انسان کے ضمیر سے خطاب
یعنی آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ چھوٹی بڑی چھپی یا کھلی ہر بات کو وہ جانتا ہے۔ ہر پوشیدہ اور ظاہر عمل کا وہ حساب لینے والا ہے، جیسے اور جگہ فرمایا آیت قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ) 3۔ آل عمران :29) کہہ دے کہ تمہارے سینوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کو اس کا بخوبی علم ہے، وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور فرمایا وہ ہر چھپی ہوئی اور علانیہ بات کو خوب جانتا ہے، مزید اس معنی کی بہت سی آیتیں ہیں، یہاں اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ اس پر حساب لے گا، جب…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 333
یہ خاتمہ کلام ہے۔ اس لیے جس طرح سورت کا آغاز دین کی بنیادی تعلیمات سے کیا گیا تھا، اسی طرح سورت کو ختم کرتے ہوئے بھی ان تمام اصولی امور کو بیان کردیا گیا ہے جن پر دین اسلام کی اساس قائم ہے۔ تقابل کے لیے اس سورة کے پہلے رکوع کو سامنے رکھ لیا جائے تو زیادہ مفید ہوگا۔
سورة الْبَقَرَة 334
یہ دین کی اولین بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مالک زمین و آسمان ہونا اور ان تمام چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں، اللہ ہی کی ملک ہونا، در اصل یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جس کی بنا پر انسان کے لیے کوئی دوسرا طرز عمل اس کے سوا جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دے۔
سورة الْبَقَرَة 335
اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ ہی کی ملک میں ہیں سب (مخلوقات) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (جیسے خود زمین و آسمان بھی اسی کی ملک میں ہیں) اور (جب وہ مالک ہیں تو ان کو اپنی مملوکہ اشیاء میں ہر طرح قانون بنانے کا حق ہے اس میں مجال کلام نہ ہونی چاہئے جیسا کہ ایک قانون یہ ہے کہ) جو باتیں (عقائد فاسدہ یا اخلاق مذمومہ یا گناہوں پر پختہ عزم و ارادہ کی) تمہارے نفسوں میں ہیں ان کو اگر تم (زبان وجوارح سے) ظاہر کرو گے (مثلا زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا یا اپنے تکبر حسد وغیرہ کا خود اظہار کردیا یا کسی گناہ جس کا قصد تھا اسی کو کر ہی ڈالا) یا کہ (دل ہی میں) پوشیدہ رکھو گے (دونوں حالتوں میں) حق تعالیٰ تم…
Read the full tafseer →“ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ”یہ جملہ اپنے اندر بیک وقت تین مفہوم رکھتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ہر چیز خدا ہی کی ملکیت ہے، دوسرا یہ کہ ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے، تیسرا یہ کہ بالآخر ہر چیز کا مرجع خدا ہی ہے۔ اردو میں کوئی ایسا ترجمہ اس کا جوا ان تینوں مفہموں کو بیک اٹھا لے میری سمجھ میں نہیں آیا۔
دل کی پوشیدہ باتوں کے محاسبے کا مفہوم : اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ، دل کی پوشیدہ باتوں کا محاسبہ کرنے سے یہ مراد نہیں کہ دل میں جو خیالات اور وسوسے گزرتے رہتے ہیں ان کا بھی محاسبہ ہوگا بلکہ اس سے صرف وہ عزائم مراد ہیں جو مضبوط ارادے کے ساتھ دل میں موجود ہیں لیکن…
Read the full tafseer →284۔ 1 احایث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام بڑے پریشان ہوئے انہوں نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ نماز، روزہ، زکوٰۃ وجہاد وغیرہ یہ سارے اعمال جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ہم بجا لاتے ہیں کیونکہ یہ ہماری طاقت سے بالا نہیں ہیں لیکن دل میں پیدا ہونے والے خیالات اور وسوسوں پر تو ہمارا اختیار ہی نہیں وہ تو انسانی طاقت سے باہر ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی محاسبہ کا اعلان فرمایا ہے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کے جذبہ سمع وطاعت کو دیکھتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو منسوخ فرما دیا اور نبی ﷺ نے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جی میں آنے والی باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–286
188: آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کردیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آجاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدے دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کرلے تو اس کا حساب ہوگا۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ خالص قانون سازی کرنے والی آیات کے خاتمہ کلام پر بھی خالص وجدانی اور اخلاقی راہنمائی کرتا ہے ۔ یوں وہ دنیاوی زندگی کے لئے ضابطہ بندی کا تعلق بھی خالق کائنات سے جوڑ دیتا ہے ۔ اور یہ رابطہ ایک مستحکم رابطہ ہوتا ہے۔ جس میں ایک طرف تو اللہ خوفی کا تصور ہوتا ہے اور دوسری جانب مالک ارض وسما کی مغفرت اور رحمت کی امیداواری ہوتی ہے ۔ یہی اخلاقی ضمانت ہے جو اسلامی نظام قانون کو حاصل ہوتی ہے ۔ اور جو اسے دوسرے نظامہائے قانون سے ممتاز اور ممیز کردیتی ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کے دل میں اسلامی قانون کا بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔ یہ اخلاقی گارنٹی اور قانون سازی…
Read the full tafseer →1 اس سورت میں اصول و فروع عبادات و معاملات جانی و مالی ہر قسم کے احکامات بہت کثرت سے مذکور فرمائے اور شاید اس سورت کے سنام القرآن فرمانے کی یہی وجہ ہو اس لئے مناسب ہے، کہ بندوں کو پوری تاکید و تہدید بھی ہر طرح سے فرما دی جائے تاکہ تعمیل احکام مذکورہ میں کوتاہی سے اجتناب کریں سو اسی غرض کے لئے آخر سورت میں احکام کو بیان فرما کر اس آیت کو بطور تہدید و تنبیہ ارشاد فرما کر تمام احکام مذکورہ سابقہ کی پابندی پر سب کو مجبور کردیا اور طلاق و نکاح قصاص و زکوٰۃ بیع و ربوا وغیرہ میں جو اکثر صاحب حیلوں اور اپنی ایجاد کردہ تدبیروں سے کام لیتے ہیں اور ناجائز امور کو جائز بنانے میں خود رائی اور سینہ زوری سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سورة البقرۃ کے آخری رکوع پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ عظیم الشان رکوع تین آیات پر مشتمل ہے۔ قبل ازیں ہم اسی طرح کا ایک عظیم رکوع پڑھ آئے ہیں جس کی چار آیات ہیں اور اس میں آیت الکرسی بھی ہے۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں رکوع اپنی عظمت اور اپنے مقام کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہّ ہیں۔ آیت الکرسی توحید کے موضوع پر قرآن حکیم کی جامع ترین آیت ہے ‘ اور اس رکوع کی آخری آیت جامع ترین دعا پر مشتمل ہے۔
آیت 284 لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط۔
آپ دیکھیں گے کہ اکثر و بیشتر اس طرح کے الفاظ سورتوں کے اختتام پر آتے ہیں۔
وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ…
Read the full tafseer →413 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہوا ہے۔ (i) ملک، یعنی وہ ہر چیز کا مالک ہے، (ii) علم، یعنی اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے، (iii) قدرت، یعنی اسے سزا دینے اور معاف کردینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں اور یہی تین صفات ذرا تفصیل کے ساتھ آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ عبادات اور معاملات سے متعلق جو بیشمار احکام دیئے گئے ہیں۔ مسلمان کو اس کی تعمیل میں نہ حیلوں بہانوں سے کام لینا چاہئے اور نہ سینہ زوری اور ظلم و زیادتی سے۔ بلکہ اللہ سے ڈر کر اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ کسی بھی ظاہری یا پوشیدہ امر میں انسان اس کی نافرمانی کرکے نجات نہیں…
Read the full tafseer →1110 ۔ (اور کسی دیوی، دیوتا، بروز، مظہر، اوتار کی شرکت اس میں نہیں) قرآن مجید کی طویل ترین سورة کا آخری رکوع شروع ہورہا ہے یہاں پر عقیدۂ توحید کامل کا اعادہ و اثبات ہے۔ سورة کا آغاز اصول دین سے متعلق جامع تعلیم سے ہوا تھا۔ سورة کا خاتمہ بھی اسی طرح جامعیت ومانعیت کے ساتھ بنیادی عقائد پر ہورہا ہے۔
1 1 1 1 ۔ (زبان سے یا عمل سے) (آیت) ” مافی انفسکم “ جو کچھ دلوں کے اندر ہے۔ افعال ارادی واختیاری میں ہے مثلا کوئی عقیدہ فاسد یا عزم معصیت، اس میں وسوسہ اور گزرنے والے خیالات داخل نہیں کہ وہ حدود مؤاخذہ سے خارج ہیں۔ ولا تدخل الاوساوس و حدیث النفس فیما یخفیہ الانسان لان ذلک ممالیس فی وسعۃ ولکن مااعتقدۂ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 284 تا 286
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے برے اعمال اور ان کا پختہ ارادہ جو تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو اللہ ان کی تم کو قیامت کے دن سزا دے گا، پھر جس کی مغفرت چاہے گا مغفرت کر دے گا اور جس کو عذاب دینا چاہے گا عذاب دیگا دونوں فعل (یغفر اور یعذب ) جواب شرط (یُحَاسِبْکم) پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں اور تقدیر ھو کی وجہ سے مرفوع بھی، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور انہیں چیزوں میں سے تمہارا محاسبہ کرنا اور تم کو جزاء دینا ہے رسول یعنی محمد ﷺ نے اس قرآن کو تصدیق کی جو ان پر ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا، اور مومنین نے…
Read the full tafseer →لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : اللہ ہی کا جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے یعنی سب کچھ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اسی کے زیر حکم ہے اور اسی کی ملک ہے۔ بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز مادی اور جسمانی ہے مادہ اور جسمیت سے خالی کوئی مخلوق نہیں ورنہ اس جگہ اللہ کی خالقیت اور مالکیت کا بیان ناقص ہوگا کیونکہ غیر مادی مخلوق کے مالک ہونے کا اظہار زیادہ اہم ہے (اور آیت میں غیرمادی مخلوق کو اللہ کے زیر حکم اور ملکیت کے اندر ظاہر نہیں کیا گیا ہے) لیکن یہ استدلال غلط ہے۔ بکثرت ممکنات غیر مادی ہیں انسانوں کی روحیں، ملائکہ وغیرہ سب مادہ سے خالی ہیں۔ اہل دل واقف…
Read the full tafseer →(284) تمام مخلوقات اور تمام چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے، اور اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کرو، یہ ظہور سے پہلے وسوسہ کے بعد کا درجہ ہے یا اس کو چھپاؤ تمہیں ان سب کا بدلہ دیا جائے گا، اسی طرح یاد کے بعد بھولنا اور درستگی کے بعد غلطی کرجانا، اور جہاد کے بعد زبردستی کرنا جو ان تمام گناہوں سے توبہ کرے ہیں، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اس کے مضمون میں بہت پریشانی اور بےہر اسی ہوئی، جب آپ کو معراج ہوئی، تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیتیں نازل فرمائیں۔
شان نزول : وان تبدوا ما فی انفسکم“ (الخ)
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–285
لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ: یہ پچھلی آیت میں موجود (ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) کی علت ہے، یعنی جب آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ ہے تو خوب سمجھ لو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔
يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ : اس سے معلوم ہوا کہ دل کے فعل پر بھی محاسبہ ہوگا، مگر اس سے مراد دل کے وہ اعمال ہیں جن پر انسان کو اختیار ہو اور جن کا وہ پختہ ارادہ کرلے، مثلاً ایمان، کفر، کسی نیکی یا بدی کا عزم اور پختہ ارادہ، مثلاً ایک شخص دل میں کفر رکھتا ہے، یا چوری اور زنا کا عزم رکھتا ہے، مگر اسے کفر کے اظہار کا یا چوری اور زنا پر عمل کا موقع…
Read the full tafseer →(آیت 282 کی بقیہ تفسیر )
مسئلہ نمبر : (44) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا تسئموا ان تکتبوہ صغیرا او کبیرا الی اجلہ “۔ تسئموا کا معنی ہے تملوا اور تم اکتاؤ نہیں۔
اخفش نے کہا ہے : کہا جاتا ہے، سئمت اسام ساما وسامۃ وسام (وسامۃ) وساما (اکتا جانا) جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسام “۔
میں زندگی کی تکالیف سے اکتا گیا اور جو اسی برس تک زندہ رہا۔ تیرا باپ نہ ہو وہ اکتا ہی جاتا ہے۔
(آیت) ” ان تکتبوہ “۔ یہ فعل کے سبب محل نصب میں ہے (آیت) ” صغیرا او کبیرا “ یہ دونوں تکتبوہ کی ضمیر سے حال ہیں، اور صغیر کو اس کے خاص اہمتام کے سبب مقدم ذکر کیا گیا ہے اور یہ نہیں…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت شہادت کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر مقسم کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت ” وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت شہادت کو چھپانے اور اس کو قائم کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
(3) احمد، مسلم، ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” للہ ما فی السموت وما فی الارض وان تبدوا ما…
Read the full tafseer →[لِلّٰہِ : اللہ کی ہی (ملکیت) ہے ] [مَا : وہ جو ] [فِی السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں ہے ] [وَمَا : اور وہ جو ] [فِی الْاَرْضِ : زمین ] [میں ہے ] [وَاِنْ : اور اگر ] [تُبْدُوْا : تم لوگ ظاہر کرو ] [مَا : اس کو جو ] [فِیْ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے جی میں ہے ] [اَوْ : یا ] [تُخْفُوْہُ : تم لوگ چھپائو اس کو ] [یُحَاسِبْـکُمْ : حساب لے گا تم لوگوں سے ] [بِہِ : اس کا ] [اللّٰہُ : اللہ ] [فَـیَغْفِرُ : پھر وہ معاف کرے گا ] [لِمَنْ : اس کو جسے ] [یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [وَیُعَذِّبُ : اور وہ عذاب دے گا ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 283–285
رہن کا حکم اور گواہی چھپانے کی مذمت
اس آیت کریمہ میں اول تو رہن کا قانون مشروع فرمایا، اور فرمایا کہ تم اگر کہیں سفر میں ہو اور کوئی کاتب معاملہ لکھنے والا نہ ملے تو جس کے ذمہ قرض ہو وہ دوسرے فریق کو اطمینان دلانے کے لیے بطور رہن کے کوئی چیز دے دے جس پر وہ قبضہ کرلے اور اسے اطمینان ہوجائے کہ میرا حق واجب مارا نہیں جائے گا۔
سفر کی قید احترازی نہیں ہے اور رہن رکھنے کو بھی کوئی چیز نہیں اور اس سب کے باوجود جس کا حق ہے وہ اس شخص پر بھروسہ کرتا ہے جس کے ذمہ قرض ہے اور ادھار دے دیتا ہے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ امانت کو پوری طرح صحیح طریقہ پر مدت مقررہ کے مطابق ادا کر دے نفس یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–285
خاتمہ سورة ۔
مشتمل برتذکیر جلال، خدواندی وعظمیت وتحذیر از محاسبہ آخرت وتلقین ایمان وسمع وطاعت وتعلیم دعا فلاح دارین، درآخرت عفو ومغفرت ودر دنیا فتح ونصرت۔
قال تعالی، للہ مافی السماواست ومافی الارض۔۔۔ الی۔۔۔۔ فانصرنا علی القوم الکافرین۔
ربط) ۔ یہ رکوع سورة بقرہ کا آخری رکوع ہے جس پر سورة بقرہ ختم ہورہی ہے یہ عجیب خاتمہ ہے جس کو اول سورت سے بھی خاص ربط ہے اور آخرسورت سے بھی اور درمیان سورت سے بھی اور مجموعہ سورت سے بھی۔ ان آیات سے پہلے جو آیتیں گذریں ان میں کتمان شہادت کو دل کا گناہ بتلایا تھا اب ان آیات میں اس امر کو بیان فرماتے ہیں کہ قلب کے کن افعال پر مواخذہ ہے اور کن پر نہیں نیز گزشتہ آیات…
Read the full tafseer →560 یہ ایک ایسا جامع جملہ ہے کہ یہ ساری کائنات کو شامل ہے اور کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہتی اور للہ خبر ہے جسے افادہ حصر کیلئے مبتدا پر مقدم کیا گیا ہے یعنی ساری کائنات پر تنہا اللہ ہی کا قبضہ ہے اور ہر چیز اسی ہی کے تصرف واختیار میں ہے اور اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لہذا عبادت بھی اسی ہی کی کرو اور حاجات ومشکلات میں صرف اسی ہی کو پکارو۔ 561 یہاں مَا سے مراد اعتقادات اختیاریہ ہیں کہ وساوس کیونکہ ابداء اور اخفاء دونوں میں اختیار فاعل کو دخل ہے۔ اور وساوس خود بخود دل میں آتے ہیں ان میں فاعل کو کوئی دخل نہیں ہوتا اس لیے وساوس پر کوئی مواخذہ نہیں کیونکہ وہ اس آیت کے تحت داخل ہی نہیں۔ فَیَغْفِرُ…
Read the full tafseer →اختتامی کلمات
سورۃ بقرہ کے دروس اختتام پذیر ہیں اور آج کے درس سے سورة کا چالیسواں اور آخری رکوع شروع ہورہا ہے قرآن پاک کی اس سب سے لمبی سورة میں مختلف الانواع احکام بیان ہوئے ہیں ، جن میں اصول بھی ہیں اور فرعی مسائل بھی ہیں ، عبادات ، معاملات مالی و جانی جہاد ، نکاح و طلاق اور دیگر بیشمار مسائل بیان ہوئے ہیں ۔ ا س لحاظ سے اس سورة کو سنام القرآن بھی کہا گیا ہے گویا یہ سورة مبارکہ قران پاک کو کوہان ہے ، اس کو قرآن پاک میں بلند مقام حاصل ہے۔
سورۃ کے آخری رکوع میں قرآن پاک کو نازل کرنے والے اللہ جل جلالہٗ کی حاکمیت اعلیٰ کا بیان ہے کیونکہ اس میں مندرج تمام احکام و شرائع اسی کی جانب سے ہیں ۔ اس کے…
Read the full tafseer →لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ 0 ۭ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ يُحَاسِبْكُمْ بِہِ اللہُ 0 ۭ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 284
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–285
ترکیب : مافی السموات الخ مبتداء للّٰہ خبر ‘ وان تبدوا شرط ‘ یحاسبکم جزا ‘ فیغفر مرفوع ‘ جملہ مستانفہ اور جو مجزوم پڑھا جاوے تو یہ یحاسب پر معطوف ہے۔ والمؤمنون معطوف ہے۔ الرسول پر کل مبتداء امن باللّٰہ الخ خبر بعض کہتے ہیں المؤمنون مبتداء اور یہ جملہ اعنی مبتداء و خبر اس کی خبر۔ غفرانک ای نسئل غفرانک۔
تفسیر : پہلے رکوع میں فرمایا تھا کہ ” گواہی نہ چھپائو اور جو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا “ اور نیز یہ بھی فرمایا تھا کہ ” کسی کو مضرت نہ پہنچائو “ اور یہ بھی کہ ” امانت کو گو اس پر کوئی گواہ نہ ہو واپس دو “ اور ایسا ہوتا ہے کہ بعض ظاہر میں تو گواہی دیتے ہیں مگر اس میں ایسی گول گول باتیں…
Read the full tafseer →لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْتُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط فَیَغْفِرْ لِمَنْ یَّشآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
(اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائو اللہ اس کا تم سے حساب لے گا۔ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) (284)
خاتمہ سورة کی آیات
یہ عظیم سورة گزشتہ آیت پر ختم ہوگئی۔ پیش نظر رکوع کی آیات اس سورت کا خاتمہ ہیں۔ یہ آیت کریمہ اپنے موقع و محل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صدقہ کرنے، قرض حسنہ دینے اور سود سے دست کش ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اس لیے مجھے حقیقی مالک کی مرضی کے مطابق لین دین اور مالی معاملات کو چلانا چاہیے۔
عام طور پر شہادت کسی مفاد یا خوف کی وجہ سے ہی چھپائی جاتی ہے جس سے عدالتی نظام کے بگاڑ کے ساتھ حق دار اپنے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔ شہادت چھپانے والے کو یہاں یہ باور کرایا گیا ہے کہ شہادت چھپانے سے پہلے تجھے ہزار بار سوچنا چاہیے کہ یہ وقتی مفاد اور عارضی خوف ہے۔ جب کہ نفع و نقصان اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا اصلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہے جو ہر کسی کے مفاد کی…
Read the full tafseer →آیت 284 :
لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے) یعنی اس کا پیدا کیا ہوا ‘ اور اسی کی ملک ہے۔
وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ (اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپائو) یعنی برائی میں سے۔
مؤاخذہ کی حقیقت :
یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ (وہ اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کریں گے) یعنی اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دیں گے۔ اس میں وساوس قلبیہ اور حدیث نفس جس کو انسان چھپاتا ہے وہ داخل نہیں۔ لیکن جس کو دل میں پختہ کرلے۔ وہ قابل مؤاخذہ ہے۔
حاصل یہ ہے کہ عزم کفر بھی کفر ہے۔ اور گناہوں کا خیال آنا بغیر پختہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 284۔:
(آیت)” (اللہ ۔۔۔۔۔ الارض اور اللہ کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) یعنی اسی کی ملک ہے اور اس میں رہنے والے اس کے بندے ہیں اور جس چیز کے تم مالک ہو (اس کا بھی وہی مالک ہے) ۔۔۔۔۔۔۔ (وان تبدوا ۔۔۔۔۔۔ قدیر، اور اگر تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ قیامت کے دن اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ۔ پس بخش دے گا جس کو چاہے گا اور سزا دے گا جس کو چاہے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ آیت ماقبل کے ساتھ متعلق ہے یا علیحدہ ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت خاص ہے اس کی خصوصیت کی وجہ میں اختلاف ہے ، بعض نے کہا کہ یہ آیت پہلی…
Read the full tafseer →دل کا وسوسہ آدمی کے قابو کی بات نہیں ہے بعض وقت سینکڑوں و سوسات دل میں گذرتے ہیں۔ اور آدمی اپنے آپ کو روک کر ایک کام بھی ان وسوسوں کے موافق نہیں کرتا۔ اس واسطے اس آیت میں دل کے وسوسہ پر حساب اور عذاب کا حکم آنے سے صحابہ کرام کو بڑا رنج ہوا پھر آنحضرت نے ان کو سمجھایا اور کہا کہ یہود اور نصاریٰ کی طرح اللہ کے حکم سے انحراف نہ کرو اور اللہ کا حکم مان لینا تو اس سے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی تعریف کی اور دل کے وسوسہ پر جو عذاب کا حکم تھا اس کو منسوخ فرما دیا چناچہ اسی منسوخی کے باب میں صحاح ستہ کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے وسوسہ کو…
Read the full tafseer →آیت 284
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سب کو اسی نے پیدا کیا، رزق دیا، ان کے دینی اور دنیوی فوائد کا بندوبست فرمایا۔ چناچہ وہ سب اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے نفع کا اختیار رکھتے ہیں نہ نقصان کا، نہ موت کا نہ حیات کا، نہ مرکز جینے کا۔ وہ ان کا رب ہے، ان کا مالک ہے، جو اپنی حکمت، عدل اور احسان کے مطاب ان میں جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس نے انہیں کچھ کاموں کا حکم دیا ہے، کچھ کاموں سے منع فرمایا۔ لہٰذا وہ ان سے ان کے ظاہر اور پوشیدہ اعمال کا حساب لے گا۔ (فیغفرلمن یشآء ) ” پھر جسے چاہے گا بخشے گا۔ “ یعنی جس کے پاس مغفرت کے اسباب…
Read the full tafseer →(آیت 282 کی بقیہ تفسیر)
اللہ تعالیٰ نے مقبول گواہوں کو دو صفات سے متصف کیا ہے۔ ایک صفت عدالت چناچہ ارشاد باری ہے اثنان ذو ا عدلی منکم تم میں سے دو گواہ جو عال ہوں ۔ نیز ارشاد ہے واشھدوا ذوی عدل منکم اور اپنوں میں سے دعادل آدمیوں کو گواہ بنا لو دوسری صفت ان کا پسندیدہ ہونا ہے چناچہ ارشاد ہے ممن ترضون من الشھدا ان لوگوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ پسندیدہ لوگوں میں عدالت کی صفت کا ہونا ضروری ہے اور بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص صفت عدالت سے متصف ہوتا ہے لیکن گواہی کے معاملے میں وہ نا پسندید ہ ہوتا ہے ۔ مثلاً وہ شخص باوجود اپنی نیکی اور تقویٰ کے ، نا تجربہ کار ، سادہ لوح اور بیخبر ہو کہ جسے…
Read the full tafseer →822 کائنات سب کی سب اللہ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو کہ زمین میں ہے۔ پس آسمانوں اور زمین میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہیـ کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی، اور سب پر حکم و اختیار اور تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ نہ اس کی تخلیق و انشاء میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے، اور نہ ہی اس کے حکم و تصرف میں { اَلاَ لَہٗ الْخَلْقُ وَاُلاَمْرُ } پس بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا اوروں کو مافوق الاسباب طور پر اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے بلاتے پکارتے ہیں، اور ان کو اس وحدہ لاشریک کی…
Read the full tafseer →اللہ ہر چیز پر قادر ہے
تشریح : اس سورت کو بڑا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے شروع میں دین کی تمام ایسی تعلیمات کو بیان کیا گیا ہے جو دین کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اسی طرح سورت کے آخر میں پھر مختصر کرکے وہ تمام اصول و قوانین بیان کردیئے گئے ہیں جو دین کی مضبوطی اور انسان کی فلاح، ترقی اور نجات کے لئے ضروری ہیں یہ آیت سورة بقرہ کے آخری رکوع کی پہلی آیت ہے اور اس میں انسان کو اس کی حیثیت بتائی گئی ہے کہ تم نے سب کچھ کرنے کے بعد پھر اللہ کے سامنے اپنی پوری زندگی کا حساب کتاب دینے کے لئے پیش ہونا ہے۔ ہر وقت اس بات کا خیال رکھو کہ ہماری تمام زندگی ہر حرکت ہر کام بلکہ ہماری سوچ، ہماری نیت اور ہمارا ہر ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–286
آیات 284- 286
اسرارو معارف
للہ مافی السموت……………واللہ علی کل شیء قدیر۔
حقیقتاً تو جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کریم کا ہے اصل مالک وہی ہے انسان یہاں محدود مدت کے لئے آتا ہے اور اسے بطور خلیفہ اور امین کے ان چیزوں پر عارضی اختیار عطا ہوتا ہے۔ بالآخر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا جاتا ہے اور وہی مال اور جائیداد بعد آنے والوں کو مل جاتے ہیں۔
یہاں آسمانوں اور زمین میں کی اشیاء کا ذکر فرما کر سب مخلوق مراد لی ہے ورنہ عرش وکرسی اپنا علیحدہ وجودرکھتے ہیں یا قلب ، روح سرخفی اور اخفایا ارواح انسانی سب کچھ اللہ کا ہے مگر طرز کلام ایسا ہے کہ عام آدمی جن چیزوں کے بارے عموماً علم رکھتا ہے وہی…
Read the full tafseer →ف 4 اس سے معلوم ہوا کہ خیالات پر بھی محاسبہ ہوگا مگر ان سے مراد وہ خیالات ہیں جن پر انسان کو اختیا رہو اور جنہیں وہ دل میں جاگزیں کرلے اور جو خیالات انسان کی طاقت اور اختیار سے باہر ہوں اور ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے تو ان پر محاسبہ نہ ہوگا جیسا کہ اگلی آیت : لا یکلف اللہ۔ الخ میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت للہ مافی السموات۔۔۔ نازل ہوئی تو صحانہ پر گراں گزری اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم نماز، روزہ وغیرہ اعمال بجا لا رہے ہیں اس آیت کے مطابق تو بڑی مشکل پڑے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم بھی پہلے اہل کتاب کی طرح سمعنا وعصینا کہنا چاہتے ہو بلکہ تم یوں کہو…
Read the full tafseer →(2:284) للہ ما فی السموت وما فی الارض۔ ما فی السموت وما فی الارض مبتدا مؤخر۔ للہ خبر مقدم ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین مین ہے سب اللہ ہی کا ہے۔
وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ۔ ان شرطیہ ۔ تبدوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر اصل میں تبدون تھا۔ نون عامل (حرف شرط) کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ ابداء (افعال) مصدر تم ظاہر کرو۔ ما فی انفسکم۔ اسم موصول وصلہ مل کر تبدوا کا مفعول ۔ مراد اس سے انسان کی قلبی بیماریاں مثلاً نفاق۔ دکھاوٹ۔ بیجا تعصب۔ دنیا کی محبت ۔ غصہ۔ غرور۔ آرزو۔ حرص۔ ترک توکل۔ ترک صبر ۔ حسد۔ کینہ وغیرہ ہیں (تفسیر مظہری)
او تخفوہ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–285
لغات القرآن : آیت نمبر 284 تا 286
تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ یحاسب (وہ حساب لے گا) ۔ یعذب (عذاب دے گا) ۔ لا نفرق (ہم فرق نہیں کرتے) ۔ غفرانک (تجھ سے بخشش مانگتے ہیں ) ۔ لا تؤاخذنا (توہ میں نہ پکڑنا) ۔ نسینا (ہم بھول جائیں) ۔ اخطانا (ہم سے خطا ہوجائے) ۔ لا تحمل (نہ اٹھوائیے گا) ۔ انصرنا (ہماری مدد فرما) ۔
تشریح : آیت نمبر 284 تا 286
یہ سورة بقرہ کے آخری رکوع کی آخری آیات ہیں۔ “ جن میں سورة بقرہ کے تمام احکامات کا اختتام ایسی جامع آیات پر کیا گیا ہے جو تمام معاملات ، عقائد اور عبادات کی بنیاد ہیں۔ ”
فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اسی ایک اللہ کی ملکیت ہے جس کی…
Read the full tafseer →دل کے وسوسات کا ذکر : اس آیت میں دل کے وسوسہ پر حساب و عذاب کا حکم آنے سے صحابہ کرام کو بڑا رنج ہوا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے ان کو سمجھایا اور کہا کہ یہود اور نصاریٰ کی طرح اللہ کے حکم سے انحراف نہ ہو اور اللہ کا جو حکم ہو اس کو بسرو چشم مان لو۔ اللہ ضرور تم پر رحم کرے گا۔ جب انہوں نے خوشی سے اللہ کا حکم مان لیا و اس سے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی تعریف کی اور دل کے وسوسہ پر جو عذاب ک حکم تھا اسے منسوخ فرمادیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے وسوسہ کو معاف کردیا ہے اور صحیح حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ جب ظاہر عملوں میں کوئی شخص شیطان کے قابو کا نہیں ہوتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 283–284
[192] رہن بالقبضہ صرف قرض دینے والے کے اطمینان کے لئے ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ اپنے دئیے ہوئے مال کے بدلے رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھائے۔
[193] یعنی قرض لینے والا۔
[194] ایسے قرضے کو قرض دینے والے کی امانت فرمایا کیونکہ اس نے قرض لینے والے کے اعتبار پر قرض دیا گویا اس کے پاس امانت رکھوا دیا۔
Read the full tafseer →محاسبہ نفس :
(ف 1) اس سے پہلے کی آیات میں کتمان شہادت سے منع فرمایا اور بتایا کہ ہر دھوکے اور فریب سے بچو ، اس آیت میں اعلان کیا ہے کہ دوسروں کے متعلق برے خیالات رکھنا بھی موجب گناہ ہے یعنی مسلمان کو اعمال وجوارح سے لے کر قلب و خیال کی گہرائیوں تک پاکیزہ ہونا چاہئے ، مطلب صاف اور واضح ہے مگر چونکہ اس کے بعد ہی (آیت) ” لا یکلف اللہ نفس الا وسعھا “ کی آیت ہے یعنی خدا تکلیف مالایطاق نہیں دیتا ، اور حدیث میں آتا ہے کہ ” ان اللہ غفر لھذہ الامۃ ما حدثت بہ انفسھم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت پر فضل کیا ہے کہ وساوس کو قابل عضو ٹھہرایا ہے ، اس لئے شبہ پیدا ہوا کہ پھر نفس کے خیالات و افکار پر محاسبہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو مخلوق زمین میں ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور تمام کائنات اسی کی مملوک ہے اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں تم اپنے جی کی ان باتوں کو اگر ظاہر کردو یا ان کو دل ہی دل میں پوشیدہ رکھو ۔ دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ تم سے ان باتوں کا حساب لے گا اور حساب لینے کے بعد جس کو بخشنا چاہے گا بخش دے گا اور جس کو عذاب کرنا اور سزا دینا منظور ہوگا اس کو عذاب کرے گا اور سزا دے گا اور اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے خواہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو معاف کر دے یا کسی کو سزا دے۔ ( تیسیر)
بعض مفسرین نے ما فی انفسکم سے مراد کتمان شہادت لی ہے لیکن آیت اپنے مفہوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 284–285
ف 4۔ مراد مافی انفسکم سے امور قلبیہ اختیاریہ ہیں۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے :
504: یہ آیت ایک لحاظ سے گزشتہ آیت کا تتمہ ہے یا اس کا تکملہ ، جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شہادت کا چھپانا حرام ہے۔ اگر تم نے معاملہ کو جانتے ہوئے چھپایا تو رب کریم جو علیم وخبیر ہے تم سے اس کا حساب لے گا یہ تو اس کی مخصوص صورت اور مخصوص حکم ہے اور عموم الفاظ کے اعتبار سے عام ہے اور تمام اعتقادات ، عبادات اور معاملات کو شامل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا مشہور قول ہی اس کی تفسیر ہے۔ اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی مخلوق کے تمام اعمال کا محاسبہ فرمائے گا اور وہ عمل بھی جس کو وہ کر گزرے ہیں اور وہ بھی جن کا دل میں پختہ ارادہ کرلیا ہے اور…
Read the full tafseer →Commentary
The earlier verse mentioned the injunction to reveal evidence and forbade its concealment. This verse is also a complement of the same subject. Here, warning has been given that it is haram (unlawful) to conceal evidence. 'If you concealed the truth of a matter knowingly, your Lord who is all-Knowing and all-Aware, will make you account for it' - this interpretation of the verse has been reported from Sayyidna Ibn ` Abbas, ` Ikrimah, Sha'bi and Mujahid ؓ (Qurtubi).
Taken in the general sense of the words, this verse is universal, and covers all articles of faith, modes of worship…
Read the full tafseer →333. These are the concluding observations on the subject. Just as this surah opened with an enunciation of the basic teachings of religion, so the fundamentals upon which Islam rests are reiterated in the concluding section of the surah, It is useful to go through the first section of this surah (see verses 1-5) while reading these concluding verses.
334. This is the first fundamental principle of Islam. That God is the Sovereign of the heavens and the earth and all they contain, and that it is improper for man not to bend himself in obedience and service to God.
335. This sentence mentions…
Read the full tafseer →