Ayahs 3:193–194رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّـکُمْ فَاٰ مَنَّا صلے ق رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰ تِنَا وَتَوَفَّـنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ ج رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَاوَعَدْتَّـنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اِنَّـکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۔
(اے ہمارے رب ! ہم نے سنا ایک پکارنے والے کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے کہ ایمان لائو اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمیں موت دے اپنے وفادار بندوں کے ساتھ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں عطا کر وہ سب کچھ جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو، بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا) (193 تا 194)
اربابِ دانش کی دعائیں
اولوالالباب یعنی عقل مند لوگ جن کے عقلمند ہونے کا اللہ کے ہاں اعتراف ہے۔ وہ مخلوقات کو دیکھ کر خالق تک پہنچتے ہیں۔ پھر اس کائنات کی تخلیق میں غور وفکر اور تفکر کا عمل جاری رکھتے ہیں تو بالآخر ان کی فراست پر یہ نکتہ فاش ہوتا ہے کہ اللہ نے کسی چیز کو بےمقصد پیدا نہیں فرمایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان جو کائنات کا گل سرسبد ہے اس کا کوئی مقصد حیات نہ ہو ؟ اس طرح وہ مقصد حیات تک پہنچنے کے بعد اللہ کے سامنے اپنی عاجزی کا اثاثہ لے کر حاضر ہوتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچانا کیونکہ مقصد حیات عطا ہونے کے بعد یہ ناممکن ہے کہ اس مقصد سے متعلق باز پرس کے لیے کوئی دن نہ آئے۔ یقینا ایک دن ایسا آنے والا ہے جسے آخرت یا قیامت کہا جاتا ہے۔ اس میں اگر مقصد حیات کی تعمیل اور تکمیل میں کو تاہیاں رہ گئیں تو اندیشہ ہے کہ جہنم کے عذاب سے واسطہ پڑے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ تو وہ رسوائی ہے جس سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آدمی اللہ کے دامن میں پناہ لے لے رسول کی پکار کو سمجھے اور آگے بڑھ کر اسے قبول کرلے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ان عقلمندوں کا یہ اعزاز ذکر کیا جارہا ہے کہ چونکہ وہ قلب منیر، عقلِ سلیم اور روشن دماغ کے لوگ ہیں اس لیے جیسے ہی انھوں نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ جو ایمان کے لیے پکار رہا ہے اور ترغیب دے رہا ہے کہ لوگو اپنے رب کو مانو اس پر ایمان لائو اور اس کی تصدیق کرو۔ چناچہ عقلمند لوگ اپنی عقل رسا کے باعث اور اللہ کی توفیق سے اس پکارنے والے کی پکار کی طرف بڑھے اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے حالانکہ انھوں نے نہ تو پیغمبر سے کوئی معجزہ طلب کیا نہ دلیل مانگی، انھوں نے جب دیکھا کہ یہ پکار ہمارے تفکر کے نتیجے کے عین مطابق ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ پکار ہمارے اندر سے اٹھ رہی ہے اور پھر مزید یہ کہ پکارنے والے کی دلآویز شخصیت جس پر معصومیتیں قربان ہورہی ہیں، جس کی دلآویزی دلوں کو کھینچ رہی ہے، جس کا مستحکم لہجہ اللہ کی آواز معلوم ہوتا ہے، جس کا اپنی دعوت سے گہرا تعلق، گہرا انہماک اور دعوت کے لیے ہر طرح کا ایثار خود بول رہا ہے کہ میں ایک سچائی ہوں جو دنیا کے سب سے بڑے سچے انسان کی زبان پر آگئی ہے۔ چناچہ عقلمندوں نے اس سچائی کو قبول کیا اور حالات کی نامساعدت کے باوجود نہایت جرأت سے اس کا اعلان بھی کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اب تک جو زندگی گزاری ہے اس میں نہ تو مقصد حیات کا شعور تھا نہ اس کے مطابق زندگی گزارنے کی تڑپ، ایک بہیمانہ زندگی تھی جو زندگی کی ضروریات کے لیے شب وروز کی مساعی میں گم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس میں نہ جانے کیسے کیسے جرائم کیے اور کیسی کیسی قبیح حرکتیں عادتیں بنتی چلی گئیں۔ اب اللہ نے ایمان کی دولت دی ہے تو ان بری عادتوں اور قبیح ماضی کا کیا علاج ہوگا۔ اس لیے سب سے پہلے اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کا تصور کرکے اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ اب تک جو کچھ بیخبر ی یا جہالت سے ہوتا رہا ہے اسے معاف فرمادے۔ قیامت کے دن اس کی باز پرس نہ کرنا۔ جس طرح تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والا شخص اپنی ٹامک ٹوئیوں میں معذور سمجھا جاتا ہے اسی طرح ہماری گذشتہ زندگی بھی تاریکی میں گزری اور اس میں ہم نے قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں۔ اس لیے ہمیں معذور سمجھ کر ان گناہوں کو معاف کردیا جائے اور دوسری دعا یہ فرمائی کہ یا اللہ ! ہمارے گناہوں کو معاف بھی فرمالیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی التجا ہے کہ برے دنوں میں جو بری عادتیں ہماری طبیعت کا حصہ بن گئی ہیں اور جن کمزوریوں کے ہم خوگر ہو کر رہ گئے ہیں ان میں ایک ایک برائی اور ایک ایک کمزوری کو ہم سے دور فرمادے تاکہ ہم آزاد ہو کر نئی زندگی کی بنیاد اٹھاسکیں۔ تیسری دعا یہ فرمائی کہ ہمارا مرنا ابرار کے ساتھ فرما۔ جس طرح ہم زندگی نیک لوگوں میں گزارنا چاہتے ہیں اسی طرح ہماری آخرت کا سفر بھی ابرار کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ابرار کا مفہوم
ابرار، بار کی جمع ہے۔ بر،” وفاداری بشرط استواری، حقوق و فرائض کی بتمام و کمال ادائیگی اور ہرحال میں موت تک حق پر استقامت اور ثابت قدمی “ کو کہتے ہیں۔ ایمان تو صرف حق کو قبول کرلینے کا نام ہے۔ لیکن پوری زندگی اس حق پر گزارنا حق کے لیے اپنا وقت صرف کرنا اور مال دینا اور ضرورت پڑے تو اپنی جان اس پر قربان کردینا یہ ” بر “ ہے اور ایسا کرنے والے کو ” بار “ کہا جاتا ہے ” ابرار “ اس کی جمع ہے۔ عقلمند لوگ اپنے اللہ سے آرزو کرتے ہیں کہ ہمیں ایسی توفیق عطا فرما جس سے ہماری پوری زندگی اسلام کی تصویر بن جائے اور ہماری زندگی میں کبھی وہ وقت نہ آئے جب ہم حق سے روگرداں ہوں۔ ہمیں موت آئے تو مسلمان ہونے کی حالت میں آئے اور اللہ کے وفادار بندوں کے ساتھ آئے کیونکہ حق پر ثابت قدمی اور استقامت ہی اللہ کے یہاں قابل اعتبار اور فضل وانعام کے لائق ہے۔ زندگی بھر کی نیکیاں بھی آخری لمحوں کی بےوفائی سے بھسم ہوجاتی ہیں کیونکہ استقامت کے بغیر کوئی سا عمل بھی قابل لحاظ نہیں ٹھہرتا اور اگر اس میں استقامت ہو تو غالب کے نزدیک تو وہ کفر بھی اس قابل ہے کہ اس کی قدر کی جائے۔ غالب نے اپنے ایک شعر میں اگرچہ شوخی کا اظہار کرتے ہوئے کسی حد تک حدود شریعت کو پامال کیا ہے لیکن اس کے شعر کی اصل روح وہی ہے جس کا میں ذکر کررہا ہوں۔ وہ کہتا ہے ؎
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
شاعر یہاں برہمن کو استقامت پرداد دے رہا ہے کہ اس کی استقامت تو ایسی ہے کہ جو کعبے میں گاڑنے کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ استقامت کفر پر ہے اسلام پر نہیں۔ لیکن استقامت بجائے خود قابل تعریف ہے۔
چوتھی دعا ان عقلمندوں نے یہ کی کہ الٰہی ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صاحب ایمان اور صاحب عمل لوگوں کے لیے تو نے جو کچھ عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے اس میں ایک ایک بات پوری ہوگی۔ لیکن ہمیں اندیشہ اپنی ذات سے ہے کہ ہم اپنے آپ کو ان انعامات کا مستحق ثابت کرسکیں گے یا نہیں۔ اس لیے التجا یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے نیک بندوں کے لیے اپنے رسولوں کے واسطے سے عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اسے ضرور عطا فرمائیے۔ ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرمائیے، ہماری فروگزاشتوں کو رحمت سے دھو ڈالیے کیونکہ اگر آپ نے ہم نالائقوں کی نالائقی دیکھ کر اپنے وعدوں کا ایفا روک لیا تو یہ ہمارے لیے ایک ایسی رسوائی ہوگی جس کے دور ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ مشرکین اور منافقین ہم پر ہنسیں گے کہ انھوں نے دنیا کی ہر نعمت سے محض اس لیے منہ پھیرلیا تھا کیونکہ انھیں آخرت میں بیش بہا نعمتوں کے ملنے کا یقین تھا اور اگر قیامت میں وہ نعمتیں نہ ملیں یا دنیا میں وہ وعدے پورے نہ ہوئے تو دشمنانِ دین ہمارا مذاق اڑائیں گے۔ ہم پر پھبتی کسیں گے کہ یہ لوگ دنیا میں بھی بےسہارا اور محرومی کی زندگی گزارتے رہے اور آج آخرت میں بھی ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
Ayah 3:195فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ اَنِّی لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْاُنْثٰی ج بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ ج فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَقٰـتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰ تِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُج ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ۔
(پس ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے سے ہو سوجنھوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ہماری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے میں ان سے ان کے گناہ دور کروں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ اللہ کے پاس سے ان کا بدلہ ہوگا اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے) (195)
قبولیتِ دعا
ان عقلمندوں کے نصیب کا کیا کہنا کہ ادھرانھوں نے اپنے رب سے دعائیں مانگیں ادھر درِ اجابت کھل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ انھوں نے جس طرح عاجزی اور بےچینی سے اپنے رب کو پکارا ان کے رب نے ان کو پذیرائی بخشتے ہوئے ان کی دعائیں قبول کرلیں۔ پروردگار فرماتے ہیں ” اب تمہیں مطمئن رہنا چاہیے میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، یہ اندیشہ دلوں سے نکال دو کہ تمہاری فروگزاشتیں تمہارے اعمالِ صالحہ کو لے بیٹھیں گی۔ میں تمہاری غلطیوں سے درگزر کروں گا اور تمہارے ہر مخلصانہ عمل کو ضائع ہونے سے بچائوں گا “۔ ضائع ہونے سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دانہ گندم ضائع ہونے سے بچ جائے تو وہ پھوٹتا اور برگ وبار لاتا ہے۔ جو گٹھلی سڑنے سے محفوظ رہے اس سے ایک سوئی پھوٹتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک بلندو بالا درخت کی صورت اختیار کرتی ہے اور یہ درخت کبھی سایہ دیتا ہے اور کبھی پھل عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ان مسلمان عقلمندوں کے اعمال جب ضائع ہونے سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا تو پھر اپنی رحمت کے سائے میں انھیں پھلنے پھولنے کا موقع دے گا۔ دنیا میں ان کے اعمال غلبہ دین کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے اور آخرت میں جنت کے محلات کی صورت اختیار کرجائیں گے۔
اعمال کی میزان میں عورت اور مرد دونوں برابر ہیں
مزید فرمایا کہ اس میں مرد اور عورت کی تخصیص نہیں جس طرح مردوں کے اعمال اپنے روحانی ثمرات حاصل کریں گے اسی طرح عورتوں کے اعمال بھی اپنے طبعی منطقی اور روحانی نتائج کو پہنچیں گے۔ اس کے بعد اس کی دلیل بیان فرمائی : بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ ” تم ایک دوسرے سے ہو “ یعنی عورتوں اور مردوں میں فرق کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں ایک ہی جنس سے اور ایک ہی آدم وحوا کی اولاد ہیں۔ دونوں کا دین ایک ہے، دونوں کا خدا ایک، دونوں کا نبی ایک اور دونوں کی کتاب ایک۔ تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ اجر وثواب کے حوالے سے مرد کو عورت پر ترجیح حاصل ہو۔ یہ وہ رعد آسا اعلان ہے کہ جسے دنیا نے پہلی بار سنا ورنہ اس سے پہلے مرد و عورت کی برابری کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ کوئی مذہب عورت کو جائز حقوق دینے کے لیے تیار نہ تھا، کسی سماج نے عورت کو انسانی احترام دینے کے لیے بھی آمادگی ظاہر نہ کی تھی۔ بعض معاشرے تو ایسے تھے جس میں عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ایسی دنیا میں اجر وثواب میں عورت کی مرد کے ساتھ برابری کا اعلان ایک ایسی بات تھی جس کی جسارت صرف اللہ کی کتاب ہی کرسکتی تھی اور جس کا اعلان صرف اللہ کے نبی کی زبان ہی سے ہوسکتا تھا۔
فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا … الخ سے ان حالات کی طرف اشارہ ہے جن حالات میں اللہ کے یہ عظیم بندے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں اور غلام بھی جرأت و استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کررہے تھے۔ ایک مدت تک اذیتیں برداشت کرنے کے بعد ہجرت کی صعوبتیں اٹھائیں، گھروں سے نکالے گئے اور اللہ کے راستے میں ہر ممکن ایذائیں پہنچائی گئیں۔ جہاد و قتال کی نوبت آئی تو آگے بڑھ کر حق شجاعت ادا کیا، لڑے بھی اور شہید بھی ہوئے۔ ایسے لوگ تو اس قابل ہیں کہ انھیں ان کی قربانیوں کا بیش از بیش صلہ ملے۔ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں عورتیں اور غلام اذیت کا زیادہ نشانہ بنائے گئے، معاشرے میں جس کو کمزور دیکھا گیا اس کے لیے ظلم برہنہ ہوگیا۔ اذیتوں کے دانتوں کی تیزی بڑھ گئی۔ آج بھی اگر ان کے حالات پڑھیں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ ان کمزور لوگوں کے لیے بطور خاص یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا عمل ضائع نہیں کرے گا ہر ایک کو اجروثواب سے نوازے گا۔ مرد بھی نوازے جائیں گے اور عورتیں بھی۔ آزادوں کو بھی مالا مال کیا جائے گا اور غلاموں کو بھی۔ اللہ کی رحمت کے استحقاق میں یہ سب لوگ برابر ہیں، کسی کو کسی پر کوئی ترجیح حاصل نہیں۔
” ثواب “ عمل کا رد عمل
آیت کے آخری ٹکڑے میں اللہ نے اپنے عاجز بندوں کا مرتبہ اور مقام بڑھانے اور ان کے اعمال کی قدروقیمت میں اضافے کے لیے ارشاد فرمایا : ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ (یہ اللہ کی جانب سے ثواب ہے) ثواب ” عمل کے ثمرے اور نتیجے “ کو کہتے ہیں اچھے عمل کا نتیجہ اور ردعمل اچھا ہوتا ہے اور برے کا برا۔ بندوں کے اعمال کو دیکھتے ہوئے ان کے اجر وثواب کے حوالے سے کوئی بڑی بات کہنا آسان نہیں کیونکہ عمل کی پذیرائی کے لیے جس تقویٰ اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے اس میں باربار شگاف پڑتے اور الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے اعمال کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہی بجائے خود محل نظر ہے۔ کہاں اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ قدس اور کہاں معمولی انسان۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب قدر افزائی فرماتے ہیں تو ان کی عنایات کا کیا ٹھکانہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہیں اللہ کی جانب سے جو کچھ ملے گا وہ اس کی عطا ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارے اعمال کا رد عمل اور صلہ بھی ہے اور یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ اس نے تمہارے پتھروں کو ہیروں کی قیمت دی ہے اور اس کی سخاوت کے خزانوں میں اس بات کی کمی نہیں کہ وہ جتنا چاہے کسی کو عطاکردے کیونکہ حسن ثواب تو اسی کے پاس ہے۔
Ayahs 3:196–199لَایَغُرَّنَّـکَ تَقَـلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ قف ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلاً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ط وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ لِّـلْاَبْرَارِ ۔
(تجھے مغالطہ میں نہ ڈالیں ملک میں سرگرمیاں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا۔ یہ لطف اندوزی تھوڑی مدت کے لیے ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تو پہلی مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو ابدی نعمتیں اللہ کے پاس ہیں وہ بہت بہتر ہیں اس کے وفادار بندوں کے لیے) (196 تا 198)
ایک غلط فہمی کا ازالہ
لَایَغُرَّنَّـکَمیں ” ک “ ضمیر واحد کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خطاب ہر مسلمان کے لیے ہے۔ آیت کا مضمون بتارہا ہے کہ یہ آیت اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب مدینے میں خصوصاً اور جزیرہ عرب میں عموماً کفر کا پلڑا بھاری تھا۔ ملک کے تمام ذرائع کافروں کے قبضے میں تھے ہر شہر میں ان کی سرگرمیاں غالب حیثیت رکھتی تھیں۔ مسلمان ابھی تک کوئی بڑی طاقت بن نہیں سکے تھے۔ ایسی صورتحال میں کمزور مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال آئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اگر ہم حق پر ہیں اور کفر ناحق پر، تو پھر کفر کا پلڑا بھاری کیوں ہے ؟ ہر جگہ بات ان کی چلتی ہے، دولت کے منابع پر ان کا قبضہ ہے۔ وہ کسی وقت بھی مسلمانوں کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اللہ کے آخری نبی کی تشریف آوری کے بعد تیزی سے اس صورتحال کو بدلنا چاہیے لیکن اس میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس آیت کریمہ میں اس غلط فہمی کو دور فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جو کفار کی چلت پھرت، دوڑ بھاگ اور کاروبار کی فراوانی نظر آتی ہے یہ چند روزہ زندگی کا محدود سامان اور محدود لطف اندوزی کا ذریعہ ہے۔ ان کی بنیادیں اکھڑ چکی ہیں، ان کی فکر صلابت سے محروم ہے، ان کے اعمال نیکی اور خیر سے خالی ہیں۔ ان کے پاس کوئی مقصد حیات نہیں، خواہشات کی دنیا میں جیتے اور مرتے ہیں۔ وہ اس دنیا کو صرف لطف اندوزی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کی قوت اگرچہ کم ہے لیکن اس قوت میں ایک ارتقاء ہے، یہ ایک صالح بیج کی طرح آہستہ آہستہ برگ وبار لا رہا ہے۔ یہ جیسے جیسے بڑھے گا ویسے ویسے معاشرے کے لیے سکون و اطمینان کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے برعکس کفر کا انجام یہاں ناکامی اور رسوائی ہے اور آخرت میں جہنم ان کا ٹھکانہ ہے۔
ایک دوسرے پہلو سے اس آیت کریمہ کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے تسلی بھی ہے اور آنے والے دنوں کی پیشگوئی بھی کہ تمہیں بظاہر کفر کی سرگرمیاں اور دوڑ بھاگ ان کی قوت اور طاقت کا اظہار معلوم ہوتی ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے وہ اس قوت سے بالکل محروم ہوچکے ہیں جو قوت کچھ کر گزرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ مصنوعی اور تصنع ہے۔ ان کا وہی حال ہے جو اقبال نے تہذیبِ مغرب کے بارے میں کہا :
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
کفر ایک ایسی دیوار کی مانند ہے جو ہل چکی ہے اور گرنا جس کا مقدر ہوچکا ہے۔ اس کے برعکس مسلمان صحیح نظریات اور صالح عمل کی وجہ سے ایک ابلتی ہوئی قوت ہیں۔ ان کی سرفروشیاں اور ان کی مخلصانہ جدوجہد بہت جلد صالح نتائج پیدا کریں گی۔
جہاں تک آخرت کا تعلق ہے یہاں اگرچہ مسلمان تنگ دستی سے دن گزار رہے ہیں لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ باغات مہیا فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ اہل جنت ہمیشہ اس میں رہیں گے انھیں یہ کھٹکا نہیں ہوگا کہ ہمیں کبھی یہاں سے نکلنا بھی ہوگا۔ یہ اتنا بڑا انعام اللہ کی طرف سے ” نزل “ کے طور پر ہوگا۔ نزل عربی زبان میں اس ضیافت کو کہتے ہیں جو میزبان مہمان کے گھر پہنچتے ہی فوری مہمانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی جب مہمان آتے ہیں تو سب سے پہلے انھیں ٹھنڈے یا گرم کا پوچھا جاتا ہے یعنی کوئی مشروب پلایا جاتا ہے یا چائے پیش کی جاتی ہے اور ساتھ ہی میزبان یہ کہتا ہے کہ ابھی آپ اس سے دل بہلائیے کھانا تیار ہوتا ہے تو پھر کھانا کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنی بےکراں جنت اور ہمیشہ رہنے کی سند ابتدائی مہمانی کے طور پر پیش فرمائے گا۔ اس کے بعد مسلسل نعمتوں کی بارش ہوگی۔ ہر نئی نعمت گزشتہ نعمت کی یاد بھلادے گی۔ آئے دن ملنے والی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ کسی دل میں نہ ان کا خیال گزر سکتا ہے، نہ کسی کے مشاہدے میں آسکتی ہیں اور نہ بصارت ان کی متحمل ہوسکتی ہے۔ ان کا ہلکا سا تصور دینے کے لیے صرف یہ فرمایا : وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ لِّلـْاَبْرَارِ ابرار یعنی اللہ کی عبادت و اطاعت اور اس سے محبت میں زندگی کے آخری لمحے تک ثابت قدمی دکھانے والوں کے لیے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ اللہ کے پاس کیا ہے، ایک بندے کی مجال نہیں کہ وہ اس پر رائے دے سکے۔ جب پروردگار اسے سب سے بہتر قرار دے رہے ہیں تو انسان کے خیال میں پرواز کی وہ قوت کہاں جو اس کی بہتری کا اندازہ کرسکے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کیا کچھ عطا فرمائے گا۔
وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَـآ اُنْزِلَ اِلَیْـکُمْ وَمَـآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِلا لاَ یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًاط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(اور بیشک اہل کتاب میں سے ایسے بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر بھی جو تم پر اتاری گئی ہے اور ان پر اتاری گئی ہے اللہ سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کی آیتوں کا حقیر قیمت پر سودا نہیں کرتے یہی لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب چکانے والا ہے) (199)
اہلِ کتاب میں صاحب ایمان لوگوں کی تحسین
ہم نے دیکھا ہے کہ اس پوری سورة میں اہل کتاب کے افعال و اعمال پر شدید تنقید ہوئی ہے اور بعض جگہ تو شدید مذمت سے کام لیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا انداز چونکہ انتہائی منصفانہ ہے وہ گفتگو کے کسی مرحلے پر بھی تنقید کو عدل و انصاف کی حدود سے نکلنے نہیں دیتا۔ یہاں بھی ضروری سمجھا گیا ہے کہ عدل کے پلڑوں کو درست رکھنے کے لیے اگر مذمت ضروری ہے تو اس طبقے کی تعریف بھی ہونی چاہیے جو اسلام کی آغوش میں آیا اور اس نے اسلامی خدمات سرانجام دیں۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ کی بڑی تعداد غیر مسلم رہی لیکن ان میں ایک قابل ذکر تعداد مسلمان بھی ہوئی۔ خاص طور پر حضرت عبداللہ بن سلام ( رض) جیسے علماء کا اسلام قبول کرلینا مسلمانوں کے لیے بڑی قوت کا باعث بنا۔ یہاں اسی گروہ کی تحسین کی جارہی ہے۔ نئی بنیادوں پر اٹھنے والے اور نئی نظریاتی شکل اختیار کرنے والے معاشروں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ کسی گروہ کی ایک محدود اقلیت کسی دوسرے نظریاتی گروہ کا ساتھ دیتی ہے تو ادھر ادھر سے نگاہیں کبھی حیرانی سے اور کبھی شک کی نمائندہ بن کر ان کی نگرانی کرنے لگتی ہیں۔ انھیں اس بات کا مشکل سے یقین آتا ہے کہ یہ لوگ واقعی وفادار ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں خو دوہ لوگ اخلاص رکھتے ہوئے بھی اپنے انجام کے بارے میں یکسو نہیں ہوتے، اس لیے پروردگار نے یہ ضروری سمجھا کہ ان نئے آنے والوں کی تحسین کی جائے تاکہ ناقدانہ نگاہیں اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور یہ نئے آنے والے لوگ اپنے انجام کے بارے میں یکسو ہوسکیں۔ چناچہ اسی ضرورت کے تحت اس آیت کریمہ میں نہ صرف ان کی تحسین فرمائی بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی اور یہ کہہ کر ان کے اجر وثوب میں اضافے کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم جس طرح نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے ہو اسی طرح تم اپنے پہلے مذہب اور پہلی کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہو۔ ان دونوں میں کوئی بعد نہیں اور پھر ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا ایمان صرف زبانی ایمان نہیں بلکہ ان کے دل خشوع کی دولت سے مالا مال ہیں اور ان کے رویے میں حُبِ دنیا کے غلبے کی بجائے اسلام سے محبت غالب ہے۔ ساری قوم یہود حب دنیا کی اسیر ہو کر ہر اخلاقی قدر سے تہی دامن ہوگئی ہے۔ لیکن یہ ان میں سے نکلنے والا خالص سونا خزف ریزوں کو ہیرے سمجھنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ اللہ کی آیات کے بدلے میں پوری دنیا کو بھی لینے کے لیے تیار نہیں۔ چناچہ ان کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر اللہ کے پاس ہے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اس اجروثواب کے ملنے میں تاخیر ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سریع الحساب ہے۔ وہ تیزی سے حساب کرنے والا ہے وہ جس طرح سزا دینے کے لیے تیزی سے حساب کرتا ہے اسی طرح جزا دینے اور نوازنے کے لیے بھی تیزی سے حساب کرتا ہے۔ نہ کوئی اس کی سزا سے بچ سکتا ہے اور نہ کسی کو اس کے انعامات سے محرومی کا شکوہ ہوگا۔
Ayah 3:200یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْ وَرَابِطُوْا قف وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ع
(اے ایمان والو ! صبر کرو، ثابت قدم رہو، مقابلے کے لیے تیار رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) (200)
یہ اس سورة کی آخری آیت کریمہ ہے جس میں وہ تمام ہدایات دے دی گئی ہیں جو شریعت کے حقوق ادا کرنے اور جن حالات سے مسلمان گزر رہے تھے ان سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے ضروری تھیں۔ یہ چارہدایات ہیں۔ جن میں سے تین الگ الگ ہیں اور چوتھی کا ہر ایک سے تعلق ہے۔
پہلی ہدایت
پہلی ہدایت یہ ہے کہ اے مسلمانو ! صبر کرو۔ صبر کے لفطی معنی ” روکنے اور باندھنے “ کے ہیں۔ قرآن وسنت کی اصطلاح میں شریعت کے اتباع میں خلاف طبع چیزوں پر نفس کو جمائے رکھناصبر کہلاتا ہے۔ اس کی تین قسمیں ہیں۔
1 صبر علی الطاعات اللہ اور اس کے رسول نے جن احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور جس رویے کو اپنانے کی تاکید فرمائی ہے اور پسند اور ناپسند کے جو معیارات ٹھہرائے ہیں ان پر نفس کو جمائے رکھناصبر علی الطاعات ہے۔ نفس عام طور پر کسی پابندی کو قبول نہیں کرتا، خاص طور پر ایسی پابندی جس میں محنت اور مشقت کرنی پڑے وہ تو اسے بالکل گوارا نہیں۔ ایسے تمام معاملات میں نفس کو اس کی طبیعت کے خلاف چلانا اور اس کا پابند بنا نا صبر علی الطاعات کہلاتا ہے۔
2 صبر عن المعاصیجن چیزوں اور جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے، چاہے وہ نفس کو کیسی ہی مرغوب کیوں نہ ہوں ان سے نفس کو روکے رکھنا اور ان کے قریب نہ جانے دیناصبر عن المعاصی ہے۔
3 صبرعلی المصائب اللہ کے دین پر چلنا اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا ایک ایسا مشکل کام ہے جس میں قدم قدم پر دشواریاں پیش آتی ہیں۔ خواہشاتِ نفس سے تصادم ہوتا ہے، جھوٹی امنگوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، بعض دفعہ صحیح راستے پر استقامت کی وجہ سے اصحابِ اقتدار ناراض ہوجاتے ہیں یا معاشرہ بگڑ جاتا ہے یا عزیز و اقارب تک ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ شریعت کی پابندی میں جو سمٹ کر زندگی گزارنی پڑتی ہے، بیوی بچے بعض دفعہ اس کے خلاف سرتاپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ ایسے تمام احوال میں اللہ کی شریعت پر جمے رہنا اور ہر طرح کے مخالف حالات کا مقابلہ کرنا اور تکلیفیں آئیں تو انھیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور حق سے کبھی روگردانی نہ کرنا یہ صبر علی المصائب ہے۔
آیتِ کریمہ میں ان تمام قسموں کے صبر پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری ہدایت
دوسری چیز جو آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ وہ ہے ” مصابرت “ یہ لفظ صبر سے ماخوذ ہے۔ لیکن اس کا معنی صبر سے کچھ مختلف ہے۔ اس کے معنی ہیں ” دشمن کے مقابلے میں نہ صرف ثابت قدم رہنا بلکہ دشمن، دین دشمنی اور مسلم دشمنی میں جتنا ثابت قدم ہے اس سے زیادہ ثابت قدمی دکھانا اور اس وصف میں اس سے بازی لے جانے کی کوشش کرنا “۔ قرآن کریم نے بعض مواقع پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ تم جو راہ حق میں تکلیفیں اٹھاتے ہو تو یہ اگرچہ نہایت قابل تعریف بات ہے لیکن یہ بھی امرواقعہ ہے کہ تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ آج کی ایک ایک تکلیف قیامت کے دن اللہ کی جانب سے اجر وثواب کا ایک چمن بن جائے گی۔ جس میں جابجا تعریف وتحسین اور نعمت وانعام کے پھول کھلے ہوں گے۔ اس وقت مومن تمنا کرے گا کہ کاش ! میں نے اس سے زیادہ تکلیفیں اٹھائی ہوتیں حتی کہ میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی تاکہ آج میں اس کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ پاسکتا۔ اجر وثواب کی یہ امید ایک ایک مومن کو بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن کافر جنھیں دوسری دنیا کا یقین ہی نہیں وہ صرف اسی دنیا کی نعمتوں کے لیے لڑتے ہیں اور اسی دنیا کی بقا و قیام انھیں تکلیفیں اٹھانے پر اکساتا ہے۔ کتنی دفعہ وہ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں حالانکہ انھیں معلوم ہے کہ اس کا کوئی اجروثواب نہیں ملے گا کیونکہ انھیں تو مر کر فنا ہوجانا ہے۔ تو وہ اس ناامیدی میں بھی اگر اتنے دکھ اٹھاتے اور حوصلہ مندی کا ثبوت دیتے ہیں تو مسلمانوں کو تو ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مصابرت کا ثبوت دینا چاہیے کیونکہ
ترجون من اللہ مالا یرجون
(تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے)
مسلمانوں کو مصابرت کا حکم اس لیے بھی دیا جارہا تھا کہ اس وقت مسلمانوں اور کافروں میں مسلح کشمکش شروع ہوچکی تھی۔ کفر اپنی پوری قوت میدان میں جھونک چکا تھا۔ جزیرہ عرب کی مسلمان دشمن قوتیں ایک اتحاد بنا چکی تھیں وہ ہر قیمت پر اس نوزائیدہ قوت کو فنا کردینا چاہتی تھیں۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تمہارے وسائل تو ان کے وسائل کا مقابلہ نہیں کرسکتے، البتہ ! وہ چیز جو جنگ میں فیصلہ کن ہوتی ہے اور جس سے تم کفر کو شکست دے سکتے ہو وہ تمہارے کردار کی پختگی استقلال اور ثابت قدمی ہے۔ بڑی بڑی جماعتیں وسائلِ جنگ سے مالامال لیکن اس اخلاقی قوت سے محروم ہونے کی وجہ سے تاریخ میں عبرت کا نشان بن گئیں۔ تمہیں پامردی اور استقلال سے ان پر ثابت کرنا ہے کہ تم اخلاقی توانائی اور استقلال میں ان سے ہر لحاظ سے بہتر ہو۔ اس کا نتیجہ انشاء اللہ یہ ہوگا کہ اثر قبول کرنے والی طبیعتیں تمہاری طرف مائل ہوں گی اور ہٹ دھرم قوتیں میدان سے پسپا ہوجائیں گی یا شکست وریخت کا شکار ہوجائیں گی (چنانچہ ایسا ہی ہوا ) ۔
تیسری ہدایت
تیسری چیز جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے وہ ” مرابطہ “ ہے۔ مرابطہ کا لفظ ” ربط الخیل “ سے بنا ہے۔ اس کے اصلی معنی ” باندھنے “ کے ہیں۔ اسی وجہ سے رباط اور مرابطہ کے معنی ” گھوڑے باندھنے اور جنگ کی تیاری “ کے لیے جاتے ہیں یعنی دشمن کے مقابلے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جنگی گھوڑے تیار رکھنا اور آج کی زبان میں ہر طرح کے جدید ہتھیار فراہم کرنا مرابطہ کے مفہوم میں شامل ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جنگ کی سب سے بڑی ضرورت چونکہ جنگی گھوڑے تھے اس لیے یہاں گھوڑے باندھنے کا ذکر فرمایا گیا ہے اور آج کے دور کے جنگی گھوڑے چونکہ ٹینک، جنگی طیارے، راکٹ اور ایٹم بم ہیں اس لیے اب ہر طرح کی مادی تیاری، اخلاقی اور روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ جس کی جنگ میں ضرورت پیش آسکتی ہے، امت مسلمہ اور اس کے حکمرانوں کی شرعی ذمہ داری ہے۔ جس طرح نماز کی فرضیت کے لیے اقیموا الصلٰوۃ صیغہ امر استعمال ہوا ہے، اسی طرح دشمن کے مقابلے کے لیے ہر طرح کی تیاری اور طاقت کی فراہمی کے لیے بھی ” اعدوا “ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اس لیے عالم اسلام میں ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ممکن ذرائع سے کام لے کر اپنے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دے۔ نبی کریم ﷺ باوجود اس کے کہ اللہ کے آخری رسول تھے اور آپ کی نصرت و تائید کے لیے آسمان سے فرشتے اترتے تھے۔ آپ کی دعائیں مستجاب تھیں۔ باایں ہمہ ! آپ نے وسائلِ جنگ کے سلسلے میں ممکن تیاری میں کبھی کوتاہی نہیں فرمائی۔ جو ہتھیار میسر آسکتے آپ انھیں ضرور مہیا فرماتے جنگ کی تیاری کے لیے مسلمانوں سے تعاون کی اپیل فرماتے۔ جنگ حنین کے سلسلے میں ابن کثیر نے ” البدایہ والنھایہ “ میں لکھا ہے۔
دو صحابی صرف اس لیے جنگ حنین میں شامل نہ ہوسکے کیونکہ آپ نے انھیں شام کے مشہور صنعتی شہر ” حبرش “ میں بھیج رکھا تھا تاکہ وہ وہاں سے منجنیق، دبابہ اور ضبور کی صنعت سیکھ کر آئیں اور یہاں آکر وہ ہتھیار تیار کریں۔ دبابہ اور ضبورکو اس زمانے کے ٹینک سمجھنا چاہیے اور منجنیق تو مشہور ہتھیار ہے جو قلعوں کی دیوراریں توڑنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جنگ حنین میں خود آنحضرت ﷺ نے اپنے ہاتھ سے منجنیق تیار کی اور اس سے طائف کے قلعوں پر سنگ باری کی۔ مسلمان اپنی زندگی اور بیداری کے زمانے میں ہمیشہ اس ضرورت کے لیے فکر مند رہے اور صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی قوت بنے رہے۔ ایک طویل مدت تک سمندر پر صرف مسلمانوں کی حکومت تھی۔ ترکوں کے مقابلے میں کسی کو سمندر میں سراٹھانے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
مادی تیاری کے ساتھ ساتھ اسلامی جذبہ پیدا کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ نے سرحدوں کی حفاظت کے فضائل بیان فرمائے کیونکہ مرابطہ جس طرح جنگی تیاری کے لیے گھوڑے تیار رکھنے کا نام ہے اسی طرح سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی مستعد رہنے کا نام بھی ہے۔ اس لیے مختلف مواقع پر آنحضرت ﷺ نے اس کے فضائل بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ کے راستے میں ایک دن کا رباط تمام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے “ اور صحیح مسلم میں بروایت سلمان ( رض) مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ایک دن یا رات کا رباط ایک مہینہ کے مسلسل روزے اور تمام شب عبادت ق میں گزارنے سے بہتر ہے اور اگر وہ اسی حال میں مرگیا تو اس کے عمل رباط کا روزانہ ثواب ہمیشہ اس کے لیے جاری رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا رزق جاری رہے گا اور وہ شیطان سے مامون و محفوظ رہے گا۔
چوتھی ہدایت
چوتھی چیز جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ ” تقویٰ “ ہے۔ تقویٰ ” دل کی اس پاکیزگی، اخلاص، نیکی کی تڑپ، حقوق و فرائض کی پاسداری کا جذبہ اور ہر کام میں اللہ کی رضا کے حصول کے احساس “ کا نام ہے۔ سورة البقرۃ میں چونکہ اس پر تفصیل سے بات ہوچکی ہے اس لیے مزید کچھ کہنا ضروری معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ ! یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ تقویٰ دل و دماغ کی ایسی صفت ہے جو ایک مومن سے کبھی الگ نہیں ہوسکتی اور جس کے بغیر کوئی نیکی بھی بارآور نہیں ہوتی۔ اس لیے موقعہ صبر کا ہو، مصابرت کا ہو یا مرابطہ کا ہر صورت میں تقویٰ کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر اعمالِ خیر میں وہ پاکیزگی پیدا نہیں ہوتی جو اللہ کو مطلوب ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ یہ سورة مبارکہ اختتام کو پہنچی اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اس کے درس میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کی صحیح باتوں کو دل میں جگہ دے اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین