3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 3:1–9

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ (وہی) ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ زندہ ہے قائم رہنے والا

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے آپ ﷺ پر سچی کتاب نازل فرمائی (جو) تصدیق کرتی ہے پہلی (آسمانی) کتابوں کی اور اسی نے نازل فرمائی تورات اور انجیل

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے لوگوں کی راہنمائی کے لئے اور حق و باطل کو الگ کردینے والا (قرآن) نازل فرمایا یقینا جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب ہیں بدلہ لینے والے ہیں

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

یقینا اللہ پر زمین اور آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہتا ہے تمہاری شکل و صورت بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ غالب حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی جس کی کچھ آیات محکم ہیں وہی اصل کتاب ہیں اور کچھ دوسری متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے پس وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں (کہ) اس سے فتنہ پیدا کریں اور ان کی اصلی مراد کا پتہ لگائیں اور ان کی اصلی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو (لوگ) علم میں مضبوط ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے (یہ) سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور عقلمندوں کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(جو کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہمیں راہ دکھائی اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کیجئے اور ہمیں اپنے ہاں سے رحمت عطا فرمائیے بیشک آپ ہی عطا فرماتے والے ہیں

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک آپ اس دن لوگوں کو جمع کرنے والے ہیں جس میں کوئی شک نہیں۔ بیشک اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتے

سورة آل عمران آیات 1- 9 اسرارومعارف الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔ سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت ہیں۔ یہاں توحید باری بطور دعویٰ کے ارشاد ہوئی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی حق نہیں رکھتا کہ اس کی عبادت کی جائے الٓم حروف مقطعات میں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیا راز ہیں یا کسی کو اس قدر قوی نسبت باطنی حضور اکرم ﷺ سے ہو کہ علم لدنی سے حصہ پائے اور بات سمجھ سکے۔ مگر یہ بھی صرف اس کے اپنے لئے ہوگا۔ دوسرے یہی ایمان رکھیں گے کہ اللہ ورسولہ ، اعلم۔ اس کے بعد الوہیت باری و توحید باری کا دعویٰ ہے جس کی دلیل عقلی ارشاد فرمائی کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور سب کائنات کو زندہ رکھنے والا۔ کوئی بھی شے اس کی قدرت کے علاوہ اپنا وجود تک قائم نہیں رکھ سکتی اور عبادت نام انتہائی تذلل کا ہے ، غایت عاجزی کا ہے اور یہ اسی کے لئے سزاوار ہے۔ جو انتہائی عظمت کا مالک اور ہر اعتبار سے کامل ہو۔ احتیاج سے پاک ہو۔ جو ہستی خود اپنا وجود قائم نہ رکھ سکے اور اس کی بقاء کے لئے دوسرے کی محتاج ہو۔ خواہ بت ہو یا فرشتہ ، بہت بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، ولی ہو یا پیغمبر ، ہرگز عبادت کے لائق نہیں ہسکتا۔ عبادت صرف اس ذات کی ہوگی جو ہمیشہ سے ہے ، ہمیشہ کے لئے ہے اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس کے بعد دلیل نقلی ارشاد فرمائی کہ نقلاً بھی یہ بات صرف قرآن کریم میں نہیں یا صرف آپ ﷺ نے ہی ارشاد نہیں فرمائی بلکہ اس سے پہلے نازل ہونے والی تمام آسمانی کتابوں میں ہے اور تمام انبیاء ورسل (علیہ السلام) نے اس کی طرف دعوت دی ہے۔ اب اس بات کو اگر اس طرح بھی دیکھا جائے کہ دنیا میں آنے والے سب سے پہلے انسان اور اللہ کے نبی نے جو دعوت دی وہ یہی تھی لا الہ الا اللہ۔ پھر صدیوں بعد نوح (علیہ السلام) نے اسی جملے کو دہرایا اور مدت مدیدہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں یا سیدنا اسماعیل علیہ السلام۔ یہی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اسی دعوت کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) نے بلایا اور یہی دعوت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی اور آخر میں حضرت محمد ﷺ بھی اسی بات کی طرف دعوت دے رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں بلکہ کم وبیش سوا لاکھ آدمیوں کا ایک طویل مدت میں مختلف زبانوں اور مختلف زمانوں میں کھڑے ہو کر اسی حقیقت کو بیان کرنا خود اس کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے خصوصاً اس وقت اس میں اور بھی بہت قوت آجاتی ہے جب ان حضرات کے کردار کو دیکھا جائے کہ سب کے سب انسانی اخلاق کے صرف نمونہ ہی نہ تھے بلکہ انسانوں کو اخلاق سکھانے والے تھے۔ سب صالح ، صادق ، پاکباز اور امانت دار تھے۔ ان تمام حضرات کی زندگیاں ہر برائی سے ہر طرح پاک تھیں اور ان میں سے قدر بعدزمانی تھا کہ کسی دنیوی سبب سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچ سکنا ممکن نہ تھا۔ لامحالہ یہ وحی الٰہی تھی اور یہ سب اللہ کے رسول تھے اور پھر بعثت محمد علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام نے اس حقیقت کو چار دانگ عالم میں منور کردیا۔ اب جو شخص بھی اس قدر دلائل عقلیہ اور تقلیہ کے ہوتے ہوئے اللہ کی توحید یا کسی وصف کا انکار کرے گا یا اس کے سوا کسی کی عبادت کرے۔ وہی کافر ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ ان دلائل کو جھٹلاکر کافر ایک بہت شدید عذاب کو دعوت دے رہا ہے کیونکہ اللہ ہر شے پر غالب ہے اور وہ بدلہ لینے والا ہے۔ نیز اس کے اوصاف کمال میں یہ بات بھی ہے کہ ارض وسما میں کوئی چیز اس سے چھپ نہیں سکتی اور نہ اس کی گرفت سے باہر رہ سکتی ہے ۔ وہ تو ایسا قادر ہے جو شکم مادر میں جیسی چاہتا ہے ویسی صورت بنادیتا ہے بچہ بنائے یا بچی ، گورا بنائے یا کالا ، خوش شکل یا قبیح صورت ، جس کے پیٹ میں بن رہا ہے وہ آگاہ نہیں۔ لیکن اللہ اس سے پوری طرح آگاہ ہے خود بنارہا ہے اس کی قدرت سے بن رہا ہے۔ سو یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس سے چھپ سکے۔ یا اس کے دائرہ اختیار سے باہر چلا جائے۔ غرضیکہ کافر کسی طرح نہیں بچ سکتا اور ایسی کامل ہستی جو تمہاری خالق بھی ہے ، رزاق بھی ہے اور تمہیں اسی کے سہارے یہاں وہاں رہنا بھی ہے۔ وہی اکیلا عبادات کا استحقاق رکھتا ہے۔ پھر سن لو ! اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہر شے پہ غالب ہے اور حکیم ودانا بھی ہے۔ ھوالذی انزل علیک الکتاب…………اولوالالباب۔ وہی ذات ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب یعنی قرآن اتارا جس کی کچھ آیات محکم ہیں ، مضبوط ہیں ، یعنی اشتباہ مراد سے محفوظ ہیں کہ زبان جاننے والے شخص کے لئے نہ تو ظاہر الفاظ شبہ آفرین ہوتے ہیں اور نہ مفہوم کلام جیسے قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم یا اس طرح کی اور آیات۔ یعنی غور کرنے سے مفہوم اور مقتضا سمجھ میں آجاتا ہے یہاں صاحب تفسیر مظہری نے بطور مثال یہ آیت لکھی ہے کہ ارشاد ہے۔ پائوں دھونے کی حد : وارجلکم الی الکعبین۔ کہ ٹخنوں تک اپنے پائوں دھوئو کہ دھونے کی آخری حد مذکور ہے اس لئے اس کا عطف وجوھکم اور ایدیکم پر ہوگا ورنہ اگر بروسکم پر پڑھا گیا تو گویا مسح کرو ٹخنوں تک۔ تو یہ از خود غلط ہوجائے گا۔ علماء شیعہ نے کہا کہ کعب سے مراد پائوں کا ابھار ہے۔ سو دونوں پائوں کے ابھار تک مسح کیا جائے گا۔ لیکن کعب کے یہ معنی خلاف ظاہر ہیں۔ بالا جماع کعب کا معنی ٹخنہ ہے اور ایک پائوں میں دو ٹخنے ہوتے ہیں۔ سو کبعین دھونے کی حد ہوگی نہ مسح کی۔ غرض محکم آیات وہ ہیں جن کا معنی معروف اور دلیل واضح ہو ، اور یہی آیات ساری تعلیمات کی اصل اصول ہوں گی اور کھچ دوسری وہ ہیں جو متشابہات ہیں کہ جب تک رسول اللہ ﷺ کی طرف سے محکم عبارت میں ان کا مفہوم بیان نہ ہو ، کوئی زبان دان بھی غوروخوض سے ان کی مراد کو نہیں پاسکتا۔ جن آیات کا مفہوم حضور ﷺ کی طرف سے بیان ہوجائے ان کو اصطلاح میں مجمل کہا گیا ہے جیسے صلوٰۃ ، زکوٰۃ ، حج یا ربوٰ وغیرہ۔ اور اگر حضور ﷺ کی طرف سے تعلیم نہ ہو تو متشابہ کہا جاتا ہے اور یہ ان ہی امور میں ہوتا ہے جن کا تعلق عمل سے نہ ہو ، جیسے حروف مقطعات یا الرحمن علی العرش استویٰ ۔ تو ان پر ایمان لانا ضروری ہے کہ یہ حق ہے ۔ کیفیات میں پڑنے کی ضرورت ہرگز نہیں۔ اور ایسے متشابہات کا علم اہل عرفان کو الہام یا تعلیم الٰہی سے ہوجاتا ہے ، جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے تمام اسماء کا علم عطا فرمایا۔ مگر یاد رہے کہ مشکوٰۃ نبوت سے خوشہ چینی بجز شرح صدر کے ممکن نہیں اور یہ کبھی کبھی ہوتی ہے اور تب ہوتی ہے جب زبان ولغت عاجز آجائیں۔ اس لئے عوام کا علم اس کو پانے سے عاجز ہے ان میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ محکمات کی طرف لوٹا کر دیکھی جائیں گی اور جو معنی اس کے خلاف ہوں گے ان کی قطعی نفی کی جائے گی اور کوئی ایسی تاویل قابل قبول نہ ہوگی جو آیات محکمات کے خلاف ہوگی مثلاً عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد ہے۔ ان ھوالا عید انعمنا علیہ ۔ یا دوسری جگہ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب۔ اب اگر کوئی قرآن پاک کے ان الفاظ سے کہ ارشاد ہے کلمۃ اللہ یا دوسری جگہ روح ھنہ یہ ثابت کرنا چاہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) الوہیت میں شریک ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں تو درست نہ ہوگا۔ ان آیات کا نزول ہی اس وقت ہوا جب نجران کے عیسائیوں کا وفد خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے عقیدہ تثلیث کو باطل ثابت فرمایا تو کج بحثی کرکے کہنے لگے آپ ﷺ انہیں کلمۃ اللہ نہیں کہتے۔ فرمایا ، بیشک ! تو کہنے لگے بس ! الوہیت ثابت ہے۔ ارشاد ہوا جن کے دلوں میں کجی ہے اور فطرت سلیمہ سے محروم ہیں وہ متشابہات کے پیچھے پڑجاتے ہیں ، اور اپنی خواہشات نفسانی کے مطابق معنی گھڑ لیتے ہیں۔ حروف واعداد : یہاں مفسرین نے ایک اور واقعہ بھی نقل فرمایا ہے کہ یہود نے ابجد کے حساب سے اس امت کی بقاء کی مدت معلوم کرنا چاہی اور حی ابن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ پر الٓمٓ نازل ہوئی ہے ۔ فرمایا ہاں ! تو کہنے لگے ” ہم اس کو آپ ﷺ کی امت کی مدت زندگی خیال کرتے ہیں اور یہ کل 71 بنتے ہیں۔ پھر پوچھا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ ارشاد ہوا ہاں ! المص تو حی بولا ” یہ تو 161 سال ہوگئے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ “ فرمایا الرٰ تو کہنے لگا۔ یہ تو 231 ہوگئے کیا کچھ اور بھی ہے ؟ فرمایا المرٰ تو کہنے لگا یہ تو 371 ہوگئے پھر کہنے لگا یہ بہت گڑ بڑ ہوگئی ہے ہم ایسی باتوں کو نہیں مانتے۔ آج کل بھی شیعہ کو اکثر ابجد کا سہارا لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور بعض اہل بدعت ان کی اقتداء کرتے ہیں۔ جو سراسر جہالت اور یہود کی نقل ہے اور ایسا وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں کجی ہے اور لوگوں کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، اور اپنی پسند کی تاویلوں سے لوگوں کی طرح طرح کے فتنوں سے دوچار کردیتے ہیں۔ یہ سب سے پہلے یہودیوں نے شروع کیا کہ شوکت اسلام کو زک پہنچائیں۔ چناچہ مروریہ ، معتزلہ اور رافضی وغیرہ وجود میں آئے۔ اور کبھی جہلا اس مرض میں مبتلا ہو کر ہلاکت میں پڑتے ہیں جیسے متاخرین اہل بدعت کا وطیرہ ہے حالانکہ ان کی اصلی مراد سے اللہ ہی آگا ہ ہے یعنی جب تک کسی کو اللہ اطلاع نہ دے کوئی نہیں جان سکتا۔ یہاں حصر اضافی ہے ورنہ یہ معنی نہیں ہوسکتا کہ رسول اللہ بھی آگاہ نہیں کہ ارشاد ہے ثم ان علینا بیانہ۔ اس اعتبار سے قرآن کا کوئی حصہ بھی رسول پاک ﷺ کے لئے بغیر بیان کے نہ رہنا چاہیے۔ مقصد یہ کہ بغیر اللہ کے بتائے کوئی بھی محض لغت دانی یا زبان دانی سے نہیں جان سکتا۔ لہٰذا یہ پتہ چل رہا ہے کہ نہ صرف حضور نبی کریم ﷺ بلکہ آپ کے کامل امتی بھی فیضان نبوت سے ضرور اپنا حصہ پاتے ہیں اور اخص الخواص علم لدنی کے ذریعہ سے اس سے واقف ہوتے ہیں جس کا حصول بےکیف ذاتی یا صفاتی معیت کے سبب ہوتا ہے ۔ تحصیل اور کسب کو یہاں دخل نہیں یا پھر راسخون فی العلم۔ جو کہتے ہیں کہ پورا قرآن اللہ کا بھیجا ہوا ہے اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ مفسرین کے نزدیک اس سے اہل السنۃ والجماعت ہیں جو قرآن کی وہی تعبیر وتشریح صحیح مانتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سلف صالحین اور اجماع امت سے منقول ہے اور محکمات کو ساری تعلیمات کا محور جان کر متشابہات میں اپنی کوتاہ نظری کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں بلکہ نصیحت حاصل ہی وہ کرتے ہیں جو سالم عقل اور فطرت سلیم رکھتے ہیں اور نہ جاننے کے باوجودک بھی جاننے کے مدعی نہ بنتے ہوں کہ یہ جہل مرکب ہے۔ ربنا لاتزغ قلوبنا…………لا یخلف المعیاد۔ اور ہدایت کو اللہ کی عطا جان کر ، اللہ ہی سے سلامی کے طلب گار رہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر ! یعنی حق کی طرف سے نہ پھیر دے۔ اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت فرمائی ، کتاب عطا کی اور محکم و متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق ارزاں فرمائی۔ غرض ہدایت کا مدار دل کی سلامتی پر ہے اور انہی اعمال کی قیمت بھی ہے خلوص دل سے کئے جائیں۔ انسان کو اصلاح قلب کی طرف متوجہ ہونا دین کی سلامتی کے لئے اشد ضروری ہے جسے آج بھلایا جارہا ہے ، نہ کوئی صاحب دل نظر آتا ہے نہ کوئی اس دولت کا طالب ۔ یوں نظر آتا ہے جیسے یہ بازار اجڑ گیا۔ اس کے طالب جاچکے اب یہ دنیا بھیڑیوں اور درندوں کا مسکن ہے جو انسانی کھالوں میں نظر آتے ہیں۔ لیکن یاد رہے منور القلوب لوگوں سے جہان خالی نہیں ہوتا۔ جب ایسا ہوگا تو پھر یہ جہان ہی نہ ہوگا کہ ارشاد ہے قیامت تب قائم ہوگی حتیٰ لا یقال اللہ اللہ کہ کوئی اللہ ! اللہ ! کہنے والا نہ ہوگا۔ یعنی کوئی ایسانہ ہوگا جس کا دل ذاکر ہو۔ اگر دل ساتھ نہ دے تو زبانی کہنے کا اعتبار نہیں اور نہ یہ اللہ کے عذاب کو روکتا ہے۔ ہر حال میں ایسے لوگوں کی تلاش ضروری ہے اور ان کی صحبت زندگی بخش۔ دعا کرتے ہیں اے اللہ ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر ۔ اور یہ رحمت محض مال ومنال نہیں بلکہ وہ مجلس ہے جہاں رحمت باری بٹتی ہے وہ استقامت مراد ہے جو دین پر نصیب ہو اور اہل اللہ کی مجالس ہی رحمت باری کا مہبط ہوا کرتی ہیں کہ ارشاد ہے ، اے اللہ ! تو ہی عطا کرنے والا ہے اور تو ضرور ہر ایک کو میدان حشر میں جمع فرمائے گا جس کے وقوع یا جزا وسزا میں کسی ادنیٰ شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں ، اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا۔ بھلائی کا وعدہ پورا نہ کرنا تو شان الوہیت سے تو بعید ہے معتزلہ کے نزدیک عہد عذاب کی خلاف ورزی بھی جائز نہیں ، مگر سوائے کفر اور شرک کے جن پر اللہ نے فرمایا کہ نہ بخشوں گا ، کیسے بھی ہوں ، عفو و درگزر سے متجاوز نہیں۔ اور جس طرح عذاب عدم توبہ سے مشروط ہے اسی طرح عد عفو و درگزر سے بھی مشروط ہے اگر اللہ رحم کرکے بخش دے تو یہ وعدہ خلافی ہرگز نہ ہوگی۔
Ayahs 3:10–20

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کو نہ ان کے مال اللہ سے ذرہ بھر بچا سکیں گے اور نہ ان کی اولادیں۔ اور یہی لوگ آگ کا ایندھن ہیں

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

(ان کی عادت) فرعون کے لوگوں اور ان سے پہلے لوگوں کی عادت جیسی ہے انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر گرفت فرمائی اور اللہ سخت عذاب کرنے والے ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کافروں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم مغلوب ہوگے (مسلمانوں کے ہاتھوں) اور (آخرت میں) جہنم کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

یقینا تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں جو (یوم بدر) ایک دوسرے کے مقابل ہوئی تھیں (بہت بڑی) نشانی ہے ایک جماعت اللہ کی راہ میں قتال کرتی تھی اور دوسری کافر۔ کھلی آنکھوں ان (مسلمانوں) کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہی تھی اور اللہ جس کو چاہتے ہیں اپنی مدد سے قوت دیتے ہیں یقینا اس میں اہل بصارت کے لئے بڑی عبرت ہے

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کے لئے خواہشات کی محبت ، جو عورتوں اور بیٹوں اور مال ڈھیر سونے اور چاندی کے اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی سے ہے ، میں بہت زینت دی گئی ہے (مگر) یہ (سب) دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

کہئے کیا میں تم کو ان (چیزوں) سے بہتر (چیز) کی خبر دوں جو پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ باغات ہیں جن کے تابع نہریں چلتی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیبیاں اور اللہ کی رضا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہے ہیں

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! بیشک ہم ایمان لائے سو ہم کو ہمارے گناہوں سے معافی عطا کیجئے اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھیئے

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

صبر کرنے والے اور سچے اور فرمانبرداری کرنے والے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والے اور سحر کے اوقات میں گناہوں کی معافی مانگنے والے

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ گواہی دیتے ہیں کہ یقینا اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور فرشتے اور اہل علم جو انصاف پر قائم ہیں (گواہی دیتے ہیں کہ) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ غالب ہیں حکمت والے

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

یقینا اللہ کے نزدیک دین (حق) صرف اسلام ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی انہوں نے اپنے پاس حقیقی علم آنے کے بعد آپس میں سرکشی کرتے ہوئے اختلاف کیا اور جو اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرے تو یقینا اللہ جلد حساب لینے والے ہیں

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر اگر وہ آپ سے بحث کریں تو فرما دیجئے میں تو اپنا رخ خالص اللہ کی طرف کرچکا اور (وہ بھی) جو میرے پیرو ہیں۔ اور کہیے اہل کتاب اور ان پڑھ (مشرکین) سے ، کیا تم بھی قبول کرتے ہو سو اگر وہ تسلیم کرلیں تو یقینا وہ بھی سیدھی راہ پائیں اور اگر وہ (لوگ) روگردانی کریں تو یقینا آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہے ہیں

آیات 10- 20 اسرارو معارف ان الذین کفروا………………وبئس المھاد۔ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے مقابل ذرہ برابر کام نہ آئیں گے یا وہ یہ سمجھ رکھیں کہ ان کے پاس دولت ہے اولاد ہے تو شاید عنداللہ وہ مقبول ہیں اور یہ اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے ہرگز نہیں ! یہ ایک نظام ہے اللہ کا مقرر کردہ جو چل رہا ہے ہاں ! اللہ کی رضامندی کی دلیل دین ہے۔ اگر دین قبول نہ کیا تو مالدار ہوں یا صاحب اولاد ہوں ، دوزخ کا ایندھن ہیں بلکہ ترجمہ تو یوں ہے کہ یہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ ان کا رویہ تو آل فرعون جیسا ہے یا ان سے پہلے گزرنے والے کافروں جیسا کہ دولت اور ریاست کے لالچ میں حق کو قبول نہ کیا اور اللہ کی آیات کی تکذیب کی۔ اللہ نے ان کے جرائم کی ان کو سزا دی اور اللہ کی سزا بہت سخت ہے۔ آپ ﷺ کفار سے فرمادیجئے کہ عنقریب تم مغلوب ہوجائو گے اور تمہیں ہنکا کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ یعنی دونوں عالم میں تم داروگیر سے نہ بچ سکو گے کہ دنیا میں تمہیں مسلمانوں کے ہاتھ سے شکست ملے گی اور آخرت میں جہنم۔ جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ فتح بدر کے بعد یہودنے کہا تھا کہ مسلمانوں کو کسی آزمودہ کار جنگی قوت سے واسطہ نہیں پڑا۔ مکہ والے ناتجربہ کار تھے اگر کبھی ہم سے مقابلہ ہوا تو خبر ہوجائے گی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں ان کو شکست کی پیش گوئی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ بنی قریظہ قتل ہوئے اور بنی نصیر جلاوطن۔ نیز خیر فتح ہوا۔ جس کے بارے یہود سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اتنی بڑی قوت مسلمانوں کے ہاتھوں مخلوف ہوجائے گی مگر چشم عالم نے دیکھا یہ سب کچھ ہو کر رہا اور یہیں پر بس نہیں۔ نزول اگرچہ خاص ہو مگر آیت کا حکم تو عام ہے۔ یہ کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہ چند سرفروش جنہیں مکہ میں زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیا جارہا اور بےکسی وبے بسی کے عالم میں مہاجر بن کر نکل رہے ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں بحیثیت فاتح مکہ میں داخل ہوں گے اور اہل مکہ کی گردنیں جھکی ہوئی ہوں گی ، یا صحرا اور ریگ زار سے اٹھنے والے یہ چند خادمان رسول ﷺ مشرق ومغرب کو ہلا کر رکھ دیں گے اور عالمی قوتیں اپنے دور کی واقعی سپر پاورز قیصروکسریٰ کی سلطنتیں ان کی ضرب پا سے چور چور ہوجائیں گی اور دین برحق کی ہر طف نسیم سحر کی طرح اور خوشبوئے محمد ﷺ کو ایک عالم کی مشام جان تک پہنچادیں گے ۔ صحرائوں کی وسعتیں ان کے قدموں میں سمٹ آئیں گی۔ یہاڑ ان کا راستہ نہ روک سکیں گے اور سمندر ان کے لئے پایاب ثابت ہوں گے مگر یہ سب کچھ ہوا۔ یہی تاریخ کا روشن اور سنہرا باب ہے۔ اس پس منظر میں ہم اپنے آپ کو دیکھیں تو معاملہ بالکل برعکس ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کے کسی ملک سے خیرت کی خبر نہیں آتی ، ارٹییریا سے لے کر فلسطین تک خون مسلم کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور کفر کے عفریت اپنے ہیبت ناک جبڑوں میں انہیں جکڑے ہوئے ہیں تو سوچتے ہیں کہ وعدہ الٰہی کیا ہوئے ؟ صاحب معارف القرآن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں دنیا بھر کے کفار مراد نہیں بلکہ عہد نبوی ﷺ کے یہود و مشرکین مراد ہیں جو واقعی مغلوب ہوئے۔ بیان القرآن میں حضرت تھانوی (رح) نے بھی یہی فرمایا ہے میں صرف عہد نبوی ﷺ کے کافر مراد ہیں اور آخرت میں سب۔ مگر یہ شان تو ہمیں صرف خلافت راشدہ میں نظر آتی ہے بلکہ صدیوں تک اس کا مظہرہ ہوتا رہا اور صلاح الدین ایوبی کی ضرب ہو یا غزنوی کی چوص ، سب میں یہی وعدہ کار فرما نظر آتا ہے ۔ اور آج کے چند تہی دست ، غیر تربیت یافتہ فوجی بغیر وردی بلکہ بغیر پگڑی کے اور ننگے پائوں دنیا کی ، دور حاضرہ کی مسلمہ سپر پاور کو افغانستان کی گھاٹیوں میں گزشتہ چھ برس سے رگید رہے ہیں۔ یہاں بھی مادی طاقت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ یہی نصرت اللہ ہے کہ ان بادیہ نشینوں کے سینوں میں نور ایمان ہے۔ یہ قدامت پسند عین برستی آگ میں بھی اذان کہتے اور باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ ان کے چہرے سنت رسول اللہ ﷺ سے مزین ہیں اور دل عشق رسول ﷺ کی آماجگاہ۔ یہ کافی ثبوت ہے کہ نصرت باری تو ہے شاید مسلمان اپنی جگہ سے سرک گیا ہے اور ترقی کے شوق میں بےدینی اور بےحیائی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کا سال محرم کی جاں نثاری سے شروع ہو کر ذوالحجہ کی جان سپاری پہ ختم ہوتا تھا ، آج شب بھر کلبوں میں دھت داد عیش دے کر گزشتہ برس کو رخصت کرتا ہے اور نئے سال کو خوش آمدید کہتا ہے اور پھر اس کے ساتھ اپنے کو اس لطف وکرم کا حقدار بھی جانتا ہے جو صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ اگر ہمیں آج بھی کفر کی ظلمت کو مٹانا ہے اور دنیا کو دین کے نور سے منور کرنا ہے تو پھر پلٹ کر اپنی اصلی جگہ پر آنا ہوگا۔ اللہ توفیق عطا فرمائے ! آمین۔ قدکان……………ان فی ذالک لعبرۃ لاولی الابصار۔ اللہ کے اس وعدہ کے ساتھ غزوہ بدر کی مثال کو دلیل کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم اس کی مثال کا نظارہ کرچکے ہو کہ میدان بدر میں دو گروہوں کا مقابلہ ہوا تھا۔ جہاں مادی اعتبار سے یا افرادی قوت کے اعتبار سے کوئی مقابلہ نہ تھا کہ اہل مکہ 950 کی تعداد میں اور مکہ کے چنے ہوئے افراد ، جن کے پاس 700 اونٹ 1000 گھوڑے مکمل سامان حرب اور وافر مقدار میں راشن بھی تھا۔ دوسری طرف 313 جان فروش ، جن میں 70 مہاجر اور باقی انصار تھے۔ ان میں بچے بھی تھے اور عمر رسیدہ افراد بھی کل 70 اونٹ ، دو گھوڑے اور سامان حرب میں کل چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ یہ پہلی جنگ تھی جو رمضان 2 ہجری میں خود نبی کریم ﷺ کی قیادت میں کفر کے مقابل لڑی گئی۔ مہاجرین کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیر ؓ اور انصار کے حضرت سعد بن عبادہ تھے اور ایک جھنڈا نبی پاک کریم ﷺ نے سارے لشکر کا بنایا جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے دوپٹے سے بنایا گیا تھا اور اس کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اٹھائے ہوئے تھے گویا جان پیش کی احباب کی جان پیش فرمائی۔ گھر اور شہر سے ہجرت فرمائی اور میدان بدر اللہ کا رسول ﷺ ناموس رسالت بھی راہ خدا پر لے آیا کہ اللہ ! اگر آج یہ جھنڈا گرے گا تو تیرے رسول ﷺ کی محبوب بیوی کا دوپٹہ ہے جو کفار کے قدموں میں روندا جائے گا۔ بدر میں علم : اب تیرے اختیار میں ہے کہ اسے بلند رکھ ! تاریخ شاہد ہے کہ دوسری دفعہ خیبر کے مقام پر جب لڑتے لڑتے مہینہ بھر سے اوپر دن نکل گئے۔ راشن کے ساتھ سامان حرب بھی کافی نہ رہا۔ تلواریں بیشتر ٹوٹ گئیں اور جو تیری ہود نے پھینکے تھے وہی اٹھا کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کی طرف پھینکتے تھے۔ پھر پندرہ سو جاں نثار دس ہزار یہود کے مقابل تھے پشت پر بنوغطفان تھے جن کے لشکر کی تعداد پانچ سو تھی اور یہود سے معاہدہ بھی تھا مگر تاحال دبکے ہوئے تھے۔ جب یہ حال ہوا تو آقائے نامدار ﷺ نے پھر صدیقہ کائنات ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے دوپٹے کا جھنڈا بنایا اور حضرت علی ؓ کو علمبردار مقرر فرمایا ۔ اللہ کی شان کہ ایک ریلے میں خیبر کے قلعے فتح ہوتے گئے اور تیسری دفعہ جب حضور پرنور ﷺ مکہ مکرمہ میں بحیثیت فاتح داخل ہوئے تو جھنڈا صدیقہ کائنات ؓ کے دوپٹے کا بنایا اور وہ علم پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو عطا فرمایا۔ یہ غالباً اظہار تشکر کے لئے تھا کہ رب العزت نے اس پرچم کو کبھی گرنے نہیں دیا۔ بار بار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمانے کی ممکن ہے یہ وجہ ہو کہ حضرت علی نہ صرف داماد تھے بلکہ آپ ﷺ کے گھر میں ایک بیٹے کی طرح پلے بھی تھے اور ماں کا دوپٹہ اٹھانا بیٹے ہی کا حق ہے واللہ اعلم۔ بات اتنی تھی کہ ایک گروہ اگرچہ تعداد میں ، اسباب میں کم تھا مگر اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ تعداد میں زیادہ اسباب سے لدا پھندا۔ مگر تھا کافروں کا اور دونوں گروہ ایک دوسرے کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے یعنی جو مسلمانوں سے تین گنا تھے کم نظر آرہے تھے اور مسلمان جو تعداد میں کم تھے زیادہ نظر آتے تھے۔ سورة انفال میں ہے یقلکم فی اعینھم۔ تو اس سے مراد میدان جنگ کی شروع کی کیفیت ہے کہ مسلمان کافروں کو بہت تھوڑے لگے اور وہ جنگ میں کود پڑے مگر جب جنگ چھڑ گئی تو انہیں نظر آیا کہ یہ تو ہم سے دوگنا ہیں۔ ہمت توڑنے کا سبب بن گیا۔ یہ مختلف کیفیات مختلف اوقات کی ہیں۔ نیز اللہ پاک ہر کام کے لئے اسباب پیدا فرماتا ہے۔ ترک سبب مناسب نہیں۔ پھر دیکھا تم نے کہ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور اپنی مدد سے قوی کردیتا ہے چند تہی دست مسلمانوں نے اچھی طرح سے مسلح ہوئے لشکر کو کتنی ذلت آمیز شکست سے دوچار کردیا کہ چیدہ چیدہ کفار بھی قتل ہوئے اور قید بھی۔ اہل بصیرت کے لئے تو اس میں بہت بڑی نصیحت ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کی پیشگوئیوں کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت۔ زین للناس حب الشھوات…………واللہ عندہ حسن المآب۔ لوگوں کو مرغوب اور پسندیدہ چیزوں کی محبت بھی بڑی خوشنما معلوم ہوتی ہے حب الشھوت فرمایا کہ شہوت دلیل بہیمت ہے یعنی بالکل جانوروں کی طرح۔ ان اشیاء کے پیچھے لپکتے ہیں اور مکمل طور پر ان کی طلب میں مستغرق ہو کر اللہ کی یاد اور اس کی اطاعت سے کٹ جاتے ہیں۔ یاد رہے اسباب زینت بنانے والا خود اللہ ہے اور ان تمام اشیاء کی طبعی محبت خود اللہ کی پیدا کردہ ہے ۔ لہٰذا دل سے نکل نہیں سکتی۔ ہاں ! جب عقلی محبت پر جو اللہ سے ، اللہ کے رسول ﷺ سے اور دارآخرت سے ہونی چاہیے کہ اگر مقابلہ آجائے تو حب طبعی کو حب عقلی پر قربان کرسکے۔ یہی انسان کا امتحان ہے ورنہ انہی اشیاء سے استفادہ شکر نعمت ہے اور سعادت آخرت ہے نیز انہی کی وجہ سے آدمی کو فرشتوں پر فضیلت حاصل ہے مگر اس وقت تک جب تک یہ سب کچھ اپنی حد کے اندر رہے۔ اگر انہی رسومات یا حب جاہ یا نام ونمود کی نمائش اور خواہش میں اللہ کے احکام کے مقابل کھڑا ہوگیا۔ تو یہی تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ ارشاد ہے کہ عورتوں کی محبت ، اولاد اور مال یعنی سونے چاندی کے ڈھیروں سے محبت اور خوبصورت گھوڑوں اور چارپائوں کی الفت لوگوں کو کھینچ رہی ہے حالانکہ یہ سب دنیا کی قلیل زندگی میں استعمال کی عارضی چیزیں ہیں۔ انہیں فنا ہونا ہے کہ موجودات دنیوی کا مبدء وجود عدم ہے یعنی تمام ممکنات اصلاً معدوم تھے پہلے نہ تھے پھر ہوئے ان کا وجود ظلی ہے ان کی اصل عدم ہے اس لئے ہر شے فنا کی طرف جارہی ہے۔ اسی لئے کہ ہر ممکن حادث ہے۔ اس کا اپنا کوئی وجود نہیں اپنے وجود کے لئے دوسروں کا محتاج ہے اور تمام حقائق کو نیہ کا قترر اور تقدر علم باری تعالیٰ میں ہے۔ اصلاً سب کچھ معدوم جب صفات باری تعالیٰ کا پرتو پڑا تو ہر شے کا وجود ظلی طور پر یا عکسی طور پر نمودار ہوگیا جسے لوگ وجود اصلی جان بیٹھے اور جس شے کی اصل ہی نہ ہو اس میں حسن یا کمال نہیں ہوا کرتا۔ ہاں ! آخرت کی نعمتیں چاہے جانے کے قابل ہیں کہ ان کے تعین اور تحقق کے مبادی صفات خداوندی ہیں۔ یعنی صفات خداوندی آخرت میں بصورت مہروقہر نمایاں ہوگی اسی لئے ان کا ابدی کنارہ کوئی نہیں ، وہ لازوال ہیں ، نعمتیں بھی لازوال اور مصائب بھی لازوال۔ فرمایا واللہ عندہ حسن الماب۔ کہ اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے یعنی دارآخرت بہترین ٹھکانہ ہے دنیا کی جو شے حصول آخرت میں معاون ہوگی وہی محبوب ہوگی۔ انبیاء صحابہ اور اولیاء اللہ کی محبت ، آخرت کی محبت ہے۔ اور آخرت کی محبت اللہ کی محبت ہے اخروی نعمتوں کی رغبت اللہ کی طرف رغبت ہے۔ قل اونبئکم بخیر من ذالکم……………والمستغفرین بالا۔ سحار۔ فرمادیجئے کہ ان تمام لذات سے بدرجہا بہتر نعمتوں کی بابت تمہیں خبر کروں ؟ وہ ان کے لئے ہیں کہ جو لوگ متقی ہوں گے یعنی اپنی زندگی میں مرضیات باری کے حصول کے لئے کوشاں رہیں گے دنیا اور دنیا کی لذتوں کو اللہ کی رضا پہ قربان کرنے کی ہمت رکھتے ہوں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کی خاطر جنتیں ہیں باغات ہیں ، جن میں نہریں جاری ہیں اور وہ جنتیں بھی لازوال اور ابدی ہیں ان میں داخل ہونے والے بھی کبھی نہ نکالے جائیں گے بلکہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کے لئے بیبیاں ہیں یعنی جسمانی آلائش حیض ونفاس اور بوں وبراز سے پاک ، اخلاقی آلائش یا بدخلقی سے پاک۔ یہ بات دنیا کی ان عورتوں کو جو جنت میں داخل ہوں گی اور جنت میں وہاں کی مخلوق بیبیوں دونوں کو شامل ہے۔ پھر سب سے بڑی نعمت اللہ کی خوشنودی ہے جو جنت میں رہنے والوں کو حاصل ہوگی۔ مومنین کے جنتی اقرباء اور اولاد سب جنت میں جمع ہوتے رہیں گے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ زوال نعمت کا کوئی کھٹکا نہ ہوگا نیز جو چاہیں گے ملے گا۔ احادیث مبارکہ میں اس قدر نعمتوں کا ذکر ہے کہ آدمی پڑھ کر یہ چاہتا ہے کہ اللہ دنیا سے اٹھائے اور جنت نصیب کرے۔ یہاں بوجہ خوف طوالت احادیث نقل نہیں کی جارہیں۔ فرمایا اللہ سب کو دیکھ رہا ہے کون کس چیز کے لئے کوشاں ہے اور خود ملاحظہ فرمارہا ہے جانتا ہے سب اس کی نگاہ کے سامنے ہے ان کو بھی دیکھ رہا ہے جو یہ عرض کرتے ہیں کہ اللہ ہم ایمان لے آئے۔ ہم نے کفر کو ترک کردیا۔ اب تو ہمارے گناہ ، ہماری لغزشیں معاف فرمادے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ یہاں ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایمان مغفرت کا استحقاق پیدا کردیتا ہے۔ اولیاء اللہ کے اوصاف : فرمایا ایسے لوگ جو نفس کی مخالفت پہ جم جاتے ہیں الصابرین یعنی بری باتوں سے نفس کو روکتے ہیں اور اطاعت الٰہی اور اچھی باتوں میں لگاتے ہیں۔ یاد رہے یہاں متقین اور اولیاء اللہ کی صفتوں کا بیان ہے سو ہر شخص کو چاہیے کہ کسی کو پیر بنانے سے پہلے یہ اوصاف دیکھے ورنہ بدکار کی بیعت تو سرے سے حرام ہے ۔ یعنی صبر کرنے والے اور والصادقین سچے۔ تمام دعوئوں میں ، احوال میں ، نقل واقعات میں ، نیز سب سے بڑا سچ کلمہ طیبہ ہے کہ اس پر کاربند ہیں۔ اللہ کی عبادت سنت رسول خدا ﷺ کے مطابق کرنے والے۔ یہی مفہوم ہے ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی عبادت کریں گے بھئی ! کیسے کرو گے۔ تمہیں اس کی پسند کا پتہ کیسے چلے گا ” محمد رسول اللہ ‘ نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق۔ والقانتین۔ یعنی ہمہ وقت اللہ کی رضا کے طالب۔ والمنفقین۔ اپنی تمام کوششوں کو مال و دولت ہو یا محنت و کاوش۔ سب کو اللہ کی راہ میں لگانے والے اور پھر اس سب طاعت و عبادت کے باوجود سحری کو اٹھ کر اپنی کوتاہی کا اقرار کرکے معافی طلب کرنے والے کہ اللہ ! یہ عبادت ونی کی کی طاقت بھی تو نے بخشی۔ اس کا علم بھی تیری عطا ہے اور یہ تیرے قبول کی محتاج ، کہ تو محض اپنے کرم سے شرف قبولیت عطا فرماتا ہے۔ وقت سحر چونکہ قبولیت کا وقت بھی ہے اور اٹھنے کا اہتمام بھی کرنا پڑتا ہے کسی کام کی اہمیت ہی اس وقت بستر سے نکال سکتی ہے۔ اس میں صوفیہ اور اہل اللہ کی صفات بیان فرمادی ہیں کہ ان لوگوں کے پاس یہ دولت ہوتی ہے اور اسی کے حصول کے لئے ان کی صحبت اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں یہ نہ ہو وہاں سے اجتناب اور علیحدگی اختیار کرنا چاہیے۔ شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو…………واللہ بصیر بالعباد اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اس کی ذات ، اس کی صفات اور تمام مظاہرو مصنوعات اس کی توحید پر گواہ ہیں۔ اور فرشتے جو اس کے مقرب ہیں اپنے اذکار وتسبیح میں اور اطاعت میں اس کی توحید کے شاہد ہیں۔ اسلام کیا ہے ؟ : ہر دور کے اہل علم نے بھی شہادت دی کہ وہ لاشریک ہے۔ اہل علم سے مراد ایسے لوگ ہیں جو انبیاء سے سیکھ کر یا کائنات عالم میں غور کرکے توحید باری کو پاسکیں خواہ ضابطے کے عالم ہوں یا نہ۔ ورنہ ایسے لوگ جو اللہ ہی کو نہ پہچان سکیں۔ کتنے علوم بھی سیکھ جائیں عنداللہ جاہل ہی ہوں گے کہ سب سے بڑی حقیقت تو اسی کی ذات ہے ا س سے جاہل رہنے والا کب عالم ہوسکتا ہے تو یہ سب گواہ ہیں کہ اللہ واحد ، لاشریک اور معبود برحق ہے اور ہر شے پہ غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ بھی یقینی بات ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اسلام سے مراد اپنے کو اللہ کے سپرد کردینا اور اس کی اطاعت پر کمر بستہ ہوجانا ہے ہر نبی دعوت لے کر دنیا میں آیا اور ہر نبی کے ساتھ ایمان اور اطاعت کا رشتہ اسلام ہی ہے۔ اسی لئے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے دور میں اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے زمانے میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے وقت میں مسلمان ہونے کا اعلان فرمایا۔ غرضیکہ ہر نبی کا لایا ہوا دین اسلام ہی تھا اور عنداللہ مقبول اور آخر میں خاتم الانبیاء ﷺ کا لایا ہوا دین اسلام کہلایا۔ جو قیامت تک باقی رہے گا۔ باقی انبیاء بھی توحید ، رسالت ، آخرت ، جنت ، دوزخ ، جزاوسزا یا فرشتوں کے بارے میں متفق تھے۔ فرق صرف عبادات کے طریق میں تھا جو ہر دور میں شریعت لانے والے نبی کے ساتھ تبدیل ہوتارہا۔ حتیٰ کو جو جو احکام منسوخ ہوتے گئے اس کے بعد وہ اسلام نہ رہے اور اب آقائے نامدار ﷺ کی شریعت اسلام ہے اور شرائع سابقہ جو منسوخ ہوئے ان پر عمل اب اسلام نہیں رہا۔ بعثت رسول ﷺ کے بعد اسلام صرف وہ ہے جو کتاب اللہ اور آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے اس سے ثابت ہوگیا کہ رواداری کے نام پر کفر سے مصالحت کرانے والے ملحد ہیں اور یہ نظریہ کہ دنیا کا ہر مذہب یہودیت و نصرانیت ہو یا بت پرستی ذریعہ نجات بن سکتا ہے بشرطیکہ اعمال صالحہ اور اخلاق اعلیٰ ہوں۔ دراصل یہ اسلام پر بہت بڑی چوٹ اور الحاد پھیلانے کی کوشش ہے۔ بات سیدھی سی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت اور اطاعت نہیں اور اس کا طریقہ سیکھنا ہے محمد رسول اللہ ﷺ سے۔ اگر یہ بات نہیں تو کافر ہے اگر کوئی نیک کام بھی کر گزرے تو نہ اس نے اللہ کے لئے کیا نہ اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا۔ آخرت میں کوئی اجر نہیں اور نہ وہ ذریعہ نجات ہے۔ اب اگر اہل کتاب اس بات میں جھگڑا بھی کریں تو وہ بغاوت کرکے ہوگا ورنہ تو ان کے پاس خود ان کی کتب میں بھی یہی بات موجود ہے اور اسی پر سب دلائل موجود ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں جس میں کوئی شبہ رہ گیا ہے بلکہ مسلمانوں سے حسد اور حب مال وجاہ نے انہیں اختلاف میں مبتلا کردیا ہے۔ جو شخص بھی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے اسے بہت جلد حساب دینا ہوگا کہ اللہ عنقریب اس سے حساب لینے والا ہے کہ مرتے ہی برزخ میں داخل پر پوچھ گچھ شروع ہوجائے گی اور پھر قیامت کا سب جھگڑوں کی حقیقت سر میدان کھل جائے گی اور اگر اس قدر دلائل وبراہین کے باوجود بھی آپ ﷺ سے جھگڑا کریں تو آپ ﷺ فرمادیجئے کہ میں تو اللہ کا فرمانبردار ہوں۔ اپنے دل ، زبان اور سارے اعضاء کو اس کی اطاعت پر لگادیا اور یہی کام ان سب لوگوں نے کیا جو میرے ساتھ ہیں میرے پیروگار ہیں۔ انہوں نے اپنی ہستی اللہ کے سپرد کردی۔ اب اے اہل کتاب ! اور اے گروہ مشرکین ! کیا تم بھی ایسا کرسکتے ہو ؟ اگر وہ بھی قبول کرلیں تو ہدایت پاگئے سیدھی راہ ان کو بھی نصیب ہوئی اور اگر یہ نہ کرسکیں تو پھر درمیانی راستہ کوئی نہیں۔ وہ کفر میں بھٹکتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ذمہ تو بات کا پہنچا دینا تھا۔ اس سے آگے سب کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے ۔ سب اس کی نگاہ میں ہیں۔
Ayahs 3:21–30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

یقینا جو لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو لوگوں میں انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں سو ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہوئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب میں سے (کافی) حصہ دیا گیا (جب) ان کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ کردے پھر ان میں سے ایک جماعت پھرجاتی ہے اور وہ منہ پھیرنے والے (ہی) ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں چند دنوں کے سوا آگ ہرگز نہ چھوئے گی اور جو یہ دین کے بارے بہتان باندھتے ہیں اس نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پس کیسا ہوگا جب ہم ان سب کو اس دن اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو اس کے کام کا پر ورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

کہہ دیجئے اے اللہ ! آپ مالک ہیں بادشاہی کے جسے چاہیں بادشاہی دیں اور جس سے چاہیں بادشاہی چھین لیں اور آپ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے چاہیں ذلت۔ (ہر طرح کی) بھلائی آپ کے ہاتھ میں ہے یقینا آپ ہر چیز پر قادر ہیں

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

آپ ہی رات کو دن میں داخل کرتے ہیں اور دن کو رات میں داخل کرتے ہیں اور آپ ہی بےجان سے جاندار کو پیدا کرتے ہیں اور آپ ہی جاندار سے بےجان کو پیدا کرتے ہیں اور آپ جسے چاہیں بیشمار رزق عطا کرتے ہیں

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مسلمان سوائے مسلمانوں کے کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کچھ (عہد) نہیں سوائے اس کے کہ تم ان سے شدید قسم کا اندیشہ رکھتے ہو (اس سے بچنے کے لئے) اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ خواہ تم جو کچھ اپنے سینوں میں ہے پوشیدہ رکھو یا اسے ظاہر کرو اللہ اس کو جانتے ہیں اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ جانتے ہیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر کوئی اپنے کیے گئے اچھے کام کو اپنے سامنے حاضر کیا گیا پائے گا اور کی گئی (ہر) برائی کو بھی ۔ خواہش کرے گا کہ (کاش ! ) اس کے اور اس (برے کام) کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہو اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ شفقت کرنے والے ہیں

آیات 21- 30 اسرارو معارف ان الذین یکفرون………………لا یظلمون۔ بعض طبائع مسخ ہوجاتے ہیں اور ایسے برباد ہوتے ہیں کہ نسلوں تک میں ان کا اثر پایا جاتا ہے فرمایا یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کے اہل کتاب صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ جن کے یہ متبع ہیں۔ وہ تو انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً قتل بھی کرتے تھے بلکہ جن لوگوں نے انصاف کا حکم دیا یا سچی اور کھری بات کہی تو انہیں بھی قتل کردیا۔ تو اے نبی ! ﷺ ان کو دردناک عذاب کی بشارت یعنی اطلاع دے دی۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ نبی اسرائیل یعنی یہودنے دن کے اول حصہ میں محض اقتدار اور حکومت کے لالچ میں چالیس انبیاء کو قتل کردیا حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ یہ قتل ناحق ہے اسی لئے بغیر حق ارشاد ہوا ۔ ورنہ انبیاء کا قتل تو ناحق ہی تھا یہاں بغیر حق کہنے سے مراد کہ خود ان کے نزدیک بھی ناحق تھا اور پھر اس قتل ناحق پر ملامت کرنے اور حق کا حکم کرنے کے لئے ان کے متبعین میں سے ایک سو بیس آدمی کھڑے ہوگئے۔ اسی روز پچھلے پہر ان کو بھی قتل کردیا۔ تو یہ یہود چونکہ انہی کے پیروکار اور ان کے افعال پر راضی ہیں۔ تو ان کا مزاج ہی دیکھ لیں۔ یہ حق کو حق جان کر بھی قبول نہ کریں گے۔ ایسے بدکاروں کو دردناک عذاب کی خبر کردیں۔ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں ہوگئے۔ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی عذاب کا شکار اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ ﷺ دیکھیں تو کیسی تعجب خیزبات ہے کہ جن لوگوں کو توراۃ کا تھوڑا سا علم دے دیا گیا کہ پوری توراۃ تو نہ ان کے پاس تھی نہ ساری پہ ان کا ایمان تھا۔ جب ان کو اللہ کی کتاب کے فیصلہ کی دعوت دی جاتی ہے کہ آپ کی ذات اور بعثت کے بارے تو اس توراۃ میں بھی موجود تھا جو ان کے پاس تھی اور یا پھر قرآن کریم کی ارشاد کے مطابق دعوت دی جاتی ہے کہ اس کے مطابق فیصلہ کرلیں تو ان میں ایک گروہ کترا کے نکل جاتا ہے اور کتاب اللہ کے فیصلے سے منہ موڑ لیتا ہے یعنی وہی آبائی مزاج ہے کہ ریاست کے لالچ میں انبیاء (علیہم السلام) کو ظلماً شہید کیا۔ یہ بدکار بھی بجائے اتباع کے حضور پرنور ﷺ کے قتل کے درپے رہے۔ مسلمانوں کو ان پر اعتبار نہ کرنا چاہیے۔ اللہ اس قوم کو ہدایت نصیب فرمائے اور دین کے رہزنوں سے محفوظ رکھے ! آمین۔ فرمایا کہ ذرا غور کرو ، اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان سب کو اس روز اکٹھا کریں گے جس کے وقوع میں ذرا برابر شبہ نہیں اور پھر ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ نہ نیکی میں سے کوئی شے گھٹائی جائے گی ، نہ بدی میں کوئی اضافہ کیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہ کی جائے گی جیسے کہ انہوں نے فرض کررکھا ہے۔ قل اللھم مالک الملک…………بغیر حساب۔ بدرواحد میں تباہی سے دو چار ہونے کے بعد مشرکین واہل کتاب سب میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا اور حسد کی آگ میں جلنے لگے کہ ان کی نظروں کے سامنے ایک اسلامی ریاست تشکیل پارہی تھی۔ سب نے سازش تیار کی اور فیصلہ ہوا کہ یہود نصاریٰ اور مشرکین عرب سب مل کر یکبارگی مدینہ منورہ پر حملہ کردیں اور اسلام اور مسلمانوں کا نام صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ اس غرض سے ایک بہت بڑا لشکر تیار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف بڑھا۔ اس جنگ کو غزوہ احزاب یا غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورہ سے شہر کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ تقریباً چالیس ہاتھ جگہ دس دس صحابہ ؓ میں بانٹی گئی جس کی چوڑائی اور گہرائی بھی اسی قدر تھی کہ کوئی سواریا پیادہ اسے عبور نہ کرسکے۔ وقت بہت کم تھا مگر جاں نثار صحابہ ؓ اس طرح کام میں جتے کہ کھانے اور رفع حاجت تک کے لئے وقت نکالنا مشکل ہورہا تھا۔ لوگوں نے بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر باندھے۔ خود سرور عالم ﷺ نے شکم مبارک پر دو پتھر باندھے تھے اور کام مطلوبہ چند دنوں کے اندر مکمل ہوگیا۔ اثنائے کار ایک جگہ کھدائی میں ایک چٹان حائل ہوگئی جو کسی طرح ٹوٹ نہ رہی تھی اور اس دس آدمیوں کی ٹولی میں حضرت سلمان فارسی ؓ بھ تھے جو خندق کی تجویز کندہ تھے ، باقی ساتھیوں نے رائے دی کہ خندق میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن پیدا کرکے چٹان چھوڑ دیں اور خندق کھود لیں کہ مقصد تو دشمن کو روکنا ہے۔ اتباع نبوی ﷺ کا معیار : حضرت سلمان ؓ نے فرمایا کہ یہ تو درست ہے مگر خندق کھودنے کے لئے جگہ خود محمد رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائی ہے اور اپنے دست مبارک سے لکیر لگائی ہے اس لکیر سے کون ہٹنے کی جرات کرے گا تو سب خاموش ہوگئے ۔ آج کے مسلمان کے لئے اس میں درس عبرت ہے جس کے سامنے سنت کی کوئی قیمت نہیں اور جو جی میں آئے کر گزرتا ہے۔ رواج اور رسومات کو نہیں چھوڑتا۔ خواہ کتنی سنتیں پامال ہوجائیں۔ حضرت سلمان ؓ بات لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور حکم چاہا۔ آپ ﷺ بنفس نفیس تشریف لے گئے ، کدال دست مبارک میں لیا اور ضرب لگائی تو ایک نور چمکا جس سے مدینہ روشن ہوگیا اور چٹان کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ ارشاد ہوا مجھے اسی روشنی میں ملک فارس کے محلات دکھائے گئے۔ اسی طرح دوسری ضرب پہ روشنی ہوئی تو ارشاد فرمایا کہ مجھے رومیوں کے سرخ محلات دکھائے گئے اور تیسری ضرب پر چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔ شعلہ نکلا تو ارشاد ہوا کہ مجھے صنعاء یعنی یمن کے پایہ تخت کے محلات دکھائے گئے۔ ہر ضرب پر آپ ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ساتھ صحابہ کرام ؓ نے بھی نعرہ تکبیر بلند فرمایا۔ اسلام میں اس کے علاوہ کسی نعرے کی ضرورت بھی نہیں۔ باقی نعرے بازیاں یار لوگوں کی ایجاد ہیں۔ حضور پر نور ﷺ نے خبر دی اور بشارت دی کہ مجھے جبرائیل امین (علیہ السلام) نے خرب دی ہے کہ یہ تمام ممالک میری امت کے ہاتھ پر فتح ہوں گے اس پر منافقین اور یہودی کہنے لگے کہ جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں چھپنے کے لئے خندق کھودی جارہی ہے اور خواب دیکھے جا رہے ہیں فارس ، روم اور یکن کی فتوحات کے مسلمان کا مذاق اڑایا کہ آئندہ چند روز میں شاید تمہارا نشان بھی نہ رہے تو روک وفارس کون فتح کرے گا ؟ ارشاد باری ہوا کہ اے نبی ! ﷺ فرمادیجئے کہ اے اللہ ! تو مالک الملک ہے۔ یہ سب واقعہ تو میں نے بطور شان نزول اور حضور ﷺ کی پیشگوئی کے طور پر نقل کیا ہے ورنہ تو پیچھے بات چل رہی تھی کہ حکومت و ریاست کے لالچ میں انبیاء کو قتل کیا اور اب آپ ﷺ کو ایذا دینے کے درپے ہیں۔ فرمادیجئے کہ اللہ مالک الملک ہے اور جسے چاہے ملک ، سلطنت اور حکومت بخش دے اور جس سے چاہے جس قدر چاہے واپس لے لے۔ دنیا وآخرت میں یا دونوں عالم میں جسے چاہے اپنی مدد اور توفیق سے عزت دے دے اور جسے چاہے بدبختی اور عدم توفیق ۔ نیز عذاب کی وجہ سے ذلت سے دوچار کردے۔ ہر طرح کی بھلائی صرف تیرے قبضہ قدرت میں ہے ، اور تو ہر چیز پہ قادر ہے تو جو چاہے کرسکتا ہے۔ یہاں صرف خیر کا ذکر ہے حالانکہ شر بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو عرض ہے کہ جو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے سب خیر ہے خواہ ایک قوم کے لئے نقصان کا باعث ہو گمر مجموعہ عالم پر نگاہ کی جائے تو اس میں بہتوں کا بھلا ہوتا ہے جیسا کہ متبنی کا مصرعہ ہے ؎ مصائب قوم عند قوم فوائد اور اصل تو خیر سے وجود مراد ہے اور وجود حقیقی صرف حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے جو سراسر خیر ہے رہا ممکنات کا وجود تو وہ ظلی ہے ، واجب کا پرتو ہے ورنہ ممکن کی حقیقت میں شر داخل ہے یعنی عدم۔ اس کے بعض افراد شر میں زیادہ اور بعض کم ہیں۔ بہرحال معدوم الذات کو وجود ظلی وجود حقیقی سے ملا ہوا ہے اسی لئے شر کی نسبت بھی اللہ کی طرف کردی جاتی ہے ورنہ اصل بات تو یہی ہے کہ بیدک الخیر۔ یہاں نبی کریم ﷺ کی پیشگوئیوں اور انقلابات عالم کی ایک تصویر کھینچ دی ہے کہ اے عادوثمود اور قوم نوح وغیرہ کے انجام سے بیخبر لوگو ! ہر شے کو اسباب ظاہری اور شان و شوکت کے تابع نہ دیکھو بلکہ اللہ قادر ہے ، ایک پل میں سب الٹ سکتا ہے۔ پھر عہد فاروقی کا وہ بار آفریں نظارہ ! جب یہ تمام ممالک خادمان نبوی ﷺ کے زیر نگیں ہوئے۔ صد یف ہے ان لوگوں پر ، جو اس فاروق ؓ پر طعن کرتے ہیں جس کے دست مبارکہ پہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی پیشگوئیاں پوری فرمائیں تو اس رطح نہ صرف عظمت فار ، قی پر حرف آتا ہے بلکہ دلائل نبوت اور صداقت نبوت بھی مجروح ہوتے ہیں۔ ابعیاذ باللہ۔ حد یہ ہے کہ ایسا کرنے والے صرف اپنے کو مسلمان اور دوسروں کو اس سے محروم سمجھتے ہیں۔ بریں عقل و دانش بباید گریست تو ایسا قادر ہے کہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی آسمانی طاقتیں اور فلکیات بھی تیرے تابع فرمان ہیں۔ تو جب چاہے رات کے جزاء دن میں اور دن کے رات میں داخل کرکے گھٹا بڑھا دے یعنی زمینی سلطنتوں کی کیا حیثیت ہے ۔ شمس وقمر تیرے حکم سے سرگرداں ہیں اور روحانیت تیرے قبضہ قدرت میں کہ تو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے پیدا کردیتا ہے یعنی بیضہ یا نطفہ سے انسان ، بیج سے درخت ، کافر کے گھر مومن ، آذر کے گھر ابراہیم کو پیدا فرمادیتا ہے۔ یعنی آپ کی قدرت کاملہ تمام عالم پہ محیط ہے ۔ عناصر قوتیں ، حکومتیں ، عالم افلاک اور روحانیت سب تیرے قبضہ قدرت میں ہیں اور تیری حک موت سب پر جاری وساری ہے اور تو جس کو چاہے اتنا بخش دے کہ مخلوق اس کے حساب تک سے سے عاجز آجائے۔ ان آیات کریمہ کو آیت الکرسی کے ساتھ فرض نمازوں کے بعد پڑھنا بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ لا یتخذ المومنون………………واللہ روف بالعباد۔ اس جملہ بحث کے بعد کفار کے ساتھ تعلقات کے بارے ارشاد ہوا کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ موالات یعنی دوستی اور محبت ہرگز نہ کرنی چاہیے ، چہ جائیکہ رشتہ داری بناتے پھریں۔ مومن کو صرف مومن سے دوستی سزاوار ہے۔ کافر کے ساتھ تعلقات کی صورت : کفارکا دوست مومنین کی دوستی سے محروم ہوجائے گا اور کفار کی دوستی بجائے خود بھی تو بری ہے غرض کسی طرح بھی خواہ رشتہ داری کی صورت میں ہو یا دوستی کی شکل میں ، جہاد میں مدد کے لئے ہو یا دینی امور میں اعانت کے لئے۔ کسی طرح بھی جائز نہیں۔ یہ درست نہیں کہ دشمنان صحابہ سے چندہ لے کر مساجد میں پنکھے آویزاں کرے۔ یہ حرام ہے۔ اگر کوئی کافروں سے دوستی رکھے گا تو اللہ سے اس کی دوستی کا کوئی رشتہ نہیں ، نہ کوئی تعلق ہے یعنی کفار کی دوستی جیسے مسلمانوں کی محبت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اسی طرح اللہ کی دوستی کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتی۔ ہاں ! اگر کفار کی طرف سے کسی شر کا اندیشہ ہو تو صرف دفع شر کی حد تک نہ کہ عبادات ، معاملات اور امور زندگی میں ان کے تابع ہوجائو۔ یہاں تقیہ کی جڑ کٹ رہی ہے کہ تعلقات کی کئی اقسام ہیں۔ اول موالات ہے یعنی دلی دوستی ، محبت ، رشتہ داری۔ یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مسلم سے قطعاً کسی حال میں جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے بحیثیت انسان ہمدردی وخیر خواہی۔ یہ سوائے اہل حرب کے یعنی جو مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں دوسروں سے جائز ہے۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کا معنی خوش خلقی اور دوستانہ برتائو کا ہے۔ یہ تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے جبکہ اس سے ان کے مذہب کو کوئی تقویت نہ پہنچے ، اگر ایسا ہو تو یہ بھی جائز نہیں۔ یہی مفہوم الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ کا ہے کہ مدارات جائز ہے مگر بقدر ضرورت ، نہ یہ کہ ان کے ساتھ مل کر حرام کھانے لگو یا گناہ کا ارتکاب کردیا عبادات میں ان کے ساتھ شامل ہوجائو یا مسلمانوں کے راز ان پر افشاء کرو یہ سب سختی کے ساتھ منع ہیں اور یہیں سے تقیہ کی حرمت ثابت ہے کہ تقیہ کرانے والوں نے تو سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کو عقائد ، معاملات ، عبادات اور رشتہ داری تک میں خلفائے ثلاثہ ؓ کا ایسا تابع بنایا کہ سب ان کی اقتداء میں کرتے رہے۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ کو بیٹی بیاہ کردے دی اور ایسے مطیع ہوئے جب خلافت ان کو مل گئی تو بھی ان کے اتباع سے سر موانحراف نہ کیا۔ اور یا لوگوں نے کہا کہ یہ سب تقیہ تھا۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے اس کے بعد چوتھا درجہ معاملات کا ہے مثلاً تجارت ، ملازمت ، مزدوری یا صنعت وحرفت۔ یہ سب غیر مسلموں سے اس صورت میں جائز ہیں کہ کسی مسلمان کا اس میں نقصان نہ ہو۔ خود عہد نبوی ﷺ میں صحابہ کرام کا تعامل اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں مسلمانوں کے کفار سے تعلقات اس پہ بہترین نمونہ ہیں۔ گویا یہ طے ہوا کہ دلی دوستی کافر سے ہرگز جائز نہیں اور خوش خلقی یا کاروباری تعلقات اس حد تک جائز ہیں جب تک عام مسلمانوں کا اس میں نقصان نہ ہو۔ ورنہ کافر کی دوستی غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے جو بہت سخت ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں ڈرارہا ہے اور یہ بھی یادرکھو کہ تمہیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے کہ انسان کے تمام امور ، کاروبار ریاست ہوں یا سیاست ، عائلی تعلقات ہوں یا منزلی ، سب آخرت کے لئے اور رضائے باری کے حصول کے لئے ہیں مومن کی ساری زندگی اس ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے جبکہ کافر سب سے زیادہ اسی مقصدکو نقصان پہنچانے والا ہے پھر دوستی کیسی ؟ مومن کی دوستی دشمنی اللہ کے لئے ہے جیسا کہ ارشاد ہے من احب للہ وابغض للہ فقد استکمل الایمان۔ کہ جس نے دوستی اور دشمنی صرف اللہ کے لئے وقف کردی اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔ اور پھر تم اللہ سے کچھ پوشیدہ نہیں رکھ سکتے خواہ کسی شے کو دل میں چھپا کے رکھو یا ظاہر کردو۔ اللہ ہر حال میں جانتا ہے بلکہ ارض وسما کی ہر شے سے ہر وقت آگاہ ہے جب ہر شے کا وجود ہی اس کے علم اور اس کی قدرت سے ہے تو پھر اس پر کوئی شے کس طرح پوشیدہ رہ سکتی ہے اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے اس کا علم ہمہ گیر اور اس کی قدرت محیط کل ہے تو پھر اس کی نافرمانی اور کافر سے دوستی کس قدر نادانی اور خلاف عقل ہے۔ ایک روز ایسا ہوگا کہ ہر شخص اپنی کی ہوئی بھلائی کو اپنے سامنے موجود پائے گا ، اسی طرح جو برائی کی ہوگی وہ بھی سامنے ہوگی اور وہ تمنا کرے کہ اے کاش ! اس کے اور اس کی برائی کے درمیان ایک لمبی مسافت ہوتی ، یہاں تنبیہ فرمائی کہ دیکھو روز حشر تمہارے نامہ اعمال میں کفار کی محبت نہ نکل آئے جو اس روز تم پسند نہ کرو اور جان چھڑانا چاہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہوگی ۔ روز حشر کو یادرکھو اور اللہ کے عذابوں سے ڈرتے رہو کہ اللہ بندوں پہ بہت مہربان ہے۔ تمہیں تباہی اور بربادی کے اسباب سے قبل از وقت مطلع کررہا ہے کہ تم اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچا سکو اور اس کی مرضیات کو پانے میں کوشاں رہو۔