3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 3:1
الم
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والاف 1

1 نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک موقرو معزز وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ " بنی بکر بن وائل " سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اسکی مذہبی صلابت اور مجد و شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اسکے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا اور متنازع فیہ مسائل میں حضور سے گفتگو کی جس کی پوری تفصیل محمد بن اسحاق کی سیرۃ میں منقول ہے۔ سورة " آل عمران " کا ابتدائی حصہ تقریباَ اسّی نوے آیات تک اسی واقعہ میں نازل ہوا عیسائیوں کا پہلا اور بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) بعینہٖ خدا یا خدا کے بیٹے یا تین خداؤں میں سے ایک ہیں۔ سورة ہذا کی پہلی آیت میں توحید خالص کا دعویٰ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی جو صفات " حیی قیوم " بیان کی گئیں وہ عیسائیوں کے اس دعوے کو صاف طور پر باطل ٹھہراتی ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے دوران مناظرہ میں ان سے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ حییُ (زندہ) ہے جس پر کبھی موت طاری نہیں ہوسکتی۔ اسی نے تمام مخلوقات کو وجود عطا کیا اور سامان بقا پیدا کر کے انکو اپنی قدرت کاملہ سے تھام رکھا ہے۔ برخلاف اسکے عیسیٰ (علیہ السلام) پر یقینا موت و فنا آکر رہے گی۔ اور ظاہر ہے جو شخص خود اپنی ہستی کو برقرار نہ رکھ سکے دوسری مخلوقات کی ہستی کیا برقرار رکھ سکتا ہے۔ " نصاریٰ " نے سن کر اقرار کیا (کہ بیشک صحیح ہے) شاید انہوں نے غنیمت سمجھا ہوگا کہ آپ اپنے اعتقاد کے موافق " عیسیٰ یاتی علیہ الفناء " کا سوال کر رہے ہیں یعنی عیسیٰ پر فنا ضرور آئیگی، اگر جواب نفی میں دیا تو آپ ہمارے عقیدہ کے موافق کہ حضرت عیسیٰ کو عرصہ ہوا موت آچکی ہے۔ ہم کو اور زیادہ صریح طور پر ملزم اور مفحم کرسکیں گے۔ اس لئے لفظی مناقشہ میں پڑنا مصلحت نہ سمجھا۔ اور ممکن ہے یہ لوگ ان فرقوں میں سے ہوں جو عقیدہ اسلام کے موافق مسیح (علیہ السلام) کے قتل و صلب کا قطعا انکار کرتے تھے اور رفع جسمانی کے قائل تھے جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ نے " الجواب الصحیح " میں اور " الفارق بین المخلوق و الخالق " کے مصنف نے تصریح کی ہے کہ شام و مصر کے نصاریٰ عموما اسی عقیدہ پر تھے مدت کے بعد پولوس نے عقیدہ صلب کی اشاعت کی۔ پھر یہ خیال یورپ سے مصر و شام وغیرہ پہنچا بہرحال نبی کریم ﷺ کا ان عیسیٰ اتی علیہ الفناء کے بجائے یاتی علیہ الفناء فرمانا، درآں حالیکہ پہلے الفاظ تردید الوہیتہ مسیح کے موقع پر زیادہ صاف اور مسکت ہوتے۔ ظاہر کرتا ہے کہ موقع الزام میں بھی مسیح (علیہ السلام) پر موت سے پہلے لفظ کا اطلاق آپ نے پسند نہیں کیا۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اتاری تجھ پر کتاب سچی2 تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی اور اتارا تورات اور انجیل کو

2 یعنی قرآن کریم جو عین حکمت کے موافق نہایت بروقت سچائی اور انصاف کو اپنی آغوش میں لے کر اترا۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے3 اور اتارے فیصلے4 بیشک جو منکر ہوئے اللہ کی آیتوں سے ان کے واسطے سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والاف 5

3 یعنی قرآن اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اگلی کتابیں (تورات و انجیل وغیرہ) پہلے سے قرآن اور اسکے لانے والے کی طرف لوگوں کی راہنمائی کر رہی تھیں اور اپنے اپنے وقت میں مناسب احکام و ہدایات دیتی تھیں۔ گو یا بتلا دیا کہ " الوہیت " یا " ابنیت مسیح " کا عقیدہ کسی آسمانی کتاب میں موجود نہ تھا۔ کیونکہ اصول دین کے اعتبار سے تمام کتب سماویہ متفق و متحد ہیں۔ مشرکانہ عقائد کی تعلیم کبھی نہیں دی گئی۔ 4 یعنی ہر زمانہ کے مناسب ایسی چیزیں اتاریں جو حق و باطل، حلال و حرام اور جھوٹ سچ کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہوں۔ اس میں قرآن کریم، کتب سماویہ، معجزات انبیاء سب داخل ہوگئے اور ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ جن مسائل میں یہود و نصاریٰ جھگڑتے چلے آرہے ہیں ان اختلافات کا فیصلہ بھی قرآن کے ذریعہ سے کردیا گیا۔ 5 یعنی ایسے مجرموں کو نہ سزا دیئے بغیر چھوڑے گا نہ وہ اسکے زبردست اقتدار سے چھوٹ کر بھاگ سکیں گے۔ اسمیں بھی الوہیت مسیح کے ابطال کی طرف لطیف اشارہ ہوگیا۔ کیونکہ جو اختیار و اقتدار کلی خدا کے لئے ثابت کیا گیا، ظاہر ہے وہ مسیح میں نہیں پایا جاتا۔ بلکہ نصاریٰ کے نزدیک حضرت مسیح کسی کو سزا تو کیا دے سکتے خود اپنے کو باوجود سخت تضرع والحاح کے ظالموں کے پنجہ سے نہ چھڑا سکے۔ پھر خدا یا خدا کا بیٹا کیسے بن سکتے ہیں ؟ بیٹا وہی کہلاتا ہے جو باپ کی نوع سے ہو۔ لہذا خدا کا بیٹا خدا ہی ہونا چاہیئے۔ ایک عاجز مخلوق کو حقیقتہ قادر مطلق کا بیٹا کہنا، باپ اور بیٹے دونوں پر سخت عیب لگانا ہے۔ العیاذباللہ۔
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

اللہ پر چھپی نہیں کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں6

6 یعنی جس طرح اسکا اقتدار و اختیار کامل ہے، علم بھی محیط ہے، عالم کی کوئی چھوٹی بڑی چیز ایک سیکنڈ کے لئے اس سے غائب نہیں سب مجرم و بری، اور تمام جرموں کی نوعیت و مقدار اس کے علم میں ہے۔ مجرم بھاگ کر روپوش ہونا چاہے تو کہاں ہوسکتا ہے ؟ یہیں سے تنبیہ کردی گئی کہ مسیح (علیہ السلام) خدا نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ایسا علم محیط ان کو حاصل نہ تھا۔ وہ اسی قدر جانتے تھے جتنا حق تعالیٰ ان کو بتلا دیتا تھا۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب میں خود نصاری نجران نے اقرار کیا اور آج بھی اناجیل مروجہ سے ثابت ہے۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماں کے پیٹ میں جس طرح چاہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا زبردست ہے حکمت والاف 7

7 یعنی اپنے علم و حکمت کے مطابق کمال قدرت سے جیسا اور جس طرح چاہا ماں کے پیٹ میں تمہارا نقشہ بنایا مذکر، مونث، خوبصورت، بدصورت، جیسا پیدا کرنا تھا کردیا۔ ایک پانی کے قطرہ کو کتنی پلٹیاں دے کر آدمی کی صورت عطا فرمائی۔ جس کی قدرت و صنعت کا یہ حال ہے کیا اس کے علم میں کمی ہوسکتی ہے۔ یا کوئی انسان جو خود بھی بطن مادر کی تاریکیوں میں رہ کر آیا ہو اور عام بچوں کی طرح کھاتا پیتا، پیشاب پا خانہ کرتا ہو، اس خداوند قدوس کا بیٹا یا پوتا کہلایا جاسکتا ہے ؟ (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا) 18 ۔ الکہف :5) ۔ عیسائیوں کا سوال تھا کہ جب مسیح کا ظاہری باپ کوئی نہیں تو بجز خدا کے کس کو باپ کہیں۔ (ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ ) 3 ۔ آل عمران :6) میں اس کا جواب بھی ہوگیا۔ یعنی خدا کو قدرت ہے رحم میں جس طرح چاہے آدمی کا نقشہ تیار کر دے۔ خواہ ماں باپ کے ملنے سے یا صرف ماں کی قوت منفعلہ سے۔ اسی لئے آگے فرمایا " ھُوَالْعَزِیْزُ ا لْحَکِیْمُ ' یعنی زبردست ہے جس کی قدرت کو کوئی محدود نہیں کرسکتا۔ اور ـ" حکیم " ہے جہاں جیسا مناسب جانتا ہے کرتا ہے۔ " حواء " کو بدون ماں کے " مسیح " کو بدون باپ کے، " آدم " کو بدون ماں باپ دونوں کے پیدا کردیا۔ اسکی حکمتوں کا احاطہ کون کرسکے۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم یعنی ان کے معنی واضح ہیں وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں مشابہ یعنی جن کے معنیٰ معلوم یا معیّن نہیں سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلا نے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے1

ف 1 نصاریٰ نجران نے تمام دلائل سے عاجز ہو کر بطور معارضہ کہا تھا کہ آخر آپ حضرت مسیح کو " کلمۃ اللہ " اور " روح اللہ " مانتے ہیں۔ بس ہمارے اثبات مدعا کیلئے یہ الفاظ کافی ہیں۔ یہاں اسکا تحقیقی جواب ایک عام اصول اور ضابطہ کی صورت میں دیا جس کے سمجھ لینے کے بعد ہزاروں نزاعات و مناقشات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اسکو یوں سمجھو کہ قرآن کریم بلکہ تمام کتب الہٰیہ میں دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں ایک وہ جن کی مراد معلوم و متعین ہو، خواہ اس لئے کہ لغت و ترکیب وغیرہ کے لحاظ سے الفاظ میں کوئی ابہام و اجمال نہیں نہ عبارت کئی معنیٰ کا احتمال رکھتی ہے نہ جو مدلول سمجھا گیا وہ عام قواعد مسلمہ کے مخالف ہے۔ اور یا اس لئے کہ عبارت و الفاظ میں گولغۃً کئی معنیٰ کا احتمال ہوسکتا تھا، لیکن شارع کی نصوص مستفیضہ یا اجماع معصوم یا مذہب کے عام اصول مسلمہ سے قطعا متعین ہوچکا کہ متکلم کی مراد وہ معنیٰ نہیں، یہ ہے۔ ایسی آیات کو محکمات کہتے ہیں اور فی الحقیقت کتاب کی ساری تعلیمات کی جڑ اور اصل اصول یہ ہی آیات ہوتی ہیں۔ دوسری قسم آیات کی " متشابہات " کہلاتی ہے۔ یعنی جنکی مراد معلوم و متعین کرنے میں کچھ اشتباہ والتباس واقع ہوجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس دوسری قسم کی آیات کو پہلی قسم کی طرف راجع کر کے دیکھنا چاہیے جو معنیٰ اسکے خلاف پڑیں ان کی قطعا نفی کی جائے اور متکلم کی مراد وہ سمجھی جائے جو " آیات محکمات " کے مخالف نہ ہو۔ اگر باوجود اجتہاد وسعی بلیغ کے متکلم کی مراد کی پوری پوری تعیین نہ کرسکیں تو دعویٰ ہمہ دانی کر کے ہم کو حد سے گزرنا نہیں چاہیئے۔ جہاں قلت علم اور قصور استعداد کی وجہ سے بہت سے حقائق پر ہم دسترس نہیں پاسکتے اسکو بھی اسی فہرست میں شامل کرلیں۔ مگر زنہار ایسی تاویلات اور ہیر پھیر نہ کریں جو مذہب کے اصول مسلمہ اور آیات محکمہ کے خلاف ہوں مثلا قرآن حکیم نے مسیح (علیہ السلام) کی نسبت تصریح کردی (اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ ) 43 ۔ الزخرف :59) یا (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ) 3 ۔ آل عمران :59) یا (ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَــقِّ الَّذِيْ فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ 34؁ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّــتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ ۙ سُبْحٰــنَهٗ ) 19 ۔ مریم :35-34) اور جا بجا ان کی الوہیت و ابنیت کا رد کیا۔ اب ایک شخص ان سب محکمات سے آنکھیں بند کر کے " کَلِمَتُہ، اَلْقَاھَااِلیٰ مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ " وغیرہ متشابہات کو لے دوڑے اور اسکے وہ معنیٰ چھوڑ کر جو محکمات کے موافق ہوں ایسے سطحی معنیٰ لینے لگے جو کتاب کی عام تصریحات اور متواتر بیانات کے منافی ہوں، یہ کجروی اور ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہوگی بعض قاسی القلب تو چاہتے ہیں کہ اس طرح مغالطہ دے کر لوگوں کو گمراہی میں پھنسا دیں اور بعض کمزور عقیدہ والے ڈھلمل یقین ایسے متشابہات سے اپنی رائے و ہوا کے مطابق کھینچ تان کر مطلب نکالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا صحیح مطلب صرف اللہ ہی کو معلوم ہے وہ ہی اپنے کرم سے جس کو جس قدر حصہ پر آگاہ کرنا چاہے کردیتا ہے جو لوگ مضبوط علم رکھتے ہیں وہ محکمات و متشابہات سب کو حق جانتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دونوں قسم کی آیات ایک ہی سرچشمہ سے آئی ہیں جن میں تناقض و تہافت کا امکان نہیں۔ اسی لئے وہ متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹا کر مطلب سمجھتے ہیں۔ اور جو حصہ انکے دائرہ فہم سے باہر ہوتا ہے اسے اللہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ہی بہتر جانے ہم کو ایمان سے کام ہے (تنبیہ) بندہ کے نزدیک اس آیت کا مضمون " سورة حج " کی آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّآ اِذَا تَـمَنّىٰٓ اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ ۚ فَيَنْسَخُ اللّٰهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ) 22 ۔ الحج :52) کے مضمون سے بیحد مشابہ ہے جسے انشاء اللہ اسکے موقع پر بیان کیا جائے گا۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے رب نہ پھیر ہمارے دلوں کو جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور عنایت کر ہم کو اپنے پاس سے رحمت تو ہی ہے سب کچھ دینے والاف 2

2 یعنی راسخین فی العلم اپنے کمال علمی اور قوت ایمانی پر مغرور و مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ حق تعالیٰ سے استقامت اور مزید فضل و عنایت کے طلبگار رہتے ہیں تاکہ کمائی ہوئی پونجی ضائع نہ ہوجائے اور خدا نکردہ دل سیدھے ہونے کے بعد کج نہ کردیئے جائیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ (امت کو سنانے کے لئے) اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے ــ" یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلیٰ دِیْنِکَ "
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے رب تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن جس میں کچھ شبہ نہیں بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ3

3 وہ دن ضرور آکر رہے گا اور " زائغین " (کجرو) جن مسائل میں جھگڑتے تھے سب کا دو ٹوک فیصلہ ہوجائے گا۔ پھر ہر ایک مجرم کو اپنی کجروی اور ہٹ دھرمی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسی خوف سے ہم انکے راستہ سے بیزار اور آپ کی رحمت و استقامت کے طالب ہوتے ہیں۔ ہمارا زائغین کے خلاف راستہ اختیار کرنا کسی بدنیتی اور نفسانیت کی بنا پر نہیں محض اخروی فلاح مقصود ہے۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں ہرگز کام نہ آویں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ کے سامنے کچھ اور وہی ہیں ایندھن دوزخ کے4

4 قیامت کے ذکر کے ساتھ کافروں کا انجام بھی بتلا دیا کہ ان کو کوئی چیز دنیا و آخرت میں خدائی سزا سے نہیں بچا سکتی۔ جیسا کہ میں ابتداء سورة میں لکھ چکا ہوں۔ ان آیات میں اصلی خطاب وفد " نجران " کو تھا جسے عیسائی مذہب و قوم کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کہنا چاہیے۔ امام فخر الدین رازی نے محمد بن اسحاق کی سیرت سے نقل کیا ہے کہ جس وقت یہ وفد " نجران " سے بقصد مدینہ روانہ ہوا تو انکا بڑا پادری ابو حارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا۔ خچر نے ٹھوکر کھائی تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ کی زبان سے نکلا " تعس الابعد " (ابعد سے مراد محمد ﷺ تھے۔ العیاذ باللہ) ابو حارثہ نے کہا " تعست امک " کرز نے حیران ہو کر اس کلمہ کا سبب پوچھا۔ ابو حارثہ نے کہا واللہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ (محمد ﷺ وہ ہی نبی منتظر ہیں جن کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی تھی۔ کزر نے کہا پھر مانتے کیوں نہیں ؟ بولا " لان ھٰؤلاء الملوک اعطونا اموالا کثیرۃ واکرمونا فلو امنا بمحمد ﷺ لاخذوا مناکل ھذہ الاشیاء " (اگر محمد ﷺ پر ایمان لے آئے تو یہ بادشاہ جو بیشمار دولت ہم کو دے رہے ہیں اور اعزازو اکرام کر رہے ہیں سب واپس کرلیں گے) کُرز نے اس کلمہ کو اپنے دل میں رکھا اور آخرکار یہ ہی کلمہ ان کے اسلام کا سبب ہوا ؓ وارضاہ میرے نزدیک ان آیات میں ابو حارثہ کے ان ہی کلمات کا جواب ہے گویا دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ان کے فاسد عقیدہ کا رد کر کے متنبہ فرما دیا کہ وضوح حق کے بعد جو لوگ محض دنیاوی متاع (اموال و اولاد وغیرہ) کی خاطر ایمان نہیں لاتے وہ خوب سمجھ لیں کہ مال و دولت اور جتھے نہ ان کو دنیا میں خدائی سزا سے بچا سکتے ہیں نہ آخرت میں عذاب سے۔ چناچہ اس کی تازہ مثال ابھی " بدر " کے موقع پر مسلمان اور مشرکین کی لڑائی میں دیکھ چکے ہو۔ دنیا کی بہار محض چند روزہ ہے مستقبل کی کامیابی ان ہی کے لئے ہے۔ جو خدا سے ڈرتے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ دور تک یہ مضمون چلا گیا ہے اور عموم الفاظ کے اعتبار سے یہود و مشرکین وغیرہ دوسرے کفار کو بھی خطاب میں لپیٹ لیا گیا۔ گو اصلی مخاطب نصاریٰ نجران تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

جیسے دستور فرعون والوں کا اور جو ان سے پہلے تھے جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو پھر پکڑا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر اور اللہ کا عذاب سخت ہے5

5 یعنی کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا اور جس طرح وہ پکڑے گئے تم بھی خدا کی پکڑ میں آنیوالے ہو۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کہہ دے کافروں کو کہ اب تم مغلوب ہو گے اور ہانکے جاؤ گے دوزخ کی طرف اور کیا برا ٹھکانا ہے6

6 یعنی وقت آگیا ہے کہ تم سب کیا یہود، کیا نصاریٰ اور کیا مشرکین عنقریب خدائی لشکر کے سامنے مغلوب ہو کر ہتھیار ڈالو گے، یہ تو دنیا کی ذلت ہوئی اور آخرت میں جو گرم مکان تیار ہے وہ الگ رہا بعض روایات میں ہے کہ " بدر " سے فاتحانہ واپسی کے بعد حضور ﷺ نے یہود کو فرمایا کہ تم حق کو قبول کرلو، ورنہ جو حال قریش کا ہوا، تمہارا ہوگا۔ کہنے لگے۔ اے محمد ﷺ اس دھوکہ میں نہ رہیئے کہ تم نے قریش کے چند ناتجربہ کاروں پر فتح حاصل کرلی۔ ہم سے مقابلہ ہوا تو پتہ لگ جائے گا کہ ہم (جنگ آزمودہ سپاہی اور بہادر) آدمی ہیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ " بدر " کی فتح دیکھ کر " یہود " کچھ تصدیق کی طرف مائل ہونے لگے تھے۔ پھر کہا کہ جلدی مت کرو، دیکھو آئندہ کیا ہوتا ہے۔ دوسرے سال " احد " کی عارضی پسپائی دیکھ کر ان کے دل سخت ہوگئے اور حوصلے بڑھ گئے۔ حتیٰ کہ عہد شکنی کر کے مسلمانوں سے لڑائی کا سامان کیا۔ کعب بن اشرف ساٹھ سواروں کے ساتھ مکہ معظمہ جا کر ابو سفیان وغیرہ سرداران قریش سے ملا اور کہا ہم تم ایک ہیں۔ متحدہ محاذ قائم کرکے محمد ﷺ کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ واللہ اعلم بہرحال تھوڑے ہی دنوں بعد خدا نے دکھلا دیا کہ جزیرۃ العرب میں مشرک کا نام نہ رہا۔ " قریظہ " کے بدعہد یہود تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ " بنی نضیر " جلا وطن ہوئے، نجران کے عیسائیوں نے ذلیل ہو کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا۔ اور تقریبا ایک ہزار سال تک دنیا کی بڑی بڑی مغرور و متکبر قومیں مسلمانوں کی بلندی و برتری کا اعتراف کرتی رہیں۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذٰلک۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

ابھی گزر چکا ہے تمہارے سامنے ایک نمونہ دو فوجوں میں جن میں مقابلہ ہوا ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اللہ کی راہ میں اور دوسری فوج کافروں کی ہے دیکھتے ہیں یہ ان کو اپنے سے دو چند صریح آنکھوں سے اور اللہ زور دیتا ہے اپنی مدد کا جس کو چاہے اسی میں عبرت ہے دیکھنے والوں کو1

1 جنگ بدر میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے۔ دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ اوپر تھے جن کے پاس کل ستّر اُونٹ، دو گھوڑے، چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اور تماشہ یہ تھا کہ ایک فریق کو حریف مقابل اپنے سے دو گنا نظر آتا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار کے دل مسلمانوں کی کثرت کا تصوّر کر کے مرعوب ہوتے تھے اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے اور کامل توکّل و استقلال سے خدا کے وعدہ (فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ) 8 ۔ الانفال :66) پر اعتماد کر کے فتح و نصرت کی امید رکھتے تھے۔ اگر ان کی پوری تعداد جو تگنی تھی منکشف ہوتی تو ممکن تھا خوف طاری ہوجاتا۔ اور یہ فریقین کا دوگنی تعداد دیکھنا بعض احوال میں تھا۔ ورنہ بعض احوال وہ تھے جب ہر ایک کو دوسرے فریق کی جمعیت کم محسوس ہوتی۔ جیسا کہ سورة انفال میں آئے گا۔ بہرحال ایک قلیل اور بےسروسامان جماعت کو ایسی مضبوط جمعیت کے مقابلہ میں ان پیشین گوئیوں کے موافق جو مکہ میں کی گئی تھیں۔ اس طرح مظفر و منصور کرنا، آنکھیں رکھنے والوں کے لئے بہت بڑا عبرتناک واقعہ ہے۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں2 اور بیٹے اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگائے ہوئے3 اور مویشی اور کھیتی یہ فائدہ اٹھانا ہے دنیا کی زندگی میں اور اللہ کے پاس ہے اچھا ٹھکانا4

2 یعنی جب ان میں پھنس کر آدمی خدا سے غافل ہوجائے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا۔ ماترکت بعدی فتنۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النَّساءِ (میرے بعد مردوں کے لئے کوئی ضرر رساں فتنہ عورتوں سے بڑھ کر نہیں) ہاں اگر عورت سے مقصود اعفاف اور کثرت اولاد ہو، تو وہ مذموم نہیں بلکہ مطلوب و مندوب ہے۔ چناچہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے کہ اگر اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو، حکم دے تو فرمانبردار پائے، کہیں غائب ہو تو پیٹھ پیچھے شوہر کے مال اور اپنی عصمت کے معاملہ میں اس کی حفاظت کرے۔ اسی طرح جتنی چیزیں آگے متاع دنیا کے سلسلہ میں بیان ہوئیں سب کا محمود و مذموم ہونا نیت اور طریق کار کے تفاوت سے متفاوت ہوتا رہے گا۔ مگر چونکہ دنیا میں کثرت ایسے افراد کی ہے جو عیش و عشرت کے سامانوں میں پھنس کر خدا تعالیٰ کو اور اپنے انجام کو بھول جاتے ہیں، اس لئے زُیِّنَ للنَّاس میں سطح کلام کی عام رکھی گئی ہے۔ 3 یعنی جن پر نمبر یا نشان لگائے جائیں یا پانچ کلیان گھوڑے جن کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی پر قدرتی نشان ہوتے ہیں یا جو گھوڑے چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں۔ 4 یعنی ابدی فلاح ان چیزوں سے حاصل نہیں ہوتی محض دنیا میں چند روز فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کامیاب مستقبل اور اچھا ٹھکانا چاہتے ہو تو خدا کے پاس ملے گا۔ اس کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کی فکر کرو۔ اگلی آیت میں بتلاتے ہیں کہ وہ اچھا ٹھکانا کیا ہے اور کن لوگوں کو ملتا ہے۔
Ayah 3:15

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

کہہ دے کیا بتاؤں میں تم کو اس سے بہتر پرہیزگاروں کے لئے اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور عورتیں ہیں ستھری5 اور رضامندی اللہ کی6 اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے7

5 یعنی ہر قسم کی صوری و معنوی گندگی سے پاک و صاف ہوں گی۔ 6 کہ اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے بلکہ جنت بھی فی الحقیقت اس لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضا ہے۔ 7 بندوں کے تمام اعمال و احوال اس کے سامنے ہیں جو جس جزا و سزا کا مستحق ہوگا۔ بلا کم وکاست دی جائے گی۔ دنیا کی بہار پر مرنے والے اور اس کے فانی مزوں سے پرہیز کرنے والے سب اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا دیئے جائیں گے۔ یا یہ مطلب لیا جائے کہ پرہیزگار بندوں پر خدا کی نگاہ لطف و کرم ہے جو دنیا کی ابلہ فریب سحر کاریوں سے ان کو محفوظ رکھتی ہے۔ چناچہ حدیث میں آپ نے فرمایا کہ جب خدا کسی بندہ کو محبوب رکھتا ہے تو اسی طرح دنیا سے اس کا پرہیز کرا دیتا ہے جیسے تم اپنے مریض کو پانی (وغیرہ) سے پرہیز کراتے ہو۔
Ayah 3:16

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

وہ جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ہیں سو بخش دے ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے8

8 معلوم ہوا کہ گناہ معاف ہونے کے لئے ایمان لانا شرط ہے۔
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ صبر کرنے والے ہیں اور سچے اور حکم بجا لا نے والے اور خرچ کرنے والے اور گناہ بخشوانے والے پچھلی رات میں9

9 یعنی اللہ کے راستہ میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر بھی اس کی فرمانبرداری پر جمے رہتے اور معصیت سے رکے رہتے ہیں۔ زبان کے، دل کے، نیت کے معاملہ کے سچے ہیں۔ پوری تسلیم وانقیاد کے ساتھ خدا کے احکام بجا لاتے ہیں۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو اس کے بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرتے ہیں۔ اور پچھلی رات میں اٹھ کر (جو طمانیت و اجابت کا وقت ہوتا ہے لیکن اٹھنا اس وقت سہل نہیں ہوتا) اپنے رب سے گناہ اور تقصیرات معاف کراتے ہیں۔ (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ 17؀ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ 18؀) 51 ۔ الزاریات :18-17) " یعنی اکثر رات عبادت میں گزارتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے کہ خداوندا ! عبادت میں جو تقصیر رہ گئی اپنے فضل سے معاف فرمانا۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ نے گواہی دی کہ کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا10 اور فرشتوں نے11 اور علم والوں نے بھی12 وہی حاکم انصاف کا ہے کسی کی بندگی نہیں سوا اس کے زبردست حکمت والاف 13

10 ابتداء میں نصاریٰ ـ" نجران " سے خطاب تھا اور نہایت لطیف انداز سے الوہیت مسیح کے عقیدہ کا ابطال اور توحید خالص کا اعلان کر کے ایمان لانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ درمیان میں ان موانع کا ذکر فرمایا جو انسان کو وضوح حق کے باوجود شرف ایمان سے محروم رکھتے ہیں۔ یعنی مال و اولاد اور سامان عیش و عشرت۔ ان آیات میں مومنین کی صفات بیان کرنے کے بعد پھر اصل مضمون توحید وغیرہ کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی توحید خالص کے ماننے میں کیا تردّد ہوسکتا ہے۔ جبکہ خود حق تعالیٰ اپنی تمام کتابوں میں برابر اس مضمون کی گواہی دیتا رہا ہے۔ اور اس کی فعلی کتاب (صحیفہء کائنات) کا ایک ایک ورق بلکہ ایک ایک نقطہ شہادت دیتا ہے کہ بندگی کے لائق رب العالمین کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ وَفِیْ کُلِّ شَئیٍ لَہ، اٰیَۃٌ تَدُل عَلی اَنَّہ، وَاحِدٌ (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) 41 ۔ فصلت :53) 11 ظاہر ہے فرشتوں کی گواہی خدا کی گواہی کے خلاف کیسے ہوسکتی ہے۔ فرشتہ تو نام ہی اس مخلوق کا ہے جو صدق و حق کے راستہ سے سرتابی نہ کرسکے۔ چناچہ فرشتوں کی تسبیح و تمجید تمام تر توحید و تفرید باری پر مشتمل ہے۔ 12 علم والے ہر زمانہ میں توحید کی شہادت دیتے رہے ہیں اور آج تو عام طور پر توحید کے خلاف ایک لفظ کہنا جہل محض کا مترادف سمجھا جاتا ہے، مشرکین بھی دل میں مانتے ہیں کہ علمی اصول کبھی مشرکانہ عقائد کی تائید نہیں کرسکتے۔ 13 انصاف کرنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں، زبردست ہو کہ اس کے فیصلہ سے کوئی سرتابی نہ کرسکے۔ اور حکیم ہو کہ حکمت و دانائی سے پوری طرح جانچ تول کر ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے کوئی حکم بےموقع نہ دے۔ چونکہ حق تعالیٰ عزیز و حکیم ہے لہذا اس کے منصف علی الاطلاق ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ غالباَ اس لفظ " قائما بالقسط " میں عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کا بھی رد ہوگیا۔ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ ساری دنیا کے جرائم ایک شخص پر لاد دیئے جائیں اور وہ تنہا سزا پا کر سب مجرموں کو ہمیشہ کے لئے بری اور پاک کر دے۔ خدائے عادل و حکیم کی بارگاہ ایسی گستاخیوں سے کہیں بالا و برتر ہے۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بیشک دین جو ہے اللہ کے ہاں سو یہی مسلمانی حکم برداری1 اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے2 اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے3

1 " اسلام " کے اصلی معنی سونپ دینے کے ہیں۔ " مذہب اسلام " کو بھی اسی لحاظ سے اسلام کہا جاتا ہے کہ ایک مسلم اپنے کو ہمہ تن خدائے واحد کے سپرد کردینے اور اس کے احکام کے سامنے گردن ڈال دینے کا اقرار کرتا ہے۔ گویا " اسلام " انقیاد و تسلیم کا اور " مسلمانی " حکمبرداری کا دوسرا نام ہوا۔ یوں تو شروع سے اخیر تک تمام پیغمبر یہ ہی مذہب اسلام لے کے آئے اور اپنے اپنے زمانہ میں اپنی اپنی قوم کو مناسب وقت احکام پہنچا کر طاعت و فرمانبرداری اور خالص خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلاتے رہے ہیں لیکن اس سلسلہ میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے تمام دنیا کو جو اکمل، جامع ترین، عالمگیر اور ناقابل تنسیخ ہدایات دیں، وہ تمام شرائع سابقہ حقہ پر مع شی زائد مشتمل ہونے کی وجہ سے خصوصی رنگ میں اسلام کے نام سے موسوم و ملقب ہوئیں۔ بہرحال اس آیت میں نصاریٰ نجران کے سامنے خصوصا اور تمام اقوام و ملل کے سامنے عموما اعلان کیا گیا ہے کہ دین و مذہب صرف ایک ہی چیز کا نام ہوسکتا ہے وہ یہ کہ بندہ دل و جان سے اپنے کو خداوند قدوس کے سپرد کر دے اور جس وقت جو حکم اس کی طرف سے پائے، بےچون و چرا گردن تسلیم جھکا دے اب جو لوگ خدا کے بیٹے، پوتے تجویز کریں، مسیح و مریم کی تصویروں اور صلیب کی لکڑی کو پوجیں، خنزیر کھائیں، آدمی کو خدا یا خدا کو آدمی بنادیں۔ انبیاء و اولیاء کو قتل کر ڈالنا معمولی بات سمجھیں، دین حق کو مٹانے کی ناپاک کوششوں میں لگے رہیں۔ موسیٰ و مسیح کی بشارات کے موافق جو پیغمبر ان دونوں سے بڑھ کر شان و نشان دکھلاتا ہوا آیا، جان بوجھ کر اس کی تکذیب اور اس کے لائے ہوئے کلام و احکام سے ٹھٹھا کریں، یا جو بیوقوف پتھروں، درختوں، ستاروں اور چاند سورج کے آگے سجدہ کریں اور حلال و حرام کا معیار محض ہوائے نفس کو ٹھہرا لیں، کیا ان میں کوئی جماعت اس لائق ہے کہ اپنے کو مسلم اور ملّت ابراہیمی کا پیرو کہہ سکے۔ العیاذ باللہ۔ " وفی روایۃ محمد بن اسحاق فقال رسول اللہ ﷺ اسلموا۔ فقالوا قد اسلمنا۔ فقال ﷺ کذبتم کیف یصح اسلامکم و انتم تثبتون للہ ولدًا وتعبدون الصلیب وتاکلون الخنزیر (تفسیر کبیر) ۔ 2 یعنی اسلام ایک واضح اور روشن چیز ہے جس قسم کے دلائل سے موسیٰ و مسیح کی رسالت یا تورات و انجیل کا کتاب سماوی ہونا ثابت کیا جاسکتا ہے، اس سے بہتر، مضبوط اور زندہ دلائل محمد ﷺ کی رسالت اور قرآن کے کلام الہٰی ہونے کے موجود ہیں۔ بلکہ خود وہ کتابیں آپ کی حقانیت کی شہادت دے رہی ہیں۔ توحید خالص ایک صاف مضمون ہے جس کے خلاف باپ بیٹے کا نظریہ محض ایک بےمعنی چیستاں ہو کر رہ جاتی ہے، جس کی کوئی علمی اصول تائید نہیں کرتا، اب جو اہل کتاب مخالف اسلام ہو کر ان روشن حقائق کو جھٹلائیں اور حق تعالیٰ کی حکمبرداری سے سرتابی کریں بجز اس کے کیا کہا جاسکتا ہے کہ محض ضد، حسد، عناد اور جاہ و مال کی حرص میں ایسا کر رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلے (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّارِ ) 3 ۔ آل عمران :10) کے فوائد میں خود ابو حارثہ بن علقمہ رئیس وفد نجران کا اقرار و اعتراف نقل کیا جا چکا ہے اور یہ ان لوگوں کی قدیم عادت ہے۔ یہود و نصاریٰ کے باہم جو اختلافات ہوئے یا ہر ایک مذہب میں جو بہت سے فرقے بنے، پھر مخالفت باہمی خوفناک محاربات اور خونریزیوں پر منتہی ہوئی۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ اس کا منشاء عموما غلط فہمی یا جہل نہ تھا، بلکہ اکثر حالات میں محض سیم وزر کی محبت اور جاہ پرستی سے یہ فرقہ وارانہ اختلافات پیدا ہوئے۔ 3 دنیا میں بھی، ورنہ آخرت میں تو ضرور ہے۔
Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے میں نے تابع کیا اپنا منہ اللہ کے حکم پر اور انہوں نے بھی کہ جو میرے ساتھ ہیں4 اور کہہ دے کتاب والوں کو اور اَن پڑھوں کو کہ تم بھی تابع ہوتے ہو پھر اگر وہ تابع ہوئے تو انہوں نے پائی راہ سیدھی اور اگر منہ پھیریں تو تیرے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ کی نگاہ میں ہیں بندے5

4 جیسا کہ دو فوائد پہلے نقل کیے جا چکے۔ وہ جھگڑتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ یہاں ان کو بتلایا گیا کہ ایسا (فرضی) اسلام کس کام کا۔ آؤ دیکھو، اسلام اسے کہتے ہیں جو محمد ﷺ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے پاس ہے۔ ابھی بیان ہوچکا کہ اسلام نام ہے تسلیم وانقیاد کا یعنی بندہ ہمہ تن اپنے کو خدا کے ہاتھ میں دیدے سو محمد ﷺ اور مہاجرین و انصار کو دیکھ لو کس طرح انہوں نے شرک، بت پرستی، بداخلاقی، فسق و فجور اور ظلم وعدوان کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان، مال، وطن، کنبہ، بیوی بچے، غرض تمام مرغوب و محبوب چیزیں حق تعالیٰ کی خوشنودی پر نثار کردیں اور کس طرح ان کا چہرہ اور آنکھیں ہر وقت حکم الہٰی کی طرف لگی رہتی ہیں کہ ادھر سے حکم آئے اور ہم تعمیل کریں۔ اس کے بالمقابل تم اپنا حال دیکھو کہ خود اپنی خلوتوں میں اقرار کرتے ہو کہ محمد ﷺ حق پر ہیں، مگر ان پر ایمان لائیں تو دنیا کا مال و جاہ چھنتا ہے۔ بہرحال باوجود وضوح حق کے اسلام کی طرف نہیں آتے، تم جانو، ہم تو اپنے کو ایک خدا کے سپرد کرچکے ہیں۔ 5 یعنی سوچ لو، کیا تم بھی ہماری طرح خدا کے تابعدار بندے بنے ہو یا اب بنتے ہو، ایسا ہو تو سمجھ لو سیدھے راستہ پر لگ گئے اور ہمارے بھائی بن گئے ورنہ ہمارا کام سمجھا دینا اور نشیب و فراز بتلا دینا تھا، وہ کرچکے۔ آگے سب بندے اور ان کے اعمال ظاہری و باطنی خدا کی نظر میں ہیں، وہ ہر ایک کا بھگتان کر دے گا۔ (تنبیہ) اَن پڑھ کہتے تھے عرب کے مشرکوں کو کہ ان کے پاس کتب سماویہ کا علم نہ تھا۔
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

بیشک جو لوگ انکار کرتے ہیں اللہ کے حکموں کا اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان کو جو حکم کرتے ہیں انصاف کرنے کا لوگوں میں سے سو خوشخبری سنا دے ان کو عذاب دردناک کی

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی ہیں جن کی محنت ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مددگار6

6 حدیث میں ہے کہ " بنی اسرائیل " نے ایک دن میں تینتالیس نبی اور ایک سو ستّر یا ایک سو بارہ صالحین کو شہید کیا۔ یہاں نصاریٰ نجران اور دوسرے کفار کو سنایا جارہا ہے کہ احکام الہٰی سے منکر ہو کر انبیاء اور انصاف پسند ناصحین سے مقابلہ کرنا اور پرلے درجہ کی شقاوت و سنگدلی سے ان کے خون میں ہاتھ رنگنا معمولی چیز نہیں۔ ایسے لوگ سخت دردناک عذاب کے مستحق اور دونوں جہان کی کامیابی سے محروم ہیں۔ ان کی محنت برباد اور ان کی کوششیں اکارت ہونگی اور دنیا و آخرت میں جب سزا ملے گی تو کوئی بچانے والا اور مدد کرنے والا نہ ملے گا۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا نہ دیکھا تو نے ان لوگوں کو جن کو ملا کچھ ایک حصہ کتاب کا7 ان کو بلاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ کتاب انہیں حکم کرے پھر منہ پھیرتے ہیں بعضے ان میں سے تغافل کر کے8

7 یعنی تھوڑا بہت حصہ تورات اور انجیل وغیرہ کا جو ان کی تحریفات لفظی و معنوی سے بچ بچا کر رہ گیا ہے یا جو تھوڑا بہت حصہ فہم کتاب کا ملا۔ 8 یعنی جب انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ قرآن کریم کی طرف آؤ جو خود تمہاری تسلیم کردہ کتابوں کی بشارات کے موافق آیا اور تمہارے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ان کے علماء کا ایک فریق تغافل برت کر منہ پھیر لیتا ہے۔ حالانکہ قرآن کی طرف دعوت فی الحقیقت تورات و انجیل کی طرف دعوت دینا ہے۔ بلکہ کچھ بعید نہیں کہ اس جگہ کتاب اللہ سے مراد تورات و انجیل ہی ہو۔ یعنی لو ہم تمہارے نزاعات کا فیصلہ تمہاری ہی کتاب پر چھوڑتے ہیں مگر غضب تو یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور پست اغراض کے سامنے خود اپنی کتاب کی ہدایات سے بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔ نہ اس کی بشارات سنتے ہیں نہ احکام پر کان دھرتے ہیں۔ چناچہ رجم زانی کے مسئلہ میں تورات کے حکم منصوص سے صریح رو گردانی کی۔ جیسا کہ آگے سورة مائدہ میں آئے گا۔
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ کہتے ہیں وہ ہم کو ہرگز نہ لگے گی آگ دوزخ کی مگر چند دن گنتی کے اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی باتوں پر1

1 یعنی ان کے تمردو طغیان اور گناہوں پر جری ہونے کا سبب یہ ہے کہ سزا کی طرف سے بیخوف ہیں ان کے بڑے جھوٹ بنا کر کہہ گئے کہ ہم میں اگر کوئی سخت گنہگار بھی ہوگا تو گنتی کے چند روز سے زیادہ عذاب نہ پائے گا۔ جیسا کہ سورة " بقرہ " میں گزر چکا اور اسی طرح کی بہت سی باتیں گھڑ رکھی ہیں۔ مثلا کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کے چہیتے بیٹے ہیں یا انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ یعقوب (علیہ السلام) سے وعدہ کرچکا ہے کہ ان کی اولاد کو سزا نہ دے گا مگر یونہی برائے نام قسم کھانے کو، اور نصاریٰ نے تو کفارہ کا مسئلہ نکال کر گناہ و معصیت کا سارا حساب ہی بیباق کردیا۔ اللّٰھُمَ اَعِذْنَا مِنْ شُرُ و رِاَنْفُسِنَا۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پھر کیا ہوگا حال جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن کہ اس کے آنے میں کچھ شبہ نہیں اور پورا پاویگا ہر کوئی اپنا کیا2 اور ان کی حق تلفی نہ ہوگی3

2 یعنی اس وقت پتہ چلے گا کہ کس اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔ جب محشر میں تمام اولین و آخرین اور خود اپنے بزرگوں کے سامنے رسوا ہوں گے اور ہر عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ نہ کفارہ کا مسئلہ یاد آئے گا، نہ نسبی تعلقات اور من گھڑت عقیدے کام دینگے۔ 3 یعنی فرضی جرائم پر سزا نہ ہوگی، ان کاموں پر ہوگی جن کا جرم ہونا خود تسلیم کرینگے اور جس قدر سزا کا استحقاق ہوگا، اس سے زیادہ نہ دی جائے گی نہ کسی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی ضائع ہو سکے گی۔
Ayah 3:26

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

تو کہہ یا اللہ مالک سلطنت کے تو سلطنت دیوے جس کو چاہے اور سلطنت چھین لیوے جس سے چاہے اور عزت دیوے جس کو چاہے اور ذلیل کرے جس کو چاہے تیرے ہاتھ ہے سب خوبی بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے4

4 جیسا کہ پہلے نقل کیا جا چکا ہے وفد نجران کے رئیس ابو حارثہ بن علقمہ نے کہا تھا کہ ہم محمد ﷺ پر ایمان لائیں تو روم کے بادشاہ جو ہماری عزت اور مالی خدمت کرتے ہیں سب بند کرلیں گے۔ شاید یہاں دعا و مناجات کے رنگ میں اس کا جواب دیا کہ بادشاہوں کی سلطنت اور ان کی دی ہوئی عزتوں پر تم مفتون ہو رہے ہو، تو خوب سمجھ لو کہ کل سلطنت و عزت کا اصلی مالک خداوند قدوس ہے اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے سلب کرلے۔ کیا یہ امکان نہیں کہ روم وفارس کی سلطنتیں اور عزتیں چھین کر مسلمانوں کو دے دی جائیں، بلکہ وعدہ ہے، کہ ضرور دی جائینگی، آج مسلمانوں کی موجودہ بےسروسامانی اور دشمنوں کی طاقت کو دیکھتے ہوئے بیشک یہ چیز تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی۔ اسی لئے یہود و منافقین مذاق اڑاتے تھے کہ قریش کے حملہ سے ڈر کر مدینہ کے گرد خندق کھودنے والے مسلمان قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت پر قبضہ پانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر حق تعالیٰ نے چند ہی سال میں دکھلا دیا کہ روم وفارس کے جن خزانوں کی کنجیاں اس نے اپنے پیغمبر کے ہاتھ میں دی تھیں فاروق اعظم ؓ کے زمانہ میں وہ کس طرح مجاہدین اسلام کے درمیان تقسیم ہوئے۔ اصل یہ ہے کہ یہ مادی سلطنت و عزت کیا چیز ہے جب خداوند قادرو حکیم نے روحانی سلطنت وعزّت کا آخری مقام (یعنی منصب نبوت و رسالت) بنی اسرائیل سے منتقل کر کے بنی اسماعیل میں پہنچا دیا تو روم و عجم کی ظاہری سلطنت کا عرب کے خانہ بدوشوں کی طرف منتقل کردینا کیا مستبعد ہے۔ گویا یہ دعا ایک طرح کی پیشنگوئی تھی کہ عنقریب دنیا کی کایا پلٹ ہونیوالی ہے۔ جو قوم دنیا سے الگ تھلگ پڑی تھی عزتوں اور سلطنتوں کی مالک ہوگی، اور جو بادشاہت کر رہے تھے ان کو اپنی بداعمالیوں کی بدولت پستی و ذلت کے غار میں گرایا جائے گا۔ (تنبیہ) بِیَدِکَ الْخَیْرَ بیشک خدا کے ہاتھ میں ہر قسم کی خیر و خوبی ہے اور " شر " کا پیدا کرنا بھی اس کے اعتبار سے خیر ہی ہے۔ کیونکہ مجموعہ عالم کے اعتبار سے اس میں ہزارہا حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ فِی الْحدیث الصحیح الخیر کلہ فی یدیک و الشر لیس الیک۔
Ayah 3:27

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرے دن کو رات میں5 اور تو نکالے زندہ مردہ سے اور نکالے مردہ زندہ سے6 اور تو رزق دے جس کو چاہے بیشمار7

5 یعنی کبھی رات کو گھٹا کر دن کو بڑھا دیتا ہے، کبھی اس کا عکس کرتا ہے۔ مثلا ایک موسم میں 14 گھنٹہ کی رات اور دس گھنٹہ کا دن ہے۔ چند ماہ بعد رات کے چار گھنٹہ کاٹ کر دن میں داخل کردیئے۔ اب رات دس گھنٹہ کی رہ گئی اور دن 14 گھنٹہ کا ہوگیا۔ یہ سب الٹ پھیر تیرے ہاتھ میں ہیں۔ کیونکہ شمس و قمر وغیرہ تمام سیارات بدون تیرے ارادہ کے ذرا حرکت نہیں کرسکتے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی رات۔ 7 یعنی بیضہ کو مرغی سے، مرغی کو بیضہ سے آدمی کو نطفہ سے نطفہ کو آدمی سے، جاہل کو عالم سے، عالم کو جاہل سے، کامل کو ناقص سے، ناقص کو کامل سے نکالنا تیری ہی قدرت کا کام ہے۔ 8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہود جانتے تھے کہ پہلے جو بزرگی ہم میں تھی وہ ہی ہمیشہ رہے گی۔ اللہ کی قدرت سے غافل ہیں جس کو چاہے عزیز کرے اور سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے اور ذلیل کر دے۔ اور جاہلوں میں کامل پیدا کرے (جیسے عرب کے امیوں میں سے کئے) اور کاملوں میں سے جاہل (جیسے بنی اسرائیل میں ہوا) اور جس کو چاہے (حِسّی و معنوی) رزق بےحساب دیوے۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

نہ بناویں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کو چھوڑ کر اور جو کوئی یہ کام کرے تو نہیں اس کو اللہ سے کوئی تعلق مگر اس حالت میں کہ کرنا چاہو تم ان سے بچاؤ8 اور اللہ تم کو ڈراتا ہے اپنے سے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے9

8 یعنی جب حکومت و سلطنت، جاہ و عزت، اور ہر قسم کے تقلبات و تصّرفات کی زمام اکیلے خداوند قدوس کے ہاتھ میں ہوئی تو مسلمانوں کو جو صحیح معنی میں اس پر یقین رکھتے ہیں، شایان نہیں کہ اپنے اسلامی بھائیوں کی اخوۃ و دوستی پر اکتفاء نہ کرکے خواہ مخواہ دشمنان خدا کی موالاۃ و مدارات کی طرف قدم بڑھائیں، خدا و رسول کے دشمن ان کے دوست کبھی نہیں بن سکتے۔ جو اس خبط میں پڑے گا سمجھ لو کہ خدا کی محبت و موالات سے اسے کچھ سروکار نہیں۔ ایک مسلمان کی سب امیدیں اور خوف صرف خداوند رب العزّت سے وابستہ ہونے چاہئیں۔ اور اس کے اعتماد وثوق اور محبت و مناصرت کے مستحق وہ ہی لوگ ہیں جو حق تعالیٰ سے اسی قسم کا تعلق رکھتے ہوں۔ ہاں تدبیر و انتظام کے درجہ میں کفار کے ضرر عظیم سے اپنے ضروری بچاؤ کے پہلو اور حفاظت کی صورتیں معقول و مشروع طریقہ پر اختیار کرنا، ترک موالات کے حکم سے اسی طرح مستثنیٰ ہیں، جیسے سورة انفال میں وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ، سے مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ (8 ۔ الانفال :16) کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ جس طرح وہاں تحرف و تحیز کی حالت میں حقیقۃً فرار من الزحف نہیں ہوتا، محض صورۃَ ہوتا ہے۔ یہاں بھی الا ان تتقوا منھم تقٰۃً کو حقیقت موالات نہیں، فقط صورت موالات سمجھنا چاہیے جس کو ہم مدارات کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس مسئلہ کی مزید تفصیل سورة مائدہ کی آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ :51) کے فوائد میں ملاحظہ کرلی جائے۔ 9 یعنی مومن کے دل میں اصلی ڈر خدا کا ہونا چاہیئے۔ کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی ناراضی کا سبب ہو، مثلا جماعت اسلام سے تجاوز کر کے بےضرورت کفار کے ساتھ ظاہری یا باطنی موالات کرے یا ضرورت کے وقت صورت موالات اختیار کرنے میں حدود شرع سے گزر جائے۔ یا محض موہوم و حقیر خطرات کو یقینی اور اہم خطرات ثابت کرنے لگے۔ اور اسی قسم کی مستثنیات یا شرعی رخصتوں کو ہوائے نفس کی پیروی کا حیلہ بنا لے۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ سب کو خداوند قدوس کی عدالت عالیہ میں حاضر ہونا ہے وہاں جھوٹے حیلے حوالے کچھ پیش نہ جائینگے۔ مومن قوی کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ رخصت سے گزر کر عزیمت پر عمل پیرا ہو۔ اور مخلوق سے زیادہ خالق سے خوف کھائے۔
Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم چھپاؤ گے اپنے جی کی بات یا اسے ظاہر کرو گے جانتا ہے اس کو اللہ1 اور اس کو معلوم ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے2

1 یعنی ممکن ہے آدمی اپنی نیت اور دل کی بات آدمیوں سے چھپالے لیکن وہ اس طرح خدا کو فریب نہیں دے سکتا۔ (وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ) 2 ۔ البقرۃ :220) 2 جب علم اس قدر محیط اور قدرت ایسی عام و تام ہے تو مجرم کے لئے اخفاء جرم یا سزا سے بچ کر بھاگ جانے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 3:30

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن موجود پاویگا ہر شخص جو کچھ کہ کی ہے اس نے نیکی اپنے سامنے اور جو کچھ کہ کی ہے اس نے برائی آرزو کریگا کہ مجھ میں اور اس میں فرق پڑجاوے دور کا3 اور اللہ ڈراتا ہے تم کو اپنے سے اور اللہ بہت مہربان ہے بندوں پر4

3 یعنی قیامت کے دن ہر نیکی بدی آدمی کے سامنے حاضر ہوگی۔ عمر بھر کا اعمال نامہ ہاتھ میں پکڑا دیا جائے گا۔ اس وقت مجرمین آرزو کریں گے کہ کاش یہ دن ہم سے دور ہی رہتا یا ہم میں اور ان برے اعمال میں بڑی دور کا فاصلہ ہوتا کہ ان کے قریب بھی نہ جاتے۔ 4 یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ تم کو اس خوفناک دن کے آنے سے پہلے ڈراتا اور آگاہ کرتا ہے۔ تاکہ برائی کے طریقے خصوصا موالات کفار ترک کر کے اور بھلائی کے راستہ پر چل کر اپنے خداوند قہار کے غصہ سے بچا لینے کا قبل از وقت انتظام کر رکھو۔ قرآن کریم کا یہ خاص طرز ہے کہ عموما خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کا مضمون سناتا ہے۔ یہاں بھی مضامین ترہیب کو معتدل بنانے کے لئے اخیر میں واللّٰہُ رَوْفٌ م بالْعِبَاد فرما دیا۔ یعنی خدا سے ڈر کر اگر برائی چھوڑ دو گے تو اس کی مہربانی پھر تمہارا استقبال کرنے کو تیار ہے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ آؤ ! تم کو ایسا دروازہ بتائیں جس سے داخل ہو کر مغفرت و رحمت کے پورے مستحق بلکہ خدا تعالیٰ کے محبوب بن سکتے ہو۔ (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 3 ۔ آل عمران :31)
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو تاکہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے5

5 دشمنان خدا کی موالات و محبت سے منع کرنے کے بعد خدا سے محبت کرنے کا معیار بتلاتے ہیں۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ یا خیال ہو تو لازم ہے کہ اس کو اتباع محمدی ﷺ کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔ جو شخص جس قدر حبیب خدا محمد رسول اللہ ﷺ کی راہ چلتا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی روشنی کو مشعل راہ بناتا ہے۔ اسی قدر سمجھنا چاہیے کہ خدا کی محبت کے دعوے میں سچا اور کھرا ہے۔ اور جتنا اس دعوے میں سچا ہوگا، اتنا ہی حضور ﷺ کی پیروی میں مضبوط و مستعد پایا جائے گا۔ جس کا پھل یہ ملے گا کہ حق تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگے گا۔ اور اللہ کی محبت اور حضور ﷺ کے اتباع کی برکت سے پچھلے گناہ معاف ہو جائینگے اور آئندہ طرح طرح کی ظاہری و باطنی مہربانیاں مبذول ہونگی۔ گویا توحید وغیرہ کے بیان سے فارغ ہو کر یہاں سے نبوت کا بیان شروع کیا گیا اور پیغمبر آخرالزماں ﷺ کی اطاعت کی دعوت دی گئی۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور رسول کا پھر اگر اعراض کریں تو اللہ کو محبت نہیں ہے کافروں سے6

6 یہود و نصاریٰ کہتے تھے (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ) 5 ۔ المائدہ :18) ، (ہم خدا کے بیٹے اور محبوب ہیں) یہاں بتلا دیا گیا کہ کافر کبھی خدا کا محبوب نہیں ہوسکتا۔ اگر واقعی محبوب بننا چاہتے ہو تو اسکے احکام کی تعمیل کرو، پیغمبر ﷺ کا کہا مانو اور خدا کے سب سے بڑے محبوب کے نقش قدم پر چلے آؤ۔ وفد نجران نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم مسیح کی تعظیم و عبادت اللہ کی محبت و تعظیم کے لئے کرتے ہیں، اس کا بھی جواب ہوگیا۔ آگے خدا تعالیٰ کے چند محب و محبوب بندوں کا حال سنایا گیا اور وفد نجران کی رعایت سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی سوانح زیادہ شرح و بسط کے ساتھ بیان کی گئی ہے، جو تمہید ہے خاتم الانبیاء ﷺ کے ذکر مبارک کی۔ جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے پسند کیا آدم کو اور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو7 سارے جہان سے

7 " عمران " دو ہیں، ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد، دوسرے حضرت مریم کے والد، اکثر سلف و خلف نے یہاں عمران ثانی مراد لیا ہے کیونکہ آگے اذ قالت امراۃ عمران الخ سے اسی دوسرے عمران کے گھرانے کا قصہ بیان ہوا ہے اور غالبا سورة کا نام " آل عمران " اسی بناء پر ہوا کہ اس میں عمران ثانی کے گھرانے (یعنی حضرت مریم و مسیح علیہ السلام) کا واقعہ بہت بسط و تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

جو اولاد تھے ایک دوسرے کی8 اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے9

8 خدا کی مخلوقات میں زمین آسمان، چاند، سُورج، ستارے، فرشتے، جِن، شجر، حجر سب ہی شامل تھے۔ مگر اس نے اپنے علم محیط اور حکمت بالغہ سے ملکات روحانیہ اور کمالات جسمانیہ کا جو مجموعہ ابو البشر آدم (علیہ السلام) میں ودیعت کیا وہ مخلوقات میں سے کسی کو نہ دیا۔ بلکہ آدم کو مسجود ملائکہ بنا کر ظاہر فرما دیا کہ آدم کا اعزازو اکرام اسکی بارگاہ میں ہر مخلوق سے زیادہ ہے۔ آدم کا یہ انتخابی اور اصطفائی فضل و شرف جسے ہم " نبوت " سے تعبیر کرتے ہیں کچھ ان کی شخصیت پر محدود و مقصود نہ تھا، بلکہ منتقل ہو کر ان کی اولاد میں نوح (علیہ السلام) کو ملا، پھر منتقل ہوتا ہوا نوح (علیہ السلام) کی اولاد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک پہنچا۔ یہاں سے ایک نئی صورت پیدا ہوگئی۔ آدم و نوح کے بعد جتنے انسان دنیا میں آباد رہے تھے وہ سب ان دونوں کی نسل سے تھے۔ کوئی خاندان ان دونوں کی ذرّیت سے باہر نہ تھا۔ برخلاف اس کے ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ان کی نسل کے علاوہ دنیا میں دوسرے بہت خاندان موجود رہے لیکن جس خدا نے اپنی بیشمار مخلوقات میں سے منصب نبوت کے لئے آدم کا انتخاب کیا تھا اسی کے علم محیط اور اختیار کامل نے آئندہ کے لئے ہزاروں گھرانوں میں سے اس منصب جلیل کے واسطے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے کو مخصوص فرما دیا۔ جس قدر انبیاء و رسل ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد آئے ان ہی کے دو صاحبزادوں اسحاق و اسماعیل کی نسل سے آئے۔ چونکہ عموما نسب کا سلسلہ باپ کی طرف سے چلتا ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) بن باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لحاظ سے وہم ہوسکتا تھا کہ ان کو نسل ابراہیمی سے مستثنیٰ کرنا پڑے گا۔ اس لئے حق تعالیٰ نے " آل عمران " اور ذریۃ بعضھا من بعض فرما کر متنبہ کردیا کہ حضرت مسیح جب صرف ماں سے پیدا ہوئے تو ان کا سلسلہ نسب بھی ماں ہی کی طرف سے لیا جائے گا نہ کہ معاذ اللہ خدا کی طرف سے۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی والدہ مریم صدیقہ کے باپ عمران کا سلسلہ آخر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر منتہی ہوتا ہے تو آل عمران، آل ابراہیم کی ایک شاخ ہوئی اور کوئی پیغمبر خاندان ابراہیمی سے باہر نہ ہوا۔ 6 سب کی دعاؤں اور باتوں کو سنتا اور سب کے ظاہری و باطنی احوال و استعداد کو جانتا ہے۔ لہذا یہ وہم نہ کرنا چاہیے کہ یوں ہی کیف ما اتفق انتخاب کرلیا ہوگا وہاں کا ہر کام پورے علم و حکمت پر مبنی ہے۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والاف 10

10 عمران کی عورت کا نام ہے " حنہ بنت فاقوذا " اس نے اپنے زمانہ کے رواج کے موافق منت مانی تھی کہ خدا وندا ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں اسے " مُحرر " (تیرے نام پر آزاد کرتی ہوں) اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ تمام دنیاوی مشاغل اور قید نکاح وغیرہ سے آزاد رہ کر ہمیشہ خدا کی عبادت اور کلیسا کی خدمت میں لگا رہے گا۔ اے اللہ تو اپنی مہربانی سے میری نذر قبول فرما۔ تو میری عرض کو سنتا اور میری نیت و اخلاص کو جانتا ہے۔ گویا لطیف طرز میں استدعا ہوئی کہ لڑکا پیدا ہو کیونکہ لڑکیاں اس خدمت کے لئے قبول نہیں کی جاتی تھیں۔
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس کو جنا بولی اے رب میں نے تو اس کو لڑکی جنی11 اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ اس نے جنا اور بیٹا نہ ہو جیسی وہ بیٹی1 اور میں نے اس کا نام رکھا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے2

11 یہ حسرت و افسوس سے کہا، کیونکہ خلاف توقع پیش آیا۔ اور لڑکی قبول کرنے کا دستور نہ تھا۔ 1 یہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ حق تعالیٰ کا کلام ہے یعنی اسے معلوم نہیں کیا چیز جنی۔ اس لڑکی کی قدر و قیمت کو خدا ہی جانتا ہے جس طرح کے بیٹے کی اسے خواہش تھی وہ اس بیٹی کو کہاں پہنچ سکتا تھا۔ یہ بیٹی بذات خود مبارک و مسعود ہے اور اس کے وجود میں ایک عظیم الشان مبارک و مسعود بیٹے کا وجود منطوی ہے۔ 2 حق تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کے بچہ کو ولادت کے وقت جب ماں سے جدا ہو کر زمین پر آرہتا ہے۔ شیطان مس کرتا ہے۔ مگر عیسیٰ اور مریم مستثنیٰ ہیں۔ اس کا مطلب دوسری احادیث کے ملانے سے یہ ہوا کہ بچہ اصل فطرت صحیحہ پر پیدا کیا جاتا ہے جس کا ظہور بڑے ہو کر عقل وتمیز آنے کے بعد ہوگا۔ لیکن گردوپیش کے حالات اور خارجی اثرات کے سامنے بسا اوقات اصل فطرت دب جاتی ہے جس کو حدیث میں فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَ انِہٖ اَوْیُنَصِّرانِہٖ سے تعبیر کیا ہے پھر جس طرح ایمان وطاعت کا بیج اس کے جوہر فطرت میں غیر مرئی طور پر رکھ دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت اس کو ایمان تو کیا موٹی موٹی محسوسات کا ادراک و شعور بھی نہیں تھا۔ اسی طرح خارجی اثراندازی کی ابتداء بھی ولادت کے بعد ایک قسم کے مس شیطانی سے غیر محسوس طور پر ہوگئی۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس مس شیطانی کا اثر قبول کرے یا قبول کرلے تو آئندہ چل کر وہ برابر باقی رہے۔ تمام انبیاء علیم السلام کی عصمت کا تکفل چونکہ حق تعالیٰ نے کیا ہے اس لئے اگر فرض کرو ابتدائے ولادت میں یہ صورت ان کو پیش آئی ہو اور مریم و عیسیٰ کی طرح اس ضابطہ سے مستثنیٰ نہ ہوں تو اس میں پھر بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان مقدس و معصوم بندوں پر شیطان کی اس حرکت کا کوئی مضر اثر قطعا نہیں پڑ سکتا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ مریم و عیسیٰ (علیہ السلام) کو کسی مصلحت سے یہ صورت سرے سے پیش ہی نہ آئی ہو۔ اوروں کو پیش آئی مگر اثر نہ ہوا۔ اس قسم کے جزئی امتیازات فضیلت کلی ثابت کرنے کا موجب نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں ہے کہ دو بچیاں کچھ اشعار گا رہی تھیں۔ حضور ﷺ نے ادھر سے منہ پھیرلیا۔ ابوبکر آئے مگر لڑکیاں بدستور مشغول رہیں، اسکے بعد حضرت عمر آئے۔ لڑکیاں اٹھ کر بھاگ گئیں، حضور ﷺ نے فرمایا کہ " عمر جس راستہ پر چلتا ہے شیطان وہ راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے " کیا اس سے کوئی خوش فہم یہ مطلب لے سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عمر کو اپنے سے افضل ثابت کر رہے ہیں۔ ہاں ابوہریرہ کا مس شیطان کی حدیث کو آیت ہذا کی تفسیر بنانا بظاہر چسپاں نہیں ہوتا۔ اِلا یہ کہ آیت وانی اعیذھا بک الخ میں واؤ عطف کو ترتیب کے لئے نہ سمجھا جائے۔ یا حدیث میں استثناء سے صرف مسیح کے مریم سے پیدا ہونے کا واقعہ مراد ہو۔ مریم و مسیح الگ الگ مراد نہ ہوں۔ چناچہ بخاری کی ایک روایت میں صرف حضرت عیسیٰ کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح کا قبول اور بڑھایا اس کو اچھی طرح بڑھانا اور سپرد کی زکریا کو3 جس وقت آتے اس کے پاس زکریا حجرے میں پاتے اس کے پاس کچھ کھانا4 کہا اے مریم کہاں سے آیا تیرے پاس یہ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے آتا ہے اللہ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بےقیاس5

ف 3 یعنی گو لڑکی تھی مگر حق تعالیٰ نے لڑکے سے بڑھ کر اسے قبول فرمایا۔ بیت المقدس کے مجاورین کے دلوں میں ڈال دیا کہ عام دستور کے خلاف لڑکی کو قبول کرلیں۔ اور ویسے بھی مریم کو قبول صورت بنایا اور اپنے مقبول بندہ زکریا کی کفالت میں دیا اور اپنی بارگاہ میں حسن قبول سے سرفراز کیا۔ جسمانی، روحانی، علمی، اخلاقی ہر حیثیت سے غیر معمولی طور پر بڑھایا جب مجاورین میں اسکی پرورش کے متعلق اختلاف ہوا تو قرعہ انتخاب حضرت زکریا کے نام نکال دیا۔ تاکہ لڑکی اپنی خالہ کی آغوش شفقت میں تربیت پائے اور زکریا کے علم و دیانت سے مستفید ہو۔ زکریا (علیہ السلام) نے پوری مراعاۃ اور جدوجہد کی۔ جب مریم سیانی ہوئیں تو مسجد کے پاس ان کے لئے ایک حجرہ مخصوص کردیا۔ مریم دن بھر وہاں عبادت وغیرہ میں مشغول رہتی اور رات اپنی خالہ کے گھر گزارتی۔ 4 اکثر سلف کے نزدیک " رزق " سے مراد ظاہری کھانا ہے کہتے ہیں مریم کے پاس بےموسم میوے آتے گرمی کے پھل سردی میں، سردی کے گرمی میں۔ اور مجاہد سے ایک روایت ہے کہ " رزق " سے مراد علمی صحیفے ہیں جن کو روحانی غذا کہنا چاہیئے۔ بہرحال اب کھلم کھلا مریم کی برکات و کرامات اور غیر معمولی نشانات ظاہر ہونے شروع ہوئے جن کا بار بار مشاہدہ ہونے پر زکریا (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا اور ازراہ تعجب پوچھنے لگے کہ مریم ! یہ چیزیں تم کو کہاں سے پہنچتی ہیں۔ 5 یعنی خدا کی قدرت اسی طرح مجھ کو یہ چیزیں پہنچاتی ہے جو قیاس و گمان سے باہر ہے۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

وہیں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے کہا اے رب میرے عطا کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ بیشک تو سننے والا ہے دعا کو6

6 حضرت زکریا (علیہ السلام) بالکل بوڑھے ہوچکے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، اولاد کی کوئی ظاہری امید نہ تھی۔ مریم کی نیکی و برکت اور یہ غیر معمولی خوراک دیکھ کر دفعۃَ قلب میں ایک جوش اٹھا اور فوری تحریک ہوئی کہ میں بھی اولاد کی دعا کروں۔ امید ہے مجھے بھی بےموسم میوہ مل جائے۔ یعنی بڑھاپے میں اولاد مرحمت ہو۔