Ayah 3:12 ۔ یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔ ان پر حاشیہ سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا۔ عجب نہیں جو یہ حروف مخفف ہوں فقرہ انا اللہ اعلم کے۔
Ayah 3:23 ۔ (نہ بہ حیثیت اقنوم کے نہ کسی اور حیثیت سے) یعنی اس خدائے واحد کا شریک کوئی نہ ذات میں ہے نہ افعال میں، دنیا میں بہ کثرت ایسے مشرک مذہبوں کا وجود رہ چکا ہے اور اب بھی ہے جو کہتے ہیں کہ خدائے اعظم تو بیشک ایک ہی ہے لیکن اس کے ماتحت شعبہ وار چھوٹے چھوٹے خدا دیوتا اور دیویاں تو بہت سی ہیں۔ قرآن مجید ان سب کی تردید کرکے کہتا ہے کہ نفس وجود ہی کسی دوسرے خدا کا نہیں نہ چھوٹے کا نہ بڑے کا، الوہیت و ربوبیت تمامتر ایک ہی ذات میں ہے۔ آیت علاوہ ان جاہلی مذاہب کے خاص طور پر مسیحی عقائد کے بھی رد میں ہے۔
4 ۔ (آیت) ” الحی “۔ وہ وہ خدا ہے جو ہمیشہ زندہ ہی ہے، زندہ ہی رہا اور زندہ ہی رہے گا۔ موت کا اس کے لیے کوئی امکان ہی نہیں، نہ صلیب کے اوپر نہ کسی اور سطح پر۔ اس کی حیات جس طرح آج قائم ہے ہمیشہ سے قائم ہے۔ یہ نہیں کہ اسے بار بار قالب بدلتے رہنے کی ضرورت پیش آئے۔ کبھی وہ انسان بن جائے اور کبھی نعوذ باللہ حیوان۔ وہ زندہ معاذ اللہ اس طرح کا نہیں کہ ہر سال اس پر موت طاری ہوا کرے اور پھر وہ حیات تازہ حاصل کرتا رہے۔ (آیت) ” الحی “۔ کے لفظ نے اس کی صفت حیات کا اثبات کرکے ان سارے خرافات کی تردید کردی۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 979 پارہ ہذا) (آیت) ” القیوم “۔ وہ بذات خود قائم ہے اور ساری مخلوقات اس کے وجود سے قائم ہے۔ یہ نہیں کہ وہ خود بھی کسی معنی میں کسی دوسرے کا محتاج ہو جیسا کہ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ :۔ ” جس طرح بیٹا بغیر باپ کے تنہا خدا نہیں اسی طرح باپ بغیر بیٹے کے تنہا خدا نہیں۔ (انسائیکلوپیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس جلد 7 صفحہ 536) گویا نعوذ باللہ ابن اللہ اور اللہ دونوں اپنی خدائی میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ صفت قیومیت کا اثبات کرکے قرآن نے فرزندی خدا کے عقیدہ کی جڑ ہی کاٹ دی۔ بہت سے جاہلی مذہب ایسے بھی ہیں جو ایک طرف خدا کو خدا بھی مانتے جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے بھی قائل ہیں کہ وہ پیدا کسی اور سے ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 979 پارہ ہذا)
Ayah 3:35 ۔ (لفظ لفظ اے پیغمبر ! ) نزل کا مصدر تنزیل ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید کے لیے بکثرت آیا ہے۔ بہ خلاف (آیت) ” انزل (مصدر انزال) کے جو عموما دوسری کتب آسمانی کے لیے آیا ہے۔ تنزیل میں تدریج اور ٹکڑے ہو کر نازل ہونے کا تخیل تو موجود ہی ہے۔ القران نزل نجوما شیئا بعد شیء والتنزیل مرۃ بعد مرۃ (قرطبی) لیکن عجب نہیں کہ اس کے مفہوم میں قرآن کا لفظ بہ لفظ، حرف بہ حرف نازل ہونا بھی شامل ہو۔ اور کچھ عجب نہیں جو اس کی سند آگے چل کر کسی محقق کو عربی لغت و زبان ہی سے ہاتھ آجائے۔ (آیت) ” بالحق “ حق کے تحت میں حکمت بھی داخل ہے اور راستی بھی اور قوت دلائل بھی اور یہ لفظ ہزل کے مقابل بھی ہے۔ انہ قول فصل ولیس بالھزل (کبیر) نزل بالحق لا بالمعانی الفاسدۃ المتناقضۃ (کبیر) بالصدق وقیل بالحجۃ الغالبۃ (قرطی) ۔
6 ۔ (کتب آسمانی میں سے) (آیت) ” مصدق “۔ قرآن نے بار بار صراحت کردی ہے کہ اس کا تعلق کتب قدیم سے تصدیق کا ہے۔ قرآن اجمالا ان کے مضامین کی تصدیق و توثیق بھی کرتا ہے۔ یہیں سے ان دشمنان دین کی نادانی بھی ظاہر ہوئی جاتی ہے جو کسی قرآنی بیان کے مثل کوئی مضمون توریت وانجیل وغیرہ کا اس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے کوئی خاص انکشاف کیا ہے۔ اور (نعوذ باللہ) گویا قرآن کی بڑی چوری پکڑی ہے۔
Ayah 3:47 ۔ (آیت) ” التورۃ والانجیل “۔ توریت اور انجیل قرآن مجید کی اصطلاح میں دو مستقل آسمانی کتابوں کے نام ہیں۔ اور قرآن تصدیق انہی کی کرتا ہے۔ موجودہ بول چال میں توریت نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا۔ جن میں سے ہر صحیفہ کسی نہ کسی نبی کی جانب منسوب ہے لیکن ان میں سے کسی ایک صحیفہ کی بھی تنزیل لفظی کا دعوی کسی یہودی کو نہیں۔ اسی طرح انجیل نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا جن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق مختلف گمنام اور بےنشان لوگوں کی جمع کی ہوئی حکایتیں، روایتیں اور ملفوظات ہیں، لیکن ان میں سے کوئی صحیفہ بھی مسیحیوں کے عقیدہ میں آسمانی نہیں۔ بلکہ مسیحی صاف صاف کہتے ہیں کہ یہ مجموعہ ” حواریوں کے دور میں بلاارادہ اور بلاتوقع تیار ہوگیا “۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 3 صفحہ 5 13) طبع چہاردہم) خوب سمجھ لیا جائے کہ ایسے بےسند ” مقدس نوشتوں “ کی تصدیق و توثیق کی ذمہ داری قرآن ہرگز نہیں لیتا اور موجودہ بائبل، یعنی عہد عتیق وعہد جدید کا کوئی جزو بھی قرآن مجید کے ماننے والوں پر حجت نہیں۔ (آیت) ” من قبل “ یعنی قرآن سے قبل عہد موسیٰ اور عہد عیسیٰ میں ان کی امتوں کے لیے۔
8 ۔ (آیت) ” الفرقان “ فرقان اور فرق اصلا ہم معنی ہیں بجز اس کے کہ فرق کے معنی تو محض اور مطلق امتیاز کے ہیں خواہ وہ کسی کے درمیان ہو۔ اور فرقان مخصوص اس امتیاز کو کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان ہو۔ الفرقان ابلغ من الفرق لانہ یستعمل فی الفرق بین الحق والباطل (راغب) بعض کے نزدیک یہ اسم جنس ہے کل کتب آسمانی کے لیے۔ جنس للکتب السماویۃ (کشاف) ایک قول ہے کہ اس سے مراد معجزات و دلائل نبوت ہیں جو ہر پیغمبر کو عطا ہوتے رہتے ہیں۔ والمختار عندی ان المراد من ھذا الفرقان المعجزات التی قرنھا اللہ تعالیٰ بانزال ھذہ الکتب (کبیر) لیکن محققین کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ ھو القران انزل علی محمد وفرق بہ بین الحق والباطل (ابن جریر عن قتادۃ) المراد ھو القرآن (کبیر) ای القران (قرطبی) الفرقان ھھنا القران (ابن کثیر عن قتادۃ والربیع)
9 ۔ (آخرت میں تو یقیناً اور دنیا میں بھی احتمالا) (آیت) ” کفروا “۔ یعنی باوجود اس کے کہ ان پر تبلیغ دین پوری طرح ہوچکی تھی، وہ کفر اختیار کئے رہے۔ (آیت) ” آیت اللہ “۔ سے مراد آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں۔ اور نشانیاں بھی یعنی توحید کے دلائل و شواہد۔
10 ۔ خوب خیال رہے کہ سورة کا اصل موضوع مسیحیت کی تردید ہے۔ عموما ایسی ہی صفات کا اثبات کیا گیا ہے۔ جن سے مسیحیت ہی کے کسی نہ کسی پہلو پر ضرب لگے (آیت) ” عزیز “۔ ہر سزا پر قادر ہے اور۔۔ ہر حال میں سب سے بالا دست وقوی تر ہے۔ وہ (معاذ اللہ) مسیحیوں کا خدا نہیں کہ انسانی قالب اختیار کرکے طرح طرح کی کمزوریوں اور بیچارگیوں کا شکار بن جائے اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو کر سولی پر موت تک پاجائے۔ اس کی صفت عزیزیت اس تخیل ہی سے ابا کرتی ہے۔ (آیت) ” ذوانتقام “۔ وہ رحمن ورحیم ورؤف ہونے ساتھ عادل بھی ہے اور صفت معدلت کا اظہار مجرموں اور سرکشوں کے مقابلہ میں سزا وانتقام ہی سے ہوسکتا ہے۔ اسے سزا دینے میں ہرگز کوئی عار نہیں آتا کہ اس عار سے بچنے کے لئے اسے مصلوبیت اور کفارہ کے پیچ در پیچ راستے اختیار کرنے پڑیں۔ جن مذہبوں نے اپنے خدا کو صرف رحیم ہی رحیم مانا ہے ان کا خدا کامل نہیں ناقص ہے۔
Ayah 3:51 1 ۔ جاہلی مذہبوں کے حکماء تک آخر جاہلی تھے ! یونان کے نامی گرامی عقلاء وحکماء تک یہ کہہ گئے اور سکھلا گئے کہ علم باری صرف کلیات تک محدود رہتا ہے۔ جزئیات کو محیط نہیں ہوتا۔ اور مسیحیوں نے خیر نبوت کی برکت سے کھلم کھلا اس عقیدہ کو تو نہ مانا، تاہم مرعوب اس ” حکیمانہ “ تعلیم سے اچھے خاصے رہے ،۔ قرآن مجید نے للکار کر بتایا کہ یہ علم باری کا کمال نہیں، عین نقص ہوا، علم باری ہر حیثیت سے کامل ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز پر حاوی۔ (آیت) ” الارض والسمآء “ آسمان اور زمین کے نام اس سلسلہ میں اس لئے دیئے گئے کہ علم انسانی کی وسعت گرفت انہیں حدود کے اندر محدود ہے، ضمنا خطاب مسیحیوں سے بھی ہے کہ تم جو مسیح (علیہ السلام) کو خدا مانتے ہو تو بتاؤ ان کا علم کامل کہاں سے تھا اور خدا نے بندہ کی شکل اختیار کرکے کیسے اتنا بڑا نقص اپنے اندر گوارا کرلیا ؟
Ayah 3:612 ۔ (خواہ بغیر باپ کے بنائے خواہ باپ کی وساطت سے) قادر وہ ہر طرح اور ہر صورت سے ہے۔ باپ محض واسطہ تخلیق ہوتا ہے اور خالق جس واسطہ کو جب چاہے ہٹا دے۔ (آیت) ” یصورکم “۔ میں خطاب عام ہے۔ سارے انسان مخاطب ہیں (آیت) ” قادر وہ ہر طرح اور ہر صورت سے ہے۔ باپ محض واسطہ تخلیق ہوتا ہے اور خالق جس واسطہ کو جب چاہے ہٹا دے۔ (آیت) ” یصورکم “ میں خطاب عام ہے۔ سارے انسان مخاطب ہیں (آیت) ” فی الارحام “ یعنی ماؤں کے رحم میں۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صورت بھی رحم مادر ہی میں بنی تھی، اوپر ذکر اللہ کے علم میں کامل کا آچکا ہے۔ اب اشارہ اس کی قدرت کی طرف ہورہا ہے کہ جس طرح اس کا علم کامل محیط کل وغیر محدود ہے اسی طرح اس کی قدرت تخلیق بھی غیر محدود ونامتناہی ہے۔ انسان کا اس کی حد بندی کی کوشش کرنا خود انسان کا جہل ہے۔
13 ۔ (نہ ذات کے لحاظ سے نہ صفات کے) پھر یاد دلا دیا کہ کون اس کے معاملات تخلیق میں دخل دے سکتا ہے یا مشورہ کا حق رکھتا ہے وہ ذات پاک ہر اعتبار سے یکتا، بےمثل اور بےمثال ہے۔
14 ۔ (آیت) ” العزیز “۔ عزیز پر حاشیہ ابھی گزر چکا۔ خدائے تعالیٰ تخلیق کی ہر صورت پر یکساں قادر ہے۔ (آیت) ” الحکیم “ اسکی صفت حکمت کا اثبات ہے یعنی جو صورت جہاں قرین حکمت ومصلحت ہوتی ہے وہ وہی اختیار کرتا ہے۔
Ayah 3:715 ۔ (اور وہی بہ طور معیار کے بن کر ان پر باقی کلام کو پیش کرنا چاہیے) (آیت) ” محکمت “ محکم قرآن مجید کی وہ واضح وصریح آیتیں ہیں جن کی دلالتیں متعین ہیں اور ان کے معانی میں کوئی خفاواشتباہ نہیں۔ المحکم مالا یعرض فیہ شبھۃ من حیث اللفظ ولا من حیث المغنی (راغب) واضحۃ المعنی ظاہرۃ الدلالۃ محکمۃ العبارۃ محفوظۃ من الاحتمال والاشتباہ (روح) المحکمات فی ای القران ما عرف تاویلہ وفھم معناہ وتفسیرہ (قرطبی) عن جابر بن عبد اللہ والشعبی وسفیان الثوری) قال النحاس احسن ماقیل فی المحکمات ان المحکمات ما کان قائما بنفسہ لا یحتاج ان یرجع فیہ الی غیرہ (قرطبی) فالمراد بہ اللفظ الذی لااشتراک فیہ ولایحتمل عنہ سامعہ الا معنی واحدا (جصاص) ام ہر شے کی اصل کو کہتے ہیں۔ یقال لکل ما کان اصلا لوجود شئی او تربیتہ اواصلاحہ اومبدۂ ام (راغب) ای اصلہ والعمدۃ فیہ یرد الیا غیرھا (روح) یہاں اس حقیقت کو بیان کردیا کہ قرآن مجید میں جو آیتیں بالکل واضح وصاف ہیں جن سے ایک ہی معنی نکلتے ہیں۔ وہی اصل مدار ومعیار ہیں۔ دوسری آیتوں کو جن کے کئی کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ انہیں پر پھر پیش کرنا چاہیے۔ فبین اللہ تعالیٰ ان القرآن تشتمل علی محکم وعلی متشابہ والتمسک بالمتشابھات غیر جائز (کبیر) والامھی التی منھا ابتداء ہ والیھا مرجعہ مسماھا اما فاقتضی ذلک بناء المتشابہ علیھا وردۂ علیھا (جصاص)
16 ۔ (آیت) ” متشابہ ایسے کلام کو کہتے ہیں جو دوسرے کلام سے ایسا ملتا جلتا ہو کہ باہم تفریق وتمیز مشکل ہو اور اس کی تعبیر و تفسیر میں مختلف پہلو نکلتے ہوں۔ ما اشکل تفسیرہ لمشابھتہ بغیرہ امامن حیث اللفظ اومن حیث المعنی (راغب) واما المتشابہ فھو ان یکون احد الشیئین مشابھا للاخر بحیث یعجز الذھن عن التمییز (کبیر) انما المتشابہ فی ھذہ الایۃ من باب الاحتمال والاشتباہ وقیل ان المتشابہ ما یحتمل وجوھا (قرطبی) المتشابھات لھن تصریف وتحریف وتاویل ابتلی اللہ فیھن العباد (قرطبی عن مجاہد وابن اسحق)
17 ۔ (اور محکمات سے قطع نظر کرلیتے ہیں) (آیت) ” الذین فی قلوبھم زیغ “۔ کھلا ہوا اور براہ راست اشارہ ہے مسیحیوں کی جانب جنہوں نے اپنے پیمبروں کی صاف وواضح وصریح ہدایات توحید کو پس پشت ڈال کر ان کی بعض تشبیہات کو توڑ مروڑ کر اصل قرار دے لیا تھا لیکن الفاظ عام ووسیع ہیں۔ ہر کج را ہے وکج رو، ہر زندیق وصاحب بدعت اس کے تحت میں آجاتا ہے۔ ھذہ الایۃ تعم کل طائفۃ من کافر وزندیق وجاھل وصاحب بدعۃ وان کانت الاشارۃ بھا فی ذلک الوقت الی نصاری نجران (قرطبی) ھم اھل البدع (مدارک) محققین نے اہل اسرار کے باب میں تصریح کردی ہے کہ ان سے اگر ایسا منقول ہو جو اپنی ظاہری صورت میں شریعت کے مطابق نہ ہو تو سلامتی اس میں ہے کہ نہ اس کلام کے ظاہر کو قبول کیا جائے اور نہ ان اشخاص ہی سے انکار کردیا جائے۔
18 ۔ (تاکہ عقائد و احکام کے باب میں اس کلام سے اپنی گمراہیوں کی سند حاصل کریں) جن کے دلوں میں حق طلبی، حق جوئی و تلاش صداقت نہیں ہوتی وہ اس ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں کہ دین میں کوئی نہ کوئی فتنہ برپا کریں اور بجائے اس کے کہ خود دین کی راہ پر چلیں، دین کو اپنی راہ پر چلانا چاہتے ہیں اور یہ لوگ نصوص کلام الہی کو توڑنے مروڑنے میں کوئی باک نہیں رکھتے۔ جیسا کہ آجکل بھی ہر فرقہ باطل کی تاویلات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ الفتنۃ ھی الکفر والضلال فی ھذا الموضع (جصاص) (آیت) ” ابتغآء الفتنۃ “۔ اس غلط تعبیری میں بھی یہ لوگ مخلص نہیں۔ مقصود ہی ان کا عوام مسلمین کو تشویش میں ڈالنا اور وحدت دین میں رخنہ پیدا کرنا ہے۔ طلبا للتشکیک فی القران واضلال العوام کما فعلتہ الزنادقۃ والقرامطۃ (قرطبی) (آیت) ” وابتغآء تاویلہ “۔ یعنی تاکہ اس کے غلط سلط معنی اپنی مرضی کے موافق تراش لیں، تاویل یہاں تحریف کے مرادف ہے ای تحریفہ علی مایریدون (ابن کثیر) الاضافۃ فی تاویلہ للعھد ای بتاویل مخصوص وھو مالم یوافق المحکم بل ماکان موافقا للتشھی (روح) والمراد منہ انھم یطلبون التاویل الذی لیس فی کتاب اللہ علیہ دلیل ولا بیان (کبیر) ای التاویل الذی یشتبھونہ (مدارک)
19 ۔ (اور وہی جس کو جتنا چاہے بتلا دے۔ چاہے نصوص قرآنی ہی سے اشارہ یا دلالۃ یا اقتضاء۔ چاہے اقوال رسول اللہ ﷺ سے صراحۃ)
20 ۔ پس سارے کا سارا حق ہے اور متشابہات کے معنی جو کچھ بھی ہوں بہرحال حق ہیں) (آیت) ” الرسخون فی العلم “۔ یعنی علم دین پختہ اور صاحبان عقل سلیم۔ اکثر محققین کا مذہب یہ ہے کہ وقف تام (آیت) ” وما یعلم تاویلہ الا اللہ “ پر ہے اور (آیت) ” الرسخون فی العلم “۔ سے دوسرا جملہ شروع ہوتا ہے جس کی خبر (آیت) ” یقولون “ ہے قرطبی نے صحابہ وتابعین میں حضرت عائشہ ؓ ، عبد اللہ بن عباس ؓ ، عبداللہ بن عمر ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ ، عروۃ بن زیبر ؓ ، ابی بن کعب ؓ ، اور عمر بن عبدالعریز (رح) کا اور ائمہ لغت ونحو میں کسائی اور اخفش اور فراء اور ابوعبید کا مذہب یہی بتلایا ہے اور حنفیہ بھی عموما اسی کے قائل ہوئے ہیں۔ وھو الذی ذھب الیہ الحنفیۃ (روح) والوقف عن الجھور علی قول الا اللہ (مدارک) بلکہ اکثر صحابہ وتابعین اور محققین اہل سنت کا یہی مذہب ہوا ہے۔ ھو مذہب الاکثرین من اصحاب رسول اللہ والتابعین واتباعھم خصوصا اھل السنۃ وھو اصح الروایات عن ابن عباس (روح) رسوخ کے معنی مضبوط ہوجانے اور جڑ جم جانے کے ہیں۔ الرسوخ الثبوت فی الشئی کل ثابت راسخ (قرطبی) (آیت) ” توالرسخون فی العلم “۔ وہ ہوئے جن کے دلوں میں دین کے حقائق ثبت ہوچکے ہیں۔ (آیت) ” کل من عند ربنا “ خواہ اس کے بعض حصوں کے معنی بالکل ظاہر وواضح ہوں اور خواہ اس کے بعض حصوں کے مفہوم میں خفاواشتباہ ہو تقدیر کلام یوں ہے۔ کلہ من عند ربنا اور کلہ میں ضمیر کتاب اللہ کی طرف ہے۔
21 ۔ (جو دین کے باب میں عقل وفہم سے کام لیا کرتے ہیں) بیان فہم سلیم رکھنے والوں کی عام ہے کہ ان لوگوں نے جب قرآن کے مجموعہ اور کل کو کلام الہی مان لیا، تو اب اس کے کسی حصے سے متعلق بھی بےاعتقادی اور ریب دل میں نہیں لاتے۔
Ayah 3:822 ۔ یعنی ہم کو اس صراط مستقیم پر قائم رکھ اور ہمارا حال کہیں یہود ونصاری کا سانہ ہوجائے، جو کتاب ونبوت کے بھی بھی گمراہ ہوگئے، یہ ساری دعا (آیت) ” الرسخون فی العلم “ کی زبان سے ہے۔ یعنی علم دین میں پختہ کاروں کی زبان سے، یہ لوگ اپنے رسوخ فی العلم اور پختہ کاری پر نازاں نہیں ہوتے بلکہ اس نعمت کے زوال سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من لدنک رحمۃ “۔ انہیں خود اپنے کسی عمل پر نازیا دعوی نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہتے کہ ہمارے حسن عمل کے انعام میں راہ راست پر قائم رکھ بلکہ کہتے ہیں کہ محض اپنے فضل وکرم لطف و عنایت سے راہ ہدایت پر مستقیم رکھ۔ ای من عندک ومن قبلک فضلا لا عن سبب بین ولا عمل (قرطبی) گویا اس میں ادب دعا کی تعلیم بھی آگئی۔ (آیت) ” رحمۃ “ کا صیغہ نکرہ اس کی عظمت اور بڑائی کے لیے ہے۔ وتنوینہ للتتفخیم ‘(روح)
23 ۔ (تو ایسے کے لیے اس درخواست کا قبول کرلینا مشکل کیا ہے) مفسر قرطبی نے کہا ہے کہ جاہل صوفیہ اور باطنیہ زنادقہ نے اس آیت سے یہ من گھڑت مسئلہ نکالا ہے کہ علم وہی ہے جو اللہ کی طرف سے محض وہبی ہو، کسبی نہ ہو اور علم کتابی حجاب کے حکم میں ہے۔
Ayah 3:924 ۔ (اس لیے قیامت کا آنا برحق اور بندوں کو اس کی یاد اور اس کا اہتمام ضروری) مومنین، کاملین کی یہ دعائیں خوف آخرت سے ہوتی ہیں، کسی مادی دنیوی غرض سے نہیں۔ (آیت) ” جامع الناس “۔ یعنی لوگوں کی موت کے بعد اٹھانے والا اور اکٹھا کرنے والا۔ ای باعثھم ومحییھم بعد تفرقھم (قرطبی)
25 ۔ (جیسا کہ بعض جاہل قوموں اور فرقوں نے گمان کر رکھا ہے) جاہلی قوموں کے عجیب عجیب معتقدات میں سے یہ عقیدے بھی ہیں کہ خدا کے لئے جائز ہے کہ وعدہ کرکے بھول جائے یا وعدہ کا ایفاء اسے خلاف مصلحت نظر آئے اور اس لئے اسے وہ ٹال جائے۔ اور افسوس ہے کہ بعض مسلمان کہلانے والے فرقوں نے ان خرافات میں ان کی تقلید شروع کردی ہے۔ خلف وعید کا مسئلہ جو اہل سنت کے ہاں ہے وہ اس سے بالکل الگ ہے اور اس سے حق تعالیٰ کی شان میں کوئی منقصت نہیں نکلتی بلکہ عظمت ومکرمت کچھ اور بڑھ ہی جاتی ہے۔
Ayah 3:1026 ۔ (آیت) ” النار “۔ یعنی آتش جہنم۔ جہنم کے عذاب آتشیں پر توریت وانجیل کے حوالہ پارہ اول میں گزرچکے۔ آیۃ کریمہ (آیت) ” فاتقوالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ “ کے تحت میں ، (آیت) ” من اللہ “ یعنی عذاب الہی سے نہ بچا سکیں گے۔ اے من عذاب اللہ (قرطبی) (آیت) ” لن تغنی عنھم “۔ جاہلی قوموں کا ایک عقیدہ یہ بھی رہا ہے کہ اولاد اگر مرے ہوئے ماں باپ کی طرف سے دان پن کردے تو والدین کی نجات ہوجائے گی خواہ وہ ایمان سے محروم ہی دنیا سے اٹھے ہوں۔
Ayah 3:1127 ۔ (مجرموں اور باغیوں کو (آیت) ” ذوانتقام “ پر حاشیہ ابھی گزرچکا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرمالیا جائے۔ اللہ کوئی بےبس اور ہمہ عجز مہاتما نہیں کہ بندوں کو ہر طرح کے ظلم وعدوان کا مرتکب دیکھے اور پھر دم نہ مارے۔ وہ جب سزا دینے ہی پر آجاتا ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی گرفت اس کی گرفت سے شدید تر والیم تر نہیں۔ کداب۔ داب کے معنی حالت یا معاملہ کے ہیں۔ الداب العادۃ والشان۔ (قرطبی) یہ مثلیث بےسود ہونے میں ہے۔ گویا تاریخ سے استشہاد ہے کہ جس طرح ماضی میں فرعونیوں کے کام ان کے مال اولاد کچھ نہ آسکا۔ اور عذاب الہی سے انہیں کوئی چیز نہ بچا چکی، اسی طرح ان کافروں کے حق میں بھی یہ سارے مادی سہارے بالکل عبث ولا حاصل ثابت ہوں گے۔ (آیت) ” ال فرعون “۔ فرعون اور فرعونیوں پر مفصل حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔ فرعونیوں کی ہلاکت کے ذکر میں ایک مناسبت یہ بھی ہے کہ ان کی ہلاکت مسیحیوں کو مسلم تھی اور سورة کاروئے سخن خاص طور پر مسیحیوں ہی کی جانب ہے (آیت) ” الذین من قبلھم “۔ یعنی وہ نافرمان قومیں جو عہد موسوی سے بھی قدیم ترہوئی ہیں۔ (آیت) ” ایتنا “۔ یہ نشانیاں خواہ آسمانی صحیفوں اور نوشتوں کی صورت میں ہوں یا معجزات وخوارق نبوت ہوں یا دلائل توحید ہوں۔ یحتمل ان یرید الایات المتلوۃ ویحتمل ان یرید الایات المنصوبۃ للدلالۃ علی الوحدانیۃ (قرطبی) اما المتلوۃ فی کتاب اللہ تعالیٰ اوالعلامات الدالۃ علی توحید اللہ تعالیٰ وصدق انبیآۂ (روح) (آیت) ” فاخذھم اللہ بذنوبھم “۔ اور انہیں ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں مع ان کی ساری عظمت و شوکت کے نیست ونابود کردیا، خطاب دین حق سے بعض وعناد رکھنے والوں سے رسول کے واسطہ سے ہے۔
Ayah 3:1228 ۔ (آیت) ” تحشرون الی جھنم “ کا تعلق تو ظاہر ہے کہ آخرت ہی سے ہے۔ سوال آیت کے وعید اول (آیت) ” ستغلبون “ سے متعلق ہے کہ دشمنان دین کی اس مغلوبیت ومقہوریت کا تحقق کہاں ہوگا ؟ آخرت میں تو خیرہوہی گا لیکن آیا اس کے قبل اہل حق کے ہاتھوں میں اس دنیا میں بھی ؟ اہل تفسیر نے بالاتفاق اس کا جواب اثبات میں دیا ہے اور تصریح کی ہے کہ اس کا وقوع عنقریب اس دنیا میں ہوگا۔ چناچہ ہوا (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ باقی یہ کہ اس سے کافروں کا کون ساگروہ متعین طور پر مراد ہے بعض نے پیشگوئی کا مصداق بدر میں حکومت مکہ کی ہزیمت کو ٹھہرایا ہے۔ المراد مشرکی مکۃ (معالم عن مقاتل) قل لمشر کی مکۃ ستغلبون یعنی یوم بدر (بیضاوی) قیل نزلت فی قریش قبل بدر بسنتین (بحر) لیکن اکثر نے مدینہ میں یہود کے پر قوت جتھوں اور جرگوں کی شکست وپامالی مراد لی ہے۔ یعنی الیھود ای تھزمون (قرطبی۔ عن ابن عباس) فالمراد من الموصول الیھود (روح) (آیت) ” ستغلبون “ میں س قرب وقوع کے لیے ہے یعنی اس دنیا میں اس کا مشاہدہ ہو کر رہے گا۔ والسین لقرب الوقوع ای تغلبون عن قریب وارید منہ فی الدنیا (روح) لیکن بہتر یہ ہوگا کہ لفظ کے اطلاق کو عام رکھا جائے اور یہود مشرکین جو بھی رسول اللہ ﷺ کے بعد میں مسلمانوں کے ہاتھ خوارومغلوب ہوئے، سب کو آیت کا مصداق یکساں ٹھہرایا جائے۔ والظاھر ان الذین کفروا یعم الفریقین المشرکین والیھود وکل قد غلب بالسیف والجزیۃ والذلۃ و ظھور الدلائل والحجج (بحر) بہرحال قرآنی پیشگوئی کا اعجازی رنگ ہر صورت میں عیاں ہے نزول آیت کے وقت مسلمانوں کی بےبسی بےسروسامانی وزبوں حالی دیکھ کر کوئی بھی انسانی دماغ یہ پیشگوئی نہیں کرسکتا تھا کہ حکومت مکہ یا دولت یہود کسی سے بھی یہ ایسی زبردست ٹکر لے سکتے ہیں۔
Ayah 3:1329 ۔ (میدان بدر میں 8 جنوری 2 ہجری میں) (آیت) ” ایۃ “۔ نشان اللہ کی قدرت وکارسازی اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا) (آیت) ” فی فئتین “ یعنی دو گروہوں کے واقعہ میں۔ ایک گروہ مومنین بےسروسامان، دوسرا گروہ مشرکین باسروسامان کا۔ (آیت) ” فءۃ تقاتل فی سبیل اللہ “۔ یہ گروہ مومنین کا تھا۔ تعداد میں قلیل اور سامان میں حقیر۔ تعداد میں کل 313 تھے اور وہ بھی بغیر سامان حرب کے۔ اونٹ اتنے کم کہ چار چار پیادوں کے حصہ میں ایک ایک پڑتا تھا۔ گھوڑے لشکر بھر میں کل دو ، آہنی زر ہیں اتنے آدمیوں میں کل سات۔ (آیت) ” واخری کافرۃ۔ یہ لشکر حکومت مکہ کا تھا۔ تعداد میں مسلمانوں سے سہ چند تھا۔ یعنی 950، افراد پر مشتمل۔ قریش کے بہترین سواروں کے زیر قیادت اور ہر ضروری سامان سے آراستہ سوار ان میں 700 تھے اور سب سوار وزرہ پوش 100 تھے۔
30 ۔ (لیکن یہ کثرت تعداد پھر بھی کچھ کام نہ آئی اور آخر کار ذلت وشکست مکہ ہی کو نصیب ہوئی) (آیت) ” یرونھم رای العین “۔ یعنی یہ محض وہم و خیال نہ تھا بلکہ واقعۃ مشاہدہ کررہے تھے۔ رؤیۃ آیت میں رؤیت چشم کے لیے ہے قال ابو علی الرؤیۃ فی الایۃ عین ولذلک تعدت الی مفعول واحد (قرطبی) یعنی رویۃ ظاہرۃ مکشوفۃ (کشاف) یرونھم مثلیھم “۔ کون کس کو کئی گنا دیکھ رہے تھے ؟ سوال کے جواب یا ضمیروں کی تعیین میں اہل تفسیر کے درمیان شدید اختلاف ہے اور بالکل بلادلیل قول کسی کا بھی نہیں، سب سے اسلم واحوط قول مفسر تھانوی کا نظر آتا ہے۔ جنہوں نے (آیت) ” یرونھم “۔ میں فاعل اور مفعول دونوں کی ضمیریں کافروں کی طرف پھیری ہیں۔ اور (آیت) ” مثلیھم “ میں ھم سے مراد مومنین سے لی ہے۔ مثلین۔ سے مراددو چند بھی لی گئی ہے اور سہ چند بھی اور مطلق کثرت تعداد بھی بغیر کسی عدد خاص کے تعین کے۔ زعم الفراء ان معنی یرونھم مثلھم ثلاثۃ امثالھم (بحر) بالمثلین مطلق الکثرۃ لاخصوص المثلین (جمل)
31 ۔ (چنانچہ اس موقعہ پر اس کی مشیت نصرت مومنین سے متعلق ہوگئی اور کافروں کے کام نہ ان کی تیاری آسکیں نہ کثرت تعداد) (آیت) ” من یشآء “۔ اس کی تائید اس عالم ابتلاء میں مصالح تکوینی کے لحاظ سے ہوتی ہے۔
32 ۔ (یعنی بڑا سبق ہدایت کا ان کے لوگوں کے لیے ہے جو بصیرت سے کام ہی لیتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” عبرۃ “ تنوین عظمت کے لیے ہے یعنی ہدایت وبصیرت کا بہت بڑا سبق۔ التنوین للتعظیم ای عبرۃ عظیمۃ کائنۃ (روح)
Ayah 3:1433 ۔ اور انہی کی محبت اکثر افراد میں حدود جائز سے تجاوز کرکے معصیت کا سبب بن جاتی ہے۔ (آیت) ” حب الشھوت “۔ شہوات یہاں مشتھات کے معنی میں ہے۔ یعنی مرغوب ودلپسند چیزیں۔ وقد یسمی المشتھی شھوۃ (راغب) جعل الاعیان التی ذکرھا شھوات مبالغۃ فی کونھا مشتھاۃ (کشاف) (آیت) ” من النسآء الخ ان مرغوبات کے نام صرف مثال اور نمونہ کے طور پر لے دیے گئے ہیں۔ ان حصر مراد نہیں۔ (آیت) ” زین للناس “۔ یہ صراحت ہے اس باب میں کہ انسان کی نظر میں ان چیزوں کی رغبت وکشش بہ طور امر طبعی کے ہے اور بذات خود معصیت نہیں۔ انسان ان کے شوق کے ازالہ کا مکلف نہیں صرف انہیں عقل سلیم و احکام شریعت کے ماتحت کرکے رکھنا چاہیے۔
34 ۔ (سو اس حقیقت کو سمجھ کر ان کی محبت جائز حدود کے اندر محدود رکھنی چاہیے) (آیت) ” متاع “ کہتے ہی اس چیز کو ہیں جس سے کسی حیثیت سے کچھ مدت کے لیے نفع حاصل کیا جائے، کل ماینتفع بہ علی وجہ ما فھو متاع (راغب) والمتاع انتفاع عند الوقت (راغب) (آیت) ” متاع الحیوۃ الدنیا “۔ مقصود یہ ہے کہ یہ اور اس قسم کی ساری چیزیں بہت زیادہ دل لگانے کے قابل نہیں۔ البتہ دنیوی زندگی برتنے میں مفید ومعین یقیناً ہیں۔ سو ان کی قدر اسی حد تک کرنا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ یہ مقاصد حیات بن جائیں۔ دنیاخود ہی فانی ہے اور اس کے یہ سارے سازو سامان بھی فانی۔ والمعنی تحقیر امر الدنیا والاشارۃ الی فناءھا وفناء ما یستمع بہ فیھا (بحر)
35 ۔ (سودائمی اور غیر فانی راحت کے لئے فکر واہتمام صرف اللہ کی رضا کا رکھنا چاہیے اس کے آگے دنیا کی آنی وفانی بڑی سے بڑی لذت بھی بےبساط ہی ہے) ومعنی الایۃ تقلیل الدنیا وتحقیرھا والترغیب فی حسن المرجع الی اللہ فی الاخرۃ (قرطبی)
Ayah 3:1536 ۔ (کیا یہ لحاظ کیفیت، کیا بہ لحاظ کمیت اور کیا یہ لحاظ قیام و دوام) خطاب عام انسانوں سے، رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے ہے۔ (آیت) ” ذلکم “۔ یعنی یہ چیزیں جو سرتا سر بےثبات وبے حقیقت ہیں۔
37 ۔ (آیت) ” الذین اتقوا “ یعنی جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خوف خدا پر رحمت الہی کے مرتب ومتوجہ ہونے کا ذکر قرآن مجید ہی نہیں اگلے صحیفوں میں بھی بار بار آیا ہے۔ چناچہ توریت کے حوالہ پارۂ اول کے حواشی میں گزر چکے۔ مسیحیوں کے مقدس نوشتے بھی خوف و خشیت کے ذکر سے خالی نہیں۔ ” اور اس کا رحم ان پر جو اس سے ڈرتے ہیں پشت در پشت رہتا ہے (لوقا 1:5) ” آؤ اپنے آپ کو ہر طرح کی جسمانی آلودگی سے پاک کردیں اور خدا کے خوف کے ساتھ پاکیزگی کو کمال تک پہنچائیں “۔ (2 ۔ کرنتھیون۔ 7: 1) ” وہ وقت بھی آپہنچا ہے کہ بڑے بڑے نبیوں اور مقدسوں اور ان چھوٹے بڑوں کو جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں، اجر دیا جائے۔
38 ۔ (ان کے لیے جنت میں) (آیت) ” مطہرۃ “۔ پاک صاف کی ہوئی ہر جسمانی آلودگی ونجاست سے۔ قرآن مجید نے بار بار اس پر زور دیا ہے کہ اہل جنت کے لیے راحت ولذت کا سامان ہر قسم کا ہوگا مادی لطف کا بھی، ذہنی لطف کا بھی، روحانی لطف کا بھی، پھر اگر انہیں وہاں بیویاں بھی عنایت ہوں، ہر طرح پاک صاف اور لطف ازدواجی بھی پوری طرح اٹھانے کا موقع مے تو اس میں ” روشن خیالی “ کے شرمانے کی کونسی بات ہے ؟۔
39 ۔ (جو حاصل اور عطر ہے ساری نعمتوں ولذتوں، راحتوں کا) (آیت) ” رضوان “۔ کی تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے) ای رضا عظیم علی ما یشعربہ التنوین (روح)
40 ۔ (اور ان کے احوال، اقوال، اعمال کے ایک ایک جزئیہ سے پوری طرح خبردار ہے) پس اس کا احتمال ہی نہیں کہ کوئی چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی حساب یا صدور جزائے سے رہ جائے۔
Ayah 3:1641 ۔ یہ کہنے والے کون ہیں ؟ وہی ہوتے ہیں جن کا ذکر (آیت) ” الذین اتقوا “۔ کے ماتحت چل رہا ہے۔ یہ اپنے اعمال واحوال پر نازاں ہونا الگ رہا الٹے فرط خشیت وہیبت سے اپنی مغفرت وحسن خاتمہ کے لئے مناجات کرتے رہتے ہیں (آیت) ” امنا “۔ یعنی ہم اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور اس کی شریعت پر ایمان لے آئے (آیت) ” امنا فاغفرلنا “۔ ایمان پر معا طلب مغفرت کو مرتب کرتے ہیں نکتہ یہ ہے کہ مغفرت میں اصل حائل عدم ایمان ہی تو ہوتا ہے۔ جب یہ مانع رفع ہوگیا تو اب کیا ہے۔ اب ہماری باقی خطاؤں، لغزشوں کو تو معاف کر ہی دیجئے۔ ایمان بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی انتہائی اہمیت اس آیت سے ظاہر ہورہی ہے۔ امام المفسرین امام رازی (رح) نے اس مقام پر بہت خوب تقریر کی ہے۔ ذلک یدل علی انھم توسلوا بمجرد الایمان الی طلب المغفرۃ واللہ تعالیٰ حکی ذلک عنھم فی معرض المدح لھم والثناء علیھم فدل ھذا علی ان العبد بمجرد الایمان یستوجب الرحمۃ والمغفرۃ من اللہ تعالیٰ (کبیر) اور انہی کی پیروی صاحب بحروصاحب روح نے بھی کی ہے۔
Ayah 3:1742 ۔ (آیت) ” بالاسحار “۔ سحر نام اس وقت کا ہے جب رات کی تاریکی صبح کی روشنی سے مل رہی ہو۔ السحر والسحرۃ اختلاط ظلام اخر اللیل بضیاء النھار وجعل اسما لذلک الوقت (راغب) آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دلجمعی اور روحانی قوی کی بیداری وبالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی زاید ہوتا ہے۔ (آیت) ” الصبرین والصدقین “۔ یعنی صبر کرنے والے اور راستی برتنے والے اپنے سارے معاملات میں۔ (آیت) ” القنتین۔ یعنی فروتنی کرنے والے اللہ کے حضور میں۔ (آیت) ” المنفقین “۔ یعنی خرچ کرنے والے اللہ کی راہ میں۔ عارفوں نے کہا ہے کہ یہ تمام صفات اولیاء اللہ کے ہوتے ہیں۔
Ayah 3:1843 ۔ (اس لیے شرک ہر درجہ اور نوعیت کا باطل ہے) (آیت) ” شھد اللہ “۔ اللہ کی یہ گواہی کتب آسمانی سے بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور صحیفہ کائنات سے بھی۔ ومن وحدانیتہ ینسب الدلائل الدالۃ علیھا وانزال الایات القاطعۃ بھا۔ (بیضاوی) کتب الہی کی شہادت دلیل نقلی کا حکم رکھتی ہے۔ اور مصنوعات فطرت کی دلالت دلیل عقلی کا (آیت) ”۔ المآئکۃ “۔ یہ وہی مخلوق ہے جسے اکثر مشرک قومیں دیوتا کالقب دے کر شریک خدائی سمجھ رہی ہیں۔ (آیت) ” اولوالعلم “۔ ” علم “ سے مراد حقایق ہے نہ کہ علوم دنیوی۔ محققین نے آیت سے علماء کا خاص شرف وفضل نکالا ہے۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی فض (رح) العلم وشرف العلماء مآئکتہ کما فرفی اسم العلماء (قرطبی)
44 ۔ (ساری کائنات کا) (آیت) ” قآئما بالقسط “۔ عدل سے مراد ہے کہ ہر شے اپنے محل مناسب میں ہو بعض جاہل قوموں نے خدا کا وجود تو تسلیم کیا ہے لیکن وجود معطل یا ایسی صفات سے موصوف ہے جو کمالات الہیہ کے منافی ہیں۔ اسلام کا خدا، خدائے معطل نہیں، منظم ہے، کارساز ہے، ہر ایک کا اور ہر کام بنانے والا ہے۔
45 ۔ (آیت) ” العزیز “۔ وہ جس کی قوت سب پر غالب ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں (آیت) ” الحکیم “۔ وہ جس کی حکمت سب سے بڑھی ہوئی ہے۔ دونوں صفات کے اثبات سے مقصود یہ ہے کہ اسے نہ قوت کے لحاظ سے اور نہ علم و حکمت سے کسی شریک کی ضرورت ہے۔
Ayah 3:1946 ۔ (نہ کہ مطلقا ہر وہ چیز جسے دین کے نام سے موسوم کردیاجائے) یہ رد ہے بادشاہ اکبر اور دوسرے بددینوں کے اس عقیدہ کا، کہ ہر دین دین حق ہے، اور ہر مسلک خدا ہی کی راہ ہے۔ اور دیر وحرم کفر و ایمان میں فرق صرف لفظی واصطلاحی ہے۔ خط مستقیم حقیقت یہ ہے کہ دو نقطوں کے درمیان صرف ایک ہی ممکن ہے باقی سب خطوط مخنی وکج ہوں گے، راہ مستقیم خدا اور بندے کے درمیان صرف ایک ہی ہے اور اسلام ہے جو انبیاء وہادیان حق کا دین ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” الدین “۔ یعنی دین مقبول (آیت) ” الدین “۔ اور (آیت) ” الاسلام “ دونوں کا معرفہ ہونا حصر کے معنی دے رہا ہے یعنی دین مقبول صرف یہی ہے۔ وتعریف الجزئین للحصرای لادین مرضی عنداللہ تعالیٰ سوی الاسلام (روح)
47 ۔ (نہ کہ کسی اجتہاد فکری اور اختلاف فہم کی بناپر) یہاں پھر ایک بار اسے کھول کر بیان کردیا ہے کہ اہل کتاب کا راہ حق سے انحراف کسی خطاء واجتہادی کی بناء پر نہیں، نفسانیت وہوا پرستی کی بنا پر ہے۔ یہود پہلے سے بھی یہی کہتے چلے آرہے تھے کہ راہ حق ہماری راہ ہے۔ اس لیے کہ فلاں فلاں بزرگ ہمارے مورث ہوئے ہیں اور اسرار کائنات ﷺ کے زمانہ میں بھی ان کا کہنا یہ تھا کہ نبوت تو اسرائیلیوں کا حق رہی ہے، یہ نعمت ایک اسمعیلی کے حصہ میں کیونکر جاسکتی ہے۔ ؟ (آیت) ” بغیا بینھم “ یعنی نفسا نفسی اور ضدم ضدی آپس میں بھی اور دین حق سے بھی۔ (آیت) ” من بعد ما جآء ھم العلم “۔ یعنی ان پر دین حق کی تبلیغ پوری طرح ہوچکی اور دین برحق کی حقانیت وصداقت کے دلائل واضح انہیں پہنچ چکے۔
48 ۔ (اور حساب کا جو انجام منکرین ومعاندین کے حق میں ہونے والا ہے، بالکل ظاہر ہے)
Ayah 3:2049 ۔ (خواہ مخواہ از راہ عناد اور پوری تبلیغ کے بعد بھی) اشارہ اہل کتاب کی جانب عموما ہے اور نصرانیوں کی جانب خصوصا۔ (آیت) حاجوک “ ای جادلوک بالاقاویل المزورۃ والمغالطات (قرطبی)
50 ۔ (اب تم مانو یا نہ مانو۔ تمہیں اختیار ہے) (آیت) ” اسلمت وجھی للہ “۔ پورا رخ اللہ کی جانب کرلینا مترادف ہے اسلام کے یعنی میں اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کرچکا۔ (آیت) ” ومن اتبعن “۔ میں ہوسکتا ہے کہ وعطف کا نہ ہو، بلکہ مع کا مرادف ہو۔ (ویجوزان یکون الواو بمعنی مع (کشاف) اہل طریق نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جب وضوح حق کی پوری کوشش ہولے اور مخاطب پھر بھی قبول نہ کرے تو اب بحث ومباحثۃ قیل وقال ترک کردینا چاہیے۔
51 ۔ (آیت) ” ء اسلمتم “ کے ایک صاف اور صریح معنی تو وہی ہیں جو متن ترجمہ میں درج ہوچکے ہیں، لیکن بعض اہل علم نے صیغہ امر میں معنی ” اسلام لاؤ “ کے بھی لئے ہیں۔ اور نحوئین نے کہا کہ الف استفہام کبھی امر کے بھی معنی دیتا ہے۔ بلکہ امر کے معنی میں زور اور زیادہ پیدا کردیتا ہے۔ المقصود منہ الامر (کبیر) قال النحویون انما جاء الامر فی صورۃ الاستفھام (کبیر) استفہام کی صورت میں بھی استفسار محض مراد نہیں بلکہ مقصود تہدید ہے جیسے اردو محاورہ میں بھی تہدید کے موقع پر کہتے ہیں۔” کیوں جی “۔ سنتے ہو کہ نہیں “۔ قال الزجاجء اسلمتم تھدید وھذا حسن لان المعنیء اسلمتم ام لا (قرطبی) (آیت) ’ والامین “ مطلقا ان پڑھ یا کتب سماوی سے لاعلم ونابلد۔ مراد بہر صورت مشرکین مکہ ہیں۔ الامی ھو الذی لا یکتب ولا یقرء من کتاب (راغب) ای الذین لا کتاب لھم (ابن جریر) الذین لا کتاب لھم وھو مشرکوا العرب (قرطبی)
52 ۔ (اور اب ان کی نجات ومفغرت میں بھی شبہ نہ رہا) جاہلیت کے نظر یہ حیات (Ideology) میں اصلاح وتبدیلی ہی کا نام اسلام ہے پس جس نے بھی اسلام کے نظریہ حیات کو قبول کرلیا وہ کسی بھی نسل، قوم، رنگ، وطن کا ہو بہرحال اب اس کا تعلق کائنات و خالق کے ساتھ صحیح نوعیت کا قائم ہوگیا ہے۔
53 ۔ (آپ پر نتائج کی ذمہ داری ذرا بھی نہیں) رسول اللہ ﷺ کو تسکین دی گئی ہے کہ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو آپ ملول وفکر مند نہ ہوں۔ آپ کا کام تو صرف تبلیغ ہے۔
54 ۔ (وہ خود ہی سب کے اعمال واحوال دیکھ کر مناسب جزا وسزا دے گا۔
Ayah 3:2155 ۔ (آیت) ” یکفروان بایت اللہ “۔ کسی کتاب الہی سے یا اس کے کسی جزء سے انکار یہ سب کفربایات اللہ کی صورتیں ہیں۔ (آیت) ” بغیر حق “۔ یعنی خود قاتلوں کے بھی آئین، قانون وضابطہ کے خلاف، ورنہ قتل انبیاء فی الحقیقت اور عنداللہ تو ہمیشہ ہی ناحق رہے گا۔ یہود کے قتل انبیاء اور قتل ناحق پر حاشیہ پارہ اول رکوع 7 میں گزر چکا۔
56 ۔ (آخرت میں) (آیت) ” یامرون بالقسط “۔ یعنی لوگوں کو اخلاق ومعاملات میں عدل کی ہدایتیں کرتے رہتے ہیں، ظاہر ہے کہ مراد انبیاء اور ان کے نائبین ہیں۔ (آیت) ” یقتلون۔ یہ سب اشارے یہود کی حق دشمنی سے متعلق اور ان کی تاریخ کی جانب ہیں۔ عہد عتیق کے متعدد صحیفوں میں یہود کی حق بیزاری کی تصریح موجود ہے۔ مثلا ” وہ اس کا کینہ رکھتے ہیں جو دروازہ پر سرزنش کرتا ہے اور وہ اس سے نفرت رکھتے ہیں جو حق بات کہتا ہے “۔ (عموس۔ 5: 10) (آیت) ” عذاب الیم “۔ ایسے مجرموں اور خطاکاروں پر دنیوی لعنت حضرت داؤد نبی کی کتاب میں مفصل موجود ہے۔ :۔ ” وہ جلد ہی گھاس کے مانند کاٹ ڈالے جائیں گے اور ہرے سبزے کی طرح مرجھائیں گے اور شہر میں نہ ہوگا تو غور کرکے اس کا مکان ڈھونڈے گا اور وہ نہ ہوگا، ان کی تلوار انہی کے دلوں میں بیٹھے گی۔ ان کی کمانیں ٹوٹ جائیں گی “۔ الخ (زبور، 37: 1 ۔ 30) آیت سے اس پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ سابق امتوں میں امر بالمعروف واجب تھا اور یہ فرض انبیاء اور ان کے نائبین انجام دیتے تھے، وتحت ھذہ الایۃ علی ان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کان واجبا فی الامم المتقدمۃ وھو فائدۃ النبوۃ (قرطبی)
Ayah 3:2257 ۔ (سزا کے وقت کہ انہیں عذاب سے چھڑا لے۔ یا اس میں کچھ تخفیف ہی کرادے)
Ayah 3:2358 ۔ حق وداعیان حق سے یہ مسلسل انحراف واعراض تاریخ بنی اسرائیل کا کوئی نیا یا انوکھا واقعہ نہیں۔ ان کے مقدس نوشتے اور صحیفے ان شکایات سے بھرے پڑے ہیں۔ مثلا :۔ ” تم کا ہے کو مجھ سے محبت کروگے، تم سب مجھ سے پھرگئے ہو “۔ (یرمیاہ۔ 2:28، 29) نیز ہوسیع 10:27) مفصل حاشیے پارۂ اول رکوع 6:7 کے ذیل میں گزر چکے۔ (آیت) ” الم تر “۔ خطاب یہاں رسول اللہ ﷺ سے ہے (آیت) ” من الکتب “۔ ذکر وہی یہود کا چل رہا ہے۔ الکتاب یہاں بطور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ یعنی کتاب الہی اپنے عمومی وکلی مفہوم میں۔ اور اسی کا ایک جزء توریت ہے۔ (آیت) ” کتب اللہ “۔ اسی عمومی وکلی کتاب کا دوسرا جزء قرآن ہے اور وہی یہاں مراد ہے (آیت) ” لیحکم بینھم “۔ یعنی مذہبی اختلافات کے باب میں فیصلہ کردے۔
Ayah 3:2459 ۔ یعنی یہ سرکشی اور عدوان کی عادت اس سبب سے قائم ہے کہ یہ لوگ اپنے مشرک ہونے ہی کے گویا قائل نہیں۔ (آیت) ” ایاما معدودت “۔ یعنی وہ 40، روز کی مدت جو بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی میں بسر کی تھی۔ آیت کا یہ جزء پارۂ اول میں بھی یہود کی زبان سے نقل ہوچکا ہے اور وہی اس پر مفصل حاشیہ بھی گزر چکا ہے۔
60 ۔ (چنانچہ اپنی نجات کا یقین کئے ہوئے بیٹھے ہیں) (آیت) ” ماکانو ایفترون “۔ عقائد کے باب میں کوئی بات بےدلیل عقلی یا نقلی کے اپنی طرف سے گڑھ لینا افتراء علی اللہ کی ایک صورت ہے۔ اور یہود کے پیشواؤں اور سرداروں نے اس طرح قسم قسم کے عقائد کا ایک طومار گڑھ رکھا تھا۔ اور انہی میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ یہود پر آتش دوزخ (بجز برائے نام صورت کے) حرام ہے۔ ان کے لئے ان کے بزرگوں کی نسبت وشفاعت کافی ہے۔ اور ان کی نجات ومغفرت بلاایمان وعمل خود بخود ہوجائے گی۔
Ayah 3:2561 ۔ (ان بدبختوں اور شامت زدوں کا) (آیت) ” یوم لا ریب فیہ “۔ یعنی قیامت کے دن۔ اس طرز تسمیہ سے مقصود قیامت کا محض ذکر ہی کردینا نہیں۔ بلکہ اس کے وقوع کی قطعیت کو ذہن میں تازہ کردینا ہے۔ (آیت) ” فکیف “ اس طرز استفہام سے مقصود عذاب کی ہولناکی کا اظہار ہے۔ استعظام وتھویل وھدم لما استندوا الیہ (روح) (آیت) ” لیوم “۔ میں ل، فی، کے معنی میں ہے۔ واللام فی قولہ لیوم بمعنی فی قالہ الکسائی (قرطبی)
62 ۔ (کہ کسی کو سزا بلاجرم یا زائد از جرم مل جائے یا کسی کی کوئی نیکی بغیر اجر کے چھوٹ جائے) (آیت) ” ماکسبت “۔ جو کچھ اس نے حاصل کیا ہے خواہ وہ حسنات ہوں یا سیئات۔
Ayah 3:2663 ۔ رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے طریق دعا کی تعلیم امت کو دی جارہی ہے۔ (آیت) ” ملک الملک “۔ ملک سے مراد سارا جہاں ہے مالک کا لفظ دعا کے شروع ہی میں لاکر یاد دلادیا کہ مالکانہ تصرف کا حق واختیار اسی کو حاصل ہے جس سے دعا کی جارہی ہے (آیت) ” تؤتی وتنزع “۔ حکومت کی نعمت دینا یا اس نعمت کو واپس لے لینا تمامتر احکم الحاکمین کے ہاتھ میں ہے اور نفس بادشاہت یا حکومت میں تقدس یا الوہیت ذرا سی بھی نہیں۔ اس میں رد آگیا اس کثرت سے پھیلے ہوئے جاہلی عقیدہ کا، کہ بادشاہی خود ایک درجہ الوہیت یا نیم الوہیت کا ہے اور کسی کا بادشاہ ہوجانا گویا خدا کے اوتار کے مرتبہ پر پہنچ جانا ہے۔ مصر میں فرعون کی پرستش ہوتی رہی۔ ہندوستان میں چندر بنسی اور سورج بنسی راجہ مہاراجہ خدائی اوتار سمجھے گئے، جاپان میں میکاڈو آج تک مظہر خدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سب اسی عقیدۂ شاہ پرستی کے مظاہر ہیں۔ اسلام نے آکر بتایا کہ بادشاہی بھی ساری دوسری نعمتوں کی طرح ایک خدائی تصرف ہے اور بادشاہ بھی بندگی، بےبسی، بیچارگی میں بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے سارے دوسرے بندے، حقیقت ہمیشہ سے اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس وقت اس کا نظارہ پوری قوت وشدت کے ساتھ مسولینی (آمراٹلی) وہٹلر (آمرجرمنی) کے انجام سے کرادیا گیا ہے۔
64 ۔ (اپنی حکمت کاملہ کے مطابق) اس (آیت) ” من تشآء “۔ (جسے تو چاہے) کی وسعت اطلاق میں قومیں بھی آگئیں اور فرد بھی۔ اور عزت کا سب سے بڑا ممکن مرتبہ یاد کرلیا جائے کہ نبوت ہے۔ اس طرح گویا اہل کتاب کو یہ یاد دلادیا کہ جس قوم کے جس فرد کو وہ چاہے مرتبہ نبوت سے سرفراز کردے۔ اس پر حسد بالکل بےمعنی ہے۔
65 ۔ (اس کے پاداش عمل میں) (آیت) ” من تشآء “۔ کا عموم اطلاق یہاں بھی فرد وقوم دونوں پر حاوی ہے کوئی فرد تو مرتبہ نبوت سے معزول ہوا نہیں ہے۔ البتہ یہ نعمت قوموں سے سلب ہوسکتی ہے۔ چناچہ قوم اسرائیل صدیوں تک اس نعمت سے سرفراز رہنے کے بعد معزول کی گئی، اور یہ نعمت اپنی انتہائی اور آخری شکل میں عرب قوم کے ایک ممتاز فرد کے حصہ میں آئی۔
66 ۔ (تو اہل کتاب اس پر حیرت کیوں کررہے ہیں کہ نعمت نبوت سے عرب قوم کے ایک فرد کو سرفراز کیا جارہا ہے) (آیت) ” الخیر “۔ یعنی بھلائی ہر قسم کی اور ہر مرتبہ، درجہ کی۔ کائنات میں وجود ایجابی صرف خیر کا ہے اس لیے ذکر اسی کا کیا گیا اس کے مقابل کی چیز یعنی شر محض ایک سلبی حقیقت کا نام ہے۔ یہاں جو بجائے (آیت) ” بیدک الخیروالشر “۔ کے صرف (آیت) ” بیدک الخیر “۔ کا ارشاد واقع ہے اس سے عارفین صوفیہ نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ جس چیز میں بندہ کے ارادہ اختیار کو دخل نہ ہو وہ محض خیر ہی ہے۔ اسے ناگوار نہ جانے اور اسے اپنے حق میں عذاب ومصیبت نہ سمجھے۔
Ayah 3:2767 ۔ (غرض یہ کہ تقلبات وتصرفات کائنات کا ہر ہر جزئیہ تیری ہی مشیت وقدرت کے تابع و محکوم ہے) (آیت) ” تولج الیل۔ تولج النھار۔ یہ سارے تصرفات وتقلبات بغیر کسی کی شرکت واعانت کے محض ارادۂ الہی سے رات دن ہوتے رہتے ہیں۔ جاہلی قوموں نے لیل (رات) اور نہار (دن) دونوں کو دیوی دیوتاؤں کی حیثیت دے رکھی ہے۔ آیت میں ضمنا ان خرافات کا بھی رد آگیا۔ (آیت) ” تخرج الحی من المیت “۔ اس کی ایک نمایاں مثال پرندے کو انڈے سے نکالنا ہے۔ (آیت) ” تخرج المیت من الحی “۔ اس کی ایک نمایاں مثال پرندے سے انڈے کی پیدائش ہے۔ (آیت) ” ترزق من تشآء بغیر حساب “۔ سو ایسا قادر مطلق اگر ضعیفوں، عاجزوں کو بڑی بڑی سلطنتوں کا بھی مالک بنادے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ اوپر تقسیم رزق، عطائے دولت وغیرہ تکوینی انعامات کے سلسلہ میں۔ (آیت) ” من تشآء “۔ کی قید جوہر جگہ لگی ہوئی ہے۔ اس سے محققین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ دولت، حکومت، امارت وغیرہ کی تقسیم محض مشیت تکوینی کے مصالح کائناتی کے اعتبار سے ہوتی رہتی ہے۔ اسے قرب الہی، اخلاقی افضیلت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 3:2868 ۔ (کیا ظاہر میں اور کیا باطن میں) جسے دوستی کا علاقہ کہتے ہیں وہ ایک کیفیت قلب اور پھر عملی برتاوے کا نام ہے۔ مسلمانوں کو، کافروں، منکروں، اللہ کے باغیوں کے ساتھ یہ تعلق قائم کرنے کی قطعی ممانعت ہے اور عقلا بھی یہ ملی خود داری اور قومی تشخص کے بالکل منافی ہے۔ (آیت) ” من دون ال مومنین “۔ یعنی نہ مومنین کو چھوڑ کر اور نہ مومنین کے شمول میں۔ ای من غیر المومنین (کبیر) ای متجاوزین المومنین الی الکافرین استقلا اواشتراکا (روح) بعض اہل حق نے یہیں سے تمسک کرکے اپنے مریدوں، معتقدوں، شاگردوں کو منکروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا ہے۔
69 ۔ یعنی دشمنان خدا کے ساتھ دوستی رکھنے والے کی دوستی اللہ کے ساتھ کسی درجہ میں بھی معتبر ومقبول نہیں۔ (آیت) ” لیس من اللہ فی شیء۔ من اللہ “۔ سے مراد من دین اللہ یامن ولایۃ اللہ سمجھی گئی ہے۔ اے من ولایتہ فی شیء (بیضاوی) اے لیس من دین اللہ فی شیء (معالم)
70 ۔ (بس رفع ضرر کے لئے بہ قدر ضرورت ظاہری تعلقات دوستانہ کی اجازت ہے) کافروں کے ساتھ حسن سلوک کی تین ہی ممکن صورتیں ہیں :۔ ( 1) موالات یا دوستی۔ (2) مدارات یا ظاہری خوش خلقی وخاطر داری۔ (3) مواسات، یا احسان ونفع رسانی۔ اپنے علماء شریعت کی تحقیق ہے کہ شق اول یعنی موالات یا حقیقی دوستی تو کس حال میں جائز نہیں۔ شق سوم بھی زیادہ دشوار نہیں۔ مواسات اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے۔ غیر اہل حرب کے ساتھ جائز ہے رہی شق دوم، سو وہ تفصیل طلب ہے، مدارات تین حالتوں میں درست ہے۔ 1 ۔ ایک اپنے رفع ضرر کے لئے۔ 2 ۔ دوسرے خود اس کافر کی مصلحت دینی ہو۔ یعنی توقع ہدایت کے موقع پر۔ 3 ۔ تیسرے اکرام ضیف کے طور پر۔ یعنی کافر جب مہمان ہو اس وقت کیلئے۔ بس ان تینوں صورتوں کے سوا اپنے نفع یا حصول مال وجاہ کے لئے مدارات درست نہیں۔ بلکہ جب اس سے ضرر دین کا اندیشہ ہو تو یہ اختلاط بدرجہ اولی حرام ہوگا۔ (آیت) ’ تتقوا منھم تقۃ “۔ یہ لحاظ رہے کہ آیت میں ذکر اندیشہ کا ہے، محض تو ہم یا احتمال بعید اس کے لئے کافی نہیں اور ضرر بھی جس کا اندیشہ کیا جائے معتدبہ ہونا چاہیے۔ التقۃ لا تحل الا مع خوف القتل اوالقطع اوالا یذاء العظیم (قرطبی) یعنی ان تخافوا تلف النفس اوبعض الاعضاء وھذا ھو ظاہر ما یقتضیہ اللفظ وعلیہ الجمھور (جصاص) آیت میں ایک طرف رد ہے۔ فرقہ شیعہ کا۔ جس نے تقیہ کے حدود بہت وسیع کرکے اسے اپنے مذہب کا ایک جزء بنالیا ہے اور دوسری طرف فرقہ خوارج کا۔ جس نے جواز تقیہ سے سرے سے انکار کردیا ہے۔ عدل و اعتدال کا مسلک افراط وتفریط دونوں سے یکساں بچ کر اہل سنت کا ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس ذیل میں ماشاء اللہ بہت خوب لکھا ہے۔
71 ۔ (کہ حقیقۃ صاحب اقتدار وقابل عظمت صرف وہی ہے) (آیت) ” نفسہ “۔ مراد یہ سمجھی گئی ہے کہ اللہ اپنے عذاب سے تم کو ڈراتا ہے۔ المعنی یحذرکم اللہ عقابہ (قرطبی)
72 ۔ (سو اس کے احکام کی ظاہری، باطنی ہر مخالفت سے باز رہو) خطاب عامۃ الناس سے رسول اللہ ﷺ کے واسطہ سے ہے۔
Ayah 3:2973 ۔ یعنی اس کا علم ہر طرح کامل جزئیات وکلیات سب پر حاوی، حاضر و غائب سب پر شامل ہے۔ اس میں رد آگیا یونان اور دوسری قوموں کے ان جاہل فلسفیوں کا جنہوں نے خدا کی صفت علم کو ناقص و محدود مانا ہے۔
74 ۔ (آیت) ” السموت والارض “۔ کی تصریح صرف محاورۂ زبان کے مطابق ہے۔ مراد صفت علم کی کاملیت و جامعیت کا اظہار ہے۔
75 ۔ اور جب علم کے ساتھ اس کی قدرت بھی کامل ہے تو وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی سزا سے ڈرا جائے) مشرک قوموں کو اصلی ٹھوکر صفت علم کے ساتھ صفت قدرت میں بھی لگی ہے۔ اسی لئے بار بار زور انہی صفات پر دیا گیا ہے۔
Ayah 3:3076 ۔ (جزاء اعمال کے لیے) (آیت) ” یوم “۔ یعنی قیامت کے دن۔ (آیت) ’ محضرا “۔ اپنے مواجہہ میں اور اللہ کے حضور میں۔ لدیھا مشاھدا (روح) (آیت) ” ماعملت “۔ یعنی اس عمل کو نامہ اعمال میں لکھا ہوا۔ یا ان اعمال کی جزاء کو۔ فی الصحف (روح) وقیل تجد جزاء اعمالھا محضرا (روح) تقدیرہ یوم تجد کل نفس جزاء ما عملت محضرا (قرطبی) صحائف اعمالھا اوجزاء اعمالھا (بیضاوی) بعض صوفیہ عارفین نے یہ معنی کئے ہیں کہ انسان بجنسہ اس عمل کو کرتے ہوئے اپنے کو پائے گا۔ قیل ظاہرا فی صور (روح) حضرت اکبر الہ آبادی (رح) اردو کے مشہور شاعر ہونے کے ساتھ ہی حکیم وعارف بھی تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو ہر وقت ہم بولا کرتے ہیں کہ ” وقت چلا گیا “ وقت جاتا کہاں ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے ہاں چلا جاتا ہے۔ سب اس روز بجنسہ دوبارہ واقع ہو کر رہے گا۔
77 ۔ (کہ اعمال بد یا ان کی جزا کا معائنہ نہ کرنا پڑتا) یہ حسرت ان کے دلوں میں پیدا ہوگی جن کے پاس اعمال خیر وشر کا مجموعہ ہوگا۔ تو جس بدنصیب کے پاس شرہی شر ہوگا اس کی حسرت نصیبی کا کیا پوچھنا ! (آیت) ” بینھا “۔ میں ضمیر (آیت) ” نفس “ کی طرف اور بینہ ” میں یوم کی طرف ہے۔
78 ۔ (کہ قابل عظمت وصاحب اقتدار ذات صرف اسی کی ہے) (آیت) ” نفسہ “۔ سے مراد عقاب نفسہ سمجھی گئی ہے۔
79 ۔ (چنانچہ یہ بار بار کی تنبیہ وتہدید بھی اسی شفقت ورافت ہی کا نتیجہ ہے کہ کاش بندے اب بھی سنبھلیں اور راہ ہلاکت پر چلنے سے باز رہیں)