3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsانوار البیان

Ayah 3:1
الۗـۗمَّ
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہمیشہ رہنے ولا

(3:2) الحی۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں ہے۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ القیوم قائم بالذات۔ ہر شے کو قائم رکھنے والا۔ دیکھو (2:255)
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمد ﷺ ! ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

(3:3) الکتب۔ القرآن۔ بالحق حق کے ساتھ ۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں کہ : حق کا جو مفہوم علامہ راغب اصفہانی نے بیان کیا ہے وہ بہت جامع اور لطیف ہے۔ لکھتے ہیں : الحق للفعل والقول : الواقع یحسب ما یحب وقد رما یجب وفی الوقت الذی یجب۔ یعنی کوئی قول اور فعل اس وقت حق کہلاتا ہے جبکہ وہ اس طرح پایا جائے جیسے چاہیے اس انداز سے پایا جائے جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اس وقت پایا جائے جب کہ اس کی ضرورت ہو۔ قرآن کو بالحق کی صفت کے ساتھ متصف کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ قرآن آیا اور ایسی آن بان سے آیا جو اس کی شایان شان تھی۔ اور ایسے دلائل وبراہین سے مزین ہوکر آیا جن کو عقل سلیم ماننے پر مجبور تھی۔ اور عین اس وقت آیا جب کہ ہر طرف گھپ اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور انسانیت کا کاروان وشت حیرت و ضلالت میں بھٹک رہا تھا اور اس وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آیا۔ جب عقل انسانی اپنی طفولیت کی حد عبور کرکے فکر و نظر کی وادی میں قدم رکھ چکی تھی۔ اور انسان کے حواس کو مرعوب کرنے والے معجزات سے کہیں زیادہ عقل و خرد کو مطمئن کرنے والی آیات بینات کی ضرورت تھی۔ سبحان اللہ کیا اعجاز ہے بالحق کے ایک لفظ میں معانی کا سمندر کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔
Ayahs 3:4–5

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا، جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

(3:4) القرفان۔ فرق سے ہے لیکن وسیع المعانی ہے۔ حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ یہاں الفرقان کے متعلق علماء سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ قتادہ اور ربیع بن انس نے قرآن لیا ہے ۔ امام رازی (رح) کے نزدیک وہ معجزات مراد ہیں جن سے حق و باطل میں تمیز ہوتی ہے۔ بعض کے نزدیک وہ دلائل ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں بعض متاخرین نے اس سے عقل مراد لی ہے۔ امام ابن جریر طبری نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک بہترین قول یہ ہے کہ : الفصل بین الحق والباطل یعنی حق و باطل میں تمیز کرنے والی قوت کو فرقان کہا جاتا ہے۔ روح المعانی میں ہے الفرقان انہ القران فرق بہ بین الحق والباطل فاحل فیہ حلالہ و حرم حرامہ وشرع شرائعہ وحد حدودہ وفرائضہ وبین بیانہ وامربطاعتہ ونہی عن معسیتہ وذکر بھذا العنوان بعد ذکرہ باسم الجنس تعظیماً لشانہ ورفعاً لمکانہ۔ اسم جنس کی حیثیت سے ذکر کرنے کے بعد اس عنوان (الفرقان) سے قرآن کو دوبارہ اس کی تعظیم شان اور رفع مکان کے لئے ذکر کیا گیا ہے۔ عزیز۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ غالب، زبردست، قوی، گرامی قدر۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ذوانتقام۔ صاحب انتقام ، جو انتقام پر قادر ہو، انتقام ، سزا دینا، بدلہ لینا، غلبہ پانا۔ بروزن افتعال مصدر ہے نقم سے جس کا معنی کسی شے کو برا سمجھنا، کبھی زبان کے ساتھ عیب لگانے اور کبھی عقوبت (سزا دینا) کیلئے بولا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے)
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(3:6) الحکیم۔ حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے ۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

(3:7) محکمت۔ اسم مفعول جمو مؤنث۔ محکم۔ مفرد ۔ احکام مصدر (افعال) پختہ ۔ درست۔ جن کے معانی اور الفاظ میں اجمال اور اشتباہ نہ ہو۔ لفظ اپنے معانی پر واضح دلالت کرتا ہو اور غیر مراد کا احتمال نہ ہو ۔ اخر۔ اخری کی جمع جو اخر کی تانیث ہے۔ متشابھت۔ اسم فال جمع مؤنث۔ متشابھۃ مفرد۔ قرآن حکیم میں متشابہات سے کیا مراد ہے اس کے معنی کی تشریح علماء نے مختلف طور پر کی ہے عام فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر ظاہراً مراد کا علم نہ ہو سکے تو وہ متشابہ ہے۔ نوٹ : تفسیر بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت تھانوی (رح) نے ایک جامع رسالہ موسوم بہ رسالۃ التواجہ بما یتعلق بالتشابہ تحریر فرمایا ہے جو ازحد مفید ہے اور آل عمران کی تفسیر میں غاشیہ پر مندرج ہے۔ زیغ۔ کجی۔ حق سے روگردانی۔ زاغ یزیغ کا مصدر ہے۔ ابتغائ۔ چاہنا ۔ تلاش کرنا ۔ مصدر ہے یغی سے۔ باب افتعال۔ بغی کی اصل معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں خواہ و ہ تجاوز کرسکے یا نہ کرسکے۔ بغی دو قسم پر ہے (1) محمود یعنی عدل و انصاف کی حد سے آگے نکل کر مرتبہ احسان حاصل کرنا۔ فرض کی حد سے تجاوز کرکے نوافل بجالانا۔ (2) مذموم یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔ زنا کو بھی بغی کہتے ہیں کہ اس میں حدود عفت سے تجاوز کے معنی پائے جاتے ہیں۔ تاویل۔ اول سے بروزن تفعیل مصدر ہے۔ جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں اسی لئے مرجع اور جائے بادگشت کو موئل کہتے ہیں ۔ کسی شے کو خواہ وہ شی علم ہو یا فعل اس کی اصلی مراد کی طرف لوٹانے کے نام تاویل ہے۔ علم کی مثال وما یعلم تاویلہ الا اللہ۔ (اور اس کی تاویل سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا) اور فعل کی مثال ہل ینظرون الا تاویلہ (7:53) اب کیا یہ لوگ اس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے ۔ الخ۔ تاویل ۔ تفسیر۔ تشریح۔ تعبیر۔ کل بیٹھنی۔ بیان۔ حقیقت۔ ٹھیک پڑنا۔ انجام کار قیامت جیسے کہ (7:53) میں اس معنی میں آیا ہے۔ آیت ہذا میں اللہ پر وقف ہے والرسخون سے نیا جملہ شروع ہوتا ہے۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کردیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما۔ تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

(3:8) لاتزغ دیکھو ۔ زیغ آیۃ مندرجہ بالا (3:7) فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو کج نہ کر۔ تو نہ پھیر۔ ھب واحد مذکر حاضر۔ امر ۔ وھب ۔ ھبۃ مصدر باب فتح۔ تو عطا کر ۔ تو بخشش کر۔ وھاب۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت عطا کرنے والا۔ بہت زیادہ بخشش کرنے والا۔ اس سے قبل ان اور ک اور انت کو لا کر اللہ تعالیٰ کی صفت واہبہ میں سخت تاکید پیدا کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہوگا : یقینا وہاب تو تو ہی ہے۔
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا۔ بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

(3:9) المیعاد۔ وعدہ۔ ظرف زمان بھی ہے وقت وعدہ۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچاسکے گا اور ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

(3:10) لن تغنی عنہم۔ نفی تاکید بلن۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ الغنی۔ تونگری ، بےنیازی۔ غنی۔ مالدار۔ بےنیاز۔ اغنی عنہ شیئا۔ اس کو کسی حد تک بےنیاز کردینا ۔ ھذا ما یغنی عنک شیئائی تمہارے کسی کام نہ آئے گی۔ تمہارے لئے کسی فائدہ کی نہ ہوگی۔ تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ما اغنی عنہ ما لہ (111:2) اس کا مال اس کے کام نہ آیا۔ لن تغنی عنھم اموالہم ولا اولادھم من اللہ شیئا ان کا مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کی جانب سے کسی حد تک بھی بےنیاز نہ کرسکیں گی یعنی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے وقود۔ وقد یقد (ضرب) (آگ کا بھڑکنا) سے ایندھن ۔ نیز وقاد وقید بمعنی ایندھن۔
Ayah 3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا، جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(3:11) کداب۔ ک حرف تشبیہ یا تمثیل۔ داب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ مسلسل روش۔ عادۃ مستمرہ۔ ایسی عادت جس پر ہمیشہ عمل ہوتا ہے۔ کداب ال فرعون میں اگر اس کو نیا جملہ تصور کیا جائے تو اس صورت میں دابھم محذوف تصور ہوگا۔ اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آیۃ ماقبل میں جن کفار کا ذکر ہوا ہے ان کا طریقہ بھی وہی تھا جو کہ آل فرعون کا اور ان سے پہلے لوگوں کا تھا۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس کا تعلق آیہ سابقہ میں مذکور کفار کے مال و اولاد سے ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی لن تغنی عنھم اموالہم واولادھم من اللہ شیئا کداب ال فرعون یعنی جس طرح آل فرعون کو اس کا مال اور اس کی اولاد اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی ان (کفار) کو بھی ان کا مال اور ان کی اولاد اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ ایک تیسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کا تعلق وقود النار سے ہے۔ اور عبارت کچھ اس طرح ہے۔ اولئک ھم وقود النار کداب ال فرعون یعنی آل فرعون کی طرح یہ بھی جہنم کی آگ کا ایندھن ہونگے جمہور علماء نے سب سے پہلی صورت کو اختیار کیا ہے عقاب۔ مار، سزا، ایذائ، عذاب، عقوبت، سزا دینا، عاقب یعاقب کا مصدر ہے ۔ عقاب عقوبۃ معاقبۃ۔ عذاب کے لئے مخصوص ہیں۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں (جیسے تعاقب پیچھا کرنے کو کہتے ہیں) چناچہ بولتے ہیں عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہو لیا۔ اس اعتبار سے عقاب وہ سزا ہوئی جو ارتکاب جرم کے پیچھے دی جاتی ہے لہٰذا اس کا ترجمہ پاداش عمل کرنا چاہیے۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں سے کہہ دو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

(3:12) تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر الحشر (باب نصر) کے معنی لوگوں کو ان کے ٹھکانے سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی وغیرہ کی طرف لے جانے کے ہیں۔ چناچہ ایک روایت میں ہے کہ النساء لا یحشرون عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکالا جائے۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔ المھاد۔ اسم۔ بچھونا۔ مراد ٹھکانہ۔ قرارگاہ۔ مھد گہوارہ۔ زمین۔ مھود۔ جمع
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لیے دو گروہوں میں (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑگئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی، ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے، جو اہل بصارت ہیں ان کے لئے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

(3:13) یرونھم مثلیہم رای العین۔ یرون کی ضمیر کا مرجع فئۃ تقاتل فی سبیل اللہ بھی ہوسکتا ہے اور اخری (کافروں کا گروہ) بھی۔ اسی طرح یرونھم میں ہم ضمیر مسلمانوں کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور کفار کے متعلق بھی۔ اس طرح اس فقرہ کے ترجمہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) مسلمان کافروں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (2) مسلمان کافروں کو ان کی اصل تعداد سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (3) مسلمان اپنے آپ کو کافروں سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (4) کفار مسلمانوں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (5) کفار مسلمانوں کو ان کی تعداد سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ (6) کافر اپنے تئیں مسلمانوں سے دو چند دیکھ رہے تھے۔ رای العین مصدر مؤکد لیرونھم۔ بادی النظر میں تعداد کا اندازہ ایک اضافی امر ہے اگر حوصلے بلند اور دل میں ولولہ ہو تو مدمقابل کی تعداد اصل سے کم معلوم دیتی ہے۔ اور اس کے برعکس اگر حوصلے پست ہوں تو دشمن کی تعداد اصل سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اس لحاظ سے معانی نمبر 2 بعید از قیاس ہے کیونکہ مسلمان جوش ایمان سے پُر تھے اس لئے ایسی حالت میں دشمنوں کی تعداداصل سے زیادہ ہرگز معلوم نہیں دیتی بلکہ اصل سے کم نظر آتی ہے معنی نمبر 3 بھی قرین قیاس نہیں مسلمان بخوبی جانتے تھے کہ ان کی تعداد 313 ہے اور جبکہ کافر کی تعداد 1000 کے لگ بھگ تھی۔ اس لئے کسی بھی صورت میں وہ 313 کو 1000 ہزار سے دوگنا خیال نہیں کرسکتے تھے۔ اس طرح معنی نمبر 4 بھی بعید از قیاس ہے کہ کافر 1000 ہزار ہوتے ہوئے 313 کو اپنے سے دو چند یعنی 2000 ہزار کیسے خیال کرسکتے تھے۔ رہے معانی نمبر 1 ۔ نمبر 5 ۔ نمبر 6 ۔ تو فریقین میں سے ایک فریق (مسلمانوں) کے جوش ہمت و جرأت اور دوسرے فریق (کفار) کے جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں صورتیں ممکن ہیں۔ اس اضافی کیفیت کی تائید میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت نقل کی جاسکتی ہے فرماتے ہیں : نظرنا الی المشرکین فرأیناھم یضعفون علینا ثم نظرناھم فما رأیناھم یزیدون علینا رجلا واحدا۔ (ہم نے مشرکین کی طرف دیکھا تو بادی النظر میں ان کو اپنے سے دو گناہ دیکھا پھر دوباہ جب (جوش ایمانی اپنے زوروں پر آیا) ہم نے ان کو دیکھا تو ایسا پایا کہ ہم سے وہ ایک آدمی بھی زائد نہ تھے) ۔ دوسری طرف ابو جہل کا قول ہے کہ جب کفار نے مسلمانوں کو دیکھا تو (چونکہ ابھی مدمقابل کا زور ملاحظہ ہی نہ کیا تھا) ابو جہل نے کہا ان محمد او اصحابہ اکلۃ جزور۔ کہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی تو اونٹ کا ایک لقمہ ہیں۔ لیکن جب مسلمانوں کی جرأت و ہمت کا مزہ چکھا تو نگاہ میں فرق آگیا۔ اور مسلمانوں کی تعداد اصل تعداد سے دو گنا دکھائی دینے لگی۔ جمہور علماء و مفسرین نے اس فقرہ کا مطلب وہی لیا ہے جو کہ نمبر 1 پر درج ہے یعنی مسلمان کافروں کو اپنے سے دو چند دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ تگنے سے بھی زیادہ تھے۔ یؤید۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تائید مصدرباب تفعیل وہ قوی کرتا ہے۔ عبرۃ۔ عبرت۔ نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنے حال کو قیاس کرنا۔ اولی الابصار۔ اصحاب نظر۔ اصحاب عقل۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں، اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے

(3:14) زین۔ تزئین سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ سنوارا گیا۔ مزین کیا گیا۔ اچھا دکھایا گیا۔ قناطیر۔ قنطار کی جمع۔ ڈھیر۔ ابنار۔ کثیر مال۔ پُل ۔ قنطار کی لفظی ساخت بلندی کے مفہوم کو چاہتی ہے اسی لئے اونچی عمارت کو قنطرۃ کہتے ہیں۔ مقنطرۃ۔ ڈھیر کیا ہوا۔ قنطرۃ مصدر باب فعللۃ رباعی مجرد۔ المسومۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث۔ تسویم مصدر سومۃ سے باب تفعیل نشان زدہ ممتاز۔ سیمۃ سومۃ۔ سیما علامت، نشان ۔ سوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانا۔ اس مفہوم کے دو اجزاء ہیں۔ جانا اور طلب۔ کبھی صرف دوسرا جزو ملحوظ ہوتا ہے جیسے یسومونکم سوء العذاب (3:49) تمہیں سخت تکلیفیں دینے کی تلاش میں رہتے تھے۔ چرانے کو بھیجنے کے لئے بھی آتا ہے سمت (باب نصر) اسمت (باب افعال) سو مت (باب تفعیل) میں نے چرانے کے لئے بھیجا۔ قرآن حکیم میں ہے۔ شجر فیہ تسیمون (16:10) درختوں میں تم اونٹوں کو چراتے ہو یا چرانے کے لئے بھیجتے ہو۔ سائمۃ۔ چرانے والے جانور۔ ماب۔ ماب مصدر بھی ہے اور اسم زمان و مکان بھی۔ لوٹنا۔ لوٹنے کی جگہ۔ لوٹنے کا وقت اوب اور ایاب مصدر ہیں۔ ان الینا ایبھم (88:25) تحقیق ان کا لوٹنا ہماری طرف ہے۔
Ayah 3:15

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے کہو) کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو ؟ (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لئے خدا کے ہاں باغاتِ (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(3:15) قل۔ ای قل یا محمد۔ اے محمد ﷺ ان کو کہہ دیجئے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اأنبئکم۔ أ استفہامیہ نہیں بلکہ تقریر اور ثبوت کے لئے ہے انبی مضارع واحد متکلم تنبئۃ (باب تفعیل) سے بمعنی خبر دینا۔ بتانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا میں تم کو بتاؤں، میں تمہیں بتاتا ہوں ۔ خیر۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہتر۔ زیادہ اچھی، عمدہ تر، ذلک سے مراد وہ چیزیں اور نعمتیں جو دنیاوی ہیں اور اوپر مذکور ہوتی ہیں ۔ (وہ بہتر چیز کونسی ہے وہ یہ کہ متقیوں کے لئے ان کے رب کے ہاں جنتیں ہیں جن میں نہریں جاری ہیں) ۔ ازواج اور رضوان کا عطف جنت پر ہے۔ اور ان کے لئے ہوں گی پاک بیبیاں اور خدا کی خوشنودی۔
Ayah 3:16

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

(3:16) قنا۔ ق نا۔ ق واحد مذکر حاضر۔ امر معروف نا ضمیر جمع متکلم مفعول ۔ وقی (لفیف مفروق) (باب ضرب) وقی یقی وقایۃ۔ وفی یوفی۔ ق۔ لاتق گردان امر یوں ہوگی۔ ق۔ قیا۔ قوا۔ قی ۔ قیاقین۔ ق اصل میں اضرب کے وزن پر اوقی تھا۔ عمل تعلیل سے او شروع میں اور ی ساکن آخر میں گرگئی۔ قنا۔ ہم کو بچا۔ ہم کو محفوظ رکھ۔
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

(3:17) والقانتین۔ اطاعت گزار۔ اسم فاعل جمع مذکر معرف باللام قنوت باب نصر سے جس کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کر التزام کرنے کے ہیں۔ المنفقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انفاق مصدر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے والے۔ انفق ینفق (باب افعال) سے ۔ خرچ کرنا۔ باب مفاعلہ سے نافق ینافق فی الدین۔ مذہب میں منافقت کرنا۔ المستغفرین۔ اسم فاعل جمع مذکر استغفار مصدر باب استفعال ۔ گناہوں کی معافی مانگنے والے ۔ اسحار۔ سحر کی جمع جس کے معنی رات کی تاریکی کے ساتھ دن کی روشنی کے ملنے کے ہیں۔ اسی لئے سحر صبح کے اول وقت کو کہتے ہیں ۔ اسماء صبح کے اوقات۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(3:18) شھد اللہ اللہ تعالیٰ نے گواہی دی۔ اس صورت میں اس کا مصدر شھادۃ ہے اور اگر شھود سے ہو تو معنی ہوں گے اس نے پایا والملئکم واولوا العلم۔ واؤ حرف عطف ہے اور ملائکہ اور اولوا العلم معطوف اللہ معطوف علیہ معطوف ہمیشہ معطوف علیہ کے حکم میں ہوتا ہے پس فعل شہد کا اطلاق ان ہر دو معطوف پر بھی ہوگا یعنی اللہ کی گمراہی دیتا ہے اور فرشتے اور اہل علم بھی گواہی دے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ لا الہ الا ھو۔ صاحب تفسیر خازن لکھتے ہیں ومعناہ انہ تعالیٰ قائم ب تدبیر خلقہ وقائم بارزاقھم ومجازیہم باعمالہم۔ ابو الاعلیٰ مودودی اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں : اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی اور انصاف کے ساتھ اس پر گواہ ہیں۔ پیر کرم شاہ ضیاء القرآن میں یوں رقمطراز ہیں :۔ ” قائما بالقسط کی ایک ترکیب یہ ہے کہ یہ حال ہے اور لفظ اللہ ذوالحال۔ اور دوسری ترکیب یہ ہے کہ : لا الہ الا ھو میں ھو ضمیر اس کا ذوالحال ہے اور یہ حال معنی اس کی صفت ہے اس صورت میں یہ مشہور بہٖ میں داخل ہوگا۔ یعنی ان سب گواہوں نے اس کی وحدانیت کی گواہی بھی دی اور اس کے ساتھ اس کے عدل و انصاف کی بھی شہادت دی۔ لا الہ الا ھو۔ کو دوبارہ تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم حاصل ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

(3:19) وما اختلف۔ میں ما نافیہ ہے اور ماجاء ہم میں ما بیانیہ ہے۔ بغیا بینھم۔ بوجہ باہمی حسد و مخالفت کے۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہوچکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو ؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مان لیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچادینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

(3:20) ومن اتبعن۔ اتبعن اصل میں اتبعنی تھا۔ اور وہ جنہوں نے میری پیروی کی۔ الامیین۔ مشرکین عرب جو اہل یہود اور نصاری کے علاوہ تھے۔ امی کے معنی اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ لکھ سکے نہ پڑھ سکے۔ اس زمانہ میں عرب کی یہ مخصوص صفت تھی کہ وہ اکثر و بیشتر بےپڑھے لکھے تھے اور اس صفت میں دوسری قوموں سے ممتاز تھے۔ تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی سے۔ اگر تولی کا لفظ متعدی بنفسہٖ ہو تو معنی ولایت (دوستی) اور قریب تریں مواضع سے اس کے حصول کو چاہتا ہے۔ جیسے ولیت سمعی کذا۔ میں نے اپنے کان کو فلاں چیز پر لگایا۔ یا جیسے قرآن حکیم میں ہے ومن یتولی اللہ ورسولہ (5:56) اور جو شخص خدا اور اس کے رسول سے دوستی کرے گا۔ اور جب تعدیہ بذریعہ عن ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا مقدر تو اس کے معنی اعراض اور روگردانی اور دور ہونے کے ہیں جیسے آیت ہذا میں ۔ یہاں عن مقدر ہے پس فان تولوا کا معنی ہوگا اگر وہ روگردانی کریں۔
Ayah 3:21

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو

(3:21) یامرون بالقسط۔ جو عدل و انصاف کا حکم کرتے تھے۔ الیم۔ دردناک ۔ الم ۔ درد۔ دکھ۔ تکلیف۔ جمع آلام ۔
Ayah 3:22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کو کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

(3:22) حبطت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ اکارت ہوگئے۔ وہ مٹ گئے۔ وہ ضائع ہوگئے۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات) سے بہرہ دیا گیا اور وہ اس کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کردے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے

(3:23) یدعون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب دعوۃ سے۔ بلائے جائیں گے۔ بلائے جاتے ہیں۔ لیحکم میں حکم کی اضافت کتاب اللہ کی طرف ہے۔ ثمحرف عطف ہے اور پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے یہاں معطوف علیہ محذوف ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی وہم یعلمون انہ ھو الحق ثم یتولی فریق منھم۔ یہاں علم ہونے کے بعد ان کی روگردانی کا فعل مذکور ہے استبعاد لتولیہم معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ ہم معرضون یا تو فریق کی صفت ہے۔ وہم قوم لایزال الاعراض دینہم (وہ ایک ایسا ٹولہ تھا کہ دین سے روگردانی سے باز نہیں آتا تھا۔ یا فریق کا حال ہے اور فریق ذوالحال ہے۔
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

(3:24) غرھم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ غرور مصدر۔ اس نے دھوکہ دیا۔ اس نے فریب دیا ہم ضمیر جمع مذکر غائب اس کا فاعل جملہ ما کانوا یفترون ہے۔ ای غرھم افتراء ھم و کذبھم۔ اور ان کے کذب و افتراء کی مثالیں۔ (1) لن تمسنا النار الا ایاما معدودات (2) اباء نا الا نبی اء یشفعون لنا۔ (3) ان اللہ تعالیٰ وعد یعقوب ان لا یعذب ابناء ہ وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پور اپور بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا

(3:25) فکیف۔ ای فکیف یکون حالہم لیوم میں ل بمعنینی آیا ہے ای فی یوم۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

(3:26) تنزع۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو چھین لیتا ہے۔ تو اکھاڑ پھینکتا ہے۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے

(3:27) تولج۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ ایلاج (افعال) مصدر۔ تو داخل کرتا ہے۔ و ل ج مادہ۔ کسی تنگ جگہ میں داخل کرنا۔ جیسے باب ضرب سے ولج یلج (حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے۔
Ayahs 3:28–29

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنوں کو چاہئے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو تو مضائقہ نہیں اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(3:28) فلیس من اللہ فی شیئ۔ اس فقرہ کی ترتیب کچھ یوں ہوسکتی ہے۔ (1) فلیس من اللہ فی شیء (الخازن) تو اس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی دوستی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ تو اللہ کے دشمنوں کے دوست ہیں تو اللہ ان کو کیسے دوست رکھے گا۔ کیونکہ موالاۃ اللہ وموالاۃ الکفار ضدان لا یجتمعان۔ کہ خدا کی دوستی اور کفار کی دوستی باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ (2) فلیس لہ نصر او ولایۃ من اللہ فی ای امر۔ تو کسی امر میں بھی اس کو اللہ کی دوستی یا مدد نصیب نہ ہوگی۔ (عبد اللہ یوسف علی) الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ تتقوا۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عامل ان کے گرگیا۔ تقۃ مصدر ہے تقۃ اصل میں وقاۃ تھا۔ واؤ کو تا سے بدل دیا گیا۔ و ق ی۔ حروف مادہ ہیں۔ وقی۔ یقی۔ اتقی۔ یتقی۔ بچنا۔ پرہیز کرنا۔ حفاظت کرنا۔ ماسوائے ایسی حالت کے کہ تم کو ان سے ظلم کو ڈر ہو۔ ای الا ان تخافوا منھم مخافۃ (الخازن) یا تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے ایسا طرز عمل اختیار کرو۔ (تفہیم القرآن) ۔ یحذرکم۔ یحذر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (اور اللہ) تم کو ڈراتا ہے۔ خبردار کرتا ہے اپنی ذات سے۔ یعنی اپنے غضب ۔ اپنی ناراضگی سے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان۔ صار یصیر کا مصدر بھی ہے۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ ٹھکانہ۔ لوٹنا۔ مائل ہونا۔ کاٹنا۔ جمع ہونا۔
Ayahs 3:30–32

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

(3:30) بینھا و بینہ۔ میں ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے اور ہ ضمیر کا مرجع یا عمل سور ہے یا یوم ہے۔ تود۔ مضارع واحد مؤنث غائب ود (باب سمع) سے مصدر ۔ وہ چاہے گی۔ آرزو کرے گی۔ دوست رکھے گی۔ امدا۔ مدت مدید۔ رؤف۔ مہربان ۔ شفقت کرنے والا۔ رأفۃ سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

(3:33) اصطفی۔ اصطفاء (افتعال) سے ماضی۔ واحد مذکر غائب اس نے چن لیا۔ اس نے پسند کرلیا۔ صفو سے باب افتعال میں ت کو ط سے اور واؤ کو ی سے بدل کر اصطفی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا کسی بندہ کو چن لینا۔
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(3:34) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذریۃ کہتے ہیں۔ مگر عرف عام میں چھوٹی بڑی سب والا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ یا تو (1) ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ اور اس کا ہمزہ متروک ہوگیا ہے۔ جیسے ردیۃ اور بریۃ ۔ یا (2) اس کی اصل ذرویۃ ہے۔ یا (3) ذر سے بمعنی بکھیرنا۔ فعلیۃ کے وزن پر جیسے قمریۃ ہے۔ اس کی جمع ذرای اور ذریات ہے۔ ذریۃ بعضھا من بعض ایک نسل جس کے بعض بعض کی اولاد تھے۔ بعضھا من بعض۔ ذریۃ کی صفت ہے۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(3:35) امرات عمران۔ عمران حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اور ان کی ہمشیرہ حضرت مریم کے باپ کا نام تھا۔ امرات عمران۔ میں عمران سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں بلکہ عمران کی عورت سے مراد عمران کی نسل میں سے ایک عورت ہے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھیں۔ اور حضرت مریم کی والدہ اور حضرت یحییٰ کی والدہ آپس میں رشتہ کی بہنیں تھیں۔ لہٰذا حضرت مریم ام عیسیٰ (علیہ السلام) آل عمران میں سے ہوئیں۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے باپ کا نام بھی عمران ہی تھا۔ (3:35) نذرت۔ ماضی واحد متکلم نذر مصدر ۔ (باب ضرب۔ نصر) میں نے منت مانی۔ میں نے نذر مانی۔ محررا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ تحریر۔ مصدر ۔ آزاد کیا ہوا۔ بیت المقدس کی خدمت کے لئے مخصوص (مجاہد) عبادت کے لئے خالص کرلیا گیا (شعبی) دنیا کے دھندوں سے آزاد کردہ (جعفر صادق (رح))
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

(3:36) اعیذھا۔ میں اس کو پناہ دیتی ہوں۔ اعاذۃ سے اعاذ یعیذ (باب افعال کرم یکرم) سے مضارع واحد متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ماذ یعوذ۔ ب۔ (باب نصر) کسی کی پناہ طلب کرنا۔ یا پناہ لینا۔ ” واللہ سے تا کالانثی “ جملہ معترضہ ہے۔ وانی سمیتھا مریم سے پھر عمران کی عورت کا بیان شروع ہوجاتا ہے۔ الرحیم۔ ملعون ۔ مردود۔ راندہ ہوا۔ رحیم سے بروزن فعیل بمعنی مفعول۔ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے شیطان کے لئے آیا ہے۔ کہ راندہ درگاہ الٰہی ہے۔
Ayahs 3:37–38

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

(3:37) انب تھا۔ انبات (افعال) مصدر بمعنی اگانا۔ بڑھانا۔ اس نے اس کو بڑھایا (جاندار کے لئے) اس نے اس کو اگایا۔ (نباتات کے لئے) ای ربھا الرب تربیۃ حسنۃ فی عبادۃ وطاعۃ لربھا (روح المعانی) ۔ کفلہا زکریا۔ اس نے (اللہ نے) اس کو (مریم کو) زکر یا کی کفالت میں دیدیا۔ کفل ماضی واحد مذکر غائب۔ تکفیل (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ کفل کا فاعل اللہ۔ یعنی اللہ نے زکریا کو مریم کا کفیل بنادیا۔ اس صورت میں ھا ضمیر مفعول اول اور زکریا مفعول دوم ہوگا۔ لیکن تکفیل کے معنی کسی کو اپنی کفالت (ذمہ داری) میں لے لینا بھی ہے۔ اس لئے زکریا فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی زکریا نے مریم کو اپنی ذمہ داری میں لے لیا۔ کفل (باب نصر) بمعنی کسی کو اپنی ذمہ داری میں لے لینا۔ کفیل ذمہ دار
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

(3:39) بکلمۃ من اللہ۔ اللہ کی طرف سے ایک فرمان۔ اس فرمان سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں چونکہ ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے ایک غیر معمولی فرمان سے خزق عادت کے طور پر ہوئی تھی۔ اس لئے ان کو قرآن میں کلمۃ من اللہ کہا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن) حصورا۔ عورت کے پاس نہ جانے وال۔ عورتوں سے بےرغبت ۔ جو عورت کے پاس نہ جائے خواہ نامردی کے باعث یا پاکبازی اور عفت کی خاطر۔ اس کو حصور کہتے ہیں۔ حصر سے بروزن فعول مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(3:40) الکبیر۔ اسم مصدر۔ بڑھاپا۔ پیرانہ سالی۔ عاقر۔ بانجھ۔ عقارۃ سے جس کے معنی عورت کے بانجھ ہونے کے ہیں۔