Ayahs 3:135–136وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ قف وَمَنْ یَّغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ قف ص وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَاالْاَنْہَارُخٰلِدِیْنَ فِیْہَا ط وَنِعْمَ اَجْرُالْعٰمِلِیْنَ ۔ ط
(اور (متقی) وہ لوگ ہیں کہ جب کسی کھلی برائی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم توڑتے ہیں تو اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشے اور یہ جانتے بوجھتے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ یہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور کیا ہی اچھا صلہ ہے عمل کرنے والوں کا) (135 تا 136)
انفاق کی راہ کی ایک اور مزاحمت
سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ جس طرح ساہوکارانہ ذہنیت ہے جس سے روپے کی ایسی تونس پیدا ہوجاتی ہے کہ ساون کے اندھے کی طرح اسے ہر طرف روپیہ ہی روپیہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسے آدمی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ درہم و دینار کی محبت میں ڈوب کر انفاق فی سبیل اللہ سے کام لے گا، بہت مشکل بات ہے۔ اس لیے انفاق کے سلسلے میں سب سے پہلے اس کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ یعنی سود کو ذکر فرمایا، اس پر تنبہیہ فرمائی، عذاب کی تہدیدسنائی تاکہ لوگ اس برائی سے بچ سکیں۔ اسی طرح انفاق کے راستے کی ایک دوسری بڑی رکاوٹ بدکاری اور عیاشی کی چاٹ لگ جانا ہے۔ جو شخص آوارگی اختیار کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ غلط صحبتیں اٹھاتا ہے تو وہ وقت دور نہیں رہتا جب وہ بےحیائی کا ارتکاب کرنے لگتا ہے اور پھر یہ بات مسلم ہے کہ بےحیائی تنہا نہیں آتی، اس کے ساتھ عیاشی بھی آتی ہے، چاریاری بھی آتی ہے، بدکاری تک بھی معاملہ پہنچتا ہے، پھر شراب وکباب کا دور چلتا ہے اور اسراف و تبذیر کا ایک ایک چلن زندہ ہو کر اس کے کردار کا لازمی عنصر بن جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص جب ان عوارض کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر اس کے گھر کا اجڑ جانا، بیوی سے لا تعلقی، بچوں کو نظر انداز کرنا، حتیٰ کہ فاقوں تک نوبت پہنچ جانا چند دنوں کی بات ہوتی ہے۔ اس لیے انفاق فی سبیل اللہ کے لیے جس طرح سودی ذہنیت کا خاتمہ ضروری ہے، اسی طرح بےحیائی کی ہر صورت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ بےحیائی یکلخت کبھی نہیں آتی۔ سب سے پہلے تفریح کے نام سے فاسقانہ جذبات کو غذا مہیا کی جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسے جذبات رکھنے والا ایک چلتا پھرتا حیوان بن جاتا ہے۔ جس سے آپ کسی خیر کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ وہ تفریح کے لیے مختلف فلسفے بگھارے گا۔ انسانی غموں کے علاج کے لیے اسے تریاق کے طور پر پیش کرے گا۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب ہر دیکھنے والے کو نظر آئے گا کہ یہ تو سفلی جذبات کی ایک فصل اٹھائی جا رہی تھی جس کے اب کٹنے کا وقت آگیا ہے۔ چناچہ اس کا راستہ روکنے کے لیے پروردگار نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور تقویٰ کے حاملین یعنی متقی لوگوں کی مختلف صفات بیان فرمائیں تاکہ یہ لوگ بداخلاقی کے عوارض سے محفوظ رہ سکیں۔
سب سے پہلے تو اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ انسانی معاشرے سے یہ توقع رکھنا کہ اس میں کبھی اخلاق سے گری ہوئی کوئی حرکت پیدا نہیں ہوسکتی یا کبھی بھی اس میں بےحیائی کو راستہ نہیں مل سکتا۔ یہ انسانی فطرت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ فرشتوں کو اللہ نے ایسا پیدا فرمایا ہے کہ وہ کبھی معصیت یا بےحیائی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ان کے اندر سرے سے یہ داعیہ رکھا ہی نہیں گیا۔ لیکن انسان جو ہر طرح کے احساسات کا حامل، جذبات سے متأثر ہونے والا، اچھی اور بری خواہشات کا پیکر اور سفلی جذبات کا اسیر کبھی کسی برائی کا ارتکاب نہ کرے یہ ناممکن ہے۔ صرف اللہ کے نبی ایسے ہوتے ہیں۔ اللہ جنھیں معصوم پیدا فرماتا ہے ان کی ہر برے ارادے اور برے عمل سے حفاظت فرماتا ہے۔ بعض ایسے خوش نصیب بھی ہوتے ہیں جنھیں محفوظ کہا جاتا ہے، لیکن عام انسانی مزاج گناہ، سرکشی اور معصیت سے ہمیشہ دور نہیں رہ سکتا۔ ایک حدیث قدسی ہے جس میں پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ
” اگر ایسا ہوتا کہ انسانوں میں سے کوئی انسان کبھی خطا نہ کرتا، اس سے کبھی گناہ کا صدور نہ ہوتا، ان میں سے ہر ایک کا دل محمد ﷺ کے دل جیسا ہوجاتا تو میں ایسے لوگوں کو مٹا دیتا اور اس مخلوق کو پیدا کرتا جو اللہ کی فرمانبرداری بھی کرتی اور معصیت کا ارتکاب بھی کرتی اور پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی۔ “
کیونکہ اللہ کو اگر صرف یہ مطلوب ہو تاکہ ایک ایسی مخلوق پیدا کرے جو کبھی گناہ نہ کرے تو وہ پہلے سے فرشتوں کی صورت میں موجود تھی۔ انسانوں کو تو اس لیے پیدا کیا اور ان میں خیر و شر کے جذبات رکھے اور ان کو خیر و شر کی پہچان کی تمیز بھی بخشی۔ پھر ان کو آزادی دے دی کہ وہ جس طرح چاہیں زندگی گزاریں۔ اب ان میں سے جو شخص بالکل گناہ کے قریب نہیں جائے گا وہ بھی بخشا جائے گا اور اسی طرح وہ لوگ جن سے کبھی نہ کبھی گناہ کا صدور ہوگا یا وہ کسی بےحیائی کا ارتکاب کر بیٹھیں گے اور پھر انھیں اللہ کی یاد آئے گی اور وہ ٹھٹھک کر رک جائیں گے اور ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں گے کہ ہمارے خالق ومالک نے تو ہمیں ایسے ہر گناہ سے روکا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ اس کی نگاہیں ہر وقت ہماری تعاقب میں رہیں گی۔ یہ جانتے ہوئے بھی ہم سے یہ گناہ سرزد کیوں ہوا ؟ چناچہ جیسے ہی اللہ کی یاد آئی، تنبہ ہوا تو پشیمانی اور پریشانی نے آپکڑا۔ اب آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، زبان سے التجائیں کی جا رہی ہیں، ہاتھ توبہ اور معافی کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں اور اللہ کی رحمت کو پکارا جا رہا ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے پروردگار دیکھنا چاہتا ہے۔ فرشتے بھی پہلے موجود تھے جو معصوم تھے۔ ابلیس بھی موجود تھا جس نے سرکشی کی اور پلٹنے کا راستہ بھول گیا۔ اللہ نے آدم اور اس کی ذریت کو اٹھایا کہ وہ غلطیوں سے بچیں اور اگر کبھی نسیان یا خواہشات کا شکار ہو کر غلطی کر بیٹھیں تو فوراً اللہ سے معافی مانگیں۔ یہی وہ معافی اور رونا دھونا ہے اور عاجزی اور سر افگندگی ہے جو اللہ کو محبوب ہے۔ ماہر القادری مرحوم نے ٹھیک کہا :
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے
انسان سے اصل مطلوب یہی ہے۔ ہم گھروں میں دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ وہ ہے جو کبھی شرارت نہیں کرتا، لدھڑ بنا سویا رہتا ہے، کوئی شوخی نہیں کرتا، برتن نہیں توڑتا، امی کو تنگ نہیں کرتا، تو وہ پیارا تو ضرور ہوتا ہے، لیکن زیادہ پیار نہیں لیتا۔ لیکن اس کی بہ نسبت دوسرا بچہ جو نہایت شوخ اور چنچل ہے، سارا دن شرارتیں کرتا ہے، برتن توڑتا ہے، امی کو تنگ کرتا ہے اور اس کی امی جب اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو اسی کی آغوش میں گھس کر پناہ گزیں ہوجاتا ہے۔ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیجئے یہی بچہ گھر کی رونق سمجھا جاتا ہے اور یہی ماں باپ کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ماں باپ سے زیادہ رحیم و کریم اور نوازنے والے ہیں۔ وہ جب اپنے بندے کو دیکھتے ہیں کہ اس نے گناہ کیا، سرکشی دکھائی، لیکن جیسے ہی اپنے رب کی یاد آئی تو ساری سرکشی نکل گئی۔ اب اس کی آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں، دل خون ہو رہا ہے کہ ہائیں ! میں یہ کیا کر بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وہ اس کی پیشانی کے قطروں کو بھی موتی بنا دیتی ہے۔ کیا بات کہی اقبال نے ؎
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
ایک پر لطف بات
اس آیت کریمہ میں اک اور بہت پر لطف بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کے بندے جب تنبہ ہونے اور خدا کی یاد آنے پر فوراً استغفار کی طرف لپکتے ہیں اور معافی پہ معافی مانگتے چلے جاتے ہیں۔ تو دیکھنے والا حیران ہوتا ہے کہ یہ لوگ آخر پلٹ پلٹ کر اللہ کے دروازے کی طرف ہی کیوں آتے ہیں ؟ اسی کے آستانے سے کیوں بار بار چمٹتے ہیں ؟ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا :
وَمَنْ یَّغْفِرُالذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ
(اللہ کے سوا اور گناہوں کو کون بخش سکتا ہے ؟ )
اگر کوئی اور دروازہ بھی ہوتا تو اس کے بندے اس کا طواف کرتے، اس سے لپٹتے اور دعائیں مانگتے۔ جب آستانہ ہی ایک ہے تو پھر اس کے بندے کسی اور طرف کیسے جاسکتے ہیں ؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کے حالات میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ انھوں نے غیب سے ایک آواز سنی کہ کسی کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ ” نکل جاؤ یہاں سے ہمیں تمہارا آنا منظور نہیں۔ “ شیخ نے جب یہ آواز بار بار سنی تو آپ نے اس شخص کو تلاش کرنا شروع کیا۔ چناچہ اس شخص کو پا لیا۔ اس سے پوچھا کہ بھائی یہ جو میں آواز سنتا ہوں آپ بھی سنتے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ بہت دنوں سے سن رہا ہوں۔ تو شیخ نے کہا پھر چلے کیوں نہیں جاتے۔ اس نے غور سے شیخ کو دیکھا اور حیران ہو کر کہنے لگا کہ بھلے آدمی ! تم مجھے بتائو۔ میں کہاں جاؤں ؟ اگر تو اس آستانے کے سوا کوئی اور آستانہ ہے تو مجھے اس کا پتہ دے دو ۔ میں وہاں چلا جاتا ہوں۔ جب اس آستانے کے سوا کوئی اور آستانہ ہی نہیں تو میں کہاں جاؤں ؟ مجھے تو اسی سے لپٹ کر جان دینی ہے۔ چاہے ہزار دفعہ نکلنے کا حکم دیاجائے۔ کسی نے کیا خوب کہا ؎
جفا سے ہٹو تم وفا سے ٹلوں میں
نہ یہ بات ہوگی نہ وہ بات ہوگی
قسم آستاں کی نہ اٹھیں گے ہر گز
یہیں دن چڑھے گا یہیں رات ہوگی
شیخ کہتے ہیں کہ میں ابھی وہیں تھا جب وہ صاحب مجھے دوبارہ ملے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ نے بالآخر میری سن لی۔ میری غلطیوں سے درگزر فرمایا اور مجھے وہ تمام مقامات پھر عطا کردیئے گئے جن سے میں محروم کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ جذبہ ہے جو حاصل بندگی ہے۔ انسان کی یہی وہ متاع بےبہا ہے جس پر اسے فخر کرنا چاہیے۔ جب وہ اللہ کے سامنے آنسو بہاتا ہے تو وہ قدروقیمت میں موتیوں سے کہیں بڑھ جاتے ہیں۔ جب اس کا دل ہر طرف سے کٹ کر اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ ایسے دل کو اپنا مرکز بنا لیتا ہے۔ وہ جو ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں پھیلاتا ہے اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کی ہمیشہ لاج رکھتا ہے۔ یہی وہ متاع بےبہا ہے جس پر اقبال نے وہ بات کہی جسے جسارت کہنا چاہیے کہ :
متاعِ بےبہا ہے درد و سوز آرزو مندی
متاعِ بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
حاصل کلام یہ کہ حقوق اللہ میں اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ کبھی اس کی معصیت نہ کی جائے اور اگر کبھی معصیت ہوجائے تو اس وقت تک بےکلی اور بےچینی الگ نہ ہو جب تک ادھر سے معافی نہ مل جائے۔ غلطی کا ہوجانا انسانی فطرت ہے لیکن اس پر اصرار کرنا شیطانی فطرت ہے۔ اس لیے ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو کبھی دہرانے کی جسارت نہ کرے، فوراً معافی مانگے پھر دیکھے کہ اللہ کتنا رحیم و کریم ہے اور یہ بات بھی ذہن میں رکھے کہ اللہ کا علم اس قدر وسیع اور محیط ہے کہ اس کے علم سے نہ بندوں کی غلطیاں باہر رہتی ہیں اور نہ غلطیوں کے بعد بندوں کا طرزعمل۔ اگر طرزعمل وہ اختیار کرتا ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ کی بخشش انتظار میں ہے۔ اس کی جنتیں ان کی منتظر ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ جب قیامت کے دن جنتوں کا دیدار ہوگا تب اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے اعمال کی جزا کتنی عظیم رکھی ہے۔
Ayahs 3:137–138قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ لا فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّـلْمُتَّقِیْنَ ۔
(تم سے پہلے بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں تو زمین میں چلوپھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ یہ تنبیہ ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لیے) (137 تا 138)
سُنَنٌ … سنت کی جمع ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ ضابطے اور قاعدے ہیں جن کے تحت وہ قوموں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس کی مثالیں ساری دنیا میں بکھری ہوئی ہیں۔ قرآن کریم کے چونکہ براہ راست مخاطب عرب ہیں اس لیے جزیرئہ عرب اور اس کے گرد و پیش میں قوموں کے ساتھ جو سلوک ہوا اور ان کے کھنڈرات جس کی منہ بولتی تصویر تھے ان کی طرف اشارہ فرمایا کہ تم جزیرہ عرب میں چل پھر کر دیکھو اور ان علاقوں میں بھی دیکھو جہاں تم اپنے کاروانِ تجارت لے کر جاتے ہو، تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ اللہ کے ضابطے کبھی نہیں بدلے۔ جس قوم میں بھی اللہ کے رسول آئے اگر وہ قوم ایمان لے آئی تو اللہ کی نعمتوں کی سزاوار ٹھہری اور اگر اس نے سرکشی اختیار کی تو وہ قوم ہمیشہ کے لیے تباہ کردی گئی۔ یہ ضابطے آج بھی نہیں بدلے۔ اسی لیے ہم نے لوگوں کے سامنے واضح طور پر بیان کردیا ہے اور ان کی ہدایت کے لیے نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لے آئے ہیں اور آخری ہدایت نازل ہوچکی ہے۔ یہی تمہارے لیے ہدایت بھی ہے، نصیحت بھی اور سمجھ جانے کا موقع بھی۔ اس سے فائدہ اٹھائو تو بچ جاؤ گے ورنہ تباہی سر پر تلی کھڑی ہے۔
Ayah 3:139وَلاَ تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْـتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔
(اور پست ہمت نہ بنو اور غم نہ کھائو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو) (139)
مسلمانوں کے خیالات کی اصلاح اور حوصلہ افزائی
احد کی شکست سے کمزور قسم کے لوگوں میں جو دل شکستگی پیدا ہوئی اس سے ایک طرف تو کمزور مسلمانوں کے دماغوں میں بہت سے وسوسوں نے جگہ بنا لی اور دوسری طرف منافقین اور یہود کو باتیں بنانے کا موقع مل گیا۔ کمزور مسلمان یہ سوچتے تھے کہ ہم اگر حق پر ہیں اور ہم میں واقعی اللہ کے رسول موجود ہیں تو پھر ہمیں شکست کیوں ہوئی اور منافقین اور یہود مسلمانوں کے دلوں میں مزیدوسوسے پیدا کرتے تھے کہ تم آج تک یہ سمجھتے رہے ہو کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ وہ جو اللہ کی تائید و نصرت کی باتیں کرتے ہیں اور فتح و غلبہ کی نوید سناتے ہیں، وہ واقعی ایک حقیقت ہے۔ لیکن احد کی شکست نے یہ ثابت کردیا کہ یہ سب پا در ہوا باتیں تھیں جس کے ذریعے اپنا ایک بھرم قائم رکھنا مقصود تھا اور مسلمانوں کو اس طرح سے عقیدت و محبت کی زنجیروں میں باندھنا مطلوب تھا کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کی عقیدت میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس کی ہر بات کو حجت سمجھتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی لایعنی ہوتی ہے تو اس کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کرتا ہے۔ منافقین یہ کہہ رہے تھے کہ تمہارا بھی آج تک یہی معمول رہا ہے۔ تم نے جو بات سنی اس پر کمر بستہ ہوگئے۔ لیکن اب اصل حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اب تمہیں اپنے ایمان کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ قرآن کریم میں ان تصورات کا ابطال اور اس پر اپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے مسلمانوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات کریمہ میں مسلمانوں کی چند کمزوریوں کی نشاندہی فرمائی اور پھر صاف صاف فرمایا کہ اللہ کے یہاں سیرت و کردار کی پختگی اور اصولوں کی پابندی کام آتی ہے اور اسی کے مطابق فتح و شکست کے فیصلے ہوتے ہیں۔ احد میں جو کچھ ہوا وہ ان حقائق سے یکسر مختلف نہیں بلکہ انہی حقائق کی حرف بہ حرف تائید ہے اور پیش نظر آیت کریمہ میں مسلمانوں کا حوصلہ بندھاتے ہوئے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ احد کی شکست تمہاری زندگی کا آخری معرکہ ہے۔ یہ ایک واقعہ تھا جو تمہاری کمزوریوں کی وجہ سے رونما ہوا۔ آئندہ اگر تم اپنی کمزوریوں کا سدباب کرلو اور اپنی کوتاہیوں پر قابو پالو اور بجائے جنگ احد کے واقعات سے ہراساں اور دل گرفتہ ہونے کے زخمی شیر کی طرح انگڑائی لے کر اٹھو تو مستقبل اب بھی تمہارا ہے۔ اس لیے اس آیت میں فرمایا کہ کمزوری نہ دکھائو، اس حادثے کی وجہ سے جو رونما ہوچکا اور غم نہ کھائو اس نقصان پر جو تمہیں پہنچ چکا۔
وھن سے مراد
لاَ تَہِنُوْا، وہن سے ہے۔ وہن کا معنی ” کمزوری اور ضعف “ کے ہیں۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ ” ایک زمانہ آئے گا کہ جب تم سیلاب کے خس و خاشاک کی طرح ہوجاؤ گے۔ دنیا تم پر اس طرح چڑھ دوڑے گی جیسے بھوکے دسترخوان پر جھپٹتے ہیں۔ “ صحابہ نے پوچھا ” کیا ہم اس وقت بہت تھوڑے ہوں گے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری تعداد تو ریت کے ذروں کی طرح ہوگی۔ “ صحابہ نے پوچھا ” پھر ہمیں کیا ہوجائے گا ؟ “ کیونکہ ان کے سامنے اپنی تاریخ تھی جس کی وجہ سے انھیں یہ بات بعید از قیاس معلوم ہو رہی تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ جب ہماری تعداد تین سو تیرہ ہوئی تو ہم نے ایک ہزار کے لوہے میں ڈھلے ہوئے لشکر کا بھرکس نکال دیا اور جب ہم سات سو ہوئے تو اپنی غلطیوں کے باعث اگرچہ ہم نے زخم اٹھائے لیکن دشمن ہم پر غالب نہ آسکا۔ ہم اپنے آخری معرکے میں تیس ہزار تھے جب کہ مقابلے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی قوت رومن ایمپائر تھی۔ ہم ان کے ملک کی سرحدوں تک پہنچے لیکن انھیں آگے قدم بڑھانے کی جرأت نہ ہوئی تو آخر ہمیں کیا ہوجائے گا کہ دنیا ہمیں تر نوالہ سمجھنے لگے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” تمہیں وہن کی بیماری لگ جائے گی۔ “ صحابہ نے پوچھا ” وہ کیا ہے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” دو بیماریوں کا مرکب ہے۔
حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاہَۃُ الْمَوْتِ
(دنیا کی محبت اور موت کا ڈر)
یہ حدیث وہن کی بہترین تشریح ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو دنیا کی کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی۔ لیکن اگر تم وہن کا شکار ہوجاؤ یعنی تم آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے لگو، تمہاری نگاہوں میں اصل قدروقیمت درہم و دینار کی ہو، تم دنیا کے خزف ریزوں کے بدلے اقدارِ انسانیت کا سودا کرنے کے لیے بھی تیار ہوجاؤ۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں موت کا ڈر اور خوف کسی بڑے معرکے میں شریک ہونے کی اجازت نہ دے۔ جب آدمی دنیا سے محبت کرتا ہے تو پھر زندگی اسے اس قدر عزیز ہوجاتی ہے کہ وہ ہر وقت موت سے خوف کھاتا ہے۔ اسے ہر جگہ موت کا سایہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے دنیا چونکہ آخرت سے زیادہ پیاری ہے اس لیے وہ ایسے معرکے میں کبھی شریک نہیں ہوتا جس میں موت کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہو۔ زندگی موت سے خراج لینے کا نام ہے۔ جو موت سے ڈرتا ہے وہ زندگی کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ لوگ موت کا ایک دفعہ شکار ہوتے ہیں وہ ہر روز موت کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے شخص سے کسی بڑے معرکے کی توقع کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اکبر مرحوم نے ٹھیک کہا ؎
جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا
جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا
Ayahs 3:140–141اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْـلُـہٗ وَ تِلْـکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ج وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْـکُمْ شُہَدَآئَ ط وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ لا وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔
(اگر تمہیں کوئی زخم لگا ہے تو دشمن قوم کو بھی اسی طرح کی چوٹ لگی ہے۔ یہ ایام اسی طرح ہم لوگوں کے درمیان الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تمہارا امتحان کرے اور ممیز کر دے ایمان والوں کو اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور تاکہ اللہ مومنوں کو چھانٹ کر الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے) (140 تا 141)
اَ لْاَیَّامُ کا مفہوم
جنگ احد میں مسلمانوں کے ستر افراد شہید ہوئے۔ بعض سربرآوردہ مسلمانوں کی لاشوں کو بگاڑا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ خود آنحضرت ﷺ زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک ایک زخم مسلمانوں کے دل و دماغ اور جان و تن کو زخمی کرنے کے لیے کافی تھا۔ چناچہ ان آیات کریمہ میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اَلْاَیَّامُ سے مراد تاریخ کے وہ دن ہوتے ہیں جن میں بڑے بڑے واقعات و حوادث پیش آئے ہوں۔ اَیَّامُ الْعَرَبِ سے مراد اہل عرب کی جنگیں ہیں۔
احد کے حادثہ میں مضمر حکمتیں
پروردگار نے قرآن کریم میں ان ایام کو اَیَّامُ اللّٰہِ قرار دیا ہے جس میں اللہ کی جانب سے فتح و نصرت کا ظہور ہوا ہے یا قوموں پر اللہ کا عذاب ٹوٹا ہے۔ پروردگار اس آیت میں فرما رہے ہیں کہ کہ اس طرح کے فتح و شکست کے جو واقعات پیش آتے ہیں یہ ہر قوم میں پیش آتے ہیں اور ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں ہوتا ہے۔ تمہارے ساتھ اگر یہ حادثہ ہوا ہے تو یہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ جس میں ہزاروں حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہیں۔ اس لیے ان حکمتوں کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے، اس سے دل برداشتہ ہو کر پست ہمت نہیں بننا چاہیے۔ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُکا معطوف علیہ محذوف ہے۔ وہ ہے لِیَبْتَلِیَکُمْ (اس حادثے کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے) کہ تمہارے ایمان میں قوت کتنی ہے اور تم کس حد تک استقامت دکھا سکتے ہو اور دوسری حکمت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تم میں شہید اٹھانا چاہتا ہے۔ شہید سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی صداقت کے اثبات کے لیے جان کا نذرانہ پیش کردیتے ہیں۔ کسی بھی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے جان دے دینا یہ اس حقیقت کے برسرحق ہونے کی سب سے بڑی گواہی اور سب سے بڑی دلیل ہے، اسی لیے ایسے لوگوں کو شہید کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کو جو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے اس کے تقاضوں میں سے سب سے بڑا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی دین کی شہادت کے لیے موت سے کھیلنے کے لیے بےقرار رہتا ہے۔ ہر جان والا جان سے پیار کرتا اور موت سے خوف کھاتا ہے۔ لیکن ایک مومن کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ موت سے محبت کرتا ہے کیونکہ جانتا ہے کہ یہ موت ہی ہے جس سے گزر کر میں اللہ کے دین اور اس کی صداقت پر گواہ بنوں گا اور اس سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہوسکتی ہے۔ دوسری یہ بات کہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شہادت اتنا بڑا مقام ہے کہ جس کی وہ ہر وقت تمنا کرتا رہتا ہے۔ جنگ احد ہی کے حالات میں مؤرخین نے لکھا ہے کہ جس صبح کو یہ جنگ لڑی جانے والی تھی اس صبح کو حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) اور حضرت عبداللہ بن جحش ( رض) آپس میں ملے اور دونوں نے ایک دوسرے سے خواہش کی کہ آئو دونوں مل کر آج کے معرکے کے حوالے سے اللہ سے دعا کریں۔ چناچہ سب سے پہلے حضرت سعد بن ابی وقاص ( رض) نے دعا مانگی کہ :
یا اللہ ! آج کی جنگ میں میرا مقابلہ ایک ایسے بہادر اور جنگجو سے ہو کہ جو ٹوٹ ٹوٹ کر مجھ پر حملہ کرے اور میں اس پر بڑھ بڑھ کر وار کروں۔ حتیٰ کہ مجھے توفیق دے کہ میں اس پر غالب آجاؤں۔ اسے قتل کر دوں اور اس کے ہتھیار اور اس کے مال پر قبضہ کرلوں تاکہ آئندہ جنگوں میں وہ کام آئے۔
حضرت عبداللہ ابن جحش ( رض) نے اس دعا پر آمین کہی اور پھر انھوں نے دعا کی کہ :
یا اللہ ! آج میرا مقابلہ بھی ایسے بہادر جنگجو سے ہو جس نے کبھی شکست کا داغ نہ اٹھایا ہو، ہم دونوں ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر حملے کریں حتیٰ کہ ایک وقت آئے وہ مجھ پر غالب آجائے۔ مجھے قتل کر دے، میرے ناک، کان اور ہونٹ کاٹے، میری لاش کا مثلہ کرے، قیامت کے دن جب اپنی اس کٹی پھٹی لاش کے ساتھ میں اٹھایا جاؤں تو الٰہی آپ مجھ سے پوچھیں کہ ” عبداللہ ! تیرے ساتھ یہ حشر کس جرم کی بنا پر کیا گیا ؟ “ تو میں جواب دوں ؎
خونے نہ کردہ ایم و کسے را نہ کشتہ ایم
جرمم ہمیں کہ عاشق روئے تو گشتہ ایم
حضرت سعد ( رض) کہتے ہیں کہ ہم دونوں کی دعا اسی طرح قبول ہوئی اور عبداللہ کی دعا مجھ سے بہتر تھی۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مسلمانوں میں شہادت کی تمنا کس قدر تھی۔ جنگ احد میں بعض خوش نصیبوں کو یہ شہادت کا مرتبہ بھی دینا مقصود تھا اور مزید ایک مصلحت یہ بھی پیش نظر تھی کہ بعض کمزور مسلمانوں کے دل و دماغ میں ابھی تک کچھ نہ کچھ میل کچیل اور کھوٹ باقی تھا جس کی وجہ سے اسلام کے بارے میں ان میں یکسوئی پیدا نہیں ہوتی تھی۔ ضروری تھا کہ اس میل کچیل اور کھوٹ کو نکال کر دلوں کو اتنا صاف اور شفاف کردیا جائے کہ آئندہ حقیقتِ ایمان جاننے کے لیے انھیں کوئی دشواری پیش نہ آئے اور اللہ کے کسی کام کی حکمت سمجھنا ان کے لیے دشوار نہ رہے اور وہ اسلام کے ایسے کار آمد سپاہی ثابت ہوں جیسے سپاہی کی اسلام کو ضرورت تھی۔
اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس عظیم واقعے کے پیچھے اور کیا کیا حکمتیں کار فرما ہیں۔ لیکن تین حقائق جو سرسری نگاہ سے سامنے آئے ہیں ان پر ہی غور کرلیا جائے تو یہ بات سمجھنا دشوار نہیں رہتا کہ ایسے واقعات کا وقوع پذیر ہونا ایک مومن کے ایمان کو جلا بخشنے کا کتنا بڑا ذریعہ ہے اس لیے ایسے واقعات کے بعد ایمان میں قوت آنی چاہیے نہ کہ دل برداشتہ ہونا چاہیے۔
Ayahs 3:142–143اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْـکُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ ص فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ ع
(کیا تم گمان رکھتے ہو کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ نے ممیز نہیں کیا ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا تاکہ ممیز کردے ثابت قدم رہنے والوں کو۔ اور تم آرزو کرتے تھے موت کی اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو، سو اب تم نے اسے دیکھ لیا اور تم ( آنکھوں سے) مشاہدہ کررہے تھے) (142 تا 143)
ایک غلط فہمی کا ازالہ
ایک مومن اور کافر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ کافر کا ہر کام دنیاوی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس مومن کے ہر کام کے پیچھے اللہ کی رضا کے حصول کی تڑپ اور جنت کی تمنا ہوتی ہے کیونکہ جنت درحقیقت اللہ کی رضا کا انعام ہے۔ اس لیے مومن کا کوئی کام اس کی خواہش کے بغیر نہیں ہوتا۔ لیکن بعض صاحب ایمان لوگوں میں ایک بہت بڑی غلط فہمی کارفرما رہتی ہے جس کی وجہ سے ایمان کے مدارج میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ اس معاملے میں شدید نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے۔ وہ غلط فہمی یہ ہے کہ آدمی جنت کی تمنا ضرور کرتا ہے لیکن اس کے حصول کے لیے جتنی شدید محنت، جتنی زیادہ ریاضت، جتنا بڑا اخلاص اور جتنی عظیم قربانی درکار ہے اس کی طرف دھیان بہت کم جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ نومسلم جنھیں ابھی تربیت حاصل کرنے کا موقعہ نہیں ملا وہ بہت جلد اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات نہ جانے کہاں سے آجاتی ہے کہ ہمارا کام صرف اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے، اس کے بعد جنت میں داخلہ ہمارا استحقاق ہے اور اگر کبھی ایسی صورتحال پیدا ہوجائے جیسی جنگ احد میں ہوئی کہ صاحب ایمان لوگوں کے جنازے اٹھے۔ ایک بڑی تعداد میں اسلام کے مخلص سپاہی زخمی ہوئے، تو وہ سوچ میں پڑجاتے ہیں اور یا ان کے دائیں بائیں منافقین کی ٹولیاں انھیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ دیکھو اگر تمہارا دین سچا دین ہوتا اور تمہارے پیغمبر واقعی اللہ کے نبی ہوتے اور جو کچھ تمہارے ساتھ وعدے کیے گئے تھے وہ اگر واقعی منجانب اللہ تھے تو یہ شکست اور یہ بہت بڑا حاد ثہ کیوں وقوع پذیر ہوتا ؟
قرآن کریم نے اس غلط فہمی کو کئی جگہ دور فرمایا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ سے ملتی جلتی آیت سورة البقرۃ کی آیت نمبر 14 قرآن کریم میں موجود ہے جس کے تیور اور بھی تیکھے ہیں۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ تم نے گمان کرلیا ہے کہ تم سیدھے جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ قیامت یں نہیں ٹوٹیں اور وہ حوادث تم پر نہیں گزرے جو پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ حالات کی سنگینی نے انھیں بری طرح ہلایا، تکالیف نے انھیں بری طرح جھنجھوڑا حتیٰ کہ رسول بھی کہہ اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ اسی طرح سورة العنکبوت کے آغاز میں فرمایا گیا کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیئے جائیں گے، یعنی وہ یونہی فوزوفلاح کی منزلیں سر کرلیں گے۔ صرف اتنی بات پر کہ انھوں نے ایمان لانے کا دعویٰ کردیا ہے حالانکہ ابھی انھیں آزما کر نہیں دیکھا گیا کہ وہ اخلاص اور استقات کی کس منزل میں ہیں۔
آزمائش کا دو گونہ فائدہ
اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں پر غائت درجہ رحیم وکریم ہوتا ہے اور اس کی رحمت کی بارش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ لیکن جنت کے مستحق اور دنیا کی امامت کے قابل وہ اس وقت تک کسی کو نہیں بناتا جب تک وہ آزمائشوں سے گزر کر اپنے آپ کو کندن ثابت نہیں کردیتا۔ افراد بھی آزمائے جاتے ہیں اور جماعتیں بھی آزمائی جاتی ہیں کیونکہ یہ آزمائش ہی یہ جاننے اور نمایاں کرنے کا واحد ذریعہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو صاحب ایمان ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ان میں سیرت و کردار کی پختگی کہاں تک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بڑی سے بڑی صداقت سے تعلق جوڑ لینا اگرچہ آسان نہیں کیونکہ خالی انتساب کو بھی بعض دفعہ دنیا برداشت نہیں کرتی۔ لیکن اللہ کے یہاں محض انتساب کسی قدروقیمت کا حامل نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ مسلسل امتحانات میں ڈال کر اسے ایک طرف آزماتا ہے تو دوسری طرف اس آزمائش کے قابل بھی بناتا ہے۔ جس طرح ایک آدمی کو یہ جاننے کے لیے کہ وہ تیراک ہے یا نہیں اسے پانی میں اتارا جاتا ہے اگر وہ تیرنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ واقعی تیراک ہے۔ لیکن اگر وہ کسی کمزوری کا اظہار کرتا ہے تو پھر اسے مزید پانی میں رہنے اور تیرنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی کمزوریوں کا تدارک کرسکے۔ انسانی سطح پر انسانی مفادات، انسانی خواہشات اور انسانی صداقتوں کے بپھرے ہوئے سمندر میں اس طرح کامیابی سے تیرنا کہ کسی مفاد کا بھنور، کسی خواہش کی موج اور کسی مخالف ہوا کا بگولہ اسے تیراکی سے روک نہ سکے بلکہ وہ کامیابی سے آگے بڑھتاجائے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے ایمان کے حامل لوگ اپنی اہلیت بھی ثابت کرتے ہیں اور اللہ کے انعامات کے مستحق بھی ٹھہرتے ہیں۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں یہی فرمایا گیا ہے کہ تم نے جنگ احد سے پہلے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ ایمانیات کے اقرار و اثبات اور عبادت و بندگی کے چند دعوؤں سے شاید جنت میں داخلے کا سامان ہوجائے گا اور تمہیں کسی آزمائش سے گزرنا نہیں پڑے گا۔ یہ وہ غلط فہمی ہے جس نے ہمیشہ اہل حق کو نقصان پہنچایا ہے۔ جیسے ہی ان کی خانہ ساز آرزؤں کا طلسم ٹوٹتا ہے، وہ حوصلہ ہارنے لگتے ہیں اور وہ یہ بھول جاتے ہیں ؎
بہرِ غفلت یہ تری ہستی نہیں
دیکھ جنت اس قدر سستی نہیں
جنت کی خواہش بہت آسان ہے لیکن اس کا حصول آسان نہیں۔ اس میں جس طرح اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو شریعت کے احکام پر قربان کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر حق و باطل کا معرکہ برپا ہوجائے اور باطل اہل حق کو فنا کردینے پر تل جائے تو پھر زندگی کا ہر دکھ اٹھاکر اور ہر تکلیف برداشت کرکے اللہ کے دین پر قائم رہنا اور پھر وقت آنے پر اس کو غالب کرنا یہ وہ پل صراط ہے جس پر چل کر آدمی جنت تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا :
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جنت میں داخلے کا سوال تو اس وقت پیدا ہوگا جب مسلمان اپنی سرفروشیوں سے میدانِ جہاد کو لالہ زار بنادیں گے اور وقت کے ہر اٹھتے ہوئے طوفان کے مقابلے میں چٹان کی طرح حائل ہوجائیں گے اور صبر کا ایسا پہاڑ بن جائیں گے کہ جس سے باطل کو ٹکرا کر سر پھوڑنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا اور اہل باطل پر یہ بات پوری طرح واضح ہوجائیگی کہ ایک مسلمان اپنے اندر جذبہ جہاد کے سوا اور کوئی جذبہ نہیں رکھتا اور اس کی تمام سرفروشیاں اللہ کی رضا کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد نہیں رکھتیں۔ عَلِمَ یَعْلَمَکا معنی اگرچہ ” جاننا “ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو بغیر کسی آزمائش کے بندوں کے جذبوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ لیکن یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یَعْلَمَ جاننے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ممیز کردینے اور نمایاں کردینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی مجاہدین کا جذبہ بےپناہ خود اپنے آپ کو ثابت کرے کہ وہ کس وادی میں ہیں۔
آیت کا پس منظر
دوسری آیت کریمہ کا ایک پس منظر ہے۔ قریش نے جب مدینہ پر تین ہزار کا لشکر لے کرچڑھائی کردی تو آنحضرت ﷺ نے صبح کو صحابہ سے مشورہ کیا کہ ہماری افرادی قوت تو تمہارے سامنے ہے اور دشمن تین ہزار جنگجوؤں کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے۔ کس طرح مقابلہ کرنا چاہیے ؟ مہاجرین نے عموماً اور انصار میں سے اکابر نے رائے دی کہ عورتیں باہر قلعوں میں بھیج دی جائیں اور شہر میں پناہ گیر ہو کر مقابلہ کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی ٔ جو اب تک شریک مشورہ نہیں ہوا تھا اب اسے پہلی دفعہ مشاورت میں شریک کیا گیا تھا۔ اس نے بھی یہی رائے دی۔ لیکن ان نوخیز صحابہ نے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے اس بات پر اصرار کیا کہ شہر سے نکل کر حملہ کیا جائے۔ انھیں شوق شہادت چین نہیں لینے دیتا تھا اس لیے وہ چاہتے تھے کہ کھلے میدانِ جنگ میں دو دو ہاتھ کیے جائیں۔ ان کا اصرار دیکھ کر آنحضرت ﷺ گھر میں تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر تشریف لائے، اب لوگوں کو ندامت ہوئی کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو شاید مرضی کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ سب نے عرض کی کہ ہم اپنی رائے سے باز آتے ہیں، ارشاد ہوا کہ پیغمبر کو زیبا نہیں کہ ہتھیار پہن کر اتار دے۔ اس آیت کریمہ میں انھیں سرفروشوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم شوق شہادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر موت کی تمنا کرتے تھے اور تمہاری آرزو یہ تھی کہ کاش ! جنکِ بدر کی طرح دشمنوں سے ایک اور معرکہ برپاہو تو ہم اس میں دل کھول کر اپنے حوصلے نکالیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے (تم موت سے دوچار ہونے سے پہلے اس کی تمنا کرتے رہے اب تم نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیا ہے) تمہاری سرفروشیوں کے سامنے اب موت کی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ تم اس سے پہلے موت کی تمنا ضرور کرتے تھے لیکن وہ ایک تخیلاتی بات تھی۔ اب تو اس تخیل نے واقعہ بن کر تمہارے ایمان کو آزمایا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ تم نے کہیں بھی کمزوری کا ثبوت نہیں دیا۔ تم نے جس طرح موت سے آنکھیں چار کی ہیں یہی وہ مشاہدہ ہے جو کل کو یقین کی قوت بنے گا۔
Ayah 3:144وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّاللّٰہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ۔
(محمد ﷺ ! تو بس ایک رسول ہیں، گزر چکے ہیں آپ سے پہلے کئی رسول، تو کیا اگر وہ وفات پاجائیں یا شہید کردیئے جائیں تو تم پیٹھ پیچھے پھر جاؤ گے ؟ جو پھرے گا الٹے پائوں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور جلدی اجر دے گا اللہ شکر کرنے والوں کو) (144)
آیت کا پس منظر
اس آیت کریمہ کا بھی ایک پس منظر ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے شروع میں کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ حضرت حمزہ، حضرت علی، حضرت ابودجانہ ( رض) اور دیگر بہادرانِ اسلام نے دشمن فوج کی صفیں الٹ ڈالیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ بدحواسی سے میدانِ جنگ سے بھاگے۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ دشمن سر پر پائوں رکھ کر بھاگ رہا ہے تو بجائے ان کا تعاقب کرنے کے وہ مال غنیمت اکٹھا کرنے میں لگ گئے اور وہ پچاس تیر انداز جو پشت کے ایک درے پر مقرر کیے گئے تھے تاکہ دشمن ادھر سے حملہ نہ کرسکے۔ ان تیر اندازوں نے بھی جب دیکھا کہ مال غنیمت اکٹھا کیا جارہا ہے اور دشمن بھاگ گیا ہے تو وہ بھی نیچے اتر آئے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر ( رض) جو ان کے امیر تھے انھوں نے ہرچند روکا اور انھیں آنحضرت ﷺ کے تاکیدی احکام یاد دلائے۔ لیکن وہ یہ سمجھ کر کہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی، چند آدمیوں کے سوا باقی سب مال غنیمت اکٹھا کرنے والوں میں شامل ہوگئے۔ خالد بن ولید جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے۔ ان کی دوربین نگاہوں نے جب عقب سے راستہ صاف دیکھا تو سواروں کا ایک دستہ لے کر مسلمانوں پر حملہ کردیا، لوگ لوٹنے میں مصروف تھے، مڑ کر دیکھا تو تلواریں برس رہی تھیں۔ بدحواسی میں دونوں فوجیں اس طرح باہم مل گئیں کہ خود مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارے گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) جو آنحضرت ﷺ سے صورت میں مشابہ تھے اور آج مسلمانوں کے علمبردار بھی تھے۔ ابن قمیہ نے انھیں شہید کردیا اور غل مچ گیا کہ آنحضرت ﷺ نے شہادت پائی۔ اس آواز سے عام بدحواسی چھا گئی، بڑے بڑے دلیروں کے پائوں اکھڑ گئے، بدحواسی میں اگلی صفیں پچھلی صفوں پر ٹوٹ پڑیں اور دوست دشمن کی تمیز نہ رہی۔ حضرت حذیفہ ( رض) کے والد یمان اس کشمکش میں آگئے اور ان پر تلواریں برس پڑیں حضرت حذیفہ ( رض) چلاتے رہے کہ میرے باپ ہیں لیکن کون سنتا تھا۔ غرض وہ شہید ہوگئے اور حضرت حذیفہ ( رض) نے ایثار کے لہجہ میں کہا مسلمانو ! اللہ تمہیں بخش دے۔ رسول اللہ ﷺ نے مڑ کردیکھاتو صرف گیارہ جاں نثار پہلو میں ہیں۔ جن میں حضرت علی مرتضیٰ ، حضرت ابوبکر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر ابن العوام، حضرت ابودجانہ اور حضرت طلحہء کے نام بہ تخصیص معلوم ہیں۔ صحیح بخاری میں یہ روایت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ صرف حضرت طلحہ اور حضرت سعد ( رض) رہ گئے تھے۔ اس ہلچل اور اضطراب میں اکثر نے بالکل ہمت ہار دی لیکن جاں بازوں کا بھی زور نہیں چلتا تھا جو جہاں تھا وہیں گھر کر رہ گیا تھا، آنحضرت ﷺ کی کسی کو خبر نہ تھی۔ حضرت علی ( رض) تلوار چلاتے اور دشمنوں کی صفیں الٹتے جاتے تھے لیکن کعبہ مقصود رسول اللہ ﷺ کا پتہ نہ تھا۔ حضرت انس ( رض) کے چچا حضرت ابن نضر لڑتے بھڑے موقعہ سے آگے نکل گئے دیکھا تو حضرت عمر ( رض) نے مایوس ہو کر ہتھیار پھینک دیئے ہیں پوچھا یہاں کیا کرتے ہو ؟ بولے اب لڑ کر کیا کریں، رسول اللہ ﷺ نے تو شہادت پائی۔ ابن نضر ( رض) نے کہا ان کے بعد ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے ؟ یہ کہہ کر فوج میں گھس گئے اور لڑکرشہادت پائی۔ لڑائی کے بعد جب ان کی لاش دیکھی گئی تو (80) سے زیادہ تیر، تلوار اور نیزے کے زخم تھے، کوئی شخص پہچان نہ سکا ان کی بہن نے انگلی دیکھ کر پہچانا۔ جاں نثاران ِخاص برابر لڑتے جاتے تھے لیکن نگاہیں سرور عالم ﷺ کو ڈھونڈتی تھیں۔ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک ( رض) کی نظر پڑی، چہرہ مبارک پر مغفر تھا، لیکن آنکھیں نظر آتی تھیں۔ حضرت کعب ( رض) نے پہچان کر پکارا مسلمانو ! رسول اللہ ﷺ یہ ہیں۔ یہ سن کر ہر طرف سے جاں نثارٹوٹ پڑے، کفار نے اب ہر طرف سے ہٹ کر اسی رخ پر زور دیا۔ ایک دفعہ ہجوم ہوا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کون مجھ پر جان دیتا ہے ؟ زیاد بن سقم ( رض) پانچ ساتھی لے کر اس خدمت کے ادا کرنے کے لیے بڑھے اور ایک ایک نے جاں بازی سے لڑ کر جانیں فدا کردیں۔ حضرت زیاد ( رض) کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ان کالاشہ قریب لائو لوگ اٹھا کر لائے کچھ کچھ جان باقی تھی قدموں پر منہ رکھ دیا اور اسی حالت میں جان دی۔ عبداللہ بن قمیہ جو قریش کا مشہور بہادر تھا صفوں کو چیرتا پھاڑتا آنحضرت ﷺ کے قریب آگیا اور چہرہ مبارک پر تلوار ماری۔ اس کے صدمہ سے مغفر کی دو کڑیاں چہرہ مبارک میں چبھ کر رہ گئیں۔ چاروں طرف سے تلواریں اور تیر برس رہے تھے، یہ دیکھ کر جاں نثاروں نے آپ کو دائرہ میں لے لیا، ابو دجانہ ( رض) جھک کر سپر بن گئے، اب جو تیر آتے تھے ان کی پیٹھ پر آتے تھے۔ حضرت طلحہ ( رض) نے تلواروں کو ہاتھ پر روکا، ایک ہاتھ کٹ کر گرپڑا۔ بےدرد رحمت عالم ﷺ پر تیر برسا رہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے :
رَبِّ اغْفِرْ قَوْمِی فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ
(اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے وہ جانتے نہیں)
ان واقعات میں آپ نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح کوہ استقامت و استقلال بن کر ایک جگہ جمے کھڑے رہے۔ اور لڑائی کی ساری چکی آپ کے گرد گھومتی رہی اور ایک وقت آیا کہ دشمن کا سارا زور اس چراغ کو بجھانے پر صرف ہورہا تھا۔ لیکن سب سے خطرناک وقت وہ تھا جب یہ بات مشہور کردی گئی کہ آنحضرت ﷺ نے انتقال فرمایا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے اس سے ایسا شدید تأثر لیا کہ ہتھیار پھینک کر مایوس ہو کر بیٹھ گئے اور جب ان سے کہا گیا کہ آپ بیٹھ کیوں گئے ہیں ؟ تو شدت غم سے فرمایا کہ جب وہ شمع نہ رہی جس پر پروانے قربان ہوتے تھے تو اب کس کے لیے لڑیں۔ لیکن ایسے بھی جاں نثار تھے جنھوں نے یہ کہہ کر فوج میں ایک تازہ روح پھونک دی کہ تم یہ کیوں سوچتے ہو کہ جب حضور نہیں رہے تو ہم کس کی خاطر لڑیں۔ تمہیں تو یہ سوچنا چاہیے کہ جس مقصد کی خاطر آنحضرت ﷺ نے جان دی ہے ہمیں بھی اسی مقصد کی خاطر جان دے دینی چاہیے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں قرآن کریم نے اسی غلطی کا ازالہ فرمایا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تم شاید اللہ کے رسول کے لیے لڑتے ہو لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ اللہ کا رسول کس کے لیے لڑتا ہے اور تمہیں یہ بھی خیال نہ آیا کہ محمد ﷺ صرف اللہ کے رسول ہیں، خدا نہیں ہیں، جو ہمیشہ رہیں گے۔ ، دنیا میں بڑی سے بڑی شخصیت جانے کے لیے آئی ہے ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں۔ آنحضرت ﷺ اگرچہ خلاصہ کائنات اور باعث تخلیقِ عالم ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کو بھی دنیا سے جانا ہے۔ جس طرح پہلے رسول دنیا سے چلے گئے۔ تین سو چودہ رسول اور سوالاکھ پیغمبر تقریباً دنیا میں بھیجے گئے لیکن آج دنیا میں ان کی عظمتیں زندہ ہیں لیکن وہ خودتو واصل بحق ہوچکے ہیں۔ امیر مینائی نے ٹھیک کہا
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا
اگر تم نے اس حقیقت پر غور کیا ہوتا کہ پیغمبروں کے آنے کا مقصد اللہ کے نام اور اس کے دین کی سربلندی ہے۔ پیغمبراسی کے لیے محنت کرتے اور اسی کے لیے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اسی کے لیے وطن سے بےوطن ہوتے اور اسی کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ ان کی ذات اللہ کی بندگی، اللہ کے دین کی خاطر سرفروشی کا نمونہ ہوتی ہے وہ جب تک دنیا میں رہتے ہیں مینارہ نور بن کر رہتے ہیں اور جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کی زندگی کا ایک ایک عمل لوگوں کے لیے مشعل راہ بن جاتا ہے۔ ان پر نازل ہونے والی کتاب اور اس کے مطابق گزاری ہوئی زندگی انسانوں کے لیے قانون ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اللہ کے راستے میں وفات نہیں پاسکتے یا شہید نہیں ہوسکتے۔ انبیائے کرام کے بارے میں تو قرآن کریم بھرا پڑا ہے جس میں ان انبیاء کرام کا تذکرہ موجود ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے شہید کیے گئے اور ان رسولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنھیں اللہ کے دین کی خاطر اپنے وطن سے ہجرت کرنا پڑی، رسول اللہ ﷺ بھی اسی قافلہ حق کے سالار ہیں۔ اگر وہ بھی اللہ کے دین کی خاطر شہید کردیئے جائیں یا طبعی طور پر وفات پاجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جاؤ گے یعنی دین چھوڑ دو گے اور جو شخص ایسا کرے گا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کے دین کا کچھ نہیں بگاڑے گانہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچائے گا۔ اللہ کے راستے میں قدروقیمت کے مستحق وہ لوگ ہیں جو بہرصورت اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کے راستے میں جان کھپاتے ہیں۔
جذبہ محبت کی کارفرمائی
عقیدت و محبت کا جذبہ ایسا زور دار جذبہ ہے کہ بعض دفعہ ایسے بڑے بڑے لوگوں کی عقل پر غالب آجاتا ہے جن کی عظمتوں کے سامنے تاریخ جھکی ہوئی ہے۔ حضرت عمرفاروق ( رض) کے مقام و مرتبہ اور عظمت سے کون ناواقف ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جیسے ہی انھیں یہ خبر ملی کہ آنحضرت ﷺ نے انتقال فرمایا تو ان کے لیے اس خبر کو برداشت کرنا ممکن نہ رہا۔ سرتاپا جذبات میں ڈوب کر اٹھ کھڑے ہوئے اور مسجد کے صحن میں برہنہ تلوار لے کر باربار یہ بات دھرانے لگے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت ﷺ انتقال فرماگئے ہیں، میں اس کا سر اڑادوں گا۔ آپ تو اسی طرح اللہ کے پاس گئے ہیں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر اللہ کا پیغام وصول کرنے کے لیے جاتے تھے۔ آپ واپس آئیں گے اور جو منافقین اس طرح کی افواہیں اڑا رہے ہیں ان کے ہاتھ پائوں کاٹیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر ( رض) تشریف لے آئے انھوں نے بھی آپ کو بیٹھنے کے لیے کہا لیکن آپ ہوش میں نہ تھے۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) منبر پر گئے اور لوگوں سے خطاب فرمایا : خطاب کا پہلا جملہ ہی یہ تھا :
من یعبد محمداً (ﷺ) فان محمداً ( ﷺ ) قد مات ومن یعبداللہ فان اللہ حی لایموت
اور اس کے بعد آپ نے محولہ بالا آیت کریمہ پڑھی۔
جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ وفات پاگئے ہیں اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔
Ayah 3:145وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰباً مُّؤَجَّلاً ط وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْھَا ط وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ۔
( اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق۔ جو دنیا کا صلہ چاہتے ہیں ہم انھیں دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو آخرت کا صلہ چاہتے ہیں ہم انھیں آخرت میں سے دیں گے۔ اور ہم خوب جزا دیں گے شکر ادا کرنے والوں کو) (145)
بعض حقائق اعتراف کے باوجوداستحضار سے محروم رہتے ہیں
بعض حقائق ایسے ہیں جو نوک زباں رہتے ہیں۔ لیکن اس کا صحیح احساس دل و دماغ میں نہیں ہوتا۔ انہی حقائق میں سے ایک بہت بڑی حقیقت ” موت “ ہے۔ ہر شخص اس کا معترف ہے کہ موت ہمیشہ وقت پر آتی ہے۔ نہ وہ مقررہ وقت سے پہلے آسکتی ہے اور نہ مقررہ وقت سے ٹل سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ موت کا یہ وقت آپ سے آپ مقرر نہیں ہوگیا بلکہ اللہ جلَّ شانہٗ کا مقرر کردہ ہے اور اس کا یہ مقررہ کردہ وقت اپنی پوری تفصیلات سمیت وہاں لکھا ہوا ہے جہاں ایسی تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک ایسی حقیقت جس کا اعتراف ہر ایک کو ہے یہ کیسی بات ہے کہ دل و دماغ اس کا استحضار نہیں رکھتے۔ اولاً تو یہ بات ہی ذہن میں تازہ نہیں رہتی کہ موت کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ روزانہ جنازے اٹھتے ہیں اسی طرح جنازہ میرا بھی اٹھے گا۔ لیکن ہر جنازہ اٹھاتے ہوئے ہر شخص کا رویہ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اسی شخص کو مرنا تھا جس کا جنازہ اٹھایا جارہا ہے میری باری کبھی نہیں آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور غلط فہمی جس کا تدارک شاید اس سے بھی مشکل ہے وہ یہ ہے کہ جب کبھی زندگی میں ایسے مقصد کی طرف بلایا جاتا ہے جس کی ادائیگی میں خطرات سے واسطہ پڑنے کا اندیشہ ہو اور بات موت تک بھی پہنچ سکتی ہو تو پھر باوجود ہمارے اس اعتراف کے کہ موت کا ایک وقت معین ہے اور وہ اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آسکتی۔ ہم ہمیشہ موت سے ڈر کر مقصد زندگی سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں، زبان سے چاہے کہیں یا نہ کہیں لیکن ہمارا طرز عمل یہی ہوتا ہے کہ میں ایسے خطرناک مرحلے میں جانے کی کبھی حماقت نہیں کرسکتا جس میں جان کے چلے جانے کا اندیشہ ہو وہ مقصد زندگی چاہے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو ہم اپنی جان کا سودا کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ اسلام اس کمزوری کو ایک مومن کے لیے سم قاتل سمجھتا ہے اور ایسے شخص کے ایمان کو نامکمل قرار دیتا ہے جو اللہ کی تقدیر پر یقین نہیں رکھتا۔ اسی طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں جن چیزوں کو انتہائی نقصان دہ قرار دیتا ہے، ہم گذشتہ آیتوں میں پڑھ چکے ہیں، وہ وہن ہے، ضعف ہے اور استکانت ہے۔ جب بھی کبھی مسلمانوں میں یہ امراض پیدا ہوئے ہیں تو ان کی اجتماعی زندگی خطرات کا شکار ہوگئی ہے اور کافروں نے ہمیشہ ان کو ادھیڑ کھدیڑ کر رکھ دیا ہے اور ” وہن “ کے بارے میں ہم آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کرچکے ہیں کہ وہ حُبُّ الدنیا وکراہۃ الموتکا نام ہے۔ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ تم موت کو ایک حقیقت جانو اور ہر وقت اس کے آنے کی امید رکھو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم غفلت سے بچے رہو گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقین رکھو کہ موت اللہ کے ” اِذن “ سے آتی ہے۔ اس لیے اس کے آنے کے ڈر سے ذمہ داریوں کی ادائیگیوں سے گریز نہ کرو یعنی وہ کام جنھیں کرنے کے لیے لمبا وقت چاہیے ان سے اس لیے ہاتھ اٹھا لیا جائے کہ پتہ نہیں موت کب آجاتی ہے۔ حالی مرحوم نے بڑے پتے کی بات کہی
دنیائے دنی کو نقش فانی سمجھو
ہر چیز یہاں کی آنی جانی سمجھو
پر جب کرو آغاز کوئی کام بڑا
ہر سانس کو عمر جاوِدانی سمجھو
ایک اور کو تاہی
کمزور مسلمانوں کی کمزوریوں اور کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی یہ بھی ہے کہ وہ دنیاوی کامرانیوں اور مفادات کے حصول کو تمام تر اپنی سعی اور تدبیر ہی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ انھیں ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ اگر ہم نے دینی ضروریات اور اخروی مصروفیات پر زیادہ وقت دینا شروع کردیا تو ہماری دنیا کو نقصان پہنچے گا اور ہم دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے حالانکہ انھیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دنیا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اجروثواب بھی اللہ ہی دے گا۔ اگر دنیا ہر ایک کو بقدر محنت ملتی تو دنیا میں کوئی محنت کرنے والا غریب نہ ہوتا اور آخرت کی فکر کرنے والا کبھی دولت مند نہ ہوتا حالانکہ دونوں طرح کے لوگ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہاں صاف صاف فرمایا گیا کہ دنیا کے لیے مرنے والوں کو بھی ہم اتناہی حصہ دیتے ہیں جتنا ان کے لیے مقدر ہوتا ہے۔ لیکن وہ آخرت کی پرواہ نہ کرنے کی وجہ سے آخرت کے اجر سے بالکل محروم رہتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس جو آخرت کے طلب گار ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آخرت کے انعامات سے بھی نوازتا ہے اور دنیا میں بھی وہ اپنے حصے سے کبھی محروم نہیں رہتے۔ اس لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ آدمی آخرت کے لیے اتنی محنت کرے جتنی آخرت کے لیے ضروری ہے اور دنیا کے لیے اتنی جان مارے جتنی دنیا بسانے کے لیے ضروری ہے۔ ان دونوں میں توازن قائم رکھنا یہ قرآن کریم کی عطاکردہ بصیرت ہے جس کی فکر کرنی چاہیے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اللہ کا قانون ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کے دل سے قدر دان ہوتے ہیں اور اس کی ہر نعمت کا بجاطور پر شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والوں کو بھرپور صلہ عطا فرماتا ہے۔ اللہ ان کی دنیا میں بھی برکت دیتا ہے اور آخرت میں تو ایسا سرخرو فرمائے گا کہ دنیا دیکھ کر رشک کرے گی۔