3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر ٣۔ رکوع ٢٠ ، آیات ٢٠٠، الفاظ وکلمات ٣٥٤٢۔ حروف ١٥٣٣٦۔ مقام نزول مدینہ منورہ۔ نبی کریم نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران کو سورج اور چاند کے ساتھ تشبیہ دی ہے، فرمایا یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن دو بادلوں کی شکل میں ظاہر ہوں گی۔ ایک جگہ آپ نے ان دونوں سورتوں کو کھلے ہوئے پھولوں سے تشبیہ دی ۔ اس سے معلو م ہوا کہ یہ دونوں سورتیں ایک دوسرے سے بہت مناسبت رکھتی ہیں۔ تعارف سورة آل عمران فتح مکہ کے بعد جب پورے جزیرۃ العرب پر اہل ایمان کی حکومت وسلطنت قائم ہوچکی تھی 9 ؁ میں نجران کے بڑے بڑے عیسائی پادریوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کی درخواست کی تاکہ وہ اپنے عقائد کے مطابق عیسائی مذہب کی تشریح کرسکیں۔ نبی کریم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصاریٰ یعنی عیسائی پادریوں کو آنے کی اجازت مرحمت فرمادی ۔ نجران عرب کے جنوبی علاقے یمن کی ایک بستی کا نام ہے نجران اسی طرح عیسائیوں کا مرکز تھا جس طرح موجودہ دور میں ویٹی کن یورپ میں عیسائیت کی تبلغ کا مرکز ہے ان لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بحث و مباحثہ کے لیے ساٹھ جید اور ماہر مبلغین (پادریوں) کا وفد بھیجا جو عیسائی دنیا ہی میں نہیں بلکہ بادشاہوں کے دربار میں بھی بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اس وفد میں بعض ایسے زبردست اور چرب زبان مقرر بھی جن کی دھاک پوری عیسائی دنیا پہر بیٹھی ہوئی تھی۔ خاص طور پر عبدالمسیح عاقب بڑا دولت مند اور اپنی قوم کا سردار مانا جاتا تھا۔ اسی طرح ایھم السید جو رائے، تدبیر جوڑ توڑ اور ذہانت میں ایک خاص مقام اور درجہ رکھتا تھا۔ ابو حارثہ ابن علقمہ بھی عیسائیوں کا شعلہ بیان مقرر اور مشہور پادری تھا۔ غرضیکہ ساٹھ آدمیوں کا یہ وفد ایک سے ایک مقرر اور اپنی قوم کے قابل احترام لوگوں پر مشتمل تھا۔ جب یہ وفد مدینہ منورہ پہنچا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ اسلامی اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ان مہمانوں کے ساتھ اسلامی اخلاق اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عزت واحترام کا معاملہ کیا جائے۔ چناچہ اس پورے وفد کو صحابہ کرام (رض) نے پورے آرام سے ایک جگہ ٹھہرایا۔ یہ بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ جب یہ غیر مسلموں کا وفد آیا تھا اس وقت تک مدینہ منورہ کو حرام کا درجہ نہیں دیا گیا تھا، اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ کو بھی حرم کا درجہ دے دیا گیا تو اب قیامت تک مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور پورے حرم کی حدود میں کسی بھی غیر مسلم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس وفد نے رات بھی اچھی طرح آرام کرلیا تو آپ نے اس وفد کے لوگوں کو اپنے پاس آنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس وفد کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور عیسائیت کو سچا بتانے کے لیے محتلف باتیں کیں اور بتایا کہ ہم اگر حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ (1) حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ (2) وہ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے (3) وہ مٹی سے پرندے بناکر جب ان کو پھونک مارتے تو وہ زندہ ہوکر اڑ جاتے تھے (4) جب وہ پیدائشی اندھوں کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ آنکھوں والے ہوجاتے تھے (5) وہ کوڑھیوں کو صحیت مند بنادیتے تھے (6) وہ لوگوں کو غیب کی خبریں بتا دیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ (7) اس وفد نے قرآن کریم کی چند باتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن نے بھی حضرت عیسیٰ کا کلمۃ اللہ اور روح اللہ کہا ہے (8) انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ نے بھی قرآن میں جگہ جگہ یہ کہا ہے کہ ہم نے پیدا کیا۔ ہم نے یہ کام کیا، ہم نے قرآن کو نازل کیا وغیرہ ان کا کہنا تھا کہ قرآن سے بھی ثابت ہے کہ (نعوذباللہ) اللہ تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دوسرے بھی شریک ہیں۔ اس وفد کے یہ سوالات تھے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران کو نازل کیا اور عیسائی وفد کی ایک بات کا واضح دلیلوں کے ساتھ جواب دیا۔ جب اس وفد نے پانے سوالات کرلیے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ 1 ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ جیسا ہوتا ہے ؟ وفد نے کہا کیوں نہیں 2 ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جانتے ہو اللہ وہ ہے جس کو موت نہیں آتی وہ زندہ رہے گا جب کہ حضرت عیسیٰ کو موت سے ضرور واسطہ پڑے گا ؟ وفد کے لوگوں نے کہا جی ہاں ایسا ہی ہے۔ 3 ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے ہر چیز کو وجود دے کر اس کو اپنے دست قدرت سے تھام رکھا ہے وہ اس کا محافظ اور نگران اور رزق پہنچانے والا ہے ؟ آپ نے پوچھا ان میں سے کوئی بات بھی حضرت عیسیٰ میں تھی ؟ وفد نے کہا جی نہیں۔ 4 ۔ آپ نے فرمایا اللہ وہ ہے جس سے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ یا چھپی ہوئی نہیں ہے جبکہ عیسیٰ کو اللہ نے جتنا علم دیا تھا وہ اس سے زیادہ نہ جانتے تھے ؟ وفد نے اس کا بھی اقرار کیا۔ 5 ۔ آپ نے فرمایا پروردگار نے حضرت عیسیٰ کی شکل و صورت اپنی مرضی سے ماں کے پیٹ میں بنائی ؟ کہا جی ہاں 6 ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ کھانے پینے اور دوسری حاجات کا محتاج نہیں ہے ؟ وفد کے لوگوں نے کہا جی ہاں اللہ ان میں سے کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ 7 ۔ آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت مریم (رض) نے حضرت عیسیٰ کو اسی طرح نومہینے تک اپنے شکم میں رکھا جس طرح عام بچے شکم مادر میں رہتے ہیں۔ پیدا ہونے کے بعد کیا ان کو غذا نہیں دی گئی ؟ وفد نے کہا بےشک۔ 8 ۔ آپ نے آخری بات پوچھی کہ اگر حضرت عیسیٰ میں یہ باتیں تھیں جن کا تم بھی انکار نہیں کرسکتے تو یہ بتاؤ وہ اللہ تھے یا اللہ کے بندے تھے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوالات اس قدر بھرپور تھے کہ سب کے سب لاجواب ہوکر شرمندہ سے ہوگئے تھے لیکن سچائی کو جان لینے کے باوجود انہوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنائے رکھا اور کہا کہ ہم ان تمام باتوں پر غور کریں گے۔ سورة آل عمران میں ان کے تمام سوالات کے جوابات دیئے ہیں اور بتایا ہے کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تھے کیا نعوذ باللہ وہ بھی معبود تھے۔ مرودں کو زندہ کرنا، مٹی سے پرندے بناکر پھونک مارنے سے ان کا زندہ ہونا ، پیدائشی نابینا کو آنکھوں والا بنانا یہ سب کچھ حضرت عیسیٰ نے کرکے یہ نہیں فرمایا کہ یہ میرا کارنامہ ہے۔ بلکہ وہ فرماتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔ اس نے میری زبان میں یہ تاثیر عطا فرمائی ہے کہ جب میں پھونک مارتا ہوں یا نابینا کی آنکھوں پر کوڑھیوں کے جسم پر ہاتھ پھیرتا ہوں اور مردوں سے کہتا ہوں کہ اللہ کے حکم سے اٹھ جاؤ تو وہ زندہ اور صحت مند ہوجاتے ہیں سورة آل عمران میں اللہ نے اس کا جواب بھی دیا ہے کہ جب اللہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں یا حضرت عیسیٰ کو کلمتہ اللہ یا روح کہتے ہیں تو یہ سب ” آیات متشابھات “ ہیں۔ قرآن کریم کی ان ہی آیات اور الفاظ کو پکڑ کر بیٹھ جانا غلط ہے کیونکہ قرآن کریم کی سینکڑوں آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی گئی ہے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات بعض آیات کی تشریح ہیں۔ جب عیسائی وفد کے سامنے ساری حقیقتیں کھول کر بیان کردی گئیں تب اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ لوگ اب بھی دین اسلام کی سچائی کو نہیں مانتے تو ان سے کہیے کہ وہ خود اور اپنے بال بچوں کو لے کر صبح کھلے میدان میں آجائیں ہم بھی اپنے آپ کو اور گھروالوں کو لے کر آجاتے ہیں پھر اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ اے اللہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اس پر آپ کا غضب نازل ہوجائے۔ جب عیسائی وفد کو اس مباہلہ یعنی قسم کھانے کی دعوت دی گئی تو وہ بوکھلاگئے اور کہنے لگے ہم اس مسئلے پر رات کو غور کرکے جواب دیں گے لیکن وہ اس بات سے اس قدر ڈرگئے کہ بغیر بتائے راتوں رات مدینہ سے بخران کی طرف چپکے سے بھاگ گئے اور انہوں نے ” مباہلہ “ کے چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پورے وفد کو ذلت سے دوچار کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین اسلام اور صحابہ کرام (رض) کو سرخ رو فرمادیا۔ اب آپ پوری سورة آل عمران کی آیات کی تفصیل ملاحظہ کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والوں کو دین اسلام کی سچائی اور عسائیت کے غلط عقیدوں کی اصلاح فرمادی ہے۔ اس سورت کے آخر میں دو غزوات (اسلامی جنگوں) کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد یہ دونوں جنگیں وہ تھیں جن کے نتائج یعنی کفار کی بدترین شکست سے جزیرۃ العرب اور بڑی طاقتیں چونک اٹھیں اور وہ اسلام کی اس چھوٹی سی سلطنت کو جڑوبنیاد سے اکھاڑنے کی تدبیروں میں لگ گئیں اس لیے اہل ایمان کو یہودیوں، نصاریٰ ، کفار ومشرکین اور منافقین سے ہوشیار رہنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں ، عرب کے نصاریٰ ، کفار ومشرکین کے تمام قبیلے اور آستین میں چھپے سانپ منافقین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسلام کے اس پودے کو اکھاڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور اللہ نے شدید مخالفتوں کے باوجود اس چھوٹے سے پودے کو ایک تناور درخت بنادیا اور آہستہ آہستہ ساری دنیا پر اسلام کی حقانیت ثابت ہوکر رہی اور انشاء اللہ اب قیامت تک اس تنا ور درخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ مخالفت کی تیز آندھیوں میں اس درخت کے کچھ پتے گرجائیں ۔ شاخیں ٹوٹ جائیں کھبی خزاں کا موسم آجائے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ درخت اپنی بنیادوں سے اکھڑجائے۔ کیونکہ اب ساری انسانیت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اس دین کو اپنا لیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں ان کے دامن اطاعت و محبت سے وابستہ ہوجائیں ۔ ذٰلک الفوذ العظیم (یہی سب سے بڑی کامیابی ہے) ۔

Ayahs 3:1–6

الٓمَّٓۙ Open ayah 3:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جو زندہ اور نظام کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے ۔

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اے نبی اس نے آپ پر کتاب برحق کو نازل کیا جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابیں ان کے پاس ہیں۔ اس نے توریت اور انجیل کو

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا۔ اور اسی نے حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی نازل کی۔ بلا شبہ جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کو سخت عذاب دیا جائے گا ۔ اللہ زبردست طاقت والا اور (برائی کا ) بدلہ لینے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری شکلیں صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 6 نزل (اس نے نازل کیا) عزیز (زبردست) ذوانتقام (انتقام لینے والا) یصور (تصویر بناتا ہے، شکلیں بنایا ہے) الارحام (رحم ) پیٹ) کیف یشاء (جیسے وہ چاہتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 نخران یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد نخران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں چودہ پندرہ آدمی خاص طور پر بڑے معزز اور سردار تھے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث شروع کی تو سورة آل عمران میں تقریباً 83 آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ نے اس وفد کو جوابات دیئے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کے لئے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) : 1 ۔ مردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کردیا کرتے تھے۔ 2 ۔ وہ لوگوں کو غیب کی باتیں بتاتے تھے۔ 3 ۔ مٹی کی مورتیں بناکر پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر پرندہ بن جایا کرتی تھیں۔ 4 ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بغیرباپ کے پیدا ہوئے انہوں نے گہوارہ میں لوگوں سے باتیں کیں۔ ان باتوں سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ (نعوذ باللہ) اللہ کے بیٹے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس وفد کے ان تمام اعتراضات کو سن کر فرمایا کہ : 1 ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ جیسا ہوتا ہے۔ وفد نے کہا کیوں نہیں۔ 2 ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس کو موت نہیں آتی وہ زندہ رہے گا جبکہ حضرت عیسیٰ کو ضرور موت اور فنا سے واسطہ پڑے گا ۔ اس وفد نے اس کا بھی اقرار کیا۔ 3 ۔ تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے وجود کو تھامنے والا اس کا محافظ ، نگراں اور رزق پہنچانے والا ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کیا ان سے کوئی بات بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں تھی۔ انہوں نے کہا جی نہیں۔ 4 ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ہے جس سے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ یا چھپی ہوئی نہیں ہے جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے جتنا علم دیا تھا وہ اس سے زیادہ کچھ نہ جانتے تھے۔ انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا۔ 5 ۔ آپ نے فرمایا پروردگار نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل و صورت اپنی مرضی کے مطابق ان کی ماں کے پیٹ میں بنائی۔ انہوں نے کہا جی ہاں۔ 6 ۔ ارشاد فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کھانے پینے اور دوسری حاجات کا محتاج نہیں ہے ان کا جواب اقرار میں تھا۔ 7 ۔ ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح نو ماہ تک اپنے شکم میں رکھا جس طرح عام بچے رہتے ہیں۔ پیدا ہونے کے بعد ان کو غذا دی گئی ، وہ کھاتے اور پیتے بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیشک یہی بات ہے۔ 8 ۔ آپ نے آخری بات یہ پوچھی کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ تمام باتیں تھیں تو پھر وہ اللہ کے بندے تھے یا خود ہی اللہ تھے۔ نبی کریم ﷺ کے یہ تمام سوالات اس قدر بھرپور تھے کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ انہوں نے حق اور سچائی کو اچھی طرح پہچان لیا تھا مگر وہ اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے رہے۔ آپ نے فرمایا اگر اب بھی تمہیں میرے دعوائے رسالت میں شک ہے تو اس کا فیصلہ اس طرح کرلیتے ہیں کہ تم بھی اپنی اولاد اور گھر والوں کو لے آؤ اور ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں باہر میدان میں نکلتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہو اس پر لعنت ہو۔ عیسائیوں کا یہ وفد لاجواب ہوچکا تھا یہ کہہ کر اٹھ گیا کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیتے ہیں۔ اور کل صبح مباہلہ (یعنی قسمیں کھانے کا معاملہ کرلیتے ہیں) چناچہ انہوں نے باہمی مشورہ کے بعد یہ طے کیا کہ قسمیں نہ کھائی جائیں۔ طے کرلینے کے بعد راتوں رات یہ وفد چپکے سے مدینہ سے یمن واپس چلا گیا۔ اس طرح مضبوط دلیلوں کے سامنے عیسائیوں نے چپکے سے بھاگ جانے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔
Ayahs 3:7–9

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب کو نازل کیا ۔ ان میں سے کچھ آیات تو محکمات ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں۔ کچھ دوسری آیات متشابہات ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے ۔ وہ ان آیات میں ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں جو متشابہات ہیں تا کہ وہ ان کے من پسند مطلب اور فتنے تلاش کرسکیں۔ حالانکہ ان کا ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اور پختہ علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ پر ایمان لے آئے۔ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے مگر اس پر وہی دھیان دیتے ہیں جو عقل وفکر رکھنے والے ہیں

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(ان کی زبانوں پر ہوتا ہے کہ ) اے ہمارے پروردگار ہمیں ہدایت اور رہنمائی عطا کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دیجئے گا۔ ہمیں اپنی رحمت سے نوازئیے گا، بیشک تو ہے بڑا دینے والا،

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں بلاشبہ آپ اپنے وعدہ کو کبھی بدلتے نہیں ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 محکمٰت (جسکا مطلب اور مفہوم واضح ہو) ام الکتٰب (کتاب کی جڑوبنیاد) متشٰبھٰت (جس سے مطلب اور مفہوم کے مختلف پہلو نکلتے ہوں) زیغ (ٹیڑھا پن) ماتشابه (وہ کہ کئی ملتے ہوں) ابتغاء (تلاش کرنا) تاویله (اسکی تاویل ، اسکی اصل روح) الراسخون (پختہ، پکے) یذکر (دھیان دیتا ہے) لاتزغ (ٹیڑھا نہ کرنا) ھدیتنا (تو نے ہمیں ہدایت دے دی) ھب (عطا فرما) لدنک (تیرے پاس (لدن، ک) الوھاب (دینے والا، عطاکرنیوالا) جامع الناس (لوگوں کو جمع کرنیوالا) لاتخلف (نہیں خلاف کرتا ہے) المیعاد (وعدہ) تشریح : آیت نمبر 7 تا 9 آیات محکمات وہ آیتیں ہیں جن کا مطلب اور مفہوم ایسے شخص پر بالکل واضح ہو کو قواعد عربیہ کو اچھی طرح جاننے والا ہے جیسے توحید و رسالت ، حلال و حرام، قیامت وآخرت، اوامرونواہی وغیرہ۔ یہ آیات ہدایت اور عمل کے لیے کافی ہیں آیات متشابہات جن کے مفہوم اور مطلب میں مختلف پہلو نکلتے ہیں۔ جن کے کئی مطلب باہم ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ جیسے اللہ کی ذات ، مرنے کے بعد کی زندگی ، قبر وآخرت کے احوال اور جنت وذوزخ کی مختلف کیفیات ان تمام باتوں کو جس طرح بتادیا گیا ہے اس پر یقین رکھنا چاہیے۔ مگر بعض لوگ ایسی باتوں کے متعلق جو عام طور سے ان کے عقل وفہم میں آ نہیں سکتیں ان ہی کے پیچھے لگ جاتے ہیں جس کا مقصد شرارت اور فتنے پیدا کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اللہ اور کلمتہ اللہ فرمایا ہے۔ اب جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے وہ تو ان الفاظ کا سہارا لے کر کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اللہ اور کلمتہ اللہ کہا ہے۔ لہذا اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عبد یا بشر کہنا غلط ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بالکل واضح الفاظ میں ارشاد فرمادیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور پیغمبر ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ جب رم ایسے لوگوں جو متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں یعنی اس کی تحقیق اس کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں تو تم ایسے لوگوں سے بچو کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ راسخین فی العلم سے صحیح ترین قول کے مطابق وہ لوگ مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ اور خلفاء راشدین ؓ کے عمل پر قائم ہوں اور قرآنی تعلیمات کا محور و مرکز محکمات کو مانتے ہوں اور متشابہات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہوں۔
Ayahs 3:10–13

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ کفر کرتے ہیں انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ ان کا مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یہ دوزخ کا ایندھن ہیں

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا انجام بھی فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے والے لوگوں جیسا ہوگا۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ یا اللہ نے ان کے گناہوں کی سزا میں انہیں پکڑ لیا۔ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔ جو بدترین ٹھکانا ہے۔

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

یقیناً وہ دو جماعتیں جن کا آپس میں مقابلہ ہوا ان میں تمہارے لئے ایک نشانی ہے ان میں ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑرہی تھی اور دوسری کافر جماعت تھی جو کھلی آنکھوں سے ان کو اپنے سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہی تھی اور اللہ جس کو چاہتا ہے فتح و نصرت سے نواز دیتا ہے۔ بلاشبہ آنکھیں رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 13 لن تغنی (ہرگز کام نہ آئے گا) وقود (ایندھن) داب (طریقہ، دستور) اٰل (اولاد۔ کسی کو مان کر اس کے پیچھے چلنے والے) ستغلبون (عنقریب تم مغلوب کئے جاؤ گے) تحشرون (تم جمع کئے جاؤ گے) فئتین (دوجماعتیں (فئة۔ جماعت) (التقتا (آپس میں دونوں مقابل ہوئے) اخرٰی (دوسری) یرون (وہ دیکھتے ہیں) مثلیھم (اپنے سے دوگنے (مثلی اصل میں مثلین تھا نون گر گیا) رای العین ( دیکھنے والی آنکھ) عبرۃ (نصیحت ، سبق) اولی الابصار (آنکھوں والے (اولو، والا ابصار، بصر) آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 13 نخران سے عیسائیوں کا جو وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لئے آیا ہوا تھا خطاب ان ہی سے ہے کہ تمام دلیلوں سے اسلام کی سچائی ثابت ہوچکی ہے۔ بادشاہ اور رئیسوں کے دربار کے اعزاز واکرام اور مال و دولت کا لالچ تمہیں اسلام قبول کرلینے سے روک رہا ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب بادشاہ اور سردار مسلمانوں سے مغلوب ہوں گے جس طرح بھ بس اور نہتے مسلمانوں نے اللہ کی مدد اور حمایت سے غزوہ بدر میں مکہ کے کافروں کا غرور خاک میں ملادیا تھا اسی طرح وہ ہوں گے اور دنیا کی رسوائیوں اور آخرت کی سزا سے انہیں اور تمہیں کوئی نہ بچاسکے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ اب اسی کو فتح و کامرانی عطا ہوگی جو نبی کریم ﷺ کی رسالت ونبوت پر ایمان لائے گا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ نبیوں کے جھٹلانے والوں کو درس عبرت بنادیتا ہے جس طرح فرعون کے ساتھیوں ، حمایتیوں اور ان سے پہلے لوگوں کی زندگی کو نشان عبرت بنادیا گیا ہے۔
Ayahs 3:14–18

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو ان کی خواہشات کی چیزیں پسندیدہ بنا دی گئی ہیں۔ عورتیں، بیٹے اور سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگے ہوئے (پہلے ہوئے) گھوڑے، مویشی اور کھیتی باڑی ، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔ بہترین ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے۔

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے ۔ اللہ کا خوف رکھنے والوں کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے بہتی ہوئی نہریں اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کی رضا و خوشنودی انہیں حاصل ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے واقف ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے۔ ہمارے گناہ بخش دیجئے اور ہمیں دوزخ میں کی آگ سے بچا لیجئے۔

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ صبر کرنے والے راست باز، فرماں بردار، فیاض اور رات کے آخری حصے میں اللہ سے مغفرت چاہنے والے ہیں۔

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خود اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور علم و بصیرت رکھنے والے اس بات پر گواہ ہیں کہ اس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ عدل و انصاف سے انتظام قائم رکھنے والا ہے۔ وہی زبردست حکمت والا ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 14 تا 18 زین (خوبصورت، پسندیدہ بنادی گئی) حب الشھوات (مزوں کی محبت (حب، محبت، الشھوات، حواہشیں) القناطیر (ڈھیر (قنطار، ڈھیر) المقنطرۃ (لگے ہوئے ڈھیر) ذھب (سونا) الفضة (چاندی) الخیل المسومة (پلے ہوئے گھوڑے، نشان لگے ہوئے گھوڑے) الانعام (مویشی) الحرث (کھیتی) متاع (سامان) حسن الماٰب (بہترین ٹھکانا) اء نبئکم (کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ ) مطھرۃ (پاکیزہ ، صاف ستھری) رضوان (رضاوخوشنودی) ذنوب (گناہ (ذنب کی جمع) القٰنتین (ادب کرنے والے) المنفقین (خرچ کرنے والے) المستغرین (استغفار کرنے والے) بالاسحار (صبح کے وقت (سحر، صبح) اولوالعلم (علم والے) قائم (قائم رہنے والے ، کھڑے رہنے والے) بالقسط (انصاف کے ساتھ) تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 سورة آل عمران کی آیت 14 سے 18 تک جن چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ انسان کو فطرۃ بےانتہا پسندیدہ اور مرغوب ہیں۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ ان چیزوں کی محبت واقعتاً ایک طبعی تقاضا ہے لیکن ان چیزوں سے بھی زیادہ اہم اللہ کی محبت اور آخرت کی زندگی ہے جو انسان کا ابدی ٹھکانا ہے۔ فرمایا گیا کہ بیشک ایک مومن ان چیزوں کو حاصل کرسکتا ہے لیکن یہ چیزیں اسی طرح دل لگانے کی نہیں ہیں کہ ایک انسان دن رات ان ہی چیزوں کے حاصل کرنے میں لگا رہے بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ ان تمام چیزوں کو فکر آخرت کا ذریعہ بنالے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ اسلام ترک دنیا کی تعلیم نہیں دیتا البتہ ایسی دنیا داری سے منع کرتا ہے جس سے انسان اللہ کی محبت اور آخرت کی فکر سے غافل ہوجائے۔
Ayahs 3:19–22

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو اس دین سے اختلاف کیا ہے وہ علم حاصل ہوجانے کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے کیا ہے۔ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

اے نبی ﷺ پھر اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑنے لگیں تو آپ کہہ دیجئے کہ میں نے اور میری اطاعت کرنے والوں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرکرلیا ہے۔ آپ اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے یہ بھی پوچھ لیجئے کہ کیا تم اسلام لاتے ہو ؟ پھر اگر وہ اس دین کو قبول کرلیں تو یقیناً ایسے لوگ راہ ہدایت حاصل کرلیں گے لیکن اگر وہ نہ مانیں تو آپ کا کام (اللہ کا پیغام ) پہنچا دینا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھ اور سمجھ لے گا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔ ناحق پیغمبروں کو قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے ان کو مار ڈالتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں تو اے نبی ﷺ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا اور آخرت میں اپنے تمام اعمال کو برباد کر ڈالا ہے۔ ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 22 حاجوک (وہ تجھ سے جھگڑتے ہیں (حاجون، ک) اسلمت (میں نے جھکادیا) وجھی (اپنا چہرہ) اتبعن (میری اتباع کی (اتبع، ن، ی) امیین (ان پڑھ، جاہل (امی، ان پڑھ) البلغ (پہنچادینا) عباد (بندے (عبد، بندہ) القسط (انصاف) حبطت (ضائع ہوگئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 22 سورة آل عمران کی آیت 19 سے 22 تک میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طریقے سے بتادیا ہے کہ اسلام کسی قوم ، ذات یا برادری کا نام نہیں اور جو دین نبی کریم ﷺ لے کر تشریف لائے وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جو آج ہی کہی جارہی ہو بلکہ اللہ کے تمام رسول اور انبیاء کرام (علیہ السلام) مختلف زمانوں میں الگ الگ دین لے کر نہیں آئے سب نے اپنے وقت میں ایک ہی دین کی طرف انسانوں کو بلایا اور اسی کی تبلیغ کی وہ سب کے سب سچائی کے علم بردار تھے وہ حق کی طرف بلاتے تھے اور نیکیوں پر چلنے کی تلقین کرتے تھے یہ وہ سچائی ہے جو کبھی بدلی ہے نہ بدل سکتی ہے اس لیے اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام ہی دین ہے۔ اس کے سوا جو کوئی بھی اپنے لیے نیا طریقہ اختیار کرے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہ کیا جائے گا۔ دین میں اختلاف انبیاء کرام نے نہیں بلکہ بعض ان لوگوں نے کیا ہے جو حرص وہوس کے بندے اور بغض وعناد کے پیکر تھے جن کا کام اپنے مفاد کے لئے دین میں اختلاف پیدا کرنا ہی تھا۔ فرمایا گیا کہ اللہ نے جس دین کو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ آج نبی مکرم ﷺ بھی اسی دین کو لے کر تشریف لائے ہیں۔ البتہ آپ کی ذات پر اس دین کو مکمل کردیا گیا ہے جسے تمام انبیاء (علیہ السلام) لے کر اس دنیا میں تشریف لاتے رہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے طریقوں کے خلاف طریقے اور دین کے خلاف کوئی نئی بات گھڑ کر لائے گا تو وہ اللہ کے ہاں قبول نہ کیا جائے گا۔ اب یہی دین قیامت تک انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مینارہ نور رہے گا۔ اب نہ تو کوئی نیا دین آئے گا نہ اور نہ کوئی کسی طرح کا نبی آئے گا بلکہ نبی آخر الزماں ﷺ کا طریقہ ہی پسندیدہ طریقۂ زندگی ہے جو قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! کیا آپ نے (ان علماء یہود) کو نہیں دیکھا جنہیں اللہ کی کتاب کا کچھ علم دیا گیا تھا۔ ان کو اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ بےرخی اختیار کرتا ہوا منہ پھیر لیتا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہمیں چند روز کے سوا آگ ہرگز نہ چھوئے گی۔ ان کی من گھڑت باتوں نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے جو وہ خود سے بنا لیتے ہیں۔

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ان کو ایک ایسے دن میں جمع کریں گے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک شبہ نہیں ہے۔ اس دن ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہ ہوگی۔

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25 نصیب (حصہ) یدعون (وہ پکارے گئے (پکارے جاتے ہیں) لیحکم (تاکہ وہ فیصلہ کردے) یتولیٰ (پلٹ جاتا ہے منہ پھیر لیتا ہے) معرضون (وہ بےرخی اختیار کرتے ہیں، منہ پھیرتے ہیں) غرھم (اس نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا) یفترون (وہ گھڑتے ہیں) جمعنھم (ہم نے ان کو جمع کیا (ہم ان کو جمع کریں گے) وفیت (پوراپورا دیا (جائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 25 سورة ال عمران کی آیت 23 سے 25 تک کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس بات کے دعویدار تھے کہ ہم اہل کتاب ہیں اور اس پر انہیں ناز بھی تھا جب ان کو ان ہی کی کتاب کی طرف یہ کہہ کر بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے فیصلے اپنی ہی کتاب کے ذریعے کرلو تو وہ بجائے اللہ کا حکم ماننے کے اپنی رسم و رواج کی طرف مائل ہوتے رہتے ہیں۔ فرمایا اے نبی ﷺ جب وہ اپنی کتاب کی پرواہ نہیں کرتے تو یہ آپ کے لائے ہوئے دین کی اگر پرواہ نہ کریں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ انسان کو جب نافرمانی کی عادت پڑجاتی ہے تو وہ کسی اپنے یا غیر کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے غلط عقدوں نے انہیں بربادی کے اس گڑھے تک پہنچادیا ہے جہاں ان کی زبانوں پر یہی بات ہے کہ آخرت میں اول تو جہنم کی آگ ہمیں چھوئے گی ہی نہیں کیونکہ جنت تو صرف ہمارے لئے لیکن اگر جہنم میں جانا ہی ہوا تو گنے چنے چند دن میں فرق ہی کیا پڑتا ہے۔ ابدی راحتیں تو یقیناً ہمارے ہی لئے ہیں۔ (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی خوش فہمیاں اپنی جگہ لیکن اگر یہ اس وقت کا ذرا بھی تصور کرلیں جب آخرت میں ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا تو پھر ان کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے اللہ سارے ملکوں کے مالک آپ جسے چاہیں حکومت دے دیں جس سے چاہیں چھین لیں۔ آپ جسے چاہیں عزت عطا کردیں اور جسے چاہیں ذلت دے دیں ہر طرح کی بھلائیاں آپ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ بلاشبہ آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

آپ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتے ہیں۔ جاندار میں سے بےجان کو اور بےجان میں سے جاندار کو نکالتے ہیں ۔ آپ جسے چاہتے ہیں بےحساب (رزق) عطا فرماتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 27 اللھم (میرے اللہ) مٰلک الملک (سلطنت کے مالک) توتی (تودیتا ہے) تشاء (توچاہتا ہے) تنزع (تو کھینچ لیتا ہے) تعز (تو عزت دیتا ہے) تذل (توذلت دیتا ہے) بیدک الخیر (تیرے ہاتھ میں خیر ہے) تولج (تو داخل کرتا ہے) تخرج (تونکالتا ہے) المیت (مراد، بےجان) الحی (زندہ) ترزق (تودیتا ہے تو رزق دیتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 27 سورة ال عمران کی آیت 26 اور 27 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت صرف اللہ ہی کی ہے۔ عزت ، ذلت، موت، حیات اور حکومت واقتدار وہ جسکو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے۔ وہ جس کو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے نہ دینا چاہے تو کوئی اسے دلوا نہیں سکتا۔ ہر چیز کی بھلائی اسی ایک کے قبضہ قدرت میں ہے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ حضرت معاذ ابن جبل ؓ نے فرمایا کہ میں ایک دفعہ نماز جمعہ میں شریک نہ ہوسکا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ تم جمعہ میں کیوں موجود نہیں تھے۔ عرض کیا کہ میں نے ایک یہودی سے کچھ قرض لے رکھا تھا۔ میں اس کو ادا نہ کرسکا وہ یہودی میرے دروازے پر تاک لگائے بیٹھا رہا کہ میں نکلوں تو وہ مجھے پکڑلے۔ اس لئے میں باہر نہ نکل سکا اور جمعہ کی نماز نکل گئی اور میں جمعہ کی نماز سے محروم رہا۔ آپ نے فرمایا اے معاذ کیا تم اس بات کو پسند کروگے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قرض کو تم سے دور کردے اور ادائیگی کے اسباب پیدا کردے۔ میں عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم ہر روز یہ آیت پڑھا کرو۔ قل اللھم ملک الملک سے بغیر حساب تک۔ آپ نے فرمایا اے معاذ اگر تیرے اوپر زمین کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ ادا فرمادے گا۔
Ayahs 3:28–30

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

اہل ایمان مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھنے کی وجہ سے بچاؤ اختیار کرو۔ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنے دلوں میں جو کچھ چھپاتے ہو یا جو کچھ ظاہر کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

وہ دن جب کہ ہر شخص اپنے بھلے اور برے کئے ہوئے کاموں کو اپنے سامنے پائے گا تو اس دن ہر شخص اس بات کی تمنا کرے گا کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا۔ اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 30 لایتخذ (نہ بنائیں) اولیاء (دوست (ولی کی جمع ہے) دون المومنین (مومنوں کو چھوڑ کر) من یفعل (جوکرے گا) تتقوا (تم بچو) تقٰه (بچاؤ) یحذر (وہ ڈراتا ہے) نفسه (اپنی ذات) ان تخفوا (اگر تم چھپاؤگے) صدور (دل، سینے (صدر، کی جمع ہے) محضر (حاضر ، سامنے) تود (پسند کرے گا) امدًا بعیدًا (دور کا فاصلہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 30 28 سے 30 تک آیات کی تشریح یہ ہے کہ اس سے پہلے آیات میں بتایا گیا تھا کہ کسی شخص یا حکومت وسلطنت کا عروج وزوال اور کسی کو عزت وذلت دینا سب اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اے مومنو ! تم مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور نہ ان کی دوستی کو اپنے لیے عزت میں زیاتی کا سبب سمجھو کیونکہ عزت اور ذلت سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے فرمایا گیا اگر کوئی شخص یا مفاد کے پیش نظر مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست بنائے گا تو ایسے شخص کو اللہ کی حمایت ومدد حاصل نہ ہوسکے گی۔ کیونکہ جو اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھے گا وہ اللہ کا دوست نہیں ہوسکتا البتہ اگر کوئی شخص محض تدبیر اور انتظام کے درجے میں کافروں سے ظاہری دوستی رکھے گا تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکے تو اس کے لئے یہ محض یہ تعلق جائز ہے لیکن قلبی محبت کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء مفسرین نے کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو پانچ درجات میں تقسیم کیا ہے۔ 1 ۔ کافروں کی ملت اور مزہب کو اچھا جانتے ہوئے ان سے قلبی تعلق یا قلبی محبت رکھنا قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔ 2 ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کافروں کے مذہب کو برا سمجھتا ہے مگر دنیوی معاملات میں خوش خلقی اورف حسن سلوک سے کافروں کے ساتھ پیش آتا ہو تو یہ اسلامی رواداری ہے اور جائز ہے۔ ان سے تجارت، لین دین یا دوسرے دنیوی معاملات میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اگر ان تعلقات سے کفار کو طاقت اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو لین دین بھی ناجائز ہے۔ 3 ۔ تیسرے یہ کہ کفار کے طریقوں کو برا تو سمجھتا ہو لیکن کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرتا ہو یا مسلمانوں کے رازان کو بتاتا ہو یہ قطعاً حرام اور ناجائز ہے ایسا کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ 4 ۔ چوتھے یہ کہ کفر اور اس کے ماننے والوں کو برا تو سمجھتا ہو لیکن کفار کی حکومت کے خلاف یا جانی ومالی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس مشکل میں اشس حد تک ظاہری تعلق رکھنا جائز ہے جس سے وہ اسلام کے اخلامات کو ادا کرنے میں سہولت کرسکے۔ 5 ۔ پانچویں یہ کہ تمام غیر مسلموں سے احسان اور ہمددری کا تعلق رکھنا ، نہ صرف جائز ہے بلکہ انتہائی قابل تعریف پہلو ہے کیونکہ خود نبی کریم ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ بڑا ہمدردی اور احسان کا معاملہ کیا ہے۔ غرضیکہ غیر مسلموں کے ساتھ احسان اور نیکی کا معاملہ کرنا تو بری بات نہیں لیکن ایسا تعلق جس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو جائز نہیں ہے۔
Ayahs 3:31–32

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ وہ اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر بھی وہ منہ پھیر لیں تو بلاشبہ اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 32 تحبون (تم محبت کرتے ہو) اتبعونی (تم میری پیروی کرو، میرے پیچھے چلو (اتبعوا، ن، ی) یغفر (وہ معاف کردے گا) ان تولوا (یہ کہ اگر تم نے منہ پھیرلیا) لایحب (وہ پسند کرتا ہے) تشریح : آیت نمبر 31 تا 32 توحید کے بیان کے بعد آیت 31 سے 32 تک نبوت کے متعلق ارشاد فرمایا جارہا ہے اس میں اہل ایمان کو ایک معیار بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جس کسی شخص کو اپنے معبود حقیقی سے محبت کا دعویٰ ہو اس کو اتباع محمدی ﷺ کجی کسوٹی پر رکھ کر دیکھ لینا چاہئے۔ کھرا کھوٹا سامنے آئے گا۔ جو شخص نبی مکرم ﷺ کی راہ پر چلے گا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت اور روشنی کو مشعل راہ بنائے گا وہ اتنا ہی حضرت مصطفیٰ ﷺ کی پیروی میں مضبوط اور مستعد ہوگا جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ حق تعالیٰ شانہ اس سے بےانتہا محبت فرمائیں گے۔ اللہ کی محبت اور رسول کی اتباع وپیروی کی برکت سے اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے اور آئندہ زندگی میں اس کو ہزاروں ظاہری اور باطنی برکتیں نصیب ہوں گی۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اصل چیز اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت اور محبت ہے یہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو کامیابی کی عظیم منزلوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے۔