3. Surah Aal-i-Imraan
آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر ٣۔ رکوع ٢٠ ، آیات ٢٠٠، الفاظ وکلمات ٣٥٤٢۔ حروف ١٥٣٣٦۔ مقام نزول مدینہ منورہ۔ نبی کریم نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران کو سورج اور چاند کے ساتھ تشبیہ دی ہے، فرمایا یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن دو بادلوں کی شکل میں ظاہر ہوں گی۔ ایک جگہ آپ نے ان دونوں سورتوں کو کھلے ہوئے پھولوں سے تشبیہ دی ۔ اس سے معلو م ہوا کہ یہ دونوں سورتیں ایک دوسرے سے بہت مناسبت رکھتی ہیں۔ تعارف سورة آل عمران فتح مکہ کے بعد جب پورے جزیرۃ العرب پر اہل ایمان کی حکومت وسلطنت قائم ہوچکی تھی 9 میں نجران کے بڑے بڑے عیسائی پادریوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کی درخواست کی تاکہ وہ اپنے عقائد کے مطابق عیسائی مذہب کی تشریح کرسکیں۔ نبی کریم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصاریٰ یعنی عیسائی پادریوں کو آنے کی اجازت مرحمت فرمادی ۔ نجران عرب کے جنوبی علاقے یمن کی ایک بستی کا نام ہے نجران اسی طرح عیسائیوں کا مرکز تھا جس طرح موجودہ دور میں ویٹی کن یورپ میں عیسائیت کی تبلغ کا مرکز ہے ان لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بحث و مباحثہ کے لیے ساٹھ جید اور ماہر مبلغین (پادریوں) کا وفد بھیجا جو عیسائی دنیا ہی میں نہیں بلکہ بادشاہوں کے دربار میں بھی بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس وفد میں بعض ایسے زبردست اور چرب زبان مقرر بھی جن کی دھاک پوری عیسائی دنیا پہر بیٹھی ہوئی تھی۔ خاص طور پر عبدالمسیح عاقب بڑا دولت مند اور اپنی قوم کا سردار مانا جاتا تھا۔ اسی طرح ایھم السید جو رائے، تدبیر جوڑ توڑ اور ذہانت میں ایک خاص مقام اور درجہ رکھتا تھا۔ ابو حارثہ ابن علقمہ بھی عیسائیوں کا شعلہ بیان مقرر اور مشہور پادری تھا۔ غرضیکہ ساٹھ آدمیوں کا یہ وفد ایک سے ایک مقرر اور اپنی قوم کے قابل احترام لوگوں پر مشتمل تھا۔ جب یہ وفد مدینہ منورہ پہنچا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اسلامی اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ان مہمانوں کے ساتھ اسلامی اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عزت واحترام کا معاملہ کیا جائے۔ چناچہ اس پورے وفد کو صحابہ کرام (رض) نے پورے آرام سے ایک جگہ ٹھہرایا۔ یہ بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ جب یہ غیر مسلموں کا وفد آیا تھا اس وقت تک مدینہ منورہ کو حرام کا درجہ نہیں دیا گیا تھا، اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ کو بھی حرم کا درجہ دے دیا گیا تو اب قیامت تک مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور پورے حرم کی حدود میں کسی بھی غیر مسلم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس وفد نے رات بھی اچھی طرح آرام کرلیا تو آپ نے اس وفد کے لوگوں کو اپنے پاس آنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس وفد کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور عیسائیت کو سچا بتانے کے لیے محتلف باتیں کیں اور بتایا کہ ہم اگر حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ (1) حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ (2) وہ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے (3) وہ مٹی سے پرندے بناکر جب ان کو پھونک مارتے تو وہ زندہ ہوکر اڑ جاتے تھے (4) جب وہ پیدائشی اندھوں کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ آنکھوں والے ہوجاتے تھے (5) وہ کوڑھیوں کو صحیت مند بنادیتے تھے (6) وہ لوگوں کو غیب کی خبریں بتا دیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ (7) اس وفد نے قرآن کریم کی چند باتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن نے بھی حضرت عیسیٰ کا کلمۃ اللہ اور روح اللہ کہا ہے (8) انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ نے بھی قرآن میں جگہ جگہ یہ کہا ہے کہ ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے یہ کام کیا، ہم نے قرآن کو نازل کیا وغیرہ ان کا کہنا تھا کہ قرآن سے بھی ثابت ہے کہ (نعوذباللہ) اللہ تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دوسرے بھی شریک ہیں۔ اس وفد کے یہ سوالات تھے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران کو نازل کیا اور عیسائی وفد کی ایک بات کا واضح دلیلوں کے ساتھ جواب دیا۔ جب اس وفد نے پانے سوالات کرلیے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ 1 ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ جیسا ہوتا ہے ؟ وفد نے کہا کیوں نہیں 2 ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جانتے ہو اللہ وہ ہے جس کو موت نہیں آتی وہ زندہ رہے گا جب کہ حضرت عیسیٰ کو موت سے ضرور واسطہ پڑے گا ؟ وفد کے لوگوں نے کہا جی ہاں ایسا ہی ہے۔ 3 ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے ہر چیز کو وجود دے کر اس کو اپنے دست قدرت سے تھام رکھا ہے وہ اس کا محافظ اور نگران اور رزق پہنچانے والا ہے ؟ آپ نے پوچھا ان میں سے کوئی بات بھی حضرت عیسیٰ میں تھی ؟ وفد نے کہا جی نہیں۔ 4 ۔ آپ نے فرمایا اللہ وہ ہے جس سے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ یا چھپی ہوئی نہیں ہے جبکہ عیسیٰ کو اللہ نے جتنا علم دیا تھا وہ اس سے زیادہ نہ جانتے تھے ؟ وفد نے اس کا بھی اقرار کیا۔ 5 ۔ آپ نے فرمایا پروردگار نے حضرت عیسیٰ کی شکل و صورت اپنی مرضی سے ماں کے پیٹ میں بنائی ؟ کہا جی ہاں 6 ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ کھانے پینے اور دوسری حاجات کا محتاج نہیں ہے ؟ وفد کے لوگوں نے کہا جی ہاں اللہ ان میں سے کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ 7 ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت مریم (رض) نے حضرت عیسیٰ کو اسی طرح نومہینے تک اپنے شکم میں رکھا جس طرح عام بچے شکم مادر میں رہتے ہیں۔ پیدا ہونے کے بعد کیا ان کو غذا نہیں دی گئی ؟ وفد نے کہا بےشک۔ 8 ۔ آپ نے آخری بات پوچھی کہ اگر حضرت عیسیٰ میں یہ باتیں تھیں جن کا تم بھی انکار نہیں کرسکتے تو یہ بتاؤ وہ اللہ تھے یا اللہ کے بندے تھے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوالات اس قدر بھرپور تھے کہ سب کے سب لاجواب ہوکر شرمندہ سے ہوگئے تھے لیکن سچائی کو جان لینے کے باوجود انہوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنائے رکھا اور کہا کہ ہم ان تمام باتوں پر غور کریں گے۔ سورة آل عمران میں ان کے تمام سوالات کے جوابات دیئے ہیں اور بتایا ہے کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے کیا نعوذ باللہ وہ بھی معبود تھے۔ مرودں کو زندہ کرنا، مٹی سے پرندے بناکر پھونک مارنے سے ان کا زندہ ہونا ، پیدائشی نابینا کو آنکھوں والا بنانا یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ نے کرکے یہ نہیں فرمایا کہ یہ میرا کارنامہ ہے۔ بلکہ وہ فرماتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔ اس نے میری زبان میں یہ تاثیر عطا فرمائی ہے کہ جب میں پھونک مارتا ہوں یا نابینا کی آنکھوں پر کوڑھیوں کے جسم پر ہاتھ پھیرتا ہوں اور مردوں سے کہتا ہوں کہ اللہ کے حکم سے اٹھ جاؤ تو وہ زندہ اور صحت مند ہوجاتے ہیں سورة آل عمران میں اللہ نے اس کا جواب بھی دیا ہے کہ جب اللہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں یا حضرت عیسیٰ کو کلمتہ اللہ یا روح کہتے ہیں تو یہ سب ” آیات متشابھات “ ہیں۔ قرآن کریم کی ان ہی آیات اور الفاظ کو پکڑ کر بیٹھ جانا غلط ہے کیونکہ قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی گئی ہے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات بعض آیات کی تشریح ہیں۔ جب عیسائی وفد کے سامنے ساری حقیقتیں کھول کر بیان کردی گئیں تب اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ لوگ اب بھی دین اسلام کی سچائی کو نہیں مانتے تو ان سے کہیے کہ وہ خود اور اپنے بال بچوں کو لے کر صبح کھلے میدان میں آجائیں ہم بھی اپنے آپ کو اور گھروالوں کو لے کر آجاتے ہیں پھر اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ اے اللہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اس پر آپ کا غضب نازل ہوجائے۔ جب عیسائی وفد کو اس مباہلہ یعنی قسم کھانے کی دعوت دی گئی تو وہ بوکھلاگئے اور کہنے لگے ہم اس مسئلے پر رات کو غور کرکے جواب دیں گے لیکن وہ اس بات سے اس قدر ڈرگئے کہ بغیر بتائے راتوں رات مدینہ سے بخران کی طرف چپکے سے بھاگ گئے اور انہوں نے ” مباہلہ “ کے چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پورے وفد کو ذلت سے دوچار کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین اسلام اور صحابہ کرام (رض) کو سرخ رو فرمادیا۔ اب آپ پوری سورة آل عمران کی آیات کی تفصیل ملاحظہ کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والوں کو دین اسلام کی سچائی اور عسائیت کے غلط عقیدوں کی اصلاح فرمادی ہے۔ اس سورت کے آخر میں دو غزوات (اسلامی جنگوں) کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد یہ دونوں جنگیں وہ تھیں جن کے نتائج یعنی کفار کی بدترین شکست سے جزیرۃ العرب اور بڑی طاقتیں چونک اٹھیں اور وہ اسلام کی اس چھوٹی سی سلطنت کو جڑوبنیاد سے اکھاڑنے کی تدبیروں میں لگ گئیں اس لیے اہل ایمان کو یہودیوں، نصاریٰ ، کفار ومشرکین اور منافقین سے ہوشیار رہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں ، عرب کے نصاریٰ ، کفار ومشرکین کے تمام قبیلے اور آستین میں چھپے سانپ منافقین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام کے اس پودے کو اکھاڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور اللہ نے شدید مخالفتوں کے باوجود اس چھوٹے سے پودے کو ایک تناور درخت بنادیا اور آہستہ آہستہ ساری دنیا پر اسلام کی حقانیت ثابت ہوکر رہی اور انشاء اللہ اب قیامت تک اس تنا ور درخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ مخالفت کی تیز آندھیوں میں اس درخت کے کچھ پتے گرجائیں ۔ شاخیں ٹوٹ جائیں کھبی خزاں کا موسم آجائے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ درخت اپنی بنیادوں سے اکھڑجائے۔ کیونکہ اب ساری انسانیت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اس دین کو اپنا لیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں ان کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہوجائیں ۔ ذٰلک الفوذ العظیم (یہی سب سے بڑی کامیابی ہے) ۔
الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader
الف۔ لام۔ میم۔
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جو زندہ اور نظام کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے ۔
نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader
اے نبی اس نے آپ پر کتاب برحق کو نازل کیا جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابیں ان کے پاس ہیں۔ اس نے توریت اور انجیل کو
مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader
اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا۔ اور اسی نے حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی نازل کی۔ بلا شبہ جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کو سخت عذاب دیا جائے گا ۔ اللہ زبردست طاقت والا اور (برائی کا ) بدلہ لینے والا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader
بیشک زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader
وہ ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری شکلیں صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب کو نازل کیا ۔ ان میں سے کچھ آیات تو محکمات ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں۔ کچھ دوسری آیات متشابہات ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے ۔ وہ ان آیات میں ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں جو متشابہات ہیں تا کہ وہ ان کے من پسند مطلب اور فتنے تلاش کرسکیں۔ حالانکہ ان کا ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اور پختہ علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ پر ایمان لے آئے۔ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے مگر اس پر وہی دھیان دیتے ہیں جو عقل وفکر رکھنے والے ہیں
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader
(ان کی زبانوں پر ہوتا ہے کہ ) اے ہمارے پروردگار ہمیں ہدایت اور رہنمائی عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دیجئے گا۔ ہمیں اپنی رحمت سے نوازئیے گا، بیشک تو ہے بڑا دینے والا،
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader
اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں بلاشبہ آپ اپنے وعدہ کو کبھی بدلتے نہیں ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader
بلاشبہ جو لوگ کفر کرتے ہیں انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ ان کا مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یہ دوزخ کا ایندھن ہیں
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader
ان کا انجام بھی فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے والے لوگوں جیسا ہوگا۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ یا اللہ نے ان کے گناہوں کی سزا میں انہیں پکڑ لیا۔ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔ جو بدترین ٹھکانا ہے۔
قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader
یقیناً وہ دو جماعتیں جن کا آپس میں مقابلہ ہوا ان میں تمہارے لئے ایک نشانی ہے ان میں ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑرہی تھی اور دوسری کافر جماعت تھی جو کھلی آنکھوں سے ان کو اپنے سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہی تھی اور اللہ جس کو چاہتا ہے فتح و نصرت سے نواز دیتا ہے۔ بلاشبہ آنکھیں رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق ہے۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader
لوگوں کو ان کی خواہشات کی چیزیں پسندیدہ بنا دی گئی ہیں۔ عورتیں، بیٹے اور سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگے ہوئے (پہلے ہوئے) گھوڑے، مویشی اور کھیتی باڑی ، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ بہترین ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔
قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے ۔ اللہ کا خوف رکھنے والوں کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے بہتی ہوئی نہریں اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کی رضا و خوشنودی انہیں حاصل ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے واقف ہے۔
اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader
یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے۔ ہمارے گناہ بخش دیجئے اور ہمیں دوزخ میں کی آگ سے بچا لیجئے۔
اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader
وہ صبر کرنے والے راست باز، فرماں بردار، فیاض اور رات کے آخری حصے میں اللہ سے مغفرت چاہنے والے ہیں۔
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader
خود اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور علم و بصیرت رکھنے والے اس بات پر گواہ ہیں کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ عدل و انصاف سے انتظام قائم رکھنے والا ہے۔ وہی زبردست حکمت والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader
یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو اس دین سے اختلاف کیا ہے وہ علم حاصل ہوجانے کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے کیا ہے۔ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader
اے نبی ﷺ پھر اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑنے لگیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں نے اور میری اطاعت کرنے والوں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرکرلیا ہے۔ آپ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے یہ بھی پوچھ لیجئے کہ کیا تم اسلام لاتے ہو ؟ پھر اگر وہ اس دین کو قبول کرلیں تو یقیناً ایسے لوگ راہ ہدایت حاصل کرلیں گے لیکن اگر وہ نہ مانیں تو آپ کا کام (اللہ کا پیغام ) پہنچا دینا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ اور سمجھ لے گا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader
بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔ ناحق پیغمبروں کو قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے ان کو مار ڈالتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں تو اے نبی ﷺ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا اور آخرت میں اپنے تمام اعمال کو برباد کر ڈالا ہے۔ ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے (ان علماء یہود) کو نہیں دیکھا جنہیں اللہ کی کتاب کا کچھ علم دیا گیا تھا۔ ان کو اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ بےرخی اختیار کرتا ہوا منہ پھیر لیتا ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں چند روز کے سوا آگ ہرگز نہ چھوئے گی۔ ان کی من گھڑت باتوں نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے جو وہ خود سے بنا لیتے ہیں۔
فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader
اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ان کو ایک ایسے دن میں جمع کریں گے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک شبہ نہیں ہے۔ اس دن ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہ ہوگی۔
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader
اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے اللہ سارے ملکوں کے مالک آپ جسے چاہیں حکومت دے دیں جس سے چاہیں چھین لیں۔ آپ جسے چاہیں عزت عطا کردیں اور جسے چاہیں ذلت دے دیں ہر طرح کی بھلائیاں آپ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ بلاشبہ آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔
تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader
آپ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتے ہیں۔ جاندار میں سے بےجان کو اور بےجان میں سے جاندار کو نکالتے ہیں ۔ آپ جسے چاہتے ہیں بےحساب (رزق) عطا فرماتے ہیں۔
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader
اہل ایمان مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھنے کی وجہ سے بچاؤ اختیار کرو۔ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے دلوں میں جو کچھ چھپاتے ہو یا جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader
وہ دن جب کہ ہر شخص اپنے بھلے اور برے کئے ہوئے کاموں کو اپنے سامنے پائے گا تو اس دن ہر شخص اس بات کی تمنا کرے گا کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا۔ اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader
اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ وہ اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔
قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader
ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر بھی وہ منہ پھیر لیں تو بلاشبہ اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا