3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی بشر کی مجال نہیں کہ اللہ اس کو کتاب، قوت فیصلہ اور منصب نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو۔ وہ تو لوگوں کو یہی دعوت دے گا کہ تم ربانی بن جائوبوجہ اس کے تم کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور نہ یہ ممکن ہے کہ وہ تمہیں یہ حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلمان بن چکے ہو)

مَا کَانَ لِبَشَرٍاَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْـکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنَّـبُـوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰـکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْـکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔ لا وَلاَ یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا ط اَیَاْمُرُکُمْ بِالْـکُفْرِبَعْدَ اِذْاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ ع (کسی بشر کی مجال نہیں کہ اللہ اس کو کتاب، قوت فیصلہ اور منصب نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو لوگوں کو یہی دعوت دے گا کہ تم ربانی بن جاؤ بوجہ اس کے کہ تم کتاب الٰہی کی دوسروں کو تعلیم دیتے ہو اور خود بھی اس کو پڑھتے ہو۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ وہ تمہیں یہ حکم دے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلمان بن چکے ہو) (79 تا 80) سورة اٰلِ عمران میں زیادہ تر روئے سخن نصاریٰ کی طرف ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہود کو بھی مخاطب کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ درحقیقت یہ ہے کہ نصاریٰ یہود کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں اور مزید یہ کہ سینٹ پال کی سازش نے ان کے اصل امتیازات گم کردیئے اور پھر جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ ان میں سے بعض لوگوں کا مزاج ایمان کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوا بلکہ ان کے مزاج پر یہودیت کا اثر برابر کام دکھاتا رہا۔ اس لیے قرآن کریم کو تنقید کرتے ہوئے اپنے خطاب میں بار بار تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ عقلِ سلیم سے خطاب اس سے پہلے کی آیات میں اہل کتاب پر تنقید، منقولات کے حوالے سے تھی۔ لیکن اس آیت کریمہ میں خالصتاً عقل سلیم کو مخاطب کیا ہے اور عیسائیوں نے جو کچھ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلط عقائد اختیار کرلیے تھے، قرآن انھیں بعض بنیادی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان غلط عقائد کی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تم ہزار سخن سازی سے کام لو، لیکن تم اس کا انکار نہیں کرسکتے کہ باقی پیغمبروں کی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک انسان تھے اور پیغمبر چونکہ صرف انسانوں میں سے اٹھائے گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی انسانوں ہی کی اصلاح کے لیے نبوت عطا فرمائی تھی۔ تم اگرچہ ان دونوں باتوں کی تاویل کرتے ہو لیکن حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں۔ اس حقیقت کو اپنے سامنے رکھو اور پھر یہ بتائو کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی بشر کو کتاب اور حکمت سے نوازے اور پھر اسے نبوت بھی عطا کر دے تو کیا عقل اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے کہ وہ کتاب اور نبوت ملنے اور حکمت آشنا ہونے کے بعد کبھی لوگوں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے اور غلام بن جاؤ۔ نبی تو دنیا میں لوگوں کو اللہ کے آستانے پر جھکانے کے لیے آتے ہیں۔ انھیں ان کی اصل حیثیت یاد دلانے کے لیے آتے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو وہ غلط عقائد اختیار کرچکے ہوتے ہیں ان کی اصلاح کے لیے آتے ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اسی مقصد کے لیے تشریف لائے۔ ان کا پیدا ہونا، ان کا دوسرے انسانوں کی طرح غذا کا محتاج ہونا اور باقی تمام بشری احتیاجات سے آزاد نہ ہونا، کیا ان کے بشر ہونے کے لیے کافی نہیں ؟ پھر اللہ کا انھیں کتاب اور نبوت دینا اور اس کا اعلان کرنا ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ؟ اگر یہ دونوں باتیں امر واقعہ ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ لوگوں کو اپنا بندہ بننے کی دعوت دیں ؟ عقلِ سلیم کبھی اس بات کو باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتی۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی شخص کو معلم بناکر بھیجا جائے اور وہ لوگوں کو اپنی چاکری پر لگا دے۔ کسی کو سفیر بنا کر بھیجا جائے اور وہ اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دے اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ کے نبی معصوم ہوتے ہیں، خواہشات کبھی ان پر غلبہ نہیں پا سکتیں، احساسِ برتری کبھی ان سے چھو کر بھی نہیں گزرتا۔ وہ ہر قول و فعل میں اللہ کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کی طرف ایسی باتوں کا انتساب جو ان کی اصل حقیقت کو کجلا کر رکھ دیں عقلی طور پر کس طرح ممکن ہے۔ اس سے تو نبوت سے متعلق مسلمات بھی خطرے کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے تو انبیائِ کرام کی دعوت میں تضاد پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ ہر نبی جو اپنی امت کی طرف کتاب لے کے آیا ہے، اس نے اس کی تعلیم بھی دی ہے اور اسی کی بنیاد پر لوگوں کی تربیت بھی فرمائی ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل ہوئی تو یقینا آپ نے بھی اس کی تعلیم دی ہوگی۔ اسی کی بنیادی تربیت بھی فرمائی ہوگی۔ اس میں آج بھی دیکھ لیجئے کہ توحید پر زور دیا گیا ہے اور بار بار صرف ایک اللہ کی بندگی پر اصرار کیا گیا ہے۔ تو عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہونے کی وجہ سے چونکہ انجیل کی تعلیم کے پابند تھے اور تورات کی شریعت کے پیروکار تھے تو تورات اور انجیل دونوں تو اللہ کے ایک ہونے اور اسی کے بندہ ہونے کی دعوت دیتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) انہی کتابوں کی تعلیم دیتے ہوئے اپنے بندہ ہونے کی لوگوں کو دعوت دینا شروع کردیں ؟ اگر خدانخواستہ ایسا تصور کرلیا جائے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ وہ کتاب کی تعلیم دیتے ہوئے کچھ اور کہتے تھے اور اس سے ہٹ کر لوگوں کو کسی اور بات کا حکم دیتے تھے۔ یعنی جب انجیل پڑھاتے تو لوگوں کو اللہ کا بندہ بننے کی ترغیب دیتے، لیکن جب اس سے ہٹ کر موقع ملتا تو لوگوں کو اپنے بندہ ہونے کا حکم دیتے۔ یہ ایک ایسی گری ہوئی حرکت ہے جس کی نسبت کسی عام شریف آدمی کی طرف بھی نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر کی طرف کی جائے۔ آیتِ کریمہ میں مزید فرمایا گیا کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کو اپنا بندہ بنانے کی بجائے ربانی بناتے تھے اور یہی اصل حقیقت ہے اور باقی جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سراسر خلاف حقیقت بھی ہے اور خلاف عقل بھی۔ اسی طرح وہ یہ دعوت بھی نہیں دے سکتے تھے کہ فرشتوں اور نبیوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا جائے کیونکہ جو اللہ کا نبی دنیا میں صرف اللہ کی ربوبیت کی تعلیم دینے اور اسی کا فیضان عام کرنے کے لیے آیا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ لوگوں کو غیر اللہ کو رب بنانے کی ترغیب دے۔ اللہ ہی کو رب ماننا، ایمان کی بنیاد ہے اور غیر اللہ کو رب بنانا کھلا کفر ہے۔ ایک پیغمبر کی دعوت میں ایمان اور کفر تو جمع نہیں ہوسکتے ورنہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبر ایمان کی بھی دعوت دیتا ہے اور کفر کی بھی۔ اس طرح کی بات وہی شخص سوچ سکتا ہے جس کے حواس اور عقل جواب دے چکے ہوں۔ یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لیا تھا اور اس سے پہلے کسی جگہ ہم یہ حدیث بیان کرچکے ہیں کہ عدی بن حاتم طائی جب قبولیتِ ایمان کے لیے حاضر ہوئے تو انھوں نے اپنے اطمینان کے لیے آنحضرت ﷺ سے چند سوالات کیے تھے۔ انہی میں سے ایک سوال یہ تھا کہ میں عیسائی ہوں اور میں جانتا ہوں کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کو رب نہیں مانتے تو قرآن کریم نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے کہ اہل کتاب نے اپنے احبارو رہبان کو رب بنا رکھا ہے تو آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا تھا اس کا حاصل یہ ہے کہ جس کو تحریم و تہلیل کا حق دیا جائے اور جسے جائز اور ناجائز کی اتھارٹی تسلیم کرلیا جائے وہی رب ہوتا ہے۔ تو تم یہ بتائو کہ تم اپنے علماء اور مشائخ کو یہ حق دے چکے ہو یا نہیں ؟ تو عدی یہ تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکے کہ ہاں ہم یہ حرکت تو کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہی رب بنانا ہے۔ رَبَّانِیْ کی تحقیق اس آیت کریمہ میں رَبَّانِیْکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی ہے (خدا پرست اور اللہ والا) معلوم ہوتا ہے یہ لفظ عبرانی سے عربی میں آیا ہے۔ رَبِّیْکا لفظ تورات و انجیل میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ دونوں کی صورت میں معمولی اختلاف ہے لیکن معنی میں کوئی اختلاف نہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رَبَّانِیْ اصل میں رَبِّیْ ہے۔ لیکن بسا اوقات مبالغہ کے لیے الف نون کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مثلاً جس کی بڑی گھنی داڑھی ہو، اسے ” لحیانی “ کہتے ہیں اور جس کی گردن بہت موٹی ہو، اسے ” رقبانی “ کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی شاید مبالغے کے لیے الف نون کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا معنی ہوگا (بالکل اللہ والا) ۔ مبرد نے اس کا ایک دوسرا ماخذ بتایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ رَبَّانٌکی جمع ہے جو َربَّہَ یُرَبِّہُ فَہُوَ رَبَّانٌسے اسم فاعل ہے اس کا معنی ہے (تربیتِ نفوس، اصلاحِ احوال اور تدبیرِ امور کرنے والا) اس صورت میں رَبَّانِیُّوْنَ کا معنی ہوگا (نوعِ انسانی کی صحیح تربیت اور ان کی اصلاح کرنے والے) اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر پر ابتدائی ایمان لانے والے جنھیں السابقون الاولون کہا جاتا ہے اور پھر درجہ بدرجہ وحی الٰہی نے ان کو اور خطابات سے بھی نوازا ہے۔ یہ وہ نمونے کے لوگ ہوتے ہیں جن کی سیرت و کردار میں لوگ پیغمبر کا عکس دیکھتے ہیں اور یہی لوگ پیغمبر کا دست وبازو ہوتے ہیں اور پیغمبر کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد یہی دعوت کا اصل سرمایہ، دعوت اسلامی کی پہچان اور بعد کی نسلوں کے لیے حجت اور دلیل ہوتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کی عزت و حرمت کی پاسداری کا حکم دیا اور صاف صاف فرمایا کہ دیکھنا میرے بعد صحابہ کی عزت پر طعن نہ کرنا، ان کی اصل پہچان میں ہوں۔ جو ان سے محبت کرتا ہے وہ میری وجہ سے کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے وہ درحقیقت میرا دشمن ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پہچان بھی آپ کے بارہ حواری تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اگرچہ یہ دونوں منصب اپنے بعض صحابہ کو تفویض فرمائے لیکن آپ کے کام کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ایک ایک صحابی راہ ہدایت کا ستارہ ٹھہرا، جس سے ہدایت پانے والوں نے ہدایت پائی۔
Ayahs 3:81–82

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس کوئی رسول اس کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت کرنا۔ پھر فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو ؟ وہ بولے ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا تم گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

تو جو لوگ اس عہد کے بعد پھرجائیں گے وہی لوگ نافرمان ٹھہریں گے

وَاِذْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُـکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّـہٗ ط قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْہَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (اور یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب اور حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس کوئی رسول اس کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ضرور اس کی نصرت کرنا۔ پھر فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہو ؟ اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو ؟ وہ بولے ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا تم گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں تو جو لوگ اس عہد کے بعد پھرجائیں گے وہی لوگ نافرمان ٹھہریں گے) (81 تا 82) سابقہ آیات کریمہ میں اہل کتاب پر ہر پہلو سے تنقید کی گئی ہے۔ کتاب اللہ کے بارے میں ان کا رویہ زیر بحث لایا گیا ہے۔ حقوق العباد کے حوالے سے ان کی خیانت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ کے دین کو جس طرح انھوں نے بازیچہ اطفال بنایا ان میں سے بعض باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پھر انھوں نے جس طرح دین پر دنیا کو ترجیح دی حتیٰ کہ بندہ درہم و دینار ہو کر رہ گئے اس پر بھی انھیں ملامت کی گئی ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں وہ جس طرح کتاب اللہ کے بارے میں گستاخانہ طرز عمل اختیار کرتے تھے اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے تھے اس کا بھی احتساب فرمایا گیا ہے۔ پھر آخری آیت میں نبوت کے بارے میں اہل کتاب جو تصورات رکھتے تھے ان کو بنیاد بنا کر اہل کتاب کے مزعومہ عقائد کے حوالے سے بعض عقلی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس طرح سے اہل کتاب کو دلائل کی دنیا میں ایسا بےبس کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی عہد نبوت میں قرآن کریم کی تنقید اور اہل کتاب کا کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کے عمل کو دیکھتا تھا اس سے یہ بات مخفی نہیں رہتی تھی کہ اہل کتاب دلیل کی دنیا میں بری طرح پسپا ہوچکے ہیں۔ اب اس رکوع کی پہلی آیت میں جو ہمارے پیش نظر ہے اہل کتاب کی تاریخِ نبوت و حکمت کے حوالے سے ایک ایسے عہد اور میثاق کا ذکر کیا جا رہا ہے جس سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اہل کتاب کو ہر دور کے پیغمبر اور بالخصوص نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی تائید و نصرت کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا تھا۔ جس سے بتانا یہ مقصود معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انتہائی گری ہوئی قومیں بھی باہمی جو معاہدے کرلیتی ہیں تو انھیں ہمیشہ یاد رکھتی ہیں اور اگر کوئی معاہدہ انبیاء کے واسطے سے پروردگار سے کیا گیا ہو تو اس کی اہمیت کو تو کسی طرح بھی نظر انداز کرنے کا گناہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان اہل کتاب کا عجیب حال ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیائِ کرام کی اولاد اور وحی الٰہی کا تنہا مھبط و مورد سمجھتے ہیں اور انھیں بجا طور پر اللہ تعالیٰ سے اپنے خصوصی رشتے کا دعویٰ ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ مختلف وقتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے نبیوں سے یہ عہد لیا تھا۔ لیکن جب اس کے ایفاء کا وقت آیا تو انھوں نے من حیث القوم نہ صرف اسے پورا کرنے سے انکار کیا بلکہ خم ٹھونک کر اس کے مقابل آ کھڑے ہوئے۔ اس آیت کریمہ کے پہلے جملے ہی میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَاِذْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَاہلِ علم نے اس کا ترجمہ دو طرح سے کیا ہے ایک تو یہ (کہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا تھا) اور دوسرا یہ کہ (اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم سے نبیوں کے بارے میں عہد لیا تھا) پہلے ترجمے کی صورت میں اَلنَّبِیِّیْنَفاعل ہوگا اور میثاق اس کی طرف مضاف ہوگا اور دوسرے ترجمے کی صورت میں النبیین مفعول ہوگا اور میثاق مفعول کی طرف مضاف ہوگا۔ پہلے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائِ کرام سے یہ عہد لیا تھا کہ نبی آخر الزماں ﷺ تمہاری زندگی میں تشریف لے آئیں تو تمہیں ان پر ایمان لانا ہوگا اور ان کی مدد کرنا ہوگی اور یہی بات تمہیں اپنی اپنی قوم تک پہچانی ہوگی۔ دوسرے ترجمے کی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ اے اہل کتاب ! یہ عہد تمام تر تم سے لیے گئے تھے اور تمہیں اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ تمہارے زمانے میں جو نبی بھی تشریف لائیں تمہیں ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنی ہوگی اور اگر نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لے آئیں تو تمہیں بڑھ چڑھ کر ان کی تائیدو نصرت سے کام لینا ہوگا۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ترجمے اور دونوں مفہوم صحیح ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے دوسرے نبیوں کی تائید و نصرت کا عہد لیا تھا اس کا ذکر سورة مائدہ میں کیا گیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے : وَلَقَدْ اَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ج وَ بَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْـنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا ط وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَـکُمْ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوْہُمْ … الخ (اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز کا اہتمام کرتے اور زکوۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور ان کی عزت کی اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہے تو میں تمہارے گناہ تم سے جھاڑ دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا اس نے سواء السبیل گم کردی) (المائدہ : 12) اس آیت میں غور کیجیے اس میں واضح طور پر بنی اسرائیل سے عہد لینے کا ذکر ہے۔ اس عہد میں سب سے پہلے حقوق اللہ کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اسی سلسلے میں اپنے رسولوں پر ایمان لانے کا تذکرہ بھی فرمایا ہے۔ رسُل رسول کی جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عہد و اقرار تمام رسولوں کے بارے میں ہے۔ بنی اسرائیل کو چونکہ حامل دعوت امت بنایا گیا ہے اور اللہ کے دین کی سربلندی اور اعلائے کلمتہ الحق کی ذمہ داری ان کے سر پر ڈالی گئی ہے۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ جو رسول بھی دنیا میں تشریف لائیں یہ آگے بڑھ کر ان کا استقبال کریں۔ ہر ممکن طریقے سے سے ان کی مدد کریں اور ان کے ساتھ مل کر ان تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کریں جن سے انھیں گراں بار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے رسول کا آناان کے لیے کوئی ابتلاء یا آزمائش نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے تائید و نصرت ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ افراد اور قوموں میں زوال آتا ہے۔ وہ ایمان کی کمزوری اور عمل کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں۔ کتاب اللہ سے تعلق کمزور پڑجاتا ہے اور نئی نئی بدعات و رسومات کو اپنا دین بنا لیا جاتا ہے۔ رسول کے آنے سے دین نکھر کر اپنی اصل شکل میں آجاتا ہے۔ بدعات و رسومات ختم ہوجاتی ہیں اور امت کا شیرازہ ایک وحدت میں پرو دیا جاتا ہے۔ جہاں تک دوسرے ترجمے کا تعلق ہے اس کا ذکر سورة اعراف میں کیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے اللہ سے اس کی رحمت کے لیے درخواست کی۔ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا : فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکَاۃَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَـہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ…الخ (پس میں اپنی رحمت کو ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں گے، زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے، یعنی ان لوگوں پر جو اس رسول اور نبی امی کی پیروی کریں گے۔ جس کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ جو انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال ٹھہراتا ہے اور ان پر گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے اس بوجھ اور ان پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر اب تک رہی ہیں تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کی توقیر اور مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس پر اتاری گئی وہی فلاح پانے والے ہیں) ان آیات میں غور فرمایئے ! صاف معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل یعنی اہل کتاب سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا اور ان کی تائید و نصرت کرنے کا عہد لیا گیا تھا اور یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اہل کتاب سے جب یہ عہد لیا گیا تھا اس وقت نبی کریم ﷺ ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ عہد بنی اسرائیل سے براہ راست تو نہیں لیا گیا تھا یقینا ان کے پیغمبروں کے واسطے سے لیا گیا تھا تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس کی زمین پر رہنے والے اس کے فرمانبردار بندے بن کر زندگی گزاریں۔ اس کی زمین پر اسی کی حکومت قائم کریں، اسی کے احکام کو نافذ کریں اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے زمین فتنہ اور فساد سے محفوظ رہ سکتی ہے اور زمین پر بسنے والے آسودہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ چناچہ اسی غرض کے لیے پروردگار نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافتِ ارضی سے نوازا اور انھیں نبوت دے کر زمین پر اتارا۔ پھر ہر دور میں جب بھی انسانوں کی رہنمائی کے لیے کسی نہ کسی مصلح یا نبی کی ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر بھیجتا رہا اور ہر پیغمبر کے واسطے سے لوگوں کو یہ بات سمجھائی جاتی رہی کہ تمہاری زندگی کا مقصد اولین اللہ کی زمین پر اور اللہ کے بندوں پر اللہ کے قانون کو نافذ کرنا اور اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر نبی اور اس کی امت آنے والے نبی کے لیے چشم براہ رہے، اس پر ایمان لایا جائے اور غلبہ دین کے لیے اس کی نصرت کی جائے تاکہ خلافتِ ارضی جو اللہ کے تمام بندوں کا ورثہ ہے اور جن کا کام زمین کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھنا اور اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کو غالب کرنا ہے، اس میں کہیں جھول نہ پیدا ہو۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اہل کتاب نے اس میثاق کو بری طرح توڑا، ان کی اصلاح کے لیے جو مختلف اوقات میں اللہ کے نبی آتے رہے، انھوں نے حتیٰ الامکان نبیوں پر ایمان لانے سے گریز کیا اور پوری کوشش کی کہ وہ اپنے نیک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکیں حالانکہ ہر نبی کی تائید و نصرت کا ان سے عہد لیا گیا تھا اور پھر اس عہد کا سب سے زور دار اور مؤثر حصہ وہ تھا جس کا تعلق آخری نبی ﷺ سے تھا۔ باوجودیکہ تمام رسولوں پر ایمان لانے کے عہد میں بھی آپ ﷺ پر ایمان لانا شامل تھا لیکن آپ ﷺ پر ایمان لانے کی اہمیت کی وجہ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے کا الگ عہد لیا گیا اور آسمانی صحیفوں میں ہر دور میں آپ ﷺ کی علامات کا تذکرہ فرمایا گیا۔ آپ ﷺ کا نام، آپ ﷺ کا خاندان، آپ ﷺ کا وطن، آپ ﷺ کا دارالہجرت، آپ ﷺ کے کارنامے، آپ ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی کامیابیوں کا ہر کتاب خداوندی میں مناسب حد تک ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ اہل کتاب آپ ﷺ کی پہچان میں غلطی نہ کریں اور انسانی اصلاح اور غلبہ دین کی آخری کاوش اچھی طرح اپنی کامیابی و کامرانی تک پہنچے کیونکہ اس کی ناکامی انسانیت کی ناکامی ہوگی۔ آپ ﷺ کے بعد چونکہ کوئی دوسرا آنے والا نبی نہیں اس لیے آپ ﷺ کی ناکامی سے انسانی اصلاح کا یہ سلسلہ مستقل طور پر رک جائے گا۔ جو اللہ کی مشیت کے سراسر خلاف ہے۔ اہل کتاب سے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں بھی اس عظیم مقصد کے لیے اٹھایا گیا تھا اور اسی مقصد کی سربلندی اور کامیابی کے لیے تم سے عہد و پیمان لیے گئے تھے۔ اس آیت کریمہ میں آنے والے آخری نبی ﷺ کے بارے میں مصدق کا لفظ بول کر اسی سلسلہ اصلاح کی وحدت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ آنے والا نبی جب آئے گا تو وہ ایسی تعلیم، ایسی تہذیب اور ایسا نسخہ شفا لے کے نہیں آئے گا جو اس سے پہلے اللہ کی جانب سے آئی ہوئی کتابوں سے یکسر مختلف ہو بلکہ اس کی ذات اور اس پہ نازل ہونے والی کتاب دو طرح سے پہلے کے سلسلہ اصلاح کی مصدق ہوں گی۔ ایک تو اس طرح سے کہ اہل کتاب کے پاس جو آسمانی کتابیں ہیں، وہ ان کے سچا ہونے کی تصدیق کرے گا۔ وہ تسلیم کرے گا کہ توراۃ، زبور اور انجیل اللہ ہی کی طرف سے نازل ہونے والی کتابیں ہیں۔ جتنے آسمانی صحیفے اللہ کی طرف سے نازل ہوئے وہ سب سچے تھے اور جن جن رسولوں پر یہ صحیفے اور کتابیں اتاری گئیں وہ سب اللہ کے سچے رسول اور نبی تھے۔ کتابوں میں اگرچہ ترمیم و تحریف ہوئی، لیکن وہ منزل من اللہ ہونے کے اعتبار سے بالکل سچی کہلانے کی مستحق ہیں اور دوسرا مصدق ہونے کا معنی یہ ہے کہ توراۃ و انجیل اور بعض دیگر صحف آسمانی میں نبی آخرالزماں ﷺ کے بارے میں جو تعارفی باتیں ارشاد فرمائی گئیں، جو علامات بیان کی گئیں اور آپ کی کامیابیوں کا جو کچھ تذکرہ ہوا یہ پیغمبر اس کے مصدق بن کر آئے یعنی ان کو دیکھو، ان کی سیرت و کردار کو دیکھو، ان کے طوراطوار کو دیکھو، ان کے مخلص اور جاں نثار صحابہ کو دیکھو، ان پر نازل ہونے والی کتاب کو دیکھو، ان کی ہجرت اور دارالہجرت کو دیکھو، ان میں سے ایک ایک بات خود گواہی دے رہی ہے کہ میں وہی ہوں جس کا تمہاری کتابوں میں ذکر کیا گیا تھا۔ صحفِ آسمانی میں جو جو صفات بیان کی گئی تھیں غور سے دیکھو ! میں ان میں سے ایک ایک صفت کا حامل اور ایک ایک ادا کا امین ہوں۔ اس طرح سے میں نے ان کی کتابوں کی سچائی اور ان کے دین کی صداقت کو اپنی ذات، اپنی صفات اور اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب اور اپنے کارناموں اور اپنی خدمات سے سچائی اور صحت کی سند عطا کی ہے۔ یہ ان پر اللہ کا ایک خاص احسان ہے، اس کا کم از کم شکر یہ ہونا چاہیے کہ یہ سر اٹھا کر چلیں اور آگے بڑھ کر اسلام کا جھنڈا اٹھا لیں اور آنحضرت ﷺ کی قیادت میں اپنی اصلاح بھی کریں اور لوگوں کی اصلاح کے لیے دست وبازو بنیں۔ مصدق صَدَّقَ سے اسم فاعل ہے۔ کسی حقیقت کو اپنے عمل سے ثابت کرنا عربی میں ہمیشہ اس کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔ حماسی شاعر کا شعر ہے ؎ فَدَتْ نَفْسِیْ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنِیْ فَوَارِسَ صَدَّقُوْا فِیْہِمْ ظُنُوْنِیْ (میری جان اور میرا مال قربان ہو، ان شاہسواروں پر جنھوں نے اپنے بارے میں میرے گمان سچے کر دکھائے) یعنی میں ان کے بارے میں جس طرح جان لڑانے اور بہادری دکھانے کی امید رکھتا تھا اور لوگوں سے اس کا اظہار بھی کرتا تھا انھوں نے ویسی ہی بہادری کا اظہار کر کے اور جان لڑا کر میرے ایک ایک گمان کو سچا ثابت کر دکھایا۔ اس کے لیے صَدَّقُوْا کا لفظ استعمال کیا گیا یہاں آیت کریمہ میں بھی مصدق یعنی تصدیق کرنے والا اسی معنی و مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی آنحضرت ﷺ اور دعوت الیٰ اللہ کے لیے آپ ﷺ کی کاوشوں، پھر آپ ﷺ کی ہمہ گیر کامیابیوں کو غیر جانبدار ہو کر گہری نظر سے دیکھا ہے وہ کبھی آپ ﷺ پر ایمان لائے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ اہل کتاب سے عہد و پیمان لینے اور آنحضرت ﷺ کا مصدق بن کے آنے سے مقصد صرف یہ تھا کہ اہل کتاب کو آپ کی پہچان میں دشواری پیش نہ آئے اور وہ اپنے عہد و پیمان کی بجا آوری میں تأمل کا شکار نہ ہوں۔ اسی لیے اس عہد و پیمان میں صاف صاف فرمایا گیا تھا کہ تمہیں اس آخری نبی پر ایمان لانا ہوگا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس کی ہر ممکن مدد کرنا ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوں تو ہر نبی اور رسول کی تشریف آوری کے بعد ان لوگوں پر جن کی طرف وہ مبعوث ہوا ہے دونوں فرائض عائد ہوتے ہیں۔ لیکن نبی آخر الزماں ﷺ چونکہ اس مقصد اعلیٰ کی تکمیل کے لیے آخری پیغمبر ہیں اس لیے بطور خاص تمام نوع انسانی کو عموماً اور اہل کتاب کو خصوصاً یہ حکم دیا گیا کہ تم اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے اس پر ایمان لائو اور دنیا کی اصلاح کے لیے اس کے دست وبازو بنو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو نبی آخر الزماں ﷺ سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں۔ اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ آپ تمام تر انسانی عظمتوں کے تاجدار ہیں۔ اور کائنات میں آپ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو کمال، عظمت اور بزرگی حاصل نہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی قدرتیں ایسی بےپناہ ہیں کہ وہ انسانی اصلاح کے لیے کسی کی مدد کی محتاج نہیں۔ شر کے بڑے بڑے جتھوں کو توڑ دینا اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ اور دلوں کو قبولیتِ حق کے لیے کھول دینا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس نے جس طرح دنیا کے تکوینی نظام کو اسباب کے ماتحت چلایا ہے اور اسباب ہی کی کارفرمائی ہمیں چاروں طرف دکھائی دیتی ہے، اسی طرح اس نے دعوت و اصلاح کے عمل اور نظام تشریع میں میں بھی اسباب ہی کو لازم ٹھہرایا ہے۔ اللہ کا رسول جب دعوت الیٰ اللہ کا کام شروع کرتا ہے تو وہ فرشتوں کے حصار میں ہوتا ہے۔ عناصرِ قدرت اس کے ہمرکاب ہوتے ہیں۔ اسے اپنی ذات کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کے قانون کے تحت غلبہ دین کے لیے وہ انسانوں کو اپنی مدد اور نصرت کے لیے پکارتا ہے۔ کبھی عمر ( رض) جیسے بہادر اور جی دار لوگوں کے لیے نام لے لے کر دعائیں کرتا ہے اور کبھی انسانی گروہوں کو اپنی مدد کے لیے اکساتا ہے۔ چناچہ اسی سنت الٰہی کے تحت اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو حکم دیا تھا کہ تمہیں اس آخری رسول کی مدد کرنا ہوگی اور پھر یہ عہد ان سے اس طرح لیا گیا جس میں باقاعدہ اقرار اور شہادت کے پر اسس کو بروئے کار لایا گیا۔ توراۃ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کسی اہم بات پر بنی اسرائیل سے عہد لینا مقصود ہوتا تھا تو آپ بنی اسرائیل کے ذمہ دار لوگوں کو خیمہ عبادت کے سامنے جمع کرتے، تابوتِ سکینہ ان کے سامنے ہوتا، آپ پہلے ان کے سامنے عہد کی اہمیت واضح فرماتے، نصیحت سے ان کے دلوں کو مائل کرتے پھر اللہ کا حکم انھیں پڑھ کے سناتے اور پھر سب سے اس حکم کی اطاعت کا اقرار لیتے اور سب کے اقرار کے بعد لوگوں کو اس کا گواہ رہنے کی تاکید کرتے اور اللہ کو اس پر گواہ ٹھہراتے اور پھر آخر میں اس مجلس کے اختتام پر بنی اسرائیل کو اس حکم کی نافرمانی کی صورت میں دنیوی اور اخروی عواقب و نتائج سے بھی آگاہ فرما دیتے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حکم اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے درمیان ایک عہد و میثاق کی حیثیت اختیار کرلیتا۔ چناچہ اس سے بڑھ کر اہتمام کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی نصرت و تائید کا ان سے عہد لیا گیا تھا اور پھر یہ عہد ایک بار نہیں لیا گیا بلکہ کبھی عام انبیاء کے عہد کے ساتھ اور کبھی صرف آپ ﷺ کے لیے ہر پیغمبر کے دور میں لیا جاتا رہا۔ اور ہر نسل دوسری نسل کو یہ امانت سپرد کرتی رہی۔ اور ان کی کتابوں میں اس اہم ترین حکم کا ہمیشہ چرچا ہوتا رہا۔ اب جب حضور ﷺ تشریف لے آئے تو یہ عہد اور بنی اسرائیل کی طرف سے اس پر اقرار پوری تفصیل کے ساتھ ان کی کتابوں میں موجود تھا کیونکہ مدینہ کے یہود اوس و خزرج کے لوگوں کو اسی حوالے سے آنے والے کی خبر دیتے اور اس کے ساتھ مل کر ان کو فتح کرنے اور ان کی زیادتیوں کا مزہ چکھانے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی مدینہ طیبہ تشریف لا کر ایک سے زیادہ مرتبہ اہل کتاب کو ان کا وعدہ یاد دلایا اور قرآن کریم نے انھیں ایمان لانے کی صورت میں دوہرے اجر وثواب کی نوید بھی سنائی۔ لیکن یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کو خوب پہچانا۔ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب سمجھا اور ان کے اہل علم آپس میں ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں اقرار کرتے تھے کہ یہ واقعی وہی نبی ہے جس کا ہماری کتابوں میں ذکر ہے۔ لیکن باایں ہمہ ! انھوں نے من حیث القوم آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا فیصلہ کیا اور آپ ﷺ کو ناکام کرنے کے لیے ہر وہ جتن کیا جو ان کے بس میں تھا۔ چناچہ ان کے اسی رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ (پھر جو لوگ اس کے بعد پھرگئے) بَعْدَ ذٰلِکَ پر غور کیجیے کہ جس قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک ہر پیغمبر نے نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان اور ان کی نصرت کے لیے تیار کیا اور اس پر ہمیشہ ان سے عہد و پیمان لیا جاتا رہا اور وہ اپنی مشکلات کے دور میں ہمیشہ اس آنے والے نبی کا انتظار کرتے رہے تاکہ اپنے مخالفین سے انتقام لے سکیں۔ لیکن اس سارے اہتمام کے بعد بھی جن لوگوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا اور اسلام کو جھوٹا مذہب قرار دیا، ان کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت یہ لوگ فاسق ہیں۔ یہاں فاسق کا لفظ فقہی معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔ فقہ کی زبان میں فاسق گنہگار کو کہا جاتا ہے جو کافر سے بہت نچلا درجہ ہے۔ جو قیامت میں اپنی نافرمانی کی سزا بھگت کر اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا تو کبھی نہ کبھی جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں فسق کا معنی ہے ایمان و اطاعت کی ہر حد سے گزر جانا۔ شرافت کی ہر قدر کو توڑ پھینکنا، عہد و پیمان کی دھجیاں اڑا دینا۔ عربوں میں ایک محاورہ مشہور ہے فَسَقَتِ الرُّطْبَۃُ عَنِ الْقِشْرَۃِ (اگر کھجور کو انگشتِ شہادت کے پور پر رکھ کر انگوٹھے کے پور سے دبایا جائے تو کٹھلی کھجور کے چھلکے سے پھدک کر نکل جاتی ہے) اس وقت عرب یہ محاورہ بولتے ہیں کہ گٹھلی کھجور کے چھلکے سے پھدک کر نکل گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فسق ہر حکم کو توڑ کر، ہر حد کو عبور کر کے شرافت کی ہر قدر کو پامال کرتے ہوئے پھلانگتے ہوئے نکل جانا فسق ہے اور ایسا کرنے والے کو فاسق کہا جاتا ہے۔ چناچہ شیطان کے بارے میں فرمایا گیا فَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ( وہ اپنے رب کے حکم سے نکل بھاگا) بنی اسرائیل کے لیے بھی فاسق کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اگرچہ وہ اس میں تحریف اور ترمیم کرچکے ہیں، لیکن فی الجملہ وحی الٰہی کی قدروقیمت سے واقف ہیں۔ نبی اور رسول بھی ان کی طرف مسلسل آتے رہے اور نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں وہ پوری طرح باخبر ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اسلام کی بیخ کنی میں پوری طرح سرگرمِ عمل ہوچکے ہیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے :
Ayah 3:83

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ اسی کے فرمانبردار ہیں طوعاً و کرھاً جو آسمان و زمین میں ہیں اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَـہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ (کیا یہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ اسی کے فرمانبردار ہیں طوعاً و کرھاً جو آسمان و زمین میں ہیں اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) (83) نہایت تعجب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب دین کے مزاج کو سمجھتے ہیں، وحی الٰہی کے سلسلے کو پہچانتے ہیں، انھیں خوب معلوم ہے کہ تمام کائنات کا مذہب صرف اسلام ہے اور یہی وہ رویہ ہے جس سے کائنات کا نظام باحسن طریق چل رہا ہے۔ اسلام کا معنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینا اور اس کے احکام کی اطاعت میں دے دینا ہے۔ جن و انس کے علاوہ اللہ کی تمام مخلوق تکوینی طور پر اس کی مسلم ہے۔ سورج اسی کے حکم سے کرنیں بکھیرتا ہے، چاند اسی کی اطاعت میں ٹھنڈک برساتا ہے، ستارے اسی کی رضا کے تحت روشنی بکھیرتے ہیں، پھول اسی کے حکم سے کھلتا ہے، کلی اسی کے اشارے سے چٹکتی ہے، موسم اسی کے حکم سے تبدیل ہوتے ہیں، گھٹائیں اسی کے حکم کے تحت جھوم کر اٹھتی اور زمین پر جل تھل ایک کردیتی ہیں۔ زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے حکم سے سرتابی کرسکے۔ لاَالشَّمْسُ یَنْـبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّـیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ ط وَکُلٌّ فِیْ فَلَـکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ (سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے تمام اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں) وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں) یہی اطاعت اور سرفگندگی تکوینی نظام کی جان ہے۔ اسی کے نتیجے میں کوئی سیارہ کسی سیارے سے ٹکراتا نہیں۔ کوئی کرہ دوسرے کرے کی جگہ نہیں لیتا۔ کائنات کی ہر چیز اپنے خواص کے مطابق اظہارِ عمل پر مجبور ہے۔ پانی بہنے سے انکار نہیں کرسکتا، زمین کی قوت روئیدگی غلے کے اگانے سے عذر نہیں کرسکتی، سورج کی گرمی غلے کو پکانے سے کبھی پہلو تہی نہیں کرسکتی، زمین بچھونے کی طرح بچھی ہوئی ہے وہ کبھی اپنی حالت کو بدل نہیں سکتی، یہ سب اللہ کی اطاعت میں اپنا اپنا فرض انجام دے رہے ہیں اور اسی میں کائنات کی زندگی اور امن اور اطمینان کا راز مضمر ہے۔ انسان اگر یہ چاہتے ہیں کہ تکوینی نظام کی پابند مخلوق کی طرح پر امن زندگی گزاریں اور انسانوں کے درمیان تصادم اور تضاد کی کیفیت ختم ہوجائے تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ بھی باقی مخلوقات کی طرح اللہ کے تشریعی نظام کی پابندی اختیار کرلیں۔ ان کو زندگی میں اطمینان اور امن کی دولت اسلام یعنی اطاعت میں ملی ہے۔ ان کو بھی یہیں سے یہ دولت نصیب ہوسکتی ہے۔ یہ دوہرے نظام کے مکلف بنائے گئے ہیں۔ اپنے جسم و جان کے اعمال میں تکوینی نظام کے پابند ہیں، اس میں تو یہ کسی حکم سے سرتابی نہیں کرسکتے۔ لیکن ایک خاص دائرے میں انھیں اختیار کی دولت دی گئی ہے اور اس دائرے میں بھی اپنے اختیار کو اللہ کی اطاعت میں دے دینے کے یہ پابندٹھہرائے گئے ہیں۔ اگر یہ پابندی اختیار کرلیں تو ان کی زندگی کا وہ دائرہ جسے انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال سے جہنم بنا رکھا ہے جنت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اہلِ کتاب اس پوری صورت حال سے واقف ہیں۔ پھر نہ جانے وہ کیوں دین کے اس بنیادی مطالبے کو سمجھنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے دین کے سوا اللہ کی مملکت میں کسی اور دین کی کوئی گنجائش نہیں۔ چلیے اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں اپنے اختیارات کے تحت زندگی گزارنے کا ہمیں حق حاصل ہے اور یہاں ہمیں زبردستی کوئی نہیں روکے گا تو پھر انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ صحیح ہے کہ پروردگار نے عموماً دنیا کی زندگی میں انسانوں کو آزادی دے رکھی ہے اور اس کی جزا و سزا کا دن آخرت کا دن ہے۔ لیکن یہ تو انھیں معلوم ہے کہ آخرت بھی آنے والی ہے۔ ایک نہ ایک دن زندگی کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ پھر انسان اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے اللہ کی عدالت میں کھڑے کیے جائیں گے کیونکہ بالآخر اللہ کے حضور حاضری انسان کا مقدر ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو یہاں دنیا میں بیشک وہ عیش کی زندگی گزار لیں، لیکن آخرت میں اللہ کے سامنے کس طرح جواب دیں گے۔
Ayah 3:84

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے ! ہم تو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی ہے اور اس چیز پر جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے دی گئی۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَـآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَـآ اُنْزِلَ عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ ص لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍمِّنْہُمْ ز وَنَحْنُ لَـہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (آپ کہہ دیجیے ! ہم تو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی ہے اور اس چیز پر جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے دی گئی۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں) (84) کلمہ جامعہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی زبان سے ایک ایسا کلمہ جامعہ کا اعلان کرایا گیا ہے جس کے تمام انسان مکلف بنائے گئے ہیں۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مشیت کا تقاضا یہ ہے کہ خیر و شر کی اس کشمکش میں اللہ کے نبیوں اور اس کے صالح بندوں کا فریضہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ انھیں راہ راست پر چلانے کی کوشش کریں اور اس کشمکش میں جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے اس سے گریز نہ کریں اور پھر اگر ایسا وقت آجائے کہ اہل باطل دلائل سے لا جواب ہو کر بھی اپنی بات پر اصرار جاری رکھیں اور وہ کسی طرح بھی اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر اہل حق کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ان سے الجھتے رہیں بلکہ وہ انھیں ان کی خواہشات کے حوالے کردیں۔ وہ اگر شیطان کو اپنا راہنما مان چکے ہیں تو وہ اس کی راہنمائی میں جس جہنم میں جانا چاہتے ہیں جائیں، لیکن اہل حق کی یہ ذمہ داری اپنی جگہ باقی رہتی ہے کہ وہ مینارہ نور بن کر پوری دنیا کو روشنی دکھاتے رہیں۔ دنیا اللہ کے راستے پر چلنے سے انکار کرے تو وہ آگے بڑھ کر ان راستوں پر ایمان کی روشنی بکھیریں۔ دنیا شیطان کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی میں اپنا رویہ کچھ سے کچھ بنا لے لیکن اہل حق کا یہ قافلہ کبھی اپنی منزل کھوٹی نہ ہونے دے۔ وہ برابر دین حق کی سربلندی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے۔ کفروشرک کے متوالے زمین کو ویرانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن اہل حق کا ایک ایک فرد مور کی طرح جہاں بھی موقع ملے چمن آرائی کرنے سے گریز نہ کرے، وہ جہاں بھی ہو اس کے دم سے نیکیوں کی بہار کھل اٹھے۔ تاریکیوں کے سوداگر تاریکیوں کو عام کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن اہل حق اطاعتِ حق کے نور سے کبھی تاریکیوں کو غالب آنے کا موقع نہ دیں۔ چناچہ جب تک اہل حق کا یہ قافلہ اپنی صداقتوں کے دیپ جلاتا رہتا ہے شر کی قوتوں کو کبھی غالب آنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ کبھی کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ جب شر اور کفر کی قوتیں ظلم پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے اور خیر کی قوتوں کو غالب کردیتا ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ خیر کی قوتیں سرنگوں ہوجائیں یا حالات کے جبر کے سامنے جھک جائیں اور اپنے فریضے کا ادا کرنے میں تساہل سے کام لینا شروع کردیں تو پھر شر کی قوتیں بڑھتی رہتی ہیں اور خیر کی قوتوں پر اللہ کی ناراضگی کے آثار غالب آنے لگتے ہیں۔ مسلسل مصائب ان کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ ذلت کی پھٹکار چاروں طرف سے برسنے لگتی ہے۔ جس طرح ہر طرح کی روشنی بجھ جانے سے تاریکی کے پھیلنے کو کوئی نہیں روک سکتا اسی طرح اہل خیر کی طرف سے فرائض میں کوتاہی سے ظلم کی قوتوں کو ترقی کرنے سے بھی کوئی نہیں روکتا۔ البتہ ! ہر آنے والا دن نام نہاد اہل خیر کے لیے تباہی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ وہ سنت الٰہی ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے اس حقیقت کو بروئے کار آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مسلمان اپنی افرادی قوت میں کسی سے کم نہیں۔ وسائل ان کے پاس بےپناہ ہیں۔ بہترین جغرافیے پر ان کا قبضہ ہے۔ ہر قابل ذکر ساحل پر ان کی آبادی ہے۔ ان کے پائوں کے نیچے دولت سیال بہہ رہی ہے۔ لیکن سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عزت ان کے گھر سے روٹھ چکی ہے اور ذلت کے سائے دراز ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس آیت کریمہ میں جس کلمہ جامعہ اور حقیقتِ ثابتہ کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے لیے مسلمان تیار نہیں۔ اگر آج بھی مسلمان اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کفر کے راستے میں حائل ہوجائیں اور اپنی وابستگیاں از اول تا آخر حق کے ساتھ مستحکم کردیں تو قربانی و ایثار کے چند ورق تو ضرور الٹنے پڑیں گے لیکن بالآخر کفر کی قوتیں پسپا ہونے پر مجبور ہوجائیں گی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی صداقت پر تاریخِ مذہب اور تاریخِ نبوت کا ایک ایک ورق گواہی دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ بغیر کسی ظاہری قوت کے دعوت الیٰ اللہ کے لیے اٹھے۔ مخالفتوں نے ہجوم کیا۔ دلائل کی جنگ لڑی گئی ایک ایک قدم اللہ کی تائید سے آگے بڑھتے گئے بالآخر وہ وقت آیا کہ جب ان کی طرف سے مایوس ہو کر آپ ﷺ سے اس کلمہ جامعہ کا اعلان کروایا گیا۔ پھر اس کے بعد کی تاریخ آپ کے سامنے ہے کہ چند ہی سالوں میں اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر پوری دنیا کی فیصلہ کن قوت بن گیا۔ سپین میں اسلام اپنے چند جانثاروں کے ساتھ داخل ہوا اور چند ہی سالوں میں مسلمانوں کی ایک مستحکم حکومت قائم ہوگئی اور اسے اس وقت تک عزت نصیب رہی جب تک اس نے اسلام کے کلمہ جامعہ سے اپنا رشتہ نہیں توڑا اور جب تہذیبی مظاہر اور نسبی تفاخر کو عزت و سربلندی کا ذریعہ بنا لیا گیا اور اس کلمہ جامعہ سے رسمی سا تعلق باقی رہ گیا تو اسی ملک میں مسلمان عبرت کی علامت بن کر رہ گئے۔ تاتاریوں کی قوت نے کس طرح یکے بعد دیگرے مسلمانوں کی تہذیب اور مسلمانوں کی قوت کو فنا کیا۔ لیکن جب اپنی قوت کے نشے میں مخمور تاتاری یہ سمجھتے تھے کہ اب ان کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں تو صرف مصر سے ایک طاقت اسلام کا کلمہ جامعہ لے کر اٹھی اس نے وقت کی اس منہ زور آندھی کو رخ بدلنے پر مجبور کردیا۔ اے کاش ! مسلمان اس حقیقت کو سمجھیں آج بھی قوت کا سرچشمہ ان کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن وہ نہ جانے کس کس سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
Ayah 3:85

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہش مند ہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا

وَمَنْ یَّـبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّـقْـبَـلَ مِنْـہُ ج وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ۔ (اور جو اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہش مند ہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا) (85) فیصلہ کن بات کہہ دینے کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین ہر پیغمبر لے کر آیا وہ صرف اسلام ہے۔ اسے دشمنوں کے جبر سے نہ بدلا جاسکتا ہے اور نہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ اس میں کامل اطاعت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی ہے۔ امت کے تعامل نے اس کی ایک ایک چیز کو واضح کردیا ہے۔ اس کا پورا نظام بفضلہ تعالیٰ محفوظ ہے۔ آج اگر کوئی روشن خیالی یا اعتدال کا نام لے کر اس اسلام کا نیا ایڈیشن تیار کرنا چاہتا ہے تو ممکن ہے کہ جلبِ زر یا حصول مفا د کے لیے منفعت بخش ہو، لیکن اللہ کے یہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ حقیقی کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے اور حقیقی ناکامی بھی آخرت کی ناکامی ہے۔ جو شخص اسلام میں تبدیلی کا ارتکاب کرے گا یا اس کے روشن چہرے پر اپنے نفاق کی سیاہی ملنے پر اصرار کرے گا وہ شخص آخرت میں انتہائی محروم و نامراد لوگوں میں سے ہوگا۔ اہلِ کتاب چونکہ اسلام کو من و عن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور انھیں اپنے اختیار کردہ ایک نظام زندگی کو اسلام کہنے پر اصرار ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی نامرادی اور بدنصیبی پر مہر کرتے ہوئے فرماتا ہے :
Ayah 3:86

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

اللہ کس طرح ہدایت دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے ایمان کے بعد کفر کیا حالانکہ ان کے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا

کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَـآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ ط وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰالِمِیْنَ ۔ (اللہ کس طرح ہدایت دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے ایمان کے بعد کفر کیا حالانکہ ان کے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی ہیں اور اللہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا) (86) اس آیت کریمہ میں قَوْماً سے اہل کتاب بالعموم اور یہود بالخصوص مراد ہیں۔ اللہ کی کتاب کا نزول اور اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت لوگوں کی ہدایت کے لیے ہوتی ہے۔ اس سے افراد بھی ہدایت پاتے ہیں اور قومیں بھی ہدایت سے بہر ور ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی قوم جو اپنی کتابوں کے دئیے ہوئے علم کے مطابق اللہ کے نبی اور اس پر نازل ہونے والی کتاب پر دل سے یقین رکھتی ہے اور اسے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ وہی نبی ہے جسے ہماری کتابوں نے آخری نبی کہا ہے اور ایک باغوں والے شہر کو جس کا دارالہجرت قرار دیا ہے۔ اس یقین اور اطمینان کے بعد بھی وہ ایمان قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں اور مزید یہ بات بھی کہ ان کے دل کے یقین کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے ایسے واضح دلائل اور معجزات بھی آجائیں جن کا انکار کرنا ممکن نہ ہو اور وہ پھر بھی اپنے رویے سے باز نہ آئیں تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایسا جرم اگر افراد کی طرف سے سر زد ہو تو بعض دفعہ قابل معافی ہوتا ہے لیکن اگر کوئی قوم من حیث القوم اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس قوم کو کبھی ایمان نصیب نہیں ہوتا اور اس کا یہ رویہ ناقابل معافی ہوتا ہے۔ اقبال نے شاید اسی آیت سے استفادہ کرتے ہوئے کہا ؎ فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے مگر کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف یہود نے چونکہ من حیث القوم یہ جرم کیا اور اجتماعی طور اسلام کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اسلام کے مقابلے میں ڈٹ گئے اور یہ بات تاریخی طور پر ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان کے سرداروں میں سے مختلف سرداروں نے اس بات کی تائید کی کہ یہ نبی سچا نبی ہے اور یہ وہی ہے جس کا ذکر ہماری کتابوں میں کیا گیا ہے اور احادیث اور آثارصحابہ میں اس طرح کے بیشتر واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ایسے ظالم لوگ جنھیں اپنے علم اور آگاہی کے مطابق اسلام کے کیمپ میں ہونا چاہیے تھا وہ مخالفین کے ساتھ نہ صرف کھڑے ہیں بلکہ ان کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں کرتا کیونکہ ہدایت کی بنیاد صحیح بات کا علم ہے اور اس کے بعد دل کا اس پر یقین کرلینا ہے۔ جب یہ دونوں باتیں کسی شخص یا قوم کو نصیب ہوجائیں لیکن وہ پھر بھی ایمان سے دور رہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اسے ایمان سے محروم کردیا ہے۔
Ayahs 3:87–89

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہوتی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت دی جائے گی

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنھوں نے اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ لا خٰلِدِیْنَ فِیْہَا لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ لا اِلَّاالَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا قف فاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہوتی ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ) (87 تا 89) یعنی جن لوگوں نے دل کے یقین اور ہدایت کے دلائل دیکھ لینے کے بعد بھی من حیث القوم ایمان لانے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ ہدایت کے نہیں بلکہ لعنت کے مستحق ہیں اور لعنت بھی ایسی گھمبیر قسم کی کہ اللہ کی طرف سے بھی لعنت برسے، فرشتوں کی طرف سے بھی اور تمام انسانوں کی طرف سے بھی۔ در حقیقت سزاؤں کی بھی ایک نو عیت ایسی ہوتی ہے کہ حکمران جب کسی کو سزا دیتا ہے تو وہ سزا دینے میں اگرچہ حق بجانب ہوتا ہے۔ لیکن عام دیکھنے والی نگاہیں اسے سزا میں مبتلا دیکھ کر اپنے دل میں اس کے لیے رحم کے جذبات محسوس کرتی ہیں اور ان کا جی چاہتا ہے کاش یہ عذاب سے چھوٹ جائے لیکن بعض مجرم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو ملنے والی سزا ہر ایک کی نگاہ میں ایسی حقیقی اور واقعی ہوتی ہے کہ کوئی اس پر رحم نہیں کھاتا بلکہ ہر ایک اپنے حصے کی نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ لوگ جن کا تذکرہ کیا جارہا ہے یہ بھی ایسے ہی لوگ ہیں ان پر جب اللہ کی لعنت برسے گی تو ساتھ فرشتے بھی ان پر لعنت کریں گے اور تمام لوگ بھی درجہ بدرجہ پھٹکار بھیجیں گے کیونکہ ان کے جرم کی شناعت اتنی واضح اور اتنی مکروہ ہوگی کہ بےساختہ ہر ایک کی زبان سے نفرت اور لعنت کے الفاظ نکلیں گے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ الناس سے مراد لوگ ہیں اور لوگوں میں صاحب ایمان بھی ہیں اور کافر بھی۔ صاحب ایمان تو یقینا اس طرح کے لوگوں پر لعنت بھیجیں گے لیکن کافروں کی لعنت بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر دو طرح کے ہوں گے۔ ایک تو وہ جو کافروں کے امام ہوں گے اور دوسرے وہ جو ان کے پیچھے چلنے والے ہوں گے۔ جب یہ دونوں جہنم میں پھینکے جائیں گے تو دونوں ایک دوسرے پر لعنت ملامت کریں گے۔ پیچھے چلنے والے اپنے لیڈروں پر لعنت بھیجیں گے کہ تمہاری رہنمائی نے ہمیں یہ برے دن دکھائے اور آگے چلنے والے پیچھے چلنے والوں کو خود ان کی شامت اعمال کا ذمہ دار قرار دیں گے۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاسے مراد بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ لعنت میں گرفتار رہیں گے۔ لیکن حقیقت میں یہاں جہنم مراد ہے کیونکہ لعنت کا معنی ہوتا ہے رحمت سے دوری اور رحمت سے دوری کی حقیقی جگہ جہاں کبھی رحمت کی توقع بھی نہیں ہوسکتی وہ جہنم ہے۔ ان میں جو لوگ لعنت کے مستحق ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہاں ان کے عذاب میں نہ تخفیف کی جائے گی نہ کبھی ایک لمحے کی مہلت ملے گی۔ ہاں جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور آج تک جن جرائم میں پیش پیش رہے ہیں ان کی تلافی کی اور اپنے پیدا کردہ بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کی تو اللہ اتنا کریم ہے کہ یہ لوگ اس قابل تو نہیں کہ ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی کی جائے۔ لیکن پھر بھی اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی بڑی بات نہیں کہ اللہ ان کے ساتھ بخشش اور رحمت کا معاملہ کرے کیونکہ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔