مسئلہ رہن، تحریر اور گواہی
یعنی بحالت سفر اگر ادھار کا لین دین ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے یا ملے مگر قلم و دوات یا کاغذ نہ ہو تو رہن رکھ لیا کرو اور جس چیز کو رہن رکھنا ہو اسے حقدار کے قبضے میں دے دو۔ مقبوضہ کے لفظ سے استدلال کیا گیا ہے کہ رہن جب تک قبضہ میں نہ آجائے لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ امام شافعی اور جمہور کا مذہب ہے اور دوسری جماعت نے استدلال کیا ہے کہ رہن کا مرتہن کے ہاتھ میں مقبوض ہونا ضروری ہے۔ امام احمد اور ایک دوسری جماعت میں یہی منقول ہے، ایک اور جماعت کا قول ہے کہ رہن صرف میں ہی مشروع ہے، جیسے حضرت مجاہد وغیرہ لیکن صحیح بخاری صحیح مسلم شافعی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت فوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
سورة الْبَقَرَة 325
اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ قرض کے معاملے میں مدت کی تعیین ہونی چاہیے۔
سورة الْبَقَرَة 326
عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بےاعتمادی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قراردادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرا لینی چاہیے تاکہ لوگوں کے درمیان معاملات صاف رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیں، جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں، مگر ان کی فریاد سنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والوں جب معاملہ کرنے لگو ادھار کا (خواہ دام ادھار ہوں یا جو چیز خریدنا ہے وہ ادھار ہو جیسے بیع سلم میں) ایک میعاد معین تک (کے لئے) تو اس (کی یاد داشت ودستاویز) کو لکھ لیا کرو اور یہ ضرور ہے کہ تمہارے آپس میں (جو) کوئی لکھنے والا (ہو وہ) انصاف کے ساتھ لکھے (یعنی کسی کی رعایت کرکے مضمون میں کمی بیشی نہ کرے) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار بھی نہ کرے جیسا کہ خدا نے اس کو (لکھنا) سکھایا ہے، اس کو چاہئے کہ لکھ دیا کرے اور (کاتب کو) وہ شخص (بتلادے اور) لکھوا دے جس کے ذمہ وہ حق واجب ہو (کیونکہ دستاویز کا حاصل اقرار حق کا ہوتا ہے، تو جس کے ذمہ حق ہے اسی کا اقرار ضرور ٹھرا) اور…
Read the full tafseer →‘ رہان مقبوضہ ’ کا مفہوم :‘ رہان ’ رہن کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ شے ہے جو قرض دینے والے کے قرض کی ضمانت کے طور پر اس کے قبضے میں کرا دی جائے۔ فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ بالکل اسی طرح کا جملہ ہے جس طرح سورة یوسف میں“ فصبر جمیل ”ہے۔ اس کو مبتدا مان کر اس کی خبر کو محذوف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو خبر مان کر اس کو مبتدا مان کر اس کی خبر کو محذوف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو خبر مان کر اس کے مبتداء کو محذوف بھی مان سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر لکھا پڑھی اور گواہی شہادت کی صورت مفقود ہو تو کوئی چیز بطور رہن قبضے میں کرا کے بھی قرض کی معاملت کی جاسکتی ہے۔
“ امن فلانا ”کے معنی یہ ہیں کہ فلاں شخص…
Read the full tafseer →283۔ 1 اگر سفر میں قرض کا معاملہ کرنے کی ضرورت پیش آئے وہاں لکھنے والا یا کاغذ پنسل نہ ملے تو اس کی متبادل صورت بتلائی جارہی ہے کہ قرض لینے والا کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس گروی رکھ دے اس سے گروی کی مشروعیت اور اس کا جواز ثابت ہوتا ہے نبی ﷺ نے بھی اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھی تھی اگر گروی رکھی ہوئی چیز ایسی ہے جس سے نفع موصول ہوتا ہے تو اس نفع کا حقدار مالک ہوگا اور گروی رکھی ہوئی چیز پر کچھ خرچ ہوتا ہے تو اس سے وہ اپنا خرچ وصول کرسکتا ہے باقی نفع مالک کو ادا کرنا ضروری ہے۔
283۔ 2 یعنی اگر ایک دوسرے پر اعتماد ہو تو بغیر گروی رکھے بھی ادھار کا معاملہ کرسکتے ہو امانت سے مراد یہاں قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
187: یہ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت ہے اور اس میں سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد ادھار خریدو فروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ معاملات صفائی کے ساتھ ہوں، اگر کوئی ادھار کسی کے ذمے واجب ہورہا ہو تو اسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہیے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کردے، اس تحریر میں پوری بات لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنی چاہیے اور کسی کا حق مارنے کے لئے تحریر میں کتر بیونت سے پرہیز کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →لیکن اس ظاہری ضمانت کے ساتھ شارع اہل ایمان کے ضمیر کے اندر اللہ خوفی کا جذبہ پیدا کرکے انہیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ امانت دار بنیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، اس لئے کہ ظاہری ضمانت کے مقابلے میں اللہ خوفی وہ آخری ضمانت ہے جو کسی معاملے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور جس کی اساس پر کسی قانون پر صحیح طرح عمل کیا جاسکتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے کسی حق دار تک اس کا حق اچھی طرح پہنچ سکتا ہے ۔ اور سب کے حقوق محفوظ ہوسکتے ہیں۔
مدیون پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرضہ پوری طرح ادا کرے گا اور مقروض پر یہ اعتماد کیا گیا ہے کہ وہ مرہون چیز کو اپنی اصلی حالت میں واپس کرے گا ۔ دونوں کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →4 یعنی اگر سفر میں قرض اور ادھار کا معاملہ کرو اور دستاویز کے لئے کوئی کاتب نہ ملے تو قرض کے عوض کوئی چیز مدیون کو رہن رکھ دینی چاہیئے۔ فائدہ سفر میں رہن کی حاجت بہ نسبت حضر زیادہ ہوگی کیونکہ حضر میں کتابت و شہادت سے بھی بسہولت صاحب دین کا اطمینان ممکن ہے اس لئے سفر میں رہن کا حکم ہوا اور نہ حضر میں اور کاتب کی موجودگی میں بھی رہن درست ہے جیسا کہ حدیث میں موجود ہے اور اگر صاحب دین کو مدیون پر اعتماد اور اس کا اعتبار ہو اور اس لئے رہن کا طالب نہ ہو تو مدیون کو لازم ہے کہ صاحب دین کا حق تمام و کامل ادا کر دے اور خدا سے ڈرتا رہے صاحب حق کے حق میں امانت سے معاملہ کرے۔
Read the full tafseer →آیت 283 وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا
اگر دوران سفر کوئی لین دین کا یا قرض کا معاملہ ہوجائے اور کوئی کاتب نہ مل سکے۔
فَرِہٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ ط
قرض لینے والا اپنی کوئی شے قرض دینے والے کے حوالے کر دے کہ میری یہ شے آپ کے قبضے میں رہے گی ‘ آپ اتنے پیسے مجھے دے دیجیے ‘ میں جب یہ واپس کر دوں گا آپ میری چیز مجھے لوٹا دیجیے گا۔ یہ رہن بالقبضہ ہے۔ لیکن رہن گروی رکھی ہوئی چیز سے کوئی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے ‘ وہ سود ہوجائے گا۔ مثلاً اگر مکان رہن رکھا گیا ہے تو اس پر قبضہ تو قرض دینے والا کا ہوگا ‘ لیکن وہ اس سے استفادہ نہیں کرسکتا ‘ اس کا کرایہ نہیں لے سکتا ‘ کرایہ مالک…
Read the full tafseer →410 رہن کے مطالبہ کی چار ممکنہ صورتیں ہیں مثلاً سفر ہو یا حضر ہو اور کاتب نہ مل رہا ہو، دو تو یہ ہوئیں اور دو یہ ہیں کہ سفر یا حضر دونوں جگہ کاتب مل سکتا ہے مگر قرض دینے والا محض تحریر پر اعتماد نہیں کرتا اور اپنے قرضہ کی واپسی کی ضمانت کے طور پر رہن کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور یہ کہ رہن خواہ تحریر کے ساتھ ہو یا تحریر کے بغیر صرف رہن ہو۔ جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی (ابوشحم) سے ادھار اناج خریدا (تیس صاع جو، اپنی خانگی ضرورت کے لئے) اور آپ نے اپنی زرہ بطور رہن اس کے پاس رکھی تھی (بخاری۔ کتاب الرہن، باب فی الرہن فی الحضر) اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔…
Read the full tafseer →1104 ۔ (کتابت ودستاویز کے لیے، در آنحالیکہ معاملہ رہن کی ضرورت آپڑے) رہن کے سلسلہ میں سفر کا ذکر شاید اس لیے کردیا گیا ہو کہ سفر کی حالت میں ضرورت رہن کے پیش آجانے کا احتمال زیادہ ہے۔
1105 ۔ (صاحب حق کے۔ مدیون کی طرف سے) (آیت) ” رھن “۔ ایسی حالت میں اطمینان کا ذریعہ یہی ہوتی ہیں۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ رہن بالقبضہ تو صرف قرض دینے والے کے اطمینان کے لیے ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ وہ شے مرہون سے فائدہ بھی اٹھاتا رہے۔
1106 ۔ (اور اس لیے رہن کی ضرورت نہیں سمجھتا)
1107 ۔ معاملات کے سلسلہ میں یہ تقوی الہی کی تاکید ایک بار پھر ملاحظہ ہو (آیت) ” الذی اؤتمن امانتہ “۔ یعنی مدیون۔ (آیت) ” فلیؤد “۔ ادا کرے…
Read the full tafseer →وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ (الآیۃ) اس کا یہ مطلب نہیں کہ رہن کا معاملہ سفر ہی میں ہوسکتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت چونکہ سفر میں زیادہ پیش آتی ہے اس لیے خاص طور پر سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ مطلب بھی نہیں کہ جب کوئی محض دستاویز لکھنے کی صورت میں قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو تو اسی صورت میں رہن رکھ کر قرض لے لے، بلکہ دستاویز اور رہن دونوں بھی جائز ہیں۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرض دینے والا اپنے اطمینان کے لیے رہن رکھ سکتا ہے مگر اس لفظ ” مقبوضہ “ سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شئ مرہونہ سے نفع نہ اٹھایا جائے یہ اس کے لیے جائز نہیں، مرتہن کو صرف اتنا ہی حق ہے کہ اپنا قرض وصول…
Read the full tafseer →(بقیہ حاشیہ سابقہ آیت)
مسئلہ شاہد کے لیے کتابت کا فائدہ صرف یہ ہے کہ وہ اس واقعہ کو یاد کرے جس کی اس کو شہادت دینی ہے جب تک اس کو خود اپنا مشاہدہ (تفصیل کے ساتھ) یاد نہ ہو محض تحریر پر اپنی دستخط دیکھ کر گواہی دینا جائز نہیں۔ (کذا ذکر القدوری وغیرہ۔ ) صاحب ہدایہ نے لکھا ہے یہ امام اعظم (رح) کا قول ہے لیکن صاحبین کے نزدیک صرف اپنی دستخط دیکھ کر شہادت دینی جائز ہے خواہ اپنا معاینہ اس کو یاد نہ ہو بعض فقہاء کہتے ہیں کہ صرف دستخط دیکھ کر شہادت کا ناجائز ہونا بالاتفاق ہے اختلاف اس امر میں ہے کہ کیا حاکم بھی ایسی شہادت پر ڈگری دیدے یا نہ دے۔ اسی طرح اس تحریر کا حکم ہے جو مدعی کے پاس ہو اور گواہوں…
Read the full tafseer →(283) اور اگر سفر کی حالت میں لکھنے وغیرہ کی کوئی چیز نہ ہو تو اس میں قرض دینے والا اپنے قرض کے عوض قرض دار سے کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے، اور اگر بغیر رہن رکھے ہوئے اطمینان کی وجہ سے قرض دے دیا تو قرضدار کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی کا پورا پورا حق ادا کرے، اور قرض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اور فیصلہ کرنے والوں کے سامنے شہادت کو نہ چھپاؤ، جو اس کو چھپائے گا تو اس کو دل گناہ گار ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ شہادت کے چھپانے اور اس کے بیان کردینے کو خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰي سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا۔۔ : یہ بیع اور قرض کی ایک دوسری شکل ہے، یعنی اگر تم سفر میں قرض کا معاملہ کرو اور تمہیں لکھنے والا نہ مل سکے، یا لکھنے کے لیے قلم دوات وغیرہ میسر نہ ہوں تو مقروض کو چاہیے کہ قرض دینے والے کے پاس کوئی چیز رہن (گروی) رکھ دے۔ سفر کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ معاملہ زیادہ تر سفر میں پیش آتا ہے، ورنہ رہن (گروی) رکھنا حضر میں بھی جائز ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر عملاً اس کی وضاحت کردی۔ [ بخاری، البیوع، باب شراء الإمام الحوائج بنفسہ : 2096۔ مسلم : 1603 ] چناچہ سفر میں رہن نص قرآنی سے ثابت ہے اور حضر میں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
مسئلہ نمبر : (35) جب اللہ تعالیٰ نے عقود مداینہ میں شاہد کے لئے عدالت اور رضا کی شرط عائد کی ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں تو پھر نکاح میں ان کا شرط ہونا بدرجہ اولی ہے، بخلاف امام ابوحنیفہ (رح) کے جہاں انہوں نے فرمایا : بیشک نکاح دو فاسق آدمیوں کی شہادت کے ساتھ منعقد ہوجاتا ہے، سو آپ نے اموال میں جس احتیاط کا حکم دیا ہے اس کی نکاح سے نفی کردی ہے حالانکہ یہ زیادہ اولی اور ضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ حل و حرمت اور حد ونسب تعلق رکھتے ہیں (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 255، )
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا قول انتہائی ضعیف ہے،…
Read the full tafseer →(1) ابو عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن الانباری نے المصاحف حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا لفظ آیت ” ولم تجدوا کتابا “ پھر فرمایا کاتب تو پایا گیا مگر نہ قلم پایا گیا، نہ دوات پائی گئی اور نہ کاغذ پایا گیا اور کتاب ان سب چیزوں کو جمع کرلیتی ہے پھر فرمایا حضرت ابی ؓ کی قراۃ بھی ایسے ہی تھی۔
(2) عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے لفظ آیت ” فان لم تجدوا کتابا “ پھر فرمایا کاتب تو پایا گیا مگر دوات اور کاغذ نہیں پایا گیا۔
(3) ابن الانباری (رح) نے ضحاک (رح) سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
(4) ابو عبید، عبد…
Read the full tafseer →[وَاِنْ : اور اگر ] [کُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [عَلٰی سَفَرٍ : کسی سفر پر ] [وَّلَمْ تَجِدُوْا : اور تم لوگ نہ پائو ] [کَاتِبًا : کوئی لکھنے والا ] [فَرِہٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ : تو قبضہ میں لیا ہوا رہن ( لینا) ہے ] [فَاِنْ : پھر اگر ] [اَمِنَ : بھروسہ کرے ] [بَعْضُکُمْ : تم میں کا کوئی ] [بَعْضًا : کسی پر ] [فَلْیُؤَدِّ : تو چاہیے کہ واپس کرے ] [الَّذِی : وہ جس کو ] [اؤْتُمِنَ : امین بنایا گیا ] [اَمَانَتَہٗ : اس کی امانت کو ] [وَلْـیَتَّقِ : اور اسے چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے ] [اللّٰہَ : اللہ کا ] [رَبَّہٗ : جو اس کا پالنے والا ہے ] [وَلاَ تَـکْتُمُوا : اور تم لوگ مت چھپائو ] [الشَّہَادَۃَ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 283–285
رہن کا حکم اور گواہی چھپانے کی مذمت
اس آیت کریمہ میں اول تو رہن کا قانون مشروع فرمایا، اور فرمایا کہ تم اگر کہیں سفر میں ہو اور کوئی کاتب معاملہ لکھنے والا نہ ملے تو جس کے ذمہ قرض ہو وہ دوسرے فریق کو اطمینان دلانے کے لیے بطور رہن کے کوئی چیز دے دے جس پر وہ قبضہ کرلے اور اسے اطمینان ہوجائے کہ میرا حق واجب مارا نہیں جائے گا۔
سفر کی قید احترازی نہیں ہے اور رہن رکھنے کو بھی کوئی چیز نہیں اور اس سب کے باوجود جس کا حق ہے وہ اس شخص پر بھروسہ کرتا ہے جس کے ذمہ قرض ہے اور ادھار دے دیتا ہے تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ امانت کو پوری طرح صحیح طریقہ پر مدت مقررہ کے مطابق ادا کر دے نفس یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
احکام قرض ورہن۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا اذا۔۔۔ الی۔۔۔ تعملون علیم۔
ربط) ۔ حق تعالیٰ نے صدقہ اور خیرات کے فضائل کے بعد سود کی مذمت بیان فرمائی اور چونکہ سود کی ضرورت اکثر قرض اور ادھار کی حالت میں پیش آتی ہے اس لیے کہ سود کے بعدقرض اور ادھار کے احکام بیان فرماتے ہیں تاکہ سود سے بچ جائیں اور مال بھی محفوظ رہے نیز صدقہ اور ربا اور دین تینوں مالی معاملات میں پہلا محض رحمت ہے اور مقتضائے شفقت ہے اور دوسرا محض ظلم ہے اور مقتضائے حرص وہوا ہے اور تیسرا محض عدل اور انصاف ہے اور مقتضائے مروت ہے اس لیے آئندہ آیات میں دین کے احکام بیان کیے تاکہ حاجت کی ضرورت پوری ہوجائے اور قرض دینے والے کا مال…
Read the full tafseer →557 یعنی اگر حالت سفر میں تم کسی سے معاملہ بالدین کرو (ادھار خرید وفروخت کرو) اور دستاویز لکھنے والا نہ مل سکے تو پھر جس کے ذمہ حق ہے اس سے کوئی چیز مثلاً زیور وغیرہ رہن رکھ لو تاکہ تمہیں اطمینان ہوجائے اور حق کے ضائع ہونے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ رِھٰنٌ کے بعد تناسب ذالک محذوف ہے یہاں سفر کی قید اتفاقی ہے احترازی نہیں ہے۔ کیونکہ سفر میں یہ احتمال قوی ہے کہ کاتب میسر نہ آسکے اس لیے رہن رکھنا حالت سفر سے مخصوص نہیں بلکہ حالت حضر میں بھی جائز ہے۔ اسی طرح اگر لکھنے والا بھی مل جائے تو بھی رہن رکھنا اور لینا جائز ہے۔ اتفقت الفقھاء الیوم علی ان الرھن فی السفر والحضر سواء وفی مال وجود الکاتب وعدمہ…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس سے پہلے لین دین کے معاملے سے متعلق دو احکام کا بیان آ چکا ہے۔ سب سے پہلے اللہ جل شانہٗ نے تحریر کے متعلق احکام اور اس کی اہمیت بیان فرمائی ۔ پھر ایسے معاملات میں گواہ کی ضرورت اور اس کی اہمیت کا ذکر فرمایا ، اب اگلی آیت میں تیسرے اصول یعنی رہن کے متعلق مسائل کا تذکرہ ہے ، یعنی جب کسی کو ادھار دو اس کے بدلے میں کوئی چیز رہن کے طور پر کھ لو ، جب قرضہ واپس ہوگا تو رہن شدہ چیز واپس کردی جائے گی ۔
مسئلہ رہن
رہن وہ چیز ہوتی ہے جو قرض کے بدلے میں کسی شخص کے پاس رکھی جاتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر قرضہ کی رقم مقررہ مدت میں ادا نہ کی جائے تو قرض خواہ اس چیز کو فروخت کر کے اپنی…
Read the full tafseer →وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰي سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ 0 ۭ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَــتَہٗ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ 0 ۭ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّہَادَۃَ 0 ۭ وَمَنْ يَّكْتُمْہَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 283 ۧ
سفر
السَّفْرُ : كشف الغطاء، ويختصّ ذلک بالأعيان، نحو : سَفَرَ العمامة عن الرّأس، والخمار عن الوجه، وسَفْرُ البیتِ : كَنْسُهُ بِالْمِسْفَرِ ، أي : المکنس، وذلک إزالة السَّفِيرِ عنه، وهو التّراب الذي يكنس منه، والإِسْفارُ يختصّ باللّون، نحو : وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ
[…
Read the full tafseer →(چہارم) وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتب فرھان مقبوضۃ جمہور محققین کہتے ہیں کہ یہ قید (اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کاتب نہ ملے تب کوئی چیز رہن کر دو ) ایک امر کثیر الوقوع کے بیان کے لیے ہے کیونکہ سفر میں اکثر ایسا ہوتا ہے مگر اس سے یہ غرض نہیں کہ وطن میں باوجود کاتب ہونے کے رہن نہ کرو بلکہ خود آنحضرت ﷺ نے مدینہ کے ایک یہودی کے پاس اپنی درع 1 ؎ کو کسی قدر جو لے کر رہن کیا تھا جیسا کہ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے۔ (پنجم) فان امن بعضکم بعضاً الآیہ۔ چونکہ کبھی اس طرح سے بھی بیع ہوتی ہے کہ نہ مشتری سے نقد روپیہ لیا جاتا ہے نہ معتبر اور امین سمجھ کر تمسک لکھوایا جاتا ہے ٗ نہ کوئی شے زر ثمن کی عوض…
Read the full tafseer →وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍوَّلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ ط فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَـہٗ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّـہٗ ط وَلاَ تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ وَ مَنْ یَّـکْتُمْہَا فَاِنَّـہٗٓ اٰثِمٌ قَلْـبُـہٗ ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔
(اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پائوتو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو۔ پھر اگر اعتبار کرلے تم میں سے ایک دوسرے پر تو چاہیے کہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے وہ اپنی امانت کو ادا کر دے اور ضروری ہے کہ اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور شہادت کو مت چھپائو اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ہدایات۔
اگر سفر کے دوران ادھارلینے کی نوبت پیش آئے تو کاتب کی عدم موجودگی اور باہمی اعتماد نہ ہونے کی صورت میں قرض لینے والے کی کوئی چیز گروی رکھی جاسکتی ہے۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتِ اشْتَرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ یَھُوْدِيٍّ طَعَامًا بِنَسِیْءَۃٍ وَرَھَنَہٗ دِرْعَہٗ )
[ رواہ البخاری : کتاب البیوع، باب شراء الإمام الحوائج بنفسھا ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ مدت کے لیے غلہ حاصل کیا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس بطور رہن رکھی۔ “ یاد رکھیں کہ ( آپ ﷺ کا کسی سے اپنی ذات کیلیے قرض لینا ثابت نہیں۔ بیت المال کمزور ہونے کی…
Read the full tafseer →آیت 283:
وَاِنْ کُنْتُمْ ۔ (اگر تم ہو) یعنی اے قرض خواہو۔
عَلٰی سَفَرٍ ۔ (سفر پر) یعنی سفر کی حالت میں
وَلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا۔ (اور تم نہ پائو کاتب)
فَرِہٰنٌ۔ (تو رہن رکھنا ہے)
قراءت۔ ابو عمرو ٗ مکی نے فَرُہُنٌ پڑھا ہے۔ اور قابل اعتماد زیادہ رُہُنٌ ہے۔
دونوں رہن کی جمع ہیں۔ جیسے سَقْفٌ وَسُقُفٌ اور بَغْلٌ ٗ و بِغَالٌ اس طرح رہانٌ جمع ہے رہن اصل میں مصدر ہے اب تو نام بن گیا۔ پھر اسماء کی طرح اس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
ارشادی حکم :
سفر میں چونکہ عموماً گواہوں کے اور کاتبوں کے نہ ملنے کا گمان غالب ہے تو بطور ارشاد و راہنمائی کے حفاظت مال کی خاطررہن کا حکم دیا گیا تاکہ رہن کے ذریعہ امکانی حد تک…
Read the full tafseer →(تفسیر) 283۔:
(آیت)” وان کنتم علی سفر ولم تجدوا۔۔۔۔۔۔۔ مقبوضۃ “۔ اور اگر تم کسی سفر میں ہو اور نہ پاؤ تم کاتب سو رھن رکھنے کی چیزیں ہیں جو قبضہ میں دی جائیں۔ ابن کثیر ل اور ابو عمرو (رح) نے ” فرھن “ پڑھا ہے راء اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے ” فرھن “ یہ جمع ہے رھن کی جیسے بغل جمع ہے بغال کی اور جبل جمع ہے جبال کی ، رھن جمع ہے رھان کی جمع الجمع ہے، یہ فراء اور کسائی نے کہا اور ابو عبیدہ وغیرہ نے کہا ” رھن “ بھی ” رھن “ کی جمع ہے جیسے ” سقف “ جمع ہے ” سقف “ کی اور ابو عمرو (رح) نے ” فرھن “ پڑھا ہے اور اس کے درمیان اور رھان الخیل کے درمیان فرق واضح ہوجائے ، عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →جب آدمی سفر میں ہوتا ہے تو بالکل اجنبی ہوتا ہے کسی سے جان پہچان کم ہوتی ہے اس سفر کی حالت میں اگر کچھ قرض لینے کی ضرورت ہو تو بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے نہ کوئی اعتبار کرتا ہے نہ کچھ قرض مل سکتا ہے اس واسطے سفر کا ذکر خاص طور پر فرما کر اللہ تعالیٰ نے گروی کو اس آیت میں جائز فرمادیا۔ اگرچہ بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت میں جب سفر کا ذکر ہے تو حالت سفر میں ہی گروی جائز ہے۔ حالت مقام میں گروی رکھوا کر حدیث فعلی سے اس آیت کی تفسیر فرما دی ہے کہ گروی حالت سفر میں اور حالت مقام دونوں حالتوں میں جائز ہے یہ آپ کی ذرع یہودی کے پاس گروی ہونے کی حدیث صحیحین میں ہے جس کی روایت حضرت انس ؓ سے ہے 2۔
Read the full tafseer →آیت 283
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم سفر میں ہو، (ولم تجدوا کاتباً ) ” اور تمہیں کاتب نہ ملے “ جو تمہارے لئے تحریر کلھ دے، جس سے بات پکی اور قابل اعتماد ہوجائے (فرھن مقبوضۃ) ” تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو۔ “ صاحب حق (قرض خواہض اسے قبضہ میں رکھے اور یہ اس کے اطمینان کا باعث (اور ضمانت کے طور پر) رہے حتیٰ کہ اس کا حق (قرض) اسے واپس مل جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر راہن (رہن والی چیز کا مالک) اور مرتہن (رہن رکھ کر قرض دینے والا) رہن شدہ چیز کی مقدار میں اختلاف کریں تو مرتہن کا قول قبول کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے اعتبار کے لئے رہن کو تحریر کا قائم مقام بنادیا ہے۔ اگر…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
غلاموں کی گواہی کے مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ قتادہ نے حسن بصری سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ بچے پر بچے کی اور غلام پر غلام کی گواہی جائز ہے ۔ ہمیں عبدالرحمن بن سیما نے روایت بیان کی ، انہیں عبداللہ بن احمد نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں عبدالرحمن بن ہمام نے کہ میں نے قتادہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا کہ حضرت علی ؓ گواہی کے سلسلے میں بچوں سے پوچھتے اور ان سے معلومات حاصل کرتے تھے ( یعنی ان سے گواہی نہیں لیتے تھے ) یہ روایت پہلی روایت کو کمزور کردیتی ہے۔
حسن بن غیاث نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →814 کاتب اور گواہ میں سے کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے : " یُضَارَّ " کا لفظ مضارع معروف بھی ہوسکتا ہے، یعنی " یُضَارِرُ " بروزن " یُقَاتِلُ " کہ نقصان نہ پہنچائے لکھنے والا اور گواہی دینے والا، مثلًا یہ کہ تحریر و شہادت کے تحمل یا اس کی ادائیگی میں وہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے، اور یہ لفظ مضارع مجہول بھی ہوسکتا ہے یعنی " یُضَارَرُ " بروزن " یُقَاتَلُ " کہ نقصان نہ پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو، مثلًا یہ کہ اس مقصد کیلئے ان کو اپنے ضروری کام چھوڑنے پر مجبور کیا جائے، یا ان کو اس مقصد کیلئے سفر کرنے پر سفر خرچ بھی نہ دیا جائے، یا ان کو کسی اور طرح الجھایا اور پھنسایا جائے وغیرہ۔…
Read the full tafseer →گروی (رہن) رکھنے کی ہدایت
تشریح : پچھلی آیت سے تعلق رکھنے والا ایک نکتہ اور بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم کہیں سفر میں ہو قرض لیناپڑ جائے تو لین دین میں کاتب نہ ملے تو رہن کا معاملہ کرلیا جائے رہن کا مطلب ہے کہ قرض لینے والا اپنا کوئی سرمایہ قرض دینے والے کے پاس امانت کے طور پر رکھ دے۔ اس شرط پر کہ جب قرض ادا کرے گا تو اپنی امانت واپس لے لے گا۔ اس میں زیور، اور مال مویشی وغیرہ شامل ہیں۔ اب اس امانت پر شرط یہ ہے کہ امانت رکھی گئی چیز پر مالی فائدہ امانت رکھنے والا (یعنی قرض دینے والا) نہیں اٹھا سکتا یہ سود ہوگا جو کہ حرام ہے۔ صرف مویشی سے کام لے سکتا ہے اور اس کا دودھ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
آیات 282- 283
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا اذاتداینتم……………واللہ بکل شیء علیم۔
آج کا دور تو تعلیم و تعلم اور نئی نئی ایجادات کا ہے اب تو بات کمپیوٹر کو بھی فیڈ کی جاسکتی ہے مگر معاملات کے بارے میں خصوصاً مالی معاملات جو اکثر جھگڑوں کی بنیاد بنتے اور پورے معاشرے کے سکون کو تباہی کے گڑھے میں پھینکنے کا سبب بنتے ہیں لیکن آج سے چودہ صدیاں پیشتر دیکھا جائے تو یہ صرف اسلام تھا جس نے انسان کو معاملات یا لین دین میں تحریر اور شہادت کا طریقہ تعلیم فرمایا کہ اس طرح سے نہ کسی کی حق تلفی ہو اور نہ فساد پیدا ہونے کا امکان رہے آج جو طریقہ رائج ہیں اسی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں جن میں اصل وہی ہے کہ لین دین…
Read the full tafseer →ف 1 یہ بیع کی ایک دوسرے شکل ہے۔ یعنی اگر تم سفر میں قرض کا معاملہ کرو اور تمہیں لکھنے ولا یا ادوات تحریر میسر نہ ہوں تو تحریر کی بجائے مدیون کو چاہیے کہ صاحب دین کے پاس کوئی چیز رہن کرھ دے۔ سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ چیز زیادہ ترسفر میں پیش آسکتی ہے ورنہ رہن حضرت میں بھی جائز ہے۔ خود آنحضرت ﷺ نے اپنی زرہ ایک یہو دی کے پاس گروی رکھ کر عملا اس کی وضاحت کردو، ) صحیحین) پس سفر میں تورہن کی نص قرآن سے ثابت ہے اور حضر میں آنحضرت کے فعل سے۔ (شوکانی) یعنی قرضدار لینے والے کا اعتبار کرے اور اس کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض دے دے تو سے بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کا قرض ادا کردے۔…
Read the full tafseer →(2:283) وان کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتبا۔ ان شرطیہ ہے ان کنتم علی سفر۔ جملہ شرط ہے۔ واؤ عاطفہ اور جملہ لم تجدوا کاتبا معطوف ہے جس کا عطف فعل شرط پر ہے (اور اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے)
فرھن مقبوضۃ۔ موصوف و صفت مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ، فعل محذوف کا ای فلیوخذ دھن مقبوضۃ (تو گروی کے طور پر کوئی چیز قبضہ میں لی جائے یعنی قرض لینے والا قرض دینے والے کو کوئی بطور رہن دیوے) یہ جملہ جواب شرط ہے۔
فان امن بعضکم بعضا۔ جملہ شرط ہے امن ماضی ۔ واحد مذکر غائب امن امانۃ۔ امان مصدر ہیں اور ان سب کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 283
لم تجدوا (تم نے نہیں پایا) ۔ ائوتمن (اعتبار کیا گیا ہے) ۔ رھن (گروی رکھنا، رہن رکھنا) ۔ ولیتق اللہ ( اور اللہ سے ڈرنا چاہئے) ۔ مقبوضۃ (قبضہ کی ہوئی (یعنی جس پر اسی وقت قبضہ کرسکتا ہو) ۔ من یک تمھا (جو اس کو چھپائے گا) ۔ فلیئود (پھر ادا کرنا چاہئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 283
اس آیت میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں کہ ادھار کے معاملے میں اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا اس وقت موجود نہیں ہے تو کوئی ایسی چیز گروی رکھ دی جائے جو اس کے قبضے میں رہے جب قرض واپس کردیا جائے تو اس کی وہ چیز جو گروی رکھی گئی ہے اس کو اسی طرح واپس کردی جائے اس میں قرض دینے والے کو تصرف کا…
Read the full tafseer →جب آدمی سفر میں ہوتا ہے تو بلکل اجنبی ہوتا ہے۔ کسی سے جان پہچان کم ہوتی ہے۔ اس سفر کی حالت میں اگر کچھ قرض لینے کی ضرورت ہو تو بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے نہ کوئی اعتبار کرتا ہے نہ کچھ قرض مل سکتا ہے۔ اس واسطے سفر کا ذکر خاص طور پر فرما کر اللہ تعالیٰ نے گروی کو اس آیت میں جائز فرمادیا ہے۔
” ولا تکتموالشہادۃ الخ “ کی تفسیر : حضرت ابن عباس ؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کا چھپانا ہے۔
مسائل القرآن : یہ مستحب ہے کہ حالت سفر میں رہن رکھنا اس آیت سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 283–284
[192] رہن بالقبضہ صرف قرض دینے والے کے اطمینان کے لئے ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ اپنے دئیے ہوئے مال کے بدلے رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھائے۔
[193] یعنی قرض لینے والا۔
[194] ایسے قرضے کو قرض دینے والے کی امانت فرمایا کیونکہ اس نے قرض لینے والے کے اعتبار پر قرض دیا گویا اس کے پاس امانت رکھوا دیا۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں رہن کی اجازت دی ہے ، اس لئے ناواقفی کے وقت اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ البتہ یہ ہدایت کی ہے کہ اگر یونہی اعتبار پر کوئی شخص قرض دے دے تو مدیون کو چاہئے کہ اس کے حسن سلوک کا خیال رکھے اور اس کی پائی پائی چکا دے ۔ اس کے بعد عام ہدایت ہے کہ کتمان شہادت اسلام میں درست و جائز نہیں کیونکہ اس سے باہمی اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔
حل لغات :
اثم : مصدر اثم ، مجرم ۔
اثم : بمعنی گناہ ۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اور اگر تم دین کا معاملہ کرتے وقت کہیں سفر میں ہو اور دستاویز لکھنے کو کاتب نہ پائو یعنی دستاویز کی تکمیل دشوار اور ناممکن ہو تو ایسی حالت میں رہن رکھنے کی کوئی چیز ہو جو مدیون دائن کے قبضہ میں دے دے تا کہ اس سے لین دار کو اطمینان حاصل ہوجائے اور اگر ایسے موقع پر تم آپس میں ایک دوسرے کا اعتبار کرو اور رہن کی ضرورت نہ سمجھو تو جس شخص کا اعتبار کیا گیا ہے یعنی مدیون اس کو چاہئے کہ جس شخص نے اعتبار کیا ہے یعنی دائن اس کا حق پورا پورا ادا کردے اور اللہ تعالیٰ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے اور شہادت کو چھپایا نہ کرو اور جو شخص شہادت کا اخفا کرے گا اور گواہی کو چھپائے گا تو اس کا قلب مجرم و…
Read the full tafseer →ف 2۔ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ رہن جس طرح سفر میں جائز ہے حضر میں بھی جائز ہے یہاں ذکر میں تخصیص سفر کی اس وجہ سے ہے کہ سفر میں اس کی ضرورت بہ نسبت حضر کے زیادہ پڑے گی۔ مسئلہ۔ جو چیز رہن رکھی جائے اس پر جب تک مرتہن کا قبضہ نہ ہوجائے وہ رہن نہیں ہوتا۔
3۔ شہادت کا اخفاء دو طرح سے ہے ایک یہ کہ بالکل بیان نہ کرے دوسرے یہ کہ غلط بیان کرے دونوں میں اصل واقعہ مخفی ہوگیا اور دونوں صورتیں حرام ہیں۔ جب کسی حق دار کا حق بدون اس کی شہادت کے ضائع ہونے لگے اور وہ درخواست بھی کرے تو اس وقت ادائے شہادت سے انکار حرام ہے چونکہ ادائے شہادت واجب ہے لہذا اس پر اجرت لینا جائز نہیں البتہ آمد ورفت کا خرچ اور خوراک…
Read the full tafseer →رہن رکھنے کا طریقہ اور اس کی حقیقت کا بیان :
502: رہن یعنی گروہ رکھنے میں سفر کا ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ سفر میں اس کی زیادہ ضرورت پیش آسکتی ہے۔ فرمایا کہ سفر میں اگر قرض لینے کی ضرورت محسوس ہو اور کاتب و گواہ دستیاب نہ ہوں تو ایسی حالت میں اطمینان کی یہی ایک صورت ممکن ہے کہ قرضدار اپنی کوئی چیز رہن کے طور پر قرض خواہ کے پاس رکھ دے اور اگر ان کو ایک دوسرے پر اعتماد ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ ہاں ! اب مدیون کو چاہیے کہ اللہ سے ڈر کر حق نہ مارے اس میں خصوصاً لفظ ” مَّقْبُوْضَةٌ 1ؕ “ سے اس طرح اشارہ پایا جاتا ہے کہ شے مرہون سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ مرتہن کو صرف اتنا حق ہے کہ اپنا قرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 282–283
The Qur'anic injunctions on Loan
An important principle of the Law of Dealings, or the Law of Contracts in modern legal terminology, has been taken up in the verses appearing above. Following this, appears a specific principle of the general rules of evidence.
These are times when writing is the rage. The written word has taken the place of human speech but think of the days of fourteen hundred years ago when almost the entire business of the world was conducted verbally. The principle of writing and retaining documents did not just exist. It was the Qur'an which first pointed out to its…
Read the full tafseer →331. This does not mean that pledge transactions are confined to journeys alone. These transactions have been specially mentioned in the context of journeys because during journeys people often have to resort to pledge transactions. Moreover, it has not been laid down that pledge transactions may be entered into only when a scribe is not available to write down the transaction. It is also permissible, if the lender is not satisfied merely with the written promise of the repayment of the loan, for the borrower to seek a loan by pledging some property to the lender. But since the Qur'an urges…
Read the full tafseer →