3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayah 3:100

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم کہا مانو گے اہل کتاب کے ایک گروہ کا تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف پلٹا دیں گے

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اگر تم کہا مانو گے اہل کتاب کے ایک گروہ کا تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف پلٹا دیں گے) (100) مسلمانوں کو اہل کتاب سے بچنے کی تاکید اہلِ کتاب کو ملامت کرنے اور حجت تمام کردینے کے بعد اب خطاب مسلمانوں سے ہو رہا ہے اور ان خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے جو اہل کتاب کی طرف سے انھیں پیش آسکتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کا مسلمانوں پر حملہ دو طرفہ تھا۔ ایک طرف تو وہ ان کی سادگی اور امی ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کے بارے میں مسلسل بدگمانی پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے اور مختلف قسم کے سوالات ان کے دماغوں میں اٹھاتے رہتے تھے اور دوسری طرف وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ اوس و خزرج کی ساری کمزوریوں کا سبب ان کی آپس کی بےاتفاقی تھی۔ عرصہ دراز سے یہود نے اوس و خزرج کو جنگ کی آگ میں جھونک رکھا تھا۔ طریقے طریقے سے وہ دونوں قبیلوں کی جنگ کے لیے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اس غرض کے لیے انھیں قرض بھی دیتے اور بعض دفعہ خود بھی مدد کرتے اور اسی مقصد کے لیے ان سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کر رکھے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک یہ آپس میں لڑتے رہیں گے ہم ان کی طرف سے محفوظ رہیں گے اور یہ اپنی عدم اتفاقی کے باعث قرض لینے پر ہمیشہ مجبور ہوں گے اور اس طرح سے ہمارے دست نگر رہیں گے۔ مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جب ان دونوں قبیلوں نے اسلام قبول کرلیا تو اسلامی اخوت ان کے تمام انتسابات پر غالب آگئی۔ اس سے ان دونوں قبیلوں میں ایک ایسی وحدت پیدا ہوئی جس نے انھیں سیسہ پلائی دیوار بنادیا۔ یہود کے لیے یہ بات نہایت پریشان کن تھی۔ اب اگر ایک طرف وہ انھیں اسلام سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے تھے تو دوسری طرف ان کے اس اتفاقِ و اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی تدبیریں سوچتے تھے۔ روح المعانی میں ابن اسحاق کی روایت سے اور ایک جماعت نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی سم اس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا۔ اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ اکٹھے بیٹھے دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگ گیا۔ آخر یہ تجویز ہوئی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار موجود ہیں، وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا کہ فوراً ایک آگ سی بھڑک اٹھی اور آپس میں جذبات کی آندھی چلنے لگی۔ یہاں تک کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ تلواریں بےنیام نہ ہوجائیں۔ آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے دونوں قبیلوں کے مسلمانوں کو تنبیہ کی کہ اللہ نے تمہیں اسلام کے ذریعے اتفاق و اتحاد کی دولت عطا فرمائی ہے، یہ کیسی جہالت ہے کہ تم پھر اسی اختلاف کی دلدل میں دھنس جانا چاہتے ہو۔ چناچہ جانبین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ سمجھ گئے کہ یہ ایک سازش اور شیطانی حرکت تھی۔ چناچہ ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے اور توبہ کی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو تنبہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم نے اہل کتاب کے اس گروہ کو پوری طرح نہ پہچانا جو تمہاری دشمنی پر ادھار کھائے بیٹھا ہے اور تم ان کی باتوں میں آتے رہے اور محض اس لیے ان کی بات سنتے رہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ کی جانب سے کتاب ہدایت دی گئی تھی تو پھر یاد رکھو وہ تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کیے بغیر نہ چھوڑیں گے۔ تم جنھیں اہل کتاب سمجھ کر حسن ظن رکھتے ہو وہ بگاڑ کی اس انتہا کو پہنچ چکے ہیں کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے کمینی سے کمینی حرکت کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اس آیت میں قرآن کریم نے یہود کے ایک گروہ کا ذکر کیا ہے پوری یہودی قوم کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ ورنہ دشمن کے بارے میں اس حد تک احتیاط انسانی جذبات سے بہت دور کی بات ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی قوم یہود مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی تھی۔ یہ صحیح ہے کہ انہی میں سے کچھ لوگوں نے اسلام بھی قبول کیا تھا، لیکن ان کی تعداد بڑی محدود تھی۔ یہود کا عام مزاج اگرچہ اسلام دشمنی پر مبنی تھا، لیکن بگاڑ اور زوال کی یہ بھی ایک علامت ہے کہ عام افرادِ قوم بےحسی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اگر نئی روشنی کو قبول نہیں کرتے تو اٹھتے ہوئے انقلاب کا راستہ روکنا بھی ان کی بےچینی کا باعث نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کھانے کمانے میں لگے رہتے ہیں، البتہ ان کا وہ طبقہ جو قوم کو لیڈ کرتا ہے اس کے اندر یقینا اسلام دشمنی ایک بحران کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ وہ ہر ممکن طریقے سے اسلام کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے۔ یہاں فریق کے لفظ سے وہی گروہ مراد ہے اور وہی گروہ اس قوم کا نمائندہ بھی ہے۔
Ayah 3:101

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو ؟ حالانکہ تم وہ ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑتا ہے تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ پر)

وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْـتُمْ تُتْلٰی عَلَیْـکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَ فِیْـکُمْ رَسُوْلُـہٗ ط وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ ع (اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو ؟ حالانکہ تم وہ ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑتا ہے تو ضرور پہنچایا جاتا ہے اسے سیدھی راہ پر) (101) مسلمان خود آگاہی سے کام لیں میں اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ یہود کا حملہ دو طرفہ تھا۔ اسلام کے بارے میں وسوسہ اندازی اور اوس و خزرج میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی کوشش۔ نئے نئے مسلمان ان دونوں کوششوں کا اثر قبول کر رہے تھے۔ شان نزول میں جس طرح بتایا گیا ہے کہ ایک دفعہ تو دونوں قبیلوں کے درمیان تلواریں کھنچ گئی تھیں۔ اگر حضور بروقت نہ پہنچ جاتے تو نہ جانے کیا نتائج نکلتے۔ اسی کو اس آیت کریمہ میں کفر سے تعبیر کیا گیا ہے اور مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم پر پوری طرح ابر کرم چھایا ہوا ہے۔ اللہ کی آیات رحمت کی بوندیں بن کر برس رہی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مینارہ نور کی طرح تمہارے درمیان موجود ہیں۔ تمہارے اختلافات کے شعلوں کو یہ ابر رحمت بجھا چکا ہے اور حق کی روشنی تمہاری جہالت کی تاریکیوں کو ختم کرچکی ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ ممکن ہے کہ تم پھر کفر کا راستہ اختیار کرو۔ ان کی باتوں میں آجاؤ یا پھر تمہارے اتفاق و اتحاد میں دراڑیں پڑجائیں۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ اسلام کے ابر رحمت ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں اور یہ اللہ کی وہ دولت ہے کہ جس کسی کو نصیب ہوجاتی ہے وہ زندگی کی بھول بھلیوں سے نجات پا جاتا ہے۔ لیکن اس آیت ِکریمہ میں جس طرح اتفاق و اتحاد کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اختلاف و انتشار کو جس طرح کفر سے تعبیر کیا گیا ہے یہ انتہائی قابل توجہ بات ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فکری وحدت انسان کو صراط مستقیم پر ضرور چلاتی ہے، لیکن اگر اتفاق و اتحاد کے ذریعے قومی اور دینی وحدت میسر نہ آئے تو امتیں سیاسی اور ملی قوت سے محروم ہوجاتی ہیں اور یہ وہ حادثہ ہے جس کے بعد دین بھی سہارا نہیں بنتا، نہ صرف ملک ہاتھ سے نکلتے ہیں بلکہ ہر چیز قصہ پارینہ بن جاتی ہے۔ انیسویں صدی پر نگاہ ڈالیے برصغیر پاک و ہند میں ملت اسلامیہ پر جو قیامت ٹوٹی وہ صرف اس بات کا نتیجہ تھا کہ مغرب کے عیسائیوں نے مسلمان حکمرانوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیا تھا اور شرق اوسط اس لیے تباہ ہوا کہ وہاں کے فرمانروائوں نے خلافتِ عثمانیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا اور اس طرح اپنے وقار کا جنازہ نکالا۔ مسلمانوں نے جب بھی اغیار پر اعتبار کر کے اپنی صفوں میں دراڑیں پیدا کیں تو انھیں ہمیشہ روح فرسا حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ ہماری تاریخ صدیوں سے اس پر شہادت دے رہی ہے۔ مسلمانوں کو خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تدبیر بھی بتائی گئی ہے۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ ہرحال میں اللہ کو مضبوطی سے تھام لو، اللہ کی ذات تو ایسی نہیں کہ جسے پکڑا اور تھاما جاسکے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ اللہ کی رسی یعنی اس کے دین اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے تھامو اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلیتا ہے وہ دینی اخوت و محبت کو تمام انتسابات پر ترجیح دیتا ہے اور اللہ کا ہر تعلق اس کے سند اور اتھارٹی بن جاتا ہے۔ تو اللہ اسے ایک ایسے سیدھے راستے پر چلاتا ہے جس میں کہیں کھائیاں ہیں، نہ پرپیچ راستے جن میں بہک جانے کا اندیشہ ہو۔ اس اعتصام باللہ کی مزید حقیقت اگلی آیت کریمہ میں کھولی گئی۔
Ayah 3:102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو تم مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْـتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو تم مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو) (102) گزشتہ آیات کریمہ میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی طرف سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرمائی گئی اور ان کے خطرناک عزائم سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ جہاں تک رہنمائی اور تربیت کا تعلق ہے تمہارے بگڑنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ شب و روز تم میں اللہ کی کتاب پڑھی جاتی ہے اور تربیت کے لیے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تمہارے اندر موجود ہے۔ لیکن اس سروسامان کے ہوتے ہوئے بھی تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اہل کتاب کی سازشوں سے بچنے اور گمراہی سے دور رہنے کے لیے ” اعتصام باللہ “ وہ ذریعہ ہے جس سے ایک مومن میں حقیقی قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ ہر طرح کے برے اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اعتصام باللہ کی حقیقت اب اس آیت کریمہ میں ” اعتصام باللہ “ کی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ ” اللہ کو مضبوط پکڑنا “ ایسا نہیں ہے جیسے ہم کسی محسوس چیز کو پکڑ لیتے ہیں کیونکہ اللہ کی ذات نہ حواس میں آسکتی ہے نہ عقل کی گرفت میں۔ اس کو پکڑنے کا معنی اس کا تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ تقویٰ کا معنی ہے ” اللہ سے ڈرنا “۔ لیکن اس ڈرنے سے مراد وہ ڈر اور خوف نہیں جو کسی ڈرائونی چیز سے ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی ذات تو سرتاپا جمال ہے۔ انسان زندگی بھر اس کی رحمت کے سائے تلے جیتا ہے، اسی کی ربوبیت کے فیضان سے زندگی گزارتا ہے اور اسی کی نعمتیں انسان کے گرد و پیش میں ہر وقت اس کے احسانات کی یاد دلاتی ہیں۔ ایک ایسی ذات جس کے احسانات کے سامنے انسان سر نہ اٹھا سکے اور جس کی رحمت کے بغیر ایک سانس لینا بھی ناممکن ہو، وہ یقینا ڈرنے کی نہیں، پیار اور محبت کرنے کے قابل ذات ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے صاحب ایمان لوگوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں بار بار اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ ڈرنا دراصل اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کی ناراضگی سے ہے۔ جیسے ایک محب اپنے محبوب سے انتہا درجے کی محبت کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر وقت اس کا دل ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں میری کسی بات سے میرا محبوب ناراض نہ ہوجائے، اللہ سے ڈرنا بھی ایسا ہی سمجھنا چاہیے۔ البتہ ! ہر شخص اللہ سے محبت میں بھی یکساں نہیں اور نتیجتاً اس کے تقویٰ میں بھی برابر نہیں۔ جس درجے کا اللہ سے تعلق ہوگا اسی درجے کا اس کے اندر تقویٰ ہوگا۔ شائد اسی لیے اہل علم نے تقویٰ کے تین درجات بیان کیے ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ تو کفر و شرک سے بچنا ہے۔ یہ تقویٰ کا کم سے کم معیار ہے کیونکہ یہ تقویٰ تو ایسے شخص کو بھی نصیب ہوسکتا ہے جس کی زندگی سراسر گناہ اور معصیت میں گزرتی ہے کیونکہ ایک گنہگار آدمی بھی اگر عقل سلیم سے محروم نہیں ہوا تو وہ بھی کبھی اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہیں کرسکتا۔ تقویٰ کا دوسرا درجہ جو عام مسلمانوں سے مطلوب ہے وہ ہر اس چیز سے بچنا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔ قرآن و سنت میں جس تقویٰ پر زور دیا گیا ہے اور جس کے فضائل و برکات بیان کیے گئے ہیں وہ اسی تقویٰ سے متعلق ہیں۔ تقویٰ کا تیسرا درجہ جو تقویٰ کا سب سے اعلیٰ مقام ہے جو صرف انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے دل کو غیر اللہ کی ہر آلائش سے بچایا جائے اور اللہ کی یاد اور اس کی رضا کی طلب سے آباد رکھا جائے۔ تقویٰ کا یہ آخری درجہ اگرچہ عام مسلمانوں کے لیے بہت مشکل ہے لیکن اللہ سے محبت اور اس کا تعلق ایسی عظیم نعمت ہے کہ جس کے حصول کے لیے بڑے سے بڑا ہدف بھی مقرر کردیا جائے تو ناروا نہیں۔ ایک مسلمان کا ہدف یہی تیسرے درجے کا حصول ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ دوسرے درجے کا تقویٰ مسلمانوں سے قبول کرلیتا ہے۔ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ انسان اپنے اعمال کا جو بھی خاکہ بنا لیتا ہے وہ نتیجہ کے اعتبار سے کسی نہ کسی مزاج پر منتج ہوتا ہے کیونکہ جس طرح اعمال بنیادی احساسات کا نتیجہ ہوتے ہیں اسی طرح اعمال بھی نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہتے اور ان کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر ایک مزاج اور ایک ذوق پیدا کردیتے ہیں جس کے بعد انسان سے خود بخود ان اچھائیوں اور خوبیوں کا ظہور ہوتا ہے جو تقویٰ کی اصل شناخت ہوتی ہیں۔ جس طرح ایک چشمہ پانی کی ایک مقدار جمع ہوجانے کے بعد خود بخود ابلتا ہے اور ایک آبشار خود بخود گرتی ہے اسی طرح انسانی خصائص کا ظہور بھی ایک خاص وقت میں پہنچ کر ایک ایسی صورت اختیار کرجاتا ہے جسے یہاں حَقَّ تُقٰتِہٖ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کی جو تفصیل حضرت عبداللہ ابن مسعود اور ربیع اور قتادہ اور حسن بصری ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہے وہ میری اس گزارش کی عکاس معلوم ہوتی ہے اور اس سے صحیح بات کو سمجھنے میں پوری مدد ملتی ہے۔ آپ نے فرمایا : حَقَّ تُقٰتِہٖ ھُوَاَنْ یُّطَاعَ فلَاَ یُعْصٰی وَیُذْکَرَ فَلاَ یُنْسٰی وَیُشْکَرَ فَلاَ یُـکْفَرُ (بحرمحیط) (حقِ تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے، کوئی کام اس کی اطاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے، کبھی بھولا نہ جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے، کبھی نا شکری نہ کی جائے) آنحضرت ﷺ کی اس وضاحت میں نہ صرف تمام تقویٰ کے مدارج کا ذکر آگیا ہے بلکہ اسے ایسے آسان طریقے اور سہل الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ اس سے بہتر تعبیر ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اللہ کا ایسا تقویٰ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس کی ذات اور اس کی صفات کا مکمل استحضار نصیب نہ ہو۔ بڑے سے بڑے لالچ میں اس کی رحمتیں نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائیں اور بڑے سے بڑے خوف میں اس کی قدرتیں کبھی بھولنے نہ پائیں۔ آدمی بالکل بےسہارا ہوجائے تو بھی اس کے سہارے سے کبھی اپنے آپ کو الگ نہ سمجھے۔ ہزار تنہائیوں میں گھر کر بھی اسے یقین ہو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ تعلق اتنا محکم، اتنا پائیدار اور اس قدر مستقل ہے کہ اس سے زندگی کا کوئی لمحہ بھی باہر نہیں۔ میں نے جیسے عرض کیا کہ تقویٰ درحقیقت اللہ کی محبت سے پھوٹتا ہے اور اللہ کی محبت تو بہت عظیم چیز ہے، عام محبتیں بھی جزوقتی نہیں ہوتیں۔ وہ عاشق صادق کے پورے وجود اور تمام احساسات کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔ عاشق کی سوچ اور اس کے اعمال اسی محبت کے اسیر ہو کے رہ جاتے ہیں۔ وہ چاہے بھی تو اس سے الگ ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا۔ کسی شاعرنے خوب کہا ہے ؎ دریچے بند کر کے سونے والو محبت عمر بھر کا رتجگا ہے اسی لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ تمہاری موت بھی مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے کیونکہ جب زندگی کا کوئی لمحہ اس تعلق سے آزاد نہیں تو اس زندگی کا خاتمہ اس سے آزاد کیسے ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ موت تو آدمی کے اختیار میں نہیں، وہ تو کسی حال میں بھی آسکتی ہے۔ لیکن یہ محض وہم ہے حقیقت وہی ہے جسے آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا کہ کَمَا تُحْیُوْنَ تَمُوْتُوْنَ وَکَمَا تَمُوْتُوْنَ تُحْشَرُوْنَ (جس حالت میں تم اپنی زندگی گزارو گے اسی پر موت آئے گی اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کیے جاؤ گے) جن احادیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک آدمی جنتیوں جیسے اعمال کرتا ہے، لیکن آخر عمر میں جہنمیوں جیسے اعمال کرنے لگتا ہے اور اس طرح سے جہنمی ہوجاتا ہے۔ یہ دراصل ایک مومن کو اپنا جائزہ لینے کی تلقین ہے۔ جو شخص اپنے بارے میں لاپرواہی کا شکار نہ ہو یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا وجہ اسے کسی کھائی میں گرا دے۔ اس لیے جب ایک آدمی تقویٰ کی زندگی گزارنے کا عزم کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے موت بھی ایک متقی کی عطا فرماتے ہیں اور ایک متقی کی موت کو ہی یہاں مسلمان کی موت قرار دیا گیا ہے کیونکہ مسلم ہونا درحقیقت تقویٰ کی ایک تعبیر ہے۔ مسلم کا معنی ہے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینے والا۔ تو جس آدمی نے اپنے احساسات، اپنی صلاحیتیں، اپنا مال و دولت، اپنا عہدہ و منصب، حتیٰ کہ اپنی زندگی اور موت بھی اللہ کے حوالے کردی۔ اس کے بعد تقویٰ کا اور کونسا مقام باقی رہ جاتا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں تقویٰ کی ایک دوسری تعبیر اختیار کی گئی جس سے تقویٰ کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تقویٰ کوئی خیالی چیز نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کو صراط مستقیم پر ڈال دینے کا نام ہے اور اسی کا دوسرا نام اسلام ہے اور یہ اسلام ہی وہ ذریعہ ہے جو ہمیں اہل کتاب کی سازشوں اور ان کے برے ارادوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
Ayah 3:103

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اپنے اوپر اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی ہدایات کو واضح کرتا ہے تاکہ تم راہ پا جائو

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ص وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْـکُمْ اِذْکُنْـتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْـتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِہٖ لَعَلَّـکُمْ تَہْتَدُوْنَ ۔ (اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اپنے اوپر اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا۔ اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر کھڑے تھے تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی ہدایات کو واضح کرتا ہے تاکہ تم راہ پا جاؤ) (103) دو ہدایات : (1) اعتصام باللہ، (2) اتفاق و اتحاد اس آیت کریمہ میں اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے، پھر اسے اجتماعی صورت دے کر ایک مضبوط قوت بنانے کے لیے دو ہدایات دی گئی ہیں۔ پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ تم اگر واقعی اپنا تعلق اللہ سے پیدا کرنا چاہتے ہو اور ظاہر ہے کہ مسلمان رہنے کے لیے اس کے بغیر چارہ کار بھی نہیں۔ تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے تعلق پیدا کرنے اور پھر اس کو ہمیشہ باقی رکھنے کے لیے اللہ نے تمہیں ایک بہت بڑی دولت عطا فرمائی ہے اور اسی کو تمہارے قیام و بقا کی ضمانت ٹھہرایا ہے۔ وہ دولت وہ ہے جسے یہاں حَبْلِ اللّٰہِ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حَبْل کا معنی ہے ” رسی “۔ اپنے اس معنی سے ترقی کر کے یہ لفظ تعلق اور ربط کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کیونکہ رسی دو چیزوں میں ربط وتعلق کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اللہ کی ذات سے براہ راست قرب کا اگر کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے تو صرف وہ ہوسکتا ہے جو اس کی اپنی صفت ہے قرآن کریم کلام اللہ ہے اور کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کریم اللہ کی صفت ہے۔ اللہ جیسی ذات جو زمان و مکان اور جسم کی احتیاجات سے بھی پاک ہے اس کے ساتھ وابستگی اور قرب اس کی صفت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چناچہ یہاں اسی صفت یعنی قرآن کریم کو حَبْلِ اللّٰہِ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اسی کو تھامنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابو سعید خدری کے واسطے سے ایک روایت نقل کی ہے : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابُ اللّٰہِ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ الْمَمَدُوْدِ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان تنی ہوئی ہے) جس طرح رسی دو چیزوں کو آپس میں جوڑتی ہے اسی طرح قرآن کریم وہ عظیم دولت ہے جس سے وابستگی اللہ سے وابستگی اور قرب کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن کریم سے وابستگی کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ اسے اللہ کی کتاب سمجھ کر اور اس کا کلام جان کر اسے ادب سے چوما جائے اور گھر کے بلند طاق پر اسے سجا کے رکھا جائے بلکہ اس رسی کو پکڑنے کا مفہوم وہی ہے جسے سابقہ آیات میں تقویٰ اور اسلام سے تعبیر کیا گیا ہے کہ تم اگر چاہتے ہو کہ اللہ سے ٹوٹ کے محبت کرو اور اس کی محبت کا حق ادا کرنے کے لیے دل و جان سے اسے چاہو تو اپنے دل کو اسی سے آباد کرو، اپنی فکری جہتوں کو اسی کی تعلیم کی روشنی میں متعین کرو، زندگی کا ہر فیصلہ اسی کی راہنمائی سے کرو، اس کے ایک ایک حکم کی اطاعت اس طرح کرو جیسے محبوب کی ادائوں اور احکام کی اطاعت اور قدر کی جاتی ہے۔ ہر وقت اسی کی رضا مندی کے حصول میں لگے رہو اور اس کی ناراضگی سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہو۔ اس نے اپنی کتاب میں جو قانونِ شریعت دیا ہے اس کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کماحقہ نافذ کرو اور تمہاری زندگی اور موت اسی اللہ رب العالمین کے احکام کی اطاعت کی آئینہ دار ہو۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ اب جبکہ تم ایک امت بن چکے ہو اس لیے انفرادی طور پر تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری اس رسی کو پکڑنے کا حق اد انھیں کرسکتی۔ اب ضروری ہے کہ تم سب مل کر اس رسی کو تھامو۔ یعنی امت مسلمہ میں باہمی ربط و ضبط اس اخلاص اور وفا کا عکاس ہونا چاہیے جس سے معلوم ہو کہ اس امت کا ایک ایک فرد اللہ کی رسی کو اس قدر مضبوطی سے پکڑ چکا ہے کہ اسی کی رہنمائی میں ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ سوچتے ہیں تو اسی کی فکر کے مطابق، جیتے ہیں تو اسی کے احکام کے سائے میں اور اسی کی قوت کا سامان بن کر اور مرتے ہیں تو اسی کے حفظ و بقا اور اسی کی سربلندی کے لیے۔ ایسی صورت حال میں اس بات کا تصور بھی گناہ ہے کہ امت کی اس مضبوط دیوار میں کوئی دراڑ پڑے، ان میں کسی طرح کی عصبیت سر اٹھائے، یہ قرآن کے دیے ہوئے اہداف سے ہٹ کر کوئی اور ہدف اپنے سامنے رکھے۔ ان کا ضابطہ حیات قرآن کے علاوہ کوئی اور ہو کیونکہ یہی وہ ضابطہ حیات ہے جس نے ان کے صدیوں کے اختلافات کو مٹا کر رکھ دیا ہے۔ یہی وہ اللہ کا عظیم احسان ہے جس نے ان کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔ یہ اختلاف و انتشار کی اس انتہا کو پہنچ چکے تھے کہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑے اس میں کودنے ہی والے تھے کہ اللہ کی رحمت نے انھیں سہارا دے کر بچا لیا۔ دریا کے کسی بند کا ٹوٹ جانا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا قوموں کا انتشار خطرناک ہوتا ہے اور ٹوٹے ہوئے بند کو باندھ دینا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا مختلف قبیلوں اور قوموں کو ایک شیرازے میں پرونا۔ لیکن اللہ کی اس رسی نے اور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ راہنمائی نے، اللہ کی تائید و نصرت سے وہ کام کر دکھایا جو کسی کے بس کا نہ تھا۔ اب حال یہ ہے کہ کل کے دشمن جو ایک دوسرے کے نام لینے کے روادار نہ تھے اور جو ایک دوسرے کا خون پی کر خوش ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو تباہ کر کے ٹھنڈی سانس لیتے تھے آج آپس میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔ جنگ بدر میں چشم فلک نے یہ حیرت انگیز منظر بھی دیکھا کہ میدانِ جنگ میں جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو باپ ایک طرف تھا اور بیٹا دوسری طرف، چچا ایک طرف تھا تو بھتیجا دوسری طرف، بھائی بھائی کے مقابل کھڑا تھا، ماموں بھانجے کا خون بہانے کے لیے بےقرار تھا۔ وہ تمام عربی عصبیتیں، قبیلوں کے انتسابات، حسب و نسب کی رعونتیں سب اسلامی اخوت کے سامنے پامال ہو کر رہ گئی تھیں۔ حضرت مصعب بن عمیرص جب قیدیوں کے معائنے کے لیے نکلے تو ایک انصاری صحابی کو دیکھا کہ وہ ان کے حقیقی بھائی کی مشکیں کس رہا تھا۔ تو آپ نے انصاری صحابی سے کہا کہ اسے کس کر باندھیے کہیں بھاگ نہ جائے۔ بھائی نے آنکھوں میں آنسو بھر کے کہا مصعب ! میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ تمہارا خون اس قدر سفید ہوگیا ہے۔ تم میرے بھائی ہو کر میری مشکیں کسوا رہے ہو۔ حضرت مصعب ( رض) نے نہایت تحمل سے جواب دیا کہ تم میرے بھائی نہیں ہو، میرا بھائی وہ ہے جو تمہیں باندھ رہا ہے۔ اسی اسلامی اخوت نے مسلمانوں کو مضبوط قوت میں بدل دیا۔ اسی کا حوالہ دے کر فرمایا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر یہ حیرت انگیز تبدیلی قرآن کریم سے وابستگی کے نتیجے میں آئی ہے۔ دیکھنا اس رسی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا اور آپس میں کبھی الگ الگ نہ ہونا۔ تفرقے کا شکار نہ ہونا۔ لیکن یہ اسی وقت تک ممکن ہے جب تک تم اللہ کی کتاب کی راہنمائی میں اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھوگے۔ انسان کی فکری استقامت کے لیے مستقل نگہداشت ضروری ہے انسان کے اندر جس طرح اللہ نے نیکی کا ملکہ رکھا ہے اور اس کی فطرت نیکی کی طرف میلان رکھتی ہے اور حدیث شریف میں کہا گیا ہے کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی فطرت اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری چاہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر خواہشات بھی رکھی گئی ہیں۔ برائی کے جذبات بھی رکھے گئے ہیں۔ بری باتوں سے متأثر ہونا اور برائی کی دعوت کو قبول کرنا اس کی سرشت میں داخل ہے۔ ماحول بھی اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ جس طرح اچھے اثرات کو قبول کرتا ہے اسی طرح برے اثرات کو بھی قبول کرتا ہے۔ ان تمام احساسات اور ملکات کو دیکھتے ہوئے یہ بات بڑی آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ انسانی معاشرہ چاہے کتنا بھی ہدایت یافتہ ہو اگر اسکی باقاعدہ نگرانی نہ ہو اور اس میں نیکی کی قوتیں مسلسل کام نہ کریں اور برائی کی قوتوں کو روکنے کا عمل جاری نہ رہے تو کسی بھی معاشرے کے گمراہ ہوجانے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اندلس کو جن مسلمانوں نے فتح کیا تھا ان کی حمیت اسلامی، اخوتِ دینی، جذبہ جہاد، نیکی کی طرف میلان اور اسلامی احکام کی پابندی میں کسے کلام ہوسکتا ہے۔ لیکن انہی لوگوں کی اولادیں رفتہ رفتہ غلط ماحول سے متأثر ہوئیں، حسب و نسب کے انتسابات جاگنا شروع ہوئے، مادی زندگی روحانی زندگی پر غالب آنے لگی اور ایک وقت آیا کہ جنھوں نے ایک محدود تعداد میں ہوتے ہوئے کتنی بڑی اکثریت پر غلبہ پایا تھا اب وہ خود بری طرح شکست و ریخت کا شکار ہوئے۔ وہ جو کبھی ایک جھنڈے تلے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے تھے آج وہ بری طرح انتشار و افتراق کا شکار ہوئے اور بالآخر صدیاں حکومت کرنے کے بعد اس طرح وہاں سے نکالے گئے کہ صدیوں تک مسلمان کا وجود بھی باقی نہ رہا۔ اسی طرح کی اور مثالیں مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ اگر امت مسلمہ کو راہ راست پہ رکھنا ہے اور امت مسلمہ کو ایک زندہ قوت کے طور پر اپنا رول ادا کرنے کے قابل رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ ان کی فکری اور عملی راہنمائی اور نگہداشت میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں فرمایا گیا :
Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو خیر کی طرف بلائے جو معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَلْـتَکُنْ مِّنْـکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (اور چاہیے کہ تم میں ایک گروہ ایسا ہو جو خیر کی طرف بلائے جو معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں) (104) مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کی دینی زندگی کو ہر طرح کی خرابی سے بچانے کے لیے ایک ایسی جماعت، ایک ایسے گروہ یا ایک ایسے ادارے کا وجود عمل میں لائیں جس کے دو کام ہوں۔ (1)… دعوت الی الخیر۔ (2)… امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ اگر تو مسلمانوں کی حکومت اسلامی حکومت ہو تو اس کا شرعی فریضہ ہے کہ اسلامی زندگی کے احیاء کے لیے ایسے ادارے کا تقرر کرے اور اگر اسلامی حکومت نہ ہو، لیکن مسلمانوں کی اپنی حکومت ہو تو پھر مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر اس ضرورت کو پورا کریں، حکومت کی سطح پر تو وہ نہیں کرسکتے، البتہ ! رفاہی اداروں یا N.G.Os کی طرح کچھ اہل علم اٹھیں اور اپنی بساط کی حد تک اس دینی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ جن میں پہلا کام دعوت الی الخیر ہے یعنی انھیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں اور خیر کے ساتھ ان کا تعلق باقی رکھنے کی کوشش کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خیر کیا ہے ؟ ابن کثیر نے نبی کریم ﷺ کا اس سلسلے میں ایک ارشاد نقل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اَلْخَیْرُ ھُوَ اِتِّـبَاعُ الْقُرْاٰنِ وَسُنَّتِیْ (یعنی خیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ علمائے کرام اور علم دوست لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو ہمیشہ اس ضرورت کا احساس دلاتے رہیں کہ تم مسلمان ہو اور مسلمان وہ ہوتا ہے جو قرآن و سنت کی پیروی کرے۔ اس لیے اگر تم مسلمان رہنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں بہرصورت قرآن و سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔ تمہاری زندگی کا کوئی عمل بھی اس کے خلاف نہ ہو۔ قرآن اللہ کی کتاب اور سنت آنحضرت ﷺ کی تشریحات کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا وسیع نظام زندگی ہے جس نے زندگی کے ہر مسئلے پر بحث کی ہے۔ مسلمانوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ انھیں بغیر رہنمائی کے نہیں چھوڑا گیا بلکہ محفوظ اور منضبط راہنمائی ہر وقت ان کی دسترس میں ہے۔ ان کی حفاظت کا اللہ نے خود ذمہ لیا ہے۔ البتہ ! مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے سیکھنے سکھانے کا انتظام کریں، لوگوں کو اس کی طرف بلائیں، اس کی ترغیب دیں اور کہیں بھی اس کا احساس نہ ہونے دیں کہ مسلمانوں کے پاس زندگی گزارنے کے لیے کوئی ضابطہ حیات نہیں۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق دین کی بنیادی باتوں سے ہے۔ مثلاً وہ عقائد جنھیں مانے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہوتا۔ وہ احکام جن کی بجا آوری کے بغیر اسلامی زندگی وجود میں نہیں آتی اور وہ اخلاق جنھیں اختیار کیے بغیر ایک مسلمان میں اسلامی تہذیب پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ حقوق و فرائض جن کا تعلق انسانوں کے آپس کے معاملات سے ہے، یہ دین کا وہ بنیادی حصہ ہے جس کا جاننا ہر مسلمان پر ضروری ہے اور اس پر عمل کرنا آخرت میں سرخرو ہونے کے لیے لازمی ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف مراحل میں ان بنیادی باتوں سے ہر مسلمان کو باخبر کریں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلی جماعت سے ذہنی سطح کے مطابق ان تمام شعبوں کی ابتدائی باتوں کی تعلیم شروع ہوجانی چاہیے۔ پھر درجہ بدرجہ علمی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت بھی بلند ہوتی جانی چاہیے۔ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے ہر بچہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بہرہ ور ہونا چاہیے کیونکہ میٹرک کی عمر تک بچہ بلوغ کی عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اب اس کی مکلف زندگی شروع ہوجاتی ہے۔ چناچہ اب اس کی آئندہ زندگی کا ایک ایک دن بلکہ ایک ایک لمحہ اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش ہوگا۔ کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم میں انہی بنیادی باتوں کی سطح اور بلند ہوجانی چاہیے۔ عقائد پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، اس کے ازالے کے لیے ذہنوں کو تیار کیا جانا چاہیے۔ تہذیب کے بنیادی مسائل علمی حیثیت سے دل و دماغ میں اتارے جانے چاہیں اور جن مسائل کا تعلق بلوغ کے بعد شروع ہوتا ہے خاص طور پر عائلی اور عملی زندگی میں اس کی تعلیم کالج سے شروع کرنی چاہیے۔ قرآن و سنت ہمارے دین و شریعت کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کا فہم ہمارے نظام تعلیم کا حصہ بنادیا جائے۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک امت مسلمہ کے پڑھے لکھے لوگ مکلف ہیں کہ وہ دروس قرآن اور دروس حدیث کا اہتمام کریں اور جدید زبان میں جدید ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے فہم کو آسان بنایاجائے بلکہ ایسے حلقوں کو ایک تحریک کی شکل دے کر محلے محلے اور گھر گھر پہنچا دیا جائے۔ مساجد اس کا مرکز بنیں اور جدید تعلیم یافتہ لوگ اس سے بہرہ ور ہو کر اپنے اپنے اداروں کو اس کے مراکز بنائیں۔ جب اس کی ضرورت کا احساس اور اس کی تڑپ دلوں میں اتر جائے گی تو خود بخود اس کے لیے ہر شخص نئے نئے راستے سوچے گا اور امت کی دینی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نئی نئی راہیں تلاش کرے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ امت کی دین سے متعلق وہ ضرورتیں جن کا تعلق قانون یا تہذیب و تمدن سے ہے اور تقابلِ ادیان کی صورت میں جن چیزوں کی ہمیں ضرورت پیش آتی ہے اور معیشت اور معاشرت کی اسلامی بنیادوں کو واضح کرنے کے لیے نئے علوم سے تقابل کی ضرورت پڑتی ہے، یہ اسلام کی وہ ضرورتیں ہیں جن کا تعلق عام آدمی سے نہیں بلکہ اہل علم کے خاص دوائر اور قانون اور بعض عمرانی درس گاہوں میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انھیں رہنمائی مہیا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے علماء تیار کیے جائیں جو ادلہ شرعیہ کی تفصیلات سے پوری طرح واقف اور ان کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ قرآن کریم نے جس طرح عام دینی ضرورتوں کے حوالے سے قرآن کریم کو سہل قرار دیا ہے اور ہر شخص کو اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے اسی طرح اس نے دوسری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دین میں تفقہ پیدا کرنے کا حکم دیا ہے اور ایسے لوگ تیار کرنے کا حکم دیا ہے جو مسلمانوں کی علمی ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ ارشاد فرمایا : فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمُ طَّـآئِفَۃٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ ۔ (مسلمانوں کے ہر طبقے سے ایک ایسا گروہ کیوں نہ نکلا (جو کسی تعلیمی مرکز میں رہ کر) دین کی سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کو انذار کرتا تاکہ لوگ اللہ کی نافرمانی سے بچتے) اس آیت کریمہ میں ایک بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کو تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو دین میں تفقہ پیدا کریں۔ دین میں تفقہ قرآن و سنت کے فہم میں زندگیاں کھپا کر جو گہری نظرپیدا ہوتی ہے اسے کہتے ہیں۔ اس طرح سے وہ ضرورت پوری کی جاسکتی ہے جس کا تعلق مسلمانوں میں قرآن و سنت سے وابستگی اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا کرنے سے ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کی علمی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ امت میں شریعت کی پابندی کو کمزور نہ ہونے دیا جائے اور مسلمانوں کے اعمال واطوار کو ہر ممکن طریقے سے شریعت کی حدود میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لیے اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ معروف ہر وہ چیز ہے جو شریعت کی نگاہ میں نیکی ہے اور منکر ہر وہ چیز ہے جو شریعت کی نگاہ میں برائی ہے۔ نیکی کو فروغ دینا اور برائی سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں مختلف مواقع پر اس کا حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے مختلف طریقوں سے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد نقل کیا گیا ہے : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بَیَدِہٖ لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْلَـیُوْشَکُنَّ اللّٰہَ اَنْ یَّـبْـعَثَ عَلَیْـکُمْ عِقَابًا مِّنْ عِنْدِہٖ ثُمَّ لَتَدَعُنَّـہٗ فَلاَ یَسْتَجِیْبُ لَـکُمْ (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کے ساتھ تم سب پر بھی اپنا عذاب بھیج دے۔ اس وقت تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو گے تو قبول نہ ہوگی) ایک اور حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مَنْ رَاَی مِنْـکُمْ مُنْـکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فِبِلِسَانِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ (تم میں سے جو شخص کوئی گناہ ہوتا ہوا دیکھے تو اس کو چاہیے کہ اپنے ہاتھ اور قوت سے اس کو روک دے اور اگر یہ نہ کرسکے تو زبان سے روکے اور یہ بھی نہ کرسکے تو کم از کم دل میں اس فعل کو برا سمجھے اور یہ سب سے ادنیٰ درجہ کا ایمان ہے) ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر شخص پر لازم ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ تمام احکامِ شرعیہ کے لازم ہونے کے لیے استطاعت اور قدرت ضروری ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہی بنیادی شرط ہے۔ ایک حدیث میں آپ نے دیکھا ہے کہ آپ نے استطاعت پر ہی اس کا دارومدار رکھا ہے۔ دین چونکہ علم ہے اس لیے اس کی سب سے پہلی استطاعت علمی استطاعت ہے۔ جو شخص امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ معروف کیا ہے اور منکر کیا ہے ؟ جس آدمی کو یہ بنیادی علم حاصل نہ ہو اس آدمی سے اندیشہ ہے کہ وہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف سمجھ بیٹھے۔ ایسے شخص پر یہ فریضہ عائد نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگوں کی جہالت سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جس سے دین کے بارے میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ امر بالمعروف کی استطاعت جس طرح علم سے متعلق ہے اسی طرح حالات سے بھی متعلق ہے۔ حالات اگر کسی منکر کو روکنے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ اس کے نتیجے میں اگر کوئی ناقابل برداشت ابتلاء پیدا ہوسکتا ہے تو پھر اس پر عمل کرنے میں حکمت کی ضرورت ہے اور یا ایسے وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب حالات میں تبدیلی آجائے۔ ہاں ! اگر معاملہ ایسا شدید ہوجائے کہ اگر منکرات پہ ٹوکا نہ گیا اور معروف کو زندہ رکھنے کی کوشش نہ کی گئی تو دین کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچے گا اور لوگوں پر اس پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے تو پھر خطرات سے کھیل کر بھی یہ فرض انجام دینا چاہیے۔ یہی وہ عزیمت ہے جس کا اللہ کے یہاں بہت اجر ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک تو سید الشہداء حضرت حمزہ ( رض) ہیں دوسرے سید الشہداء وہ ہوں گے جو جابر اور ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کی پاداش میں شہید کردیے جائیں گے۔ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ایسی صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی منکر کا تعلق اجتماعی، آئینی، سیاسی یا حکومتی معاملے سے ہو۔ رہے وہ عام منکرات جو گھروں میں مختلف تقریبات میں پیدا ہوتے ہیں یا فرائض کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں جنم لیتے ہیں یا شرم و حیا کے بند ڈھیلے پڑنے سے نئی نسل میں پیدا ہوتے ہیں، ایسے منکرات کو روکنا تو ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو کسی بھی ادارے کی سربراہی پر فائز ہے۔ گھر کا سربراہ یا معاشرے کا سربرآوردہ آدمی تھوڑی سی ہمت سے بہت سے منکرات کو روک سکتا ہے اور برادریوں میں عام لوگ تھوڑی سی رائے عامہ کو منظم کر کے بہت سی برائیوں کا راستہ روک سکتے ہیں۔ ایسے مواقع پر جب کہ کسی حد تک عزیمت کا ثبوت دیتے ہوئے یا فکر مندی کی صورت میں بعض منکرات روکے جاسکتے ہوں اور پھر بھی ان کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے اور محض برائی کا اظہار کر کے وقت ٹال دیا جائے تو یہ اضعف الایمان ہے، جس کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اگر معاملے کی صورت یہ ہو کہ سب چھوٹے بڑے بعض برائیوں میں اس لیے شریک ہوجائیں کہ وہ خوشیوں کے اظہار کا ذریعہ ہیں، چاہے اس میں شریعت پر کیسی ہی قیامت گزر جائے اور مسلمانوں کی تہذیب چاہے کتنی مجروح ہوجائے تو ایسی صورت حال میں نہی عن المنکر کی بجائے امر بالمعروف کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ترغیب اور آگاہی کے وسائل سے کام لے کر ذہنوں کو پہلے ہموار کرنا چاہیے اور اس کے بعد امربالمعروف اور نہی عن المنکر شاید دونوں کا موقع پیدا ہو سکے اور یہی وہ بات ہے جس کا یہاں لپیٹ کر حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے اعتصام باللہ سے کام لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کی فکری اور عملی بنیادیں راسخ ہوجاتی ہیں اور پھر جب کہیں اس میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے ان دراڑوں کو کھلنے سے پہلے بند کردیتا ہے۔ اس معاشرے کا ایک ایک فرد زندہ احساس اور کھلی آنکھوں سے جیتا ہے۔ وہ جس طرح نقصانات کے باقی مظاہر پر نظر رکھتے ہیں اور اس کے ایک ایک سوتے کو رواں ہونے سے پہلے خشک کردیتے ہیں اسی طرح وہ عقائد، اخلاق اور عمل کی ہر خرابی کو ایسی ہی فکر مندی کے ساتھ بچانے اور برے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ دنیا میں ان کی کامیابی ان کے گھروں کی آبادی، صحت مند خوراک اور بےمیل تعلقات کی صورت میں نظر آتی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ جو اجر وثواب دیں گے آج صرف ان کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 3:105–107

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہے تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے سایہ میں ہوں گے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا جَـآئَ ہُمُ الْـبَـیِّـنٰتُ ط وَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ لا یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْہُہُمْ قف اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُـنْـتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو پراگندہ ہوگئے اور جنہوں نے اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ہدایات آچکی تھیں اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہے تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں۔ اور جن کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے سایہ میں ہوں گے، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے) (105 تا 107) مسلمانوں کو آگاہی گزشتہ آیات کریمہ میں مسلمانوں کو اہل کتاب کی وسوسہ اندازیوں اور ان کی سازشوں سے بچنے کے لیے جو ہدایات دی گئیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مسلمان صراط مستقیم پر باقی رہنا چاہتے ہیں اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد جو ایک نیا راستہ اختیار کرچکے ہیں زندگی بھر نہایت اخلاص کے ساتھ اسی پر چلتے رہیں۔ تو اس کے لیے لازمی شرط اعتصام باللہ ہے یعنی اللہ کے ساتھ ایک ایسا مضبوط تعلق جو کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔ اس کے بعد اعتصام باللہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اعتصام باللہ سے مراد اعتصام بحبل اللہ ہے یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور مزید تسہیل کرتے ہوئے فرمایا کہ حبل اللہ سے مراد قرآن کریم ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں شریعت کے بنیادی اصول، آئینِ اسلامی کی بنیادی دفعات اور حکمت شریعت کی ہدایات لیکن انسانی زندگی کی خصوصیات کا ذکر اجمال کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ایک بات کی وضاحت ایک ایک ابہام کی شرح اور ایک ایک اجمال کی تفصیل اور ایک ایک قانون کا انطباق اور قانون کی اجتماعی مصلحتوں کو بروئے کار لانے کے بنیادی ذرائع، یہ وہ تمام حقائق ہیں جنھیں آنحضرت ﷺ پر چھوڑا گیا ہے چناچہ یہی وہ حقائق ہیں جن کے مجموعے کو ہم حدیث اور سنت رسول سے تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن اور سنت کا باہمی رشتہ لازم و ملزوم سے بھی کچھ بڑھ کر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہ حبل اللہ سے مراد صرف قرآن کریم نہیں بلکہ قرآن و سنت ہے۔ اعتصام باللہ سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لو۔ لیکن آیت کریمہ میں جمیعًاکا لفظ بھی موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یوں تو قرآن و سنت سے وابستگی اور اس کا اتباع ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت پر ضروری ہے۔ لیکن وہ چیز جو امت اسلامیہ کی بقا کے لیے ضروری ہے اور جس کی وجہ سے امت مسلمہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ہوجاتی ہے وہ قرآن و سنت سے انفرادی وابستگی نہیں بلکہ اجتماعی وابستگی ہے کیونکہ انفرادی وابستگی کی حدود گھروں تک محدود رہتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے بندے اور خدا کے درمیان پرائیویٹ تعلق کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ اسلام اس تصور پر ہی لعنت بھیجتا ہے۔ جس طرح ایک ایک فرد قرآن و سنت کی اتباع کے ساتھ منسلک ہے اسی طرح امت مسلمہ کے تمام ادارے بھی قرآن و سنت کے اتباع کے پابند ہیں۔ جس طرح گھروں میں قرآن و سنت کا اتباع ہونا چاہیے اسی طرح گھروں سے باہر معاشرتی زندگی میں، معاشی زندگی میں، سیاسی طور اطوار میں، عدالتوں کے چیمبرز میں، حکومت کے ایوانوں میں اور پارلیمنٹ کے ہائوسز میں بھی قرآن و سنت ہی کی حاکمیت نظر آنی چاہیے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے نتیجے میں امت ایک اکائی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر جس طرح قرآن و سنت ایک فرد کی فکر اور عمل بن جاتا ہے اسی طرح پوری ریاست کی ایک ایک قابل ذکر جگہ قرآن و سنت کی روشنی سے درخشاں دکھائی دیتی ہے۔ جس طرح ایک مزدور اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی پابندی محسوس کرتا ہے اسی طرح فوجوں کا کمانڈر اور ملک کا حکمران بھی ان احکام میں جکڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پوری امت کی نہج اور منزل ایک ہوجاتی ہے۔ امت کا ایک ایک ادارہ ایک ہی سوچ کے تحت پروان چڑھتا ہے اور ایک ہی جذبہ عمل سے جلا پاتا ہے۔ ایسی امت دھرتی پر جس طرح اللہ کی رحمت ہوتی ہے اسی طرح شیطانی قوتوں کے لیے ناقابلِ مزاحمت طوفان ہوتی ہے۔ اس میں کمزوری کے آثار اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس کی فکری راہنمائی میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ امت کی اجتماعی زندگی ایک دوسرے سے بیگانہ ہونے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ قوم مختلف فرقوں میں بٹ جاتی ہے۔ اسی خطرے کی آگاہی کے لیے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے حکم دیا گیا کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو آپس میں فرقوں کی صورت میں منتشر اور پراگندہ ہوگئے۔ وہ لکڑیوں کے گٹھے کی طرح ایک دوسرے سے بندھے ہونے کے باعث مضبوطی کی علامت تھے۔ لیکن جب ان کی گرہ کھل گئی اور وہ انتشار کا شکار ہوگئے تو ان کی مضبوطی کا راز ان سے الگ ہوگیا۔ اب وہ کمزور لکڑیوں کی شکل میں ناقابلِ ذکر ہو کر رہ گئے۔ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ وہ قوم جس نے کبھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر پیغمبر اور پرہیبت حکمران پیدا کیا، لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ملک تقسیم ہوگیا، حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور پھر یہ انتشار ایسا بڑھا کہ دوبارہ ان کو یکجا ہونے کا کہیں موقع نہ ملا۔ تفرقہ اور اختلاف آیتِ کریمہ میں تَفَرَّقُوْا اور اخْتَلَفُوْادو لفظ ذکر فرمائے گئے ہیں۔ حقیقت تو اللہ جانتا ہے لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو الگ الگ باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ منصوص احکام میں الگ الگ راستے نکالنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ انسانوں کا وہ گروہ جس کی راہنمائی کے سرچشمے متحد ہوں وہ ایک جماعت یا ایک فرقہ کہلاتا ہے۔ اب اگر اسی جماعت میں راہنمائی کے سرچشمے ایک سے زیادہ ہوجائیں اور قانون کے مآخذ مختلف ہوجائیں تو یہیں سے تفرقے کو راہ ملتی ہے۔ جب تک امت میں اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ ادلہ شرعیہ چار ہیں : قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔ ان میں بھی اصل الاصول قرآن و سنت ہیں تو پھر امت کے فرقوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کسی اجمال کی تفصیل اور کسی ابہام کی تشریح میں دو رائے ہوجائیں اور کہیں تعبیر کا اختلاف ہوجائے یا ایسے مسائل جن میں قرآن و سنت نے واضح احکام نہیں دیئے البتہ اس کے نظائر کی موجودگی میں اجتہاد اور استنباط کیا جاسکتا ہے تو ایسے مسائل میں آراء کا مختلف ہوجانا چنداں بعید نہیں۔ اگر نیت میں فساد شامل نہ ہو اور اللہ سے ڈر کر ان تمام معاملات میں فیصلے کیے جائیں تو اختلاف کے ہوتے ہوئے بھی اتفاق کے فوائد باقی رہتے ہیں اور یہی وہ اختلاف ہے جسے فروعی اختلاف کہا جاتا ہے اور جسے برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ایسے ہی امور ہیں جن میں فقہ کے آئمہ اور مجتہدین نے آپس میں اختلاف کیا، لیکن کبھی کسی نے ایسے اختلاف پر دوسرے کی نہ تکفیر کی نہ تنکیر۔ ہر مجتہد نے اپنی رائے کو یہ کہہ کر پیش کیا کہ میرے نزدیک یہ صحیح ہے لیکن اس میں خطا کا احتمال ہے اور دوسرے مجتہد کی رائے میرے نزدیک غلط ہے لیکن محتمل الصواب ہے۔ ایسا منصفانہ طرز عمل جس کے پیچھے اللہ کا تقویٰ ہو کبھی امت کے لیے موجب ہلاکت نہیں ہوسکتا۔ اور ایسے اصحابِ علم ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں۔ یہی وہ عظیم لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت علامہ سید انور شاہ صاحب نے اس رائے کا اظہار فرمایا کہ مجتہدین کرام اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں، ان کے آپس کے اختلافی مسائل کے بارے میں حتمی صداقت و اصابت کا علم کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک مجتہد جب کسی جدید مسئلے میں اسلامی حکم جاننے کے لیے کوشش کرتا ہے تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی کہ یا وہ نقطہ صواب کو پالے گا اور یا نہیں پا سکے گا لیکن اجر وثواب کا مستحق دونوں صورتوں میں ہوگا۔ پہلی صورت میں دو گونہ ثواب ملے گا دوسری صورت میں یک گونہ اور یہ راز تو قیامت کے دن بھی نہیں کھلے گا کہ نقطہ صواب کس کے ساتھ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں میں سے کسی کو بھی شرمندہ نہیں ہونے دیں گے۔ البتہ ایک اختلاف نیت کا اختلاف ہے۔ نیت کے اختلاف سے مراد یہ ہے کہ آدمی شریعت کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتا ہے، لیکن کھلم کھلا قرآن و سنت کے احکام سے انکار کی جرأت نہیں ہوتی، اس لیے وہ مختلف احکام کا استخفاف کرتا ہے اور یہ تأثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ احکام اللہ اور اس کے رسول کے نہیں بلکہ مولویوں نے اپنی طرف سے بنا لیے ہیں۔ عوام کالانعام ہوتے ہیں انھیں یہ بات کون سمجھائے کہ ایسا شخص اسلام کو مان کر بھی نہیں مانتا بلکہ وہ اسلام کی تضحیک کرتا ہے۔ جہاد کا انکار ممکن نہیں، تو جہادِ اکبر کی ایک پچ ساتھ لگا لیتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی وہ سنتیں جن پر لوگوں کا عمل کم کم دکھائی دیتا ہے اس کا مذاق اڑا کر دین کی اہمیت میں کمی کا راستہ کھول دیتا ہے۔ اسلامی اقدار کو غیر معتبر ٹھہرانے کے لیے الفاظ کے طوطے مینا اڑاتا ہے۔ یہ وہ اختلاف ہے جو کبھی الحاد سے جنم لیتا ہے اور کبھی اباحیت سے۔ اس کا جواز پیدا کرنے کے لیے کبھی انتہا پسندی کو گالی دی جاتی ہے اور کبھی بنیاد پرستی کو برابھلا کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اختلافات کی یہ نوعیتیں ہیں جس نے پیراہنِ اسلام کو داغ داغ کردیا ہے۔ جس فرقہ بندی کو اٹھتے بیٹھتے گالی دی جاتی ہے اس کا وجود مسلمانوں میں زیادہ نہیں اور جہاں کہیں وہ نظر آتا ہے اس کے پیچھے بھی حکمرانوں کی مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں اور یا اس کا سبب جہالت ہوتا ہے۔ اگر حکمران اس کے علاج کے لیے مخلص ہوں تو دینی احکام کی تعلیم کی طرف توجہ دے کر اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں دونوں طرح کے اختلافات سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ جو قومیں اس کا شکار ہوئی ہیں وہ دنیا میں بھی نا مرادی کے عذاب کا شکار ہوئیں اور آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لیے روسیاہی رکھی ہے کیونکہ قیامت کا دن عجیب دن ہوگا۔ ایک طرف خنداں وفرحاں مسکراتے اور روشن چہرے ہوں گے جو اس طرح چمکتے ہوں گے جیسے سورج چمکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق (وضو کا پانی جن جن اعضاء کو دھوتا ہے وہی قیامت کے دن سورج کی طرح چمکیں گے) اور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر دنیا بھر کی نحوستوں کا سایہ ہوگا تارکول سے بھی زیادہ سیاہ ہوں گے۔ چہروں پر لعنت برس رہی ہوگی، وہ اپنی رو سیاہی کے باعث دور سے پہچانے جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے دین کے روشن چہرے پر سیاہیاں ملنے کی کوشش کی ہوگی۔ انھیں جہنم کی سزا سناتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ اللہ نے تمہیں ایمان کی دولت بخشی تھی، لیکن تم نے ایمان کو کفر سے بدل دیا۔ روشنی کی بجائے تم اندھیروں کے سوداگر بن گئے۔ انسانیت کو تم نے تاریکیوں میں ڈبو دینا چاہا۔ اس کا خمیازہ یہ ہے کہ اپنے کفر کی پاداش میں جہنم کا عذاب چکھو اور جن کے چہرے ایمان کے نور سے روشن ہوں گے ان سے فرمایا جائے گا کہ تم نے دنیا میں قدم قدم پر تاریکیوں کا مقابلہ کیا۔ ان بدبختوں نے ہر ممکن طریقے سے تمہیں پریشان کرنے کی کوشش کی۔ آج تمہیں یکسو ہوجانا چاہیے۔ اب تمہارے لیے پریشانی کا کوئی موقع نہیں۔ اب تمہارے سروں پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہوگا اور تم ہمیشہ اس میں نہال رہو گے۔ “