3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:50–51

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

میں تصدیق کرتا ہوا آیا ہوں اپنے سے پیشتر سے آئی ہوئی توراۃ کی اور اس لیے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لیے حلال ٹھہرائوں جو تم پر حرام کردی گئیں اور میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَلِاُحِلَّ لَـکُمْ بَعْضَ الَّذِیْنَ حُرِّمَ عَلَـیْـکُمْ وَجِئْتُـکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ قف فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّـکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَـقِیْمٌ۔ (میں تصدیق کرتا ہوا آیا ہوں اپنے سے پیشتر سے آئی ہوئی توراۃ کی اور اس لیے آیا ہوں کہ بعض ان چیزوں کو تمہارے لیے حلال ٹھہرائوں جو تم پر حرام کردی گئیں اور میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کر، یہی سیدھی راہ ہے) (50 تا 51) میری دعوت اور میری شخصیت نہ بنی اسرائیل کے لیے اجنبی ہے اور نہ توراۃ کے لیے۔ میں توراۃ کی شریعت کی تصدیق کر رہا ہوں اور مجھ پر ایمان لانے والے اسی شریعت کے پابند ہوں گے اور میری شخصیت انہی احکام کی پابند ہے جن کا حکم توراۃ دیتی ہے اور بنی اسرائیل نے صداقت کے پیکروں کو جس سیرت و کردار کا حامل پایا ہے اور انھوں نے دکھ اٹھا کر جس طرح اللہ کے احکام اس کے بندوں تک پہنچائے ہیں میں ان میں سے ایک ایک بات کی تصویر ہوں۔ مزید یہ بات کہ میرے بارے میں تورات اور بعض دوسرے صحیفوں میں جو علامات اور صفات بیان ہوچکی ہیں ان کی روشنی میں مجھے اور میری دعوت کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ کیا تم مجھے اس سے ایک بال برابر بھی مختلف محسوس کرتے ہو ؟ البتہ ایک فرق ہے وہ یہ کہ تمہارے علماء نے اپنے من گھڑت فتو وں اور اپنے غلو کی وجہ سے جو باتیں حرام کر رکھی تھیں میں انھیں حلال کر رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی شریعت ہر طرح کی آلودگیوں سے صاف ہوجائے۔ اسی طرح بعض انبیائِ کرام کی طبعی عادتوں کو تمہارے فقہاء نے جس طرح شریعت میں داخل کر کے حلت و حرمت کے بنیادی تصور کو بگاڑا تھا میں اس کی بھی اصلاح کے درپے ہوں۔ پہلے نبیوں کی جو دعوت تھی میں اسی کی تجدید اور از سر نو تشہیر کے لیے آیا ہوں اور پوری قوت سے اس کا اعلان کر رہا ہوں کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔ عبرانی میں ” اب “ کا لفظ ” باپ اور رب “ دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ” ابن “ کا لفظ ” بیٹے اور عبد “ دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ جب کوئی لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہو تو سیاق وسباق سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہاں وہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چناچہ یہود نے ترجمہ در ترجمہ کی صورت میں سیاق کلام کو بدلا اور ” اب “ کے لفظ کو ” باپ “ کے معنی میں اور ” ابن “ کے لفظ کو ” بیٹا “ کے معنی میں مستقل طور پر متعین کر کے جہالت اور گمراہی کا ایک راستہ کھولا اور پھر اس پر ہر آنے والے نے نئی عمارت استوار کی اور عیسائی آج بھی اسی عمارت کی نگہبانی کے لیے اپنی دنیا اور آخرت برباد کر رہے ہیں۔ محولہ بالا گزارشات کو سمیٹ کر اگر ایک ترتیب سے بیان کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اساسی طور پر انہی نکات پر محیط تھی جن کی دعوت تمام پیغمبر دیتے چلے آئے تھے۔ وہ نکات یہ ہیں : 1 اقتدارِ اعلیٰ اور حقیقی کبریائی کا مالک صرف اللہ بزرگ و برتر ہے۔ اس کا اقتدار صرف اپنی مرضی منوانے کی حد تک نہیں بلکہ اس سے مراد اللہ کو ماننے والوں کی اطاعت کا وہ رویہ ہے جس سے ایک ایسا نظام اخلاق، ایک ایسا نظام تمدن اور ایک ایسی تہذیب وجود میں آتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی معرفت انسانوں میں نازل کرتا ہے اور اسی کی اطاعت و اتباع کو دنیوی و اخروی کامیابیوں کی ضمانت قرار دیتا ہے۔ 2 اللہ کے ہر حکم، اس کی ہر مرضی اور منشاکو جاننے کا ذریعہ چونکہ صرف اللہ کا رسول ہے، اس لحاظ سے وہی اس کے اقتدارِ اعلیٰ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے وہ جس طرح اپنی اطاعت کو لازم ٹھہراتا ہے، اسی طرح اپنے رسول اور نبی ﷺ کی اطاعت کو بھی لازمی حیثیت دیتا ہے بلکہ اپنے احکام کی تشکیل و تعمیر میں رسول کی حیثیت کو آخری سند قرار دیتا ہے۔ 3 وہ اپنی اطاعت اور اپنی خوشنودی کے حصول کو محض ایک آورش اور شخصی آئیڈیالوجی کا نام نہیں دیتا بلکہ پوری انسانی زندگی کے مسائل کا حل اور حلت و حرمت کی اساس اور جواز و عدم جواز کے پیمانے کے طور پر ایک کتاب نازل کرتا ہے، جس میں اپنے اساسی قوانین کو بیان فرماتا ہے، دستوری بنیادوں کو واضح فرماتا ہے اور اسے قانونی شکل دینے اور اس کے انطباق کی تمام صورتوں کے لیے اللہ کے رسول کو مجاز قراردیتا ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی نبی یا رسول آیا ہے اس نے انہی تین اساسی باتوں کی دعوت دی ہے اور یہی تینوں بنیادی اصول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کی بنیاد ہیں۔ کسی رسول کی دعوت کو دیکھ لیجئے ان اساسی نکات کے حوالے سے آپ کو ایک بال برابر بھی فرق نظر نہیں آئے گا۔ چناچہ جب ہم اناجیل اربعہ کو دیکھتے ہیں اگرچہ نہایت افسوس سے یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ ان اناجیل اربعہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشن کو اس وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا جس طرح قرآن کریم اسے بیان کرتا ہے۔ تاہم اگر تدبر سے کام لیا جائے تو آج بھی حکمت الٰہی کے جواہر اور موتی جابجا انجیلوں میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ بات کہ مسیح (علیہ السلام) صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائے تھے متی کی انجیل کی مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہے : ” تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر “ (متی 4: 10) ” تیری بادشاہی آئے تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو۔ “ (متی 6: 10) اندازہ فرمایئے ! جس طرح اللہ کی مطلق العنان، غیر مشروط اور ہر شرکت سے پاک بادشاہی آسمانوں پر دکھائی دیتی ہے وہی بادشاہی آپ زمین پر بھی انسانوں پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر اسی پر کفایت نہیں بلکہ مسیح (علیہ السلام) اپنے آپ کو نبی اور آسمانی بادشاہت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش بھی فرماتے تھے اور اسی حیثیت سے لوگوں کو اپنی اطاعت کی دعوت بھی دیتے تھے۔ چناچہ یہ وہ حقیقت ہے جو تمام انجیلوں میں جا بجا دکھائی دیتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر وہ اپنے خطبات اور ارشادات میں اللہ ہی کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور اسی کی فرمانبرداری کو آسمان کی بادشاہت کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ مذاہب کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ ہر نبی اور رسول کی دعوت کے یہی بنیادی نکات، ان کی قوموں کو مشتعل کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل ثابت ہوتا رہا کہ ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ کی اطاعت کا قلادہ اپنے گلے میں کیونکر ڈال لیا جائے۔ اسی طرح یہ بات بھی ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ جو شخص ایک عام آدمی ہو کر اللہ کی نمائندگی کا دعویٰ کر رہا ہے، ہم غیر مشروط طور پر اپنے آپ کو اس کی اطاعت کے سپرد کیسے کردیں ؟ اور زندگی کا جو ضابطہ وہ لے کر آیا ہے ہم اسے مان کر اور اپنے کندھوں پر اس کا جوا اٹھا کر اپنے آبائو اجداد کی تذلیل کیسے گوارا کرلیں ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لیے بھی یہی مشکلات راستے کا پہاڑ بن گئیں بلکہ ان کے لیے مزید ایک مشکل اور بھی پیش آئی، وہ یہ تھی کہ ان کے بڑے بڑے علماء پیشوایانِ دین، بڑی بڑی مسندوں کے سجادہ نشین اور مشیخیت اور تقدس کے بڑے بڑے دعویداروں نے محسوس کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ ہماری فتوحات کے راستے بند ہوجائیں، لوگوں کے دلوں سے ہماری عقیدت جاتی رہے، وہ ہمارے دام تزویر سے نکل کر اللہ کے راستے پر آجانے کی وجہ سے ہماری اصل شکل و صورت کو دیکھ کر ہم پر نفرین بھیجنے لگیں۔ ہماری آخرت تو پہلے ہی تباہ ہے اس کے نتیجے میں تو ہماری دنیا بھی تباہ ہوجائے گی۔ چناچہ امراء اپنی امارت کی وجہ سے، غرباء اپنے رسم و رواج کے باعث اور مذہبی طبقہ اپنی فتوحات کی حفاظت کی خاطر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگیا کہ کچھ بھی ہوجائے ہم اس نئے اٹھنے والے مبلغ اور مصلح کی بات نہیں چلنے دیں گے۔ چناچہ ان کے مذہبی قائدین نے مختلف طریقوں سے لوگوں کو آپ سے بدگمان کرنے کے لیے وہ تمام طریقے ایک ایک کر کے اختیار کیے جو ہمیشہ اہل حق کو بدنام کرنے کے لیے اختیار کیے جاتے رہے ہیں کیونکہ انھوں نے جب دیکھا کہ سیدنا مسیح (علیہ السلام) ہماری طرف سے مایوس ہو کر غریب لوگوں کو اپنی دعوت کا مرکز بنا چکے ہیں تو انھوں نے غریبوں کو جس جس طریقے سے اہل حق کے خلاف انگیخت کیا جاسکتا ہے، وہ تمام طریقے آزمانے کا فیصلہ کرلیا۔ قرآن کریم اگلی آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ فرما رہا ہے :
Ayahs 3:52–53

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیاتو آپ نے دعوت دی کہ کون ہے جو میرا مددگار بنے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار اور ہم ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی۔ سو تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ

فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْـکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ط قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ج اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ج وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ رَبَّـنَـآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ (اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ لیاتو آپ نے دعوت دی کہ کون ہے جو میرا مددگار بنے اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار اور ہم ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مسلم ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے اس چیز پر جو تو نے اتاری اور ہم نے رسول کی پیروی کی، سو تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ) (52 تا 53) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قوم کے قابل ذکر اور با اثر لوگوں سے مایوس ہو کر عام لوگوں کی طرف رخ فرمایا۔ اس سے ہمیں پیغمبروں کی سنت سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے اور حکمت تبلیغ کو جاننے کی بھی۔ پیغمبروں کی سنت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ دعوت تو سب کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن اپنا خصوصی ہدف ان لوگوں کو بناتے ہیں، جن کے بارے میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر یہ لوگ راہ راست پر آجائیں تو ان کے زیر اثر لوگ ان کی اس نئی تبدیلی کی پیروی کریں گے کیونکہ لوگوں میں ہمیشہ یہ کمزوری رہی ہے کہ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مَلُوْکِہِمْ (لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں) کسی بھی قوم کا فیڈ کرنے والا طبقہ بالعموم وہی لیڈ بھی کرتا ہے۔ جن باتوں کو وہ قبول کرلیتے ہیں وہی باتیں عام لوگوں کا معمول بن جاتی ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پیغمبروں کی دعوت میں ہمیشہ پیش نظر رہی ہے۔ مدینہ طیبہ میں حضرت اسعد بن زرارہ نے، حضرت مصعب بن عمیر کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی، چناچہ ان کی کوششوں نے عام لوگوں سے پہلے اسید بن حضیر اور سعد بن معاذ کو اپنا ہدف بنایا اور ان کے واسطے سے چند ہی دنوں میں ان کے قبیلوں کے بیشتر لوگوں کو مسلمان کردیا۔ آنحضرت ﷺ بھی اسی حکمت کے پیش نظر اشرافِ قریش کو اپنی توجہات کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ لیکن سورة عبس و تولی اور بعض دوسری آیات میں آپ کو توجہ دلائی گئی کہ ان تلوں میں تیل نظر نہیں آتا، آپ عام لوگوں کو اپنی توجہات کا مرکز بنایئے۔ عوام میں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو جن لوگوں کی طرف سے کسی حد تک پذیرائی ملی قرآن کریم نے انھیں حواری کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ حواری ” حَوَرَ “ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی لغت میں ” سفیدی “ کے ہیں۔ وجہ تسمیہ کے سلسلے میں لوگوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ یہ لوگ دھوبی تھے۔ دھوبی کا کام چونکہ کپڑے کو سفید کرنا ہے اس لیے انھیں حواری کہا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ یہ لوگ جب ایمان کی طرف بڑھے تو صفائیِ قلب اور اخلاص کے جوش سے بڑھے تو ان کی اسی قلبی صفائی کو دیکھتے ہوئے انھیں حواری کے نام سے یاد کیا گیا۔ مزید برآں ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ یہ لفظ عبرانی سے عربی میں آیا اور اس کے لغوی مفہوم میں اہل لغت کا اختلاف ہے۔ لیکن راجح تر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس لفظ کے معنی ” خیرخواہ، حامی، ناصر اور مددگار “ کے ہیں۔ جس طرح اوس و خزرج کے لوگوں نے اپنے اخلاصِ قلب اور نصرت و جانثاری سے آنحضرت ﷺ سے اپنے لیے انصار کا لقب حاصل کرنے کا اعزاز پایا، اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے پاکیزہ اطوار اور جوشِ فدائیت کی وجہ سے حواری، یعنی انصار کے نام سے پکارے گئے۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے اخلاص اور جانثاری کو دیکھتے ہوئے نہایت شفقت اور دل سوزی سے شب و روز ان کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہی لوگ داعی، نقیب اور آپ کے پیغامبر بن کر بنی اسرائیل کی ایک ایک بستی میں پہنچے۔ تاریخ اس سے متعلق کچھ زیادہ خبر نہیں دیتی کہ ان لوگوں کی کاوشوں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو نفوذ کا کہاں تک موقع ملا، لیکن آپ کے رفع الی السمآء کے بعد یہی لوگ ہیں جن کی محنت کے ثمرات پھیلتے پھیلتے ملکوں کو اپنے دامن میں لینے میں کامیاب ہوگئے۔ یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے یہ محسوس کرلیا کہ وہ مجھے مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ نے اپنی ساری توجہ کا رخ غریبوں کی طرف عموماً اور حواریوں کی طرف خصوصاً پھیر دیا۔ وہ مخالفتوں سے بالکل دلبرداشتہ نہیں ہوئے، حالات کے بگاڑ نے انھیں دل شکستہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے حواریوں اور عام لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِاس جملے میں بعض باتیں خود بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ حالات تمہارے سامنے ہیں، فرض ہم سب کو پکار رہا ہے، یہ وقت نہیں کہ میں اس کی اہمیت اور افادیت پر بحث کروں، ایک سوالیہ نشان تمہارے سامنے ہے کہ بتائو اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے کون میرا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے ؟ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے بغیر کسی تأمل کے اس راہ پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نتائج کچھ بھی ہوں، مجھے بہرحال ان طوفانوں سے ٹکرانا ہے۔ تم یہ بتائو کہ تم میرا ساتھ دینے کے لیے کہاں تک تیار ہو ؟ ” الٰی “ کا لفظ لا کر اظہارِ حقیقت کا حق بھی ادا کردیا کہ میں جس راستے کی دعوت دے رہا ہوں، وہ پھولوں کی سیج نہیں، اس میں قدم قدم پر بلائوں کا ہجوم ہے۔ وہ ایک طویل مسافت ہے جس میں کانٹوں پر چلنا ہوگا۔ اس راستے میں کہکشائیں نہیں ہوتیں بپھرے ہوئے طوفان ہوتے ہیں، جس میں چاروں طرف نہنگوں کے حملے بھی ہیں، جو شخص اپنی ذات کے تحفظ کا اسیر ہے اس کے لیے اس راستے میں کوئی جگہ نہیں ؎ یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری لیکن یہ کس قدر خوشگوار حیرانی کی بات ہے کہ وہ لوگ جن کے ایمان لانے کی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں، لیکن اللہ جب کسی دل کو نور ایمان سے بھرنا چاہتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ چناچہ اس راستے کی وہ مشکلات جسے برداشت کرنے کے لیے ایک طویل ریاضت چاہیے، اللہ کو جب منظور ہوتا ہے، وہ ایک جست میں تمام ہوجاتی ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے ؎ عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام اس زمین و آسمان کو بیکراں سمجھا تھا میں وہ بےساختہ پکار اٹھے نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہِ (ہم ہیں اللہ کے مددگار) اور آپ گواہ رہئے کہ ہم صرف دعویٰ کرنے والے لوگ نہیں بلکہ اس عظیم صداقت کو قبول کرنے کے بعد اس پر چلنے کے جو اور جیسے تقاضے ہیں، آپ ہمیں اس پر بھی ثابت قدم پائیں گے۔ غور فرمایئے ! حواری جس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ ” مسلم ہونا “ ہے اور پھر اسلام کے راستے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں، ان پر اپنے قول و عمل سے اور ضرورت پڑی تو قربانیوں سے شہادت کا حق ادا کرنا ہے۔ لیکن بعد میں حواریوں کے نام لیوائوں اور ماننے والوں نے اپنی ایمانی زندگی کو جس طرح نصرانیت کا نام دیا یہاں اس کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ وہ اپنی زندگی شہادتِ حق میں کھپا دینا چاہتے ہیں اور کتمانِ حق سے انھیں حد درجہ نفور ہے۔ لیکن بعد کے آنے والوں نے شہادتِ حق تو دور کی بات ہے کتمانِ حق کی ہی نہیں، انکارِ حق کی مثالیں قائم کیں۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے سوال اور حواریوں کے جواب کو دیکھتے ہوئے دو باتیں فوری طور پر ذہن میں آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اللہ کا کوئی رسول چاہے وہ اپنی ذات میں کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو اور بیشک اس کی پشت پر عناصرِ قدرت ہی کارفرما کیوں نہ ہوں اور بیشک اس کی ہمنوائی میں عناصرِفطرت اس کے ہمرکاب ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کا قانون یہ ہے کہ جس طرح زمین سے غذا پیدا کرنا کئی ہاتھوں کے تعاون سے ممکن ہوتا ہے، جس طرح دنیا کا ہر کام اسباب کی ترتیب سے وجود میں آتا ہے۔ سورج کا کام زمین سے پانی کھینچ کر ابر کی چادریں بچھانا ہے، لیکن ابر کا برسنا سورج سے ماورا ایک کام ہے۔ ابر برستا ہے لیکن زمین میں ایک خاص مقدار تک پانی کا سرایت کرنا اور باقی ندی نالوں میں واپس چلے جانا، یہ ابر کے بس کی بات نہیں۔ کاشتکار زمین میں ہل چلاتا ہے، سہاگہ دیتا ہے، تخم ریزی کرتا ہے، نگہبانی کے فرائض انجام دیتا ہے، لیکن زمین کے سینے سے غلے کا اگانا، پھر اس کو رفتہ رفتہ بڑھانا، کاشتکار کی قدرت سے باہر کی چیز ہے۔ پھر خوشہ گندم میں دانوں کا پکانا اور پھلوں میں گداز پیدا کرنا یہ زمین کا نہیں سورج اور چاند کا کام ہے۔ مختصر یہ کہ یہاں ہر چھوٹا بڑا کام اپنے اتمام کو پہنچنے کے لیے اسباب کا محتاج ہے حالانکہ جس پروردگار نے یہ اسباب پیدا فرمائے ہیں، وہ براہ راست بھی ہر کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے پیغام کا لوگوں تک پہنچنا، دلوں میں سرایت کرنا، قبولیت کی صورت اختیار کرنا، عمل کے قالب میں ڈھلنا، ایک تحریک بن جانا، پھر انقلاب کی صورت بن کر لا دینیت کے خس و خاشاک کو بہا کے لے جانا اور اللہ کی زمین پر اللہ کے نام اور اس کے پیغام کا ڈنکا بجنا صرف اللہ کے نبی کا کام نہیں۔ اللہ کا نبی یقینا اس کام کا داعی، اس کی تشکیل دینے والا، اس راستے میں استقامت کی تصویر، حق کا علمبردار، مینارہ نور، اپنی ذات میں حجت کامل اور پیغام اور معجزات کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود تنہا اس انقلاب کو برپا نہیں کرتا جسے اعلائے کلمتہ الحق کہتے ہیں، جو اللہ کے نبیوں کے پیش نظر ہوتا ہے۔ وہ جس طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے، اللہ سے مدد مانگتا ہے، اسی طرح وہ لوگوں سے بھی مدد چاہتا ہے اور پروردگار کے حضور یہ درخواست کرتا ہے یا اللہ ! اسلامی دعوت کی توانائی کے لیے عمر یا ابوجہل میں سے کسی ایک کو اسلام کی توفیق دیدے۔ وہ بار بار لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی اللہ سے التجائیں کرتا ہے۔ ایک ایک دروازے پر دستک دیتا ہے، ، ایک ایک کا دامن کھینچتا ہے کہ لوگو ! اس کام میں میرا ساتھ دو ، میں تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہوں۔ یہ وہ سنت رسالت ہے جو تمام انبیاء و رسل میں برابر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ جیسے جیسے حالات ناموافق اور سرکش ہوتے جاتے ہیں، ویسے ویسے پیغمبر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے ساتھ ساتھ بندوں کو بھی زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرتِ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی انبیاء و رسل کی اسی سنت کے مطابق حواریوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے مدد اور نصرت کے لیے پکارا۔ ممکن ہے اس سوال کی تفصیلات کچھ اور بھی ہوں جس کا قرآن کریم نے ذکر نہیں کیا، لیکن حواریوں کے جواب سے وہ مترشح ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان سے صرف یہی نہیں کہا گیا کہ مخالفین مخالفت میں سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں، ان کے دل اللہ کے دین کے لیے پتھر ہوگئے ہیں، میں یہ نعمت عظمیٰ تمہارے پاس لے کے آیا ہوں، آگے بڑھو اور اپنی قسمت بنا لو۔ معلوم ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہوگا کہ جس طرح یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں بلا کم وکاست بغیر خطرات کی پرواہ کیے اللہ کا دین لوگوں تک پہنچائوں اور پھر اس راستے میں مصائب پر استقامت دکھاتے ہوئے انھیں یہ سوچنے پر مجبور کر دوں کہ اگر یہ دین سچا نہ ہوتا تو اللہ کا یہ بندہ اس پر دکھ اور تکلیفیں کیوں اٹھاتا ؟ اور جن لوگوں کو میں دیکھوں کہ وہ علم اور عقل کی بات سمجھنے سے عاری ہیں تو میں اللہ کی توفیق سے ان کے سامنے معجزات بھی ظاہر کروں۔ اسی طرح تمہارا بھی یہ کام ہے کہ تم میری ہمنوائی میں اس دعوت کے دائرے کو پھیلا دو ، گلی کوچوں میں اس دعوت کو لے کر چیختے پھرو۔ دنیا کی مخالفتوں پر صبر کرتے ہوئے اللہ کے دین کی سچائی کی گواہی دے دو ۔ جب ایک بات بار بار بلند آہنگی سے اور خطرات سے بےنیازہو کر کہی جاتی ہے تو سننے والا یقینا یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس شخص کا ایک ایک قول اور ایک ایک عمل اور پھر اس پر بےپناہ صبر اس کی دعوت کی صداقت کی ایک ایسی دلیل اور گواہی ہے جس سے بڑی گواہی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اللہ کی بیشمار قدرتوں کا ظہور اس کے وجود کی گواہی ہے۔ اہل علم کا زندگی بھر علم کے زور سے اس کی ذات وصفات اور اس کے دین کی سربلندی کو ثابت کرنا یہ ان کی گواہی ہے۔ اسی طرح عام آدمی کا اللہ کے دین پر ایمان لا کر برے سے برے حالات میں اس کی موافقت کرنا، اسی کے نعرے لگانا، اسی کی تائید میں اپنا وزن ڈالنا، یہ بھی اللہ کے دین کی سچائی کی گواہی ہے اور اگر کبھی اس کی خاطر جان تک قربان کرنا پڑے تو جان بھی قربان کردینا، یہ وہ شہادتِ عظمیٰ اور سب سے بڑی گواہی ہے جسے ہمیشہ اہل حق نے دنیا میں انجام دیا اور کتنے پیغمبر بھی اس راستے میں یہ شہادت دیتے ہوئے کام آئے۔ معلوم ہوتا ہے جب بھی کافر اسلام دشمنی میں یکجا اور متحد ہوجائیں اور کفر کی قوتیں اپنے اثرات کو مسلمانوں کے گھروں تک پہنچا دیں اور مسلمانوں کی قوت سمٹتی ہوئی دکھائی دینے لگے اور کفر کا غلبہ بڑھتا جائے تو پھر جس طرح ہر مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اس راستے میں جھونک دے اسی طرح اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پھیپھڑوں کی پوری طاقت کو استعمال میں لاتے ہوئے اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین کی مدد کے لیے پکارے۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ کون سا موقع ہوگا جب اقبال نے سرعبدالقادر کو پکارا تھا، لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ وہ جس طرح ایک ایک مسلمان کو پکارتا تھا اسی طرح اس نے سر عبدالقادر کو پکارتے ہوئے کہا تھا ؎ اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خ اور پر بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں ایک فریاد ہے مانندِ سپند اپنی بساط اسی ہنگامہ سے محفل تہہ وبالا کر دیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ سننے والے سنتے ہیں یا نہیں، پکارنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ پکار پکار کر سننے والوں پر اتمامِ حجت کر دے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ سننے والے بھی ضرور سنیں گے اور اگر انسان نہیں سنیں گے تو آسمان کے فرشتے اتریں گے۔ اگر دل سخت ہوجائیں گے تو چٹانیں پھٹیں گی، اللہ کا دین سرنگوں ہونے کے لیے نہیں آیا، اسے کفر کبھی ختم نہیں کرسکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے دریا کے مچھیروں یا گھاٹ کے دھوبیوں کو پکارا اور اپنی ہمنوائی میں لے کر ان کے اندر وہ روح پھونک دی کہ خود تو اللہ کی مشیت کے مطابق آسمانوں پر اٹھا لیے گئے، لیکن آنے والے دنوں میں ان چند حواریوں کی مساعی نے دور دور تک اس دعوت کو پھیلایا اور آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری تک نصاریٰ میں جو ایک قابل قدر طبقہ باقی رہا جو بالآخر مسلمان بھی ہوا، وہ انھیں حواریوں کی محنت کا ثمر تھا۔ انھوں نے اپنی محنت سے اللہ کے دین کی شہادت دی تو اللہ نے ان کی زندگی اور ذکر کو ایسا دوام بخشا کہ ہمیشہ رہنے والی کتاب میں ان کا تذکرہ شامل فرما دیا۔ قرآن کریم میں اس عبرت آموز داستان اور فکر انگیز حقیقت کو بیان کرنے کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ قیامت تک اس کو مشعل راہ بنائے۔ جب بھی کبھی اس پر ایسا وقت آئے کہ کفر کی آندھیاں شمع ہدایت کو بجھانے کے لیے مجتمع ہوجائیں اور مسلمان کا لہو پانی سے ارزاں ہوجائے اور مسلمان بچیوں کی عزتیں اور عفتیں پتنگوں کی طرح کٹنے اور لٹنے لگیں اور امت مسلمہ کا اجتماعی وقار دھجیوں کی صورت ملک ملک اڑتا پھرے اور مسلمانوں کے سربراہ جن کے سپرد مسلمانوں کی پاسبانی، تاریخِ اسلام کی آبیاری اور اللہ کے آخری دین کی سربلندی ہے، وہ اقتدار کی ہوس میں اندھے ہو کر دنیا اور دولت دنیا کو اپنا ملجا و ماویٰ بنالیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے خوشامد اور غداری کی آخری حد تک جانے کو تیار ہوجائیں۔ طبقہ امراء دنیا اور دولت دنیا کو مقصد زندگی قرار دے کر ایک دوسرے سے تنافس میں لگ جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں ایمان بیچنا پڑے، مسلمانوں کی روایات کو پامال کرنا پڑے، تو وہ یہ سب کچھ کر گزرنے کو بھی تیار ہوجائے اور امت کے علماء اور مشائخ اس بات پر قانع ہوجائیں کہ ہماری فتوحات کا سلسلہ چلتا رہے اور حکمران ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ امت کا اتحاد پارہ پارہ ہوجائے، اجتہاد کے سوتے خشک ہوجائیں، امت سب سے بڑی افرادی قوت ہوتے ہوئے بھی دھرتی کا بوجھ بن جائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح محسوس ہونے لگے کہ کفر ہمارے وسائلِ حیات پر قابض ہونے کی فکر میں ہے اور اب شائد ہماری زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں تو اس وقت امت کی بقا کے لیے ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس کے صاحب علم، صاحب دل، اہل درد اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ اٹھیں، اپنی قلت تعداد کی پرواہ کیے بغیر گلی گلی کوچہ کوچہ حمیت اسلامی کی دہائی دیں، مسلمانوں کو ان کی روایات یاد دلائیں اور ان میں آخرت کی فکر پیدا کریں اور ایک ایک کا دامن کھینچ کر انھیں حالات کا آئینہ دکھانے کی کوشش کریں اور انھیں یقین دلا دیں ؎ اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا مسلمانوں کو اس پیش پا افتادہ حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ لا دینیت کا مقابلہ دین سے ہی کیا جاسکتا ہے قوت کا مقابلہ قوت اور اللہ پر بےپناہ بھروسہ ہی کرسکتا ہے۔ کافر اگر صلیبی دور کے بغض سے مسلح ہو کر میدان میں آیا ہے تو ہمیں بھی صلاح الدین ایوبی کی روح کو زندہ کرنا ہوگا۔ ہماری بقا صلیبیوں کی خوشامد میں نہیں بلکہ اللہ کے بھروسے پر اٹھ کھڑے ہونے میں ہے۔ آج ضرورت ہے کہ وہ آندھی جو افغانستان کو روند چکی اور عراق کو جلائے دے رہی ہے اس کے آنے سے پہلے اپنے ایک ایک تنکے کو سمیٹ لیں۔ اپنی منتشر طاقتوں کی شیرازہ بندی کرلیں۔ طوفانوں کے اٹھنے سے پہلے اپنے بند مضبوط کرلیں۔ پورے عالم اسلام کو دین سے بےوفائی کی سزا مل رہی ہے۔ ہم اس سے وفاداری کا اظہار کر کے اور اپنی سیرت و کردار کی خرابیوں کو دور کر کے اس کی تائید و نصرت کو اپنی طرف متوجہ کرلیں۔ مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب کہی جاتی ہے اور دنیا کے بیشتر وسائل پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ کمی اگر ہے تو سیرت و کردار میں پختگی کی، مقصد سے لگن کی، دین سے وابستگی کی اللہ ہی سے امید کی لو لگانے کی اور رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور اتباع کی۔ جدید اور قدیم علوم میں مہارت پیدا کرنے کی اور یہ فیصلہ کرنے کی ہے کہ ہمیں بہرصورت زندہ رہنا ہے، ہمیں ایک آبرومندانہ زندگی گزارنی ہے۔ ہم نے اپنے گھروں، اپنے گلی کوچوں اور اپنے اجتماعی اداروں کی منڈیروں پر حمیت کے چراغ جلانے ہیں۔ ہمیں دنیا کو محبت کا پیغام دینا ہے، لیکن بےغیرتی کے طشت میں رکھ کر نہیں۔ ہمیں دنیا کو مکارمِ اخلاق سے آگاہ کرنا ہے، لیکن فقیری اور ضعیفی کے ساتھ نہیں۔ ہمیں وسعت ظرف کا ثبوت دینا ہے، لیکن شرم و حیا سے خالی ہو کر نہیں۔ ہمیں صنف نازک کو زندگی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنا ہے، لیکن کر سٹن کیلر بنا کر نہیں بلکہ فاطمہ اور عائشہ بنا کر۔ ہمیں کسی سے لڑنے اور بگاڑنے کی بجائے اپنا گھر سنوارنا ہے، لیکن دوسروں کو اپنے گھروں میں داخلے کی اجازت دے کر نہیں۔ ہمیں لوگوں کو یہ باور کرانا ہے ؎ تم ہم سے ملو گے تو ہمیں پائو گے مخلص ہرچند کہ اخلاص کا دعویٰ نہیں کرتے ہم لوگ تو درویش ہیں کیا ہم سے الجھنا جو ہم کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے لازم ہے زمانے کو کرے قدر ہماری ہم لوگ کبھی لوٹ کے آیا نہیں کرتے
Ayah 3:54

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں اور اللہ نے بھی ان کا خفیہ توڑ کیا، اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے)

وَمَکَرُوْا وَمَکَرَاللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْرُالْمٰکِرِیْنَ ۔ ع (اور انھوں نے خفیہ چالیں چلیں اور اللہ نے بھی ان کا خفیہ توڑ کیا، اللہ بہترین توڑ کرنے والا ہے) (54) اس سلسلے میں صاحب تدبر قرآن نے اشارات میں چندباتیں کہی ہیں ہم بھی اسی پر اکتفا کرتے ہیں : لفظ مَکَرْ کا اصلی مفہوم مَکَر کے معنی ہیں کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی مخفی تدبیر کرنا۔ اس میں مذمت کا پہلو یہاں سے پیدا ہوا کہ مخفی تدابیر کا استعمال آدمی کی کمزوری کی دلیل ہے چونکہ عام طور پر صورت یہی ہوتی ہے کہ خفیہ تدبیریں کمزور لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس وجہ سے اس کی مذمت کا پہلو ذہنوں پر غالب ہوگیا اور یہ گمان کیا جانے لگا کہ مکر لازماً مذموم ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ خفیہ تدبیر بعض حالات میں کسی مکر کرنے والے کے مکر کے توڑ یا اس کی سزا کے طور پر بھی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ایک خفیہ چالیں چلنے والے کے خلاف اگر کوئی اعلانیہ انتقامی کارروائی کی جائے تو وہ اس کو ظلم و زیادتی قرار دے گا اور حالات سے ناواقف اس کو حق بجانب ٹھہرائیں گے۔ اسی طرح کوئی مخفی تدبیر کسی سازشی دشمن کے خلاف بعض اوقات اس کو متنبہ کرنے کے لیے اختیار کرنی پڑتی ہے تاکہ اس پر ظاہر ہوجائے کہ اس کی سازشیں مخفی نہیں ہیں، جن کے لیے وہ جال بن رہا ہے، وہ اس کے اس جال سے واقف ہیں۔ یہ چیز اس کو رسوا بھی کرتی ہے اور آئندہ کے لیے اس کو ایسی حرکتوں سے باز رکھنے میں بھی مددگار ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر سبق حاصل کرنے کی صلاحیت ہو، یہاں جس مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس سے مراد یہی مکر ہے جو حق کے دشمنوں کی سازشوں کے توڑ یا ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ اختیار فرماتا ہے۔ یہ تدبیریں ایسی تیربہدف ہوتی ہیں کہ دشمنوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور ساتھ ہی ان سے خلق کو بیشمار برکتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ وَاللّٰہُ خَیْرُالْمٰکِرِیْنَسے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح (علیہ السلام) کو یہود کے شر سے بچانے کے لیے کیا تدابیر اختیار فرمائیں تو اس کے جواب کے لیے موزوں موقع سورة نسآء میں آئے گا۔ حضراتِ انبیاء کی زندگی کی ایک مشترک حقیقت اس آیت میں جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی زندگی کی ایک مشترک حقیقت ہے۔ تمام انبیاء کی زندگی شہادت دیتی ہے کہ جب انھوں نے اپنی قوم کے اعیان و اکابر سے مایوس ہو کر اپنی پوری توجہ اپنے غریب ساتھیوں اور قوم کے عام لوگوں پر مرکوز کی ہے اور ان کی دعوت ان لوگوں کے اندر اپنے اثرات پھیلانے لگی ہے تو یہ اعیان و اکابر اس چیز کو اپنے اقتدار کے لیے ایک شدیدہ خطرہ سمجھ کر نبی کے خلاف مختلف قسم کی سازشوں میں مصروف ہوگئے تاکہ اس کے قتل کا کوئی بہانہ پیدا کر کے اپنے خیال کے مطابق اس مصیبت سے پیچھا چھڑائیں۔ سیدنا حضرت مسیح (علیہ السلام) کے خلاف یہود کی سازشیں یہ مرحلہ آزمائش یوں تو ہر نبی کی زندگی میں، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا پیش آیا ہے، لیکن ہم یہاں سیدنا حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق یہود کے اعیان و اکابر کی بعض سازشوں کا ذکر کرتے ہیں۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے علماء اور ان کے کاہنوں اور ان کے فقیہوں نے اس موقع پر حضرت سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے خلاف مختلف قسم کے جال پھیلائے۔ ایک تو انھوں نے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اسلاف کی روایات توڑنے اور بزرگوں کی توہین و تحقیر کا الزام لگایا تاکہ عوام کے جذبات ان کی خلاف بھڑکائے جاسکیں۔ دوسرا جال انھوں نے یہ بچھایا کہ اپنے مخصوص آدمی بھیج بھیج کر ان سے ایسے ایسے سوالات کیے جن کے جوابوں سے ان کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے کا مواد فراہم ہو سکے۔ یہ کام یہود کے فقیہوں اور فریسیوں نے بڑی سرگرمی سے انجام دیا اور مسیح (علیہ السلام) کی تمثیلوں اور تشبیہوں کے اندر سے انھوں نے اپنی دانست میں وہ مواد فراہم کرلیا جس کی بنیاد پر ان کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا جاسکے۔ تیسرا یہ کہ اس زمانے میں چونکہ ملک پر سیاسی اقتدار رومیوں کا تھا، اس وجہ سے ان کو بھڑکانے کے لیے مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے تو خراج کی ادائیگی سے متعلق سیدنا مسیح (علیہ السلام) سے سوالات کیے گئے، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ شخص لوگوں کو قیصر کو خراج دینے سے روکتا ہے۔ لیکن اس قسم کے سوالوں کے جواب سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے ایسے دندان شکن دیئے کہ علمائے یہود اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ پھر انھوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ شخص اسرائیل کا بادشاہ ہونے کا مدعی ہے۔ اس کے لیے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بعض تمثیلی اقوال سے مواد حاصل کرنے اور اس کے ذریعہ سے رومی حکومت کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ چوتھی تدبیر یہ کی گئی کہ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بارہ شاگردوں میں سے ایک شاگرد یہودا کو، جو منافق تھا، یہود نے رشوت دے کر اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ آنحضرت (علیہ السلام) کی مخبری کرے اور ان کو گرفتار کرائے۔ ان تمام سازشوں کی تفصیل انجیلوں میں موجود ہے۔ اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہ سارا مواد ایک مناسب ترتیب کے ساتھ یہاں جمع کردیتے، لیکن بہتر یہی معلوم ہوا کہ جس طرح قرآن نے صرف اشارے پر اکتفا کیا ہے اسی طرح ہم بھی اشارات پر اکتفا کریں۔ (ماخوذ از : تدبر قرآن) گزشتہ دو رکوعوں میں ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات وصفات کے بارے میں وہ باتیں پڑھی ہیں جو ان کے غیر معمولی شخصیت ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ایک جلیل القدر نبی تھے اور ان کے ساتھ پروردگارِ عالم کا خصوصی تعلق تھا اور دنیا میں انھیں آیت اللہ، کلمۃ اللہ اور حجۃ اللہ بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جس طرح رات کے پچھلے پہر طلوع سحر سے کچھ پہلے ایک ستارہ طلوع ہوتا ہے اور اسے ستارہ صبح کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی روشنی میں دوسرے سب ستاروں سے تیز ہوتا ہے۔ اپنے جسم اور اپنے حجم میں دوسروں سے زیادہ نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اکثر ستارے جیسے جیسے رات گہری ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے نمایاں ہوتے جاتے ہیں اور وہ اس وقت تک جھلملاتے رہتے ہیں جب تک سحر طلوع نہیں ہوتی یا آفتابِ عالم تاب منصہ شہود پر جلوہ گر نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ستارہ سب سے نرالا اور سب سے عجیب بن کے آتا ہے کہ طلوع اس وقت ہوتا ہے جب رات کی صف لپیٹی جانے والی ہوتی ہے۔ سب سے مختصرعمر لے کر آتا ہے، لیکن اپنے قدوقامت اور اپنی روشنی میں سب سے نمایاں اور سب سے وقیع ہوتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ باقی ستارے تو اپنے حصے کی روشنی بکھیرنے اور انسانی دماغوں کو خوشی دینے کے لیے آتے ہیں، لیکن یہ ستارہ اس بات کا پیغامبر بن کر آتا ہے کہ میں تمہیں ایک ایسے آنے والے کی خبر دینے کے لیے آیا ہوں جس کے آتے ہی تمام ستارے ماند پڑجائیں گے۔ سب کی روشنیاں بجھ کے رہ جائیں گی۔ میری روشنی اسی لیے سب سے زیادہ ہے کہ تم میری ذات کے آئینے میں اس آنے والے کو دیکھ سکوجس کے آجانے کے بعد حال یہ ہوجائے گا ؎ صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے لیکن انسانوں کی بدنصیبی کا کیا کہنا کہ وہ جو کسی کی خبر بن کے آیا تھا اور جس پر اترنے والی کتاب نے اس خبر کو یہ کہہ کر سند کا درجہ دے دیا : اِنِّیْ مُبَشِّرٌا م بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُہٗ اَحْمَدٌ (میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنانے والا بن کر آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا ) اس کی غیر معمولی ولادت اور اس کے حیران کن معجزات صرف اس لیے اسے دیئے گئے تھے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں، ہدایت کا راستہ اختیار کریں اور بطور خاص اس خوشخبری کو اہمیت دیں لیکن اسے بدنصیبی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ اس کی اعجازی ولادت، اس کے محیر العقول معجزات اور کارنامے اور غیر معمولی طور پر دنیا سے اس کا اٹھایا جانا اس کے ماننے والوں کے لیے ایک ایسا ابتلاء ثابت ہوا کہ وہ آج تک اس ابتلاء میں کامیابی کا کوئی راستہ نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بغیر باپ کے ” کلمہ کن “ سے پیدا ہوئے تھے اور اسی کلمہ کی نسبت سے آپ کو ” کلمۃ اللہ “ کا لقب عطا ہوا تھا۔ لیکن ان بدنصیبوں نے اسی کلمہ کو کلام کا ہم معنی قرار دے کر اللہ کی مستقل صفت کلام بنا ڈالا اور پھر اسی کی نسبت سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا بنایا اور مزید یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل اور قرآن میں ارشاد فرمایا کہ ” میں نے اپنی روح مسیح ابن مریم میں ڈالی “ تو اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ اس کے اندر چونکہ اللہ کی روح حلول کرگئی ہے اس لیے وہ اللہ کا ایک حصہ بن کر خدا کے منصب پر فائز ہوگیا ہے۔ حالانکہ بات بالکل واضح تھی کہ اللہ کے کلمہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق پہلا واقعہ نہیں بلکہ کائنات میں بیشمار چیزیں اس کے کلمہ کن سے پیدا ہوئیں۔ وہ خود فرماتا ہے کہ میں جب کسی چیز کو وجود دینے کا ارادہ کرتا ہوں تو کُنْکہتا ہوں تو وہ ہوجاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے ضرور پیدا ہوئے، لیکن آپ کی ماں تو بفضلہ تعالیٰ موجود تھیں، لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ لیکن آج تک کسی کو ان کے ابن اللہ یا اللہ ہونے کا کبھی شبہ نہیں ہوا۔ جس طرح پروردگار نے اپنی روح عیسیٰ (علیہ السلام) میں پھونکی اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی فرمایا نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (میں نے اس میں اپنی روح پھونکی) اس کے باوجود کسی نے بھی آج تک ان کو روح اللہ قرار دے کر اللہ کے منصب پر بٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ پھر ہم دیکھتے ہیں انھیں آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ حضرت زکریا نے جب اپنے بیٹے کے لیے دعا مانگی تو ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں اس قدر بوڑھا ہوچکا ہوں کہ میرا سر ہلنے لگا ہے اور میری ہڈیوں میں گودا تک نہیں رہا ہے اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے۔ بظاہر اسباب ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہونے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ (اے میرے رب ! مجھے اپنے پاس سے بیٹا عطا فرمایئے) کیونکہ میری ذات اور میری بیوی کی ذات میں ماں باپ بننے کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے اور جب فرشتوں نے بشارت دی کہ اللہ آپ کو ” یحییٰ “ کے نام کا بیٹا عطا فرمانے والے ہیں، جس کی یہ یہ صفات ہوں گی تو حضرت زکریا نے حیرت سے کہا کہ میرے یہاں بیٹا کیسے پیدا ہوگا ؟ اور یہی اظہارِ تعجب حضرت مریم نے بھی کیا جب فرشتے نے انھیں بیٹے کی بشارت دی تو یہ زکریا اور یحییٰ کا واقعہ اسی لیے بیان کیا گیا تھا تاکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے کہ تخلیق کا عمل سراسر اللہ کی قدرت کا اظہار ہے۔ وہ چاہے تو بانجھ ماں باپ کو اولاد دیدے اور چاہے تو کنواری لڑکی کو بغیر خاوند کے اولاد دیدے اور چاہے تو آدم کی طرح ماں باپ یعنی دونوں کے بغیر پیدا فرما دے۔ رہی تیسری بات کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمانوں پر اٹھا لیا، اگلی آیت کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔