Al-Baqara 2:285 · Amana Rasul (last ayahs of Surah Baqarah)

Al-Baqara · from ayah 285

2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ— كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۫— لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۫— وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ؗۗ— غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ۟اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌ ۚ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ ۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord, and [so have] the believers. All of them have believed in Allah and His angels and His books and His messengers, [saying], "We make no distinction between any of His messengers." And they say, "We hear and we obey. [We seek] Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination."

— Saheeh International

Juz 3 · Ruku 40 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:285

رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اِس رسول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ: "ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی مالک! ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ رسول (یعنی حضرت محمد ﷺ اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) رسول ﷺ اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں:) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی جانب سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور سب مومن بھی، ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب ! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رسول پر جو کچھ اس کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا، اس پر وہ خود بھی ایمان لایا اور سب مومن بھی ایمان لائے۔ یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے احکام سنے اور ان کی اطاعت قبول کی۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس پر اس کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور مومنین ایمان لائے یہ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، ان کا اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار ! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان لائے رسول ﷺ اس (ہدایت) پر جو کہ اتاری گئی ان کی طرف، ان کے رب کی جانب سے، اور سارے مسلمان بھی، (یعنی وہ) سب بھی ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر، (اس بنیاد پر کہ) ہم اس کے رسولوں میں کسی بھی طرح کی کوئی تفریق نہیں کرتے، اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا (اپنے رب کے اوامرو ارشادات کو) اور مان لیا (صدق دل سے اس کے فرامین کو) ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (سب کو)

— مولانا اسحاق مدنی

پیغمبر ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اور مومنین (بھی) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیمبروں پر۔ ہم اس کے پیغمبروں میں باہم کوئی فرق بھی نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی۔ اہم تیری مغفرت (طلب کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار۔ اور تیری ہی طرف واپسی ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایمان لائے رسول ﷺ اس چیز پر جو نازل کی گئی ان کی جانب ان کے رب کی طرف سے اور مؤمنین بھی (ایمان لائے۔) یہ سب ایمان لائے اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (یہ کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی پروردگار ! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی جانب لوٹ جانا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمام رسول اس ہدایت پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں انہوں نے بھی اس ہدایت کو تسلیم کرلیا ہے دل سے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ تم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی، مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The Messenger has believed in the Guidance which has been sent down to him from his Lord, and those who believe in the Messenger have also sincerely accepted the same. They all believe in Allah, His Angels, His Books and Messengers. And they say, "We do not discriminate against any of His Messengers. We have heard the Message and submitted to it. Our Lord, we look up to You for forgiveness, for to You we shall all return."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Messenger has believed in what has been revealed to him from his Lord, and the believers as well. All have believed in Allah and His angels and His Books and His Messengers. :We make no division between any of His Messengers, and they have said: :We have listened, and obeyed. Our Lord, (we seek) Your pardon! And to You is the return.

— Muhammad Taqi Usmani

The Messenger has believed in what has been revealed to him from his Lord, and the believers as well. All have believed in Allah and His angels and His Books and His Messengers. :We make no division between any of His Messengers, and they have said: :We have listened, and obeyed. Our Lord, (we seek) Your pardon! And to You is the return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, and (so do) the believers. Each one believes in Allah, His Angels, His Books, and His Messengers. (They say,) "We make no distinction between one another of His Messengers ـ and they say, "We hear, and we obey. (We seek) Your forgiveness, our Lord, and to You is the return (of all)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The messenger believeth in that which hath been revealed unto him from his Lord and (so do) believers. Each one believeth in Allah and His angels and His scriptures and His messengers - We make no distinction between any of His messengers - and they say: We hear, and we obey. (Grant us) Thy forgiveness, our Lord. Unto Thee is the journeying.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord, and [so have] the believers. All of them have believed in Allah and His angels and His books and His messengers, [saying], "We make no distinction between any of His messengers." And they say, "We hear and we obey. [We seek] Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination."

— Saheeh International

The Messengers and the believers have faith in what was revealed to them from their Lord. Everyone of them believed in God, His angels, His Books, and His Messengers, saying, "We find no difference among the Messengers of God." They also have said, "We heard God's commands and obeyed them. Lord, we need Your forgiveness and to You we shall return."

— Muhammad Sarwar

The apostle believes in what has been revealed to him from his Lord, and (so do) the believers; they all believe in Allah and His angels and His books and His apostles; We make no difference between any of His apostles; and they say: We hear and obey, our Lord! Thy forgiveness (do we crave), and to Thee is the eventual course.

— Muhammad Habib Shakir

The apostle believeth in that which is sent down Unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believeth in Allah and His angels and His Books and His apostles, saying: we differentiate not between any of His apostles. And they say: we hearken and obey; Thy forgiveness, Our Lord! and Unto Thee is the return!

— Abdul Majid Daryabadi

The Messenger believeth in what hath been revealed to him from his Lord, as do the men of faith. Each one (of them) believeth in Allah, His angels, His books, and His messengers. "We make no distinction (they say) between one and another of His messengers." And they say: "We hear, and we obey: (We seek) Thy forgiveness, our Lord, and to Thee is the end of all journeys."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:285

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 285–286

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنئے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور ﷺ کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 337 اس آیت میں تفصیلات سے قطع نظر کر کے اسلام کے عقائد اور اسلامی طرز عمل کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اور اس کی کتابوں کو ماننا۔ اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کرنا بغیر اس کے کہ ان کے درمیان فرق کیا جائے (یعنی کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے)۔ اور اس امر کو تسلیم کرنا کہ آخر کار ہمیں اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ ان عقائد کو قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان کے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم پہنچے، اسے وہ بسر و چشم قبول کرے، اس کی اطاعت کرے، اور اپنے حسن عمل پر غرہ نہ کرے، بلکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اعتقاد رکھتے ہیں رسول کریم ﷺ اس چیز (کے حق ہونے) کا جو ان کے پاس رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور (دوسرے) مؤمنین بھی (اس کا اعتقاد رکھنا کہا جائے گا) سب کے سب (رسول بھی اور دوسرے مؤمنین بھی) عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ (کہ وہ موجود ہے اور واحد اور ذات وصفات میں کامل ہے) اور اس کے فرشتوں کے ساتھ (کہ وہ موجود ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں اور مختلف کاموں پر مقرر ہیں) اور اس کی کتابوں کے ساتھ (کہ اصل میں سب سچی ہیں) اور اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں (عقیدہ رکھنے میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی کو پیغمبر سمجھیں کسی کو نہ سمجھیں) اور ان سب نے یوں کہا کہ ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایمان نہ لانے والوں سے بےپروائی : یہاں رسول اور مسلمانوں کے ایمان کی خبر دینے سے مقصود محض ایک واقعے کی خبر دینا نہیں ہے بلکہ قرآن کے مخالفین بالخصوص یہود کی مخالفت سے بےپروائی کا اظہار ہے۔ سورة کا آغاز یاد ہوگا، اس بات سے ہوا تھا کہ قرآن کے کتاب الٰہی ہونے میں تو کسی شبے کی گنجائش نہیں ہے لیکن اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے اندر خدا ترسی، حقیقت بینی اور حق طلبی ہوگی۔ جو لوگ گروہ پرستی، عصبیت اور اپنی برتری کے زعم میں مبتلا ہوں گے وہ اس کتاب پر ایمان لانے سے محروم رہیں گے۔ اب یہاں خاتمے پر یہ اعلان فرما دیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں نے واضح کردیا کہ اس ایمان کی سعادت سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 285–286

285۔ 1 اس آیت میں پھر ان ایمانیات کا ذکر ہے جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس اگلی آیت (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) 2:286 میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے کہ اس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا جو ان کی طاقت سے بالا ہو۔ ان دونوں آیات کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اس کو کافی ہوجاتی ہیں (صحیح بخاری) دوسری حدیث میں ہے۔ نبی ﷺ کو معراج کی رات جو تین چیزیں ملیں ان میں سے ایک سورة بقرہ کی یہ دو آخری آیات بھی ہیں (صحیح مسلم) کئی روایات میں یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 284–286

188: آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آجاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس 22 ایک نظر میں یہ سبق اس عظیم سورت کا اختتامیہ ۔ یہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے ۔ اور اس کی تعبیرات بھی اپنے اندر ایک بڑا حجم رکھتی ہیں ۔ اس سورت کے اس حجم اور طوالت کے اندر اسلامی تصور حیات کے ایک بڑے حصے کو سمودیا گیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ ، اسلامی جماعت کی مختلف صفات ، اس کے فرائض ، اس کے طریقہ کار اور اس کرہ ارض پر مختلف امور کے بارے میں اس کی پالیسیوں کے بارے میں پوری تفصیلات اس سورت میں موجود ہیں ۔ اس پوری کائنات میں امت مسلمہ کا کیا کردار ہے ؟ اسلامی نظام زندگی کے مخالفین ، مقابلین اور دشمنان کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے ؟ ان دشمنان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 پہلی آیت سے جب یہ معلوم ہوا کہ دل کے خیالات پر بھی حساب اور گرفت ہے تو اس پر حضرات صحابہ گھبرائے اور ڈرے اور ان کو اتنا صدمہ ہوا کہ کسی آیت پر نہ ہوا تھا آپ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی اشکال نظر آئے یا دقت مگر حق تعالیٰ کے ارشاد کی تسلیم میں ادنیٰ توقف بھی مت کرو اور سینہ ٹھوک کر سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا عرض کردو آپ کے ارشاد کی تعمیل کی تو انشراح کے ساتھ یہ کلمات زبان پر بےساختہ جاری ہوگئے مطلب ان کا یہ ہے کہ ہم ایمان لائے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کی یعنی اپنی دقت اور خلجان سب کو چھوڑ کر ارشاد کی تعمیل میں مستعدی اور آمادگی ظاہر کی حق تعالیٰ کو یہ بات پسند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 285 اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط یہ ایک غور طلب بات اور بڑا باریک نکتہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جب وحی آئی تو آپ ﷺ نے کیسے پہچان لیا کہ یہ بدروح نہیں ہے ‘ یہ جبرائیل امین علیہ السلام ہیں ؟ آخر کوئی اشتباہ بھی تو ہوسکتا تھا۔ اس لیے کہ پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے نہ تو آپ ﷺ نے کہانت سیکھی اور نہ آپ نے کوئی نفسیاتی ریاضتیں کیں۔ آپ ﷺ تو ایک کاروباری آدمی تھے اور اہل و عیال کے ساتھ بہت ہی بھرپور زندگی گزار رہے تھے۔ آپ ﷺ کا بلند ترین سطح کا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔ یہ درحقیقت آپ ﷺ کی فطرت سلیمہ تھی جس نے وحی لانے والے فرشتے کو پہچان لیا اور آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

414 یہ سب ایمان بالغیب کے اجزاء ہیں۔ جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں اجمالاً بیان ہوئے تھے یہاں قدرے تفصیل ہے۔ ایمان بالغیب کے کل چھ اجزاء ہیں۔ جن میں چار یہاں مذکور ہیں۔ یعنی اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور جو یہاں مذکور نہیں ہوئے بلکہ دوسرے مقامات پر مذکور ہیں وہ ہیں روز آخرت پر ایمان اور اس بات پر ایمان کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی طرف سے ہوتی ہے۔ اور یہ سب اشیاء ایسی ہیں جن کا ادراک حواس خمسہ سے ناممکن ہے اور وہ انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان میں سے کتابیں اور رسول انسانوں کو نظر تو آتے ہیں۔ لیکن اس یقین کا انسان کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1115 ۔ (یعنی قرآن پر) (آیت) ” امن الرسول “۔ اپنی رسالت یعنی پیام حق کی حقانیت کامل پر ایمان لانے والے سب سے پہلے خود پیغمبرہی ہوتے ہیں۔ ایمان ایمان تو سب برابر ہے۔ لیکن بہ اعتبار ظرف وبہ لحاظ کیفیت پیغمبر کے ایمان عام اور عام افراد امت کے ایمان کے درمیان آسمان اور زمین کا فرق ہے۔ ہر ایک کے ایمان کا مرتبہ بھی اس کی حیثیت اور مرتبہ کے متناسب ہوتا ہے۔ 1116 ۔ اس جامع آیت کے اندر تمام لوازم ایمان بیان ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” امن باللہ “۔ اللہ پر ایمان لانا ہے کہ اس کی ذات اور صفت دونوں کی تصدیق کی جائے۔ حسب تصریحات قرآنی وتعلیمات نبوی، یہ تردید ہوگئی دہریت، لاادریت، ارتیاب وغیرہ کی۔ خدائے واحد کی جزم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 285–286

اَمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ (الاٰیۃ) اس آیت میں پھر ان ایمانیان کا ذکر ہے، جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اس سے اگلی آیت ” لَایُکَلِّفُ اللہُ “ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت اور اس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو اس کو کافی ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ سورة بقرہ تمام ہوئی وللہ الحمداولہ وآخرہ وظاھرہ و باطنہ وھوالمستعان۔ بندہ محمد جمال استاذدارالعلوم دیوبند۔ بعد نماز مغرب بروزپیر۔ 21 شوال 1424…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : رسول اللہ اور مؤمن ان آیات پر ایمان رکھتے ہیں جو رسول اللہ کے رب کی طرف سے ان پر اتاری گئی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آیت : ان تبدوا ما انفسکم۔۔ کے نزول کے بعد شاید صحابہ ؓ یہ سمجھے کہ خطرات نفس (وساوس) کا بھی اللہ محاسبہ فرمائے گا یا انکسار نفس کی وجہ سے انہوں نے نفسانی گناہوں کے ساتھ اپنے کو آلودہ قرار دیا اس لیے آیت کی (حکم آمیز) اطلاع ان پر شاق گذری آخر رسول اللہ نے تسلیم و رضا اور توکل کا راستہ ان کو بتایا کیونکہ نفوس مطمؤہ کی یہی صفات ہیں اور اللہ نے ان کے اس خیال کا ازالہ کردیا کہ خطرات پر بھی محاسبہ ہوگا اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(285) رسول اکرم ﷺ قرآن کریم اور اس کے معانی کو بیان کرنے میں سچے اور دیانت دار ہیں، رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی زبانی فرماتے ہیں کہ اور مسلمانوں میں سے ہر ایک ان تمام باتوں کا عقیدہ رکھتا ہے، اور مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ ہم رسولوں میں سے کسی بھی رسول کا انکار نہیں کرتے اور نیز ہم اللہ کے حکم کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، پھر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، کہ اے ہمارے پروردگار ہم حدیث نفس (دل کی غلط باتوں) سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم نے مرنے کے بعد آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 284–285

لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ: یہ پچھلی آیت میں موجود (ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) کی علت ہے، یعنی جب آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ ہے تو خوب سمجھ لو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ : اس سے معلوم ہوا کہ دل کے فعل پر بھی محاسبہ ہوگا، مگر اس سے مراد دل کے وہ اعمال ہیں جن پر انسان کو اختیار ہو اور جن کا وہ پختہ ارادہ کرلے، مثلاً ایمان، کفر، کسی نیکی یا بدی کا عزم اور پختہ ارادہ، مثلاً ایک شخص دل میں کفر رکھتا ہے، یا چوری اور زنا کا عزم رکھتا ہے، مگر اسے کفر کے اظہار کا یا چوری اور زنا پر عمل کا موقع…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ “۔ حضرت حسن، مجاہد اور ضحاک رحمۃ اللہ علہیم سے روایت ہے کہ یہ آیت قصہ معراج میں عطا ہوئی اور حضرت ابن عباس ؓ سے بعض روایات میں اسی طرح مروی ہے، اور بعض نے کہا ہے : تمام قرآن سوائے اس آیت کے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) لے کر حضور نبی رحمت ﷺ پر نازل ہوئے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے یہ آیت شب معراج سماعت فرمائی، اور بعض نے کہا ہے اس کا واقعہ معراج سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ لیلۃ المعراج تو مکہ مکرمہ میں تھی اور یہ ساری سورت مدنی ہے۔ پس جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اس کا تعلق شب معراج سے ہے انہوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 285–286

(1) سعید بن منصور اور عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم “ نازل ہوئی تو یہ حکم صحابہ کرام ؓ پر بھاری ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اپنے دلوں میں کوئی ایسی بات سوچتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق میں سے کوئی اس بات پر قطع نہ تو ہو بلاشبہ ہمارے لیے اس طرح اور اس طرح (گناہ) ہوگا آپ نے فرمایا کیا تم اسی حالت سے ملے ہو (یعنی تمہیں ایسی صورت پیش آئی ہے) اور یہ تو صریح ایمان (کی نشانی) ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون “۔ (2) حاکم (نے اس کو صحیح کہا) بیہقی نے شعب میں یحییٰ بن کثیر کے طریق…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اٰمَنَ : ایمان لائے ] [الرَّسُوْلُ : یہ رسول ﷺ ] [بِمَآ : اس پر جو ] [اُنْزِلَ : نازل کیا گیا ] [اِلَـیْہِ : ان ؐ‘ کی طرف ] [مِنْ رَّبِّہٖ : ان ﷺ کے رب ( کی جانب) سے ] [وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [کُلٌّ : سب ] [اٰمَنَ : ایمان لائے ] [بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [وَمَلٰٓئِکَتِہٖ : اور اس کے فرشتوں پر ] [وَکُتُبِہٖ : اور اس کی کتابوں پر ] [وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [لاَ نُفَرِّقُ : (وہ لوگ کہتے ہیں کہ) ہم فرق نہیں کرتے ] [بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے مابین ] [مِّنْ رُّسُلِہٖ : اس کے رسولوں میں سے ] [وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا ] [سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [وَاَطَعْنَا : اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 283–285

رہن کا حکم اور گواہی چھپانے کی مذمت اس آیت کریمہ میں اول تو رہن کا قانون مشروع فرمایا، اور فرمایا کہ تم اگر کہیں سفر میں ہو اور کوئی کاتب معاملہ لکھنے والا نہ ملے تو جس کے ذمہ قرض ہو وہ دوسرے فریق کو اطمینان دلانے کے لیے بطور رہن کے کوئی چیز دے دے جس پر وہ قبضہ کرلے اور اسے اطمینان ہوجائے کہ میرا حق واجب مارا نہیں جائے گا۔ سفر کی قید احترازی نہیں ہے اور رہن رکھنے کو بھی کوئی چیز نہیں اور اس سب کے باوجود جس کا حق ہے وہ اس شخص پر بھروسہ کرتا ہے جس کے ذمہ قرض ہے اور ادھار دے دیتا ہے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ امانت کو پوری طرح صحیح طریقہ پر مدت مقررہ کے مطابق ادا کر دے نفس یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 284–285

خاتمہ سورة ۔ مشتمل برتذکیر جلال، خدواندی وعظمیت وتحذیر از محاسبہ آخرت وتلقین ایمان وسمع وطاعت وتعلیم دعا فلاح دارین، درآخرت عفو ومغفرت ودر دنیا فتح ونصرت۔ قال تعالی، للہ مافی السماواست ومافی الارض۔۔۔ الی۔۔۔۔ فانصرنا علی القوم الکافرین۔ ربط) ۔ یہ رکوع سورة بقرہ کا آخری رکوع ہے جس پر سورة بقرہ ختم ہورہی ہے یہ عجیب خاتمہ ہے جس کو اول سورت سے بھی خاص ربط ہے اور آخرسورت سے بھی اور درمیان سورت سے بھی اور مجموعہ سورت سے بھی۔ ان آیات سے پہلے جو آیتیں گذریں ان میں کتمان شہادت کو دل کا گناہ بتلایا تھا اب ان آیات میں اس امر کو بیان فرماتے ہیں کہ قلب کے کن افعال پر مواخذہ ہے اور کن پر نہیں نیز گزشتہ آیات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

562 اس سورة جلیلہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت نماز، زکوۃ، حج، نکاح، طلاق، جہاد، انفاق اور حرمت ربا وغیرہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اب سورت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ خدا کا پیغمبر اور تمام مومنین ان احکام کو دل وجان سے تسلیم کرچکے ہیں۔ اور عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا ہیں آگے اس کی قدرے تفصیل ہے۔ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ الخ۔ خدا کا پیغمبر اور سارے کے سارے مومن خدا کی توحید پر ایمان لا چکے ہیں۔ خدا کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے تمام رسولوں کے برحق ہونے پر بھی ایمان لا چکے ہیں۔ رسولوں کے درمیان تفریق کی نفی سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام رسولوں کو مانتے ہیں ایسا نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیت میں محاسبہ کا تذکرہ تھا کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے ظاہر کرو یا چھپائو اللہ تعالیٰ اس کا حساب لے گا ، نزول آیت پر صحابہ کرام ؓ کو سخت تشویش ہوئی کہ اگر غیر اختیاری خیالات پر بھی انسان کی گرفت ہوگئی ، تو نجات مشکل ہوجائے گی ۔ صحابہ کرام ؓ نے اپنی تشویش کا ذکر حضور نبی کریم ﷺ سے کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا تم یہودیوں کی طرح یوں نہ کہو سمعنا وعصینا یعنی ہم نے سن لیا اور انکار کردیا بلکہ اس قسم کی صورت حال میں یوں کہا کرو۔ سمعناواطعنا ہم نے سن لیا اور مان لیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے معانی مانگو چناچہ صحابہ کرام نے دل کی پوری محبت کے ساتھ کہا سمعنا واطعنا غفرانک ربنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۝ 0 ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۝ 0 ۣ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ۝ 0 ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝ 0 ۤ ۡ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۝ 285 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 284–285

ترکیب : مافی السموات الخ مبتداء للّٰہ خبر ‘ وان تبدوا شرط ‘ یحاسبکم جزا ‘ فیغفر مرفوع ‘ جملہ مستانفہ اور جو مجزوم پڑھا جاوے تو یہ یحاسب پر معطوف ہے۔ والمؤمنون معطوف ہے۔ الرسول پر کل مبتداء امن باللّٰہ الخ خبر بعض کہتے ہیں المؤمنون مبتداء اور یہ جملہ اعنی مبتداء و خبر اس کی خبر۔ غفرانک ای نسئل غفرانک۔ تفسیر : پہلے رکوع میں فرمایا تھا کہ ” گواہی نہ چھپائو اور جو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا “ اور نیز یہ بھی فرمایا تھا کہ ” کسی کو مضرت نہ پہنچائو “ اور یہ بھی کہ ” امانت کو گو اس پر کوئی گواہ نہ ہو واپس دو “ اور ایسا ہوتا ہے کہ بعض ظاہر میں تو گواہی دیتے ہیں مگر اس میں ایسی گول گول باتیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ قف لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ق ز غُفْرَانَـکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ (مان لیا رسول نے جو کچھ اتارا گیا اس کی طرف اس کے رب کی جانب سے اور مسلمانوں نے۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ (نیز کہتے ہیں) ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار ! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سورة البقرۃ کی ابتدا ایمانیات سے ہوئی اختتام بھی انہی ہدایات سے کیا گیا ہے جب ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور وہی گناہوں کو معاف فرمانے اور سزا دینے والا ہے تو اسی پر ایمان لاؤ جس پر کائنات کی عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ اور مومن ایمان لائے۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ایمان کے بنیادی ارکان کا ذکر ہوا ہے اب اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی عقائد کے بیان سے ہورہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کامل کے بغیر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا اور ان کی قبولیت ناممکن ہے۔ ابتدا میں اہل ایمان کے حوالے سے دین کے بنیا دی عقائد کا ذکر تھا اور اب رسول اللہ ﷺ کی ذات پر اختتام کیا جارہا ہے کہ یہ وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

285 : ٰامَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (ایمان لائے رسول اس پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر اتارا گیا۔ اور مومن ایمان لائے) ۔ اگر المؤمنون کا عطف الرسول پر کیا جائے تو ضمیر کا نائب کلٌّ کی تنوین کو مانا جائے گا۔ اور ضمیر رسول اور مؤمنون دونوں کی طرف راجع ہوگی۔ یعنی کلہم۔ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓپکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ (وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر) ۔ نحوو قراءت : اس پر وقف ہے اور اگر یہ مبتداء ہو تو پھر کُلٌّ مبتداء ثانی ہے۔ اور تقدیر یہ ہے کل منہم اور ٰامَنَ یہ مبتدائے ثانی کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 285۔ـ: (آیت)” (امن الرسول اعتقاد رکھتے ہیں رسول) ” امن “ بمعنی ” صدق “ تصدیق کے معنی میں ہے (بما انزل انزل الیہ من ربہ ولمؤمنون کل امن باللہ “ اس چیز پر جو ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی اور مؤمنین بھی سب کے سب ایمان لائے) یعنی ان مؤمنین میں سے ہر ایک ان چیزوں پر ایمان لائے ، اسی وجہ سے فعل کو واحد لائے ” وملائکتہ وکتبہ ورسولہ “ اور فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ) حمزہ (رح) اور کسائی (رح) کے نزدیک ” کتابہ “ ہے ان کے نزدیک واحد کا صیغہ ہے مراد اس سے قرآن مجید لیا ہے ، بعض نے کہا کہ یہاں جمع ہی مراد ہوگا ، اگرچہ واحد ہی ذکر کیا جائے ، جیسا کہ اس آیت میں (آیت)”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 285–286

(285 ۔ 286) ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث مسلم اور نسائی کے حوالہ سے اوپر گذر چکی ہے کہ سورة فاتحہ اور سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں ایسے دو نور ہیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے یہ نور کسی نبی پر نازل نہیں ہوئے 3۔ مسند امام احمد اور صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں امن الرسول سے سورت کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائے گی 1۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلے کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے سورة بقر کی یہ دونوں آیتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 285 اللہ تعالیٰ رسولوں اور مومنوں کے ایمان، اطاعت اور طلب مغفرت کا ذکر فرماتا ہے کہ وہ لوگ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس میں ان تمام صفات کمال و جلال پر ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان پر اجمالاً اور تفصیلا ایمان لانا داخل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں اور رسولوں نے بتائی ہیں۔ ان اجمالاً اور تفصیلاً ایمان رکھنا، اور اللہ کی ذات کو تشلبیہ و تمثیل، تعطیل اور تمام صفات نقص سے پاک ماننا بھی شامل ہے۔ شریعتوں میں جن فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب پر اجمالاً اور تفصیلاً…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(آیت 282 کی بقیہ تفسیر) تم اس کے متعلق تحریر لکھنے سے اکتاہٹ یا بیزاری کا اظہار نہ کرو۔ اس لئے کہ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہاں اس سے قیراط اور دانق (قیراط نصف دانق اور دانق ورہم کا چھٹا حصہ) مراد نہیں ہے۔ کیونکہ اتنی قلیل رقم میں ایک مدت تک ادھار لین دین کی لوگوں میں عادت نہیں ہے۔ اللہ نے یہ بتادیا کہ اتنی تھوڑی مقدار جس میں مدت کی تعین عام طور پر کرلی جاتی ہے تحریر اور گواہی کے لحاظ سے جس کی یہاں ترغیب دی گئی ہے۔ اس کا بھی وہی حکم ہے جو کثیر مقدار کا کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آیت میں بالکل معمولی رقم نہیں ہے۔ البتہ ایسی تھوڑی مقدار سج کے لین دین کی لوگوں کو عادت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق تحریر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

825 اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ؟ : سو اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اس طرح مانا جائے کہ وہ وحدہ لاشریک ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گا۔ نہ وہاں سبق عدم تھا اور نہ لحوق زوال کا کوئی سوال ہے۔ جب کچھ بھی نہ تھا وہ تھا۔ اور جب کچھ بھی نہ رہے گا وہ موجود ہوگا۔ اس ساری کائنات کا خالق بھی بلاشرکت غیرے وہی ہے اور مالک و متصرف بھی وہی۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ نہ اس کی ذات وصفات میں، اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہے، کہ اس کی شان ہے { لَم یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 285–286

ارکان ایمان کا ذکر تشریح : پچھلی آیت کا شان نزول یعنی نازل ہونے کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے۔ آیت 284 سے صحابہ کرام بہت پریشان ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ واقعی قادر مطلق ہے۔ وہ جو چاہے کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم و کریم اور بےحد انصاف کرنے والا اور بےحد پیار کرنے والا ہے۔ وہ کبھی کسی بندے پر زیادتی نہیں کرتا اس لئے تم لوگ خلوص نیت سے اللہ کی اطاعت کرتے رہو تو اس پر صحابہ کرام نے بےاختیار یہ کہناشروع کردیا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہم نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور ہم ہر صورت اس کا ہر حکم ماننے کو تیار ہیں رب العزت کو انکی یہ بات بےحد پسند آئی اور اس آیت میں نبی اکرم ﷺ اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 284–286

آیات 284- 286 اسرارو معارف للہ مافی السموت……………واللہ علی کل شیء قدیر۔ حقیقتاً تو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کریم کا ہے اصل مالک وہی ہے انسان یہاں محدود مدت کے لئے آتا ہے اور اسے بطور خلیفہ اور امین کے ان چیزوں پر عارضی اختیار عطا ہوتا ہے۔ بالآخر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا جاتا ہے اور وہی مال اور جائیداد بعد آنے والوں کو مل جاتے ہیں۔ یہاں آسمانوں اور زمین میں کی اشیاء کا ذکر فرما کر سب مخلوق مراد لی ہے ورنہ عرش وکرسی اپنا علیحدہ وجودرکھتے ہیں یا قلب ، روح سرخفی اور اخفایا ارواح انسانی سب کچھ اللہ کا ہے مگر طرز کلام ایسا ہے کہ عام آدمی جن چیزوں کے بارے عموماً علم رکھتا ہے وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم بعض انبیاء کو مانتے ہوں اور بعض کا انکار کرتے ہوں بلکہ ہم تمام انبیا کو مانتے ہیں۔6 اس آیت اور اس سے اگلی آیت کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ورایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے رات کو سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوگئیں، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور ایک فرشتے نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی آپ ﷺ کو دونوروں کی بشارت ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے اور آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے یعنی سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں اور سورت فاتحہ۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:285) امن۔ ماضی واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر۔ وہ ایمان لایا۔ ا م ن مادہ۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون کل امن باللہ ۔۔ ورسلہ رسول کریم ﷺ ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نزال ہوا۔ یونی (قرآن مجید) اور مؤمنین (بھی ایمان لائے) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر ۔۔ اور اس کے پیغمبروں پر کل اس میں مضاف الیہ محذوف ہے۔ تنوین اس کے عوض ہے۔ کل ای کل واحد منہم ان میں سے ہر ایک (یعنی المؤمنین میں سے ہر ایک۔ کل واحد من المؤمنین) ۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی ترکیب کے متعلق رقمطراز ہیں : ” کل ان میں سے ہر ایک ۔ مضاف الیہ محذوف ہے تنوین اس کے عوض ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 284–285

لغات القرآن : آیت نمبر 284 تا 286 تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ یحاسب (وہ حساب لے گا) ۔ یعذب (عذاب دے گا) ۔ لا نفرق (ہم فرق نہیں کرتے) ۔ غفرانک (تجھ سے بخشش مانگتے ہیں ) ۔ لا تؤاخذنا (توہ میں نہ پکڑنا) ۔ نسینا (ہم بھول جائیں) ۔ اخطانا (ہم سے خطا ہوجائے) ۔ لا تحمل (نہ اٹھوائیے گا) ۔ انصرنا (ہماری مدد فرما) ۔ تشریح : آیت نمبر 284 تا 286 یہ سورة بقرہ کے آخری رکوع کی آخری آیات ہیں۔ “ جن میں سورة بقرہ کے تمام احکامات کا اختتام ایسی جامع آیات پر کیا گیا ہے جو تمام معاملات ، عقائد اور عبادات کی بنیاد ہیں۔ ” فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اسی ایک اللہ کی ملکیت ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اعمال و خواص القرآن : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص رات کو سورة بقرہ کی یہ دونوں آیتیں اٰمن الرسول سے سورة کے ختم تک پڑھ لے گا اس کی تمام رات کی عبادت اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاوے گی۔ مسند امام احمد وغیرہ میں معتبر سند سے جو رویتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ عرش معلیٰ کے نیچے اللہ تعالیٰ کا ایک خزانہ ہے اس میں سے یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورة بقرہ کی یہ آیتیں پڑھی جاویں اس گھر پر شیطان کا اثر پھر باقی نہیں رہتا۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جتنے ایماندار لوگ ہیں ان کو اس بات کا پوار…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ ان حقائق پر جو اس سورة میں بیان کئے گئے ہیں ، سب ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان حق وصداقت کا اس درجہ شیدائی ہے کہ بلاتفریق احد دوسرے ہر پیغمبر کو ماننا ہے ، اس کا شیوہ انکار وتمرد نہیں ، سمع و اطاعت ہے ، وہ ہر وقت خدا کی بخشش ورحمت کا جویاں رہتا ہے اور حق کے قبول کرنے میں کوئی تعصب اس کے حائل نہیں ہوتا ۔ حل لغات : المصیر : انجام ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ رسول یعنی محمد ﷺ کی جانب جو کچھ ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا وہ رسول اس کی تصدیق کرتے اور اس کے حق ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اس نازل شدہ چیز کے حق ہونے پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ رسول اور مسلمان سب کے سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم اس کے رسولوں پر ایمان لانے میں کسی رسول کی تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں ۔ کسی کو پیغمبر سمجھیں اور کسی کو پیغمبر نہ سمجھیں۔ اور ان سب یعنی رسول اور مومنین نے یوں کہا ہم نے آپ کا فرمان سنا اور تمام احکامات کو بخوشی مانا اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسول بھی اپنی رسالت پر اسی طرح یقین رکھتا ہے جس طرح دوسروں کو ایمان کی دعوت دیتا ہے : 506: نبی کریم ﷺ کا اسم مبارک ذکر نہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تعظیم و تشریف اس میں ہے کہ امت اپنے رسول کا نام لے کر مخاطب نہ کرے بلکہ رسول اللہ ، نبی اللہ ہی کے خطاب سے خطاب کیا جائے جس کی تعلیم دوسرے مقامات پر دی گئی ہے فرمایا گیا کہ رسول بھی اپنی وحی پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح دوسرے مؤمنوں کو ایمان لانے کا حکم فرمایا گیا ہے اور یہ طرز بیان اسی طرح لایا گیا ہے کہ پہلا جملہ نبی کریم ﷺ کے ایمان ہی میں ذکر ہے اور آپ ﷺ کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے مؤمنین کے ایمان کا تذکرہ کیا گیا۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary These are the last two verses of Sarah al-Baqarah. Great merits have been attributed to these two verses in authentic ahadith. The Holy Prophet ﷺ has said that one who recites these two verses during the night, they will be sufficient for him. As narrated by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said that Allah Almighty has sent forth these two verses out of the treasures of Paradise and the 'Rahman' رحمان had already written them by His own hand two thousand years earlier than the creation of all things and beings. One who is able to recite them after the Salah of ` Isha',…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

337. This verse outlines what one is required to believe in and what should be the distinguishing characteristics of one's conduct. They consist of the following: belief in God, in His angels, in His Books, in all His Messengers (instead of some rather than others) , and in the fact that ultimately one will have to stand before God's judgement. These are the five fundamental articles of faith in Islam. Having accepted them, the only proper attitude for a Muslim is to cheerfully accept and follow whatever directives he receives from God. Instead of exulting in his moral excellence he should be…

Read the full tafseer →