت عمر ؓ کا تھا صبیغ کے بارے میں کہ ان کو مارا جائے چھڑی کے ساتھ ان کو اونٹ پر سوار کرو اور ان کو قبیلوں میں گھماؤ اور ان پر آواز لگاؤ کہ یہ سزا ہے جو کتاب اور سنت کو چھوڑ دے اور علم الکلام کی طرف متوجہ ہوجائے۔ (64) دارمی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا عنقریب تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جو تم سے متشابہات قرآن کے بارے میں جھگڑا کریں گے تم ان کا مقابلہ علماء احادیث کے ذریعہ کرنا کیونکہ اصحاب سنن (یعنی) علماء احادیث اور عمل کرنے والے اللہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ (65) نصرالمقدسی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے تو وہ قرآن مجید میں جھگڑا کر رہے تھے ایک اس آیت میں استدلال کر رہا تھا دوسرا دوسری آیت سے استدلال کر رہا تھا۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا گویا آپ ﷺ کے چہرہ انور میں انار کا دانہ نچوڑ دیا آپ نے فرمایا کیا تم اس لیے پیدا کئے گئے یا فرمایا کیا تم اسی کا حکم دئیے گئے کہ تم اللہ کی کتاب کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے ٹکراتے رہو دیکھو تم کو کس چیز کا حکم دیا گیا سو اسی کی اتباع کرو اور جس سے تم روکے گئے اس سے رک جاؤ۔ (66) ابو داؤد حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (67) نصر المقدسی نے الحجہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے آپ کے حجروں کے باہر ایک قوم قرآن میں جھگڑا کر رہی تھی آپ ان کے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک (غصہ کی وجہ سے) اتنا سرخ تھا گویا رخساروں میں خون بہہ رہا ہے اور آپ نے فرمایا اے قوم ! قرآن کے بارے میں جھگڑا نہ کرو بلاشبہ تم سے پہلے لوگ آسمانی کتابوں میں جھگڑا کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے قرآن مجید اس لئے نازل نہیں ہوا تاکہ بعض اس کا بعض کو جھٹلائے لیکن اس لیے نازل ہوا تاکہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے اس میں سے محکمات آیات پر عمل کرو اور متشابہات پر ایمان لے آؤ۔ (68) نصر نے الحجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس تھے اچانک ایک آدمی ان کے پاس آیا اور قرآن کے بارے میں پوچھنے لگا کہ وہ مخلوق ہے یا غیر مخلوق ہے حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور اس آدمی کو کپڑوں سے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے اس کو حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے پاس لے گئے اور ان سے فرمایا اے ابو الحسن (یہ علی ؓ کی کنیت ہے) کیا تو نے سنا کہ یہ آدمی کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا کہتا ہے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ آدمی میرے پاس آیا اور مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھا آیا وہ مخلوق ہے یا غیر مخلوق ہے ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ ایسا کلمہ ہے کہ عنقریب اس پر بڑا فتنہ ہوگا اگر میں خلیفہ ہوتا تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔ (69) عبد بن حمید نے حضرت قتادہ (رح) سے اس آیت ” فاما الذین فی قلوبہم زیغ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قوم نے (اس کی) تاویل طلب کی اور تاویل (کرنے) میں انہوں نے خطا کی اور فتنہ کو پہنچ گئے اور تابعداری کی انہوں نے ان میں سے متشابہ آیات کی اور اس میں ہلاک ہوگئے۔ (70) ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ علم میں مضبوط ہوتے ہیں وہ اس کی تاویل کو جانتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو کج نہ کر دیجئے اس کے بعد کہ آپ نے ہم کو ہدایت دی، اور ہمیں اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائیے، بیشک آپ بہت بڑے عطا فرمانے والے ہیں۔

(1) ابن جریر ابن ابی حاتم نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے لفظ آیت یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک (اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) پھر یہ دعا پڑھی لفظ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “۔ دین پر ثابت قدمی کی دعاء (2) ابن ابی شیبہ احمد ترمذی بن جریر طبرانی ابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اپنی دعا میں یوں فرماتے تھے لفظ آیت ” اللہم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ (اے اللہ دلوں کے پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا دل پلٹ دئیے جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں (جب بھی) کسی انسان کو پیدا فرمایا تو اس کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے اس کو (دین پر) قائم رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اس کو ٹیڑھا کردیتا ہے اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں لفظ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا “ (اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ فرما جبکہ آپ نے ہم کو ہدایت عطا فرمائی اور ہم یہ بھی سوال کرتے ہیں ” وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “ کہ ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائیے کیونکہ آپ عطا فرمانے والے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی دعا کیوں نہیں سکھاتے کہ میں اس کے ذریعے اپنے لیے دعا کیا کروں آپ نے فرمایا ہاں یوں کہہ : لفظ آیت اللہم رب النبی محمد اغفرلی ذنبی واذھب غیط قلبی واجرنی من مضلات الفتن ما احییتنی ترجمہ : اے اللہ ! میرے نبی ﷺ کے رب ! میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور میرے دل سے غصہ کی عادت نکال دیجئے اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے اپنی پناہ میں رکھ۔ (3) ابن ابی شیبہ احمد بن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کثرت سے پڑھتے تھے لفظ آیت ” اللہم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اکثر آپ یہ دعا (کیوں) کرتے ہیں آپ نے فرمایا کوئی دل ایسا نہیں جو رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان نہ وہ اگر وہ چاہتے ہیں تو اس کو (دین پر) قائم رکھتے ہیں اور جب چاہیں تو اس کو ٹیڑھا کردیتے ہیں کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “ ابن ابی شیبہ کے الفاظ یوں ہیں جب چاہتے ہیں تو اس کے دل کو ہدایت کی طرف پھیر دیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس کے دل کو گمراہی کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ (4) ابن ابی شیبہ فی المصنف احمد بخاری فی الادب المفرد ترمذی نے اس کو حسن کہا اور ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اکثر یوں فرماتے تھے لفظ آیت ” یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ پر ایمان لے آئے اور اس چیز پر بھی جس کو آپ لے کر آئے کیا آپ ہم پر خوف کرتے ہیں (کہ ہم دین سے پھرجائیں گے) آپ نے فرمایا ہاں ! (کیونکہ) دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں جس کو وہ پھیرتے رہتے ہیں۔ (5) ابن ابی الدنیا نے اخلاص میں حاکم نے اس کو صحیح کہا بیہقی نے شعب الایمان میں ابو عبیداللہ بن جراح ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کا دل چڑیا کے دل کی طرح ہے وہ دن میں سات مرتبہ پلٹتا ہے۔ (6) ابن ابی الدنیا نے اخلاص میں ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا ہے کہ دل کو دل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے بلا شبہ دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جو کھلی زمین میں پڑا ہو۔ (7) احمد ابن ماجہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلا شبہ دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جو کھلی زمین پر پڑا ہو جس کو ہوا الٹ پلٹ کرتی رہتی ہے۔ (8) مالک شافعی ابن ابی شیبہ ابو داؤد بیہقی نے اپنی سنن میں ابو عبد اللہ صنابحی ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں مدینہ منور آئے اور ابوبکر ؓ کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی تو انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں ام القران (یعنی سورة فاتحہ) اور قصار مفصل (یعنی سورة بروج سے لے کر آخر تک میں سے) پڑھی پھر تیسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور اس میں (صرف) سورة فاتحہ پڑھی اور یہ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “ بھی پڑھی (9) ابن جریر طبرانی نے السنۃ میں اور حاکم نے اس کو صحیح کہا اور جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک “ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم پر آپ کو خوف ہے ؟ حالانکہ ہم آپ پر ایمان لے آئے آپ نے فرمایا نبی آدم کے قلوب رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں اور اسی طرح فرمایا اور طبرانی میں یہ لفظ یوں کہ ابن آدم کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے اگر وہ اس کو سیدھا رکھنا چاہیں تو وہ سیدھا رہتا ہے اور اگر وہ اس کو ٹیڑھا کرنا چاہیں تو وہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ ابن آدم کا دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (10) احمد نسائی ابن ماجہ ابن جریر حاکم نے اس کو صحیح کہا بیہقی نے الاسماء والصفات میں نو اس بن سمعان ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے (جس کے ذریعے بعض) قوموں کو بلند فرماتے ہیں اور (بعض کو) گرا دیتے ہیں قیامت کے دن تک اور ان آدم کا دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہے تو اس کو سیدھا رکھے اور جب چاہے اس کو ٹیڑھا کر دے اور آپ یوں فرمایا کرتے تھے لفظ آیت ” یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک “۔ (11) حاکم سے اور اس کو صحیح کہا مقداد ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ابن آدم کے دل کے لیے یہ فرماتے ہوئے سنا وہ ہانڈی سے زیادہ الٹ پلٹ کرنے والا ہے جب وہ جوش مار رہی ہو۔ (12) ابن جریر نے محمد بن جعفر، بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ربنا لا تزغ قلوبنا “ کا مطلب ہے کہ ہمارے دلوں کو مائل نہ کر اگرچہ ہم مائل ہوجائیں اپنے جسموں کے ساتھ (یعنی حق سے بھٹک جائیں) ۔ (13) ابن سعد نے اپنے طبقات میں ابی عطاف سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرمایا کرتے تھے اے میرے رب نہ میں زنا کروں اے میرے رب نہ میں چوری کروں اے میرے رب نہ میں کفر کروں ان سے کہا گیا کیا تم (ان باتوں کا) خوف کرتے ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا میں ایمان لایا دلوں کے پھیرنے والے پر تین مرتبہ ایسا فرمایا۔ (14) الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن رواحہ ؓ جب مجھے ملتے تو فرماتے اے عویمر تو بیٹھ جا ہم کو چاہیے کہ ہم کو ایک گھڑی ایمان لائیں تو بیٹھ جاتے اور ہم اللہ کا ذکر کرتے جتنا اللہ چاہتے پھر فرمایا اے عویمر یہ ایمان کی مجلسیں ہیں بلا شبہ تیرے ایمان اور تیری مثال جیسے مثال ہے تیری قمیص کی ہمارے درمیان تو اس کو اتار دیتا ہے اچانک (پھر) اس کو اتار دیتا ہے اے عویمر ! دل ہانڈی سے زیادہ جلدی الٹ پلٹ کرنے والا ہے جب وہ (یعنی ہانڈی) جوش مار رہی ہو۔ (15) الحکیم الترمذی نے عتبہ بن عبد اللہ بن خالد بن معد ان (رح) کے طریق سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان قمیص کی طرح ہے کبھی تو اس کو پہن لیتا ہے اور کبھی تو اس کو اتار دیتا ہے۔ (16) الحکیم الترمذی نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدمی پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اس کی جلد میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی نفاق نہیں ہوتا ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اس کی جلد میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوتا۔ (17) ابو داؤد نسائی اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو جاگتے تھے تو یہ (دعا) پڑھتے تھے : لفظ آیت ” لا الہ الا انت سبحانک اللہم انی استغفرک لذنبی واسئلک رحمتک اللہم زدنی علما۔ ولا تزغ قلبی بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “ ترجمہ : تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تیری ذات پاک ہے اے اللہ ! میں آپ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور آپ سے آپ کی رحمت کا سوال کرتا ہوں اے اللہ ! مجھے علم میں زیادہ کر دے اور میرے دل کو ٹیڑھا نہ کر دے بعد اس کے جب تو مجھ کو ہدایت عطا فرمائی اور مجھ کو اپنی طرف سے رحمت عطا فرما دے بلا شبہ آپ ہی عطا فرمانے والے ہیں۔ (18) مسلم، نسائی، ابن جریر اور بیہقی نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سب بنی آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں اس کو پھیر دیتے ہیں جس طرح چاہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اے دلوں کے پھیرنے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ (19) طبرانی نے السنۃ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ بنی آدم کے دل رحمن عزوجل کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! بیشک آپ لوگون کو اس دن میں جمع فرمانے والے ہیں جس میں کوئی شک نہیں۔ بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔

(1) ابن النجار نے اپنی تاریخ میں جعفر بن محمد خلدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا گیا کہ آپ نے فرمایا جو شخص یہ آیت کسی ایسی چیز پر پڑھے گا جو اس سے گم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کو اس پر لوٹا دیں گے لفظ آیت ” ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ ان اللہ لا یخلف المیعاد “ اے اللہ اے لوگوں کے جمع کرنے والے اس دن کے لیے جس میں کوئی شک نہیں میرے اور میرے مال کو جمع فرما دے بلا شبہ آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔