3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور نہ مانو کسی کی بات سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کریں، ان سے کہئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جیسی تمہیں دی گئی ہے یا وہ حجت لاسکیں تم پر تمہارے رب کے حضور، ان سے کہئے ! بیشک فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کردیتا ہے اور اللہ صاحب فضلِ عظیم ہے

وَلاَ تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ھُدَی اللّٰہِ لا اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَـآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّـکُمْ ط قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ ج یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ ج لا یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (اور نہ مانو کسی کی بات سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کریں۔ ان سے کہئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس طرح کی چیز کسی اور کو بھی مل جائے جیسی تمہیں دی گئی ہے یا وہ حجت لاسکیں تم پر تمہارے رب کے حضور۔ ان سے کہئے بیشک فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کردیتا ہے اور اللہ صاحب فضلِ عظیم ہے) (73 تا 74) سلسلہ کلام کی توجیہ میں دو آراء مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تشریح و تفسیر میں بڑی طویل بحثیں کی ہیں اور انھیں اس سلسلے میں بڑا اضطراب پیش آیا ہے کیونکہ اس آیت میں مختلف جملے ہیں جن میں باہمی تعلق واضح کرنا ایک مشکل کام ہے۔ لیکن ایسا بھی مشکل نہیں جسے اللہ کے فضل و کرم سے آسان نہ کیا جاسکے۔ چناچہ اللہ کی توفیق سے اہل علم نے اس کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے ہم اس سلسلے میں صرف دو باتیں عرض کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم جن دو آراء کا ذکر کرنے لگے ہیں ان میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ اس آیت کا دوسرا جملہ قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہِاصل سلسلہ کلام کا جزو نہیں بلکہ یہ دو جملوں کے درمیان ایک جملہ معترضہ ہے۔ دوسری زبانوں کے لیے تو شاید یہ ایک اجنبی بات ہو حالانکہ اس کا استعمال تقریباً ہر زبان میں ہوتا ہے۔ لیکن عربی زبان اور عربی اسالیب میں یہ ایک عام بات ہے۔ جس کا ہر ادیب کے یہاں استعمال شائع و ذائع رہا ہے اور قرآن کریم نے بیسیوں جگہ اس اسلوب کو استعمال کیا ہے۔ جہاں بھی قرآن کریم میں کوئی ایسی بات کہی گئی ہے کہ جس کی فوری تردید یا تائید ضروری ہے۔ تو قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ سلسلہ کلام کو روک کر پہلے جملہ معترضہ کی صورت میں تائید یا تردید کی جاتی ہے اور اس کے بعد سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی پہلے جملے میں یہود کی متذکرہ بالا سازش کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ یہود جب کسی اپنے آلہ کار کو اپنے مذموم مقاصد کی بجاآوری کے لیے مسلمانوں میں یہ کہہ کر بھیجتے تھے کہ تم وہاں جا کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کرو تو ساتھ ہی اسے نہایت تاکید کے ساتھ یہ بات کہتے تھے کہ تم وہاں جا کر مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے اسلام کا اظہار تو کرو لیکن خبردار ان میں سے کسی کی بات ماننے کی کبھی غلطی نہ کرنا۔ بات جب بھی ماننی ہے اپنے لوگوں کی ماننی ہے کیونکہ اہل کتاب ہوتے ہوئے کسی غیر اہل کتاب کی بات ماننا تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں۔ یہ بات وہ دو وجہ سے کہتے تھے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہودی حق کو صرف اپنے لیے مخصوص سمجھتے تھے اور عیسائی اپنے لیے۔ اپنے سے باہر یا اپنی نسل سے باہر حق کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے عوام کو یہ باور کرا چکے تھے اور اس میں وہ کسی طرح کی کمزوری کے در آنے کو برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ نبوت صرف بنی اسرائیل کی خصوصیت ہے۔ نبی جب بھی آئے گا وہ بنی اسرائیل میں سے ہوگا۔ اس طرح سے انھوں نے نسل کی ایک ایسی فصیل کھینچ رکھی تھی جس کی موجودگی میں کسی حق کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش نہ تھی اور دوسری بات یہ تھی کہ یہود چونکہ مدینے کے پڑھے لکھے اور صاحب علم لوگ تھے اور اوس و خزرج ان کے مقابلے میں بالکل امی اور ان پڑھ تھے اور یہ تو دنیا کا عام چلن ہے کہ ہر جگہ پڑھا لکھا طبقہ Dominate کرتا ہے اور ان پڑھ طبقہ ہمیشہ پڑھے لکھے لوگوں کی پیروی کرتا ہے۔ اب نئی آنے والی نبوت اور نیا اٹھنے والا دین چونکہ اپنے ساتھ علم کی فضیلت بھی لایا تھا بلکہ حقیقی علم اب انہی کے پاس تھا تو انھیں اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر نبی کریم ﷺ یا مسلمانوں میں سے اصحاب الرائے کی بات چلنے لگی تو ہمارا یہ نام نہاد طلسم ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے آلہ کار لوگوں کو سازش کے طور پر بھیجنے پر تو مجبور تھے لیکن ساتھ پوری طرح انھیں ہر آنے والے خطرے سے آگاہ کرنا بلکہ محفوظ کرنا بھی ضروری سمجھتے تھے اور یہ دونوں باتیں چونکہ یہود کی تمام گمراہیوں کی جڑ تھیں اور اسی نسلی برتری اور نام نہاد علمی تفوق نے انھیں ہر طرح کی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم کردیا تھا اس لیے قرآن کریم نے سلسلہ کلام کو روک کر سب سے پہلے برسر موقع اس کی تردید کرنا ضروری سمجھا کہ ایک طرف تو تم اپنے آپ کو اہل کتاب اور اہل ہدایت کہتے ہو اور دوسری طرف تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے ہدایت کو ایک نسل میں محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ تو ایک ایسا اندھا بہرہ گروہی تعصب ہے جسے کسی طرح بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا۔ اگر واقعی ہدایت تمہارے پاس ہے تو یہی تعصب دوسرے لوگوں میں اگر موجود ہوگا تو وہ تمہاری ہدایت کو کیسے قبول کرسکیں گے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ اصل پیروی ہدایت کی ہونی چاہیے نہ کہ گروہی تعصبات کی اور یہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ ہدایت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے کوئی شخض یا گروہ نہیں تو اللہ کی ہدایت اسرائیلی پیغمبر کے ذریعے سے ملے یا کسی اسماعیلی پیغمبر کے واسطہ سے، ترجیح تو ہمیشہ اس ہدایت کو دینا چاہیے۔ چناچہ اس گمراہی کی تردید کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام کو شروع کردیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جملہ معترضہ کو درمیان سے نکال کر اگلے جملوں کو پہلے جملے سے ملا دیا جائے تو سلسلہ کلام مربوط ہوجاتا ہے تو پھر بات کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں رہتی کیونکہ ہم نے جو مفہوم بیان کیا ہے دوسرا جملہ اسی کی تائید کر رہا ہے اور تائید کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے کارندوں کو بھیجتے ہوئے یہ جو تاکید کرتے تھے کہ اپنے لوگوں کے سوا کسی اور کی بات نہ ماننا اس کی وجہ اصل میں یہ ذہنیت اور یہ سوچ تھی کہ وہ کسی صورت میں بھی اپنی نسلی فصیل سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ نفسیاتی طور پر اپنے اردگرد خانہ ساز تصورات کا ایسا تانا بانا بن چکے تھے کہ جس کی وجہ سے ان کے لیے کسی اور کی دینی سیادت اور پیشوائی کو تسلیم کرنا ممکن نہ رہا تھا۔ بنی اسماعیل باوجود اس کے کہ نسل اور نسب کے اعتبار سے ان کے سب سے زیادہ قریب تھے کیونکہ دونوں کے جدامجد ایک تھے۔ باایں ہمہ ! اپنی خانہ ساز برتری کے باعث یہ بات ان کے لیے ہرگز قابل قبول نہ تھی کہ بنی اسماعیل میں سے کوئی پیغمبر آسکتا ہے اور اس کی دینی سیادت تسلیم کی جاسکتی ہے اور اسی کے نتیجے میں اگلے جملے میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس کی بھی ہدایت کرتے تھے یعنی اپنے بھیجنے والوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ تم جانتے ہو کہ آخری نبی اور آخری دین کے بارے میں تورات میں بہت سی باتیں اب بھی موجود ہیں دیکھنا ان میں سے کوئی بات مسلمانوں کو نہ بتانا ورنہ وہ قیامت کے دن تمہارے رب کے سامنے اسے بطوردلیل پیش کریں گے۔ سورة بقرہ آیت نمبر 76 اور 77 میں یہ بحث گزر چکی ہے اور وہاں کسی حد تک ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ دوسری رائے امام ابو عبداللہ القرطبی ( رح) کی ہے، جو ترکیب و تالیف میں متذکرہ بالا رائے سے ہم آہنگ ہونے کے باوجود مفہوم کے تعین میں کسی حد تک مختلف ہے۔ وہ اس آیت کو سلجھاتے ہوئے قَلْ اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہ کو متذکرہ بالا رائے کی طرح جملہ معترضہ ہی قرار دیتے ہیں اور دوسرے جملوں کا تعلق وَلَا تُوْمِنُوْا سے اس طرح پیوست کرتے ہیں۔ اَلْمَعْنٰی وَلاَ تُوْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَـکُمْ وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اَنْ یُّوْتٰی اَحَدٌ مِّثْلَ مَـآ اُوْتِیْتُمْ وَلاَ تُصَدِّقُوْٓ ا اَنْ یُّحَآجُّوْا کُمْ (تفسیر قرطبی) اس کا مفہوم یہ ہے کہ رؤسائے یہود اپنے جن لوگوں کو اس سازش کے لیے تیار کر کے بھیجتے تھے تین باتیں ان کے ذہن میں پیوست کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پہلی بات یہ کہ اپنے دین کے ماننے والوں کے علاوہ کسی اور کی بات کی مت مانو اور دوسری بات یہ کہ اس بات کا یقین رکھنا کہ جن انعاماتِ خداوندی سے تمہیں نوازا گیا ہے وہ دوسری کسی قوم کو مرحمت نہیں کیے گئے اور تیسری یہ بات کہ تمہیں اس بات کا ہرگز کھٹکا نہیں ہونا چاہیے کہ مسلمان قیامت کے دن تم پر کوئی حجت قائم کرسکیں گے۔ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس لحاظ سے محفوظ رکھا ہے کیونکہ تم اللہ کے برگزیدہ بندوں سے تعلق رکھتے ہو۔ وہ قیامت کے دن تم کو ہرگز شرمسار نہیں ہونے دے گا۔ یہ تین باتیں ان کے دل و دماغ میں اتار کر انھیں مسلمانوں کے پاس بھیجا جاتا تھا کیونکہ یہود کو اس بات کا برابر اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تو انھیں اس لیے بھیج رہے ہیں کہ یہ لوگ چند روز دائرہ اسلام میں رہیں، اپنا ایک اعتبار قائم کریں اور پھر اچانک اسلام سے نکل کر اس کی خود ساختہ برائیاں بیان کر کے لوگوں کو اسلام سے بدظن کریں۔ لیکن اگر یہ لوگ اپنے تعصبات پر قائم نہ رہے اور مسلمانوں میں جا کر انھوں نے کھلے دل و دماغ سے آنحضرت ﷺ کی باتیں سننا شروع کردیں اور مسلمانوں کے مصفا و مجلا کردار کو دیکھا تو کہیں سچ مچ مسلمان بن کر اسلام کی قوت نہ بن جائیں۔ اس لیے ان کے گرد تعصبات کی جتنی دیواریں اٹھائی جاسکتی تھیں ان کے اٹھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ حقیقت کے مقابلے میں مصنوعی تہذیب اور توہمات پر مبنی مذاہب کی اصل قوت ان کے تعصبات ہی ہوتے ہیں۔ جیسے ہی اس میں غور و فکر کے شگاف کھلنے لگیں تو پھر ان کی فصیلوں کو گرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہود نے اپنے نسلی تفوق سے ہر دور میں اپنی قوم کو بچایا اور یہی وہ تعصب ہے جس نے حقیقت کو قبول کرنے سے انھیں دور رکھا۔ نیشنلزم (Nationalism) ، دودھاری تلوار یہ وہ چیز ہے جسے آج کی زبان میں قومی عصبیت یا نیشنلزم کا نام دیا جاتا ہے۔ یہود کا نیشنلزم نسلی تفوق اور مذہبی تفوق کے دو گونہ تعصبات سے مل کر تیار ہوا تھا اور عیسائیوں کا نیشنلزم بھی انہی دونوں چیزوں سے مل کر تشکیل پایا ہے۔ لیکن مرور زمانہ نے ان میں بعض ایسی ضرورتوں کا شعور ابھارا جس کی وجہ سے مذہبی تعصب کو انھوں نے پردہ اخفاء میں رکھا اور نسلی تعصب کو پردہ اظہار میں لا کر اپنی قوت کی فصیل بنایا اور اسی کو نیشن کا نام دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے نیشن کے اس تصور سے دو دھاری تلوار کا کام لیا ہے۔ اس کی ایک دھار ان کے تحفظ کا ذریعہ بنی ہے اور دوسری دھار نے دوسری قوموں میں تخریب کے زخم لگائے ہیں۔ ان کے اپنے اندر جب بھی انتشار کی قوتوں نے سر اٹھایا ہے تو انھوں نے ہمیشہ نیشنلزم کی قوت سے ان قوتوں کو یا تو خاموش ہونے پر مجبور کردیا اور یا ان کا سر پھوڑ ڈالا اور ان تصورات نے ان کے اساسی تصورات میں اتنی جگہ بنا لی ہے کہ ان کا ہر بچہ، ہر جوان اور ہر بوڑھا ان تعصبات کی چلتی پھرتی تصویر دکھائی دیتا ہے۔ رنگ اور نسل پہچان کے سوا اور کچھ نہیں، لیکن انھوں نے جرمن قوم کی طرح اسے برتری کا ذریعہ بنالیا۔ خوبصورتی جس طرح گورے رنگ میں ہے، اسی طرح دوسرے رنگوں میں بھی ہے۔ لیکن ان کے نزدیک ایشیاء یا افریقہ کا خوبصورت ترین آدمی بھی ایک انگریز جیسا نہیں ہوسکتا اور اس معاملے میں وہ اس حدتک آگے بڑھ چکے ہیں کہ ایک انگریز کسی بھی ایشیائی یا کلرڈ (Coloured) آدمی کے پاس سیاسی ضرورتوں یا مفادات کی خواہشوں کے سوا بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ ٹرین میں کھڑے ہونا پسند کرلے گا، لیکن اپنے سے مختلف رنگ کے آدمی کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرے گا بلکہ کلرڈ (Coloured) کہہ کر توہین کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا اور اس معاملے میں انھوں نے جو اخلاقی ضوابط بنا رکھے ہیں یہود نے تو انھیں پردہ اخفا میں بھی نہیں رکھا کیونکہ تورات میں واضح طور پر ان کا تذکرہ موجود ہے اور ان کے پروٹوکول میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں اس میں وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان کا ذکر کرتے ہیں۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے وہ اگرچہ دنیا میں مساوات کے مبلغ ہیں اور انسانی حقوق کے اپنے آپ کو چمپیئن سمجھتے ہیں اور امریکہ نے سب سے بڑھ کر ان باتوں کے دعوے دار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ، وہ عام زندگی میں احساس نہیں ہونے دیتے، لیکن جب کبھی بین الاقوامی معاملات میں الجھنیں پڑتی ہیں تو پھر ان کے پیمانے بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ قومی مفادات میں وقت کے ساتھ ساتھ سچ اور جھوٹ صحیح اور غلط اور حق اور ناحق آپس میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ سب چیزیں ان کے نیشنلزم کا تقاضا یا قومی تعصب کا نتیجہ ہیں۔ جہاں تک اس تلوار کی دوسری دھار کا تعلق ہے اس سے انھوں نے بالعموم مسلمانوں کی تخریب کے لیے کام لیا ہے۔ انھیں اچھی طرح اس بات کا شعور ہے کہ ان کا نیشنلزم ان کی بقا کا ضامن ہے۔ وہ جتنا اس پر زور دیں گے اتنی ان کی شیرازہ بندی پختہ ہوتی جائے گی۔ لیکن جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ اس معنیٰ میں ایک نیشن نہیں کہ وہ ایک رنگ، ایک نسل یا ایک جغرافیے سے تعلق رکھتے ہیں، اسلام تو ایک نظریے، زندگی کے ایک رویے یا چند حقائق 1 ور صداقتوں کے مجموعے کا نام ہے۔ انھیں عقیدے کی قوت سے قبول کرلینا ایمان کہلاتا ہے۔ جو شخص بھی ایمان لاکر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے وہ مومن اور مسلم کہلاتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کا رنگ کیا ہے ؟ وہ کس نسل سے تعلق رکھتا ہے ؟ اور اس کی جنم بھومی کہاں ہے ؟ خونی رشتے میں شریک لوگ ایک علاقے سے تعلق رکھنے والے اور ایک جگہ پیدا ہونے والے آپس میں بیگانہ ہوجاتے ہیں، اگر ان کے درمیان ایمان کا رشتہ نہ ہو اور اگر وہ اسلام کی بنیادی صداقتوں کو قبول کر کے اسلام کے دائرے میں آجائیں تو وہ مسلمانوں کے بھائی بن جاتے ہیں۔ چاہے رنگ، نسل اور جغرافیے کے اعتبار سے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی بیگانہ کیوں نہ ہوں ؎ حسن ز بصرہ، بلال از حبش، صہیب از روم ابوجہل زم کہ این چہ بولعجبی است حسن ( رض) بصرہ سے آئے اور اصحابِ ایمان کے مقتداء بن گئے۔ بلال ( رض) حبش سے بکتے بکاتے آئے لیکن اسلام سے وابستگی اور آنحضرت ﷺ کی غلامی نے انھیں یہ اعزاز بخشا کہ فتح مکہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کریں اور لوگوں کو یہ دکھا دیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غلامی اور اسلام سے وابستگی وہ دولت ہے جس کی وجہ سے ایک کالا کلوٹا آدمی اللہ کے گھر کی چھت پر کھڑا ہو کر اللہ کی کبریائی اور انسانی مساوات کا اعلان کرسکتا ہے۔ صہیب ( رض) روم سے غلام بنا کر لائے گئے اور مکہ کے بازاروں میں بیچے گئے۔ لیکن تاریخ کا وہ لمحہ آج تک دم بخود ہے جب اس نے یہ منظر دیکھا کہ اسلام کے بطل جلیل حضرت عمر فاروق ( رض) کا جسد خاکی نماز جنازہ کے لیے سامنے رکھا گیا ہے اور تمام جلیل القدر صحابہ ( رض) اس انتظار میں ہیں کہ اس عظیم انسان کی نماز کون پڑھائے گا ؟ لیکن یہ دیکھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ امامت کے لیے آگے بڑھنے والا وہ صہیب ( رض) تھا جو کل مکہ کے بازاروں میں بیچا گیا تھا اور آج اسلام سے وابستگی نے اسے ان لوگوں کا امام بنادیا ہے جن سے بڑھ کر دنیا اور آخرت میں معزز کوئی نہ تھا۔ لیکن ان کے مقابلے میں ابوجہل جو قریش مکہ کے اشراف میں سے تھا اور اسی طرح کے دوسرے لوگ جنھیں اپنے قومی افتخار پر ہمیشہ ناز رہا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ ابوجہل اور اس جیسے دوسرے عمائدینِ قریش گدھوں کی طرح کھینچ کر ایک بند کنویں میں پھینکے گئے۔ جس سے دنیا کے سامنے یہ بات مبرہن ہوگئی کہ عظمتیں، رفعتیں، عزتیں اور سربلندیاں، رنگ، نسل یا جغرافیے سے وابستگی میں نہیں بلکہ اسلام سے وابستگی میں ہیں۔ دنیا کا کوئی شخص بھی جو اس کے دامن میں آجائے گا۔ وہ ان تمام عزتوں کا مالک ہوجائے گا اور جو اس سے کٹ جائے گا وہ چاہے اللہ کے آخری رسول ﷺ کا ہم نسب اور ہم وطن کیوں نہ ہو اس کا ٹھکانہ آخرت میں جہنم ہوگا اور دنیا میں وہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اسلامی قومیت کا حصہ نہیں بن سکتا۔ دنیائے کفر نے اس راز کو اچھی طرح سمجھا اور مسلمانوں کی قوت کے اس سرچشمہ کو غارت کرنے کے لیے نیشنلزم کی دوسری دھار کو استعمال کیا۔ ان میں قومیتوں کے فتنے اٹھائے، زبانیں جو مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ہوتی ہیں انھیں مستقل وحدت بنا کر اسلامی وحدت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ مسلمان ملکوں میں صوبائیت کو علیحدگی کا پیش خیمہ بنادیا۔ قبائلی زندگی میں ہر قبیلہ کو وحدت کی ایسی عظمت بخشی کہ باقی ساری وحدتیں اس پر قربان ہوگئیں اور ان میں سے ہر ایک چیز کو الگ الگ نیشن (Nation) کی بنیاد بنایا گیا۔ ہسپانیہ کی عظیم مسلمان حکومت اسی فتنے کی نذر ہوئی۔ سقوطِ بغداد اور سقوط ڈھا کہ اسی عفریت کے ہاتھوں عمل میں آئے۔ خلافتِ عثمانیہ عرب نیشنلزم سے تباہ کی گئی اور آج پاکستان ایک دفعہ پھر اسی نیشنلزم کے پیدا کردہ حوادث کا سامنا کر رہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں قوم پرستی یا نیشنلزم کے اسی تباہ کن نظریے کا ذکر فرما کر بروقت اس کا ابطال کیا گیا اور پھر یہ بھی آگاہی دی گئی کہ تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کو اسی فتنہ سے واسطہ پڑے گا۔ اہل کتاب اسی کی بنیاد پر اپنا تحفظ کریں گے اور مسلمانوں کو اسی دو دھاری تلوار سے تباہ کیا جائے گا۔ لیکن افسوس قرآن کریم کی اس قدر واضح وارننگ کے باوجود امت مسلمہ آج پھر انہی حوادث کا شکار ہے۔ وہ ایک طرف اہل کتاب کی حقیقت کو نہ پہچان کر بےبصیرتی کا ثبوت دے رہی ہے اور دوسری طرف اپنی قوت کے اصل سرچشمہ اور اپنی قوم کی شیرازہ بندی کے اصل اسباب کو نظرانداز کر کے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے بلکہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ہم زہر کو آب حیات سمجھنے لگے ہیں۔ اقبال نے شاید ایسے ہی تأثرات کے تحت کہا تھا ؎ ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوع انساں کو اخوت کی زباں ہوجا محبت کا بیاں ہوجا یہ ہندی وہ خراسانی یہ ایرانی وہ تورانی تو اے شرمندہ ساحل اچھل کر بےکراں ہوجا غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پر فشاں ہوجا ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ ج یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ اے پیغمبر ! ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنی سیادت و پیشوائی کو بچانے کے لیے قومی عصبیت کی جو دیواریں کھڑی کر رہے ہو اور اس کے نتیجے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ عزت و فضیلت ہمیشہ تمہارے گھر میں رہے گی۔ یہ تمہاری نادانی ہے کیونکہ فضیلت سراسر نبوت کا نتیجہ ہے۔ اگر بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ نہ چلتا اور کسی اور خاندان کو اس سے سر افراز کردیا جاتا تو تم آج تک تاریخ کے غبار میں بےنشان ہوچکے ہوتے۔ نبوت کسی خاندان یا قوم کی خصوصیت نہیں وہ تو خالصتاً اللہ کی دین ہے۔ تمہاری کوششیں اور تمہاری سازشیں اسے اپنے گھر میں بند نہیں رکھ سکتیں۔ کل اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنی اسرائیل کو منتخب کیا تھا تو آج وہ اس کے لیے بنی اسماعیل کو منتخب کرچکا ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں بااختیار ہے، کوئی بھی اس میں دخیل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ ہماری یہ ساری کاوشیں اللہ کے فیصلے کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھو کہ اس کے فضل و رحمت کے پیمانے تم جیسے نہیں۔ وہ نہ تو اتنے تنگ ہیں کہ جو ایک خاندان میں سمٹ کے رہ جائیں اور نہ ان پیمانوں کا مالک اتنا بیخبر ہے کہ وہ نبوت کی عزت و فضیلت ایسے لوگوں کو دے دے جو اپنی نااہلیت ثابت کرچکے ہوں۔ وہ جس طرح بےانتہا فضل و کمال کا مالک ہے اسی طرح وہ علیم بھی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا استحقاق رکھتا ہے اور کون صرف تعصبات کے سائے میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔ بنی اسرائیل کو اگر اس اعزاز سے محروم کیا جا رہا ہے تو یہ بھی سراسر اللہ کے علم و آگہی کا فیصلہ ہے اور اگر بنی اسماعیل کو اس سے نوازا جا رہا ہے تو وہ جہاں ایک اعزازو اکرام ہے وہیں ایک آزمائش بھی ہے اور آزمائش بھی اتنی وسیع ہے جس کا دائرہ پوری نوع انسانی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے بنی اسرائیل کو اگر اپنی بقا عزیز ہے تو اسے اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرنی چاہیے اور اپنے فخر و نخوت کے سارے سرمائے کو نبی آخر الزماں کے قدموں میں ڈھیر کردینا چاہیے اور بنی اسماعیل اگر چاہتے ہیں کہ وہ واقعی اس اعزازو اکرام کے مستحق رہیں اور ان کا انجام کبھی بنی اسرائیل جیسا نہ ہو تو انھیں اس انعام پر اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور آگے بڑھ کر اس کا حق ادا کرنے کے لیے جان و تن کو کھپا دینا چاہیے۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے ان کے پاس ایک ڈھیر (سونے چاندی کا) تو وہ تمہیں ادا کردیں اور ان میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ان کی امانت میں ایک دینار بھی رکھو تو وہ اس وقت تک تمہیں واپس نہ کریں جب تک تم ان کے سر پر سوار نہ ہوجائو، یہ اس سبب سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں، یہ لوگ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں

وَمِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْـکَ ج وَمِنْہُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْـہُ بِدِیْنَارٍلَّا یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْـکَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَـآئِمًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِیّٖنَ سَبِیْلٌ ط وَیَـقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (اور اہل کتاب میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تو امانت رکھے ان کے پاس ایک ڈھیر (سونے چاندی کا) تو وہ تمہیں ادا کردیں اور ان میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ان کی امانت میں ایک دینار بھی رکھو تو وہ اس وقت تک تمہیں واپس نہ کریں جب تک تم ان کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ۔ یہ اس سبب سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہمارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں) (75) اس آیت کریمہ میں ان کے اس کردار کی نقاب کشائی کی گئی ہے جسے ان کی قومی عصبیت اور نسلی تفاخر نے جنم دیا ہے۔ یوں تو اہل کتاب کا مجموعی کردار بری طرح زوال کا شکار تھا۔ ان کے عوام ہی نہیں مذہبی طبقہ بھی ہر طرح کی خیانت کا ارتکاب کر گزرتا تھا۔ سب سے بڑی جسارت اللہ کی کتاب میں خیانت کرنا ہے اور قرآن کریم نے بار بار شہادت دی ہے کہ اس معاملے میں ان کا نامہ عمل بھیانک حد تک سیاہ ہوچکا تھا۔ جن کی جسارتیں یہاں تک پہنچ جائیں، ان کا عام معاملات میں شریعت کے پابند ہونے کا تصور بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کے باوجود معاملات میں خیر کی قوت اور امانت کا تصور بالکل ختم ہونے میں نہیں آیا تھا۔ ان میں ایسے لوگ ابھی تک پائے جاتے تھے کہ ان کے پاس ڈھیروں مال بھی بطور امانت رکھ دیا جائے تو وہ طلب کرنے پر واپس کرنے میں تأمل نہیں کرتے تھے۔ لیکن بیشتر لوگ اس دیانت و امانت سے کوسوں دور تھے۔ لیکن ان کا سب سے تاریک اور قابل نفرت پہلو یہ تھا جو ان کے قومی تصورات کا لازمی نتیجہ تھا کہ جب ان کا معاملہ کسی غیر مذہب والے سے پڑتا یا خصوصاً امیوں یعنی عربوں سے ان کالین دین ہوتا یا کاروبار کی کوئی صورت ہوتی تو اس میں خیانت کرنا بلکہ واجب رقم کو دبا لینا اور جہاں تک ہو سکے عربوں کو نقصان پہنچانا اسے وہ مذہبی طور پر جائز خیال کرتے تھے اور دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ان امیوں کے بارے میں ہمارے مذہب اور ہماری شریعت نے ہر طرح کی خیانت اور بد معاملگی کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان کا قرض دبا لو، ان کا مال ہڑپ کر جاؤ، ان کے ساتھ کیے ہوئے عہد سے پھر جاؤ، ہر چیز ہمارے لیے روا ہے کیونکہ یہ کافر لوگ ہیں انھیں ہر طرح نقصان پہنچانے کی ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے۔ میں گزشتہ آیت کی وضاحت کے سلسلہ میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ برائی صرف یہود میں نہیں بلکہ عیسائیوں میں بھی موجود تھی اور ہے۔ یہود نے تو اسے کسی طرح چھپا کے نہیں رکھا۔ شروع میں تو ان کے دنیادار فقہاء اور مشائخ نے ان خیانتوں کا راستہ اپنے فتاویٰ سے کھولا، لیکن پھر رفتہ رفتہ کتاب اللہ میں تحریف کی صورت میں یہی فتاویٰ تورات کا حصہ بن گئے اور آج کی ریاستِ اسرائیل جب مسلمانوں سے کوئی معاملہ کرتی ہے یا ان سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی عہد کرتی ہے تو وہ ہر طرح کی خیانت اور عہد شکنی کو مسلمانوں کے مقابلے میں جائز سمجھتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ ہمارے مذہب نے ہمیں اس کی اجازت دے رکھی ہے اور تورات نے تو باقاعدہ انسانی حقوق و معاملات میں ایک تفریق پیدا کر رکھی ہے، جس میں بنی اسرائیل کے لیے احکام کچھ اور ہیں اور غیر بنی اسرائیل جنھیں تورات میں اجنبیوں اور پردیسیوں سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کے لیے احکام کچھ اور ہیں۔ جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے، وہ اگرچہ کھل کر اس بارے میں کچھ نہیں کہتے لیکن عملی زندگی میں ان کا معاملہ مسلم اور غیر مسلم سے بالکل الگ الگ ہے۔ ہسپانیہ میں مسلمانوں کی حکومت سینکڑوں سال رہی، تو عیسائی ہسپانیہ پر مسلمانوں کا کوئی حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن فلسطین جہاں کبھی یہود مختلف حالتوں میں رہ چکے ہیں اس پر نہ صرف ان کا حق تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ جو اس ملک کے اصل باسی ہیں ان کو زبردستی نکالا جا رہا ہے بلکہ نکالا جا چکا ہے اور وہاں اسرائیل کی ایک ایسی ریاست قائم کی جا چکی ہے جو عرب کے قلب میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ انڈونیشیا کا ایک جزیرہ ” بلطائف الحیل “ عیسائیوں کے حوالے کیا جاتا ہے اور کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادیں بھی فرسودہ قرار دے دی گئی ہیں۔ پاکستان جسے اپنا دوست ملک کہا جاتا ہے اس سے F-16 کی ادائیگی کے لیے اربوں روپے وصول کرلیا جاتا ہے اور پھر محض اس لیے طیارے دینے سے انکار کردیا جاتا ہے کہ انھیں جیسے ایک کافر ملک کو اس پر اعتراض ہے اور پیسے بھی ہڑپ کرلیے جاتے ہیں اور دنیا کا کوئی اخلاق انھیں نہ ملامت کرتا ہے اور نہ وہ اس کی شرم محسوس کرتے ہیں۔ چناچہ اہل کتاب کا یہ وہ رویہ ہے جس کی اس آیت میں خبر دی گئی ہے اور جسے تاریخ کے ہر دور نے سچا ثابت کیا ہے۔ آج کے اہل کتاب تو معلوم نہیں کیا کہتے ہیں، لیکن قرآن کریم کے نزول کے وقت ان کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم امیوں یعنی عربوں سے جو نارواسلوک کرتے ہیں اس کا حکم ہمیں اللہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کی شریعت پر ان کا بہتان ہے، اس کی اجازت کبھی انھیں اللہ کی کتاب نے نہیں دی اور نہ کبھی کوئی ایسی نامعقول بات اللہ نے کسی کتاب میں نازل فرمائی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ( یہ لوگ خوب جانتے ہیں) کہ اللہ نے ان خیانتوں کا کبھی حکم نہیں دیا۔ البتہ ! وہ اللہ کا نام لے کر اپنی خواہشات کی پیروی اور حرص دنیا کا جواز پیدا کر رہے ہیں۔
Ayah 3:76

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں ! کیوں نہیں جو لوگ اللہ کے عہد کو پورا کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے تو بیشک اللہ اپنے ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ (ہاں ! کیوں نہیں جو لوگ اللہ کے عہد کو پورا کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے تو بیشک اللہ اپنے ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) (76) یہ آیت یہود کی مذکورہ بالا باتوں پر استدراک کی حیثیت رکھتی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہود کی یہ غلط فہمی کہ انھیں اللہ کے یہاں کوئی خاص مرتبہ و مقام حاصل ہے، اس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ہر طرح کی بدمعاملگی اور بد عہدی کرنے کا حق رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کے مقابلے میں انھیں ہر طرح کی چھٹی دی گئی ہے کہ جو چاہیں سو کریں اللہ تعالیٰ ان سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا، یہ بالکل ایک بےسروپا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے یہاں مقام و مرتبہ جھوٹے دعو وں سے نہیں ملتا بلکہ اس نے ہر امت کو ایک شریعت دے کر اس کی پابندی کا عہد لے رکھا ہے۔ جو بھی اس عہد کی پاسداری کرتا ہوا اس کے احکام کی پیروی کرے گا اور ہر کام کرنے سے پہلے اللہ کے سامنے جوابدہی سے ڈرے گا اور اللہ کی ناراضگی سے لرزاں و ترساں رہے گا حقیقت میں وہ شخص اس قابل ہے کہ اسے اللہ کے یہاں کوئی مقام و مرتبہ ملے کیونکہ شریعت کی پابندی اور اللہ سے ڈر کر پاکیزہ زندگی گزارنا تقویٰ ہے اور ایسے ہی لوگ متقی کہلاتے ہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہمیشہ متقین سے محبت کرتا ہے، جھوٹے دعویداروں سے نہیں۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بیچتے ہیں اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو ایک حقیر قیمت کے عوض یہ وہ بدنصیب ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا ان کے لیے دردناک عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِاللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓئِکَ لَاخَلاَقَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ ص وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (بیشک جو لوگ بیچتے ہیں اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو ایک حقیر قیمت کے عوض یہ وہ بدنصیب ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا ان کے لیے دردناک عذاب ہے) (77) اشتراء کا مفہوم اشتراء یا شراء اور بیع ‘ خریدنے اور بیچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے معنی میں بھی مستعمل ہیں۔ یعنی اشتراء کا معنی خریدنا بھی ہے اور بیچنا بھی اور بیع کا معنی بیچنا بھی ہے اور خریدنا بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیع وشراء کی اصل حقیقت مبادلۃ المال بالمال ہے۔ مال کو مال سے بدلنا یعنی بیچنے والا ایک مال دیتا ہے اور دوسرا مال لیتا ہے۔ اسی طرح خریدنے والا بھی ایک مال لیتا ہے اور دوسرا مال دیتا ہے اور قدیم زمانے میں تو بیع شراء ہوتی ہی دو جنسوں یا دو مالوں کے درمیان تھی۔ پھر اسی مفہوم نے مرور ایام سے ترقی کی اور یہ دونوں لفظ ترجیح دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگے۔ ثَمَنًا قَلِیْلاً کا مفہوم اسی طرح یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ یہاں ثَمَنًا قَلِیْلاً کا لفظ ’ ’ تھوڑی قیمت، حقیر قیمت “ کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ کسی چیز کا تھوڑا یا زیادہ ہونا اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ اضافی معنی ہے۔ ایک ہی چیز کسی ایک چیز کے مقابلے میں بڑی سمجھی جاتی ہے اور کسی دوسری کے مقابلے میں اسے تھوڑا یعنی حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ایک شخص ایک لاکھ روپیہ لے کر سبزی منڈی چلا جائے تو اسے ایک بہت بڑی رقم سمجھا جائے گا، لیکن اگر وہ سونے کے بازار میں چلا جائے تو ایک لاکھ کو حقیر قیمت ہی کہا جاسکتا ہے اور اگر وہاں سونے کے زیورات کے ساتھ ساتھ ہیرے بھی ملتے ہوں تو پھر تو اس ایک لاکھ کو ناقابلِ ذکر ہی کہنا چاہیے۔ تو قرآن کریم نے جہاں بھی آخرت یا دین کے بدلے میں دنیا یا دولت دنیا کا ذکر کیا ہے تو اس کی حقیقت چونکہ ان کے مقابلے میں کچھ نہیں اس لیے اسے ثمن قلیل کہا گیا ہے یعنی حقیر قیمت۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم بعض دفعہ دنیا کو دنیائے دوں یا دنیائے دنی کہتے ہیں۔ قوموں کے اخلاقی زوال کا اصل سبب الفاظ کی حقیقت سمجھنے کے بعد اب سلسلہ بیان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ آپ جانتے ہیں کہ اہل کتاب پر تنقید جاری ہے۔ ان کے عقیدے کی خرابیوں سے لے کر ان کی بد اعمالیوں تک کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے ایمان و عمل کی کمزوریاں اور خرابیاں ایسی چند در چند اور تہ در تہ ہیں کہ ان کا بہ ہمہ وجوہ ذکر اور ان کا استقصا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لیے پروردگار نے بداعمالیوں کے سلسلے میں ان کی ایک ایسی کمزوری کا ذکر فرمایا ہے جسے ام الامراض کہا جانا چاہیے اور یہ ایسی بیماری ہے جس کے پیدا ہوجانے کے بعد زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ لیکن اس کے ذکر میں ایسی گہرائی، نزاکت اور حکمت سے کام لیا گیا ہے کہ جس پر جتنا غور کیا جائے اتنی ہی حیرت بڑھتی جاتی ہے۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ ان کی اصل خرابی عام نگاہ میں حبِّ دنیا ہے۔ دنیا کی محبت بالخصوص یہود کی ایک ایسی علامت ہے جو آج تک ان سے الگ نہیں ہوسکی۔ عیسائی بھی حبِّ دنیا اور مادیت میں غلو کے اعتبار سے یہود سے پیچھے نہیں۔ لیکن ان کا طرزعمل ایک اور حیرت پیدا کردینے کا باعث بنتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کی اجتماعی اور قومی زندگی تو حبِّ دنیا کی پوری تصویر ہے، لیکن جب وہ اللہ کے تقرب اور اس سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کے وسائل پر گفتگو کرتے ہیں تو دنیا کو اللہ اور بندے کے درمیان ایک مانع اور حائل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور حبِّ دنیا بجائے خود ان کے نزدیک ایک ایسی برائی ہے جس کا ارتکاب کرنے والا اللہ کے راستے پر چلنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس لیے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو آدمی اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رہبانیت یعنی ترک دنیا کا راستہ اختیار کرے اور اس بات میں وہ تنہا نہیں، ہندوئوں میں جوگی ازم اور بدھ مت میں بھکشو ازم اسی کا عکس ہے۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو مادیت ان کا مطمع نگاہ ہے اور وسائلِ دولت پر قبضہ ان کی قومی زندگی کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے اور آج بھی امریکہ اسی ہدف کے حصول میں ملکوں پر قبضہ کرنے کی پالیسی پر چل پڑا ہے۔ لیکن دوسری طرف جب وہ مذہب کی بات کرتے ہیں تو رہبانیت کو اس کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں تصورات میں ایسا کھلا تضاد ہے جس کو ہر شخص محسوس کرسکتا ہے۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے وہ فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کے احکام دیتا ہے، فطرت سے لڑنا یا فطرت پر غالب آنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ وہ جس طرح مادیت میں غلو اور حبِّ دنیا میں استغراق انسانیت کے لیے سم قاتل سمجھتا ہے اسی طرح وہ رہبانیت اور ترک دنیا کو بھی خلاف فطرت اور انسانی زندگی کی ہمہ ہمی کا دشمن سمجھتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے صاف فرمایا کہ اہل کتاب نے رہبانیت کا تصور خود اختراع کیا ہے اور اسے دین کی شکل دے دی ہے اللہ نے ہرگز اس کا حکم نہیں دیا ہے۔ ذرا غور فرمایئے ! اگر دنیا میں رہبانیت کا تصور قبول عام حاصل کرلے تو آج کی دنیا اپنے جس علم و ہنر پر ناز کرتی ہے اور جس طرح اس کی ایجادات نے اہل دنیا کو مالا مال کر رکھا ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ انسانی ترقی کی ہر چیز ختم ہو کر انسان غاروں کے زمانے میں پہنچ جائے گا۔ ہاں ! البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر امریکہ اور مغربی طاقتیں جزوی طور پر بھی رہبانیت اختیار کرلیں تو باقی نوع انسانی کو ان کے ظلم سے نجات مل سکتی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ اسلام نے دین فطرت ہونے کی وجہ سے نہ تو رہبانیت کی اجازت دی نہ اس نے حبِّ دنیا میں غلو اختیار کرنے کی اجازت دی۔ اس نے مال و دولت کو خیر قرار دیا، اسے جائز طریقے سے کمانے اور جائز مصرف میں خرچ کرنے اور حقوق کی ادائیگی کا ذریعہ بنانے کو نہ صرف جائز بلکہ فریضہ قرار دیا۔ لیکن اس بات کی سخت تاکید فرمائی کہ جس طرح اس سے لا تعلقی فطرت سے جنگ ہے اسی طرح ایک حد سے بڑھا ہوا اس سے تعلق انسانیت کے لیے مہلک ہے، یہ تمہاری ضرورت ہے، اس لیے اس کو ضرورت کے درجے میں رہنا چاہیے۔ یہ تمہارا مقصد ہرگز نہیں، اس لیے اسے زندگی کا حاصل قرار نہیں دینا چاہیے اور جب اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ مقصد حاصل زندگی ہوتا ہے جس پر سب کچھ نچھاور کیا جاسکتا ہے اور ضرورت بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت حاصل کی جاتی ہے اور اسے ہمیشہ مقصد کے تابع رکھا جاتا ہے تو پھر اصل بحث یہ رہ جاتی ہے کہ دنیا اور دولت دنیا سے تعلق کی شکل کیا ہوگی ؟ اسے قرآن کریم نے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دولت کمائو، اس سے فائدہ اٹھائو، لیکن یہ مت بھولو کہ وہ تمہاری ضرورت ہے اور دین تمہارا مقصد ہے۔ اس لیے اسے مقصد پہ غالب نہیں آنا چاہیے۔ جب بھی دونوں میں سے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرنے کا وقت آئے تو ترجیح مقصد کو ہونی چاہیے اور اگر غائر نظر سے انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی قوموں میں زوال آیا ہے اور ان میں اخلاقی بحران پیدا ہوا ہے تو ان کے زوال کا آغاز ہمیشہ اسی سے ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سورة الاعلیٰ میں پروردگار نے اس بنیادی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بیماری ایسی خطرناک ہے کہ ہم نے اس کی خطرناکی کے پیش نظر اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والے صحیفوں میں بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ تم انسانوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ تم ہمیشہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہو اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ جس چیز کو ترجیح دیتا ہے اسے باقی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی سے محبت کرتا ہے، اسی کے لیے دنیا کا ہر دکھ اٹھاتا ہے تو جب انسان دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو آخرت اس کی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگتی ہے اور دنیا اس کی نگاہوں میں بس جاتی ہے۔ آخرت کا ذکر محض برائے وزن بیت ہوتا ہے اور دنیا اوڑھنا بچھونا بنی رہتی ہے۔ تعلیم کا حاصل دنیا کا حصول اور دنیا میں ترقی ٹھہرتا ہے۔ ملک کے وسائل کا زیادہ حصہ دین کے احیاء کے لیے نہیں، بلکہ وسائل دنیا میں اضافے اور ترقی کے لیے صرف ہوتا ہے۔ انسانوں کا ہدف آخرت نہیں دنیا ہو کر رہ جاتی ہے۔ عزت و سربلندی دنیا سے وابستہ ہوجاتی ہے اور آخرت سے وابستگی کتابوں میں قابل تعریف ہو تو ہو عملی زندگی سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اخلاقی اقدار صرف وہ باقی رہتی ہیں جن کی پابندی سے مفادات پہ ضرب نہ پڑتی ہو ورنہ بالعموم ہر اخلاقی قدر مادی نفع نقصان کے حوالے سے تولی جاتی ہے۔ دنیا کو ترجیح دینے کے باعث زندگی کا ہدف دنیا اور دولت دنیا میں روز بروز ترقی بن جاتا ہے۔ اس کے لیے اخلاقی اقدار کو کیسا ہی پامال کرنا پڑے انسانی رشتے چاہے کیسے ہی کمزور ہوجائیں، انسانیت کی ضرورتیں بیشک جان کنی کا شکار ہوجائیں، دنیا کو ترجیح دینے والا معاشرہ ان باتوں کی کبھی پرواہ نہیں کرتا۔ ایک صاحب اقتدار کو اقتدار چاہیے، چاہے اس کا محل غریبوں کے گھروندوں پر کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ ایک کاروباری آدمی کے کاروبار میں اضافہ ہونا چاہیے چاہے اس کے لیے امانت و دیانت اور ایمان کے ترازو کو توڑ کر بھی کیوں نہ پھینکنا پڑے جیسے جیسے دنیا سے تعلق بڑھتا جاتا ہے اور آخرت سے تعلق کمزور ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے غداروں کی فصل بار آور ہونے لگتی ہے۔ طالع آزما کھل کھیلنے لگتے ہیں، نتیجتاً ایسی قوم کا کوئی قلعہ محفوظ نہیں رہتا، ان کے عبادت خانے اولاً تو اجڑ جاتے ہیں اور اگر کہیں آباد بھی نظر آئیں تو وہ فریبِ نظر اور ضمیر کو سلا دینے کے سوا اور کسی کام نہیں آتے۔ جب ہم تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو قدم قدم پر اس حقیقت کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔ تاتاریوں کے ہاتھوں امت مسلمہ کی تباہی، اقتدار اور دنیا کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خلافتِ اسلامیہ کے تخت پہ بیٹھنے والا خلیفہ بغداد اگر ہیروں اور جواہر کا پرستار نہ ہوتا، اس کے اندر اسلامی غیرت ہوتی اور وہ اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس سے بہرہ ور ہوتا تو تاتاریوں کو خوارزم شاہ کی حکومت پر حملہ کرنے کا کبھی حوصلہ نہ ہوتا اور اگر خلیفہ بغداد کا وزیراعظم علقمی اور اس کے گماشتے دنیا کو ترجیح دے کر اپنا مقصد وملجا نہ بنا چکے ہوتے تو سقوط بغداد کبھی عمل میں نہ آتا۔ برصغیر میں اگر میرجعفر، میرقاسم اور پورنیا جیسے غدار امت مسلمہ میں پیدا نہ ہوتے تو سراج الدولہ اور ٹیپو کے قلعوں کو کبھی کوئی مسمار نہ کرسکتا۔ یہ دنیا کے وہ پرستار تھے جنھوں نے دنیا کے چند ٹکوں کے بدلے اسلامی غیرت و حمیت اور روایت کو بیچ ڈالا اور اسلام کی رسوائی کا باعث بنے۔ آج بھی امت مسلمہ جس صورت حال سے دوچار ہے، اس میں بھی اقتدار کی ہوس، ڈالروں اور پونڈوں کی چمک اور بڑی طاقتوں کے قرب کی چاہت (جو دنیا کے مختلف چہرے ہیں) ، امت کے با اختیار لوگوں کے دلوں میں ترجیح نہ پاتی اور آخرت ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوتی اور وہ وہاں کی باز پرس سے بےنیاز نہ ہوتے تو ہمارے سامنے مسلمانوں کا خون کبھی ارزاں نہ ہوتا۔ ہم خود اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر مسلمانوں کے درد میں پگھلنے والے لوگوں کو غیر مسلموں کے کبھی حوالے نہ کرتے۔ یہ رونا آج کا رونا نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ کا رونا ہے۔ مسلمان نے جب بھی ٹھوکر کھائی ہے آخرت کے بدلے میں دنیا کو ترجیح دے کر کھائی ہے۔ آخرت کو ترجیح دینے والا شخص جب تک دنیا میں جیتا ہے تو غیرت و حمیت کی تصویر بن کر جیتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اسلام اور انسانیت کے مقاصد کی سربلندی کی شہادت کو نقش دوام دے جاتا ہے۔ اس کی زندگی انسانیت کی سربلندی کے لیے ہوتی ہے اور اس کی موت پیچھے رہ جانے والے باغیرت لوگوں کے لیے حوصلوں کا سامان ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ نے اس بنیادی کمزوری کا ذکر فرما کر انسانیت کے گریبان کے چاک کھول دیئے ہیں کہ وہ لوگ اللہ کے عہد پر دنیا کی محبت کو ترجیح دیتے ہیں، اللہ کے عہد سے مراد وہ رشتہ محبت اور وہ عہد بندگی ہے جو ایک بندے کو اپنے معبود سے اور ایک مسلمان کو اپنے خدا سے ہے۔ اہل کتاب بھی اپنے دور کے بگڑے ہوئے مسلمان تھے۔ انھوں نے اپنے اللہ سے کلمہ شہادت پڑھ کر ہماری ہی طرح جو عہد کر رکھا تھا ان کے عام آدمی سے لے کر ان کے علماء تک نے اسے توڑ ڈالا۔ علماء نے دین کو دنیا کی کمائی کا ذریعہ بنایا، مشائخ نے اصلاح و تربیت کے نام سے اپنے مریدوں کی جیبیں خالی کیں اور عام آدمی دنیاداری کا بہانہ بنا کر دین کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوگیا اور جب ہم اپنے گریبانوں میں منہ ڈالتے ہیں تو ہماری صورت بھی اس سے مختلف نظر نہیں آتی۔ مادیت پرستی نے ان کی زندگی میں اس طرح حاکمیت قائم کی ہے کہ دین چند رسم و رواج کے سوا اپنی ہیئتِ حاکمہ ہی نہیں بلکہ اپنا وجود بھی ختم کر بیٹھا ہے۔ متذکرہ بالا گفتگو عہد اللہ کے حوالے سے اس معنی کی بنیاد پر تھی کہ عہد اللہ سے مراد وہ عہد ہے جو ایک بندہ اپنے اللہ سے کلمہ شہادت پڑھ کر کرتا ہے اور جس کے بعد اس کی زندگی کی ساری کاوشیں اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت کی کامیابی کے لیے ہوتی ہیں۔ لیکن عہد اللہ کا ایک اور معنی بھی ہے، جس کا ذکر اگلے رکوع میں آرہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں جو آگے آرہی ہے بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا اور ان کے پیغمبروں کو اس کا پابند ٹھہرایا تھا کہ وہ اپنی اپنی امتوں کے سامنے یہ بات واضح کردیں بلکہ ان سے عہد لے لیں کہ اگر تمہارے زمانے میں نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائیں تو تم ان پر ایمان لائو گے اور ان کی نصرت کرو گے۔ پھر تاکیداً ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا تم اس عہد کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہو ؟ اور اس کے نبھانے کا اقرار کرتے ہو تو سب نے اقرار کیا تھا اور اللہ کو اس پر گواہ ٹھہرایا تھا۔ اس اقرار کی وجہ سے اہل کتاب پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام قبول کریں اور اسلام کی سربلندی اور بالا دستی کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کردیں۔ اَیْمَانِہِمْ کا مفہوم اس کے بعد فرمایا وَاَیْمَانِہِمْ ( یہ لوگ اپنی قسموں کو بھی ثمن قلیل کے بدلے میں بیچ ڈالتے ہیں) یہاں ایمان یمین کی جمع ” قسم “ کے معنی میں ہے۔ اس سے مراد ہر وہ قسم ہے جو اجتماعی معاملات میں ایک دوسرے کا اعتبار پیدا کرنے کے کام آتی ہیں اور قومی اور بین الاقوامی معاہدوں میں وقار کا باعث ہوتی ہیں۔ قسموں میں بھی عموماً اللہ کے نام کا حوالہ آتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پر اٹھنی والی قومیں جب مذہبی طور پر زوال کا شکار ہوتی ہیں تو مذہب سے رشتہ جیسے جیسے ٹوٹتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ کے نام کی عظمت اٹھتی جاتی ہے۔ چناچہ انھیں کوئی معاہدہ اور کوئی قسم توڑتے ہوئے اس لیے شرم نہیں آتی کہ ہم اس پر اللہ کا نام لے چکے ہیں اور نہ انھیں اس بات کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے افراد اور قوم کے وقار کو دھچکا لگتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ قسم آدمی اس وقت توڑتا ہے جب وہ وعدہ خلافی کرتا ہے اور وعدہ خلافی اس وقت ہوتی ہے جب سچ کی بجائے کاروبارِ زندگی کے لیے جھوٹ اچھا لگنے لگتا ہے اور یہی وہ موقع ہے جسے افراد اور قوموں کے لیے اخلاقی دیوالیے کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے جب آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی ایک مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا بلکہ آنحضرت ﷺ نے جھوٹ کو منافق کی علامتوں میں شمار فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : آیَۃُ الْمَنَافِقِ ثَلاَثٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّـہٗ مُسْلِمٌ اِذَا حَدَّثَ کَذِبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ۔ (منافق کی تین نشانیاں ہیں اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان خیال کرے۔ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو ایفاء نہ کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے) عہد اللہ سے کیا مراد ہے ؟ آیتِ کریمہ میں جن دو جرائم کا ذکر فرمایا گیا ہے دونوں کا تعلق عہد و پیمان اور وعدے سے ہے۔ عہد سے مراد وہ وعدہ ہے جو بندہ اپنے رب کے ساتھ اس کی بندگی اور فرمانبرداری کے متعلق کرتا ہے اور دوسرا وہ جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ دونوں کی خلاف ورزی پر آگے وعیدات فرمائی جا رہی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، انھیں آخرت میں ہر طرح کی نعمتوں سے محروم کردیا جائے گا۔ دنیا میں رہتے ہوئے اگر کسی شخص کو دنیا کی تمام نعمتوں سے محروم کردیا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی کس قدر اذیت کی تصویر ہوگی۔ اسی طرح وہ شخص جسے آخرت کی نعمتوں سے محروم کردیا جائے جب کہ آخرت کی نعمتیں ہی اصل نعمتیں ہیں تو ایسے شخص کے بارے میں تو اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کس کرب اور اذیت میں مبتلا ہوگا اور دوسری بات فرمائی کہ اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا کیونکہ یہ اس جلیل القدر پیغمبر کی امت ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی سے نوازا ہے۔ تمام رسولانِ گرامی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واحد پیغمبر ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی عزت بخشی اور اس طرح سے یہ اعزاز آپ کی امت تک پہنچا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوہ طور پر جو ستر بڑے بڑے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گئے تھے انھیں بھی اللہ کی آواز سنائی گئی۔ اتنے بڑے مقام پر فائز کیے جانے کے باوجود اس قوم نے جس پر قدم قدم پر عنایات کی بارش ہوتی رہی اور جنھیں فرعونیوں کی ذلت آمیز حکمرانی سے نجات دی، انھوں نے آخر اس کا کیا صلہ دیا ؟ اور بجائے دین کی قدر و قیمت پر جان دینے کے وہ دنیا کو دین پر ترجیح دینے لگے۔ اب وہ اسی قابل رہ گئے تھے کہ اللہ نے ان سے بات کرنا پسند نہ فرمایا۔ تیسری بات فرمائی کہ اللہ قیامت کے دن انھیں دیکھنا بھی پسند نہیں فرمائے گا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نگاہ سے کوئی شخص بھی اوجھل نہیں۔ لیکن یہاں دیکھنے سے مراد شفقت سے دیکھنا ہے۔ جب باپ اپنے بیٹے سے غضبناک ہو کر یہ کہتا ہے کہ نکل جاؤ میں تیری شکل نہیں دیکھنا چاہتا تو اس سے مراد دیکھنا نہیں ہوتا بلکہ یہ مراد ہوتا ہے تم آج سے میری شفقت سے محروم ہوگئے ہو۔ ان سے بات کرنے سے انکار اور دیکھنے سے انکار درحقیقت ان کی انتہائی محرومی کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگارِعالم جس پر ہمیشہ رحمت غالب رہتی ہے اس دن یہ بدنصیب لوگ اس کی ہر طرح کی رحمت سے مایوس کردیئے جائیں گے۔ مزید فرمایا کہ اللہ ان کو پاک بھی نہیں فرمائے گا۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے رسول اس لیے بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کا تزکیہ کریں۔ لیکن قیامت کے دن یہ لوگ خود پروردگار کے سامنے موجود ہوں گے، لیکن وہ ان کا تزکیہ نہیں فرمائے گا کیونکہ تزکیہ کا محل دنیا ہے، آخرت نہیں۔ آخرت تو جزا اور سزا کا دن ہے۔ یہ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل کتاب کا دعویٰ یہ تھا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح پاک فرما کر جنت میں داخل کر دے گا اس لیے ہمیں دنیا میں اپنے تزکیے کی کوئی فکر نہیں اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ جن لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوا اور انھوں نے پوری زندگی ایک کافر کی طرح گزاری ہو، اللہ تعالیٰ انھیں براہ راست ہمیشہ کے لیے جہنم کی نذر کر دے گا۔ البتہ ! جن لوگوں نے اللہ کو کسی نہ کسی حد تک یاد رکھا اور ایمان پر ان کا خاتمہ ہوا وہ کیسی بھی بداعمالیاں ساتھ لے کر جائیں اللہ تعالیٰ ایک مدت تک انھیں جہنم میں رکھ کر انھیں بداعمالیوں سے پاک فرمائے گا اور جب وہ اپنی بداعمالیوں اور بدکرداریوں سے پاک ہوجائیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ لیکن اہل کتاب اپنے کفر کے باعث اس قابل نہیں ہوں گے کہ انھیں پاک کیا جاسکے۔ پاک تو آدمی کو بد اعمالیوں کی سزا سے کیا جائے گا لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔ لیکن یہ کفر پر مرنے والے لوگ اس رعایت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ یہ لوگ ہمیشہ کے لیے دردناک عذاب کے حوالے کردیے جائیں گے۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور بیشک ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو اپنی زبان کو کتاب الٰہی کے ساتھ توڑتا موڑتا ہے تاکہ تم اسے گمان کرو کتاب الٰہی کا ایک حصہ حالانکہ وہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر

وَاِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَہُمْ بِالْـکِتٰتِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْـکِتٰبِ وَمَا ہُوَمِنَ الْـکِتٰبِ ج وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ وَمَا ہُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ ج وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (اور بیشک ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو اپنی زبان کو کتاب الٰہی کے ساتھ توڑتا موڑتا ہے تاکہ تم اسے گمان کرو کتاب الٰہی کا ایک حصہ حالانکہ وہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں اور وہ کہتے ہیں یہ بھی اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کر) (78) اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کی ان تدبیروں میں سے جو وہ عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے اختیار کرتے تھے اور یا وہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں جو علامتیں اللہ نے ان کی کتاب میں بیان فرمائی ہیں انھیں تحریف کرنے یا ان کا معنی بدلنے کے لیے جو خیانتیں کرتے تھے اس کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ یَلْوُوْنَ کا مفہوم یَلْوُوْنَ کا اصل لَیٌّ ہے، جس کا معنی ہوتا ہے ” جھکانا، مائل کرنا اور لفظ کو پڑھتے ہوئے زبان کو توڑنا موڑنا اور اینٹھنا۔ یَلْوُوْنَ اَلْسِنَـتَـہُمْ بِالْـکِتٰبِکے معنی ہوں گے (وہ کتاب الٰہی کے بعض الفاظ کو ادا کرتے ہوئے اپنی زبان اس طرح توڑتے موڑتے ہیں کہ الفاظ کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں) لَوِیَ بِرَاْسِہٖ کا معنی ہے (اس نے اپنا سر جھکایا) یعنی اس کی اصلی اور فطری وضع میں تبدیلی کردی۔ اس لیے اب اس کا استعمال کسی کلام کے الفاظ یا اعراب میں ایسا رد و بدل کردینے سے ہوتا ہے جس سے اس کلام کا اصلی مفہوم بدل جائے یا اس کی ایسی من گھڑت تشریح کرنا جس کا اس کلام سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ عربی محاورہ میں جھوٹ بولنے اور من گھڑت بات بنانے کو لَوِیَ لِسَانَہٗ بِکَذَا کہتے ہیں۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ علمائے یہود کا یہ شیوہ تھا کہ تورات کی جن آیات میں نبی کریم ﷺ کا ذکر پاک ہوتا یا تو ایسے لب و لہجہ سے انھیں پڑھتے کہ مطلب بگڑ جاتا یا اعراب میں رد و بدل کردیتے۔ اس آیت میں ان کی یہی مذموم حرکت بیان کی گئی ہے۔ اس فعلِ شنیع کا ارتکاب جس طرح نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا گیا ہے، اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور شعائر اللہ کے بارے میں بھی کیا گیا ہے۔ وہ کتاب الٰہی سے ایسی ہر بات کو نکال باہر کرنا چاہتے تھے یا اس کا مفہوم بدل دینا چاہتے تھے جس سے قرآن کے مندرجات کی تصدیق ہوتی ہو اور قرآن کریم نے بیت اللہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے تعلق کے حوالے سے جو باتیں ارشاد فرمائی ہیں، یہ کمی بیشی سے انھیں بدل دینے کی کوشش کرتے تھے اور پیش نظر یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا کوئی تعلق بیت اللہ سے ثابت نہ ہونے پائے اور دوسری یہ بات کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو قرار دیا جائے۔ اس سلسلے میں ہم صرف ایک مثال دیتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آج بھی حجاجِ کرام دو پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتے ہیں، جن کا نام صفا ومروہ ہے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مروہ کے دامن میں بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اب اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ مروہ وہ پہاڑی ہے جو بیت اللہ سے ملحق ہے تو پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح ثابت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہود نے مروہ کے تلفظ میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مروہ کو بگاڑ کر کبھی مریا پڑھا کبھی موریاہ اور کبھی موراہ اور پھر یہ دعویٰ کیا کہ یہ جس پہاڑی کا ذکر کیا گیا ہے وہ بیت اللہ کے قریب مشہور پہاڑی نہیں بلکہ یہ وہ پہاڑی ہے جو فلسطین میں پائی جاتی ہے اور یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو قربان کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی طرح کی حرکت انھوں نے لفظ بکہ کی قرأت میں بھی کی ہے۔ قرآن کریم نے ان کی اس مذموم حرکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ذرا ان کی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری ملاحظہ کیجیے کہ اس قسم کی تحریفات کو یہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ اسے ہم نے نہیں گھڑا بلکہ اللہ نے اپنی کتاب میں ایسے ہی نازل کیا ہے۔ اللہ نے اس کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ کتاب الٰہی میں ایسی کوئی بات نہیں، یہ سراسر جھوٹ ہے جو یہ اللہ پر باندھ رہے ہیں اور یہ جانتے بھی ہیں کہ وہ ایک افترا کر رہے ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔