Ayah 3:1الم : یہ حروف مقطعات میں سے ہیں متشابہات میں شمار کیے جاتے ہیں ان کا معنی اللہ ہی کو معلوم ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں بیان کیا گیا۔
Ayah 3:2الحی القیوم کی تفسیر :
(اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ) اس میں اولاً اللہ جل شانہ کی توحید بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اس سے تمام مشرکین کی تردید ہوگئی۔ ثانیاً اللہ جل شانہ، کی دو بڑی اہم صفات ذکر فرمائیں یعنی الحی القیوم۔
حَیٌّ:
یعنی زندہ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ قَیُّوْمُ جو ساری مخلوق کو قائم رکھنے والا ہے اسی نے سب کو پیدا فرمایا۔ وہی سب کی پرورش فرماتا ہے اسی نے سب کا وجود باقی رکھا ہے وہ جب چاہے گا سب کو فنا کر دے گا۔ اور وہ خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ظاہر ہے کہ جو ذات ان صفات سے متصف ہے وہی عبادت کے لائق ہے اور جس کا وجود پہلے نہ تھا بعد میں وجود ملا اور وہ وجود اسے خالق ومالک جل مجدہ نے بخشا اور اپنی بقا میں وہ اپنے خالق ومالک کا محتاج ہے وہ کسی طرح بھی معبود نہیں ہوسکتا۔ معبود صرف وہی ہے جو حی ہے اور قیوم ہے جو لوگ معبود ان باطلہ کو مانتے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں اپنی بقا میں خالق تعالیٰ شانہ، کی محتاج ہیں اور پہلے ان کا وجود بھی نہ تھا اور انہیں دنیاوی چیزوں کی حاجت ہے یہ سب باتیں دیکھتے اور سمجھتے ہوئے ان باطل معبودوں کی عبادت کرتے ہیں یہ ان کی حماقت ہے۔ لفظ الحی القیوم باری تعالیٰ شانہ کی صفات میں ذکر فرما کر تمام مشرکین کی پوری پوری تردید ہوگئی۔
Ayah 3:3کتاب سماویہ کا تذکرہ :
(نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ) اس آیات میں قرآن مجید اور توریت شریف اور انجیل شریف کے نازل فرمانے کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کے بارے میں فرمایا کہ وہ ان سب کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل کی گئیں اس میں یہود و نصاریٰ کی تالیف قلوب بھی ہے اور قرآن کے ماننے کی طرف دعوت بھی ہے۔ قرآن سے اور صاحب قرآن سے کیوں دور بھاگتے ہو یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جن کو تم مانتے ہو وہ کتابیں جن کو تم مانتے ہو اور قرآن مجید اصولی طور پر عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت اور عقیدۂ معاد کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر قرآن مجید تمہاری کتابوں کی مخالفت کرتا تو یہ بہانہ کرسکتے تھے کہ یہ ہمارے دین کے خلاف ہے جس طرح انجیل نے توریت کی تصدیق کی اسی طرح قرآن توریت اور انجیل کی اور تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی تصدیق کرتا ہے نیز قرآن کے نزول سے متعجب نہیں ہونا چاہیے اس سے پہلے توریت اور انجیل نازل ہوچکی ہیں جن کو تم تسلیم کرتے ہو۔ جس ذات پاک نے ان دونوں کو نازل فرمایا اسی نے قرآن مجید نازل فرما دیا۔
توریت اور انجیل کے بارے میں (ھُدًی لِّلنَّاسِ ) فرمایا جیسا کہ قرآن مجید کے بارے میں بھی سورة بقرہ رکوع 22 میں ھُدًی لِّلنَّاس فرمایا توریت و انجیل لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اسی ہدایت میں یہ بھی ہے کہ نبی عربی ﷺ تشریف لائیں گے ان پر ایمان لانا (الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰیۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ) (الآیۃ)
Ayah 3:4فرقان سے کیا مراد ہے ؟
پھر فرمایا (وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ) لفظ الفرقان فعلان کے وزن پر ہے جس کا معنی ہے فرق کرنے والی چیز۔ یہاں الفرقان سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے (صفحہ 77 جلد 3) متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ حضرت قتادہ تابعی کا ارشاد ہے کہ الفرقان سے قرآن مراد ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے اس میں حلال و حرام، حدود اور فرائض، طاعت اور معصیت کو خواب اچھی طرح واضح فرما دیا ہے پہلے اس کی تنزیل کا ذکر فرمایا پھر اس کی صفت بیان فرمائی کہ وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے تمام کتب الہٰیہ مراد ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے زبور مراد ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ مشہور چار کتابوں میں سے تین کتابوں کا ذکر فرما کر وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَان میں زبور شریف کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض حضرات کا ارشاد ہے کہ الفرقان سے معجزات مراد ہیں جن کے ذریعہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تائید اور تصدیق ہوتی رہی اور حق اور باطل میں فرق ظاہر ہوتا رہا۔
منکرین کے لیے وعید :
توحید اور رسالت کے بیان کے بعد منکرین کے لیے وعید ذکر فرمائی اور فرمایا کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ) کہ جنہوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ) کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور جسے چاہے عذاب دے سکتا ہے۔ عزیز کے ساتھ ذوانتقام بھی فرمایا کہ وہ مجرموں کو سزا دینے والا ہے اور اسے پوری پوری طاقت اور قوت ہے کوئی مجرم اس کے علم سے باہر نہیں اور اس کے فیصلے سے کسی کو کوئی مفر نہیں۔
Ayah 3:5اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کے علم کی وسعت بیان فرمائی اور فرمایا کہ (اِنَّ اللّٰہَ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ) یعنی اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ارض و سماء (آسمان و زمین) سے پورا عالم مراد ہے آسمان و زمین کے علاوہ بھی مخلوقات ہے ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں آسمان و زمین چونکہ نظروں کے سامنے ہیں اور عام طور سے لوگ انہیں جانتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔ لہٰذا من اطلاق الجزء وارادۃ الکل۔
اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض مغیبات کا علم اللہ تعالیٰ شانہ نے جو کسی کو عطا فرما دیا (جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (کہ لوگوں کو ان کے گھروں میں رکھی ہوئی چیزیں بتا دیتے تھے) اس سے معبود ہونا لازم نہیں آتا۔ معبود حقیقی وہی ہے جس کے علم سے کوئی بھی چیز باہر نہ ہو۔
قال صاحب الروح فی بیان ذلک تنبیہ علی ان الوقوف علی بعض المغیبات کما وقع لعیسی (علیہ السلام) بمعزل من بلوغ رتبۃ الصفات الالٰھیہ۔
Ayah 3:6اللہ جیسے چاہے رحم مادر میں تصویر بناتا ہے :
پھر اللہ جل شانہ کی ایک اور خاص صفت بیان فرمائی اور فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ) کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو ماؤں کے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بنا دیتا ہے یہ ایک ایسی صفت ہے جسے موحد اور مشرک سب ہی مانتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے ماؤں کے رحموں میں تصویریں بنا دیتا ہے کسی کے اعضاء صحیح سالم ہیں کسی میں نقص۔ کوئی کالا ہے کوئی گورا ہے کوئی مذکر ہے کوئی مونث ہے۔ کسی کی ناک اونچی ہے اور کسی کی ناک پھڈی ہے کسی کے ہونٹ موٹے ہیں اور کسی کا ہاتھ ٹیڑھا ہے۔ کان تو ہیں مگر بہرا پیدا ہوا زبان تو ہے مگر گونگا ہے اور اس طرح کی کتنی چیزیں ہیں نہ باپ کچھ کرسکتا ہے نہ ماں کچھ کرسکتی ہے نہ پیدا ہونے والا کوئی طاقت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ جیسی صورت بنا دے اسی صورت میں عالم دنیا میں انسانوں کے بچے ظہور پذیر ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق کا بھی یہی حال ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنی صورت خود نہیں بنا سکتا وہ کیا معبود ہوسکتا ہے۔ خالق ومالک نے اس کی جیسی صورت بنا دی وہ مجبور ہے کہ اسی صورت میں رہے۔ اسے یہ مرتبہ کہاں حاصل ہوسکتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا ماننے والوں کی بھی واضح تردید ہوگئی۔ حضرت عیسیٰ نہ خود پیدا ہوئے نہ اپنی صورت بنا سکے ان کو خدا ماننا سرا سر گمراہی ہے آخر میں فرمایا (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اس میں پھر مضمون توحید کا اعادہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اللہ عزیز اور حکیم ہے۔ اس کی قدرت سے کوئی باہر نہیں اور جو کچھ وجود میں ہے اب اس کی حکمت کے موافق ہے۔
Ayah 3:7محکمات اور متشابہات کا مطلب
اس آیت شریفہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن میں بہت سی آیات محکمات ہیں اور بہت سی آیات متشابہات ہیں، اور بعض آیات میں تمام آیات کو محکم بتایا ہے جیسا کہ سورة ھود میں فرمایا ہے (کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَاتُہٗ ) اور بعض جگہ پورے قرآن کو متشابہ فرمایا جیسا کہ سورة زمر میں فرمایا : (اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَثَانِیَ ) ان مواقع میں محکم اور متشابہ کا وہ معنی مراد نہیں ہے جو سورة آل عمران کی مذکورہ بالا آیت میں مراد ہے جو ابھی مذکور ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
پورا قرآن محکم اس اعتبار سے ہے کہ وہ سارا حق ہے لفظی اور معنوی اعتبار سے بالکل صحیح ہے کسی بھی جگہ کسی طرح کا اس میں اشکال نہیں ہے اس کے الفاظ اور معنی سب ہی محکم مضبوط اور مربوط ہیں اور جہاں پورے قرآن کو متشابہ فرمایا وہاں یہ مراد ہے کہ قرآن مجید کی آیات آپس میں متشابہ ہیں اس کے معانی حسن اور خوبی میں، حق اور صادق ہونے میں ایک دوسرے سے تشابہ رکھتے ہیں۔
یہاں ( سورة آل عمران میں) محکمات سے وہ آیات مراد ہیں جن کا مطلب ظاہر اور واضح ہے۔ نیز یہ آیات ام الکتاب یعنی اصل الاصول ہیں جن کے معانی و مفاہیم میں کوئی اشتباہ نہیں ان میں او امر و نواہی ہیں اور احکام ہیں جو بالکل واضح ہیں ان کے جاننے اور سمجھنے میں کوئی اشتباہ و التباس نہیں اگر کسی آیت میں کوئی ابہام یا اجمال ہو تو اس کے مفہوم کو بھی انہیں محکمات یعنی اصل الاصول کی طرف راجع کردیا جاتا ہے۔ دوسری قسم کی آیات یعنی متشابہات سے وہ آیات مراد ہیں جن میں صاحب کلام کی مراد ہمیں معلوم نہیں۔ ان آیات کو متشابہات کہا جاتا ہے۔
راسخین فی العلم کا طریقہ :
ان کے بارے میں راسخین فی العلم کا یہ طریقہ ہے کہ ان کے مفہوم کو آیات محکمات کے مفاہیم کی طرف لوٹا دیتے ہیں جو معنی آیات محکمات کے خلاف پڑے اس کی قطعاً نفی کی جائے اور متکلم کی مراد وہ سمجھی جائے جو آیات محکمات کے خلاف نہ ہو۔ اور کوئی ایسی تاویل اور توجیہ صحیح نہ سمجھی جائے جو اصول مسلمہ اور آیات محکمہ کے خلاف ہو۔ آیات متشابہات کا صحیح مطلب وہی تسلیم کیا جائے جو اللہ کے نزدیک ہے یہ اسلم ترین راستہ ہے۔ بہت سے لوگ ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھ نہیں پاتے اور چونکہ ان کے دلوں میں کجی ہے اس لیے آیات محکمات کے واضح بیانات کو چھوڑ کر متشابہات کے معانی سمجھنے اور کریدنے کے نامبارک شغل میں لگ جاتے ہیں اور فتنہ گری کے لیے ان کے وہ مفاہیم تجویز کرتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور افکار و آراء کے موافق ہوں۔ اگرچہ ان کی یہ تاویل آیات قرآنیہ محکمہ کے خلاف ہی ہو۔
بہت سے وہ لوگ جو منکرین حدیث تھے منکرین قرآن بن گئے۔ کیونکہ وہ لوگ متشابہات کے پیچھے لگے اور ان کے دل کی کجی نے ان کو قرآن پاک سے دور کردیا۔ قرآن میں جو (اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) اور (یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ ) اور (جَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا) اور (یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ ) وارد ہوا۔ راسخین فی العلم ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور سمجھے بغیر ان کے معانی اور مفاہیم کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا جو مطلب اللہ کے نزدیک ہے وہی ہمارے نزدیک ہے اسی کو فرمایا : (وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا) کہ جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ جو لوگ قرآن کی تعلیمات کا مرکز اور محور آیات محکمات کو مانتے ہیں اور متشابہات کے بارے میں اپنے علم کے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے حقیقی معانی کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے یوں کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا جو مفہوم اللہ کے نزدیک ہے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اس پر ہمارا ایمان ہے۔
جب امام مالک ؓ سے (اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
المعنی معلوم و الکیف مجھول والایمان بہ واجب السوال عنہ بدعۃ (معنی معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے (معنی کے) بارے میں سوال کرنا بدعت ہے) نقائص اور عیوب سے اور تجسیم و تعطیل سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرنا بھی واجب ہے اور جو کچھ وارد ہوا ہے اس پر ایمان لانا بھی واجب ہے تاکہ متشابہات کے ان مفاہیم پر بھی ایمان ہوجائے جو اللہ کے نزدیک ہیں اور (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) کے خلاف بھی عقیدہ نہ ہوجائے۔ بہت سے لوگ متشابہات کے ظاہری معنی لیتے ہیں اور (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) کو بھول جاتے ہیں یہ اتباع ہویٰ ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کی تفتیش میں لگے ہوئے ہوں تو ان سے پرہیز کرو۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے لہٰذا ان سے پرہیز کرو۔ (صحیح بخاری صفحہ 652: ج 2)
” ای ذکرھم فی قولہ (فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَ ابْتِغَآءَ تَاوِیْلِہٖ ) “
بعض علماء اصول نے فرمایا ہے کہ متشابہات اہل علم کے ابتلاء کے لیے ہیں، جن کا تفتیش اور تلاش کا مزاج ہوتا ہے ان کا ابتلاء اس میں ہے کہ بس رک جاؤ آگے نہ بڑھو۔ اور جن لوگوں کو علم کا ذوق نہیں ان کا ابتلاء اس میں ہے کہ ان کو ترغیب دے کر علم پر لگایا جائے اور آیات محکمات کے سمجھنے اور پڑھنے پڑھانے پر آمادہ کیا جائے۔
Ayahs 3:8–9راسخین فی العلم کی دعاء
ان دونوں آیتوں میں ان لوگوں کی دعا نقل فرمائی ہے جنہیں رسوخ فی العلم حاصل ہے۔ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! آپ نے ہم کو ہدایت عطا فرمائی ہے۔ ہم کو ہدایت پر ہی رکھئے ہمارے دلوں میں کجی اور ٹیڑھا پن پیدا نہ فرمائیے۔ جو لوگ دلوں کی کجی کی وجہ سے متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں ہمیں ان میں سے نہ کیجیے اور اپنے پاس سے ہمیں بڑی رحمت عطا فرمائیے۔ یہ رحمت عامہ ہمیں دنیا میں بھی شامل ہو۔ اور آخرت میں بھی شامل ہو۔ ہمارا ایمان محکمات پر بھی رہے اور متشابہات پر بھی رہے۔ درحقیقت یہ دعا بہت اہم ہے اور یہ دعا برابر کرتے رہنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے ہدایت اختیار کرنے کے بعد گمراہی اختیار کرلی فتنہ گروں کے اتباع میں لگ گئے اور فتنہ میں پڑگئے اور ایمان کھو بیٹھے اور ہدایت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ بنی آدم کے دل سب کے سب رحمان کے قبضہ میں ہیں وہ جیسے چاہے پھیر دے۔ پھر آپ نے یہ دعا کی :
” اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ “ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ : 20)
(اے اللہ ! دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری پر لگائے رکھ)
راسخین فی العلم کی دوسری دعا یہ نقل فرمائی کہ اے ہمارے رب ! آپ سب لوگوں کو ایسے دن میں جمع فرمائیں گے جس میں کوئی شک نہیں ہے آپ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے جو سچا وعدہ ہے قیامت کا دن ضرور آئے گا اور تمام لوگ اس میں ضرور جمع ہوں گے۔
اس دعا میں اپنی حاجت اصلیہ کا اظہار کردیا جو دن واقعی حاجت مندی کا ہے اس دن کی خیر طلب کی۔ کما قال صاحب الروح صفحہ 91: ج 3 و مقصود ھم من ھذا کما قال غیر واحد۔ عرض کمال افتقارھم الی الرحمۃ و أنھا المقصد الأسنی عندھم، والتاکید لاظھار ما ھم علیہ من کمال الطمانینۃ و قوۃ الیقین باحوال الاٰخرۃ لمزید الرغبۃ فی استنزال طائر الاجابۃ۔
Ayahs 3:10–11آخرت میں اموال و اولاد کام نہیں آئیں گے
اہل کفر اپنے مالوں پر اور اولاد پر بہت فخر کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہیں دنیا میں کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ ہی جاتا ہے ان کا خیال خام یہ ہے کہ آخرت میں بھی مال اور اولاد سے کام چلے گا اور اللہ کے عذاب سے یہ چیزیں ہم کو بچا لیں گی۔ سورة سبا رکوع نمبر 4 میں کافروں کا قول نقل فرماتے ہوئے ارشاد ہے : (وَ قَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ) (اور انہوں نے کہا ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں اور ہم کو عذاب ہونے والا نہیں ہے)
جب آخرت میں کفر پر عذاب ہوگا تو وہاں مال تو ہونے ہی کا نہیں۔ اگر مال ہو بھی تو جان کے بدلے میں قبول نہیں ہوسکتا جیسا کہ اسی سورت کے رکوع 9 میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَھَبً وَّلَوِ افْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) (بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اس حالت میں مرگئے کہ کافر تھے سو ہرگز ان میں سے کسی کی طرف سے بھی زمین بھر کر سونا قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ اپنی جان کا بدلہ دینا چاہے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا) ۔
یہ تو مال کے بارے میں ارشاد فرمایا اور اولاد کے بارے میں سورة عبس میں فرمایا کہ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہِ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ یَوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ) (جس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے، ہر شخص کی الگ الگ حالت ہوگی جو دوسروں کی طرف توجہ کرنے سے بےنیا زکر دے گی)
ان حالات میں یہ امید رکھنا کہ جس طرح مال و اولاد سے دنیا میں کام چل جاتا ہے آخرت میں بھی کام چل جائے گا سراپا حماقت اور بےوقوفی ہے اور جھوٹی آرزو ہے جنہوں نے کفر کیا اور کفر پر مرے ان کو دوزخ میں جانا ہی ہوگا اور وہ دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔
حضرت خاتم النّبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کا حال اور طور طریق وہی ہے جو آل فرعون کا تھا۔ اور جو ان لوگوں کا تھا جو ان سے پہلے تھے ان لوگوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کے سبب گرفت فرما لی۔ دنیا میں بھی ان پر عذاب آئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔
قولہ تعالیٰ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا قَال الکلبی من عذاب اللّٰہ و قال ابو عبیدہ من بمعنی عند ای عند اللّٰہ۔ (معالم التنزیل صفحہ 281: ج 1)
Ayah 3:12یہودیوں کو نصیحت کہ واقعہ بدر سے عبرت لیں
روح المعانی میں صفحہ 94: ج 3 بحوالہ بیہقی وغیرہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بدر میں فتحیابی ہوئی تو آپ نے بدر سے واپس ہو کر یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں جمع فرمایا اور فرمایا اے یہودیو ! اسلام قبول کرو اس سے پہلے کہ تم کو بھی وہی مصیبت پہنچ جائے جو قریش کو پہنچی، یہ سن کر یہودیوں نے کہا کہ اے محمد ﷺ ! تم اس دھوکے میں نہ رہو کہ تم نے قریش کے چند ایسے افراد کو قتل کردیا جو اناڑی ناتجربہ کار تھے جنگ کرنا نہیں جانتے تھے، تم یہ خیال نہ کرو کہ ہمارے مقابلہ میں بھی کامیاب ہوجاؤ گے۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم ہم ہیں، ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیات نازل فرمائی اور ان کو بتادیا کہ تم نے بھی کفر اختیار کر رکھا ہے تم بھی عنقریب مغلوب ہوگئے۔ (یہ گیڈر بھبکیاں کچھ کام نہ آئیں گی) دنیا میں مغلوب و مقتول ہو گے اور آخرت میں دوزخ میں جمع کردیے جاؤ گے دوزخ بہت برا بچھونا ہے وہاں کی جو آگ ہے اسی پر پڑے رہو گے اور جلتے رہو گے۔
یہودیوں کی ڈھٹائی :
یہودیوں نے بہت بڑی بھبکی دی لیکن بالآخر مغلوب ہوئے بنی قریظہ مقتول ہوئے اور بنی نضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہاں بھی ان پر مسلمان حملہ آور ہوئے اور ان کے قلعے فتح ہوئے اور ان سے یہ معاہدہ ہوا کہ کھیتی باڑی کرتے رہیں اور کھجور کے باغوں میں کام کریں اور جو پیداوار ہو اس کا مخصوص حصہ مسلمانوں کو دیا کریں۔
پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ان کو خیبر سے بھی نکال دیا گیا۔ یہ دنیا میں ان کی مغلوبیت ہوئی اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے جہنم ہے ہی۔
غزوہ بدر کا منظر :
یہودیوں کو اللہ رب العزت نے توجہ دلائی اور فرمایا کہ تمہارے لیے عبرت ہے اور اس بات کی نشانی ہے کہ مسلمان کافروں پر غالب ہوں گے اور یہ عبرت بدر کے معرکہ سے تم کو لے لینی چاہیے۔
بدر میں دو جماعتیں مقابل ہوئیں ایک جماعت مسلمانوں کی تھی جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے تھے اور دوسری جماعت کافروں کی تھی یہ قریش مکہ تھے مسلمان تعداد میں تھوڑے سے تھے ان کی تعداد 313 تھی جن میں 77 مہاجرین اور 236 انصاری تھی ان کے پاس ستر اونٹ تھے ہر تین آدمیوں کو ایک اونٹ دیا گیا تھا جو اترتے چڑھتے نمبر وار سفر کرتے تھے دو گھوڑے تھے اور چھ زرہیں تھیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ مدینہ منورہ سے بدر کا سفر تھا جو سو میل سے پہاڑی راستہ تھا اس کو گزار کر بدر میں پہنچے۔
مشرکین مکہ کی تعداد مسلمانوں سے تین گنا تھی ان میں 900 لڑنے والے تھے اور عورتیں ان کے علاوہ تھیں۔ یہ لوگ بڑے طمطراق سے گاتے بجاتے ہوئے کھانے پینے کا بہت زیادہ سامان لے کر بدر پہنچے۔ ان کے ساتھ سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے۔ جب جہاد ہوا تو مشرکین مکہ میں سے ستر آدمی مقتول ہوئے اور ستر افراد کو قید کر کے مدینہ منورہ لایا گیا اور مسلمانوں میں سے چھ مہاجرین اور آٹھ انصاری شہید ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کئی طرح مدد فرمائی۔ ایک صورت مسلمانوں کی مدد اور تائید کی یہ ہوئی کہ مشرکین مکہ مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے (یہ اس صورت میں ہے جب مِثْلَیْھِمْ کی ضمیر مشرکین کی طرف راجع ہو) سورة انفال میں فرمایا ہے :
(وَ اِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِھِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا) (اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تمہاری مڈ بھیڑ ہونے کے وقت تمہاری آنکھوں میں ان کو کم دکھا رہا تھا اور تم کو ان کی آنکھوں میں کم دکھا رہا تھا تاکہ جو بات ہونے والی تھی اسے کر دکھائے) ۔
دونوں آیات کا مضمون ملانے سے معلوم ہوا کہ جنگ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی آنکھوں میں مسلمانوں کو ان کی اپنی تعداد سے کم دکھایا تاکہ مشرکین میں جنگ کرنے کی جرأت بڑھ جائے اور زیادہ تعداد دیکھ کر واپس نہ ہوجائیں پھر جب جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسلمانوں کی اصل تعداد سے زیادہ دکھایا (وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان ہم سے دو گنے ہیں) اور مسلمانوں کی آنکھوں میں مشرکین کی تعداد کم دکھائی تاکہ مسلمان خوب زیادہ جرأت سے لڑیں اور مشرکین بزدل ہوجائیں۔ آیت کی تفسیر میں علماء کا یہ ایک قول ہے جسے صاحب معالم التنزیل نے صفحہ 283: ج 1 میں نقل کیا ہے۔
صاحب روح المعانی نے بھی صفحہ 96: ج 2 میں یہ قول ذکر کیا ہے۔
وقال و کان ذلک عند ترانی الفئتین بعد ان قللھم اللّٰہ تعالیٰ فی اعینھم عند الترائی لیجترءُوا علیھم ولا یرھبوا فیھربوا حیث ینفع الھرب۔
Ayah 3:13(اِذِ الْتَقَیْتُمُوْھُمْ ) کو سامنے رکھ کر یوں کہا جائے گا کہ جب ابتدائی مقابلہ کے لیے فریقین آمنے سامنے آئے تو مشرکین مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے اور جب بالکل ہی مڈ بھیڑ ہونے لگی تو وہ مسلمانوں کو کم دیکھ رہے تھے اور مسلمان ان کو کم دیکھ رہے تھے لفظ ترانی اور ترائی جو صاحب روح المعانی اپنی عبارت میں لائے ہیں اس سے یہ معنی مفہوم ہوتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے بعض علماء سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یرون کی ضمیر مرفوع سے مومنین مراد ہیں اور ضمیر منصوب کافروں کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ مومنین کافروں کو اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ ان سے تین گنا تھے اور ان کو دو گنا اس لیے دکھایا کہ انہیں اپنی فتح کا اطمینان رہے کیونکہ (فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ) میں اللہ تعالیٰ کا ان سے وعدہ تھا کہ اپنے سے دو گنوں پر غالب ہوں گے۔
علامہ صاوی نے فرمایا کہ فاعل اور مفعول کے ضمیروں کے احتمالات کو دیکھتے ہوئے معنوی اعتبار سے چارصورتیں بنتی ہیں یعنی :
(1) یشاھد المومنون الکفار قدر انفسھم مرّتین
(2) یری المومنون الکفار قدر الکفار مرتین محنۃً لھم
(3) یری الکفار المومنین قدر ھم مرتین
(4) یری الکفار المومنین قدر المومنین مرتین
یہ سب احتمال ہوسکتے ہیں لیکن دوسرا احتمال بعید معلوم ہوتا ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بمرادہ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یُأَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہے تقویت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے 313 بےسرو سامان جماعت کو ہزار افراد کے لشکر پر غالب فرمایا جبکہ اس مغلوب ہونے والے لشکر کے پاس خوب زیادہ ہتھیار تھے۔ سب لڑنے والے مسلح تھے اور کھانے پینے کا سامان بھی خوب تھا اور ہر طرح کی آسائش تھی۔ یہودیوں نے اس بھر پور مدد کو نہ دیکھا اور عبرت حاصل نہ کی۔ بلکہ الٹا اثر لیا اور کہنے لگے کہ وہ تو اناڑی لوگ تھے جو جنگ میں ہار گئے۔ ہم سے پالا پڑا تو پتہ چلے گا کہ لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں۔
درحقیقت جب ظاہری و باطنی بینائی کو کام میں نہ لایا جائے اور قصداً کوئی شخص اندھا بنے تو وہ ہلاک ہی ہو کر رہتا ہے اسی کو فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ) کہ بدر کے واقعہ میں بصارت اور بصیرت رکھنے والوں کے لیے بہت بڑی عبرت ہے، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہودی قصداً اندھے بنے ہوئے ہیں بصیرت سے کام نہیں لیتے عقل اور سمجھ کو کام میں لاتے تو مشرکین مکہ کی شکست دیکھ کر جو سرور عالم محمد رسول اللہ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ تھا اسلام قبول کرلیتے۔
Ayah 3:14لوگوں کے لیے دنیاوی مرغوبات مزین کردی گئی ہیں
اس آیت کریمہ میں اجمالی طور پر انسانوں کی مرغوب چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ چیزیں چونکہ انسان کو مرغوب اور محبوب ہیں اور ایمان قبول کرنے کی صورت میں بظاہر ان چیزوں کا ضائع ہونا نظر آتا ہے اس لیے عموماً اہل کفر ایمان قبول نہیں کرتے۔ یہودیوں کے سامنے بھی یہی چیزیں تھیں جو ایمان سے مانع تھیں یہ انسان کی بیوقوفی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کے دین پر چلوں گا تو نعمتیں چھن جائیں گے۔ حالانکہ ایمان کی وجہ سے نعمتیں زیادہ ملتی ہیں یہ بات اور ہے کہ کچھ دن کے لیے بطور امتحان کچھ تکلیف پہنچ جائے۔
خواہش کی چیزیں جو انسان کو مرغوب ہیں وہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں ان چیزوں میں عورتیں بھی ہیں بیٹے بھی اور بھاری تعداد میں اموال بھی ہیں، (یہ اموال سونے چاندی کی صورت میں ہیں) اور ان میں نشان لگائے ہوئے گھوڑے بھی ہیں اور مویشی بھی اور کھیتیاں بھی۔ ان چیزوں سے انسان خوش ہوتے ہیں اور جس کے پاس یہ چیزیں ہوں اس کو دنیاوی اعتبار سے بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ چیزیں چند روزہ ہیں دنیاوی زندگی میں ان سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اور آخرت میں تو صرف ایمان اور اعمال صالحہ ہی کام آئیں گے اسی کو فرمایا : (ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ )
انسان کو چاہیے کہ اپنی آخرت کی فکر کرے ایمان صالحہ سے آراستہ ہوتا کہ دار آخرت میں اچھا ٹھکانہ نصیب ہو۔
القناطیر :
یہ قنطار کی جمع ہے عربی میں قنطار مال کثیر کو کہتے ہیں پھر اس کو المقنطرہ سے موصوف فرما دیا۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ خوب بڑے بڑے مال۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اہل عرب کہتے ہیں ظِلٌّ ظَلِیْلٌ اور لَیْلٌ اَلَیْلٌ مبالغہ کے معنی ظاہر کرنے کے لیے القناطیر المقنطرۃ فرمایا۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے قنطار کا معنی پوچھا گیا تو آپ نے بارہ ہزار اوقیہ بتایا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم چاندی کا ہوتا تھا (ایک درہم 3 ماشہ ایک رتی اور 5؍1 رتی کا) دور حاضر کے اعتبار سے القناطیر المقنطرۃ کا معنی نوٹوں کے گڈے کیا جاسکتا ہے۔
الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃٌ
(نشان زدہ گھوڑے) اہل عرب گھوڑوں پر کچھ نشان لگا لیا کرتے تھے اس لیے الْمُسَوَّمَۃٌ فرمایا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ لفظ تسویم سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے جانوروں کو چرا گاہ میں چرنے کے لیے چھوڑ دینا۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ایسے گھوڑے پر جو چرا گاہوں میں چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ اور حضرت مجاہد نے الْمُسَوَّمَۃٌ کا معنی المُطَھمۃ الْحسان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گھوڑے جو جسمانی اعتبار سے خوب اچھی طرح صحیح اور تندرست ہوں اور خوبصورت ہوں۔
وَ الْاَنْعَام وَ الْحَرْث :
پھر مویشوں کا ذکر فرمایا اور ان کو لفظ ” الانعام “ سے تعبیر کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی لوگوں کو مرغوب ہیں جس کے پاس یہ چیزیں زیادہ ہوتی ہیں عام طور سے اسے گاؤں کا بڑا اور چودھری مانا جاتا ہے جب صبح کو مویشی چرنے کے لیے جاتے ہیں اور شام کو آتے ہیں اس وقت چودھری صاحب کے نشہ کا کیا پوچھنا، اپنے جانوروں کو دیکھ دیکھ کر پوری طرح مست ہوجاتا ہے اور اپنے سامنے کسی کو نہیں سمجھتا۔ سورة نحل میں فرمایا (وَ لَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ ) آخر میں کھیتوں کا ذکر فرمایا کھیتوں اور کھیتیوں والے بھی اپنی فصل کو دیکھ دیکھ کر مست ہوتے ہیں اور خوشی میں پھولے نہیں سماتے اہل دنیا اپنی دنیا میں خوش ہیں اور اہل آخرت اپنی آخرت طرف متوجہ ہیں اہل دنیا کو آئندہ آیت میں آخرت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمایا چناچہ ارشاد ہے :
Ayahs 3:15–16اہل تقویٰ کا آخرت میں انعام
لوگوں کی دنیاوی مرغوبات ذکر فرمانے کے بعد اس آیت میں آخرت کی نعمتوں کو ذکر فرمایا اور بتادیا کہ ان دنیاوی چیزوں سے بہتر وہ چیزیں ہیں جو آخرت میں نصیب ہوں گی لیکن وہ ہر شخص کو نہیں ملیں گی۔ وہ اہل تقویٰ کو نصیب ہوں گی۔ سب سے بڑا تقویٰ تو یہ ہے کہ انسان کفر اور شرک سے بچے اور ایمان قبول کرے ایمان کے بغیر کوئی عمل صالح معتبر نہیں اور اس کے بعد تقویٰ کے درجات ہیں، کبیرہ گناہوں سے بچنا یہ بھی تقویٰ ہے اور مشتبہات سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔ متقی بندوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے رب کے پاس انہیں ایسے باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ مزید برآں یہ کہ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں بھی ملیں گی (پاکیزہ کا مطلب سورة بقرہ کے رکوع 3 کی تفسیر میں دیکھ لیجئے) ۔
رضائے الٰہی :
اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ان سب سے اپنی رضا مندی کا اعلان فرما دیا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رضا ہر نعمت سے بڑھ کر ہے اور سب سے بڑی چیز ہے۔ سورة توبہ میں فرمایا (وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) اور جگہ جگہ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ) کا اعلان فرمایا ہے ایک غلام کی اس سے بڑھ کر کیا سعادت اور نیک بختی ہوگی کہ اس کا آقا اس سے راضی ہو۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائیں گے کہ اے جنت والو ! وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور تعمیل ارشاد کے لیے موجود ہیں اور پوری خیر آپ ہی کے قبضہ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم راضی ہو ؟ وہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کیسے راضی نہ ہوں گے۔ آپ نے ہم کو وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں تم کو اس سے افضل چیز عطا کر دوں ؟ وہ عرض کریں گے اے پروردگار اس سے افضل اور کیا چیز ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں تم پر اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں۔ اب اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ (بخاری و مسلم) اہل تقویٰ کو ان کے رب کے پاس جو نعمتیں ملیں گی جن میں سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضا ہے ان کا ذکر فرمانے کے بعد ان حضرات کی دعا کا تذکرہ فرمایا اور ان کی چند صفات ذکر فرمائیں کہ وہ لوگ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے لہٰذا آپ ہمارے گناہوں کو بخش دیجیے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچائیے۔ پھر ان کی صفات کا تذکرہ فرمایا اور صفت صبر کو مقدم کیا اور فرمایا۔
Ayah 3:17(اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ )
اَلصَّابِرِیْنَ (صبر کرنے والے): اس صفت کو مقدم فرمایا کیونکہ صفت صبر ہی ایسی چیز ہے جس کا تمام نیکیوں میں دخل ہے جیسا کہ آیت کریمہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کی تفسیر میں عرض کیا گیا کہ صبر کی تین قسمیں ہیں اول نیکیوں پر جما رہنا دوسرے گناہوں کے چھوڑنے پر نفس کو لگائے رہنا اور گناہوں کے تقاضوں کو دبانا تیسرے تکلیفوں پر صبر کرنا۔ مومن بندہ کی زندگی میں ہر موقعہ پر اور ہر عبادت میں مالی ہو یا بدنی اس صفت کی ضرورت پڑتی ہے پھر فرمایا :
وَالصَّادِقِیْنَ (سچے لوگ): سچائی بہت بڑی صفت ہے۔ ایمان میں سچائی ہو تو انسان منافق نہیں ہوتا۔ اقوال میں سچائی ہو تو انسان جھوٹ نہیں بولتا اعمال میں سچائی ہو تو اعمال کو اچھی طرح انجام دیتا ہے اور نیت میں سچائی ہو تو سب اعمال درست ہوتے ہیں۔
سورة زمر میں فرمایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (اور جو شخص سچ لے کر آیا اور سچ کی تصدیق کی یہ لوگ تقویٰ والے ہیں) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سچ کو لازم پکڑ لو کیونکہ سچ نیکی کی راہ بتاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور انسان برابر سچ کو اختیار کرتا ہے اور اہتمام سے فکر کر کے سچ کو اختیار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق (بہت زیادہ سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گنہگاری کی راہ بتاتا ہے اور گنہگاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان برابر جھوٹ اختیار کرتا ہے اور دھیان کرکے سوچ سوچ کر جھوٹ کو اختیار کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب (بہت زیادہ جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
وَالْقَانِتِیْنَ (فرمانبر داری کرنے والے): یہ لفظ قنوت سے لیا گیا ہے۔ قنوت کے متعدد معنی ہیں ان میں سے ایک معنی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کے ہیں اس کے عموم میں ہر طرح کی فرمانبر داری اور تمام عبادات اور ترک منکرات داخل ہیں۔
وَالْمُنْفِقِیْنَ : پھر فرمایا والْمُنْفِقِیْنَ (خرچ کرنے والے) اس میں مال خرچ کرنے کی فضیلت ذکر فرمائی یعنی تقویٰ اختیار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے ہیں، خرچ کرنے کا تعلق مالداری سے نہیں ہے آخرت میں ثواب ملنے کے جذبات سے ہے۔ جن کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت نہیں ہوتی مال کثیر ہوتے ہوئے بھی خرچ نہیں کرتے اور جن کے پیش نظر آخرت کا ثواب ہوتا ہے وہ تھوڑا مال ہوتے ہوئے بھی للہ فی اللہ خرچ کردیتے ہیں۔
وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَار :
پھر فرمایا (وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ ) (اور پچھلی راتوں میں گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والے ہیں) یہ بھی اہل تقویٰ کی خاص صفت ہے۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ قیام اللیل (نماز تہجد) کو لازم پکڑ لو کیونکہ تم سے پہلے جو صالحین تھے یہ ان کا طریقہ رہا ہے اور یہ تمہارے رب کی نزدیکی کا سبب ہے اور گناہوں کا کفارہ کرنے والی ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے۔ (ترمذی)
نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اس کی مغفرت کردوں۔ (صحیح بخاری صفحہ 153: ج 1)
رات کو اٹھنے کی فضیلت :
حضرت عمرو بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب آخری رات کے حصے میں ہوتا ہے۔ سو اگر تجھ سے ہو سکے تو ان لوگوں میں سے ہوجا جو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ (رواہ الترمذی)
(اِِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ اٰخِذِیْنَ مَا اٰتَاھُمْ رَبُّہُمْ اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) ” بیشک جو لوگ تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ان کے رب نے جو انہیں عطا فرمایا اس کے لینے والے ہوں گے۔ بلاشبہ یہ لوگ اس سے پہلے اچھے کام کرنے والے تھے رات کو کم سوتے تھے اور راتوں کے پچھلے حصوں میں استغفار کرتے تھے۔ “
Ayah 3:18توحید پر گواہی
روح المعانی صفحہ 104: ج 3 اور معالم التنزیل صفحہ 285: ج 1 میں کلبی سے نقل کیا ہے کہ شام کے علماء یہود میں سے دو عالم مدینہ منورہ آئے انہوں نے مدینہ کو دیکھا ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ شہر تو ہو بہو وہی معلوم ہوتا ہے جس کے بارے میں ہم نے پڑھا ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ اس شہر میں قیام پذیر ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو انہیں صفات کے ساتھ پہچان لیا جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں انہوں نے دریافت کیا کہ آپ محمد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں محمد ہوں ! پھر سوال کیا کہ آپ احمد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں احمد ہوں ! کہنے لگے کہ ہم ایک شہادت کے بارے میں آپ سے دریافت کرتے ہیں اگر آپ نے ہم کو بتادیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے، آپ نے فرمایا تم دونوں سوال کرو، کہنے لگے ہمیں یہ بتائیے کہ اللہ کی کتاب میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ اس کو سن کر ان دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی گواہی کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے معبود لا شریک لہ ہونے کی گواہی دی، اور فرشتوں کی گواہی کا بھی ذکر ہے جو اللہ کے برگزیدہ اور مقرب بندے ہیں ہر طرح گناہوں سے معصوم اور محفوظ ہیں۔ ان میں سے بہت سے دربار الٰہی کے حاضرین بھی ہیں اور تمام فرشتوں کی معرفت بھی حاصل ہے، پھر اہل علم کی گواہی کا ذکر فرمایا کہ ان حضرات نے بھی اللہ کے معبود وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دی۔
اہل علم کون ہیں ؟
اہل علم سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور وہ تمام حضرات مراد ہیں جنہوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کا اتباع کیا۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے دلائل قطعیہ عقلیہ سے انہوں نے اللہ کو پہچانا اور اسے اپنی ذات وصفات میں اور معبود حقیقی ہونے میں وحدہ لا شریک لہ، ہونے میں خوب اچھی طرح سے جانا۔
اس سے معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ جو اللہ کی مخلوقات کا تجزیہ اور تحلیل کرنے میں مصروف ہیں اور کائنات میں طرح طرح کی ریسرچ کرتے ہیں۔ حیوانات، نباتات، جمادات کے احوال جاننے کے لیے محنتیں کرتے ہیں۔ ان میں اہل علم کہنے کے لائق وہی لوگ ہیں جو مخلوق کے ذریعہ خالق کی معرفت حاصل کرنے میں عمریں خرچ کرتے ہیں اور جو خالق جل مجدہ، کے منکر ہیں یہ لوگ اہل علم نہیں ہیں۔ بڑی بڑی ریسرچ کرتے ہوئے بھی جہالت میں مبتلا ہیں۔ اسی کو سورة زمر میں فرمایا۔ (قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰہِ تَاْمُرُوْنَنِیْْ اَعْبُدُ اَیُّہَا الْجَاھِلُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کیا اللہ کے سوا کسی کی عبادت کا تم مجھے حکم دیتے ہو اے جاہلو ! ) مخاطبین کو جاہل فرمایا حالانکہ وہ اس زمانہ کے اعتبار سے فصاحت و بلاغت میں بہت زیادہ آگے بڑھے ہوئے تھے۔
قَآءِمًام بالْقِسْطِ
پھر فرمایا (قَآءِمًا بالْقِسْطِ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کاملہ کے ساتھ عدل کے ساتھ قائم ہے۔ اس کے سب احکام اور فیصلے انصاف کے ساتھ ہیں مخلوق کی جزاء اور سزا کے سب فیصلے جو دنیا میں ہیں اور آخرت میں ہوں گے سب میں انصاف ملحوظ ہے۔ کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں ہے اور نہ ہوگا جو لوگ ظلم اور انصاف کے معانی نہیں سمجھتے وہی اشکال کرتے ہیں۔ اللہ کے احکام اور قضایا میں کوئی ظلم نہیں۔
پھر فرمایا (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اس میں بطور تاکید ابتدائی آیت کے مضمون کا اعادہ فرمایا ہے۔ شروع آیت میں توحید بیان فرمائی اور اس آیت میں بھی اور دو صفات کا ذکر فرمایا کہ وہ عزیز ہے یعنی زبردست ہے اور سب پر غالب ہے اور حکمت والا ہے جو کچھ مخلوق میں تصرفات ہوتے ہیں وہ سب اس کی حکمت کے مطابق ہیں۔
Ayah 3:19اللہ کے نزدیک صرف دین اسلام معتبر ہے :
اس کے بعد فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) اس میں اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی معتبر ہے۔ وہی ذریعہ نجات ہے اگر کسی نے اللہ کو مانا لیکن اللہ کے دین کو نہ مانا جو اس کے نزدیک معتبر ہے تو وہ گمراہ ہے آخرت میں اس کی نجات نہ ہوگی اسی سورت کے رکوع 9 میں فرمایا (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ) (اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دین کو تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا) اسلام کا لغوی معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے جو دین اللہ پاک نے اپنے بندوں کے لیے تجویز فرمایا اس کا نام اسلام رکھا ہے۔ کیونکہ وہ سراپا فرمانبر داری ہی ہے ہر شخص اپنے خالق ومالک کے سامنے ظاہر سے اور باطن سے جسم سے اور جان سے جھک جائے اور ہر حکم کو مانے اور تعمیل ارشاد کرتا رہے۔
تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) دین اسلام کے داعی تھے۔ ہر نبی کا دین اسلام تھا جو ان پر ایمان لایا وہ مسلم تھا اور جس نے ان کی دعوت کو نہ مانا وہ غیر مسلم تھا کافر تھا حضرت نبی آخر الزمان ﷺ کا دین بھی اسلام ہے انہوں نے اسی کی دعوت دی اور اس کی دعوت قیامت تک ہے جو شخص اس دین کو مانے گا مسلم ہوگا۔ اللہ کا فرمانبر دار ہوگا۔ اور جو اسے نہ مانے گا وہ کافر ہوگا۔
Ayah 3:20لفظ اسلام کا مادہ سلامتی ہے جو شخص اسلام قبول کرے گا دنیا و آخرت کی آفات اور مصائب اور عذاب اور تکالیف سے محفوظ رہے گا اسے ہر طرح کی سلامتی ملے گی۔ مضمون بالا سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِءِیْنَ ) اور دوسری آیت (اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ ) کے ذیل میں بھی بیان ہوچکا ہے اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے جو اختلاف کیا اور داعی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف راستہ اختیار کیا ان کا یہ اختلاف جہالت سے نہیں بلکہ یہ جاننے کے بعد ہے کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں اسلام کی حقانیت کی دلیل پہنچ گئی پھر بھی ضدا ضدی کا مزاج رکھنے کے جذبات نے ان کو حقانیت اسلام کے انکار پر آمادہ کیا۔ انہیں دنیا میں سرداری مطلوب ہے جس کی وجہ سے اللہ کی آیات کے منکر ہو رہے ہیں اور جانتے بو جھتے حق کا انکار کرکے مستحق عذاب بن رہے ہیں اللہ تعالیٰ جلد سب کا حساب لے لے گا اسی کو فرمایا (وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) پھر فرمایا (فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ) (پس اگر وہ آپ سے حجت بازی کریں تو آپ فرما دیں کہ میں نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے جھکا دیا اور ان لوگوں نے بھی جنہوں نے میرا اتباع کیا) تم نہیں مانتے تم جانو نہ ماننے کی سزا بھگتو گے ہم اللہ کے ہوگئے اس کی فرما نبر داری ہمارا شعار ہے پھر فرمایا (وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَ اَسْلَمْتُمْ ) یعنی آپ ان لوگوں سے فرما دیں جن کو کتاب دی گئی۔ (یعنی یہود و نصاری) اور مشرکین عرب سے بھی فرما دیں جو امی یعنی ان پڑھ ہیں کہ بولو تم نے اسلام قبول کیا ؟ یعنی ان کو دعوت دے دو ۔
(فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا) اگر اسلام قبول کرلیں تو ہدایت والے ہوجائیں گے (وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ) اور اگر وہ آپ کی دعوت سے اعراض کریں اور رو گردانی کریں تو آپ کو اس سے کوئی ضرر نہ ہوگا کیونکہ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے منوانا آپ کے ذمہ نہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌ بالْعِبَادِ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے وہ مسلم کو بھی جانتا ہے اور کافر کو بھی۔ داعی حق کا بھی اسے علم ہے اور حق قبول کرنے والے کا بھی۔ وہ ہر ایک کو اس کی جزاء دے دے گا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میری حرکتوں کی میرے خالق کو خبر نہیں ہے۔
Ayah 3:21کافروں کے لیے عذاب کی و عید
اس آیت شریفہ میں و عید ہے تمام کافروں کے لیے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں جن میں یہود و نصاریٰ بھی داخل ہیں اور خاص کر یہودیوں کا ذکر فرمایا کہ وہ نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ جن یہودیوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا وہ تو قاتل تھے ہی اور جو یہودی نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں تھے وہ بھی چونکہ اپنے اسلاف کی حرکتوں سے بیزار نہیں تھے اس لیے ان کی طرف بھی قتل کا اسناد کیا گیا۔ نیز ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جو ایسے حضرات کو قتل کرتے رہے جو انصاف کا حکم کرتے تھے جن لوگوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو قتل کیا ان سے کوئی بعید نہیں کہ ان امتیوں کو قتل کریں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں، اس دور میں بھی لوگ اہل حق اور اہل عدل کے قتل کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ان سب لوگوں کے بارے میں فرمایا (فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) کہ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو خوشخبری تو آرام راحت اور نعمت کی ہوتی ہے لیکن عذاب الیم کے ساتھ جو بَشِّرْ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنی حرکتوں کو ذریعہ عذاب سمجھنے کی بجائے اچھی چیز سمجھتے تھے اور مغفرت اور نجات آخرت کی امید رکھتے تھے لہٰذا ان کو عذاب الیم کی خوشخبری دی گئی۔ صاحب روح المعانی صفحہ (109: ج 3) نے ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے ابو عبیدہ بن جراح ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن کن لوگوں کو ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ شخص سب سے زیادہ سخت عذاب میں ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہو پھر آنحضرت ﷺ نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اے ابو عبیدہ بنی اسرائیل نے ایک ہی وقت علی الصباح 43 نبیوں کو قتل کیا ان کو منع کرنے کے لیے ایک سو ستر افراد کھڑے ہوگئے جو بنی اسرائیل کے عبادت گزاروں میں سے تھے انہوں نے ان قاتلین کو اچھے کاموں کا حکم دیا اور بری باتوں سے روکا تو دن کے آخر حصہ میں وہ سب بھی قتل کردیئے گئے۔ آیت بالا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرما دیا ہے۔
Ayah 3:22کافروں کے اعمال اکارت ہیں :
پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) کہ ان لوگوں کے سارے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت چلے گئے دنیا میں ان کے جان و مال محفوظ نہ رہے اور کسی طرح کی مدح اور تعریف کے مستحق نہ ہوئے اور آخرت میں بھی ان کے اعمال نے کچھ کام نہ دیا کیونکہ ان اعمال کا کوئی ثواب نہ ملا اور ان کے اعمال عذاب دفع کرنے کا ذریعہ نہ بن سکے، آخرت میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کسی طرح کی مدد یا سفارش کرسکے۔
جو اعمال برے ہوں ان پر تو ثواب ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں جو اعمال نیکی کے نام سے کیے ہوں ان کے حبط ہونے کا تذکرہ فرمایا، کافر کی کوئی نیکی آخرت میں فائدہ نہیں دے سکتی۔ (من روح المعانی)
Ayah 3:23یہودیوں کا اللہ کی کتاب سے اعراض کرنا اور خوش فہمی میں مبتلا ہونا
روح المعانی صفحہ 110: ج 3 میں ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدر اس میں تشریف لے گئے (جو یہودیوں کی مذہبی اور تعلیمی جگہ تھی) وہاں یہودی جمع تھے آنحضرت ﷺ نے توحید کی دعوت دی۔ ان لوگوں میں نعمان بن عمرو اور حارث بن زید دو آدمی تھے انہوں نے کہا کہ اے محمد ! آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں ابراہیم کی ملت پر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم تو یہودی تھے آپ نے فرمایا کہ تورات لے آؤ وہ ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گی وہ تورات لانے پر راضی نہ ہوئے اور اس کا فیصلہ ماننے سے انکار کر بیٹھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں یہ بتایا کہ ان کو اللہ کی کتاب کی طرف بلا یا جاتا ہے تاکہ وہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کر دے لیکن ان میں کا ایک فریق (جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا) اللہ کی کتاب کو ماننے سے اعراض کرتا ہے اور حق قبول کرنے سے رو گردانی کرتا ہے۔
یہودیوں کے خیالات اور آرزوئیں :
پھر ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ طریقہ کار (حق سے منہ پھیرنا اور اللہ کی کتاب سے اعراض کرنا) اس لیے ہے کہ خود تراشیدہ خیالات کی دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے دلوں میں سوچ رکھا ہے کہ بس جی ہم دوزخ میں صرف چند دن کے لیے جائیں گے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان چند دنوں سے وہ چند دن مراد لیتے تھے جن میں ان کے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی تھی، یہ کتنی بڑی حماقت ہے اپنے عقیدہ کے مطابق چند دن کو دوزخ میں جانے کے لیے تیار ہیں جس کے عذاب کی ایک منٹ کی بھی سہار نہیں اور حق ماننے اور اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جو جھوٹی باتیں انہوں نے تراش رکھی تھیں اور جن جھوٹے خیالات میں مبتلا تھے ان چیزوں نے ان کو دھوکے میں ڈالا اور خام خیالیوں کی وجہ سے مستحق عذاب ہوئے۔
Ayahs 3:24–25(وَ غَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِھِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی سند نہیں جس میں اس کا وعدہ ہو کہ چند دن کے بعد وہ دوزخ سے نکل آئیں گے انہیں معلوم ہے کہ دین حق کا انکار کفر ہے اور کفر کا عذاب دائمی ہے۔ پھر بھی اوہام و خیالات اور افترات کی دنیا میں مستغرق ہیں ان کی خوش فہمیوں میں یہ بھی تھا کہ ہم انبیاء کرام کی اولاد ہیں وہ ہمیں بخشوا لیں گے، یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے بیٹوں کو عذاب نہیں دے گا۔ بس اتنا ہوگا کہ دوزخ سے عبور کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ (نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَ اَحِبَّآءُ ہٗ ) کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اسی کے محبوب ہیں۔ یہ سب خام خیالیاں ان کو لے ڈوبیں گی۔ (من روح المعانی صفحہ 111: ج 3)