Ayahs 3:1–2آیت 1‘ 2:
اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ (اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وہ حی وقیوم ہے اس نے تم پر تورات و انجیل حق کے ساتھ اتاری۔ یہ اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس نے تورات و انجیل کو اتارا) ۔
انتقالِ حرکت کا مسئلہ :
الٓمٓ کی میم کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حرکت دی گئی۔ میری مراد ساکنین سے میم اور لفظ اللہ کی لام ہے۔ پھر میم کو ملانے کے لئے فتحہ دیا۔ جو کہ اخف الحرکات ہے اور کسرہ نہیں دیا کیونکہ ماقبل میم مکسور اور یائے ساکن ہے تاکہ پے درپے کسرات کی آمد لازم نہ آئے۔ میم کا فتحہ اسکے سکون کی وجہ سے اور ماقبل یاء کے سکون کی وجہ سے نہیں۔ اگر اس طرح ہوتا تو حٰمٓٓمیں بھی میم پر فتحہ دینا پڑتا حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے اگر اس نے میم کو فتحہ دیا تو یہ فتحہ لفظ اللہ کے ہمزہ سے منتقل ہو کر میم کی طرف آیا ہے۔ کیونکہ وہ ہمزہ تو ہمزئہ وصل ہے۔ جو درمیان کلام میں گر جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حرکت بھی گر جاتی ہے۔ اگر اس کی حرکت کا منتقل کرنا جائز ہوتا۔ تو اس کا قائم رکھنا بھی جائز ہوتا۔ حالانکہ اس کو ثابت رکھنا جائز نہیں۔
قراءت : یزید اور اعشیٰ نے میم کو ساکن قرار دے کر الف کو ہمزہ قطعی قرار دیا۔ بقیہ قراء نے وصل الف اور فتحہ میم کے ساتھ پڑھا۔
لفظ اللہ مبتداء اور لا الٰہ الا ھو یہ اس کی خبر ہے۔ اور ” لآ “ کی خبر مضمر ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا الٰٰٰٰہ فی الوجود الَّا ھو۔
ھُوَ : یہ موضع رفع میں موضع ” لآ “ سے بدل ہے اور اس کا اسم الحی القیوم مبتدائے محذوف کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔
ھو الحیّ ، یا ھو سے بدل ہے۔ القیوم یہ فیعول کے وزن پر قام سے ہے۔ مراد وہی ذات انصاف کو قائم کرنے والی اور ہر شخص کے اعمال پر نگران ہے۔
Ayah 3:3نزل اور انزل کا فرق :
3: نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّ قًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیلَ ۔ (اس نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ایسی کتاب جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے تھیں اور اس سے پہلے نازل فرمایا توریت کو اور انجیل کو) ۔ نَزَّلَ یعنی اسی نے اتارا۔ علیک الکتاب، الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ بالحقّیہ حال ہے یعنی اس نے قران دین حق کا حامل اتارامُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد ماقبل اتاری جانے والی کتب ہیں۔ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْل تورات و انجیل یہ دونوں عبرانی الفاظ ہیں۔ الوری اور النجل سے ان کا اشتقاق محض تکلف ہے۔
اس وقت ان کا وزن تَفْعَل اور اِفْعِیْل ہوگا اور ان کو عربی ماننا پڑے گا۔
سوال : قرآن مجید کے لیے نَزَّلَ اور تورات و انجیل کے لیے اَنْزَلَ لایا گیا ؟
جواب : کیونکہ قرآن مجید تھوڑا تھوڑا اترا اور یہ دونوں کتابیں یکبارگی مکمل طور پر نازل ہوئیں۔
Ayah 3:4آیت 4:
مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔
(اس سے پہلے سب لوگوں کی ہدایت کیلئے اور اس نے حق و باطل میں فرق کردینے والی کتابیں اتاریں، جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی آیات کا انکار کیا۔ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب انتقام والا ہے) مِنْ قَبْلُ یعنی قرآن سے پہلے ھُدًی لِّلنَّاسِسے مراد قوم موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ یا تمام لوگ مراد ہیں۔
فرقان کی مراد :
وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ فرقان سے مراد جنس کتب ہے۔ کیوں کہ تمام کتابیں حق و باطل میں فرق کرتی رہیں یا زبور مراد ہے۔ یا قرآن مجید کا تذکرہ دوبارہ اس صفت کے ذریعے اس کی عظمت شان کی خاطر کردیا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ آیات اللہ سے کتب منزّلہ مراد ہیں۔ یعنی کسی بھی آسمانی کتاب کو نہ ماننے کی وجہ سے عذاب میں ہونگے۔
ذُوا نْتِقَامٍ کا معنی سخت سزادینے والے ہیں کہ کوئی منتقم اس پر قدرت نہیں رکھتا۔
Ayah 3:5اللہ تعالیٰ ہر ایک کی حالت سے واقف ہے :
5: اِنَّ اللّٰہَ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَ رْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ (یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں) آسمان و زمین سے مراد سارے جہانوں میں ہے جسکی تعبیر فہم انسانی کے قریب کرنے کے لیے آسمان و زمین سے کردی۔
مطلب یہ ہوا کہ وہ کافر کے کفر اور مومن کے ایمان سے واقف ہے اور وہ ہر دو کو اس کا بدلہ دے گا۔
Ayah 3:66: ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَ رْحَامِ کَیْفَ یَشَآ ئُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں وہ غالب حکمت والا ہے) یُصَوِّرُکُمْ یعنی مختلف شکلیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُوہ اپنی سلطنت پر غالب اور تدبیر میں حکمت والا ہے۔
وفد نجران کی آمد :
روایت میں وارد ہے کہ جب نجرانیوں کا وفدآیا۔ جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا۔ ان کا امیر عاقب اور امیر سفر ایھم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ ان کا پادری اور عالم تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کیا اگر عیسیٰ اللہ کا بیٹا نہیں تھا تو پھر انکا باپ کون تھا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہیں ان پر نہ موت آسکتی ہے نہ آئے گی۔ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) تو فوت ہونگے اور ہمارا رب تعالیٰ تو بندوں کا نگران اور محافظ ہے۔ اور ان کو رزق دیتا ہے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اس پر قدرت حاصل نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ پر تو کائنات کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں۔ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) وہی جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو علم دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تصویر رحم مادر میں بنائی جس طرح چاہی۔ پس انکی ماں حاملہ ہوگئیں اور ان کو جنا اور دودھ پلایا۔ اور وہ کھانا کھاتے اور بول و براز کرتے تھے اور ہمارا رب تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزہ اور پاک ہے۔ پس یہ سن کر وہ تمام لاجواب ہوگئے ان کے متعلق ہی سورة آل عمران کی آیت نمبر 80 سے کچھ زائد آیات نازل ہوئیں۔ (رواہ ابن جریر وابو حاتم)
Ayah 3:77 : ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ ٰایٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰتٌ۔ فََاَ مَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَا بَہَ مِنْہُ ابْتِغَآ ئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلاَّ اللّٰہُ وَالرّٰ سِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ ٰامَنَّابِہٖ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ (وہی ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری جس کی کچھ آیات محکم ہیں اور وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری متشابہات ہیں پس جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہات کے پیچھے چلتے ہیں۔ فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے اور (مرضی کے موافق) اس کی تاویل ڈھونڈنے کی غرض سے۔ حالانکہ اس کی اصل مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اور جو لوگ علم میں مضبوط ہیں وہ کہتے ہیں سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور صرف صحیح عقل والے ہی اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں) الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ منہ من بیانیہ ہے اور ہٗ ضمیر قرآن مجید کی طرف لوٹتی ہے۔ مراد قران مجید ہی ہے۔ محکمات۔ جس کی عبارت محکم ہے کسی احتمال و اشتباہ سے محفوظ ھن ام الکتب۔ وہ کتاب کی اصل ہیں کہ متشابہات کو انکی طرف پھیرا جائے گا۔ اور ان کے مطابق مراد لیجائے گی۔ اُخَرُ یعنی دوسری آیات اس کا موصوف آیات محذوف ہے۔
متشابہات کی توضیح :
مُتَشٰبِہٰتٌ، احتمال و اشتباہ والی۔ اس کی مثال سورة طہٰ کی آیت نمبر 5 الرحمٰن علی العرش استوی ہے پس استواء تو جلوس یعنی بیٹھنے کے معنی میں ہوتا ہے اور قدرت و غلبہ کے معنی بھی آتے ہیں اور پہلا معنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق محکم دلیل اور لیس کمثلہ شیٔ۔ (الشوری آیت نمبر 11)
دوسرا قول : محکم وہ ہے جس کا حکم ہر منزلہ کتاب میں دیا گیا ہو۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت نمبر 151، قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم، الاٰیہ۔ میں فرمایا سورة الاسراء آیت نمبر 23 وقضٰی ربک الا تعبدوا الَّا اِیاہ۔ اور متشابہ وہ ہے جو اس کے علاوہ آیات ہیں۔ یا متشابہ کی ایک قسم وہ ہے جس میں ایک ہی جانب کا احتمال ہو۔ دوسری قسم یا جس میں کئی طرح کا احتمال ہو یا ایک قسم متشابہ کی وہ ہے جس کی تاویل معلوم ہوسکے یا ناسخ مراد ہے جس پر عمل ہوتا ہو اور منسوخ جس پر عمل نہ ہوتا ہو۔
تمام قرآن کی آیات محکم نہیں لائی گئیں بلکہ متشابہ بھی لائی گئیں کیونکہ اس میں ان لوگوں کیلئے ابتلاء اور امتحان ہے جو حق پرست اور متزلزل ہیں۔
متشابہات کے معانی معلوم کرنے کے لیے علماء کا باہمی ردو قدح اور طبائع کا اس میں تھکانا اور پھر محکم کی طرف اس کا لوٹا نا اس میں بہت سے عظیم الشان فوائد حاصل ہوتے ہیں اور بہت سا علم میسر آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات قرب حاصل ہوتے ہیں۔
نکتہ : قرآن مجید کی تمام آیات کے محکم ہونے کا مطلب فساد معنی سے پاک ہونا ہے اور اسی طرح متشابہ ہونے کا مطلب حسن و کمال میں ایک جیسا ہونا ہے اور بعض آیات کے محکم ہونے کا مطلب ان کے معانی کا واضح ہونا ہے اور متشابہ کا مطلب ان کے معانی کا مخفی ہونا ہے۔
اہلِ بدعت کا طرز عمل :
فََاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ۔ ٹیڑھ کا مطلب حق سے مائل ہونا ہے اور اس کا مصداق اہل بدعت ہیں۔ فَیَتَّبِعُوْنَ مَاتَشَا بَہَ یعنی وہ متشابہ کا وہ معنی اختیار کرتے ہیں جس میں احتمال ہے اور اہل بدعت کے طرز عمل کے ساتھ موافقت رکھتا ہے اور محکم سے مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اہل حق کے قول سے موافقت کرنے والا ہے۔ مِنْہُ ابْتِغَآ ئَ الْفِتْنَۃِ وہ متشابہات کے پیچھے اس لئے لگتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں دین کے سلسلہ میں فتنہ پیدا کریں اور ان کو گمراہ کریں۔ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ وہ متشابہات کے پیچھے اس لیے پڑتے ہیں تاکہ اپنی خواہشات کے مطابق اس کی تاویل کریں۔ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلاَّ اللّٰہُ حالانکہ متشابہات کی اصل مراد و منشاء کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ وَالرّٰ سِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ اور وہ لوگ جو علم میں پختہ کار یعنی جمے ہوئے ہیں اور اس پر پورا قابو ہے ان کو اس پر شبہ ہوتا ہی نہیں بلکہ مضبوط داڑھوں سے اس کو پکڑنے والے ہیں۔
نحوی تحقیق :
جمہور کے ہاں یہ جملہ مستانفہ ہے اور وقف اِلاَّ اللّٰہ پر لازم ہے اسلئے متشابہ اس کو کہتے ہیں۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
جمہور کے ہاں وَالرّٰ سِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مبتداء اور یَقُوْلُوْنَ ٰامَنَّابِہٖ یہ خبر ہے اور اس میں راسخین کے ایمان قلبی پر مدح وثناء کی گئی ہے اور کیفیت کا سوال کرنے کے بغیر اس کی حقانیت کے اعتقاد کو سراہا گیا۔
متشابہ کے نزول کا فائدہ :
سوال : متشابہات کے نزول کا کیا فائدہ ہے جبکہ اس کی حقیقی مراد معلوم نہیں۔
جواب : اللہ تعالیٰ کی جو اس سے مراد ہے اس کی حقانیت پر ایمان و اعتقاد کرنے کا امتحان اور انسانوں کا ان چیزوں کے معلوم کرنے سے قاصر رہنا جو اللہ تعالیٰ نے نہیں بتلائی اور مقرر کی۔
حضرت ابی ابن کعب ؓ کی قراءت اس کی تائید کرتی ہے۔
قراءت : ویقول الراسخون اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت ان تاویلہ الاعند اللّٰہ۔
دوسرا قول : بعض وقف نہیں کرتے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ راسخین فی العلم متشابہ کو جانتے ہیں مگر یہ قول سیاق قرآن سے موافقت نہیں کرتا۔ ( بغوی)
ویقولون یہ جملہ مستانفہ ہے اور راسخین سے حال ہے۔ معنی یہ ہوگا یہ تاویل کا علم رکھنے والے کہتے ہیں ہم متشابہ پر یا مکمل کتاب پر ایمان رکھتے ہیں کل من عند ربنا ہر ایک متشابہ ہو یا محکم وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو کہ حکیم ہیں وہ حکمت والا جس کے کلام میں تناقض نہیں۔
وما یذکر اور نصیحت حاصل نہیں کرتے یہ اصل میں یتذکر ہے۔
اِلاَّ اُولُوا الْاَلْبَابِمگر صرف عقلوں والے ہی اس میں راسخین کے عمدہ ذہن اور حسن تامل کی تعریف کی گئی ہے۔
بعض نے کہا کہ یقولون یہ راسخین سے حال ہے۔
Ayah 3:8ترغیب دعا :
8: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَاوَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًج اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا : (اے ہمارے رب تو ہمارے دلوں کو حق سے نہ پھیر کہ ان میں ٹیڑھا پن پیدا ہوجائے) بَعْدَ اِذْھَدَیْتَنَا (اس کے بعد کہ تو نے محکم پر عمل اور متشابہ کو تسلیم کرنے کی طرف راہنمائی فرمائی) وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً (اور تو اپنی طرف سے توفیق و ثابت قدمی کی نعمت عنایت فرما) اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ( بیشک آپ و ہاب ہیں) یعنی بہت زیادہ ہبہ کرنے والے ہیں۔ یہ آیت راسخین کا مقولہ ہے اور جملہ مستانفہ ہونے کا بھی احتمال ہے یعنی تم اس طرح دعا کرو۔ اور بعد والا جملہ بھی اسی طرح ہے۔
Ayah 3:9الٰہ ہونا اور وعدہ خلافی متضاد ہیں :
9: رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ (اے ہمارے رب بیشک آپ لوگوں کو جمع کرنے والے ہیں اس دن میں) یعنی لوگوں کو آپ حساب کے لیے جمع کرنے والے ہیں۔ قیامت کے دن یا قیامت کے فیصلے کے لیے۔ لَّارَیْبَ فِیْہ (جس کے واقع ہونے میں شک نہیں) اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (بےشک اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) میعاد کے معنی وعدہ ہے مطلب یہ ہے کہ الوہیت وعدے کی خلاف ورزی کے منافی ہے جیسے کہتے ہیں۔ ان الجواد لا یخیب سائلہ سخی اپنے سائل کو ناکام نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ مسلمانوں اور کفار سے ثواب و عقاب کا کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ فرمائیں گے۔
Ayah 3:1010: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًاط وَاُولٰٓپکَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّار۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ (بےشک جو لوگ کافر ہوئے) رسول کا انکار کر کے لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ ( ہرگز ان کو فائدہ نہیں دیں گے) یا ان سے ہرگز دور نہ کریں گے۔ اَمْوَالُھُمْ وَ لَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ (ان کے مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے) یا چھڑانے کے لیے شَیْئًا (کچھ بھی) فائدہ نہ دینا۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّار (وہ لوگ اس آگ کا ایندھن ہونگے ) ۔
Ayah 3:1111: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاَخَذَ ھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ ، وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (انکی عادات فرعون اور جو ان سے پہلے ہوئے ان جیسی ہیں) الدأب کا لفظ دأب فی العمل سے لیا گیا۔ جبکہ اس میں کوشش کرے۔ پس انسان کی حالت و کیفیت کی جگہ اس کو لایا گیا۔
نحو و قراءت :
کاف محلاً مرفوع ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ دَأب ھٰؤ لاء الکفرۃ فی تکذیب الحق کدأب من قبلھم من آل فرعون وغیرھم کہ ان کفارکا طرز عمل حق کو جھٹلانے میں آل فرعون وغیرہ کی طرح ہے۔
یا یہ کاف محلاً منصوب ہے عامل لن تغنی ہے۔ یعنی لن تغنی عنھم مثل مالم تغن عن اولئک ان کو بھی کوئی چیز کام نہ آئے گی۔ جیسے ان کو کام نہ آئی۔
قراءت : کدأب یہ ابو عمرو کے ہاں بلا ہمزہ پورے قرآن میں پڑھا جائے گا۔
سوالِ مقدر کا جواب :
کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا (انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا) یہ دابھم کی تفسیر ہے یا جو ان کا انجام ہونے والا ہے اس کی تفسیر ہے۔
اس صورت میں یہ ایک سوال مقدر کا جواب بنے گا جو ان کے حالات کے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ انکی حالت کس طور پر ان جیسی ہے اس حال میں کہ انہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، فَاَ خَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْپس اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا) یعنی پکڑ کا سبب گناہ تھے، عرب کہتے ہیں اخذ تہ بکذا یعنی میں نے اس پر اس کو سزا دی، بدلہ دیا۔ وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَاب : اللہ تعالیٰ سخت بدلہ والے ہیں) یعنی اس کا بدلہ بڑاسخت ہے۔ یہ اضافت اضافت محضہ نہیں ہے۔
Ayah 3:1212: قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِہَادُ ۔ قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (آپ کفار کو کہہ دیں) کفار سے مراد یہاں مشرکین مکہ ہیں۔ سَتُغْلَبُوْنَ (عنقریب تم مغلوب ہوگے) یعنی بدر کے دن۔ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَھَنَّمَ ( اور تم کو جہنم کی طرف جمع کیا جائے گا) یعنی گہرے کنوئیں سے جہنم کی طرف اکٹھا کریں گے۔
قراءت : حمزہ و علی نے تُحْشَرُوْنَ کو یاء سے یُحْشَرُوْنَ پڑھا ہے۔
اس طرح ستغلبون کو سیغلبون۔ وَبِئْسَ الْمِہَادُ (اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے) مھاد مستقر کو کہتے ہیں اور وہ جہنم ہے۔
Ayah 3:1313: قَدْ کَانَ لَکُمْ ٰایَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْھِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِ ۔ قَدْ کَانَ لَکُمْ ٰایَۃٌ (تمہارے لئے بڑا نمونہ ہے) کُمْ سے خطاب مشرکین مکہ کو ہے۔ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا (ان دو گروہوں میں جو آپس میں ملے) یعنی بدر کے دن (معرکہ آراء ہوئے) فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے) اور وہ مومن ہیں وَاُخْرٰی (اور دوسرا گروہ) کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَیْھِمْ (کافر ہے جو ان کو اپنے سے دوگنا دیکھتا ہے) نمبر 1۔ یعنی مشرک مسلمانوں کو اپنی تعداد سے دوگنا یعنی دوہزار دیکھتے ہیں۔
نمبر 2: مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا چھ سو چھبیس یا اٹھائیس، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تعداد کفار کو دوگنی کر کے دکھائی تاکہ کفار مرعوب ہوں۔ اور مسلمانوں کے ساتھ لڑنے میں بزدل ہوجائیں۔
قراءت : تَرَوْنَھُمْ نافع نے پڑھا۔ مطلب یہ ہوا۔ نمبر 1۔ اے مشرکین قریش تم مسلمانوں کو اپنے کافر گروپ سے دو مثل دیکھتے تھے۔ نمبر 2: ان مسلمانوں کی ذاتی تعداد سے دوگنا دیکھتے تھے اور یہ مفہوم سورة انفال کی اس آیت کے مخالف نہیں وَیُقَلِّلُکُمْ فِیْ اَعْیُنِہِمْ (الا نفال۔ 44) ( وہ تمہیں تھوڑا دکھا رہا تھا ان کفار کی آنکھوں میں) کیونکہ ابتداء میں کفار نے مسلمانوں کی تعداد کو قلیل دیکھا تبھی تو جرات مند ہو کر لڑنے لگے۔ جب حملہ آور ہوگئے تو مسلمانوں کی تعداد کو زیادہ دکھا یا یہاں تک کہ کفار مغلوب ہوگئے۔ گویا تقلیل و تکثیر دو مختلف حالتوں میں واقع ہوئی۔ اس کی نظیر کہ مختلف حالات پر محمول کیا جائے۔ یہ آیت ہے۔ فَیَوْمَپذٍ لَّا یُسْئَلُ عَنْ ذَنچْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّ لَاجَآنٌّ۔ [ الرحمن 39] اور دوسری آیت وَقِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ (الصافات 24) ایک آیت میں سوال کا ہونا اور دوسری میں سوال کا نہ ہونا مذکور ہے۔ اور اس سے الگ الگ حالتیں مراد ہیں)
انکی قلت و کثرت ظاہر کرنا قدرت کو زیادہ ظاہر کرنے والا ہے۔ اور نشان قدرت اس سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔
نحو : مثلَیھم حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ یہ دیکھنا آنکھوں سے تھا جیسا کہ رَاْیَ الْعَیْنِ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ رأی العینکا معنی کھلی آنکھوں سے جسمیں کوئی التباس نہ تھا۔ وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت سے جسکی چاہتے ہیں مدد کرتے ہیں) جیسا کہ اہل بدر کی تعداد دشمن کی آنکھوں میں زیادہ کر کے نصرت فرمائی۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ ۔ (اس میں) یعنی تکثیر و تقلیل میں لَعِبْرَۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِ (نصیحت ہے بصیرت والوں کیلئے )
Ayah 3:1414ـ: زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔ زُیِّنَ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلئے مزین کردیا گیا) جمہور کے نزدیک مزین کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں جیسا کہ اس ارشاد میں اِنَّاجَعَلْنَا مَاعَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا لِنَبْلُوَھُمْ (الکہف۔ 7) (بیشک ہم نے زمین کیلئے جو کچھ اس پر ہے اس کو زینت بنایا تاکہ ہم ان کو آزمائیں) مجاہد کی قراءت اس کی دلیل ہے۔ زَیَّنَ لِلنَّاسِ میں فعل معروف کے ساتھ مذکور ہے۔ حضرت حسن (رح) سے فاعل الشیطان بھی مـذکور ہے۔
ذریعہ شہوات کو شہوات کہا :
حُبُّ الشَّھَوٰتِ (خواہشات کی محبت) شہوت، کسی چیز کی طرف نفس کی شدید خواہش نمبر 1۔ وہ اعیان جو ذریعہ شہوات ہیں ان کو مبالغۃً خود شہوات کہہ دیا۔ نمبر 2۔ ان اسباب کو شہوات کہہ کر انکی حقارت و خست کی طرف اشارہ کیا کیونکہ شہوت حکماء کی نگاہ میں رذالت ہے اور اس کا پیروکار قابل مذمت ہے اور اپنے نفس پر بہیمیت کی گواہی دینے والا ہے۔ اور مشاہدہ کرنے والا ہے۔ مِنَ النِّسَآئِ (عورتوں سے) اس میں لونڈیاں بھی داخل ہیں۔ وَالْبَنِیْنَ (اور بیٹوں سے) یہ ابن کی جمع ہے۔ اس مقام کے علاوہ یہ مذکرو مؤنث ہر دو کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
یہاں صرف بیٹے مراد ہیں۔ کیونکہ طبیعت میں انکی طلب زیادہ ہوتی ہے اور عموماً دفاع بھی ماں باپ کی طرف سے یہی کرتے ہیں۔
وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ : (اور جمع شدہ خزانے) یا مدفون خزانے۔ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ : (سونے چاندی سے )
لطیف نکتہ :
سونے کو ذہب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ خرچ کرنے سے جلد زائل ہوجاتا ہے۔ اور فضہ کو فضہ کہنے کی وجہ یہ ہے۔ وہ خرچ سے متفرق و منتشر ہوجاتی ہے۔
الفضّ : تفریق کو کہا جاتا ہے۔ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ ( اور نشاندار گھوڑے ) ۔
نکتہ : خیل کو خیل کہنے کی وجہ کیونکہ وہ نازو انداز سے چلتے ہیں۔ مسوّمہ کا معنی نشان زدہ۔ السومہ علامت کو کہتے ہیں۔ یا چرنے والے یہ اسام الدابۃ وسوّمھا سے ماخوذ ہوگا۔ وَالْاَنْعَامِ (اور چوپائے) اس سے مراد وہ آٹھ قسمیں ہیں (جن کا تذکرہ سورة انعام میں ہے) وَالْحَرْثِ ( اور کھیتی) ذٰلِکَ (یہ) مراد مذکورہ اشیاء۔ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا : (دنیا کی زندگی کا سامان ہے) جن سے دنیا میں انسان نفع اٹھاتا ہے۔ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہی کے ہاں اچھا ٹھکانہ ہے) ماٰب لوٹنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
Ayah 3:1515: قُلْ اَؤُ نَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَرَبِّھِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ ۔ پھر ان کو دنیا میں زہد کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے بہتر کی اطلاع و خبر نہ دوں۔ قُلْ اَؤُ نَبِّئُکُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِکُمْ ، (آپ فرما دیں کیا میں تم کو ایسی چیز بتلا دوں جو بہتر ہے ان تمام چیزوں سے) ان تمام سے بہتر جو مذکور ہوئیں۔ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَرَبِّھِمْ جَنّٰتٌ۔ (متقین کیلئے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں)
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس میں اس بات کی طرف دلالت ہے کہ یہ چیز مذکورہ چیزوں سے بہت بہتر ہے۔ جَنّٰتٌ مبتدا اور لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا اس کی خبر ہے۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ (جن کے نیچے نہریں جاری ہیں) یہ جَنّٰتٌ کی صفت ہے۔ اور للذین کا لام خیرکا متعلق بھی بن سکتا ہے۔
وجہ تخصیص :
متقین کو جَنّٰتٌکے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جنات سے فائدہ حاصل کرنے والے ہیں۔
مسئلہ : جنات کو مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مبتداء ھو محذوف ہے۔ جنہوں نے جنات کو کسرہ سے پڑھا۔ وہ اس کا مؤید ہے۔ کیونکہ اس صورت میں خیر سے بدل ہے۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ (وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ان میں پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی) رضوان کا معنی رضائے الٰہی ہے۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ (اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والے ہیں) ان کے اعمال سے واقف ہیں۔ پس انہیں بدلہ عنایت فرمائیں گے۔ یا متقین کو اللہ تعالیٰ دیکھنے والے اور ان کے احوال سے واقف ہیں۔ اسی لئے ان کے لئے باغات تیار کیے۔
Ayah 3:1616 : اَ لَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ ٰامَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ : (وہ لوگ جو کہتے ہیں)
نحو : یہ امدح فعل کی وجہ سے منصوب ہے یا محذوف مبتداء کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے یا متقین کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ عباد کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ رَبَّنَآ اِنَّنَا ٰامَنَّا (اے ہمارے رب ہم ایمان لائے) تیری دعوت کو قبول کرتے ہوئے۔ فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا (تو ہمارے گناہ ہمیں بخش دے) اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے۔ وَقِنَا عَذَابَ النَّار : (اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) اپنے فضل و کرم سے
Ayah 3:17صفاتِ صالحین :
17۔ اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ اَلصّٰبِرِیْنَ (وہ صبر کرنے والے ہیں۔ طاعات پر اور مصائب پر
نحو : یہ بھی امدح فعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
وَالصّٰدِقِیْنَ (وہ سچ بولنے والے) حق بات کہہ کر زبانی سچ اور احکام پر عمل کر کے فعلی سچ اور پختہ ارادہ پور اکر کے نیت سے سچائی اختیار کرنے والے ہیں۔ وَالْقٰنِتِیْنَ (اور عاجزی کرنے والے ہیں) دعوت دینے والے ہوں یا اطاعت اختیار کرنے والے ہوں وَالْمُنْفِقِیْنَ ( اور وہ خرچ کرنے والے ہیں) وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ (اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے ہیں) یعنی نماز پڑھنے والے یا مغفرت طلب کرنے والے۔
تخصیص سحر کی وجہ :
سحری کے وقت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ قبولیت دعا کا وقت ہے اور خلوت کا وقت بھی ہے۔ حضرت لقمان ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا۔ اے بیٹے ! مرغا تم سے زیادہ عقل مند ثابت نہ ہو کیونکہ وہ تو سحری کے وقت اذان دے اور تو سویا رہے۔
فائدہ : نمبر 1: بار بار صفات کے درمیان وائو کو لا کر بتلا دیا کہ وہ ہر صفت میں کامل ہیں۔ نمبر 2۔ ہر صفت تعریف میں اپنے مقام پر مستقل حیثیت رکھتی ہے۔
Ayah 3:18سب سے بڑی شہادت :
18 : شَھِدَ اللّٰہُ اَ نَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ ، وَالْمَلٰٓپکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآپمًام بِالْقِسْطِ ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔
شَھِدَ اللّٰہُ (اللہ گواہ ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا یا فرمایا اَنَّہٗ (اس کا) لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ ، وَالْمَلٰٓپکَۃُ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں) اس وجہ سے کہ انہوں نے اس کی عظیم قدرت کو آنکھوں سے دیکھا۔ وَاُولُوا الْعِلْمِ (اور علم والے) یعنی انبیاء ( علیہ السلام) اور علماء گواہی دیتے ہیں کہ قآپمًام بِالْقِسْطِ (وہ اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں) وہ رزق اجل ثواب و عقاب کی تقسیم میں انصاف کرنے والے ہیں اور جو اس نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے معاملے میں انصاف کا حکم دے رکھا ہے اور باہمی برابری کا فرما دیا ہے۔
نحوی تحقیق :
نمبر 1۔ اللہ کے لفظ سے حال ہے یعنی انصاف کے ساتھ تمام مخلوق کا انتظام وانصرام کرنے کی حالت میں وہ شاہد ہے عدل کے ساتھ
نمبر 2: ہو ضمیر سے حال ہے اس کو مفرد لانا حال کے نصب کی وجہ سے جائز ہے البتہ اس کے دونوں معطوفوں کو مفرد لانا صحیح نہیں۔
اگر تم کہو جاء زید وعمرو راکبا : یہ کہنا درست نہیں کیونکہ التباس کا خطرہ نہیں البتہ اس طرح کہنا جاءنی زید و ھند راکبا تو یہ درست ہے کیونکہ تمیز مذکر لائی گئی ہے اور مؤنث مذکر کے تابع ہے۔
نمبر 3: فعل مدح محذوف ہے اس کا یہ مفعول ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی) کو دوبارہ تاکید مزید کے لیے لایا گیا (دلائل کے بعد توحید کی طرف مزید توجہ کے لئے لائے) الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ : (وہ زبردست حکمت والا ہے) وہ اپنی حکومت میں غالب اور صنعت میں حکیم ہے۔
نحوی تحقیق :
یہ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یعنی ہو العزیز الحکیم یہ ہُوَ کی صفت نہیں کیونکہ ضمیر نہ صفت بنتی ہے نہ موصوف۔ پس معنی یہ ہوگا کہ وہ ایسا زبردست کہ مغلوب نہیں ہوسکتا۔ اور ایسا حکیم کہ حق سے ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔
Ayah 3:1919: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ، وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَھُمْ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ : (بےشک دین اللہ کے ہاں اسلام ہی ہے) یہ جملہ مستانفہ ہے (یہ جمہور کی قراءت کے مطابق ہے)
قراءت : کسائی نے اَنَّ الدِّیْنَ پڑھا۔ اس صورت میں اَنَّہٗ لآ اِلٰہ اِلَّا ھُو سے بدل ہے یعنی شہد اللّٰہ اَنَّ الدین الایۃ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دین اللہ تعالیٰ کے ہاں اسلام ہے۔
آیت کی فضیلت :
ہیثمی نے مجمع الزوائدجلد نمبر 6۔ 1 ور طبرانی نے ضعیف سند سے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ جس نے اس آیت کو سوتے وقت پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار مخلوق پیدا کردیتے ہیں۔ جو اس کے لیے قیامت تک استغفار کرتے رہیں گے۔ اور جس نے اس آیت کو پڑھنے کے بعد یہ کہہ لیا میں بھی وہی شہادت دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور اس شہادت کو اللہ تعالیٰ کے پاس بطور امانت رکھتا ہوں۔ یہ اسلام کی شہادت اللہ تعالیٰ کے پاس میری امانت ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے پاس میرے بندے کا عہد ہے اور میں سب سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا ہوں لہٰذا میرے بندے کو جنت میں داخل کردو۔ (بغوی فی الدرجلد نمبر 2)
وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ : (نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی) اُوْتُوا الْکِتٰبَ سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ ان کا اختلاف یہ تھا کہ انہوں نے اسلام کو چھوڑ دیا یعنی توحید کو چھوڑ کر نصاریٰ نے تثلیث اور یہود نے ابنیت عزیر کا عقیدہ بنالیا۔
اصل سبب اختلاف :
اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ (مگر ان کو علم ہوجانے کے بعد) کہ یہ اسلام ایسا حق ہے جس سے مفر نہیں بَغْیًام بَیْنَھُمْ (اپنے مابین عنا دو حسد کی وجہ سے) یعنی
نمبر 1: اس اختلاف کی وجہ اپنے مابین حسد کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔ اور دنیاوی اغراض اور عہدوں کی طلب وجہ اختلاف بنی اور لوگوں کی ایک جماعت کو اپنا پیر بنانا اس کا سبب تھا۔ اسلام میں کسی قسم کا اشتباہ اس اختلاف کا مبنیٰ نہیں تھا۔
نمبر 2: اختلاف سے مراد نبوت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام تھی کیونکہ کچھ لوگوں نے ان میں سے آپ ﷺ کو مان لیا جبکہ دوسرے منکر ہوگئے۔
نمبر 3: اوتوا الکتٰب سے مراد خاص یعنی نصرانی ہیں اور اختلاف سے مراد پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) کے سلسلہ میں اختلاف کرنا ہے۔ کہ ان کو یہ معلوم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (مگر انہوں نے ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا)
وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : (جو اللہ کی آیات کا انکار کریگا) آیات سے مراد دلائل و براھین ہیں۔ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ : (بےشک اللہ جلد بدلہ چکانے والے ہیں )
Ayah 3:20مجادلین خاص و عام :
20: فَاِنْ حَآ جُّوْ کَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ ۔ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ، وَاللّٰہُ بَصِیْرٌمبِالْعِبَادِ ۔ فَاِنْ حَآ جُّوْ کَ (پس اگر وہ آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں) کہ اللہ تعالیٰ کا دین تو اسلام ہی ہے۔ مجادلہ کرنے والوں سے مراد جمہور کے نزدیک وفد بنی نجران ہے۔ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ (تو آپ ان سے کہہ دیں میں نے اپنے نفس اور تمام اعضاء کو اللہ وحدہ کے سپرد کردیا ہے) اور میں نے اس کی عبادت میں کسی کو شریک قرار نہیں دیا۔ اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو حاجات میں پکارتا ہوں۔ یعنی میرا دین تو دین توحید ہے اور یہی وہ مضبوط دین ہے جسکی صحت تمہارے ہاں بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ میرے ہاں ثابت ہے میں کوئی انوکھی چیز تو نہیں لایا۔ کہ جس کی مخالفت پر تم اترے ہوئے ہو۔ اور اس کی مثل یہ آیت ہے۔
قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍم بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَانُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (آل عمران 64)
اس میں انکی حجت بازی کا جواب ہے کہ جس پر میں اور ایمان والے قائم ہیں وہ ایسا یقین ہے جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ پھر ان کا اس کے متعلق جھگڑا بالکل بےجا ہے۔
قراءت : مدنی، شامی، حفص، اعشی، برجمی رحمہم اللہ نے وَجْھِیَ پڑھا ہے۔
وَمَنِ اتَّبَعَنِ (اور جو میرے پیرو کار تھے انہوں نے بھی) اسلمتُ کی تاء پر اس کا عطف ہے یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اپنی ہستی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا وائو فاصلہ کے لیے لائی گئی ہے اور اگر وائو کو مع کے معنی میں مان لیں تو یہ مفعول معہ بن جائیگا۔ ومن تبعنی یہ دونوں حالتوں میں آتا ہے۔ سہل و یعقوب نے وصل میں ابو عمرو کی موافقت کی ہے۔ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ (ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی، کہہ دیں) مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ وَالْاُمِّیّٖنَ ( اور ان پڑھوں کو) یعنی جن کے پاس کوئی کتاب نہیں، جیسے مشرکین عرب۔
استفہامِ توبیخی :
ئَ اَسْلَمْتُمْ (کیا تم بھی اسلام لاتے ہو) کوفی کے نزدیک دونوں ہمزوں کے ساتھ ہے
نمبر 1: اسلام کے دلائل واضح ہوچکے کیا اب تم اسلام کو قبول کرتے ہو یا اس کے بعد بھی کفر پر قائم رہتے ہو۔
نمبر 2 یہ بظاہر تو صیغہ استفہام کا ہے مگر معنی امر کا ہے کہ تم اسلام لائو۔ پس یہ کلام فہل انتم منتھون (سورۃ المآئدہ آیت نمبر 91) کی طرح بن گیا۔ ای انتھوا گویا استفہام تو بیخی ہے۔
فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا (پس اگر وہ اسلام لائیں تو وہ ہدایت پا گئے) یعنی انہوں نے ہدایت کو پالیا اس لیے کہ وہ گمراہی سے ہدایت کی طرف نکل آئے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ( اور اگر وہ اسلام سے روگردانی اختیار کریں پس تمہارے ذمہ پہنچا دینا ہے) یعنی وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں دے سکتے۔ اس لیے کہ آپ خبردار کرنے والے رسول ہیں۔ آپ کے ذمہ پیغام کو پہنچانا اور ہدایت کے راستے سے متنبہ کرنا ہے۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌمبِالْعِبَادِ (اللہ تعالیٰ تمام بندوں کو خوب دیکھتا ہے) پس مومن و کافر میں سے ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا۔
Ayah 3:2121 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ ۔ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذابٍ اَلِیْمٍ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ (بےشک جو لوگ کفر کرتے ہیں) سے مراداہل کتاب ہیں۔ جو اپنے آبائو و اجداد کے فعل قتل انبیاء پر راضی تھے۔ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ (اللہ کی آیات کے ساتھ اور انبیاء کو قتل کرتے) بِغَیْرِ حَقٍّ : (ناجائز) یہ َیَقْتُلُوْنَ کا حال مؤکد ہے کیونکہ کسی بھی نبی برحق کا قتل تو بہر حال ناحق ہی ہے۔
(ان کے معاملے کی شناعت بیان کردی کہ خود بھی ناحق سمجھنے کے باوجود قتل کا ارتکاب کرتے تھے ورنہ وہ اپنے ہاں قتل کی کوئی وجہ جواز نہ رکھتے تھے) ۔
قتل انبیاء و زُہاد :
وَیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ : (وہ ان لوگوں کو جو لوگوں کو انصاف کا حکم دیتے ہیں قتل کرتے ہیں) الْقِسْطِ کا معنی عدل ہے۔
قراءت : ہمزہ نے یقاتلون پڑھا ہے۔ مِنَ النَّاسِ : (لوگوں میں سے) یعنی انبیاء ( علیہ السلام) کے علاوہ۔ رسول اللہ نے فرمایا بنی اسرائیل نے 43 انبیاء کو ایک ساعت میں دن کے ابتدائی حصہ میں قتل کیا۔ پھر بنی اسرائیل کے زہاد کی ایک جماعت جنکی تعداد ایک سو بارہ (112) تھی۔ انہوں نے ان قاتلین کو امر بالمعروف کیا اور ممنوعات سے روکا اور معروف کا حکم دیا چناچہ اسی دن کے آخر میں ان تمام کو قتل کردیا گیا۔ (ابن جریرجلد نمبر 2)
فَبَشِّرْ ھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (پس ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو ) یہ اِنّ کی خبر ہے اور اس پر فاء اس لیے لائے کیونکہ اِنّ کا اسم جزاء کے معنی کو متضمن ہے۔ (جس سے اس کو شرط سے مشابہت پیدا ہوگئی) گویا اس طرح کہا گیا الذین یکفرون فبشرھم معنی اس طرح ہوگا۔ جو کفر کرے گا تم ان کو خوش خبری دے دو ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِنّ ابتدا کے معنی کو تبدیل نہیں کرتا۔ اور وہ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے گویا اس کا داخل ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔ اگر اس کی جگہ لیت اور لعل ہوتے تو فاء سے انکی خبر نہ لائی جاسکتی کیونکہ وہ جملہ خبر یہ کو انشاء کی طرف منتقل کردیتے ہیں۔ جس سے شرط کی مشابہت فوت ہوجاتی ہے۔
Ayah 3:2222: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (یہ وہی لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے۔ دنیا اور آخرت میں) پس دنیا میں تو لعنت و رسوائی انکا مقدر ہے۔ اور آخرت میں عذاب ہے۔ وَمَالَہُمْ مِنْ نّٰصِرِیْنَ (اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا) ۔ جو بربادی اعمال اور گرفتاری عذاب سے بچا سکے نٰصِرِیْنَ کو آیات کے وقوف کی رعایت سے جمع لائے ورنہ واحد نکرہ نفی کے عموم کو ظاہر کرتا ہے۔
Ayah 3:2323۔ اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْانَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ۔ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (کیا نہیں دیکھے آپ نے ایسے لوگ جو دیئے گئے کتاب کا ایک حصہ وہ بلائے جاتے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے درمیان پھر ایک جماعت ان میں سے منہ موڑنے والی ہے) ۔ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاسے مراد احبار یہود ہیں جنہوں نے تورات کا وافر حصہ پایا تھا مِنْ تبعیض کے لیے یا بیان کیلئے ہے یُدْعَوْنَ یہ الذین سے حال واقع ہے کتاب اللہ سے مراد تورات یا قرآن مجید ہے۔
کتاب یا نبی فیصلہ کرے :
لیحکم بینھم تاکہ وہ کتاب ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ کتاب کو حاکم سبب حکم کی وجہ سے کہا گیا۔ (گویا حکم کی نسبت اسکی طرف مجازی ہے) یا وہ نبی انکے درمیان فیصلہ کرے۔ روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ انکے مدرسہ میں تشریف لے گئے اور انکو اسلام کی طرف بلایا تو آپ کو نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے کہا تو کس دین پر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ملت ابراہیم ( علیہ السلام) پر دونوں کہنے لگے ابراہیم ( علیہ السلام) تو یہودی تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا آئو تورات سے اس بات کا فیصلہ کرلیں۔ تو دونوں نے انکار کردیا۔ (ابن جریر جلد نمبر 2)
ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ (پھر ایک جماعت ان میں سے منہ موڑنے والی ہے) اس جگہ ثُمَّ استبعاد کے لیے لا کر بتلایا گیا کہ (سزائے رجم سے منہ موڑنا بہت بعید ہے) مگر وہ ہمیشہ اعراض کو اپنا مذہب بنائے رہیں گے۔
Ayah 3:24آیت 24:
ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَ یََّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۔ وَغَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِہِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ یہ (اعراض) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں ہرگز جہنم کی آگ سوائے چند دنوں کے نہ چھوئے گی اور ان کو دھوکے میں انکی افتراء پر دازیوں نے ڈالا ہے) ذٰلِکَ کا مشار ٌ الیہ روگردانی اور اعراض ہے جس کا سبب انکا عذاب کے معاملے کو معمولی قرار دینا اور چنددنوں میں جہنم سے فراغت کا گمان ہے وہ قلیل مدت چالیس دن یا سات دن ہیں۔
نحو : ذٰلک مبتداء بانّھم اس کی خبر ہے۔ وَغَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِہِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ یعنی ان کو ان کے افتراء علی اللّٰہ نے دھوکہ میں ڈال دیا اور وہ افتراء یہ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں وہ ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے معمولی مدت سزا دے گا۔
Ayah 3:2525: فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۔ (پس انکا کیا حال ہوگا جب ہم ان کو ایک یقینی دن میں جمع کریں گے۔ اور ہر شخص کو اس کے کیے کا پوراپورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کی حق تلفی نہ کی جائے گی) فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ۔ (اس وقت میں ان کا کیا حال ہوگا جس دن کی آمد میں کوئی شبہ نہیں)
وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ جزائے اعمال مراد ہے وَھُمْ یہ جمع کی ضمیر کُلُّ کے معنی کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ وہ کل الناس یعنی جمع کے معنی میں ہے۔ لاَ یُظْلَمُوْنَ یعنی کسی انسان کی نہ نیکی میں کمی ہوگی اور نہ برائیوں میں اضافہ۔
Ayah 3:2626: قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآ ئُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ ، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (آپ کہہ دیں کہ اے اللہ جو تمام ملک کا مالک ہے تو جس کو چاہے بادشاہ بنا دے اور جس سے چاہے بادشاہت چھین لے اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔ ساری بھلائی تیرے ہی (مبارک) ہاتھ میں ہے بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے) ۔
اسم جلالی کی خصوصیت :
قُلِ اللّٰھُمَّ ۔ اللّٰھم اصل میں یا اللہ ہے حرف نداء کو حذف کر کے میم بدلے میں لائے اور میم اور یاء دونوں نہیں لائے کیونکہ اصل و عوض جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ اسم جلالہ کی ایک خصوصیت ہے۔
نمبر 2: دوسری خصوصیت لام تعریف کے ساتھ حرف نداء کا آنا ہے۔
نمبر 3: تیسری خصوصیت اس کا ہمزہ قطعی ہے۔
نمبر 4: چوتھی خصوصیت یہ تفخیم کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
نمبر 5: پانچویں خصوصیت اس پر تاء قسمیہ آتی ہے۔ تَاللّٰہِ
مٰلِکَ الْمُلْکِتو جنس ملک کا مالک ہے پس تو اس میں اس طرح تصرف کرتا ہے جس طرح بادشاہ اپنی مملوکہ چیزوں میں۔
نحو : یہ دوسرا منادٰی ہے یا ملک الملک
یہود کے تعجب کا جواب :
تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآ ئُ (تو ملک میں سے جس کو جتنا تو نے اس کے لیے طے کیا ہے، دیتا ہے) وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ (یعنی تو جس سے چاہے چھین لیتا ہے) پہلا لفظ ملک عام ہے اور دوسرا اور تیسرا کل میں سے خاص ہیں روایت میں وارد ہے کہ جب مکہ فتح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت سے فارس روم کی سلطنتوں کا وعدہ فرمایا اس پر یہود و منافقین نے کہا بہت بعید بات ہے۔ کہاں محمد (ﷺ) اور کہاں مملکت فارس و روم۔ وہ تو بڑے غلبہ اور لائو لشکر والے ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری، ( اسباب النزول للواحدی)
وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ ۔ (جس کو چاہتے ہیں بادشاہی سے عزت دیتے ہیں) ۔ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآ ئُ (اور جس کو چاہتے ہیں بادشاہی چھین کر ذلیل کردیتے ہیں) بِیَدِکَ الْخَیْرُ ۔ (تیرے ہاتھ میں خیرو شر ہے) یہاں ضدین میں سے ایک کے تذکرے پر اکتفا کیا گیا (جبکہ دوسرا، خود سمجھ آجاتا ہے) یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ خیر کو خصوصیت سے اس لیے ذکر کیا کہ رفتار کلام کا تقاضا یہی تھا۔ کیونکہ ایمان والوں کی طرف خیر کو کھینچ کر لایا جارہا تھا اور کفار کو یہی بات ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ پس کہا تیرے ہاتھ میں بھلائیاں ہیں جو تو اپنے دوستوں کو عنایت فرمائے گا۔ باوجود اس کے کہ تیرے دشمن اس کو پسند نہیں کرتے۔ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے) جبکہ دوسروں کی تھوڑی بہت قدرت بھی تیری ہی قدرت کا مرہون منت ہے۔
لطیف تفسیر :
ایک اور تفسیر یہ ہے کہ ملک سے مراد سلطنت عافیت یا سلطنت قناعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کے بادشاہ میری امت کے وہ لوگ ہونگے جو ایک یوم کی خوراک پر قناعت کرنے والے ہونگے یا صرف قیام لیل کا اختیار ہے۔
حضرت شبلی (رح) فرماتے تھے کائنات کے بنانے والے پر استغناء اختیار کرنا کونین سے بےپروائی اختیار کرنا ملک ہے اور عزت سے معرفت کی عزت یا استغناء باسکون یا قناعت کی عزت مراد ہے۔ اور ذلت سے انکی اضداد مراد ہیں
فائدہ : پھر اپنی عظیم قدرت کو دن اور رات کے تقابل سے بیان کیا۔ اور زندہ اور مردہ کو ایک دوسرے سے نکالنے کا حال بیان کیا۔ اور اس پر بطور عطف بلا حساب رزق کو لائے۔
Ayah 3:27دلائلِ قدرت :
27: تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِوَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَتَرْ زُقُ مَنْ تَشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ ( تورات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جس کو تو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) ۔ تُوْلِجُ ایلاج ایک چیز کو دوسری میں داخل کرنے کو کہتے ہیں اور یہاں وہ مجاز ہے مطلب یہ ہے کہ تورات کے اوقات کو کم کر کے دن میں بڑھا دیتا ہے اور دن کے اوقات گھٹا کر رات میں اضافہ کردیتا ہے۔ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ (زندہ سے مردہ) جیسے حیوان سے نطفہ اور مرغی سے انڈہ یا مومن سے کافر۔ (وَتَرْ زُقُ مَنْ تَشَآ ئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ ) (تو جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) مخلوق اس رزق کی مقدار و کمیت نہیں جانتی اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے تاکہ یہ دلالت ہو کہ جو ذات ان عقول کو حیرت زدہ کرنے والے افعال کی قدرت رکھتی ہے پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہے بغیر حساب کے رزق دیتی ہے وہ ذات اس بات پر قادر ہے کہ عجم سے بادشاہی چھین لے اور ان کو ذلیل کر دے اور عربوں کو دے کر عزت دے دے۔
بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اللہ شہنشاہ ہوں۔ اور بادشاہوں کی پیشانیاں اور قلوب میرے قبضہ قدرت میں ہیں اگر بندے میری اطاعت کریں تو میں ان کو لوگوں پر مہربان کردیتا ہوں اور اگر میرے نافرمان ہوجائیں تو میں ان کو لوگوں پر عذاب بنا دیتا ہوں۔ پس تم بادشاہوں کو گالی دینا مشغلہ نہ بنائو بلکہ میری بارگاہ میں تو بہ کرو، تاکہ میں ان کو تم پر مہربان بنا دوں اور ارشاد نبوی کما تکونوا یولّٰی علیکم (قضاعی فی مسند الشہاب) کا یہی مطلب ہے۔
قراءت : الحی من المیّت و المیِّت من الحی قرآن مجید میں مدنی و کوفی قراء کے نزدیک شد سے پڑھے جائیں گے البتہ قاری ابوبکر اس طرح نہیں پڑھتے۔
Ayah 3:2828: لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُم تُقٰۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ، وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (مؤمن کافروں کو دوست نہ بنائیں، اہل ایمان کو چھوڑ کر جو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کا کچھ تعلق نہیں مگر یہ کہ (کافروں کی طرف سے تم کو کچھ شرکا اندیشہ ہو تو) تم ان سے بچنا اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے) موالات کفار کی ممانعت :
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مسلمانوں کو قرابت کی بناء پر کفار کے ساتھ گہری دوستی سے روکا گیا۔ یا اسلام سے قبل پائی جانے والی دوستی کی بنیاد پر ہو یا کسی بناء پر اور قرآن مجید میں یہ بات بار بار دہرائی اور حبّ فی اللہ اور بغض فی اللہ ایمان میں ایک عظیم دروازہ اور موڑ ہے۔ مِنْ دُوْنِ الْمُوْ مِنِیْنَ ایمان والوں کی دوستی کفار سے نہ ہونی چاہیئے۔ پس کفار کو ایمان والوں پر ترجیح نہ دو ۔
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ یعنی جو کفار کی موالات اختیار کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ دوست کی دوستی اور دشمن کی دوستی ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُم تُقٰۃً (مگر یہ کہ ان کی طرف سے تمہیں ایسا معاملہ پیش آئے جس سے بچنا ضروری ہو۔ ) یعنی کافر کو مسلمان پر غلبہ حاصل ہو۔ اور مسلمان کو اس کی طرف سے اپنے مال و جان کو خطرہ ہو اس صورت میں ان سے موالات کرنا اور دشمنی نہ رکھنا جائز ہے۔ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہ نَفْسَہٗ (اللہ تعالیٰ بظاہر تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں) پس کفار کی موالات اختیار کر کے اپنے آپ کو غضب الٰہی کا نشانہ نہ بنائو۔ یہ سخت وعید ہے۔ وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیرُ (تم نے اس کی بارگاہ میں پہنچنا ہے) اور عذاب اس کے ہاں تیار ہے۔ یہ دوسری وعید ہے۔