الٓمَّٓ ۟ۙالٓمّٓ
الم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 3 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
The Family of Imraan · Medinan · 200 ayahs · 20 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمَّٓ ۟ۙالٓمّٓ
الم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Alif, Lam, Meem.
— Saheeh International
Juz 3 · Ruku 1 of surah · Ruku 9 of juz
Read the whole surah · Surah Aal-i-Imraan
الف لام میم
الم
الف لام میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
الۤمۤ۔
الف، لام، میم
یہ الم ہے
اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے۔
الف۔ لام۔ میم۔
ا۔ ل۔ م۔
الۗمَّۗ(
Alif, Lam, Mim.
Alif. Lam. Mim.
Alif. Lam. Mim.
Alif-Lam-Mim.
Alim. Lam. Mim.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Alif, Lam, Meem.
Alif. Lam. Mim.
Alif Lam Mim.
Alif, Lam, Mim,
Explained with ayahs 1–2
سورة الْبَقَرَة 278 یعنی نادان لوگوں نے اپنی جگہ چاہے کتنے ہی خدا اور معبود بنا رکھے ہوں، مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ خدائی پوری کی پوری بلا شرکت غیرے اس غیر فانی ذات کی ہے، جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی سے نہیں، بلکہ آپ اپنی ہی حیات سے زندہ ہے اور جس کے بل بوتے ہی پر کائنات کا یہ سارا نظام قائم ہے۔ اپنی سلطنت میں خداوندی کے جملہ اختیارات کا مالک وہ خود ہی ہے۔ کوئی دوسرا نہ اس کی صفات میں اس کا شریک ہے، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔ لہٰذا اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ شریک ٹھیرا کر زمین یا آسمان میں کہاں بھی کسی اور کو معبود (الہ) بنایا جا رہا ہے، ایک جھوٹ گھڑا جا رہا ہے اور حقیقت کے خلاف…
Read the full tafseer →ربط آیات یہ قرآن کریم کی تیسری سورت (آل عمران) کا پہلا رکوع ہے پہلی سورت یعنی فاتحہ جو پورے قرآن کا خلاصہ ہے اس کے آخر میں صراط مستقیم کی ہدایت طلب کی گئی تھی اس کے بعد سورة بقرہ الم ذلک الکتاب سے شروع کر کے گویا اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ سورة فاتحہ میں جو سیدھے راستے کی دعا کی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کر کے یہ قرآن بھیج دیا، جو صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے پھر سورة بقرہ میں اکثر احکامات شرعیہ کا جمالی اور تفصیلی بیان آیا ہے، جس کے ضمن میں جابجا کفار کی مخالفت اور ان سے مقابلہ کا بھی ذکر آیا آخر میں اس کو (فانصرنا علی القوم الکافرین) کے جملہ دعائیہ پر ختم کیا گیا تھا، جس کا حاصل تھا…
Read the full tafseer →الم، سورة بقرہ کی تفسیر میں حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے اس باب میں استاذ امام مولانا فراہی ؒ کا نقطہ نظر بھی پیش کردیا ہے۔ اس کے سوا کوئی نئی چیز اس سلسلے میں ہمارے سامنے ایسی نہیں آئی جو یہاں قابل ذکر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 حَیُّ اور قَیُوم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات ہیں جن کا مطلب وہ ازل سے ابد تک رہے گا اسے موت اور فنا نہیں قیوم کا مطلب سارے کائنات کا قائم رکھنے والا، محافظ اور نگران، ساری کائنات اس کی محتاج وہ کسی کا محتاج نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں سے ایک مانتے تھے گویا ان کو کہا جا رہا ہے جب حضرت عیسیٰ ؑ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانہ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت عرصہ بعد کا ہے تو پھر وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہوسکتے ہیں نیز ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے تھی لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے بھی ہمکنار ہوں گے اور عیسائیوں کے بقول ہمکنار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یہاں قرآن کریم نے لفظ فرقان استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو، قرآن کریم کا ایک نام فرقان بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے ؛ چنانچہ بعض مفسرین نے یہاں فرقان سے قرآن ہی مراد لیا ہے، دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں جو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا، نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →درس 23 ایک نظر میں اگر ہم ان روایات کو لے لیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 سے کچھ اوپر آیات اس موقع پر نازل ہوئیں جب وفد نجران رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مناظرے کے لئے آیا تھا ‘ یہ وفد عیسائیوں پر مشتمل تھا ‘ اور یہ لوگ رسول ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے ۔ تو پھر اس سبق کی تمام آیات گویا اس موقع پر نازل شدہ تصور ہوں گی ‘ لیکن یہ روایات خود اس حقیقت کو بیان کردیتی ہیں کہ یہ وفد عام الوفود 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس وقت غلبہ اسلام کا شہرہ جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد علاقوں میں پھیل گیا تھا اور جزیرۃ العرب کے مختلف علاقوں سے وفود رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ملاقات…
Read the full tafseer →الم
Read the full tafseer →یہ حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں اجمالی گفتگو ہم سورة البقرۃ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →1 رسول اللہ ﷺ نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران کو الزَّھْرَاوَیْنَ یعنی دو جگمگانے والی سورتیں، فرمایا اور امت کو ان کے پڑھتے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں پڑھا کرو۔ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے دو بادل یا دو سائبان یا پرندوں کے دو جھنڈ ہیں، اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے (اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کے لیے جھگڑا کریں گی۔ (مسلم، کتاب الصلٰوۃ، باب فضل، قراءۃ القرآن و سورة البقرۃ) قرآن کریم کے علوم میں سے ایک علم مخاصمہ ہے۔ یعنی وہ علم جس کے ذریعہ باطل فرقوں کے عقائد و نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ نزول قرآن کے وقت اکثر تین فرقے قرآن پاک کے مخاطب رہے جو مسلمانوں کے حریف تھے :…
Read the full tafseer →2 ۔ یہ حروف مقطعات کہلاتے ہیں۔ ان پر حاشیہ سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا۔ عجب نہیں جو یہ حروف مخفف ہوں فقرہ انا اللہ اعلم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الم اللہ ہی اپنی مراد کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو (نظام کائنات کو) سنبھالے ہوئے ہے اس نے اے محمد آپ پر قرآن کو جو کہ خبر دینے میں صداقت پر مشتمل ہے بتدریج نازل فرمایا اپنے سے سابق کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس کے نازل کرنے سے پہلے تورات اور انجیل نازل کیں حال یہ ہے کہ وہ رہ نما ہیں (ھُدًی) التوراۃ والانجیل سے حال ہے، یعنی یہ دونوں کتابیں ان لوگوں کو گمراہی سے ہدایت کی جانب رہنمائی کرنے والی ہے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور ان دونوں میں اَنْزَل کی تعبیر اختیار…
Read the full tafseer →سورة آل عمران۔ مدنی ہے اس کی آیات دو سو ہیں۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ربیع بن انس بیان کیا کہ کچھ عیسائی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ ﷺ سے مناظرہ کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے الآ اَﷲُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سے کچھ اوپر (1) [ حضرت مولف قدس سرہٗ نے لکھا ہے ظاہر یہ ہے کہ ان آیات کی تعداد 84 ہے یعنی لا نفرق بین احد منھم و نحن لہ مسلمون تک۔ اس کے بعد آیت : ومن یبتغ غیر الاسلام دینا۔۔ مرتدوں کے متعلق نازل ہوئی۔] اسّی آیات آل عمران کی نازل فرمائیں۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سہل بن ابی امامہ نے کہا کہ جب نجران کے نمائندے رسول اللہ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ بن مریم…
Read the full tafseer →(1) اللہ تعالیٰ ہی وفد بنی نجران (یعنی نجران کے عیسائیوں) کی حالت کو زیادہ جاننے والا ہے اور الم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، اولاد اور اس کے علائق سے پاک و برتر ہے۔
Read the full tafseer →الۗـۗم۔ حروف مقطعات کی تشریح سورة بقرہ کی ابتدا میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت نمبر : 1 تا 2 : اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الم، اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ یہ بالاجماع مدنی سورت ہے، نقاش نے بیان کیا ہے کہ تورات میں اس کا نام طیبہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 396 دارالکتب العلمیہ) اور حسن، عمرو بن عبید، عاصم بن ابی النجود اور ابو جعفر الرواسی نے ” الم ‘۔ اللہ “ الف وصل کو قطع کے ساتھ پڑھا ہے، اس تقدیر پر کہ الم پر وقف ہے جیسا کہ وہ اسماء اعداد مثلا واحد، اثنان ثلاثۃ اور اربعۃ وغیرہ میں وقف مقدر کرتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں اکٹھا اور ملا کر پڑھتے ہیں۔ اخفش سعید نے کہا ہے : الم، اللہ التقاء ساکنین کی وجہ سے میم کو کسرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) ابن الانباری نے المصاحف میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت ” ھو الحی القیوم “ پڑھا (2) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے ” القیوم “ سے مراد ہے ہر چیز کو قائم کرنے والا۔ (3) ابو عبید سعید بن منصور اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” الحی القیام “۔ (4) ابو عبید سعید بن منصور محمد بن حمید ابن داؤد ابن الانباری اکٹھے مصاحف میں ابن المنذر اور حاکم نے اس کو صحیح کہا کہ حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی تو سورة آل عمران کو شروع فرمایا اور یوں پڑھا لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (5) ابن ابی داؤد نے…
Read the full tafseer →الۗـۗمَّ
Read the full tafseer →الم : یہ حروف مقطعات میں سے ہیں متشابہات میں شمار کیے جاتے ہیں ان کا معنی اللہ ہی کو معلوم ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں بیان کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اثبات توحید وبیان محکم درابطال الوہیت عیسیٰ بن مریم ومناظرہ نبی کریم ﷺ بانصارائے نجران۔ قال اللہ تعالی، الم اللہ لاالہ الاھوالحی۔۔۔ الی۔۔۔ الحکیم۔ محمد بن اسحاق وغیرہ سے منقول ہے کہ سورة آل عمران کے شروع کی تراسی آیتیں نصارائے نجران کے بارے میں نازل ہوئیں نجران علاقہ یمن میں ایک شہر کا نام ہے جو اس زمانہ میں عیسائیوں کا علمی مرکز تھا نبی کی نبوت و رسالت کی خبر جب اطراف اور اکناف میں پہنچی تو یہ خبر سن کر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد، مناظرہ اور مباحثہ کے لیے نبی کی خدمت میں حاضر ہوا مدینہ منورہ میں اس وفد میں ساتھ سوار تھے جن میں سے چودہ آدمی خاص طور پر بڑے شریف اور معزز تھے اور ان چودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 ۔ پہلا حصہ۔ توحید ذکرِ مضمون توحید بار اول :۔ اس پر کلام سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۔ یہ دعویٰ توحید ہے۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ مبتدا محذوف کی خبر ہے (مدارک ج 1 ص 113) یہاں سے لے کر اَلْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ تک دعوی توحید کی پہلی دلیل ہے۔ جو تین ضمنی دلیلوں پر مشتمل ہے۔ (1 1) دلیل وحی۔ (2) دلیل نقلی اور (3) دلیل عقلی۔ پہیل دونوں دلیلوں کا ذکر اشارۃً ہے اور تیسری کا صراحۃً ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف : سورۃ کا نام آل عمران ہے۔ چونکہ اس سورة میں عمران کی اولاد کا ذکر ہے اس لیے اس کا نام آل عمران ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلی سورة میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر ہے ، تو اس کا نام سورة بقرہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ عمران دو ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد۔ چونکہ اس سورة میں زیادہ تر حضرت مریم ؓ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے یہاں پر عمران سے مراد حضرت مریم ؓ کے والد ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی پیغمبر نہیں تھے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی پیغمبر نہیں۔ البتہ یہ دونوں حضرات نیک ، صالح اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الۗمَّۗ 1 ۙ اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ 0 ۙالْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ 2 ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا .…
Read the full tafseer →ترکیب : الم کی ترکیب بیان ہوچکی اللہ مبتداء لا الہ اِلَّا ھو جملہ اس کی خبر الحی القیوم موصوف و صفت خبر ثانی ‘ نزل علیک الخ جملہ یا خبر ثالث ہے یا مستانفہ ہے۔ بالحق حال ہے مفعول سے یا فاعل سے ای نزلہ محقانی تنزیلہ او متلبا بالحق۔ مصدقا حال ہے کتاب سے لما بین یدیہ جملہ مفعول ہے مصدقا کا اور لام کی ہے تقویۃ عمل کے لئے ھدی للناس خبر نصب میں ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
الٓـمَّٓ۔ لا اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَلا الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ ط نَزَّلَ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لا مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ 5 ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔ ط (ال م۔ اللہ ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ زندہ اور قائم رکھنے والا۔ اس نے تم پر کتاب نازل کی حق کے ساتھ، تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے آگے سے موجود ہے اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل۔ اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ کا اختتام ایمان کے بنیادی ارکان اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی دعا پر ہوا ہے۔ سورة آل عمران کی ابتداء میں بتلایا گیا ہے کہ جس اللہ پر تم نے ایمان لانا ہے۔ وہ ہمیشہ قائم دائم اور زندہ جاوید رہنے والا ہے۔ اسی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے تورات و انجیل نازل فرمائی اور اب اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نافرمانوں سے سخت انتقام لے گا۔ حروف مقطعات کے بعد اس عظیم سورة کی ابتدا توحید باری تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ یہاں توحید کے دو ایسے پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ جن میں جلالت وجبروت کے لہجے میں اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ زندہ اور قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1‘ 2: اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وہ حی وقیوم ہے اس نے تم پر تورات و انجیل حق کے ساتھ اتاری۔ یہ اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس نے تورات و انجیل کو اتارا) ۔ انتقالِ حرکت کا مسئلہ : الٓمٓ کی میم کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حرکت دی گئی۔ میری مراد ساکنین سے میم اور لفظ اللہ کی لام ہے۔ پھر میم کو ملانے کے لئے فتحہ دیا۔ جو کہ اخف الحرکات ہے اور کسرہ نہیں دیا کیونکہ ماقبل میم مکسور اور یائے ساکن ہے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(تفسیر) 1۔: (آیت)” الم (حروف مقطعات میں سے ہے) شان نزول : 2۔ (اللہ) کلبی اور ربیع ان انس نے بیان کیا کہ ان آیات کا نزول نجران کے نمائندوں کے متعلق ہوا جن کی تعداد ساٹھ تک تھی یہ سوار ہو کر آپ ﷺ کے پاس آئے یہ کل چودہ افراد تھے اور ان چودہ افراد میں تین اشراف تھے ، ان میں عاقب سب کا لیڈر اور مشیر تھا ، اس سے لوگ مشورہ طلب کرتے تھے اور اس کی رائے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے ، عاقب کا نام عبدال مسیح تھا اور امیر سفر سید تھا جس کا نام ایہم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ پادری اور قافلہ کے مذہبی عالم تھے ، رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے اس وقت یہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے ، ان کے اوپر یمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 ۔ 4) سورة آل عمران کی فضیلت میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں یہ سورت مدنی ہے اس سورت کی دو سو آیتیں ہیں اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر ہے کہ تفسیر ابن ابی حاتم بڑی صحیح تفسیر ہے اس میں اور صحیح تفسیروں میں جو روایتیں ہیں 1 ان کا حاصل یہ ہے کہ 9 ہجری میں کچھ عیسائی لوگ شام اور یمن کے ما بین میں ایک بخران بستی ہے وہاں سے اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان عیسائی لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا بیٹا ہونے میں آنحضرت ﷺ سے بڑا مباحثہ کیا اس پر اس سورة کی اکثر آیتیں نازل ہوئیں جن میں مباہلہ کی آیت بھی ہے۔ مباہلہ کی پوری تفصیل تو اسی آیت کی تفسیر میں آئے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیت 1-6 اس سورت کی شروع کی اسی (80) سے زیادہ آیات عیسائیوں سے مباحثہ، ان کے مذہب کی تردید اور انہیں سچے دین یعنی اسلام کو قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل ہیں۔ جس طرح سورة بقرہ کی ابتدائی آیات یہود سے مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اپنی الوہیت کے اعلان سے شروع کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہی ایسا معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبادت صرف اسی کی اور اسی کے لئے ہونی چاہیے۔ لہٰذا اس کے سوا جس معبود کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ ہی سچا معبود ہے جو الوہیت کی تمام صفات سے موصوف ہے جن سب کا تعلق حیات اور قیومیت کی صفات سے ہے۔ (الحی) سے مراد یہ ہے کہ اسے عظیم ترین اور کامل ترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم محکمات اور متشابہات کا بیان قول باری ہے (ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ ایات محکمات ھن امرالکتب واخرمتشابھات) وہی خدا ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے اس میں دوطرح کی آیتیں ہیں ایک حکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات تاآخر آیت ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی اس تفسیر کے آغاز میں محکم اور متشابہ کے معانی بیان کردیئے ہیں اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی دوقسمیں ہیں، ایک کے لحاظ سے پورے قرآن کو اس کے ساتھ موصوف کرنا ورست ہے اور دوسرے کے لحاظ سے قرآن کے بعض حصوں کو اس کے ساتھ مختص کرنا صحیح ہے قول باری ہے (الرکتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 حروف مقطعات اور ان سے مقصود و مراد ؟ : سورة کریمہ کے شروع کے یہ حروف " حروف مقطعات " کہلاتے ہیں۔ کیونکہ ان کو کاٹ کر اور الگ الگ کر کی پڑھا جاتا ہے اور ان سے مقصود و مراد کے بارے میں کتب تفسیر میں مختلف اقوال اور احتمالات پائے جاتے ہیں۔ لیکن راحج قول کے مطابق حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ ان کی صحیح اور حقیقی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لہذا ان کے بارے میں مجمل طور پر یہی کہنا چاہیئے کہ " اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمُرَادِہ " " ان کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے "۔ اس کی کچھ مزید تفصیل اس سے پہلے سورة بقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے۔ اس لیے اسی کی طرف رجوع کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ حروف مقطعات میں سے ہے اللہ تعالیٰ کی صفات تشریح : اس کا شان نزول یہ ہے کہ جب اسلام کا بول بالا ہونے لگا اور غزوہ بدر میں فتح نصیب ہوئی تو بخران کے عسائیوں کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آیا۔ یہ لوگ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ مانتے تھے۔ محمد ﷺ نے ان کو ثبوت دے کر سمجھانے کی کوشش کی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ نہیں ہوسکتے کیونکہ اللہ تو واحد ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا اس کو تو کسی نے پیدا نہیں کیا وہ ہر رشتہ سے بےنیاز ہے، بلکہ یہ تمام کائنات اس نے ہی پیدا کی ہے اور وہی اس سارے نظام کو چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة آل عمران آیات 1- 9 اسرارومعارف الم اللہ لا الہ الا ھو……………لا الہ الا ھوالعزیز الحکیم جب بات کفار پر نصرت اور غلبہ کی طلب پر پہنچی جو کہ سورة بقرۃ کے آخر میں بطور دعا ہے تو اس سورة میں کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو بیان فرمادیا۔ گویا وہی بات آگے چل رہی ہے۔ سب سے پہلے مومن اور کافر میں فرق ارشاد ہوا کہ تو حید باری اور ذات وصفات الٰہیہ میں یہ بات واضح ہے ، کہ ماننے والے مسلم اور نہ ماننے والے کافر۔ گویا دنیا میں انسان کی تقسیم دو طرح پرہ ہے جسے دو قومی نظریہ بھی کہا جاتا ہے ، ایک مومن دوسرے کافر۔ مومنین باہم ایک شے ہیں اور کفر کے اندر پھر قسمیں ہیں مگر بنیادی طور پر سب کافر ایک ہی ملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 4 الحیی القیوم یہ اسماء حسنی صفات باری تعالیٰ ہیں۔ حیات اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے کہ دو آیتوں میں اسم اعظم ہے جس کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا رد نہیں فرماتے۔ شروع آیتہ الکرسی اللہ لا الہ الا ھو الحیی القیوم وشروع آیتہ آل عمران۔ بعض ورایات میں تین آیتیں مذکو رہیں اور تیسری آیت سورت طہ کی ہے یسعنت الوجوہ اللحی القیوم۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →الۗـۗمَّ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 6 نزل (اس نے نازل کیا) عزیز (زبردست) ذوانتقام (انتقام لینے والا) یصور (تصویر بناتا ہے، شکلیں بنایا ہے) الارحام (رحم ) پیٹ) کیف یشاء (جیسے وہ چاہتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 نخران یمن کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ فتح مکہ کے بعد نخران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے مذہبی بحث ومناظرہ کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ اس وفد میں چودہ پندرہ آدمی خاص طور پر بڑے معزز اور سردار تھے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بحث شروع کی تو سورة آل عمران میں تقریباً 83 آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ نے اس وفد کو جوابات دیئے۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ خدائے واحد کے سوا کوئی عبادت ونیاز کا مستحق نہیں ، سارے سجدے اور تمام عبادتیں اسی کو زیبا ہیں ، اس لئے کہ زندہ اور قیوم خدا وہی ہے ، اس کے سوا سب فنا کے گھاٹ اترنے والے ہیں ، سب فانی اور حادث ہیں سب احاطہ امکان کے اندر ہیں اور سب ایسے ہیں جو اس کی عبادت کرنا باعث فخر ومباحات سمجھتے ہیں ، سب کا وظیفہ زندگی اس کی پرستش کرنا اور تسبیح و تقدیس کے مشغلوں میں مست رہنا ہے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1 الم ( تیسیر) سورۂ بقرہ کی ابتداء میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ حروف مقطعات ہیں اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو حضرات ا س کے معنی بیان کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کے مدعی نہیں اور جو اس کے معنی بیان کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے دونوں فریق میں محض لفظی نزاع کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس کے حقیقی معنی سے آگاہ کردیا ہو۔ (تسہیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2۔ حی وقیوم کے صفات لانے میں اشارہ ہے معبودان باطلہ کے معبود نہ ہونے کی دلیل عقلی پر کیونکہ ان میں یہ صفتیں نہیں۔
Read the full tafseer →” ا لٓمَّٓ“ حروف مقطعات میں سے ہے : 1: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے حاشیہ ” 1 “ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ حروف جن سورتوں کے ابتداء میں آئے ہیں ان کے مضامین میں اس بات کی زندہ شہادت موجود ہے کہ ان حروف سے قارئین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آنے والے مضامین پر غور کرو۔ ان کو سرسری نظر سے پڑھ کر آگے مت نکل جاؤ ۔ زیر نظر سورة ہی پر غور کرو کہ کتنا اہم مضمون ابتدائے سورت ہی سے شروع ہوگیا ہے کہ عیسائی قوم کے لوگو ! ذرا خیال کرو کہ تم نے کس طرح مسیح (علیہ السلام) کو اللہ ، اللہ کا بیٹا یا اللہ کا ایک جزء تسلیم کرلیا جب کہ اللہ خالق ہے اور مسیح اس کی مخلوق ہے۔ چنانچہ احادیث اور کتب تفسیر…
Read the full tafseer →This is the first section of Surah 'A1-` Imran, the third Surah of the Holy Qur'an. It will be recalled that at the end of the Surah Al-Fatihah a prayer for guidance to the straight path was made. After that, by be-ginning the Surah Al-Baqarah with الم ﴿1﴾ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ (This Book which has no doubt in it), it was pointed out that the prayer made in Su-rah Al-Fatihah for guidance to the straight path has been accepted and Allah Almighty has sent down this Qur'an which provides guidance to the straight path. Then came many injunctions of the Islamic law taken up briefly…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1. For explanation see Surah 2, n. 278 above.
Read the full tafseer →