Al-Baqara 2:286 · Last ayah of Surah Baqarah (La yukallifullahu nafsan)

Al-Baqara · from ayah 286

2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ؕ— لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ؕ— رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ— رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ— رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ— وَاعْفُ عَنَّا ۥ— وَاغْفِرْ لَنَا ۥ— وَارْحَمْنَا ۥ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۟۠لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. "Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 40 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:286

اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے (ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا، اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہوگا جو وہ اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہوگا جو اپنے ارادے سے کرے۔ (مسلمانو اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ) اے ہمارے پروردگار اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ فرمایئے۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالیے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمایئے، ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمایئے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لیے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمایئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوُکیں اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے۔ تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس نے جو گناہ کمایا اس پر اس کا عذاب ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا (بھی) بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا بوجھ (بھی) نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں، اور ہمارے (گناہوں) سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا، اے ہمارے رب ! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں، اے ہمارے رب ! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب ! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص اچھا کام کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اگر برا کام کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے (ایمان والو ! اللہ سے یوں دعا کرو) اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو اس پر گرفت نہ کرنا ! اے ہمارے پروردگار ! ہم پر اتنا بھاری بوجھ نہ ڈال جتنا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے پروردگار ! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہمیں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوائیو۔ ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مولیٰ ہے لہذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر ایک پائے گا جو کمائے گا اور بھرے گا جو کرے گا۔ اے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہم سے مواخذہ نہ فرمانا۔ اور اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اوپر اس طرح کا کوئی بار نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے ہو گزرے۔ اور اے ہمارے پروردگار ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ لاد جس کو اٹھانے ہم میں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف کر، ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مولیٰ ہے، پس کافروں کے مقابل میں ہماری مدد کر۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی (طاقت و) گنجائش کے مطابق، ہر شخص کو پھل ملے گا اس کی اس نیکی کا جو اس نے کمائی، اور اسی پر پڑے گا وبال اس کی اس برائی کا جو اس نے سمیٹی ، (ایمان والو ! اپنی تقصیرات کو پیش نظر رکھ کر اس طرح دعا مانگا کرو کہ) اے ہمارے رب، ہماری گرفت نہیں فرمانا اس بھول یا چوک پر، جو ہم سے سرزد ہوجائے، اے ہمارے رب، ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہیں ڈالنا، جیسا کہ تو نے ان لوگوں پر ڈالا ہے جو گزر چکے ہیں ہم سے پہلے (ان کے تمرد اور سرکشی کی بناء پر) اے ہمارے رب ہم سے بوجھ نہیں اٹھوانا جن (کے اٹھانے) کی ہمیں طاقت نہیں، ہمیں معاف فرما دے، ہماری بخشش فرما دے، اور ہم پر رحم فرما، کہ تو ہی ہے ہمارا مالک (اور کارساز) پس مدد فرما ہماری کافر لوگوں کے مقابلے میں،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا مگر اس کی بساط کے مطابق۔ اسے ملے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر گرفت نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ان لوگوں پر جو ہم سے پیشتر تھے۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی برداشت ہم سے نہ ہو۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہم کو بخش دے۔ اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ سو ہم کو غالب کر کافر لوگوں پر۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اسی جان کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی کے اوپر وبال بنے گا جو اس نے ُ برائی کمائی اے ہمارے ربّ ! ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے اور اے رب ہمارے ! ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا تھا جو ہم سے پہلے تھے اور اے رب ہمارے ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرماتا رہ ! اور ہمیں بخشتا رہ ! اور ہم پر رحم فرما تو ہمارا مولا ہے پس ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کسی بھی شخص پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے۔ اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ (ایمان والو تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ان پر گرفت نہ کرنا، اے مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah does not burden any human being with a responsibility heavier than he can bear. Everyone will enjoy the fruit of the good that one has earned and shall suffer for the evil that one has committed. (O Believers, pray like this to Allah: "Our Lord, take us not to task if we forget and lapse into error inadvertently. Lord! lay not on us the kind of burdens that You had lain on the people before us. Lord, lay not on us the kind of burden that we have not the strength to bear. Be kind to us, forgive us and show mercy to us. You are our Protector: help us against the disbelievers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah does not obligate anyone beyond his capacity. For him is what he has earned, and on him what he has incurred. :Our Lord, do not hold us accountable, if we forget or make a mistake, and, Our Lord, do not place on us such a burden as You have placed on those before us, and, Our Lord, do not make us bear a burden for which we have no strength. And pardon us, and grant us forgiveness, and have mercy on us. You are our Lord. So then help us against the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah does not obligate anyone beyond his capacity. For him is what he has earned, and on him what he has incurred. :Our Lord, do not hold us accountable, if we forget or make a mistake, and, Our Lord, do not place on us such a burden as You have placed on those before us, and, Our Lord, do not make us bear a burden for which we have no strength. And pardon us, and grant us forgiveness, and have mercy on us. You are our Lord. So then help us against the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah burdens not a person beyond his scope. He gets reward for that (good) which he has earned, and he is punished for that (evil) which he has earned. "Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error, our Lord! Lay not on us a burden like that which You did lay on those before us (Jews and Christians); our Lord! Put not on us a burden greater than we have strength to bear. Pardon us and grant us forgiveness. Have mercy on us. You are our Mawla (Patron, Supporter and Protector) and give us victory over the disbelieving people.") The Hadiths on the Virtue of These Two Ayat, May Allah Benefit Us by Them Al-Bukhari recorded that Abu Mas`ud said that the Messenger of Allah said,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah tasketh not a soul beyond its scope. For it (is only) that which it hath earned, and against it (only) that which it hath deserved. Our Lord! Condemn us not if we forget, or miss the mark! Our Lord! Lay not on us such a burden as thou didst lay on those before us! Our Lord! Impose not on us that which we have not the strength to bear! Pardon us, absolve us and have mercy on us, Thou, our Protector, and give us victory over the disbelieving folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. "Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people."

— Saheeh International

God does not impose on any soul a responsibility beyond its ability. Every soul receives whatever it gains and is liable for whatever it does. Lord, do not hold us responsible for our forgetfulness and mistakes. Lord, do not lay upon us the burden that You laid on those who lived before us. Lord, do not lay on us what we cannot afford. Ignore and forgive our sins. Have mercy on us. You are our Lord. Help us against the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

Allah does not impose upon any soul a duty but to the extent of its ability; for it is (the benefit of) what it has earned and upon it (the evil of) what it has wrought: Our Lord! do not punish us if we forget or make a mistake; Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us, Our Lord do not impose upon us that which we have not the strength to bear; and pardon us and grant us protection and have mercy on us, Thou art our Patron, so help us against the unbelieving people.

— Muhammad Habib Shakir

Allah tasketh not a soul except according to its capacity. For it shall be the good it earnoth, and against it the evil it earnoth. Our Lord! reckon with not if we forget or er. Our Lord! ray not on us a burthen like unto that which Thou laidest on those before us, Our Lord! impose not on US that for which we have not strength. And Pardon us; forgive US; and have mercy on us; Thou art our Patron: so make US triumph over the disbelieving people!

— Abdul Majid Daryabadi

On no soul doth Allah Place a burden greater than it can bear. It gets every good that it earns, and it suffers every ill that it earns. (Pray:) "Our Lord! Condemn us not if we forget or fall into error; our Lord! Lay not on us a burden Like that which Thou didst lay on those before us; Our Lord! Lay not on us a burden greater than we have strength to bear. Blot out our sins, and grant us forgiveness. Have mercy on us. Thou art our Protector; Help us against those who stand against faith."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:286

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 285–286

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنئے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 338 یعنی اللہ کے ہاں انسان کی ذمہ داری اس کی مقدرت کے لحاظ سے ہے۔ ایسا ہرگز نہ ہوگا کہ بندہ ایک کام کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور اللہ اس سے باز پرس کرے کہ تو نے فلاں کام کیوں نہ کیا۔ یا ایک چیز سے بچنا فی الحقیقت اس کی مقدرت سے باہر ہو اور اللہ اس سے مواخذہ کرے کہ تو نے اس سے پرہیز کیوں نہ کیا۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی مقدرت کا فیصلہ کرنے والا انسان خود نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کرسکتا ہے کہ ایک شخص فی الحقیقت کس چیز کی قدرت رکھتا تھا اور کس چیز کی نہ رکھتا تھا۔ سورة الْبَقَرَة 339 “ یہ اللہ کے قانون مجازات کا دوسرا قاعدہ کلیہ ہے۔ ہر آدمی انعام اسی خدمت پر پائے گا۔ جو اس نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد دوسری آیت میں ایک خاص انداز سے وہ شبہ دور کیا گیا جو پچھلی آیت کے بعض جملوں سے پیداہو سکتا تھا کہ دل میں چھپے ہوئے خیالات پر حساب ہوا تو عذاب سے کیسے بچیں گے۔ ارشاد فرمایا لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زائد کام کا حکم نہیں دیتے اس لئے غیر اختیاری طور پر جو خیالات و وسوسے دل میں آجائیں اور پھر ان پر کوئی عمل نہ ہو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاف ہیں حساب اور مؤ اخذہ صرف ان افعال پر ہوگا جو اختیار اور ارادہ سے کئے جائیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جس طرح انسان کے اعمال و افعال جو ہاتھ، سر، آنکھ اور زبان وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۭ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ (اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا) یہ دعا کے بیچ میں ایک جملہ معترضہ ہے اور مقصود اس کے لانے سے اس اہم حقیقت کا اظہار ہے کہ سمع وطاعت کی یہ ذمہ داری جو اس امت پر ڈالی گئی ہے، ہے تو ایک بھاری ذمہ داری، لیکن اس کے بھاری ہونے کے احساس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عنایت و رحمت کا یہ پہلو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص بس اسی حد تک مکلف ہے۔ جس حد تک اس کو طاقت عطا ہوئی ہے، جو چیز اس کے حدود اختیار و امکان سے باہر ہے اس پر کوئی مواخذہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 285–286

285۔ 1 اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس اگلی آیت (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) 2:286 میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے کہ اس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا جو ان کی طاقت سے بالا ہو۔ ان دونوں آیات کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہوجاتی ہیں (صحیح بخاری) دوسری حدیث میں ہے۔ نبی ﷺ کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں ان میں سے ایک سورة بقرہ کی یہ دو آخری آیات بھی ہیں (صحیح مسلم) کئی روایات میں یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 284–286

188: آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آجاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یو ایک مسلمان کی سوچ ہی میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس کا رب رحیم ہے ، وہ بطور خلیفہ اس پر جو فرائض وواجبات عائد کرتا ہے وہ نہایت ہی عادلانہ اور منصفانہ ہیں ۔ اس کی جانب سے ڈالی جانے والی آزمائشیں بھی عادلانہ ہیں اور آخرکار قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا ۔ اور وہ پوری طرح مطمئن ہوگا۔ اس لئے وہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرائض پر کوئی تنگی اور دشواری محسوس نہیں کرتا ۔ وہ انہیں بوجھ نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اس کا یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس اللہ نے یہ فرائض عائد کئے ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ میرے اندر ان کے سر انجام دینے کی استطاعت فی الواقعہ ہے ۔ اگر طاقت نہ ہوتی تو وہ فرض ہی نہ کرتا ۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 اول آیت پر حضرات صحابہ کو بڑی پریشانی ہوئی تھی ان کی تسلی کے لئے یہ دو آیتیں اٰمن الرسول الخ اور لا یکلف اللہ نفسا الخ نازل ہوئیں اب اس کے بعد ربنا لا تؤاخذنا آخر سورت تک نازل فرما کر ایسا اطمینان دیا گیا کہ کسی صعوبت اور دشواری کا اندیشہ بھی باقی نہ چھوڑا کیونکہ جن دعاؤں کا ہم کو حکم ہوا ہے ان کا مقصود یہ ہے کہ بیشک ہر طرح کا حق حکومت اور استحقاق عبادت تجھ کو ہم پر ثابت ہے مگر اے ہمارے رب اپنی رحمت و کرم سے ہمارے لئے ایسے حکم بھیجے جائیں جن کے بجا لانے میں ہم پر صعوبت اور بھاری مشقت نہ ہو نہ بھول چوک میں ہم پکڑے جائیں نہ مثل پہلی امتوں کے ہم پر شدید حکم اتارے جائیں نہ ہماری طاقت سے باہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 286 لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط یہ آیت اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل و کرم کا مظہر ہے۔ میں نے آیت 186 کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی اور جہاں بھی وہ مجھے پکارے۔ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ پس انہیں بھی چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ گویا دو طرفہ بات چلے گی ‘ یک طرفہ نہیں۔ میری مانو ‘ اپنی منواؤ ! تم دعائیں کرو گے ‘ ہم قبول کریں گے ! لیکن اگر تم ہماری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

416 اس جملہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قانون سزا و جزا کا کلیہ بیان فرما دیا۔ یعنی جو کام کسی انسان سے استطاعت سے بڑھ کر ہیں ان پر انسان سے باز پرس نہیں ہوگی، باز پرس تو صرف اسی بات پر ہوگی جو انسان کے اختیار اور استطاعت میں ہو اور جہاں انسان مجبور ہوجائے وہاں گرفت نہ ہوگی۔ مگر اس اختیار، استطاعت اور مقدرت کا فیصلہ انسان کو نہایت نیک نیتی سے کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ 417 اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزا و سزا کا دوسرا کلیہ بیان فرمایا جو یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو اور وہ ضرور اسے ملے گا اور جو کوئی برا کام کیا ہو تو اس کی سزا بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1120 ۔ (آیت) ” لا یکلف “۔ اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا احکام شرعیہ میں بجز الخ۔ احکام شرعی کی قید لگا دینے سے امور تکوینی خارج ہوگئے، ذمہ دار بنا دینے سے مراد ہے ان اعمال سے متعلق سوال وباز پرس ہونا۔ (آیت) ” الا وسعھا “۔ یعنی اس کے اختیار کے اندر ہوں۔ گوبعض کسی قدر مشکل ہوں اس قید کے لگادینے سے وسوسہ اور خیالات غیراختیاری سب حد محاسبہ سے نکل گئے۔ الوسع من القدرۃ ما یفضل عن قدر المکلف (راغب) قال لا یکلف اللہ نفسا الا وسعا تنبیھا انہ یکلف عبدہ ما ینوء بہ قدرتہ (راغب) الا طاقتھا وقدر تھا لان التکلیف لایرد بفعل لا یقدر علیہ المکلف (مدارک) الا ما تسعہ قدر تھا فضلا ورحمۃ (بیضاوی) صوفیہ محققین نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 285–286

اَمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ (الاٰیۃ) اس آیت میں پھر ان ایمانیان کا ذکر ہے، جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس سے اگلی آیت ” لَایُکَلِّفُ اللہُ “ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو اس کو کافی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ سورة بقرہ تمام ہوئی وللہ الحمداولہ وآخرہ وظاھرہ و باطنہ وھوالمستعان۔ بندہ محمد جمال استاذدارالعلوم دیوبند۔ بعد نماز مغرب بروزپیر۔ 21 شوال 1424…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا : اللہ کسی کو مکلف نہیں کرتا مگر اس قدرت کی سمائی کے موافق۔ یہ معنی اس وقت ہوں گے جب قدرت سے مراد امکانی قدرت ہو یا سمائی سے مراد ہے مقدار قدرت سے کم درجہ والی سمائی یعنی سہولت اوّل قسم ان احکام میں جاری ہوگی جن کی بناء قدرت ممکنہ پر ہے اور دوسری قسم کا اجراء ان احکام میں ہوگا جن کی بناء سہولت آفریں قدرت پر ہے جیسے زکوٰۃ کے وجوب کے لیے مال کا نمو اور سال گذر جانا۔ آیت دلالت کررہی ہے کہ شریعت نے ناممکن (فعل) پر مکلف نہیں کیا لیکن ناممکن فعل پر مکلف کرنا (عقلاً ) ممنوع ہے اس مفہوم پر آیت کی دلالت نہیں ہے۔ (1) [ اسی بناء پر اشاعرہ کا قول ہے کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(286) اللہ تعالیٰ احکام شرعیہ کا طاقت کے مطابق ہی مکلف بناتے ہیں، اس کا نیکیوں پر ثواب ہے مثلا حدیث نفس، بھول، اور غلطی، اور مجبور کرنے کے ترک کرنے پر ثواب ہے، اور برائیوں مثلا حدیث نفس نسیان اور زبردستی پر عذاب ہے، اب اللہ تعالیٰ دعا کے طریقہ کی تعلیم دیتا ہے، کہ اس طریقہ کے ساتھ بارگاہ الہی میں دعا کرنی چاہیے، تاکہ حدیث نفس (دل کی غلط باتیں) بھول اور غلطی یہ تمام چیزیں معاف ہوجائیں کہ یوں کہو اے ہمارے پالنے والے ! ہم پر ایسا کوئی شاق حکم نہ نازل کیجیے کہ جس کے چھوڑ دینے سے ہم پر پاکیزہ اور حلال چیزوں کو حرام کردیا جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے عہد توڑنے پر تو نے ان پر اونٹ، گائے، بکریوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہ اور اس سے پہلی آیت رسول اللہ ﷺ کو معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کے پاس عطا فرمائی گئیں۔ [ مسلم، الإیمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہٰی : 173 ] ان آیات کی فضیلت میں کئی احادیث آئی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص رات کو سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔“ [ بخاری، فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ : 5009، عن أبی مسعود ؓ ] ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جبریل ؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انھوں نے اوپر سے ایک زور دار آواز سنی، انھوں نے سر اٹھایا، پھر فرمایا : ”یہ آسمان کا دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔“ پھر اس دروازے سے ایک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔ تکلیف سے مراد وہ امر ہے جس کے ساتھ کسی کو آزمایا جائے اور تکلفت الامر کا معنی ہے میں نے اسے کام کرنے کی تکلیف دی، اسے جوہری نے بیان کیا ہے اور الوسع کا معنی ہے طاقت اور کوشش، اور یہ یقینی خبر ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر نص بیان فرمائی ہے کہ وہ آیت نازل ہونے کے وقت سے بندوں کو دل یا دیگر اعضاء بدن کے اعمال میں سے کسی عبادت کا پابند اور مکلف نہیں بنائے گا مگر اسی کا جو مکلف کی وسعت اور طاقت میں ہوگی اور اس کے ادراک اور اس کی فطرت کے تقاضا کے مطابق ہوگی تو اس سے مسلمانوں سے وہ غم اور پریشانی دور ہوگئی جو دلوں میں آنے والے تصورات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 285–286

(1) سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم “ نازل ہوئی تو یہ حکم صحابہ کرام ؓ پر بھاری ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے دلوں میں کوئی ایسی بات سوچتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق میں سے کوئی اس بات پر قطع نہ تو ہو بلاشبہ ہمارے لیے اس طرح اور اس طرح (گناہ) ہوگا آپ نے فرمایا کیا تم اسی حالت سے ملے ہو (یعنی تمہیں ایسی صورت پیش آئی ہے) اور یہ تو صریح ایمان (کی نشانی) ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون “۔ (2) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) بیہقی نے شعب میں یحییٰ بن کثیر کے طریق…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لاَ یُکَلِّفُ : ذمہ دار نہیں بناتا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [نَفْسًا : کسی جان کو ] [اِلاَّ : مگر ] [وُسْعَہَا : اس کی اہلیت کو ] [لَہَا : اس کے لیے ہے ] [مَا : وہ (ثواب) جو ] [کَسَبَتْ : اس نے کمایا ] [وَعَلَیْہَا : اور اس پر ہے ] [مَا : وہ ( گناہ) جو ] [اکْتَسَبَتْ : اس نے اہتمام سے کمایا ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [لاَ تُؤَاخِذْنَــآ : تو مت پکڑ ہم کو ] [اِنْ : اگر ] [نَّسِیْنَا : ہم بھول جائیں ] [اَوْ : یا ] [اَخْطَاْنَا : ہم چوک جائیں ] [رَبَّـنَا : اے ہمارے ربّ ] [وَلاَ تَحْمِلْ : اور تو مت ڈال ] [عَلَـیْـنَــآ : ہم پر ] [اِصْرًا : کوئی ذمہ داری ] [کَمَا : جس طرح ] [حَمَلْتَہٗ : تو نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

خطا اور نسیان کی معافی اور چند دعاؤں کی تلقین اعضاء وجوارح کے افعال دو (2) قسم کے ہیں ایک اختیاری دوسرے وہ جو بلا اختیار صادر ہوں بلا اختیار کی صورت ایسی ہی ہے جیسے رعشہ کی وجہ سے ہاتھ ہر وقت حرکت کرتا ہو، جس کو یہ مرض ہو وہ ہاتھ کی حرکت کو روکنے پر قادر نہیں ہوتا۔ یا جیسے سوتے میں زبان سے کچھ الٹی سیدھی بات نکل جائے۔ یہ بھی اختیاری نہیں ہے۔ امور غیر اختیاری پر گرفت نہیں ہے۔ جزاسزا امور اختیاریہ سے متعلق ہیں۔ کسی کا بچہ فوت ہوگیا اس کو بےاختیار رونا آگیا تو اس پر کوئی گرفت نہیں لیکن اگر زبان سے ایسے کلمات نکال دیے جن سے اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا ہو تو ایسے کلمات کفریہ کلمات کے دائرہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بیان مدار تکلیف بعد از بیان مدح و توصیف۔ لایکف اللہ نفسا۔۔۔ الی۔۔۔ مااکتسبت۔ صحابہ کرام کی مدح اور توصیف کے بعد تکلیف شرعی کے دارومدار کو بیان فرماتے ہیں تاکہ ان کا شبہ اور خلجان دور ہو صحابہ کو جو شبہ تھا کہ کیا نفوس اور قلوب کی پوشیدہ باتوں پر بھی محاسبہ ہوگا اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ مافی انفسکم سے نفوس کے اختیاری افعال مراد ہیں غیراختیاری افعال مراد نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کا کسی کو مکلف اور پابند نہیں بناتے مگر بقدر اس کی طاقت اور گنجائش کے اس لیے کہ جس چیز کا مادہ ہی مکلف میں نہ ہو اس کی تکلیف اللہ کی طرف سے متصور نہیں ورنہ پھر انسان معذور تھا کون نہیں جانتا کہ کان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

564 اللہ تعالیٰ کا یہ ایک عام قانون ہے کہ وہ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور اس سے ایسے احکام کی تعمیل کا مطالبہ نہیں کرتا جو اس کی طاقت سے باہر ہوں۔ اس سورت کے تمام احکام انسان کے دائرہ قدرت میں داخل ہیں اور اس میں کوئی ایسا حکم نہیں جس کی تعمیل انسان کیلئے ناممکن ہو کیونکہ تمام مومنین ان احکا کو دل وجان سے قبول کر کے انہیں عملی زندگی میں اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَااکْتَسَبَتْ ۔ یہ ایک دوسرا قانون ہے کہ ہر آدمی کو اس کے اپنے ہی نیک اعمال کا نفع پہنچے گا اور ہر شخص اپنے ہی بد اعمال کی سزا پائے گا۔ ٖ 565 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

دین آسان ہے مسلم شریف کی روایت میں موجود ہے کہ جب صحابہ کو تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں دل میں پیدا ہونے والے غیر اختیاری خیالات پر اللہ تعالیٰ کی گرفت نہ آجائے ، تو نبی (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے برعکس یوں کہا کرو سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر چناچہ جب صحابہ کرام ؓ نے دل کی گہرائیوں سے یہ کلمات کہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی تو حضور ﷺ نے نے صحابہ ؓ کو تسلی دی کہ غیر اختیاری چیزوں پر اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتا ، اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عام قانون بتا دیا کہ لا یکلف اللہ نفسا ً الا وسعھا اللہ تعالیٰ کسی جان کو تکلیف میں نہیں ڈالتا ، مگر اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝ 0 ۭ لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَااكْتَسَبَتْ۝ 0 ۭ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا۝ 0 ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَـمَا حَمَلْتَہٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۝ 0 ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ۝ 0 ۚ وَاعْفُ عَنَّا۝ 0 ۪ وَاغْفِرْ لَنَا۝ 0 ۪ وَارْحَمْنَا۝ 0 ۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝ 286 ۧ كلف وصارت الْكُلْفَةُ في التّعارف اسما للمشقّة، والتَّكَلُّفُ : اسم لما يفعل بمشقّة، أو تصنّع، أو تشبّع، ولذلک صار التَّكَلُّفُ علی ضربین : محمود :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

اللہ بھی کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جس نے اچھے کام کئے تو اپنے لیے اور جس نے برے کام کئے تو اپنے لئے۔ (اس کا وبال بھی اسی پر ہے) اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول چوک جائیں تو ہم کو نہ پکڑنا۔ اے ہمارے رب ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال دینا جیسا کہ ہم سے پہلوں پر ڈال دیا تھا اور اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بارگراں نہ رکھ دینا کہ جس کی ہم کو طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر کر اور ہم کو بخش دے اور ہم پر مہربانی کر تو ہمارا کارساز ہے۔ پس ہم کو کافروں پر فتح یاب بھی کر۔ 2 ؎ بعض علماء نے اس سے یہ بات پیدا کی ہے کہ خدا کو اختیا رہے کہ بندہ کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی کام کا حکم دے۔ اس پر بہت کچھ قیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ط لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَاکْتَسَبَتْ ط رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَـآ اِنْ نَّسِیْنَـآ اَوْاَخْطَأْنَاج رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَـآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْـتَـہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ط رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج وَاعْفُ عَنَّا وقفۃ وَاغْفِرْلَـنَا وقفۃ وَارْحَمْنَا وقفۃ اَنْتَ مَوْلٰـنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ ع (اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ (ایمان لانے والو تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا مشکل کام نہیں یہ عین انسان کی فطرت اور اس کی وسعت ہمت کے مطابق ہے ان پر اپنی ہمت کے مطابق عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش، رحمت اور مدد طلب کرنی چاہیے یہی اسلام کے غلبہ اور کفار پر فتح پانے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سورة کے اختتام میں از راہ کرم اپنے بندوں کے لیے یہ وضاحت فرماتا ہے کہ تمہارے رب نے جو احکامات نازل فرمائے ہیں۔ وہ ایسے نہیں کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہو۔ لہٰذا جو ان کے مطابق عمل کرے گا اس کا اسی کو فائدہ پہنچے گا اور جس نے ان احکامات کی مخالفت کی وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ مومن تو وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا (اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتے) یہ جملہ مستانفہ ہے یا محکیعنہ ہے۔ تکلیف کا مطلب کفایت ہے : اِلاَّ وُسْعَہَا (مگر اس کی وسعت کے مطابق) کیونکہ تکلیف اسی کی طرف لوٹتی ہے جس پر مکلف کو قدرت ہو۔ (کذا فی شرح التاویلات) صاحب کشاف کہتے ہیں الوسع جو انسان کو کفایت کرے اور اس پر تنگی نہ کرے نہ اس سے تکلیف میں مبتلا ہو۔ یعنی نہیں اسکو تکلیف دیتا۔ مگر اتنی جتنی اس میں گنجائش ہے اور اس پر آسان ہو۔ انتہائی مشقت میں مبتلا ہونے کے بغیر آسانی کے ساتھ اسکو ادا کرے۔ انسان کی طاقت میں تھا کہ پانچ سے زیادہ نمازیں پڑھے اور مہینہ سے زیادہ روزے رکھے اور ایک سے زیادہ حج کرسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 286۔: (آیت)” لا یکلف اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وسعھا اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر جو اس کی طاقت میں ہو) آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اس کی ضروریات ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی طاقت اور حاجت کے مطابق مکلف بناتے ہیں ، گویا یہاں ایک سوال کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ ہمیں مکلف نہیں بنایا مگر وسعت کے مطابق تو جواب میں کہا گیا کہ (آیت)” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا “۔ اس سے مراد طاقت ہے ۔ (آیت)” لا یکلف اللہ نفسا “۔ کی مختلف تفاسیر : وسع کہا جاتا ہے جو انسان کے لیے آسانی ہو تنگی نہ ہو ، اس کی تاویل میں مفسرین کی مختلف اقوال ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ عطاء (رح) اور اکثر مفسرین کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 285–286

(285 ۔ 286) ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث مسلم اور نسائی کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے کہ سورة فاتحہ اور سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں ایسے دو نور ہیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے یہ نور کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے 3۔ مسند امام احمد اور صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں امن الرسول سے سورت کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی 1۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلے کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 286 جب یہ آیت نازل ہوئی : (وان تبدوا ما فی انفسکم اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ) ” تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے۔ تم اسے ظاہر کردیا چھپاؤ۔ اللہ اس کا حساب تم سے لے گا “ تو مسلمان بہت پریشان ہوئے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ دل میں جس قسم کے خیالات ہوں خواہ وہ پختہ یقین کی صورت میں ہوں، یا عارضی خیالات، دل میں جاگزین ہوں یا آ کر گزر جانے والے، سب کا مواخذہ ہوگا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کا مکلف نہیں فرماتا۔ ان کاموں کا حکم دیتا ہے جو وہ کرسکتا ہے۔ ان کا حکم نہیں دیتا جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ جیسے ارشاد ہے : (وما جعل علیکم فی الدین من حرج…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ امام مالک کا قول ظاہر قرآن سے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ قول باری ہے (قرھان مقبوضۃ) اللہ تعالیٰ نے رہن کو گواہی کے قائمقام کردیا ہے اور اس شخص پر اعتماد نہیں کیا جس پر حق ہے کیونکہ اس سے وثیقہ لیا ہے جس طرح کہ دین کی مقدار کے متعلق اس پر بھروسہ نہیں کیا اس لئے کہ اس پر گواہی قائم کی ہے۔ دستاویز اور گواہ اس پر لازم آنے والے حق کی مقدار کا پتہ دیتے ہیں اس لئے راہن کے قول کی تصدیق نہیں کی گئی اور رہن اس حد تک گواہوں کے قائم مقام ہوگیا جس حد تک اس کی مقدار رہن کی قیمت کے اندر رہی لیکن جب یہ مقدار اس کی قیمت سے تجاوز کر جائے تو پھر وثیقہ کا کوئی کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

829 بےاختیار خیالات پر کسی کی گرفت نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بلا قصد و ارادہ آنے والے خیالات پر کسی کی کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ـ پس ان ہوا جس و خواطر پر کسی کی گرفت و پکڑ نہیں ہوگی جو بلاقصد و ارادہ دل میں پیدا ہوجاتے ہیں کہ ان سے بچنا انسان کے بس میں نہیں۔ جیسا کہ نبئ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ارشاد فرمایا کہ میری امت سے خطاء و نسیان اور ہر وہ عمل و قصور مرفوع و معاف ہے جو کسی جبر واکراہ کے ذریعے کرایا گیا ہو " رُفِعَ عَنْ اُمَّتِی الْخَطٓائُ وَالنِّسْیَانُ وَ مَا اسْتُکْرِہُوْا عَلَیْہ " اور وہ اپنے بندوں سے نرمی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں کرنا چاہتا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 285–286

ارکان ایمان کا ذکر تشریح : پچھلی آیت کا شان نزول یعنی نازل ہونے کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے۔ آیت 284 سے صحابہ کرام بہت پریشان ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ واقعی قادر مطلق ہے۔ وہ جو چاہے کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم و کریم اور بےحد انصاف کرنے والا اور بےحد پیار کرنے والا ہے۔ وہ کبھی کسی بندے پر زیادتی نہیں کرتا اس لئے تم لوگ خلوص نیت سے اللہ کی اطاعت کرتے رہو تو اس پر صحابہ کرام نے بےاختیار یہ کہناشروع کردیا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہم نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور ہم ہر صورت اس کا ہر حکم ماننے کو تیار ہیں رب العزت کو انکی یہ بات بےحد پسند آئی اور اس آیت میں نبی اکرم ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 284–286

آیات 284- 286 اسرارو معارف للہ مافی السموت……………واللہ علی کل شیء قدیر۔ حقیقتاً تو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کریم کا ہے اصل مالک وہی ہے انسان یہاں محدود مدت کے لئے آتا ہے اور اسے بطور خلیفہ اور امین کے ان چیزوں پر عارضی اختیار عطا ہوتا ہے۔ بالآخر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا جاتا ہے اور وہی مال اور جائیداد بعد آنے والوں کو مل جاتے ہیں۔ یہاں آسمانوں اور زمین میں کی اشیاء کا ذکر فرما کر سب مخلوق مراد لی ہے ورنہ عرش وکرسی اپنا علیحدہ وجودرکھتے ہیں یا قلب ، روح سرخفی اور اخفایا ارواح انسانی سب کچھ اللہ کا ہے مگر طرز کلام ایسا ہے کہ عام آدمی جن چیزوں کے بارے عموماً علم رکھتا ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 مرسل روائیوں میں ہے کہ حضرت جبر یل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو تلقین کی کہ ان آیتوں کے خاتمہ پر آمین کہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے آمین یارب العالمین فرمایا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ اس سورت کے خاتمہ پر سات مرتبہ اللھم ربنا ولک الحمد فرمایا۔ ( درمنشور) بعض صحا بہ سے بھی اس کے خاتمے پر آمین کہنا ثابت ہے اور ایک اروایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان آیتوں کے بعد آمین کی تر غیب دی۔ ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:286) لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔ جملہ مستانفہ ہے لا یکلف۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب تکلیف (تفعیل) مصدر۔ اللہ تکلیف نہیں دیتا۔ نفسا اسم مفعول واحد مؤنث منصوب کسی جان کو۔ کسی شخص کو ۔ الا حرف استثناء وسعھا۔ مضاف مضاف الیہ ۔ وسع۔ طاقت سمائی ۔ قدرت ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا (ذمہ وار نہیں بناتا) مگر اس کی بساط کے مطابق۔ لہا ما کسبت وعلیہا ما اکتسبت۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو نفس کی طرف راجع ہے جو (اچھی) کمائی اس نے کی (اس کا فائدہ) اسی کو ملیگا اور جو (برائی) اس نے نے (اس کا بوجھ) اسی پر ہوگا۔ فائدہ : یہاں خیر کے لئے کسب کا لفظ اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

سورة بقرہ اور چالیس اصول زندگی سورة بقرہ میں قوم بنی اسرائیل، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور امت محمدیہ ﷺ کا ذکر کرنے کے بعد وہ چالیس اصول زندگی ارشاد فرمائے ہیں جو عبادت و بندگی، تہذیب و تمدن ، عدل و انصاف ، معاشرت اور معیشت ۔ دنیا اور آخرت کے اہم معاملات کی بہترین بنیاد ہیں۔ گویا اس میں اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت نے ان اصولوں کو سامنے رکھا اور ان پر پوری طرح عمل کیا تو بنی اسرائیل کی طرح وہ دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے نقصانات اٹھانے سے بچ جائیں گے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بےاصول زندگی تھی وہ باتیں زیادہ کرتے اور عمل کم کرتے تھے۔ وہ چالیس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

یہ لفظ ان دونوں آیتوں میں دعا کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائے ہیں کہ وہ اس معبود سے دعا کیا کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں مسلمانوں کو ایک نہایت ہی عجیب دعا سکھائی گئی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان تمام گمراہیوں اور لغزشوں سے بچے جن کی وجہ سے پہلی قومیں ہلاک ہوئیں یعنی وہ خطاء نسیان سے بچے ، خواہ مخواہ تعمق کی وجہ سے مصائب کے بوجھ کر اپنے سر پر نہ لاوے جیسے پہلی قوموں نے کیا اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے نصرت وعفو کا طالب رہے اور کوشش کرے کہ طاقت وقوت میں کفر اس سے بازی نہ لے جائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا اور کسی کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی بساط اس کی دعت اور اس کی طاقت و اختیار کے موافق یعنی جنتی گنجائش ہوتی ہے اتنا ہی ہر شخص کو مکلف بنایا جاتا ہے ہر شخص کو نفع اور ثواب بھی اس کا ملتا ہے جو اس نے کمایا اور ہر شخص پر وبال اور عذاب بھی اسی کا ہوتا ہے جو اس نے کوشش کر کے کمایا۔ جن مسلمانوں کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ یوں دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یاچوک جائیں تو بھول اور چوک پر ہماری گرفت نہ کیجئے اور ہم سے مواخذہ نہ کریئے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر کسی ایسے شاق اور سخت حکم کا بار نہ ڈالئے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یہاں جو ثواب و عقاب کا مدار کسب واکتساب پر رکھامراد اس سے ثواب و عقاب ابتداء ہے نہ بواسطہ تسبب کے۔ 1۔ حدیث میں ہے کہ یہ سبب دعائیں قبول ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کسی انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا : 509: اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ نفوس کی پوشیدہ باتوں پر بھی محاسبہ ہوگا اب اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ اس سے مراد غیر اختیاری امور نہیں ہیں کیونکہ اللہ کبھی ایسے احکام صادر نہیں فرماتا جو ایک شخص کی طاقت و قوت سے باہر ہوں۔ ان کے لئے اسباب فراہم نہ ہو سکیں فرمایا نہیں جتنا کرو گے اس کے مطابق جزا ملے گی۔ قوت ارادی میں ضعف و کمزوری نہ آنے پائے اور کام کرنے کا عزم صمیم ہو پھر اگر غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے اللہ ! ہم سے کبھی بھول کر کوئی غلطی ہوجائے یا باوجود یاد ہونے کے پھر بےارادہ کوئی فعل سرزد ہو تو اس پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that comes the second verse where the doubt, which could have risen during the comprehension of some sentences in the previous verse, has been removed in a style that is very special. It will be recalled that the question was as to how one would escape punishment if thoughts concealed in hearts were also made subject to accounting. It was said: لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا :'Allah burdens not anyone beyond his or her capacity.' Therefore, thoughts that enter the heart without one's intention and control and are not translated into action, stand all excused in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

338. Man's answerability to God is limited by the extent of his ability. If a man does not have the ability to do a certain thing, God will not take him to task for not having performed it. In the same way, if it is really beyond a man's ability to abstain from something, God will not blame him for having failed to abstain from it. It should be noted here that man will not be the final judge as to whether he had the ability to do something or not. Such judgement will be made by God alone. 339. This is the second fundamental principle of God's law of retribution. Every man will be rewarded for…

Read the full tafseer →