Ayahs 3:1–3الٓـمَّٓ۔ لا اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَلا الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۔ ط نَزَّلَ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لا مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ 5 ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔ ط
(ال م۔ اللہ ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ زندہ اور قائم رکھنے والا۔ اس نے تم پر کتاب نازل کی حق کے ساتھ، تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے آگے سے موجود ہے اور اس نے نازل کی تورات اور انجیل۔ اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور اس نے کسوٹی اتاری ( جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے) بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے) ( 1 تا 4)
ا لم حروف مقطعات میں سے ہے۔ سورة البقرہ کے آغاز میں ہم مقدور بھر اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔
اللہ کی الوہیت پر حیات و قیومیت کی صفات سے استدلال
ش خالق کائنات کا اسم ذاتی ہے۔ سورة الفاتحہ کے آغاز میں ہم اس کے بارے میں تفصیل سے عرض کرچکے ہیں۔ اسی بحث میں ہم نے الہ کے معنی اور مفہوم کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سورت کے اسلوبِ بیان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں استدلال بیشتر صفات الٰہی سے ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی صفات الٰہی سے استدلال کیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جو اس کائنات کی خالق ومالک اور مدبر کہی جاسکے۔ اس کائنات کی تمام مخلوقات پر اسی کی حکومت ہے ‘ اسی کا قانون ہر جگہ کارفرما ہے ‘ جن و انس پر اس کے قانونِ تکوین کے ساتھ ساتھ تشریعی قانون بھی نافذ ہے۔ اس کے اثبات کے لیے ” الحی “ اور ” القیوم “ دو صفتوں کو ذکر کیا گیا۔ الحی کا معنی ہے وہ ذات جو ازل سے زندہ ہو، جس کی زندگی ذاتی ہو، جس کی زندگی اور حیات کو کبھی زوال نہ آئے اور القیوم وہ ذات ہے جو اپنی ذات کے بل بوتے پر قائم ہو اور باقی تمام کائنات اس کے دم قدم سے باقی ‘ آباد اور زندہ ہو۔ وہ تمام کائنات کو سنبھالنے والی اور اس کو ثبات وقرار عطا کرنے والی ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں صفتیں صرف اللہ کے لیے سزاوار ہیں کیونکہ کائنات میں کوئی ایسی مخلوق نہیں جو ہمیشہ سے ہو۔ مخلوق کا تصور بجائے خود اس کے حادث ہونے کی دلیل ہے۔ یہ لفظ خود بولتا ہے کہ جس کو بھی مخلوق کہا جائے اس پر کبھی ایسا زمانہ ضرور گزرا ہوگا جب وہ معدوم تھا۔ عدم سے وجود میں آنا یہی خلق ہے۔ اللہ کی صفت تخلیق نے ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا ہے اور ہر مخلوق اور ہر چیز پر جب عدم طاری تھا تو وہ حیات سے محروم تھی۔ اس لیے اسے الحی نہیں کہا جاسکتا اور دوسری یہ بات کہ الحی وہ ہے جو ہمیشہ زندہ رہے اور اسے کبھی موت نہ آئے۔ یہ تعریف بھی اللہ کے سوا کسی اور پر صادق نہیں آتی کیونکہ کوئی ایسی مخلوق اللہ نے پیدا نہیں فرمائی جو فنا نہیں ہوگی۔ ہر مخلوق کی ایک عمر ہے۔ وہ چاہے کتنی طویل ہو لیکن کبھی نہ کبھی اس کا اختتام ہونا ہے۔ مخلوقات میں سب سے برتر مخلوق اللہ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبروں میں اللہ نے جسے سب کی سیادت عطا کی ہے وہ سید الاولین و الآخرین رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اگر عزت و حرمت اور فضل و کمال دوام کا باعث ہوتا تو کسی پیغمبر کو موت نہ آتی اور ہمارے رسول پاک ﷺ تو یقینا ہمیشہ دنیوی حیات کے ساتھ موصوف رہتے۔ لیکن سب مسلمان جانتے ہیں کہ تمام پیغمبر بھی اپنے اپنے وقت میں دنیا سے تشریف لے گئے اور آنحضرت ﷺ نے بھی دنیا سے سفر فرمایا۔ اگر کسی مخلوق کو ہمیشگی اور دوام ہوتا تو آنحضرت ﷺ کو کبھی موت کا سفر نہ کرنا پڑتا۔ امیر مینائی نے ٹھیک کہا ؎
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا
اللہ کی یہ دونوں صفات اللہ کی حیات ذاتی اور دوام مطلق پر دلالت کرتی ہیں اور اس سے بہتر اللہ کی ذات کا تعارف ممکن نہیں۔ لیکن انہی دونوں صفات کے ذریعے بعض حقائق کی طرف بھی اشارے فرمائے گئے جو ان الفاظ پر غور کرنے سے خود بخود افق ذہن پر ابھرنے لگتے ہیں۔ غور فرمایئے ! اللہ کی ذات ” الحی “ ہے۔ وہ زندہ ہونے کی وجہ سے کائنات کی ایک ایک حرکت اور ہمارے ایک ایک عمل کو دیکھ رہا ہے۔ ہمارے تصورات تک اس کے علم میں ہیں۔ ہماری کوئی چیز خفیہ ہو یا اعلانیہ اس سے مخفی نہیں۔ جن و انس کو اللہ نے عقل اور شعور سے نوازا ہے۔ وہ جب اللہ کی صفت حیات کا تصور کرتا ہے تو یقینا اس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ جب ہمارے تمام اعمال اللہ کی نگاہ میں ہیں تو کیا یہ اس کا فطری تقاضا نہیں کہ ہم جاننے کی کوشش کریں کہ اللہ کس طرح کے اعمال پر خوش ہوتا ہے اور کن اعمال سے ناخوش ہوتا ہے کیونکہ جو مخلوقات لگے بندھے طریقے سے اپنی جبلت کے جبر کے تحت زندگی کے معمولات انجام دینے کی پابند ہیں ان کے لیے تو سوچنے کا کوئی موقع نہیں ‘ لیکن جن مخلوقات کو شعور اور عقل سے نوازا گیا ہے ان کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہم جس کی نگاہوں میں ہیں اور جو ہمارا خالق ومالک بھی ہے۔ کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم اس کی نگاہوں میں رہ کر ایسے کام کریں جو اس کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ ہماری سوچ کا اولین تقاضا ہے کہ ہمیں اگر اپنے آقا کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ معلوم ہوجائے تو ہم یقینا اس طریقے سے عمل کر کے اپنے اللہ کی رضا کو حاصل کریں اور سعادت اور خوش بختی کا مقام پانے کی تگ ودو کریں۔
اسی طرح اللہ کی صفت ” قیومیت “ کو دیکھتے ہوئے خود بخود دل میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ وہ ذات جس نے ہمیں زندگی بخشی ‘ زندگی کے امکانات عطا کیے ‘ زندگی کی بقا کا سروسامان کیا ‘ ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے زمین کے اندر قوت روئیدگی رکھی اور زمین کے اوپر نعمتوں کا دسترخوان بچھا یا اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کیا کہ ہماری ضرورت کے مطابق سامانِ ضرورت پیدا کردیا بلکہ ہماری جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے حسن و جمال کی ایک پوری دنیا ہمارے گرد و پیش میں پھیلا دی۔ ہماری غذا کے لیے صرف گندم پیدا نہیں فرمائی بلکہ اس کو نقرئی لباس عطا کر کے نگاہوں کی لذت کا سامان پیدا کردیا۔ زمین کو سبزے کا مخملیں لباس پہنایا پھر زمین کی سطح پر پھولوں کے ایسے خوش رنگ دستے پھیلائے جس نے زمین کو جنت نظیر بنادیا۔ ہمیں لکڑی کی ضرورت تھی لیکن اس نے درختوں کو چھتریاں عطا کیں ‘ ہمیں پانی درکار تھا ‘ اس نے دریا بہائے ‘ چشمے اچھالے ‘ آبشاریں گرائیں اور پہاڑوں پر برف کے تودے پگھلا کر ایک ایسا حسن و جمال کا منظر پیدا فرمایا کہ جب برف کے تودے پگھلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے چاندی پگھلتی ہے۔ جب چشمے اچھلتے ہیں معلوم ہوتا ہے چاندی کے فوارے اچھلتے ہیں۔ یہ تمام ضرورتیں ہمارے جسم و جان کے رشتے کو باقی رکھنے کے لیے ہیں حالانکہ ہمارے جسم وجان کا رشتہ حیوانیت سے عبارت ہے اور انسان کی اصل قدروقیمت حیوانیت سے نہیں انسانیت سے ہے۔ جس خالق کائنات نے حیوانی ضرورتوں کو اتنی خوبصورتی اور فراوانی سے پیدا فرمایا یہ کیسے ممکن تھا کہ ہماری انسانی ضرورتوں سے صرف نظر فرماتا۔ ہمارے احساس کو کوئی غذا مہیا نہ کی جاتی، ہمارے دلوں کو یقین و ایمان سے سیراب نہ کیا جاتا، ہماری نگاہوں کو لذت شوق عطا نہ کی جاتی، ہمارے دل و دماغ کی بالیدگی کے لیے اخلاقِ عالیہ کی تعلیم نہ دی جاتی، آدبِ زندگی نہ سکھائے جاتے اور انسانی معاشرت اور انسانی رشتوں کی شیرازہ بندی کے لیے کوئی نظام زندگی نہ دیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ اس کی صفت قیومیت کے خلاف ہوتا کیونکہ یہی تو وہ دولت ہے جس سے انسانی معاشرہ ‘ انسانی سوسائٹی اور انسانی ریاستوں کے در و بست کو مضبوط کرنے اور حقوق و فرائض کے تعلقات کو استوار کرنے اور انسانوں کو انسانوں سے جوڑنے اور افادہ و استفادہ کے عمل کو مکمل کرنے کی ایک صورت پیدا ہوتی ہے۔
حیات و قیومت کا اقتضاء
اس لحاظ سے یہ دونوں صفات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ خدائے زندہ ہماری معنوی اور روحانی زندگی کے لیے بھی ہمیں راہنمائی سے نوازے اور وہ قیوم ذات ہمیں سنبھالنے اور زندگی کے سفر کو رواں دواں رکھنے کے لیے نظام زندگی عطا کرے۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا ‘ اسی کی دلیل کے طور پر فرمایا نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ (اس نے آپ پر کتاب اتاری حق کے ساتھ) حق متعدد معنی میں استعمال ہوتا ہے ‘ لیکن علامہ راغب اصفہانی نے اس کا جو مفہوم بیان فرمایا ہے وہ زیادہ جامع ہے۔ وہ لکھتے ہیں
” الحق للفعل والقول : الواقع بحسب ما یجب وقدر ما یجب وفی الوقت الذی یجب “ (مفردات)
( کوئی قول اور فعل اس وقت حق کہلاتا ہے جب وہ اس طرح پایا جائے جیسے چاہیے ‘ اس انداز سے پایا جایا جتنا مناسب اور موزوں ہو اور اس وقت پایا جائے جب کہ اس کی ضرورت ہو)
قرآن ایسے وقت آیا جب کہ پوری دنیا میں حق کی روشنی ماند پڑچکی تھی اور اندھیروں کی حکمرانی تھی اور اس شان کے ساتھ آیا کہ عقل سلیم کو مطمئن کرنے کا مکمل سامان اس میں موجود ہے ‘ دلائل وبراہین کی کوئی قسم ایسی نہیں جس سے اس کتاب میں کام نہیں لیا گیا۔ لفظی اور معنوی اعجاز کے ساتھ ساتھ ایسا ضابطہ حیات لے کے آیا جسے تجربے نے انسانی ضرورتوں کے لیے کافی و شافی پایا اور انسانی زندگی کی راہنمائی کے لیے ایسا اسلوب لے کے آیا جو وقت کے تغیرات کے ساتھ نہ صرف کہ ازکار رفتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اشاروں اور دلالتوں سے ہر دور کی ضرورتیں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ پروردگار نے انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے اور اس کی اصلاح کے عمل کو بروئے کار لانے کے لیے پہلی کتاب نازل کی ہے اور اس سے پہلے کے انسان کو اس رحمت سے محروم رکھا ہے۔ ایسا نہیں۔ بلکہ یہ کتاب تو آخری کتاب ہے ‘ جبکہ انسانیت اپنے شعور اور اجتماعی مصالح کے لحاظ سے بلوغ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس سے پہلے ہر دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق پروردگار مختلف کتابیں بھیج چکا تھا ‘ جن میں سے بطور خاص تورات اور انجیل کو ذکر فرمایا۔ یہ دونوں کتابیں قرآن کریم سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھیں اور ان دونوں کے زمانہ نزول کے دوران اور بھی کئی صحیفے اور کتابیں مختلف رسولوں پہ نازل ہوئیں ‘ لیکن ان کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا کیونکہ مقصود تمام کتابوں کا استقصا نہیں بلکہ صرف یہ بتلانا ہے کہ اللہ نے ہر دور میں اپنے حئی اور قیوم ہونے کی وجہ سے انسانوں کی رہنمائی اور سنبھالنے کے فرض کو انجام دیا۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی ہدایت نامہ اترتا رہا۔ جب زمانہ نئی ضرورتوں کو جنم دیتا یا اہل زمانہ پہلے سے منزل من اللہ کتاب کو طاق نسیان میں سجادیتے یا ترمیم اور تحریف کے ذریعے اس کی تعلیمات کو بگاڑ دیتے تو نئی کتاب نازل ہوجاتی۔ اب جبکہ کئی صدیوں سے انسان رفتہ رفتہ اپنے بگاڑ کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور پہلے سے منزل کتابیں بگاڑی اور بدلی جا چکی تھیں تو قرآن کریم قیامت تک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہدایت کی روشنی بن کر آیا اور ساتھ ساتھ فرقان بن کر بھی۔ یعنی توریت و انجیل کے حاملین نے اللہ کی تعلیمات میں جہاں جہاں حق و باطل کو آپس میں گڈمڈ کردیا تھا یا حق کو بالکل پس پشت ڈال دیا تھا کہ اجتماعی زندگی میں اس کا نشان تک باقی نہ رہا تھا تو قرآن ” فرقان “ بن کے نازل ہوا۔ اس نے ایک ایک گتھی کو سلجھایا ‘ باطل کے پردوں کو ہٹا کر حق کو اپنی اصلی شکل میں ظاہر فرمایا۔ فرقان ” کسوٹی “ اور ” حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز “ کو کہتے ہیں۔ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے ایک کسوٹی اور معیار بنادیا ہے کہ اب لوگ جب بھی ہدایت کا راستہ پانا چاہیں تو قرآن کی طرف رجوع کریں اور جہاں بھی حق و باطل میں آمیزش یا الجھائو نظر آئے تو قرآن پاک کی راہنمائی میں اس الجھائو کو ختم کرنے کا راستہ نکالیں۔
قرآن کے مصدق ہونے کا مفہوم
مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ قرآن پاک جس طرح پہلی کتابوں کے لیے فرقان بن کے آیا اسی طرح مصدّق بن کے بھی آیا۔ ان کی ہر صحیح بات کی تصدیق کی اور جو کچھ لوگوں نے غلط باتیں اس میں شامل کردی تھیں کی تردید کی۔ مصدق ہونے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ توریت و انجیل کی ایک ایک بات کی تائید و تصدیق کرتا ہے۔ اگر یہ معنی مراد لیا جائے تو یہ قرآن کریم کی اپنی وضاحتوں کے خلاف ہے کیونکہ اس نے جا بجا اہل کتاب کی خیانتیں پکڑی ہیں اور متعدد مواقع پر نشان دہی کی ہے کہ تورات میں اصل حکم یہ تھا تم نے اس کے بدلے میں یہ کردیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ وہ پہلی کتابوں کا مصدق ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی ہر صحیح بات کا مصدق ہے ‘ غلط بات کا نہیں۔
بعض اہل علم نے مصدق کا ایک اور مفہوم مراد لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلی کتابوں نے اپنی پیش گوئیوں میں آنحضرت اور قرآن پاک کی متعدد صفات بیان کی ہیں کہ وہ آخری نبی جب آئے گا تو وہ ایسی اور ایسی صفات کا حامل ہوگا۔ آپ ﷺ کے نام کا ذکر فرمایا گیا ‘ آپ ﷺ کے وطن کا ‘ آپ ﷺ کے دارالہجرت ‘ آپ ﷺ کو پیش آنے والے مصائب کا ‘ پھر آپ ﷺ کی کامیابیوں کا ‘ آپ ﷺ کے کامیاب انقلاب کا ‘ اس ضمن میں آپ ﷺ کے صحابہ کا بھی اور فتح مکہ کا بھی۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ آپ ﷺ پر کوئی کتاب اترے گی ‘ وہ کس شان و شوکت کے ساتھ نازل ہوگی ‘ اس کی تعلیمات کی جامعیت کیسی ہوگی ‘ اس میں وہ باتیں بھی کہی جائیں گی جو عیسیٰ (علیہ السلام) نہ کہہ سکے ‘ وہ کتاب پہلی کتابوں کی تعلیمات کی جامع اور اللہ کے دین کو کامل کرنے والی ہوگی۔ چناچہ جب نبی کریم ﷺ پہلی کتابوں کے بیان کردہ صفات کا حامل بن کر تشریف لائے اور قرآن کریم انہی صفات کے ساتھ مرصع ہو کے نازل ہوا جو پہلی کتابوں نے بیان کی تھیں تو اس طرح سے آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم نے پہلی کتابوں کی تصدیق کی اور دعوت دی کہ ہمیں غور سے دیکھو ‘ ہمیں پرکھو ‘ کیا ہم بالکل وہی نہیں ہیں جن کو اہل کتاب کی کتابوں نے صدیوں تک پیش گوئی کی صورت میں پیش کیا۔ اگر ہم واقعی وہی ہیں اور اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر یوں سمجھئے کہ ہم پہلی کتابوں کے مصدق یا مصداق بن کر آئے ہیں ‘ اس سے جہاں محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے اللہ کی جانب سے ہونے کی تصدیق ہوتی ہے وہیں پہلی کتابوں کی بھی منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے تو اہل کتاب کو سب سے آگے بڑھ کر آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا اور قرآن کریم کو سر اور آنکھوں پر رکھنا چاہیے تھا کیونکہ ان دونوں کی سچائی نے ان کی کتابوں کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کردی تھی ‘ لیکن وہ ایسے محروم اور بدقسمت لوگ ہیں کہ بجائے اس ہیرے کو اپنی کلغی میں سجانے کے اس کے انکار اور دشمنی پر کمر بستہ ہوگئے۔
پہلی کتابوں کے قرآن کریم کے مصدق ہونے کی وضاحت کے بعد یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جن کتابوں کو ہم توریت اور انجیل کے نام سے جانتے ہیں ان کی اصل حیثیت کیا ہے ؟ اور قرآن کریم جب ان کی تصدیق کرتا ہے تو وہ اصل میں کس چیز کی تصدیق کرتا ہے ؟ اس سلسلے میں صاحب تفہیم القرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ نہایت قابل قدر ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
تورات اور انجیل سے کیا مراد ہے ؟
عام طور پر لوگ تورات سے مراد بائبل کے پرانے عہد نامے کی ابتدائی پانچ کتابیں اور انجیل سے مراد نئے عہد نامے کی چار مشہور انجیلیں لے لیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا فی الواقع یہ کتابیں کلام الٰہی ہیں ؟ اور کیا واقعی قرآن ان سب باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان میں درج ہیں ؟ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تورات بائبل کی پہلی پانچ کتابوں کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ان کے اندر مندرج ہے اور انجیل نئے عہد نامہ کی اناجیل اربعہ کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ان کے اندر پائی جاتی ہے۔
دراصل تورات سے مراد وہ احکام ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے لے کر ان کی وفات تک تقریباً چالیس سال کے دوران میں ان پر نازل ہوئے۔ ان میں سے دس احکام تو وہ تھے جو اللہ تعالیٰ نے پتھر کی لوحوں پر کندہ کر کے انھیں دیے تھے۔ باقی ماندہ احکام کو حضرت موسیٰ نے لکھوا کر اس کی 12 نقلیں بنی اسرائیل کے 12 قبیلوں کو دے دی تھیں اور ایک نقل بنی لاوی کے حوالے کی تھی تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں۔ اسی کتاب کا نام ” تورات “ تھا۔ یہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے بیت المقدس کی پہلی تباہی کے وقت تک محفوظ تھی۔ اس کی ایک کاپی جو بنی لاوی کے حوالے کی گئی تھی ‘ پتھر کی لوحوں سمیت ‘ عہد کے صندوق میں رکھ دی گئی تھی اور بنی اسرائیل اس کو ” تورات “ ہی کے نام سے جانتے تھے۔ لیکن اس سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچ چکی تھی کہ یہودیہ کے بادشاہ یوسیاہ کے عہد میں جب ہیکل سلیمانی کی مرمت ہوئی تو اتفاق سے سردار کاہن (یعنی ہیکل کے سجادہ نشین اور قوم کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا) خِلقیاہ کو ایک جگہ تورات رکھی ہوئی مل گئی اور اس نے ایک عجوبے کی طرح اسے شاہی منشی کو دیا اور شاہی منشی نے اسے لے جا کر بادشاہ کے سامنے اس طرح پیش کیا ‘ جیسے ایک عجیب انکشاف ہوا ہے۔
(ملاحظہ ہو 2۔ سلاطین ‘ باب 22۔ آیت 8 تا 13)
یہی وجہ ہے کہ جب بخت نضر نے یروشلم فتح کیا اور ہیکل سمیت شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو بنی اسرائیل نے تورات کے وہ اصل نسخے جو ان کے ہاں طاق نسیاں پر رکھے ہوئے تھے اور بہت تھوڑی تعداد میں تھے ‘ ہمیشہ کے لیے گم کردیے۔ پھر جب عزرا کاہن (عُزیر) کے زمانے میں بنی اسرائیل کے بچے کھچے لوگ بابل کی اسیری سے واپس یروشلم آئے اور دوبارہ یت المقدس تعمیر ہوا تو عزرا نے اپنی قوم کے چند دوسرے بزرگوں کی مدد سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ مرتب کی ‘ جو اب بائبل کی پہلی 17 کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس تاریخ کے چار باب یعنی خروج ‘ احبار ‘ گنتی اور استثناء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت پر مشتمل ہیں اور اس سیرت ہی میں تاریخ نزول کی ترتیب کے مطابق تورات کی وہ آیات بھی حسب موقع درج کردی گئی ہیں جو عزرا اور ان کے مددگار بزرگوں کو دستیاب ہو سکیں۔ پس دراصل اب تورات ان منتشر اجزاء کا نام ہے جو سیرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم انھیں صرف اس علامت سے پہچان سکتے ہیں کہ اس تاریخی بیان کے دوران میں جہاں کہیں سیرت موسوی کا مصنف کہتا ہے کہ خدا نے موسیٰ سے فرمایا ‘ یا موسیٰ نے کہا کہ خداوند تمہارا خدا یہ کہتا ہے ‘ وہاں سے تورات کا ایک جز شروع ہوتا ہے اور جہاں پھر سیرت کی تقریر شروع ہوجاتی ہے وہاں وہ جزو ختم ہوجاتا ہے۔ بیچ میں جہاں کہیں کوئی چیز بائبل کے مصنف نے تفسیر و تشریح کے طور پر بڑھا دی ہے وہاں ایک عام آدمی کے لیے یہ تمیز کرنا سخت مشکل ہے کہ آیا یہ اصل تورات کا حصہ ہے یا شرح و تفسیر۔ تاہم جو لوگ کتب آسمانی میں بصیرت رکھتے ہیں وہ ایک حد تک صحت کے ساتھ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ ان اجزاء میں کہاں کہاں تفسیری و تشریحی اضافے ملحق کردیے گئے ہیں۔
قرآن انہی منتشر اجزاء کو ” تورات “ کہتا ہے اور انہی کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزاء کو جمع کر کے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے ‘ اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرِ مو فرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کرسکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں۔
اسی طرح دراصل انجیل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا جو مسیح (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ وہ کلماتِ طیبات آپ کی زندگی میں لکھے اور مرتب کیے گئے تھے یا نہیں ؟ اس کے متعلق اب ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں نے انھیں نوٹ کرلیا ہو اور ممکن ہے کہ سننے والے معتقدین نے ان کو زبانی یاد کر رکھا ہو۔ بہرحال ایک مدت کے بعد جب آنجناب کی سیرت پاک پر مختلف رسالے لکھے گئے تو ان میں تاریخی بیان کے ساتھ ساتھ وہ خطبات اور ارشادات بھی جگہ جگہ حسب موقع درج کردیے گئے جو ان رسالوں کے مصنفین تک زبانی روایات اور تحریری یا دداشتوں کے ذریعے سے پہنچے تھے۔ آج متی ‘ مرقس ‘ لوقا اور یوحنا کی جن کتابوں کو اناجیل کہا جاتا ہے ‘ دراصل انجیل وہ نہیں ہیں بلکہ انجیل حضرت مسیح (علیہ السلام) کے وہ ارشادات ہیں ‘ جو ان کے اندر درج ہیں۔ ہمارے پاس ان کو پہچاننے اور مصنفینِ سیرت کے اپنے کلام سے ان کو ممیز کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جہاں سیرت کا مصنف کہتا ہے کہ مسیح نے یہ فرمایا یا لوگوں کو یہ تعلیم دی ‘ صرف وہی مقامات اصل انجیل کے اجزاء ہیں ‘ قرآن انہی اجزاء کے مجموعے کو ” انجیل “ کہتا ہے اور انہی کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزاء کو مرتب کر کے قرآن سے ان کا مقابلہ کر کے دیکھے تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہوگا ‘ وہ بھی غیر متعصبانہ غوروتامل کے بعد بآسانی حل کیا جاسکے گا۔ (ماخوذ از : تفہیم القرآن )
Ayah 3:4اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُانْتِقَامٍ ۔
(بےشک جن لوگوں نے اللہ کے احکام ماننے سے انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے)
متذکرہ بالا وضاحتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے حئی اور قیوم ہونے کی حیثیت سے انسانوں کی معنوی ‘ عملی اور اجتماعی زندگی کی بقا اور سدھار کے لیے کتابیں نازل کیں ‘ رسول بھیجے اور آخر میں قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل کیا اور حق و باطل میں فرق کرنے کے لیے اسے فرقان بنایا۔ جس طرح کوئی شخص غذا کے لیے ان گنت نعمتوں کو نظر کر کے مٹی پھانکنا شروع کر دے یا ایسی چیز کھانے کی کوشش کرے جسے اللہ نے غذا کے طور پر پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کا مصرف کچھ اور ہے ‘ اسے کھانے سے ہلاکت تو ہوسکتی ہے ‘ جسم کی افزائش نہیں ہوسکتی اور اس آدمی کو اگر سمجھایا جائے کہ تم اپنے ساتھ دشمنی کیوں کرتے ہو اور تم اللہ کی ان نعمتوں کی ناشکری کیوں کرتے ہو جو اس نے تمہیں غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے عطا فرمائی ہیں ‘ لیکن یہ شخص کسی بات کو مان کر نہ دے اور اپنی روش پر قائم رہے تو ایسے شخص کو ہلاکت سے نہیں بچایا جاسکتا۔ یہی حال اس شخص کا ہے جسے اللہ نے ہر طرح کی راہنمائی سے نوازا۔ اس کی روحانی ‘ معنوی اور اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کتابیں اتاریں اور رسول بھیجے اور آخر میں قرآن کریم آیا۔ اگر اب بھی وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے انھیں ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقینا اسی کا سزاوار ہے کہ اسے سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے کیونکہ جس طرح اللہ کی ذات رحیم و کریم ہے ‘ وہ راہ راست پہ چلنے والوں سے رحمت کا سلوک کرتی ہے ‘ اسی طرح وہ منتقم اور عادل بھی ہے۔ اس کی صفت عدالت کا جس طرح یہ تقاضا ہے کہ نیکیوں کی جزا ملے اس طرح یہ بھی تقاضا ہے کہ برائیوں پر سزا ہو اور ہٹ دھرم لوگوں کو عذاب سے دوچار کیا جائے اور مزید یہ بات بھی کہ جب وہ عذاب دینے پہ آتا ہے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا کیونکہ وہ عَزِیْزٌ یعنی ” غالب اور طاقتور “ ہے اور ذوانْتِقَامٍ یعنی ” انتقام لینے والا “ ہے۔
ممکن ہے کسی کو خیال آئے کہ اللہ کو کیا خبر کہ انسانی جنگل میں ایک ایک انسان کیا کرتا ہے ؟ ان کی تنہائیوں میں کیا کیا مشاغل جاری رہتے ہیں ؟ اس بیخبر ی کے باعث اللہ تعالیٰ ہر مجرم کو کس طرح سزا دے سکتا ہے ؟ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے فرمایا :
Ayahs 3:5–6اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ ۔ ط ھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ ط لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ لْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔
(بےشک اللہ ‘ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں، وہی ہے جو تمہاری صورت گری کرتا ہے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے، کوئی معبود نہیں بغیر اس کے، وہ غالب اور حکیم ہے) (5 تا 6)
زمین و آسمان میں جو کچھ ہوتا ہے اور انسان جس طرح کے مشاغل میں مصروف رہتا ہے اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ جنگل میں درخت سے کوئی خشک پتہ گرتا ہے یا کوئی پھل ٹپکتا ہے تو وہ اللہ کے علم میں ہے۔ کائنات میں ہونے والی کوئی حرکت اس کی سماعت سے دور نہیں اور کوئی وقوع پذیر ہونے والا واقعہ اس کی نگاہوں سے مخفی نہیں۔ سمندر کی نچلی تہہ میں کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو وہ اس کی آواز کو سنتا ہے اور اس کی حرکتوں کو دیکھتا ہے اور مزید یہ بات کہ وہی تو ہے جو ماں کے رحم میں بچے کے نین نقش بناتا ہے ‘ اس کی صورت آرائی کرتا ہے ‘ گوشت کے لوتھڑے میں ہونے والے اس عمل سے کوئی واقف نہیں ہوتا ‘ اللہ تعالیٰ ایک ایک تبدیلی سے آگاہ ہوتا ہے۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ (کیا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا ؟ ) کہ خالق اگر اپنی مخلوقات کے حالات سے بیخبر ہے تو پھر باخبر کون ہوگا ؟ اس لیے اس غلط فہمی کا کوئی موقع نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کیا خبر کہ کوئی شخص کن حالات میں ہے۔ مزید فرمایا :
ایک غلط فہمی کا ازالہ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ (کوئی معبود نہیں مگر وہی ‘ وہ غالب اور حکمت والا ہے) یہ بھی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے کہ جو ذات ہر طرح کے علم سے بہرہ ور ہے اور جس کا علم ہر شے پر محیط ہے اور جس کی صفت عدل کرنا ہے ‘ وہ اگر اللہ کے دین کا انکار کرنے والوں کو نہ پکڑے اور زمین کو فساد سے بھردینے والوں کا ازالہ نہ کرے تو اس کی دو ہی وجہ ہوسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ وہ عدل کرنا چاہتا ہے لیکن انسانوں کو سزا دینے کی اس میں قدرت نہیں۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو اللہ کی صفات سے بیخبر ہو اور جس کے سامنے ان قوموں کی تاریخ نہ ہو جو اللہ کے غضب کا شکار ہوئیں اور دنیا سے مٹ گئیں اور دوسری وجہ غلط کار لوگوں کو نہ پکڑنے کی یہ ہوسکتی ہے کہ اسے قدرت تو بہرصورت حاصل ہے ‘ لیکن وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ برے لوگوں کو پکڑا جائے اور نیک لوگوں کو نیکی پر جزاء دی جائے۔ اگر نعوذ باللہ من ذالک یہ سمجھ لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اہل زمین کی تخلیق محض ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے ‘ جس میں کوئی حکمت نہیں۔ اللہ نے تفریح طبع کے طور پر اس کائنات کو پیدا کردیا اور انسان کو زمین کی خلافت دے دی۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زمین میں خیر ہو یا شر ‘ ظلم ہو یا انصاف ؟ حالانکہ اللہ کی صفت عدل کا تقاضا اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی لیے اس نے قرآن پاک میں متعدد جگہ پر ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان کو کھیلتے ہوئے پیدا نہیں کیا ‘ اس کی پیدائش میں ایک حکمت ہے ‘ اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے ‘ ان دونوں باتوں کے ازالے کے لیے فرمایا کہ اللہ عزیز ہے ‘ یہ نہ سمجھو کہ اسے برے لوگوں کے پکڑنے پر قدرت حاصل نہیں۔ لیکن وہ ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس کے ہر کام میں عدل و حکمت کارفرما ہے۔ جب تک اس کی حکمت کا تقاضا نہیں ہوتا اس کی قدرت حرکت میں نہیں آتی۔ جو لوگ زمین میں فساد مچا رہے ہیں ‘ انھیں پکڑنے میں جلدی نہ کرنا ‘ درحقیقت انھیں سنبھلنے کی مہلت دینا ہے اور جب یہ مہلت ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت سے کبھی نہیں بچ سکتے۔
Ayah 3:7ھُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْـکِتٰبِ وَاُخَرُمُتَشٰبِہٰتٌ ط فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْـہُ ابْتِغَـآئَ الْفِتْـنَۃِ وَابْتِغَـآئَ تَاْوِیْلِہٖ ج ص ومَایَعْلَمُ تَاْوِیْلَـہٗٓ اِلَّااللّٰہُ مؔ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖلا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُوْلُوا الْاَلْـبَابِ ۔
(وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور دوسری کچھ آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے ‘ وہ اس میں سے متشابہات کے درپے ہوتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ حالانکہ نہیں جانتا اس کی حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی۔ تو جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے اور یہ سب ہمارے رب ہی کے پاس سے ہے۔ اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر عقلمند) (7)
اللہ نے قرآن کریم کو حق کے ساتھ فرقان بنا کے اتارا ہے۔ وہ ایک کلمہ فیصل اور حق و باطل کے لیے کسوٹی ہے۔ اس کی اس حیثیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اسے اللہ نے نازل کیا ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر قرآن کریم کا ذکر کرنے سے پہلے ” اناانزلناہ “ کا ذکر فرمایا ہے یعنی قرآن وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ اس کے ذاتی خصائص ‘ اس کی معجزانہ فصاحت و بلاغت اور اس میں بیان کردہ ضابطہ حیات کی وسعت اور جامعیت اپنی جگہ ‘ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اسے ہم نے نازل کیا ہے ‘ اس لیے جب بھی اس کتاب کو پڑھو یا اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرو تو یہ سوچ کے کرو کہ یہ محض ایک کتاب نہیں ‘ بلکہ خالق کائنات کا کلام اور اس کے فرامین کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب نوع انسانی کے لیے اگر رحمت ثابت ہوئی ہے تو یہ اللہ کی رحمت ہے جس کی قدر کرنا ہم پر واجب ہے اور اگر کوئی شخص اس کا انکار کرتا ہے تو اسے یہ سمجھ کر انکار کرنا چاہیے کہ میں ایک کتاب کا انکار نہیں کر رہا بلکہ اس کے نازل کرنے والے کو ماننے سے انکار کر رہا ہوں۔
فائر کا لفظ اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتا ‘ لیکن جب یہ ایک جرنیل کے منہ سے نکلتا ہے تو نہ جانے کتنی زندگیاں خاک میں ملتی ہیں اور کتنے مورچے تباہ ہوتے اور کتنی فصیلیں اڑتی اور کتنے شہر مسمار ہوتے ہیں۔ لفظ و معنی کی قوت جس طرح اس کی حقیقت میں ہے اس سے بڑھ کر اس لفظ کے بولنے والے میں ہے۔ قرآن کریم نے جہاں یہ فرمایا کہ اگر اس قرآن کریم کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ اللہ کی خشیت سے ریزہ ریزہ ہوجاتا وہیں اس کے بعد اپنے سترہ صفاتی ناموں کا ذکر فرمایا ‘ اس میں صرف یہ توجہ دلانا مقصود ہے کہ پہاڑ پر قرآن کا اترنا ‘ پہاڑ کے لیے اس لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ پہاڑ کی فطرت میں اللہ کا استحضار گندھا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک قرآن کا اترنا پروردگار کے جلال و جمال کا اترنا ہے۔ وہ چونکہ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے وہ دب جاتا اور بیٹھ جاتا۔ انسان کا قرآن پاک سے کماحقہ اثر قبول نہ کرنا صرف اس سبب سے ہے کہ وہ اللہ کی ذات وصفات کے استحضار سے محروم ہے۔ یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے فرمایا کہ اس قرآن کریم کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس لیے اگر ایمان لائو گے تو یہ اس کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت ہے اور اگر انکار کرتے ہو تو سوچ لو کہ کس کی کتاب اور کس کے کلام سے انکار کر رہے ہو ‘ جو عَزِیْزٌذُانْتِقَامٍ ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی تعلیمات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مختصر تعارف کرایا اور طریقہ سکھایا اور ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ قرآن کریم کے فہم اور استفادہ سے جو لوگ محروم رہتے ہیں ‘ بلکہ بجائے ایمان میں اضافہ کرنے کے گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں ‘ وہ کون لوگ ہیں اور ان کا طریقہ کیا ہے ؟ اس لیے فرمایا کہ قرآن کریم میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک آیات محکمات ہیں اور دوسرا آیات متشابہات ہیں۔
آیات محکمات کا مفہوم
آیاتِ محکمات سے وہ آیات مراد ہیں جن کے الفاظ اور معنی متعین کرنے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔ ان کی زبان صاف اور مفہوم واضح ہے۔ ان کا تعلق اگر آفاق وانفس سے ہے تو وہ جانی پہچانی چیزیں ہیں اور علم کی وسعت سے ان کے سمجھنے میں مزید آسانی ہوتی جاتی ہے اور اگر ان کا تعلق خیر و شر کے حوالے سے مذہب سے ہے تو ان کا شمار مذہب کے مسلمات میں ہے اور اگر ان کا تعلق معروف و منکر سے ہے تو وہ قطعیات و یقینیات میں شامل ہیں۔ جس شخص کی عقل سلیم ہے اور وہ لادینیت کی عینک سے قرآن کریم پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا ‘ یا ملحدانہ فلسفے نے اس کے دل و دماغ کو متاثر نہیں کیا تو اس کے لیے ان آیات کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں آتی۔ یہی محکمات قرآن کریم کی اصل بنیاد ہیں۔ قرآن کریم کے احکام ایسی ہی صاف اور سادہ زبان میں دیے گئے ہیں۔ انہی آیات میں قرآن پاک کی دعوت دی گئی ہے ‘ عقائد ‘ عبادات ‘ اخلاق کی تعلیمات بھی انہی آیات میں ہمیں ملتی ہیں۔
ام الکتاب کا مفہوم
ان آیات کی حیثیت ” ام الکتاب “ کی ہے۔ ” ام “ کسی چیز کی اصل ‘ جڑ اور بنیاد کو کہتے ہیں۔ ایسی چیز پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو بہت ساری چیزوں کا مرجع ہو۔ وہیں سے آغاز ہوتا ہو اور وہیں اختتام ہوتا ہو۔ دماغ کو اسی لیے ام الرأس کہتے ہیں کہ یہیں سے پورے جسم کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہیں ہر چیز پلٹ کر آتی ہے اور یا ” ام “ ایک ایسی اوپر کی چیز کو کہتے ہیں جس کے نیچے اس کے بہت سے توابع ہوں۔ مکہ معظمہ کو ام القریٰ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اردگرد کی تمام بستیوں کا مرکز اعصاب اور قوت کا سرچشمہ ہے۔ آیات محکمات ام الکتاب ہیں۔ یعنی ساری کتاب کا مرجع و مرکز یہی آیات ہیں۔ انہی سے سارے مسائل پھوٹتے ہیں۔ کسی آیت کے سمجھنے میں اختلاف ہو تو انہی آیات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پورا دین انہی آیات سے نکلتا ہے اور انہی آیات کی طرف لوٹتا ہے۔ ہدایت کا سرچشمہ یہی آیات ہیں۔ متشابہات کو سمجھنے کے لیے انہی کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جو عقیدہ یا جو حقیقت ان آیات سے ثابت ہوتی ہیں متشابہات کی مراد بھی اس کے مطابق متعین کی جاتی ہیں۔
آیات متشابہات سے مراد کیا ہے ؟
دوسری قسم کی آیات ” متشابہات “ ہیں۔ یعنی ایسی آیات جن کے مراد کے تعین میں اشتباہ پیدا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ اشتباہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آیات متشابہات کے الفاظ معنی کے اعتبار سے واضح نہیں ہوتے، یہ بات صحیح نہیں کیونکہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا۔ ایک ایسی ٹکسالی زبان میں، جسے قریش بولتے تھے، جسے جزیرہ عرب کی فصیح ترین زبان سمجھا جاتا تھا۔ ایسی زبان میں اترنے والی کتاب کا کوئی لفظ بھی ایسا نہیں ہوسکتا جس کا کوئی معنی نہ ہو اور جس کا مفہوم سمجھنے میں دشواری پیش آئے۔ یہ تو ممکن ہے بعض الفاظ کے سمجھنے میں دقت ہو کیونکہ قرآن کریم نے بعض ایسے الفاظ کو بھی زندگی بخشی ہے جن کا استعمال تمام قبیلوں میں عام نہیں تھا۔ لیکن قرآن کریم کے آجانے کے بعد تمام قبیلوں میں اس کا استعمال عام ہوگیا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ متشابہات وہ آیات ہیں جن کی مراد متعین کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے صرف ان معاملات پر گفتگو نہیں کیا جن کا تعلق محسوسات ‘ معقولات اور طبعیات سے ہے۔ جنھیں انسان کے حواس جانتے اور پہچانتے ہیں اور جن کا عقل ادراک کرتی ہے بلکہ قرآن کریم کے موضوعات میں وہ معاملات بھی شامل ہیں جن کا تعلق ما بعد الطبعیات سے ہے۔ قرآن جس طرح دنیا کی بات کرتا ہے اسی طرح وہ آخرت کی بات بھی کرتا ہے۔ اسلام کی بنیاد درحقیقت چند عقائد پر ہے جن میں اللہ کی ذات اور اس کی صفات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ جہاں بھی صفات خداوندی کا ذکر آئے گا وہاں بالعموم عقل پیچھے رہ جاتی ہے۔ اسی طرح جزاء و سزا کا تصور یہ انسانی عمل کا محرک اور اس کا نتیجہ ہے۔ اس کے بغیر دین کی دعوت بےروح دعوت ہے اور انسانی زندگی ایک ایسا سفر بن جاتی ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ قرآن کریم جب عالم آخرت کی باتیں کرتا ہے اور جزا و سزا کی تفصیلات ذکر کرتا ہے ‘ جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ ان تمام بیان کردہ حقائق سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ انسان کا اپنے اللہ پر ایمان مضبوط ہوجائے ‘ اس کا اپنے خالق کے ساتھ حقیقی تعلق قائم ہوجائے اور وہ اس بات کو سمجھنے لگے کہ میرے اللہ نے مجھے ایک خاص مقصد دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ اس مقصد کی تعمیل میں میرے لیے جنت کی نعمتیں ہیں اور اس سے سرتابی یا پس و پیش میں میرے لیے جہنم کی ہولناکیوں کے اندیشے ہیں۔ قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے یہ دونوں مقصد حاصل ہوجاتے ہیں۔ انسان اللہ کی صفات کو فی الجملہ سمجھ کر اللہ سے ڈرتا بھی ہے اور اس سے محبت بھی کرتا ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل میں زندگی گزارنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے بیان کردہ حقائق اس کے اندر جزا و سزا کی فکر مندی پیدا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ایک ایک عمل کے بارے میں یہ سوچ کر گراں بار ہوجاتا ہے کہ اللہ کی عدالت میں اگر میں اپنے ہر عمل کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہ دے سکا تو پھر میرے ساتھ کیا ہوگا ‘ لیکن جہاں تک بیان کردہ حقائق کی صورت اور حقیقت کا تعلق ہے کوئی شخص ان کے حقیقی مقاصد کو نظر انداز کر کے ان کی صورت کا تصور باندھنے اور ان کی حقیقت جاننے کے درپے ہوجائے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کا کوئی نتیجہ بجز اس کے پید انھیں ہوسکتا کہ ایسی کوشش کرنے والا خود بھی فتنے میں مبتلا ہو اور دوسروں کو بھی مبتلا کرے۔ لیکن جو لوگ اپنی طبیعت میں کجی رکھتے ہیں وہ ان متشابہات کے اصل مقصد سے آگے بڑھ کر اصل حقائق کو جاننے اور ان کی صورت متعین کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ وہ جنت کی ایک ایک نعمت پر تبصرہ کرتے ہیں ‘ خود جنت کا وجود ان کے لیے محل نظر ہوتا ہے۔ تمام مخلوقات کا فنا ہوجانا ‘ پھر از سر نو زندہ ہونا ‘ ایک محشر کا برپا ہونا ‘ اعمال کے تول کے لیے ترازو کا رکھا جانا ‘ اللہ کا انصاف کے لیے عدالت میں منصف بن کے بیٹھنا اور اپنے ہر عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ‘ جسم کے ایک ایک رونگٹے کا گواہی دینا اور اعمال کے تلنے کے نتیجے میں جزا و سزا کا ترتب ہونا اور پھر جنت کی ابدی نعمتیں اور جہنم کی ابدی سزائیں ‘ جہنم کی بےپناہ آگ کے باوجود اس میں ” زقوم “ کے درخت کا پیدا ہونا ‘ اس میں سے ایک مشروب کا نکلنا اور جہنمیوں کو بطور غذا کے اس کا مہیا کیا جانا ‘ ان میں ایک ایک چیز مقصد کے اعتبار سے جزا و سزا کو ابھارتی ہے اور اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ لیکن اس نادیدہ عالم کی ایک ایک چیز کی صورت سمجھنا اور حقیقت جاننا ایک ناممکن بات ہے۔ جن کو اللہ نے علم میں پختگی عطا فرمائی ہے اور وہ یقین کی قوت سے بہرہ ور ہیں ان تمام حقائق کا اظہار ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ لیکن جو لوگ اس کے حقیقی مقصد کو نظر انداز کر کے محض محسوسات کے جانور بنے رہتے ہیں اور وہ ہر چیز کی اصل حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کا ادراک اس جہان میں ممکن نہیں تو وہ خود بھی فتنے کی نذر ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی فتنے کی نذر کردیتے ہیں۔ رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ (علم میں رسوخ رکھنے والے) چونکہ علم کی حدود کو جانتے ہیں اور وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارے علم کی رسائی عالم محسوسات اور عالم طبعیات تک ہیں ‘ لیکن ہماری زندگی اور ہمارے ایمان کا رشتہ عالم مغیبات اور عالم آخرت سے بندھا ہوا ہے۔ جو بات عالم محسوسات سے تعلق رکھتی ہے اس کا وہ ادراک کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جن حقائق کا تعلق اس نادیدہ عالم سے ہے جس سے تعلق ہمارے ایمان کا تو ہے لیکن ہمارے علم کا نہیں ‘ وہ وہاں ایمانی قوت کو حرکت دے کر پکار اٹھتے ہیں کہ ہماری عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہم ہر چیز کا ادراک کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔ لیکن اس سے جو مقصد وابستہ کیا گیا ہے ‘ اسے ہم سمجھتے ہیں۔ رہی ان کی حقیقت اور ماہیت تو اس کے درپے ہونے کی بجائے ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے رب کی جانب سے ہے۔ اس نے کچھ چیزوں کے ادراک کی قوت ہمیں یہاں بخشی ہے اور باقی وہاں بخشے گا جب عالم آخرت میں ہم داخل ہوں گے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو متشابہات کو سمجھتے ہوئے سامنے رہنی چاہیے کہ ہماری ہدایت سرا سر آیات محکمات میں ہے۔ وہی ہمارا معیار ہیں اور وہی ہمارے فکر و عمل کا مرجع۔ عقائد اور عمل کی تفصیل ہم ان آیات سے لیں گے اور متشابہات کو بھی انہی کے دیئے ہوئے تصورات پر محمول کریں گے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کی جلوہ نمائی کے لیے بعض مثالیں بھی ارشاد فرمائی ہیں ‘ جن میں سے ہم صرف ایک مثال عرض کرتے ہیں :
ایک مثال
سورة مدثر میں قرآن کریم نے دوزخ کے عذاب کی تصویر پیش کرتے ہوئے فرمایا :
سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا سَقَرُ ۔ ط لاَ تُبْقِیْ وَلاَ تَذَرُ ۔ ج لَوَّاحَۃٌ لِّـلْبَشَرِ ۔ ج عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ ۔ ط
(میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا، اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا ہے ؟ وہ نہ ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی، جسموں کو جھلس دینے والی۔ اس پر انیس داروغے مقرر ہیں)
(المدثر : 26 تا 30)
ان آیات کو دیکھئے کافروں کے لیے سزا کا ذکر ہے اور جس آدمی کا یقین جزاء و سزا اور قانونِ مجازات پر ہے ‘ اس کے لیے ان آیات کو سمجھنے کے لیے کوئی دشواری نہیں۔ لیکن جس شخص کی طبیعت میں فتنہ پسندی اور فتنہ جوئی ہے وہ اس کے اصل مقصد کو نظر انداز کر کے اس کے انیس (19) کے لفظ کو لے کے بیٹھ جاتا ہے ‘ کہ اتنے بڑے جہنم پر انیس (19) فرشتوں کا تقرر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اور اس سے مراد کیا ہے ؟ چناچہ قرآن کریم نے خود اس کا ذکر فرمایا ارشاد ہے :
وما جعلنا اصحاب النار الا ملائکۃ ص وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروالیستیقن الذین اوتوا الکتاب ویزداد الذین اٰمنوا ایمانا ولا یرتاب الذین اوتوا الکتاب والمؤمنون ولیقول الذین فی قلوبہم مرض والکافرون ماذا اراد اللّٰہ بھذا مثلاً ط کذالک یضل اللّٰہ من یشآء ویہدی من یشآء وما یعلم جنود ربک الا ھو وما ہی الا ذکری للبشر۔
(اور ہم نے دوزخ کی پہرہ داری پر نہیں مقرر کیے ہیں مگر فرشتے اور ہم نے ان کی تعداد کو نہیں بنایا مگر کافروں کے لیے فتنہ تاکہ وہ لوگ یقین کریں جن کو کتاب ملی ہے اور ایمان والے اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور کتاب پانے والے اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور جن کی دلوں میں بیماری ہے اور جو کافر ہیں وہ یہ کہیں کہ اس قسم کی تمثیل سے اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے ؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ نہیں ہے مگر انسانوں کے لیے یاددہانی)
اس ایک مثال کو سامنے رکھئے تو چند باتیں بالکل واضح ہوجاتی ہیں کہ آیات محکمات میں جن بنیادی عقائد پر ایمان لانا ایک مومن کے لیے لازم قرار دیا ہے ان میں آخرت پر ایمان بھی شامل ہے اور آخرت پر ایمان کا جو حقیقی مقصد ہے اسے بھی قرآن نے جابجا کھول دیا ہے۔ اس ایمان کی پختگی کی موجودگی میں ان آیات میں کافروں کے لیے جو سزا ذکر فرمائی گئی ہے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔
آیاتِ محکمات سے یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ اللہ کی کائنات بہت وسیع ہے ‘ تم تو چھوٹے سے زمین کے کرے پہ رہنے والی ایک مخلوق ہو اور تمہیں بڑا محدود علم دیا گیا ہے۔ تمہیں اگرچہ جوہر عقل سے نوازا گیا ہے لیکن اس کی رسائی بھی عالم طبعیات تک ہے۔ ما بعد الطبعیات کیا ہوتا ہے ؟ انسان کا علم وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس جہان میں تمہاری زندگی گزارنے کے لیے ‘ یہ عقیدہ ضروری ہے کہ ایک دن تم اللہ کے دربار میں پیش کیے جاؤ گے ‘ حساب کتاب ہوگا ‘ نیکیوں کا پلڑا جھک جانے سے تم جنت میں جا سکو گے اور برائیوں کا پلڑا جھکنے کی صورت میں تمہیں جہنم میں جانا ہوگا۔ ہر عمل کا ایک نتیجہ اور اس پر جزا و سزا کا ترتب ‘ یہ وہ بات ہے جسے عقل تسلیم کرتی ہے۔ رہی یہ بات کہ جس عالم آخرت میں یہ سب کچھ ہوگا وہ ایک نادیدہ عالم ہے۔ تمہارا علم اس کے بارے میں سماعی ہے ‘ مشاہداتی نہیں۔ اس لیے تم اس پر یقین لا کر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ لیکن اگر اس کی ایک ایک چیز کی حقیقت و ماہیت کو جاننے کی کوشش کرو (اور یہاں تاویل کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے) تو یہ وہ کوشش ہے جو تمہاری عقل کی حدود سے ماورا ہے اور اس کوشش کے نتیجے میں تم فتنے میں مبتلا ہوسکتے ہو۔ جہنم کی سزا کا سمجھنا تمہارے ایمان کے لیے ایک معمولی بات ہے۔ لیکن یہ بات جاننے کی کوشش کرنا کہ جو انیس (19) فرشتے مقرر کیے گئے ہیں اس کا کیا مفہوم ہے ؟ اور انیس کے عدد میں کیا رمز ہے ؟ یہ وہ متشابہ بات ہے جس میں الجھ کر تم اپنا وقت بھی برباد کرو گے اور اس کے نتیجے میں فتنے میں مبتلا ہو کر ایمان و عمل کی قوت بھی کھو بیٹھو گے۔ اس میں عافیت کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس بات کا یقین پیدا کرو کہ وما یعلم تاویلہ الا اللہ (اس نادیدہ عالم کے حقائق کی صورت و ماہیت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) اور پختہ فکر اور پختہ علم لوگ اپنی عقل اور اپنے ایمان سے یہ سمجھ لیتے ہیں اور اسی کا اظہار بھی کرتے ہیں (یہ سب کچھ ہمارے رب کی جانب سے ہے) اگر طبیعت میں سلامتی ہے اور اللہ نے کج فکری سے محفوظ رکھا ہے تو یہی عافیت کا راستہ ہے جس کو اختیار کرنا کوئی مشکل نہیں چناچہ اسی پر قائم رہنے کے لیے اگلی آیات میں دعا سکھائی گئی۔
Ayahs 3:8–9رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْـکَ رَحْمَۃً ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔ ع
(اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ تو نہایت بخشنے والا ہے۔ اور ہمارے پروردگار ! تو یقینا سب لوگوں کو ایک ایسے دن میں جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا) (8 تا 9)
راسخین فی العلم کی دعا
یہ ان لوگوں کی دعا ہے جنھیں اللہ نے علم میں رسوخ عطا فرمایا ہے اور جن کی فکر میں پختگی پیدا فرمائی ہے۔ وہ چونکہ علم کی حدود سے آشنا ہیں اور ساتھ ہی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جب خواہشاتِ نفس کا عقل پہ غلبہ ہوجاتا ہے تو پھر عقل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہونے کے باوجود خواہشات کی ایجنٹ بن جاتی ہے۔ نفس کی حکمرانی ہوجاتی ہے اور دل آہستہ آہستہ موت کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ کش مکش ہے جو انسانی قلب و دماغ میں کجی کا باعث بنتی ہے۔ جس آدمی نے اپنے دل میں ایمان و یقین کی شمع روشن کرلی اور پھر اس میں اللہ کی توفیق سے اسے بجھنے سے محفوظ رکھا تو کج فکری کے ہزار حملوں میں بھی محفوظ رہتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سلامتیِ فکر اور ایمان کی صحت کے لیے اپنے اللہ سے دعا مانگتا رہے۔ وہ بجائے خود پر اعتماد کرنے کے اللہ سے توفیق مانگے۔ اللہ کی عطا کردہ ہدایت کو حقیقی سرمایہ سمجھے اور اس کی حفاظت کے لیے اللہ سے اس طرح مدد کا طلبگار ہو جس طرح اس آیت کریمہ میں تعلیم دی گئی ہے۔ آدمی اپنی ذات کی مکمل نفی کر دے اور اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر نہایت عاجزی سے عرض کرے کہ یا اللہ ! دل و دماغ تیرے قبضے میں ہیں۔ میں نہایت کمزور آدمی ہوں۔ میری کاوشیں کج فکری کے حملوں میں کہیں ناکام نہ ہوجائیں۔ الٰہی ! اپنی طرف سے رحمت کی کمک بھیج تاکہ نہایت نازک مواقع میں بھی میرے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور پھر دوسری آیت کریمہ میں اس عقیدے میں پختگی مانگی ہے جو عقیدہ آدمی کو ہر طرح کے نازک لمحات میں محفوظ رکھتا ہے وہ عقیدہ یہ ہے کہ آدمی اللہ پر یقین رکھے کہ وہ ایک نہ ایک دن قیامت برپا کرے گا اور جس کے برپا ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ وہاں وہ سب لوگوں کو عدالت کے کٹہرے میں بلائے گا۔ ایک ایک حساب کے مرحلے سے گزرے گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اللہ نے جن و انس سے وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ چونکہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتا اس لیے قیامت کا آنا اور جزاء و سزا کا واقع ہونا ایک لازمی حقیقت ہے۔ وہ اس یقین کی پختگی کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ میں خواہشات کے ہجوم اور لادینیت کے دبائو میں راہ راست پر اس وقت تک کھڑا رہ سکتا ہوں جب تک آخرت کا یقین مجھے سہارا دے۔ میرے دل و دماغ میں یہ بات اتر جائے کہ میرا ایک ایک عمل اللہ کی نگاہوں میں ہے۔ یہی وہ یقین ہے جس کے نتیجے میں میں پھونک پھونک کر قدم رکھوں گا اور یہی وہ قوت ہے جس کے سہارے سے میں بڑے سے بڑے بہلاوے اور لالچ کا مقابلہ کرسکوں گا۔ میرے پروردگار ! دل و دماغ میں یہ یقین کی قوت پیدا کرنے والا صرف تو ہے اس لیے میں تیرے دروازے پر اسی دولت کے لیے بھکاری بن کر آیا ہوں تو میرے دامن کو اس دولت سے بھر دے۔