3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا اس کے بعد کہ وہ زخمی ہوچکے تھے ان میں سے جنھوں نے بھی خوبی کے ساتھ کام کیا اور جو تقویٰ کی راہ چلے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ وہ ہیں جن کو لوگوں نے کہا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت طاقت اکٹھی کی ہے تو ان سے ڈرو تو اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

سو یہ لوگ واپس آئے اللہ کی نعمت اور اس کا فضل لے کر ان کو کوئی گزند نہیں پہنچی اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْالِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ م بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْجَمَعُوْا لَـکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا صلے ق وَّقَالُوْا حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ فَانْقَلَـبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْٓئٌ لا وَّاتَّـبَـعُوْا رِضْوَانَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ ۔ اِنَّمَاذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَـآئَ ہٗ ص فَلاَ تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (جن لوگوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا اس کے بعد کہ وہ زخمی ہوچکے تھے ان میں سے جنھوں نے بھی خوبی کے ساتھ کام کیا اور جو تقویٰ کی راہ چلے ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ یہ وہ ہیں جن کو لوگوں نے کہا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت طاقت اکٹھی کی ہے تو ان سے ڈرو تو اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ سو یہ لوگ واپس آئے اللہ کی نعمت اور اس کا فضل لے کر ان کو کوئی گزند نہیں پہنچی اور یہ اللہ کی خوشنودی کے طالب ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو) ( 172 تا 175) ان آیات کے مضمون کا پس منظر ان آیات کریمہ میں جنگ احد میں اور اس کے بعد پیش آنے والے بعض حالات کی طرف اشارے ہیں اور مقصود ان سے مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور سرفروشی کے رویے کو واضح کرنا ہے جو مسلمان کا اصل سرمایہ اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور مقصود یہ بھی ہے کہ ان واقعات سے اس حقیقتِ ابدی کی تائید ہوجائے جس کا ذکر ان آیات کریمہ سے پیشتر آیات کریمہ میں کیا گیا ہے۔ جن واقعات کی طرف اشارے فرمائے گئے ہیں ہم ان کی روداد اور تفصیل ” الرحیق المختوم “ سے نقل کرتے ہیں۔ اہلِ سیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معرکہ احد کے دوسرے دن یعنی یک شنبہ 8 شوال 3 ؁ھ کو علی الصبح اعلان فرمایا کہ دشمن کے مقابلے کے لیے چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی آدمی چل سکتا ہے جو معرکہ احد میں موجود تھا۔ تاہم عبداللہ بن ابی نے اجازت چاہی کہ آپ کا ہمرکاب ہو مگر آپ نے اجازت نہ دی۔ ادھر جتنے مسلمان تھے اگرچہ زخموں سے چور، غم سے نڈھال اور اندیشہ و خوف سے دوچار تھے، لیکن سب نے بلاتردُّد سرِ اطاعت خم کردیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے بھی اجازت چاہی جو جنگ احد میں شریک نہ تھے۔ حاضر خدمت ہو کر عرض پرداز ہوئے۔ ” یارسول اللہ ﷺ ! میں چاہتا ہوں کہ آپ جس کسی جنگ میں تشریف لے جائیں میں بھی حاضر خدمت رہوں اور چونکہ (اس جنگ میں) میرے والد نے مجھے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر روک دیا تھا۔ لہٰذا آپ مجھے اجازت دیدیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں “۔ اس پر آپ نے انھیں اجازت دے دی۔ پروگرام کے مطابق رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے اور مدینے سے آٹھ میل دور ” حمراء الاسد “ پہنچ کر خیمہ زن ہوئے۔ اثناء قیام میں معبد بن ابی معبد خزاعی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوا ۔۔۔۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے شرک ہی پر قائم تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کا خیر خواہ تھا کیونکہ خزاعہ اور بنوہاشم کے درمیان حلف (یعنی دوستی اور تعاون کا عہد) تھا۔ بہرکیف اس نے کہا :” اے محمد ﷺ ! آپ کو اور آپ کے رفقاء کو جو زک پہنچی ہے وہ واللہ ہم پر سخت گراں گزری ہے۔ ہماری آرزو تھی کہ اللہ آپ کو بعافیت رکھتا۔ “۔۔۔۔۔ اس اظہار ہمدردی پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ابو سفیان کے پاس جائے اور اس کی حوصلہ شکنی کرے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ نے جو اندیشہ محسوس کیا تھا کہ مشرکین مدینے کی طرف پلٹنے کی بات سوچیں گے، وہ بالکل برحق تھا۔ چناچہ مشرکین نے مدینے سے 36 میل دور مقام ” رَوحاء “ پر پہنچ کر جب پڑائو ڈالا تو آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی۔ کہنے لگے : ” تم لوگوں نے کچھ نہیں کیا ان کی شوکت وقوت توڑ کر انھیں یوں ہی چھوڑ دیاحالان کہ ابھی ان کے اتنے سرباقی ہیں کہ وہ تمہارے لیے پھر درد سر بن سکتے ہیں۔ لہٰذا واپس چلو اور انھیں جڑ سے صاف کردو۔ “ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سطحی رائے تھی جو ان لوگوں کی طرف سے پیش کی گئی تھی جنھیں فریقین کی قوت اور ان کے حوصلوں کا صحیح اندازہ نہ تھا۔ اسی لیے ایک ذمہ دار افسر صفوان بن امیہ نے اس رائے کی مخالفت کی اور اور کہا :” لوگو ! ایسا نہ کرو۔ مجھے خطرہ ہے کہ جو (مسلمان غزوہ احد میں) نہیں آئے تھے وہ بھی اب تمہارے خلاف جمع ہوجائیں گے۔ لہذا اس حالت میں واپس چلے چلو کہ فتح تمہاری ہے۔ ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ مدینے پر چڑھائی کروگے تو گردش میں پڑجاؤ گے۔ “ لیکن بھاری اکثریت نے یہ رائے قبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ مدینے واپس چلیں گے۔ لیکن ابھی پڑائو چھوڑ کر ابو سفیان اور اس کے فوجی ہلے بھی نہ تھے کہ معبد بن ابی معبد خزاعی پہنچ گیا۔ ابو سفیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ مسلمان ہوگیا ہے۔ اس نے پوچھا ! معبد ! پیچھے کی کیا خبر ہے ؟ معبد نے پروپیگنڈے کا سخت اعصابی حملہ کرتے ہوئے کہا : محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو لے کر تمہارے تعاقب میں نکل چکے ہیں۔ ان کی جمعیت اتنی بڑی ہے کہ میں نے ویسی جمعیت کبھی دیکھی ہی نہیں۔ سارے لوگ تمہارے خلاف غصے سے کباب ہوئے جارہے ہیں۔ احد میں پیچھے رہ جانے والے بھی آگئے ہیں۔ وہ جو کچھ ضائع کرچکے اس پر سخت نادم ہیں اور تمہارے خلاف اس قدر بھڑکے ہوئے ہیں کہ میں نے اس کی مثال دیکھی ہی نہیں۔ ابو سفیان نے کہا : ارے بھائی یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ معبد نے کہا :” واللہ میرا خیال ہے کہ تم کوچ کرنے سے پہلے پہلے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھ لوگے یا لشکر کا ہر اول دستہ اس ٹیلے کے پیچھے نمودار ہوجائے گا۔ “ ابو سفیان نے کہا : واللہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر پلٹ کر حملہ کریں اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیں۔ معبد نے کہا : ایسا نہ کرنا، میں تمہاری خیرخواہی کی بات کررہا ہوں۔ یہ باتیں سن کر مکی لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ان پر گھبراہٹ اور رعب طاری ہوگیا اور انھیں اسی میں عافیت نظر آئی کہ مکہ کی جانب اپنی واپسی جاری رکھیں۔ البتہ ! ابو سفیان نے اسلامی لشکر کو تعاقب سے باز رکھنے اور اس طرح دوبارہ مسلح ٹکرائو سے بچنے کے لیے پروپیگنڈے کا ایک جوابی اعصابی حملہ کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابو سفیان کے پاس قبیلہ عبدالقیس کا ایک قافلہ گزرا۔ ابوسفیان نے کہا : کیا آپ لوگ میرا ایک پیغام محمد ﷺ کو پہنچا دیں گے ؟ یہ میرا وعدہ ہے کہ اس کے بدلے جب آپ لوگ مکہ آئیں گے تو عکاظ کے بازار میں آپ لوگوں کو اتنی کشمش دوں گا جتنی آپ کی یہ اونٹنی اٹھاسکے گی۔ ان لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ ابو سفیان نے کہا : محمد ﷺ کو یہ خبر پہنچادیں کہ ہم نے ان کی اور ان کے رفقاء کی جڑ کاٹ دینے کے لیے دوبارہ پلٹ کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد جب یہ قافلہ حمراء الاسد میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے پاس سے گذرا تو ان سے ابوسفیان کا یہ پیغام کہہ سنایا اور کہا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہیں، ان سے ڈرو۔ مگر ان کی باتیں سن کر مسلمانوں کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیا اور انھوں نے کہا : حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ( اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) (اس ایمانی قوت کی بدولت) وہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹے۔ انھیں کسی برائی نے نہ چھوا اور انھوں نے اللہ کی رضا مندی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ صحابہ ( رض) کا بےمثال کردار یہ ہے ان آیات کا پس منظر جو آپ نے تفصیل سے پڑھ لیا۔ اب ان آیات کریمہ کے ایک ایک جملے پر غور فرمائیں۔ سب سے پہلے جملے میں پروردگار نے صحابہ کرام کے حوالے سے دو باتوں کا اعتراف فرمایا ہے۔ پہلی یہ بات کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے یہ فرمایا کہ ہم نے قریش کے لشکر کے تعاقب کے لیے نکلنا ہے تو ان میں سے کسی شخص نے تعمیلِ حکم میں انکار تو دور کی بات ہے تساہل سے بھی کام نہیں لیا۔ بلکہ ان میں ایک ایک فرد لبیک کہتا ہوا تعمیلِ حکم کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور دوسری بات جس کا اعتراف فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ تمام وہ لوگ تھے جو ایک روز پہلے زخموں سے گھائل ہوچکے تھے۔ جو ہتھیار اتار کر مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف تھے کہ ان پر دو طرفہ حملہ ہوا۔ پیادہ فوج نے ان کو تلواروں پر رکھ لیا اور سواروں نے انھیں گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا۔ بہت بڑاجانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس کے باوجود یہ تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ ایسی زخمی اور غم واندوہ میں دبی ہوئی فوج نے تعمیلِ حکم میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی۔ نپولین کی جنگوں کے حالات پڑھ لیجئے، کتنی دفعہ اس کی فوج نے تنگ آکر نپولین پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ تیمورلنگ کی فوج نے اپنے ملک کی طرف واپسی کے لیے شدید اصرار کیا اور آگے بڑھنے میں پس وپیش کرتے رہے۔ سکندر کی فوج میں بھی ایسے واقعات کی کمی نہیں۔ لیکن یہ عجیب خدائی فوجدار ہیں کہ بےساکھیوں کے سہارے چل کر اپنے سے کئی گنا طاقتور فوج کے مقابلے میں جانے کے لیے لبیک کہہ رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو دنیا میں انقلاب لانے کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس کا ہر اول دستہ ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس جذبے کے بغیر بڑی سے بڑی فوج بھی کرائے کی فوج سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ حکمِ خدا اور حکم رسول میں واجب الاطاعت ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں یہاں ایک اور بات کی طرف بھی توجہ فرمائیے جو اس جملے کے بین السطور میں جھلکتی ہے۔ وہ یہ کہ قریش کے تعاقب میں نکلنے کے لیے مسلمانوں کو حکم اللہ کے رسول نے دیا تھا اللہ نے نہیں کیونکہ اس کا قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں۔ لیکن یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کی تعمیل میں لبیک کہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نگاہوں میں جس طرح قرآن کریم کی آیات واجب التعمیل تھیں اور قرآن کریم کے ایک ایک حکم پر وہ سرتاپا عمل رہتے تھے۔ یہی حیثیت ان کی نگاہوں میں اللہ کے رسول کی تھی۔ وہ اللہ اور رسول کے حکم میں کوئی فرق کرنا نہ جانتے تھے اور قرآن کریم نے اس رویے کی تحسین فرماکر اسے شریعت کا ایک لازمی حصہ بنادیا اور قیامت تک ان لوگوں کے لیے کوئی موقعہ باقی نہیں رہنے دیا جو صرف قرآن پاک کے احکام کی اطاعت کو تو واجب اور فرض سمجھتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے احکام کی اطاعت کو سربراہِ مملکت کی اطاعت کے برابر قرار دیتے ہیں۔ حُسنِ عمل اور تقویٰ اجر عظیم کی ضمانت ہے لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ سے تمام وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر پہلے جملے میں ہے۔ جو قریش کے تعاقب میں آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب ہیں۔ ان میں سے ایک ایک فرداحسان اور تقویٰ کی چلتی پھرتی تصویر ہے لیکن آنے والی دنیا کے لیے ان کے رویے کی تحسین کے بعد بطور اصول یہ بات فرمائی کہ اللہ کے یہاں صفات میں مراتب ہیں۔ لیکن وہ درجہ اور مرتبہ جو اجر عظیم کا مستحق ثابت ہوتا ہے وہ وہ ہے جس میں احسان بھی ہوا اور تقویٰ بھی۔ احسان سے مراد یہ ہے کہ جاں نثاری اور فدا کاری کے عمل کو اسقدر بہتر انداز میں بروئے کار لانا کہ ہر دیکھنے والا یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ عمل کی اس سے بہتر اور خوبصورت شکل شاید ممکن نہیں۔ اپنی پوری صلاحیتوں کو اس میں نچوڑ دینا اور اخلاص میں کسی قسم کا شائبہ نہ آنے دینا اور تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ ایمان وعمل میں نفاق کی جتنی آلائشیں بھی تصور میں لائی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک ایک آلائش سے پرہیز کرنا۔ مصلحتوں کا غبار اڑکر بھی ایمان و عمل کی خوبصورتی کو گدلا نہ کرسکے۔ مفادات کا کوئی حوالہ اس پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ جو ایمان وعمل اس طرح نفاق کی تمام آلائشوں سے پاک ہوگا اور اس کا اخلاص عمل میں سعی بلیغ کی آخری حدوں کا چھونے لگے گا تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے صرف اجر ہی نہیں رکھا بلکہ اجر عظیم رکھا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ کسی بھی چیز کا عظیم ہونا کہنے والے کی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے۔ جب غریب آدمی کسی سے یہ کہتا ہے کہ اگر تم نے میرا یہ کام کردیا تو میں تمہیں اس کا بہت بڑا معاوضہ دوں گا۔ تو وہ معاوضہ اس کی اپنی حیثیت کے مطابق ہوگا۔ لیکن یہی بات جب کسی امیر آدمی کے منہ سے یا بادشاہ کے منہ سے نکلتی ہے تو معاوضے کی وسعت کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب عبدالرحیم خان خاناں کے پاس ایک عالم دین بیٹھے تھے انھوں نے نواب سے کہا کہ میں نے آج تک ایک لاکھ روپے کا ڈھیر نہیں دیکھا۔ نواب نے حکم دیا کہ ہمارے سامنے ایک لاکھ روپے کا ڈھیر لگادیا جائے۔ اس زمانے میں نوٹ نہیں چاندی کے روپے چلتے تھے۔ ڈھیر لگایا گیا تو ایک ٹیلہ بن گیا۔ عالم دین نے تعجب سے دیکھا اور خوش ہو کر کہا کہ یا اللہ ! تیرا شکر ہے ایک لاکھ کا ڈھیر دیکھنے کو تو ملا۔ وہ دیکھ لینے کو بھی بہت بڑی بات سمجھ رہے تھے۔ نواب نے یہ سن کر خزانچی کو حکم دیا کہ ایک لاکھ روپیہ انھیں دے دیا جائے۔ وہ لاکھ روپیہ انھیں مل گیا تو نواب نے کہا : اللہ جیسے کریم کا محض ایک لاکھ روپے دیکھ لینے پر شکر بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتا اب آپ کو مل گیا ہے تو شکر بجا لائیے تو خیر ایک بات بھی ہے۔ اس واقعہ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کسی چیز کے بڑا یا چھوٹا ہونے پر اصل اہمیت کہنے والے کی ہوتی ہے۔ یہاں پروردگار جس اجر کو عظیم قرار دے رہے ہیں اس کا اندازہ بھی پروردگار ہی کرسکتے ہیں کیونکہ مخلوق کے بس میں نہیں کہ وہ پروردگار کے جود و عطا کا اندازہ کرسکے۔ صحابہ کی پامردی واستقلال دوسری آیت کریمہ میں، جن اصحابِ احسان وتقویٰ کو پہلی آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے انہی کے ایک اور امتحان کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ یہ زخمی اور محدود تعداد میں لیکن شجاعت اور وجاہت کی علامت ابھی گھر سے نکلنے نہیں پائے یا راستے میں ہیں کہ ان تک افواہیں پہنچنا شروع ہوگئیں اس کی تفصیل آپ پس منظر میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن الناس کے لفظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک شخص (جو ابو سفیان کا قاصد بن کر آیا تھا) نے تنہا مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ الناس کا لفظ بول رہا ہے کہ ایک بڑی تعداد تھی ایسے لوگوں کی جنھیں قریش کی طاقت اور قوت کے بارے میں مبالغہ آمیز افواہیں پھیلانے پر لگایا گیا تھا۔ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ افواہیں پھیلانے میں بےمزد بھی چاکری کرتے ہیں۔ جو سنتے ہیں آگے پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ تو قریش کے زرخرید ہوں گے اور کچھ لوگ اپنی عادت کے مطابق ان میں شامل ہوگئے ہوں گے نتیجتاً ایک بڑی تعداد نے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی اور نجانے کیسی کیسی مبالغہ آمیز خبریں ان تک پہنچائیں۔ جن کا حاصل یہ تھا کہ قریش اتنی بڑی فوج لے کر مدینہ پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں جن کے مقابلے کے بارے میں تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ پس تم ان سے ڈرو اور اپنے انجام کی فکر کرو اور ان سے ڈر کر اپنی عافیت کے لیے ان سے کوئی ایسا معاہدہ کرلو جس میں جان بچ جائے اور مدینہ کی حدود بھی محفوظ رہیں۔ وہ ان تمام مساعی مذمومہ سے یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان خوف زدہ ہو کر گھٹنے ٹیک دیں گے اور ابو سفیان سے چند مراعات حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں گے اور کوئی تعجب نہیں کہ اس میں عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں کا بھی عمل دخل ہو۔ ہم اس سے پہلے یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کے انتقال پر ملال کی خبر اڑی تو بعض لوگوں نے مخلص مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کردیا کہ اب لڑنے کا کیا فائدہ ؟ چلو عبداللہ بن ابی کے پاس چلیں اور اسے کہیں کہ وہ ہمارا معاملہ ابو سفیان سے کرادے۔ اب بھی یقینا اسی طرح کی باتیں کی جارہی ہوں گی۔ لیکن اس جذبے، جرأت اور بہادری کی مثال کہاں تلاش کی جائے کہ یہ زخمی مسلمان بجائے صورتحال سے متأثر ہونے کے اور زیادہ ثابت قدمی کی تصویر بن گئے۔ ان کا ایمان جو پہلے ہی کسی کے سامنے جھکنے کو تیار نہ تھا اب تو اور بھی روشن ہو کر روشنی دینے لگا۔ اور انھوں نے وہ بات کہی جو ہمیشہ وہ لوگ کہا کرتے ہیں جنھیں اللہ پر بےپناہ یقین ہوتا ہے۔ بےساختہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ ہمارا بہترین کارساز ہے ) ہر قوت کی ایک انتہا ہے، اللہ کی قوت کی کوئی انتہا نہیں۔ انسانی لشکر بہت مختصر ہیں، اللہ کے لشکروں کا کوئی شمار نہیں۔ حوصلہ اور ولولہ حالات دیکھ کر بنتا اور بگڑتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے ان کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا راستہ بحر قلزم نے روک لیا اور خبر ملی کہ فرعون اور اس کی فوجیں سرپر پہنچا ہی چاہتی ہیں۔ بنی اسرائیل چیخ اٹھے کہ اب ہمارے پکڑے جانے اور تباہی اور بربادی میں کیا دیر ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو اللہ پر بھروسے کی علامت تھے پوری قوت سے دھاڑے : کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنَ (ہرگز نہیں ! بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے بحر قلزم کی موجوں میں بھی راستہ دے گا) یہی جذبہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں بھی تھا۔ حالات کچھ اور کہہ رہے ہیں لیکن ان کا ایمان صرف ایک زبان جانتا ہے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، جس کی کارسازی وہ کرتا ہے اور جس کا پشت پناہ وہ بن جاتا ہے اسے دنیا کی کوئی قوت شکست نہیں دے سکتی۔ صحابہ ہراساں ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ عزیمت و استقلال کا پیکر بن کراٹھے۔ کیا غم ہے اگر ساری خدائی ہو مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو جب یہ خبر پہنچی کہ ہماری افواہیں پھیلانے اور مسلمانوں کے زخمی ہونے کے باوجود بجائے اس کے کہ مسلمان حوصلہ ہارتے اور کسی کمزوری کا اظہار کرتے ان کی ایمانی قوت کا عالم تو یہ ہے کہ وہ تو ہمارے تعاقب میں چل پڑے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ کمزور پڑگئے ہیں، وہ کمزور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں۔ وہ تو مصائب کی بھٹی سے کندن بن کرنکلے ہیں۔ تو ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں کے مشورے سے یہی مناسب سمجھا کہ جو فتح میسر آگئی ہے اسی کو غنیمت سمجھاجائے۔ اور زیادہ کی خواہش میں پہلی عزت بھی نہ گنوا دی جائے۔ چناچہ قریش کا لشکر بجائے مدینہ کی طرف آنے کے مکہ کی طرف روانہ ہوگیا مسلمان حمراء لاسد تک پہنچے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ دوشنبہ، منگل اور بدھ یعنی 9، 10، 11 شوال تک وہیں مقیم رہے۔ قرب و جوار کی بستیوں اور قبائل سے بھی لوگ پہنچے اور عربوں کی روایت کے مطابق وہاں ایک بازار لگ گیا اور تجارت شروع ہوگئی۔ چناچہ مسلمانوں نے تین دن تک خوب تجارت سے فائدہ اٹھایا اور قرب و جوار کی بستیوں میں خود بخود یہ پیغام پہنچ گیا کہ مسلمان زخمی ضرور ہیں لیکن کمزور نہیں۔ وہ زخمی شیر کی طرح پہلے سے زیادہ دشمن کے لیے خطرناک ہوگئے ہیں۔ اسی کو اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے فرمایا کہ تین چار روز کے بعد مسلمان مدینہ طیبہ کو واپس لوٹے اور ان تین چار دنوں میں اللہ کی نعمت اور اس کے احسان سے خوب فائدہ اٹھایا اور کسی قسم کی تکلیف اور ناگواری سے انھیں کوئی سابقہ پیش نہیں آیا۔ اور اس کا سبب صرف یہ تھا کہ انھوں نے ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا کو اپنی منزل بنالیا تھا تو جو قوم اللہ کی رضا کو اپنی منزل بنا لیتی ہے اور وہی اس کا مقصد ومنہاج بن جاتا ہے وہی اس کا ہدف ٹھہرتا ہے اور وہ اسی کے لیے جیتی اور مرتی ہے تو اللہ کبھی انہیں مایوس نہیں ہونے دیتا۔ اللہ بڑے فضل والا ہے، اس کے یہاں فضل وانعام کی کوئی کمی نہیں۔ دنیا کے پاس سوائے جھوٹے بہلاو وں کے اور کیا رکھا ہے۔ جس نے اس راز کو پالیا اس کی زندگی پر ناکامی کے سائے نہیں لہراتے۔ مومن صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتاہے اگلی آیت کریمہ میں ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جو حق و باطل کے معرکے میں نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ دشمن کبھی اپنی افرادی قوت اور کبھی اپنے وسائلِ جنگ سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دشمن کے یہ حربے دراصل شیطان کی چالیں ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی طرح مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی ہر چال اور اس کی ہر تدبیر پیشاب کے اٹھتے ہوئے جھاگ کی طرح بظاہر اٹھتا ہوا طوفان دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس کی حقیقت سوائے شیطان کی تدبیر کے اور کچھ بھی نہیں اور شیطان کی تدبیر اصحابِ ایمان کے سامنے مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔ اس لیے جب بھی کبھی کفر کی قوتوں سے سابقہ پیش آئے تو مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امکان کی حدتک تیاری کریں اپنے گھوڑے تیار رکھیں، مناسب تدبیر سے گریز نہ کریں۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ دلوں کے کسی گوشے میں خوف کے سائے کو کبھی اترنے نہ دیں۔ دشمن سے ڈرنے کی بجائے ڈر صرف اللہ کا ہونا چاہیے کہ میرے کسی عمل یا میری کسی کوتاہی سے اللہ کے احکام کی تعمیل میں کمی پید انھیں ہونی چاہیے۔ ہر طرح کی صورتحال کے مطابق اللہ کے احکام کو سمجھ کر اس کی اطاعت و بندگی میں لگ جانا اور لگے رہنا یہ ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ رہی راستے کی مشکلات تو ان کے لیے وسائل فراہم کرنا یہ بھی ایک مومن کا فریضہ ہے۔ لیکن اس کے بعد بھروسہ اور توکل صرف اللہ پر ہونا چاہیے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ مومن کبھی اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ وسائل اگر ہوں تو وسائل کو اپنے ساتھ لیتا ہے۔ لیکن وسائل میں کمی اس کے دل میں ہیجان کا باعث نہیں بنتی۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ پر ایمان سب سے بڑی قوت ہے۔ اگر میں مومن ہوں تو پھر غیر اللہ سے ڈرنا زیب نہیں دیتا۔ اس لیئے یہاں زور دے کر فرمایا کہ کافروں سے مت ڈرومجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو یعنی مومن کے لیے یہ رویہ لازم وملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ کافر اسے بیشک ڈرائے کہ ہم تمہیں تباہ و برباد کردیں گے، تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے، تمہارا ملک تباہ کردیا جائے گا، تمہارے ملک کو غاروں میں تبدیل کردیا جائے گا، تمہیں پتھر کے دور میں داخل کردیا جائے گا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایک ہی جواب ہونا چاہیے کہ مومن اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور کسی کے ظلم کے سامنے جھکتابھی نہیں۔ وہ شیخی نہیں بگھارتا لیکن شیخی بگھارنے والوں کے سامنے ریشہ ختمی بھی نہیں بنتا۔ یہی وہ حقیقی قوت ہے جو سب سے بڑا ہتھیا رہے۔ اقبال نے اس ہتھیا رکے بعد ہر ہتھیار سے بےنیاز ہوجانے کی بات کی ہے۔ لیکن میں تو یہ کہتا ہوں کہ وسائل کی فراہمی بھی جائز حدتک امت پر فرض ہے۔ لیکن حوصلے اور امنگیں صرف اللہ کے ساتھ توانا ہوتی ہیں۔ اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
Ayahs 3:176–177

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو کفر کی راہ میں سبقت کررہے ہیں وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، ان کے لیے بڑا عذاب ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے ایمان سے کفر کو بدلا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

وَلاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْکُفْرِ ج اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا ط یُرِیْدُاللّٰہُ اَلَّا یَجْعَلَ لَھُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاالْـکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو کفر کی راہ میں سبقت کررہے ہیں وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ بیشک جن لوگوں نے ایمان سے کفر کو بدلا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے) (176 تا 177) حالات کی دگرگونی کے باوجود آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو التفاتِ خصوصی سے نوازا گیا ہے اور تسلی دی گئی ہے کہ جنگ احد کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے آپ اس سے ہرگز غمگین نہ ہوں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے جنگ بدر کے بعد نفاق کا نقاب اوڑھ لیا تھا انھوں نے نقاب الٹ دیا ہے۔ اب وہ اعلانیہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں بلکہ آیت کے اسلوب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے خلاف ان کی تگ ودو صرف مدینہ تک محدود نہیں بلکہ وہ قریش اور دوسرے مسلمان دشمن قبائل سے رابطے میں ہیں اور وہ برابر انھیں اکسا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی طاقت کو جنگ احد میں بہت نقصان پہنچا ہے یہ موقعہ ہے کہ مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی جائے اور انھیں سنبھلنے کا موقعہ نہ دیا جائے۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جس کا اعجاز اور جس کی تأثیر بےمثال ہے۔ اس کا سننے والا مشکل سے ہی اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ کی تبلیغ و دعوت اپنے اندر اپیل کی وہ شان رکھتی ہے کہ جس سے عہدہ برآہ ہونا کفار کے لیے آسان نہیں۔ اس لیے ان کی کوشش یہ تھی کہ جو کرنا ہے وہ جلدی کیا جانا چاہیے کیونکہ مسلمانوں کو جتنا موقعہ ملے گا وہ اتنا ہی لوگوں پر اثر انداز ہو کر اپنی افرادی قوت بڑھاتے چلے جائیں گے۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ کفر کی ساری قوتیں بھی ان کے سامنے بےبس ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ ان کی اس دوڑ بھاگ کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی مساعی مذمومہ اور اسلام دشمنی کے لیے بےچینی آپ کے سامنے تھی۔ اس لیے اس کا دل پر اثر ہونا ایک ناگزیر بات تھی۔ پیغمبر کا دل تو ایک آئینہ ہوتا ہے، حالات کی ہر لہر اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انسانوں کا ایمان سے دور رہنا پیغمبر کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں رحمت بن کر آیا ہے۔ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ کوئی شخص جہنم کے راستے کا مسافر نہ رہے۔ لیکن جب لوگ ان کے اخلاص، وفاکوشی، لوگوں کے لیے ہمدردی و خیرخواہی اور ایمان کے لیے ان کی تڑپ سے متأثر ہونے کی بجائے کفر کی قوتوں کو توانا کرنے میں دوڑ بھاگ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ تو ان کا دل اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے پروردگار نے مداخلت فرمائی اور آپ کو تسلی دی کہ یہ لوگ جو کرتے ہیں انھیں کرنے دیجیے ان کے رویے کو آپ اپنے دل کا روگ مت بنائیے۔ یہ لوگ ہزار کوشش کریں اللہ کا، آپ کا اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ ان لوگوں نے چونکہ آپ کے ساتھ دشمنی اور منافقت میں انتہا کردی ہے اور حالات کے ساتھ مسلسل اپنا بہروپ بدلتے رہتے ہیں اس لیے پروردگار ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ آخرت میں انھیں بھی اللہ کی رحمت سے کچھ حصہ ملے چناچہ ان کے لیے عذاب عظیم کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ ان میں بطور خاص وہ لوگ جو اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے رہے لیکن جیسے ہی حالات نے پلٹا کھایا تو انھوں نے ایمان پر کفر کو ترجیح دینا ضروری سمجھا اور ایمان سے نکل کر کافر ہونے کا اعلان کردیا۔ وہ شائد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ طرزعمل اللہ کو یعنی اسلامی قوتوں کو نقصان پہنچائے گا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے ان کے لیے دردناک عذاب کا فیصلہ کردیا ہے اب وہ کسی رعائت کے مستحق نہیں۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

گمان نہ کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ جو ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم تو اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں کچھ اور اضافہ کرلیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ خَیْرٌلِّـاَ نْفُسِھِمْ ط اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ج وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (گمان نہ کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ جو ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں ان کے لیے بہتر ہے، ہم تو اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں کچھ اور اضافہ کرلیں اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے) (178) کفار کو وارننگ انسان میں اللہ نے بہت سی خوبیاں اور صلاحیتیں رکھی ہیں۔ لیکن ان تمام خوبیوں کے باوجود بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ حیوانیت سے پہلو بچا سکے کیونکہ اس کے اندر قدرت نے ایک حیوان بھی بٹھا رکھا ہے۔ اسے اگر انسانی صفات کا جامہ نہ پہنایا جائے یا اگر اس کی انسانی صفات کو اجاگر کرنے کے لیے ایمان کی پابندیاں نہ لگائی جائیں تو یہ کبھی بہیمانہ حرکتوں سے باز نہیں آتا اور ہمیشہ حیوانی فطرت کے مطابق اپنے اعمال بروئے کار لاتا ہے۔ آپ کسی بھی حیوان کو دیکھئے اگر آپ اس کے گلے میں رسہ ڈال کر رکھیں گے یا چابک آپ کے ہاتھ میں رہے گا تو وہ آپ کی متعین کردہ حدود کے اندر رہے گا۔ لیکن اگر آپ اسے کھیت میں کھلا چھوڑ دیں گے تو وہ پورے کھیت کو ویران کردے گا۔ یہ حیوانیت یقینا انسان میں موجود ہے اور اکثر اس کا اظہار بھی ہوتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حیوان کو اللہ تعالیٰ نے جوہرِ عقل جیسی نعمت عطانھیں فرمائی اور اسے خیرو شر کے معاملے میں وحی الہٰی کے نور سے بھی بہرہ ور نہیں فرمایا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دونعمتیں دے کر مکلف زندگی گزار نے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ معقولات میں عقل سے کام لے کر حیوانیت کے تقاضوں کو صحیح نہج دینے کی کوشش کرے اور جو معاملات بالائے عقل یا اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لیے وحی الہٰی کی راہنمائی قبول کرنے کا پابند ٹھہرایا۔ پھر مختلف وقتوں میں اپنے رسول بھیج کر اس راہنمائی کی ترغیب کا سامان کیا تاکہ انسانوں کے لیے اسے قبول کرنا آسان ہوجائے۔ لیکن یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اللہ کریم کی یہ تمام عنایات دھری رہ جاتی ہیں اور انسان اپنی بہیمانہ فطرت پر زندگی گزارنے پر اصرار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اس لیے سزا نہیں دیتے کہ ممکن ہے کبھی وہ راہ راست اختیار کرلے اسے سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا موقعہ ملنا چاہیے۔ پیغمبر باربار انھیں ہدایت کی طرف لانے کی کوشش جاری رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انھیں تنبہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن انسان جب دیکھتا ہے کہ میرے رویے پر منجانب اللہ کوئی قدغن عائد نہیں کی جارہی اور میری بدعنوانیوں پر میری گرفت بھی نہیں ہورہی تو وہ اس سے یہ سمجھتا ہے کہ میرا رویہ بالکل صحیح ہے ورنہ قدرت کے لیے کیا مشکل تھا کہ مجھے زبردستی اس سے روک دیا جاتا۔ اس آیت کریمہ میں اور دیگر مواقع پر بھی قرآن کریم نے جابجا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل قرار دیا ہے کہ ہم پکڑنے میں اس لیے جلدی نہیں کرتے کہ جنھیں راہ راست پر آنا ہے انھیں سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا موقعہ دیں اور جنھیں بہرصورت غلط راستے پر ہی چلنا ہے ہم انھیں بھی مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ کرنے اور اللہ کی نافرمانی کرنے میں جہاں تک جاسکتے ہیں چلے جائیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کوئی کمزور حکمران نہیں کہ اسے یہ اندیشہ ہو کہ اگر ان باغیوں کو جلدی نہ پکڑا گیا تو یہ مضبوط ہوجائیں گے اور پھر انھیں پکڑنا مشکل ہوجائے گا۔ اللہ کی طاقت کا مقابلہ کون کرسکتا ہے اور اس کی مملکت کی حدود سے کون نکل سکتا ہے ؟ جو بھی گناہ پر اصرار کرے گا یا باغیانہ روش پر بڑھتا چلا جائے گا وہ اپنا ہی پیمانہ بھرے گا اور اپنی فائل کو اتنا ضخیم کرلے گا کہ قیامت کے دن پھر اس کے لیے عذر کا کوئی موقعہ نہیں ہوگا۔ یہاں وہ اپنی جن حرکتوں کو عزت و افتخار کی علامت سمجھتارہا ہوگا وہی اس کے لیے توہین آمیز عذاب بن جائیں گی۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی (یہ سنت) نہیں کہ وہ چھوڑے رکھتا مومنوں کو اس حال پر جس پر تم تھے جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاک سے اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر آگاہ کردے۔ البتہ ! اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے توا للہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور اگر تم ایمان لائے اور تم نے تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے

مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَالْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَـآ اَنْـتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَالْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِـہٖ مَنْ یَّشَآئُ ص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِـہٖ ج وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَـکُمْ اَجْرٌعَظِیْمٌ۔ (اللہ تعالیٰ کی (یہ سنت) نہیں کہ وہ چھوڑے رکھتا مومنوں کو اس حال پر جس پر تم تھے جب تک الگ الگ نہ کردے پلید کو پاک سے اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر آگاہ کردے۔ البتہ ! اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے توا للہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور اگر تم ایمان لائے اور تم نے تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے) (179) احد کے حادثے کی حکمت الٰہی آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی انسانی دنیا کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ تک کی طرف سے اصلاح کی کوششوں کی آخری کڑی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں آئے گی۔ آپ پر نازل ہونے والی کتاب کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ دنیا کو گمراہی کی حالت میں چھوڑ دیا جائے جبکہ بروبحر میں فساد غالب آگیا ہے۔ اتنے بڑے کام کی بجاآوری اور اتنے عظیم انقلاب کے برپا کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک ایسی مضبوط جماعت کی ضرورت تھی جس جماعت کا ایک ایک فرد اخلاص اور تقویٰ میں کامل ہوتا۔ وہ باہمی فکری ہم آہنگی میں اس حد تک مضبوط ہوتے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے اور ان سے ٹکرانا کفر کی طاقتوں کے لیے آسان نہ ہوتا۔ لیکن اگر خدانخواستہ اس جماعت کا یہ حال ہوتا کہ نہ ان میں فکری ہم آہنگی ہوتی، نہ دلوں میں اخلاص ہوتا اور نہ عمل میں وحدت ہوتی تو بیشک ان کی تعداد ہزاروں سے بھی متجاوز ہوجاتی لیکن وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین پر مبنی صالح انقلاب لانے میں کبھی کامیاب نہ ہوتے۔ اللہ کا نبی جب لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتا ہے تو جیسے جیسے حالات آگے بڑھتے ہیں ویسے ویسے مومن اور کافر کے علاوہ ایک تیسرا عنصر بھی پیدا ہونے لگتا ہے جو حالات کے تیور پہچان کر اپنی وابستگیوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ مرغ بادنما کی طرح ہوا کے رخ پر اپنا رخ بدلتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جنھیں منافق کہا جاتا ہے۔ ہر نظریاتی جماعت میں جو دنیا کو بدلنے کے لیے اٹھتی ہے بہت کم ایسا ہوتا کہ اس طرح کے لوگ نہ پائے جائیں۔ چناچہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود تھی اور جنگ احد کے پہلے مرحلے میں اس کا اظہار بھی ہوگیا۔ مسلمانوں کی یہ جماعت جو دنیا کے سب سے نازک اور کٹھن کام کے لیے اٹھی تھی اگر اس تیسرے گروہ سے محفوظ نہ ہوتی تو وہ تو مار آستین کی مانند انھیں کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتے تھے کیونکہ جس قوم میں منافق اور غدار ہوتے ہیں وہ قوم قلعوں کی مالک بھی ہو تو اس کا کوئی قلعہ محفوظ نہیں ہوتا۔ چناچہ مسلمانوں کی حیثیتِ ملی کو دیکھتے ہوئے یہ بات ازبس ضروری تھی کہ ان کی صفوں کو ایسی ہر آلائش سے پاک کردیا جائے اور مسلمانوں میں سے ایک ایک فرد کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے دائیں بائیں لڑنے والاسپاہی کس کا ہے اور اس پر کہاں تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اس تطہیری عمل کی دو صورتیں ممکن ہوسکتی تھیں ایک تو یہ کہ ہر مسلمان کو غیبی طور پر یہ بتادیا جاتا کہ تمہاری جماعت اور معاشرے میں فلاں فلاں شخص منافق ہے اس پر اعتماد کی غلطی نہ کرنا۔ دوسرے لفظوں میں ہر مسلمان کو غیب کا علم دے دیا جاتا۔ ظاہر ہے یہ طریقہ اللہ کی سنت کے مطابق نہیں۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے اسی کا علم ذاتی اور کلی ہے۔ انسانوں کو حصول علم کے کئی ذرائع بخشے گئے ہیں وہ انہی سے کام لینے کا مکلف ہے۔ لیکن غیب کا علم اسے نہیں بخشا گیا۔ اگر ایسا علم اسے بخشا جاتا تو یہ جماعت میں تفریق اور انتشار کا باعث بن جاتا۔ البتہ ! مغیبات کا علم ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو عطا کرتا ہے کیونکہ اللہ اور پیغمبر کے درمیان جو علم اور اعتماد کا رشتہ ہے اور جس کے نتیجے میں پیغمبر دنیا کی ہدایت کے لیے آتا ہے اور وہ ہدایت کو جس طرح یقین اور ایمان کی قوت سے پیش کرتا ہے اور انسانوں میں یقین اور اذعان کی نعمت کو جس طرح عام کرتا ہے وہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنے اللہ کے ساتھ ایسا تعلق نہ رکھتاہو۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو علم کا بحرزخار بخشا ہے۔ اس معاملے میں کوئی ان کا ہمسر نہیں۔ لیکن اس علم کو قرآن کریم نے اطلاع علی الغیب یا اظہار علی الغیب کے نام سے تو یاد کیا ہے علم غیب کے نام سے یاد نہیں کیا کیونکہ علم غیب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ذاتی ہو کسی ذریعے اور واسطہ سے نہ ہو۔ کوئی اس کا عطا کرنے والا نہ ہو اور دوسری یہ بات کہ کلی ہو جزئی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ جو علم دینا چاہیں جس کی ضرورت سمجھیں وہ عطا فرمادیں لیکن اپنے طور پر علم ِ غیب کے خزانوں تک رسائی یہ صرف اللہ کی شان ہے۔ شیخ سعدی مرحوم نے اس حقیقت کو ایک مثال سے واضح فرمایا ہے۔ یکے پرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہ کنعانش ندیدی بگفت احوالِ ما برق جہانست دمِ پیدا و دیگر دم نہانست گہے برطاراعلیٰ می نشینیم گہے بر پشت پائے خود نہ بینیم اگر درویش برحالے بماندے سرِ دست ازدوعالم برفشاندے (مفہوم یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کسی نے پوچھا کہ جنابِ والا ! آپ کے صاحبزادے یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن مصر سے چلا تو آپ کو اپنے گھر میں اس کی خوشبو آگئی۔ لیکن کنعان کے کنویں میں جو چند میل کے فاصلے پر تھا آپ کو پتہ نہ چل سکا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمار احال تو بجلی کی مانند ہے ادھر چمکتی ہے ادھر ڈوب جاتی ہے۔ کبھی تو ہمیں بلند بالاخانے پر بٹھادیا جاتا ہے کہ ہم دنیا کو اپنے سامنے دیکھتے ہیں اور کبھی اپنے پائوں کی پشت کی خبر نہیں ہوتی۔ اگر درویش کو ایک ہی حالت پر رکھا جاتا تو وہ اس دنیا میں رہنے کے قابل نہ رہتا۔ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نبی کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہے ضرورت کے مطابق وہ ہر علم سے نوازا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ ساری دنیا سے الگ ممتاز اور بےمثل ہوتا ہے۔ اللہ کے مقابلے میں اس کا علم اتنا بھی نہیں جتنا سمندر کے مقابلے میں قطرہ۔ لیکن باقی مخلوق کے مقابلے میں وہ بحر ناپیدا کنار ہوتا ہے۔ لیکن جیسے میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اس علم کو علم غیب کے نام سے قرآن کریم نے یاد کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ : لا اقول لـکم انی اعلم الغیب (میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میں غیب کا علم جانتا ہوں) اور دوسری جگہ فرمایا کہ ” غیب کا علم صرف اللہ جانتا ہے “ اس لیے سعدی ( رح) نے کہا : علم غی بےکس نمی داند بجز پروردگار ہرک سے گوید کہ می داند ازو باور مدار مصطفیٰ ہرگز نہ گفتے تانہ گفتے جبرائیل جبرائیل ہرگز نہ گفتے تانہ گفتے کردگار (اللہ کے سوا علم غیب کوئی نہیں جانتا، جو کہے جانتا ہے اس کا یقین نہ کروکیون کہ مصطفیٰ ﷺ کبھی کچھ نہیں فرماتے جب تک حضرت جبرائیل وحی لے کر نہیں آتے اور جبرائیل کبھی کچھ نہیں کہتے جب تک اللہ تعالیٰ ارشاد نہیں فرماتے۔ ) مختصر یہ کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کو تمام وہ علوم بخشے گئے جو آپ کی شان کے لائق تھے اور جن کی آپ کے فریضہ منصبی کے لیے ضرورت تھی اور اس لحاظ سے کوئی آپ کی مثل نہیں۔ لیکن یہ آپ کا علم جس کی وسعتوں کو ہم نہیں جانتے علم غیب نہیں ہے۔ علمِ غیب صرف اللہ کی صفت ہے۔ عالم الغیب صرف اسی کو کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک اصطلاحی بحث ہے جو شخص آنحضرت ﷺ کے علم کا انکار کرے وہ غلط ہے اور جو آپ کے علم کو علم غیب قرار دے وہ بھی غلط ہے۔ حق یہ ہے کہ آپ کا علم عطائی ہے ذاتی نہیں۔ جزئی ہے کلی نہیں۔ انسانوں میں آپ جیسا کوئی نہیں اور اللہ کی شان سب سے بالا اور بلند ہے وہاں تک کسی کی رسائی نہیں۔ انسانوں کو غیب کا علم دینا چونکہ اللہ کی حکمت کے خلاف ہے اس لیے مسلمانوں کی پاکیزہ جماعت کو منافقین سے الگ کرنے کے لیے ایک ہی شکل باقی تھی کہ ایک ایسا معرکہ کارزار بپا ہوتا جس میں زرِ خالص الگ ہوجاتا اور کھوٹ الگ نکل جاتا۔ مخلصین پہچانے جاتے اور منافقین چھٹ جاتے چناچہ جنگ احد ایک ایسا ہی معرکہ تھا جس نے اس تلچھٹ کو الگ کردیا۔ خالص سونا باقی رہ گیا اور کھوٹ اور ہر طرح کی ملاوٹ والی چیز خود بخود الگ ہو کر پہچانی گئی۔ جنھیں خلعت شہادت سے نوازا گیا ان کی عزت میں چار چاند لگے اور جنھیں باقی رکھا گیا ان کے سر پر اسلامی انقلاب کا تاج سجایا گیا۔ منافقین میں سے بہت سوں کو اللہ نے ہدایت عطا فرمائی اور جو نفاق پر قائم رہے وہ ذلیل اور رسوا ہو کر طبعی موت مرے یا وطن چھوڑ گئے۔ آخر میں فرمایا کہ تمہارا کام اللہ کے ہر فیصلے پر یقین رکھنا اور اسے تسلیم کرنا ہے اور اس امتحان کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا ہے۔ اگر تم نے ایمان وتقویٰ کے ان تقاضوں کو سمجھا اور ان کو بروئے کار لانے میں اپنی صلاحیتوں کو جھونک دیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی خوشخبری نہیں ہوسکتی۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

گمان نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو ان کو اللہ نے اپنے فضل سے عطا کی ہے کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کریں گے ان کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایاجائے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے )

وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَـبْخَلُوْنَ بِمَـآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِـہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ ط بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ ط سَیُطَوَّقُوْنَ مَابَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ ع (گمان نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو ان کو اللہ نے اپنے فضل سے عطا کی ہے کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کریں گے ان کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایاجائے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے) (180) بخل بھی نفاق کی طرح اسلامی قافلہ کے لیے نقصان دہ ہے نفاق کا مرض جس طرح انسان کو اخلاص تقویٰ اور جہادی روح سے محروم کردیتا ہے اسی طرح اس کے اندرمال و دولت کی محبت بڑھ جانے کے باعث اسے بخیل بھی بنا دیتا ہے چونکہ اللہ سے تعلق کمزور پڑجاتا ہے اس لیے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے میں قسم قسم کے اندیشے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایسا شخص سوچتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے اگر میں نے اسے خرچ کرڈالا پھر میرا کیا ہوگا ؟ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ پہلے بھی اسے اللہ نے عطا کیا ہے اور آئندہ بھی اس کے خزانے بند نہیں۔ آدمی چونکہ اکتسابِ مال کے لیے محنت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرے پاس مال و دولت میری محنت کا نتیجہ ہے لیکن اسے یہ احساس نہیں ہو تاکہ محنت کا جذبہ، محنت کا موقعہ اور محنت کے وسائل کس نے مہیا کیے۔ یہ سب کچھ یقینا اللہ کا عطا کردہ ہے تو اس کے عطا کیے ہوئے مال میں سے اسی کے راستے میں خرچ کرنے میں بخل ایک بڑی جسارت ہے اور ساتھ ساتھ ایک بڑا جرم۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قیامت کے دن تمہارا جمع کیا ہوا مال سانپوں اور بچھوئوں کی شکل میں تمہارے گلے میں طوق کی شکل میں ڈال دیا جائے گا اور تمہیں بتایا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا وہ مال جسے تم خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ مزید یہ فرمایا گیا کہ بخیل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال بچا کررکھیں گے وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا حالانکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ تمہاری زندگی چند روزہ ہے کوئی پتہ نہیں کب بلاوا آجائے اور خود زمین اور اس کے بسنے والے بھی ہمیشہ نہیں رہیں گے اور آسمان کی چھت بھی ہمیشہ تنی نہیں رہے گی۔ ایک دن سب کو فنا ہونا ہے اور جو کچھ یہاں ہے اس کا اصل مالک اللہ ہے اور زمین و آسمان کی میراث اسی کی ملکیت ہے تو تم آخر مال و دولت کو بچا کر کہاں لے جاؤ گے ؟ ان میں سے ہر چیز اللہ کی طرف لوٹ کر جانے والی ہے۔ انسانوں کو بطور امانت ہر چیز بخشی گئی ہے اور اسی میں انسان کا امتحان ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں میں کیا حقوق و فرائض میں خرچ کرتا ہے یا اسے روک روک کر رکھتا ہے۔ جو شخص اس امتحان میں ناکام رہے گا وہ قیامت کے دن اس کی سزا پائے گا اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ اس کا مال اس کی گردن کا طوق بن جائے گا۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

اللہ نے سن لی ہے ان لوگوں کی بات جنھوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے ان کی بات اور ساتھ ہی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی اور ہم کہیں گے اب چکھو آگ کا عذاب

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی ہی کرتوت ہے اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ظالم نہیں

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَـآئُ م سَنَـکْتُبُ مَاقَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِحَقٍّ لا ج وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّـلْعَبِیْدِ ۔ (اللہ نے سن لی ہے ان لوگوں کی بات جنھوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں ہم لکھ رکھیں گے ان کی بات اور ساتھ ہی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی اور ہم کہیں گے اب چکھو آگ کا عذاب۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی ہی کرتوت ہے اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے ظالم نہیں) (181 تا 182) حق و باطل کی کشمکش میں جذبہ انفاق بھی ضروری ہے میں اس سے پہلے یہ بات عرض کرچکا ہوں کہ حق و باطل کی کشمکش میں ہر دور کے مسلمانوں میں جس طرح جذبہ سرفروشی اور جذبہ جہاد ضروری ہے کیونکہ اس جذبہ کے بغیر حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی ممکن نہیں۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جذبہ جہاد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں جذبہ انفاق بھی ہو کیونکہ کوئی جنگ مصارفِ جنگ کے بغیر تکمیل پذیر نہیں ہوتی۔ آج جبکہ ریاستیں اور حکومتیں مستحکم ہیں اور پھر ہر ریاست کے پاس مستقل ایک بڑی تعداد میں تنخواہ دار فوج بھی ہوتی ہے اس کے باوجود جب جنگ چھڑتی ہے تو قوم اگر فوجی مصارف کی ادائیگی میں تعاون نہ کرے اور اپنی فوج کی پشت پناہی کا فرض انجام نہ دے تو وہ ریاست کبھی جنگ میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں تو اسلامی ریاست نئی نئی وجود میں آئی تھی جس کا ابھی تک بیت المال مستحکم نہیں ہوا تھا۔ کوئی تنخواہ دار فوج موجود نہ تھی جب بھی جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی اسی وقت سپاہی بھرتی ہوتے اور اسی وقت مصارفِ جنگ کی فراہمی کا انتظام کیا جاتا۔ اگر مسلمانوں میں جذبہ جہاد نہ ہوتا تو لڑنے والے سپاہی کہاں سے آتے اور اگر جذبہ انفاق نہ ہوتا تو مصارفِ جنگ کہاں سے پورے ہوتے ؟ گذشتہ آیات میں جنگ احد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے پروردگار نے پہلے ان کوتاہیوں کی نشاندہی کی جن سے جذبہ جہاد متأثر ہوسکتا تھا پھر بخل کی مذمت فرمائی کیونکہ بخل کی موجودگی میں جذبہ انفاق پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ منافقین اللہ کی عظمت سے بےبہرہ ہیں پیشِ نظر آیت کریمہ میں مسلمانوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ جو منافقین جذبہ جہاد سے عاری ہیں وہی جذبہ انفاق سے بھی تہی دامن ہیں اور ان دونوں خوبیوں سے بےبہرہ ہونے کی وجہ سے وہ خداوندِ ذوالجلال کی عظمت سے بھی جاہل اور غافل ہیں۔ ان کے پیش رو یہودی جن میں متذکرہ بالا دونوں عیوب موجود تھے، توراۃ گواہی دیتی ہے کہ ان کی جسارتیں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ وہ بارگاہِ رب العالمین میں گستاخی کرتے ہوئے گھبراتے نہیں تھے اور یہ منافقین بھی جو مسلمانوں میں موجود ہیں یہ یا تو یہود ہی سے نکل کر آئے ہیں اور یا ان سے میل جول کی وجہ سے ان کی خباثتوں کے امین ہیں۔ اس لیے یہ بھی ایسی باتیں کررہے ہیں جو اس سے پہلے یہود کرتے تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا اور اللہ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے کی تلقین فرمائی تو اس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی اور آنحضرت ﷺ نے بھی یہ اسلوب اختیار فرمایا کہ مسلمانو ! اللہ تم سے قرض مانگتا ہے۔ اس اسلوب سے مراد یہ تھی کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی شخص کسی سے قرض لیتا ہے تو اس کا مفہوم طے شدہ ہے کہ اسے وعدے کے مطابق وقت مقررہ پر ادا بھی کرنا ہے اور اگر ادانہ ہو تو قرض دینے والے کا حق ہے کہ وہ مطالبہ کرے۔ اس طرح سے ہر قرض دینے والا اپنے اللہ سے اس قدر قریب ہوجاتا ہے کہ جس سے زیادہ قربت کا تصور بندے اور اللہ کے درمیان نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہود نے بجائے حقیقی مفہوم سمجھنے کے اس کا مذاق اڑایا کہ قرض چونکہ غریب آدمی مانگا کرتا ہے اور قرض دینے والا ہمیشہ امیر آدمی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کل اللہ میاں غریب ہوگئے ہیں اور ہم امیر ہیں، اس لیے پروردگار ہم سے قرض مانگ رہے ہیں۔ اسی طرح کی باتیں منافقین نے بھی کیں کیونکہ یہ انھیں کے پروردہ اور انہی کی زبان بولنے والے لوگ تھے اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کی طرف سے ایسے واقعات ظہور میں آئے کہ جس سے آج بھی ایمان میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ ابولدّحداح ایک صحابی ہیں انھیں جب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے قرض مانگا ہے اور آنحضرت ﷺ کی زبان فیض ترجمان نے اس کا اعلان فرمایا ہے تو وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر عرض کیا کہ سرکار میں نے سنا ہے اللہ نے ہم ناچیز بندوں سے قرض مانگا ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں۔ پوچھا : حضور اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ ابولدّحداح نے کہا : حضور ہاتھ آگے بڑھائیے۔ آپ نے ہاتھ بڑھایا۔ انھوں نے اپنا ہاتھ حضور کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے عرض کیا کہ میرے پاس دو باغ ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں دونوں ہی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : نہیں۔ اس پر وہ بولے کہ میرے دو باغوں میں سے ایک بڑا ہے اور زیادہ قیمتی ہے دوسرا چھوٹا ہے۔ میں بڑا باغ آپ کو گواہ بنا کر اللہ کو قرض دیتا ہوں۔ پھر اجازت لے کر اٹھے تو باغ کے کنارے پر کھڑے ہو کر اپنی بیوی کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آجاؤ۔ انھوں نے حیران ہو کر کہا کہ آپ اندر کیوں نہیں آتے ؟ انھوں نے کہا : میں اپنا باغ، اپنا گھر اور گھر میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کو قرض دے چکا ہوں۔ اس لیے تم بچوں کو لے کر نکل آئو، اب اس پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ اس پر وہ جنتی خاتون بولیں کہ دحداح کے باپ آپ نے بہت اچھا سودا کیا، اس سے بہتر سودا ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن منافقین چونکہ اس جذبے سے عاری تھے بلکہ اس کے بالمقابل ان کے اندر دوسرے جذبات پرورش پاچکے تھے انھوں نے مذاق اڑایا۔ ایک بدچلن اور اوباش آدمی کا مذاق جواب کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لیے پروردگار نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ ! اس پر نہایت اختصار سے ایک بات فرمائی جو بلاغت کی شاہکار ہے اور جس کے اندرون میں اللہ کا جو غضب مضمر ہے اسے محسوس کرتے ہوئے پتہ پانی ہونے لگتا ہے۔ فرمایا :” ان منافقین نے جو کچھ کہا ہم اس کو لکھ رکھیں گے “۔ لکھ رکھنے کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ ان کی یہ یا وہ گوئی اگرچہ جواب کے قابل نہیں لیکن نظر انداز کرنے کے بھی قابل نہیں۔ یہ دنیا دارالعمل ہے سزا کی جگہ نہیں۔ اس لیے ان کی یہ فائل اس وقت نکالی جائے گی جب یہ جواب دہی کے لیے اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور مزید فرمایا کہ ہم نے ان کے صرف اسی جرم کو نہیں لکھا بلکہ ان کے پیش رو جن کے تربیت یافتہ اور جن کی اولادیں آج قوم کو ایسی جسارتیں دے رہی ہیں ان کے اس عمل کو بھی ہم لکھ رکھیں گے جو انھوں نے ناحق نبیوں کے قتل کی صورت میں کیا تھا۔ دھرتی کے سب سے سچے لوگ جن سے دھرتی کی آبرو باقی ہے اللہ کے نبی ہوتے ہیں۔ لیکن ان ظالموں نے تو اللہ کے نبیوں کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کیا اور وہ قتل کرتے ہوئے جانتے تھے کہ ہم انھیں حق گوئی کی پاداش میں قتل کررہے ہیں کسی حق کی بنا پر نہیں۔ جس طرح اللہ کے نبی کو قتل کرنا سب سے بڑا جرم ہے کیونکہ وہ دنیا میں اللہ کا سفیر ہوتا ہے اور سفیر کا قتل ریاست کی عزت و حرمت کے قتل کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی کسی بات کا مذاق اڑانا براہ راست اللہ کی عزت و حرمت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ یہ دونوں جرم چونکہ ایک ہی نوعیت کے ہیں اس لیے دونوں کو ایک ہی فائل میں محفوظ رکھیں گے اور قیامت کے دن یہ فائل ان کے سامنے کھلے گی اور ہم ان سے یہ کہیں گے کہ یہ ہیں تمہارے جرائم اور ان کی کم سے کم سزا یہ ہے کہ بھسم کردینے والی آگ کا عذاب چکھو۔ اب تم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ لاریب یہ سزا بہت سخت ہے۔ لیکن یہ تمہارے کرتوتوں کی جزا ہے۔ تمہارے کرتوت تو اس سے بڑی سزا کے طالب ہیں۔ اللہ بندوں کے لیے ہرگز ظالم نہیں کہ وہ بےسبب کسی کو سزا دے۔