Ayah 3:183اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَـآ اَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُط قُلْ قَدْجَآئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْـبَـیِـّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
(یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کہا کہ بیشک اللہ نے ہم سے اقرار لیا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لائے جس کو کھانے کے لیے آگ اترے۔ ان سے کہیے کہ تمہارے پاس مجھ سے پہلے کئی رسول آئے کھلی نشانیاں لے کر اور اس معجزہ کے ساتھ بھی جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے انھیں قتل کیوں کیا اگر تم سچے ہو) (183)
یہود کا خو دساختہ بہانہ
روئے سخن تو منافقین کی طرف ہی ہے لیکن یہاں ایک ایسی بات ذکر فرمائی جارہی ہے جس کا تعلق براہ راست یہود سے ہے۔ منافقین چونکہ یہود کے تربیت یافتہ اور انہی کی سی حرکتیں کرنے لگے تھے۔ گذشتہ آیت کریمہ میں انھوں نے جو کچھ کہا وہ سراسر یہود ہی کی صدائے بازگشت تھی۔ ان کے تربیت دینے والوں کے بارے میں چونکہ بات چھڑ چکی ہے اس لیے مزید ان کی ایک بات کا حوالہ دیا جارہا ہے کہ ان کا حال تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لانے کے بارے میں عذر پیش کرتے ہیں کہ ہم سے ہماری کتابوں میں یہ عہد لیا گیا ہے کہ ہم ایسے کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جس کی قربانی کو آسمان سے آگ نازل ہو کر نہ کھاتی ہو۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ جو قربانیاں دیتے تھے ان کی قبولیت کی شرط صرف دلوں کا اخلاص اور تقویٰ تھا اور اس کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتا تھا۔ یہود نے کہا چونکہ آپ کی قربانیاں سابقہ رسولوں کی طرح قبولیت کے لیے جلائی نہیں جاتیں اس لیے ہم آپ پر ایمان لانے سے قاصر ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بائبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ اللہ کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے بھسم کردیتی تھی۔ لیکن یہ بات کہیں نہیں فرمائی گئی کہ اس طرح کی قربانی سچا نبی ہونے کی علامت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیائے کرام کو مختلف معجزات عطا کیے ہیں کیونکہ یہی معجزات اللہ کے نبی کی پہچان ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض نبی اور رسولوں کو یہ معجزہ دیا گیا ہو تو کوئی مستبعد بات نہیں۔ لیکن یہود کا اسے نبوت کی علامت بنا لینا سراسر ایجادِ بندہ ہے جس کا بائبل میں کوئی ثبوت نہیں اور مزید یہ بات بھی کہ نبی کریم ﷺ جس دور میں تشریف لائے ہیں یہ دور وہ تھا جب دنیا علم کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ انسانی صلاحیتیں آگے بڑھنے کے لیے بےچین ہورہی تھیں۔ دنیا سمٹ کر ایک دوسرے کے قریب آنے والی تھی جس کی وجہ سے افادہ اور استفادہ میں آسانیاں بڑھ رہی تھیں۔ اس لیے اب وہ زمانہ قصہ پارینہ بن جانے والا تھا۔ جب لوگوں کو حیرت انگیز چیزیں دکھا کر حق کی طرف مائل کیا جاتا تھا۔ اب ضرورت اس بات کی نہیں تھی کہ قربانی کو آگ جلائے بلکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ انسان قربانی اور ایثار کا مجسمہ بنے اور بھوکا رہ کر بھی انسانوں کی ضروریات کو پور اکرے اور جتنا وہ قربانی اور ایثار میں آگے بڑھے گا اور جان مار کر اخفا کے ساتھ اللہ کے بندوں کی خدمت کرے گا اللہ اسے اتنی جلدی قبول فرمائے گا۔ اب اگر ایسا ہوتا کہ جو کچھ اللہ کے راستے میں پیش کیا جاتا قبولیت کے لیے آگ اسے جلاتی تو غریبوں کے کیا ہاتھ آتا ؟ قربان کرنے والے کو ایک سکون ضرورملتا کہ میں قبولیت سے نواز دیا گیا ہوں لیکن انسانی برادری کو اس سے کیا فائدہ پہنچتا۔ اسی لیے ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے محیر العقول معجزات میں قربانی کا معجزہ نہیں دیکھتے۔ بائبل اور قرآن کریم نے بعض بڑے بڑے انبیاء کا تذکرہ کیا ہے لیکن وہاں ہمیں اس قربانی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس لیے قرآن کریم نے ایسی بےسروپا بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ ! ان کی زبان درازی کو روکنے کے لیے ایک ایسی چبھتی ہوئی بات فرمائی ہے جس سے ان کی زبانیں یقینا گنگ ہو کر رہ گئی ہوں گی۔
آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے ان یہود سے کہئے کہ مجھ سے پہلے کئی ایسے رسول آئے جن کے ساتھ واضح معجزات موجود تھے اور وہ معجزہ بھی موجود تھا جس کا تم ذکر کررہے ہو یعنی قربانی کو آگ کا جلانا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسے نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی بجائے تم انھیں قتل کیوں کرتے رہے ہو۔ تمہارے لیے تو یہ کافی تھا کہ چونکہ ان کی قربانی کو آگ جلاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچے رسول ہیں تو ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کے قتل کے درپے ہونا آخر کس بات کا ثبوت ہے ؟ حق سے محبت کا یا حق دشمنی کا ؟ بائبل میں حضرت الیاس (ایلیاہ) کے متعلق لکھا ہے کہ انھوں نے بعل کے پچاریوں کو چیلنج دیا کہ مجمع عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں۔ جس کی قربانی کو غیبی آگ کھالے وہی حق پر ہے۔ چناچہ ایک انبوہِ کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس کی قربانی کھائی۔ لیکن اس کا جو کچھ نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی بعل پرست ملکہ حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے خون کے درپے ہوا اور ان کو مجبوراً ملک سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس ایک واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کا آتشیں قربانی کا معجزہ کیا معنی رکھتا ہے۔
Ayah 3:184فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَـآئُ وْبِالْـبـَیـِّنٰتِ وَالزُّبُرِوَالْـکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔
(پس اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں (تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں) تم سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے۔ جو کھلی ہوئی نشانیاں، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے) (184)
نبی کریم ﷺ کی طرف التفات اور تسلی
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے۔ قرآن کریم میں یہ مضمون متعدد مواقع پر گز رچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں کو دل و دماغ کے ایسے احساسات کے ساتھ پروردگار پیدا فرماتا ہے جن میں دنیوی نفع و نقصان کا احساس ہمیشہ مغلوب رہتا ہے البتہ ! جو احساس ہمیشہ انھیں پریشان اور دل گرفتہ رکھتا ہے وہ لوگوں کا ایمان نہ لانا ہے۔ اس سے بعض دفعہ پیغمبر کو یہ خدشہ ہونے لگتا ہے کہ لوگ جو ہدایت قبول کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے تو اس میں میری کسی کوتاہی کا دخل نہ ہو۔ شاید میری مساعی ناتمام ہوں۔ میرے دعوت دینے کے انداز میں کوئی کمزوری ہو، میں شاید اپنی بات کو پوری طرح سمجھا نہیں پارہا۔ اس طرح کے مختلف خیالات ہیں جو اللہ کے رسولوں کے آئینہ دل پر بال کی طرح اترتے ہیں اور ان کے نہاں خانہ کو ویران کرجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ یقینا ایسے خیالات سے سب سے زیادہ دوچار ہوتے تھے کیونکہ آپ کا کام سب سے زیادہ وسیع اور سب سے کٹھن تھا۔ اس لیے قرآن کریم بار بار آپ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم کی طرف سے آپ کا جھٹلایا جانا کوئی نئی بات نہیں قومیں اپنے محسنوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی معاملہ کرتی رہی ہیں۔ کتنے ایسے رسول گزرے ہیں کہ جنھوں نے زندگی بھر اپنی قوم کی اصلاح کی کوشش کی لیکن ان ظالموں نے یا تو انھیں قتل کرڈالا اور یا ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ دنیا کی یہ عجیب رسم ہے کہ یہ اپنے محسنوں سے لڑتی اور اپنے دشمنوں سے سازگاری پیدا کرتی ہے۔ وہ خون جگر پی پی کر ان کی بھلائی چاہتے ہیں اور یہ ان کے خون کے پیاسے بنے رہتے ہیں۔ ٹھیک کہا حفیظ نے ؎
زمانہ یوں ہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتاہے
وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے
مزید فرمایا کہ آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ آپ پر ایمان نہ لانے کا سبب شاید یہ ہو کہ کفار جو آئے دن نئے نئے معجزات طلب کرتے رہتے ہیں ان کے مطلوبہ معجزات انھیں دکھائے نہیں جارہے ورنہ ممکن تھا کہ وہ لوگ ایمان لے آتے۔ فرمایا : بگڑی ہوئی قومیں اپنے خاص اطوار رکھتی ہیں۔ ان کی طرف سے معجزات کی طلب ہدایت پانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ جیسے جیسے انھیں معجزات دکھائے جاتے ہیں وہ اور زیادہ بگڑتی چلی جاتی ہیں۔ ہر معجزہ کو جادو اور شعبدہ بازی کا نام دے کر ٹھکرادیا جاتا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ یہود کی طرف مختلف زمانوں میں جو رسول آتے رہے ان میں سے جو رسول بھی آیا وہ بینات لے کر، زُبر اور کتاب منیر لے کر آیا۔
بینات،” حسی معجزات اور مضبوط دلائل “ کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات کو بھی بینات قرار دیا گیا ہے۔ زُبر، زبور کی جمع ہے اس کے معنی ” ٹکڑے، قطعے اور صحیفے “ کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد انبیائے کرام کے وہ صحیفے ہیں جو توراۃ کے مجموعہ میں شامل ہیں اور کتاب منیر سے مراد یوں تو ہر کتاب ہوسکتی ہے لیکن یہود کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد توراۃ ہے۔ آنحضرت سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ وہ رسول بڑے بڑے معجزات بھی لے کرآئے، ان پر آسمانی صحیفے بھی اترے، توراۃ بھی ان کے ہاتھوں میں تھی، اس کے باجود کتنے ایسے رسول ہیں جن کو ان کی دشمنی اور بدباطنی سے واسطہ پڑا۔ اس لیے اگر آپ کی تکذیب کی جارہی ہے تو آپ اس سے پریشان نہ ہوں یہ تو اس راستے کی سنت ہے جسے برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔
Ayah 3:185کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّـۃَ فَقَدْ فَازَ ط وَمَاالْحَیٰوۃُ الدُّنْـیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔
(ہرجان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم قیامت کے دن پورے پورے اجر دیئے جاؤ گے۔ پس جو دوزخ سے بچایا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب رہا اور یہ دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سودا ہے) (185)
ایک دلیل اور اس کا جواب
اللہ کے رسول پر ایمان نہ لانے والوں اور دین کے دشمنوں کی ہمیشہ ایک دلیل رہی ہے کہ ہم اگر برسر باطل ہوتے اور ہماری زندگی اللہ کو ناپسند ہوتی تو ہمیں دنیا کے عیش ونشاط سے نہ نوازا جاتا اور تم اگر برسر حق ہوتے تو تمہارا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص شہنشاہِ کائنات کا نمائندہ بن کر آئے نہ اسے ڈھب کا کھانے کو ملے نہ پہننے کو اور معاشرے میں کوئی اسے منہ نہ لگائے اور اس پر ایمان لانے والے نان شبینہ کو ترسیں اور جو لوگ ان کے مخالف ہیں یعنی ہم، ہمیں نئی سے نئی نعمتوں سے نوازا جائے، قسم قسم کی آسودگیاں ہمیں میسر ہوں۔ کاروبار ہمارا چلے، باغ ہمارے لہلہائیں، معاشرے میں رسوخ ہمیں حاصل ہو، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو برسر حق ہونے کا دعویٰ ہے ان کا دعویٰ غلط ہے۔ انھیں اپنے دعوے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ قرآن کریم اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ نادانوں ذرا غور کرو ! کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں جو موت کا مزہ چکھنے سے بچ جائے۔ جو شخص دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن دنیا سے جانا ہے۔ یہاں کی چند روزہ زندگی دارالعمل بھی ہے اور امتحان بھی اور قیامت کے بعد کی زندگی ہمیشہ رہنے والی اور دارالجزا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر دنیا کی خوش عیشی برسر حق ہونے کی دلیل ہے تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ موت کی تلخی سب کو پیش آنے والی ہے۔ امراء بھی مریں گے اور غرباء بھی مریں گے۔ انجام تو سب کا ایک ہے۔ اس لیے کسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا بہت غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ اصل فیصلہ طلب بات یہ ہے کہ قیامت کے بعد کی زندگی جو ہمیشہ کی زندگی ہے اور جو ہر عمل کا بدلہ ملنے کی اصل جگہ ہے وہاں ہر شخص کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اگر یہاں کی خوش عیشیاں جہنم کا باعث بن گئیں تو اندازہ کیجیے ! کتنا بڑا خسران کا فیصلہ ہے اور اگر یہاں کی تلخیاں جہنم سے بچنے اور جنت کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوئیں تو پھر سوچ لو یہ چند روزہ تلخ زندگی کس قدر کامیابی کا باعث ہوگی۔ یہ سراسر ایک فریب ہے کہ یہاں کی خوش عیشی اور یہاں کا مال و دولت انسان کی کامیابی ہے۔ اگر یہ کامیابی ہوتا تو موت کے ایک جھٹکے سے فنا نہ ہوتا۔ حقیقی کامیابی جہنم سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہونا ہے۔ یہ ایسی کامیابی ہے جس پر محرومی کا سایہ کبھی نہیں پڑے گا۔ جس شخص نے یہاں کی خوش عیشی کو مقصد بنا کر اپنی زندگی اس کی نذر کردی وہ ایک ایسے فریب کا شکار ہوا جس سے نکلناآسان نہیں۔ اس کی مال و دولت جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے اس فریب کا جال اسے اپنے اندر کستا جاتا ہے۔ اس کی کڑیاں مضبوطی سے باندھتی چلی جاتی ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ اسے نہ کھانے کا وقت ملتا ہے نہ سونے کا۔ اس کی زندگی قابل رحم ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ دولت سمیٹنے میں صرف کردیتا ہے۔ اسے اس وقت ہوش آتا ہے جب موت کی طرف بلانے والا اس کے سر پر کھڑ اہوتا ہے۔ اس وقت اس جال سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا ہے اور چیختا ہے کہ میں نے ساری زندگی برباد کردی لیکن اب اس کی چیخ و پکار پر کوئی کان نہیں دھرتا موت کا عفریت اسے کھینچتے ہوئے وہاں لے جاتا ہے جہاں ڈوبنے والوں نے کبھی سر نہیں اٹھایا۔
Ayah 3:186لَـتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِـکُمْ وَاَنْـفُسِکُمْ قف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا ط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَـتَّـقُـوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔
(تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور تم ضرور سنوگے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تم سے پہلے اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک یہ عزیمت کے احوال میں سے ہے) (186)
مزید آزمائشوں کی خبر
جنگ احد پر تبصرہ کے سلسلے میں اس سے پہلے یہ بات ہم پڑھ چکے ہیں کہ جنگ احد مسلمانوں کے لیے آزمائش تھی، اس آزمائش کے ذریعے مسلمانوں میں جو مخلص اور منافق ملے جلے تھے انھیں الگ الگ نمایاں کردیا گیا تاکہ آئندہ کسی معرکے میں مسلمان اس سے بڑی کسی افتاد سے دوچار نہ ہوں۔ احد کے حادثے نے اگرچہ مومن اور منافق کو بہت حد تک الگ الگ کردیا لیکن ابھی تک منافقین کی ایک محدود تعداد مسلمانوں کے اندر موجود تھی اور جو لوگ اس وقت جنگ میں شریک ہونے سے قصداً پیچھے رہ گئے تھے بلکہ عین وقت پر انھوں نے دھوکہ دیا ان میں سے بھی کسی کو مسلمانوں کی صفوں سے نکلنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ انھیں یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنی اصلاح کرسکتے ہیں تو کرلیں۔ البتہ ! مسلمانوں کو اندازہ ضرور ہوگیا کہ کون کس جگہ کھڑا ہے۔ لیکن منافقین اور کمزور مسلمانوں کی ایک ٹکڑی تو آخر تک مسلمانوں کے ساتھ رہی۔ شاید اسی ضرورت کے تحت یہاں فرمایا جارہا ہے کہ مسلمانو ! تم ابھی اپنی جانوں اورا پنے مالوں کے بارے میں مزید آزمائے جاؤ گے اور یہی آزمائش ہے جو تمہارے زرِ خالص کو الگ کردے گی اور کھوٹ پوری طرح الگ ہوجائے گا۔ اسی طرح عام حالات میں بھی تمہیں اہل کتاب کی طرف سے نہایت تکلیف دہ باتوں کے زخم سہنے پڑیں گے اور مشرکین مکہ بھی اس معاملے میں پیچھے رہنے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ وہ الزامات کے تیر بھی چلائیں گے اور وقتاً فوقتاً شب خون بھی ماریں گے۔ اہل کتاب چونکہ مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف سے تو برابر تکلیف دہ باتوں کا سلسہ جاری رہتا تھا۔ کعب بن اشرف ایک نامور شاعر تھا۔ یہود کے ایک قبیلے کا سردار نہایت دولت مند اور نہایت خوبصورت تھا۔ اس نے مسلمانوں کی عزتوں سے کھیلنے کو معمول بنا لیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی ہجو کہنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ کوئی بھی قصیدہ کہتا تو اس کی تشبیب میں مسلمانوں کی بچیوں کے نام لے لے کر عشق کا اظہار کرتا۔ عرب میں چونکہ سب سے کثیر الاشاعت ذریعہ شعر ہی تھا وہ ہوا کے پر لگا کر اڑتا اور اس طرح سے مسلمانوں کی بچیوں کی عزتیں ہوائوں میں اڑتی پھرتیں۔ ممکن ہے اس آیت کریمہ میں اس طرف بھی اشارہ ہو۔ اس کی دریدہ دہنی چونکہ حد سے گزر گئی تھی اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ لیکن باقی یہود بھی اس دل پسند مشغلے میں ایک دوسرے سے پیچھے رہنے والے نہ تھے۔ وہ بھی بقدر ہمت ایسی کمینہ حرکتوں سے اپنے دل کے پھپھولے پھپھوڑتے تھے۔ لیکن مسلمان جن کے سامنے دنیا کی اصلاح کا عظیم کام تھا وہ اس کام میں ملوث نہیں ہوسکتے تھے۔ اس لیے ان کو حکم دیا کہ اہل کتاب اور مشرکین کی حرکتیں اگرچہ ناقابلِ برداشت ہیں لیکن تم ان پر صبر کرو اور اپنے ہر معاملے میں تقویٰ کی تصویر بنے رہو۔ تمہارا کوئی کام بھی تقویٰ کے پیراہن سے باہر نہ ہو۔ تمہاری زبانیں ذکر اللہ کی خوگر اور لغویات سے مجتنب رہیں۔ حدود الٰہی کا احترام ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہے۔ اللہ کے دین کی سربلندی تمہاری زندگی کا اصل ہدف ہو۔ یہی وہ عزیمت کے کام ہیں اور یہی عزیمت کا مقام ہے جو اللہ کے خاص بندوں کا حصہ ہے جو اس کی روشنی میں زندگی کا سفرجاری رکھتا ہے اس کی کامیابی اصل کامیابی ہے۔
Ayahs 3:187–189وَاِذْاَخَذَاللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لِتُـبَـیِّـنُـنَّـہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَـکْتُمُوْنَـہٗ ز فَـنَـبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَـآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلاَ تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ع
(اور یاد کرو جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیاجنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے پھیلائو گے، اسے پوشیدہ نہیں رکھو گے مگر انھوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا کیا ہی بری ہے وہ چیز جسے وہ لے رہے ہیں۔ تم گمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اتراتے پھرتے ہیں اپنی کرتوتوں پر اور چاہتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کو سراہا جائے جو انھوں نے نہیں کیے ہیں۔ ان کو عذاب سے بری مت سمجھو، حقیقت میں ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمان اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) (187 تا 189)
اہلِ کتاب کو آخری تنبیہ
اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کو تنبیہ کی گئی ہے اور ان کی مخصوص روش پر سرزنش کی گئی ہے کہ تمہیں یہ تو خوب یاد ہے کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ایسے پیغمبر پر ایمان نہ لانا جس کی قربانی کو آسمان سے آگ اتر کر نہ کھائے یعنی سوختنی قربانی جس کی پہچان نہ ہو حالانکہ ایسا کوئی عہد توراۃ میں موجود نہیں۔ لیکن جو عہد یہود اور نصاریٰ دونوں سے لیا گیا اور جس کی انتہائی تاکید کی گئی اس پر نہ صرف تم عامل نہیں رہے بلکہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا اور کبھی بھول کر بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا اور حال یہ ہے کہ وہ عہد بائبل کی کتاب استثناء میں بھی ہے اور اسے انجیل میں بھی مختلف اسالیب میں دہرایا گیا ہے۔ کتاب استثناء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے، اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں انھیں اپنے دل پر نقش کرلو۔ انھیں اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ہر وقت ان کا چرچا کرنا۔ اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر انھیں لکھ دینا۔ پھر اپنی آخری وصیت میں انہوں نے تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعدپہلا کام یہ کرنا کہ ” کوہ عیبال “ پر بڑے بڑے پتھر نصب کرکے توراۃ کے احکام ان پر کندہ کردینا۔ نیز بنی لاوی کو توراۃ کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ ہر ساتویں برس عید خیام کے موقع پر قوم کے مردوں، عورتوں اور بچوں سب کو جگہ جگہ جمع کرکے یہ پوری کتاب لفظ بہ لفظ ان کو سناتے رہنا۔ لیکن ان تمام تاکیدات کے باوجود بنی اسرائیل کی غفلت اس حد تک پہنچی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سات سو برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین اور یروشلم کے یہودی فرمانروا تک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں توراۃ نامی بھی کوئی کتاب موجود ہے۔ (2۔ سلاطین۔ 22: 8۔ 13)
اسی طرح انجیلوں میں بھی مختلف اسالیب میں یہ ہدایت نامے جابجا ملتے ہیں خاص طور پر یہ فقرہ تو زبان زد عوام ہونے کے ساتھ ساتھ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
(جو کچھ میں تم سے اندھیرے میں کہتا ہوں اجالے میں کہو اور جو کچھ تم کان میں سنتے ہو کوٹھوں پر اس کی منادی کردو۔ )
اس کے بعد ان کی دیدہ دلیری اور عذاب خداوندی سے لاپرواہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انھوں نے نہ صرف اللہ کی کتابوں کے احکام کو نظرانداز کیا اور انھیں پس پشت ڈالا بلکہ انھوں نے اللہ کی کتاب جو آخرت کی منزل دکھاتی اور آخرت کی تڑپ پیدا کرتی ہے کی بجائے دنیا کو اپنی منزل بنایا ہے اور دولت دنیا کی محبت میں اندھے ہوگئے ہیں۔ قوم کے ہر قابل ذکر طبقہ نے دولت کے ذخیرے سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ علماء نے اپنے فتاویٰ کو بیچا اور اس کے بدلے میں دنیا حاصل کی۔ سجادہ نشینوں نے فتوحات کی صورت میں اپنے مریدوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے۔ حکمرانوں نے ہر وہ راستہ اختیار کیا جس میں دنیا اور دولت دنیا کے حصول میں آسانی پیدا ہوسکتی تھی۔ اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے عہدہ اور منصب کے دوام کے لیے راستے کھولے اور دولت دنیا کی افزائش کے لیے نئی نئی سہولتیں پیدا کیں۔ عوام نے جب اوپر والوں کا یہ رنگ دیکھا تو قوم کا پورا کلچر دنیاطلبی میں ڈھلتا چلا گیا۔ رفتہ رفتہ سیرت و کردار کا ہدف بدلنے لگا، زمین کا نور بجھنے لگا، نفسانی قوتیں توانا ہونے لگیں اور قلب و دماغ کی قوتوں نے ان کی چاکری شروع کردی۔ کل تک جن باتوں کو زمین کی روشنی میں برائی سمجھا جاتا تھا آج وہی باتیں خوبیاں بن کرتہذیب کی علامتیں بننے لگیں۔ کبھی اعلیٰ اخلاق دوسروں کے کام آنے کا جذبہ ایثار و قربانی کا داعیہ اور بےنفسی کے مظاہر عزت ووجاہت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اب ان کے برعکس ایک ایک بداخلاقی، خودغرضی، ہوسِ زر کے مظاہر، تکثیرِ مال کے لیے کمینے سے کمینہ ذریعہ بھی عزت اور عظمت کی پہچان بن گیا۔ پہلے لوگ خدمت کرتے اور اپنی خدمت کا ذکر کرتے ہوئے شرماتے تھے اب ایسے کاموں کا ذکر کرکے دادو تحسین چاہتے تھے جس کام کا ان سے کوئی تعلق نہ ہوتا تھا۔ باکمال لوگ اپنے کمال کو چھپا کر خوش ہوتے تھے۔ اب نالائقوں نے باکمال لوگوں کی مسندیں سنبھالیں اور محض مسندوں پر فروکش ہو کر یہ چاہنے لگے کہ باکمال لوگوں کے تمام کمالات ان کی طرف منسوب کرکے ان کی شہرت کے ڈنکے بجنے لگیں اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی کہ ہم تو خدا رسیدہ لوگ ہیں، اللہ نے دنیا اور آخرت کی نعمتیں ہمارے لیے مخصوص کر رکھی ہیں، ہمیں نہ یہاں کسی بات کا اندیشہ ہے نہ وہاں ہوگا ہم یہاں بھی اللہ کے خوف سے محفوظ ہیں اور قیامت کے دن بھی اللہ کے ہاں سرخرو ہوں گے۔ ان کے کرتوتوں کا ذکر کرکے فرمایا گیا کہ تم انھیں اللہ کے عذاب سے محفوظ مت سمجھو۔
مَفَازَۃً کا معنی ہے ” نجات یا پناہ “۔ ہر دنیا دار آدمی اپنی دنیوی فتوحات کو اپنے لیے پناہ گاہ سمجھتا ہے اور اپنے عہدہ و منصب اور دنیوی جاہ و جلال کو اپنی نجات کا ذریعہ گردانتا ہے۔ ان سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ تمہاری خوش فہمیاں تمہاری تباہی کا سبب ہیں اسی نے تمہاری دنیا تباہ کی ہے یہی تمہاری آخرت کی بربادی کا سبب ہیں۔ تم اہل کتاب ہو اتنی بات تو جانتے ہو کہ زمین و آسمان کی حکومت اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے آگے بڑھاتا ہے جسے چاہتا ہے نیچے گراتا ہے۔ آج کے بادشاہ اسی کے اشارے سے کل کے فقیر بن جاتے ہیں اور آج کے فقیر اس کے حکم سے تخت نشین ہوجاتے ہیں۔ جب سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کی طاقت پوری کائنات پر حاوی ہے اور کائنات کا کوئی گوشہ اس کی مملکت سے باہر نہیں اور کوئی پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں گرتا۔ پھر تم نے کس بل بوتے پر اللہ کے احکام کی نافرمانی پر اپنی عزت ووجاہت کی بنیا درکھی ہے۔ تم کس حوالے سے اللہ کے آخری نبی کو ماننے سے انکار کررہے ہو اور تمہیں اس بات پر اصرار ہے کہ آخری نبی بنی اسرائیل میں آنا چاہیے تم کب سے اللہ کے فیصلوں میں دخیل ہوگئے ہو، جب زمین و آسمان اور ان دونوں میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ ہے تو پھر تمہیں اپنی جسارتوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے اپنی اصل حقیقت کو سمجھ کر راہ راست اختیار کرنی چاہیے۔
Ayahs 3:190–192اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّـیْلِ وَالنَّھَار ِلَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ ج لا الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰماً وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَـکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَـکَ فَـقِـنَـا عَذَابَ النَّارِ ۔ رَبَّنَـآ اِنَّـکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخَزَیْتَـہٗ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔
(بےشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اور غور کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ! تو نے یہ کارخانہ بےمقصد پیدا نہیں کیا ہے، تو سب عیبوں سے پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب ! جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا سو اس کو رسوا کردیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں) (190 تا 192)
اربابِ دانش کا طرز عمل
یہ رکوع اس سورة کا آخری رکوع ہے اور یہ آیات خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سابقہ آیات میں اہل کتاب پر تنقید ہے۔ ان کی مختلف گمراہیوں کا ذکر کرنے کے بعدآخری آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم ایک اہل کتاب امت ہو، تمہیں اللہ نے شریعت سے نوازا، تمہاری ہمعصر دنیا کی ہدایت کا تمہیں ذمہ دار بنایا، توحید کی امانت تمہارے سپرد کی گئی، اللہ کے بیشمار انعامات تم پر ہوئے۔ باایں ہمہ ! تمہاری ذہنیت یہ ہے کہ تمہیں وہ عہد تو یاد ہیں جو تم سے نہیں لیے گئے۔ البتہ ! بعض انبیائے کرام کے معجزات کے حوالے سے آسمانی کتابوں میں ان کا ذکر ہے۔ لیکن دینی ذمہ داریوں کے حوالے سے جو عہد تم سے لیا گیا اور جس کی انتہائی تاکید کی گئی اس کی یاد تمہیں کبھی بھول کر بھی نہیں آئی۔ تم اپنے آپ کو انبیاء کا وارث سمجھتے ہو اور نہ جانے تم نے اپنے لیے کیسے کیسے امتیازات پیدا کرلیے ہیں۔ لیکن جو دین تمہاری وجہِ اختصاص تھا اس سے تم بالکل لاتعلق ہوچکے ہو۔ تمہارا ہر عمل اس سے دوری کی علامت ہے۔ تم جیسے لوگوں کا انجام عذاب الیم کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ وہ انتہا ہے جو دنیا طلبی میں اندھا ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے اور جب کوئی قوم اللہ کے انعامات کی قدر نہیں کرتی اور اپنے فرائض منصبی کو پس پشت ڈال دیتی ہے تو اس کا انجام اس سے مختلف نہیں ہوتا۔ چناچہ ہدایت و ضلالت کے اس باب کو مکمل کرنے کے بعدپیشِ نظر آیات کریمہ میں ایک نیا باب کھولا جارہا ہے۔ جس سے بتانا یہ مقصود ہے کہ دنیا کی محبت سے جب قومیں اندھی ہوجاتی ہے تو وہ اہل کتاب ہو کر بھی ہدایت سے دور رہتی ہیں۔ لیکن جب وہ بصیرت کا ثبوت دیتی ہیں اور اخلاص سے اللہ کے راستے کی طرف آتی ہیں تو ان کے لیے اس کائنات کا ایک ایک ورق کتاب ہدایت بن جاتا ہے اور اس کائنات کا ایک ایک ذرہ ان کے لیے ہدایت کی نشانی بن جاتا ہے۔ وہ جب ان مخلوقات کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے اور آزاد عقل سے ملاحظہ کرتے ہیں تو انھیں ہر طرف اللہ کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں
ہر گیا ہے کہ از زمین روید
وحدہٗ لا شریک لہ گوید
شانِ نزول
ان آیات کا شان نزول جو بیان کیا گیا ہے اس سے بھی اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ محدث ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ عطا ابن رباح ( رض) حضرت عائشہ ( رض) کے پاس تشریف لے گئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات میں جو سب سے زیادہ عجیب چیز آپ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتلائیے۔ اس پر حضرت عائشہ ( رض) نے فرمایا : آپ کی کس شان کو پوچھتے ہیں ؟ ان کی تو ہر شان عجیب ہی تھی۔ ہاں ایک واقعہ عجیب سناتی ہوں وہ یہ کہ حضور اکرم ﷺ ایک رات میرے پاس تشریف لائے اور لحاف میں میرے ساتھ داخل ہوگئے پھر فرمایا کہ اجازت دو میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں۔ بستر سے اٹھے، وضو فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور قیام میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک پر بہنے لگے پھر رکوع فرمایا اس میں بھی روئے پھر سجدہ کیا اور سجدہ میں بھی اسی قدر روئے پھر سر اٹھایا اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ حضرت بلال ( رض) آئے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ بلال ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس قدر کیوں گریہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔ آپ نے فرمایا تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور شکریہ میں گریہ زاری کیوں نہ کروں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آج کی شب مجھ پر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہے۔ اس کے بعد آپ نے پیش نظر آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔
اربابِ دانش کے اوصاف
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ زمین اور آسمان کی پیدائش اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں اور پھر عقل مندوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ شخص عقلمند نہیں جسے ہم عقلمند قرار دیتے ہیں بلکہ عقلمند کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ جب آسمان اور زمین کی پیدائش اور اختلاف لیل ونہار میں مضمر نشانیوں پر غور کرتے ہیں تو ان کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ ان مخلوقات میں گم ہو کر رہیں۔ اگر وہ فلکیات میں غور کرتے ہیں تو وہ ساری عمر ان کی حرکتیں اور گردشیں نوٹ کرتے نہیں رہتے اور نہ ان سے لوگوں کی قسمتوں کا حال معلوم کرتے ہیں۔ اگر وہ زمین پر غور کرتے ہیں تو اس کے بھی مختلف عوامل، اس کے انفعالات، اس کی قوت روئیدگی، اس میں مضمر خزانوں پر ہی غور کرتے ہوئے زندگی نہیں گزار دیتے بلکہ جب وہ فلکیات کو دیکھتے ہیں اور اس میں ان کو دکھائی دیتا ہے کہ اس میں ایک سے ایک بڑا کرّہ محوِپرواز ہے، ان کا مدار، ان کی منزلیں، ان کی کیفیتِ سفر، ان کی حرکتوں کی رفتار اس قدر منظم ومرتب ہے کہ کبھی ان میں ایک لمحے کا توقف نہیں ہوتا اور کبھی تقدیم و تاخیر پیش نہیں آتی، کبھی اپنے راستے گم نہیں کرتے، کبھی اپنے مدار سے نہیں نکلتے، کبھی ان میں تصادم نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ انھیں وجود کس نے بخشا ہے ؟ یہ بےسہارا محو پرواز کیسے ہیں ؟ ان میں جو ثوابت ہیں وہ کس کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں ؟ اور جو محو پرواز ہیں ان کی سمت سفر اور رفتارِ سفر کس نے مقرر کی ہیں ؟ بڑی سے بڑی حکومتیں اپنے دارالخلافہ تک میں افراط وتفریط کو نہیں روک سکتیں۔ آئے دن مختلف قسم کے تصادم ہوتے ہیں جبکہ ان کے احتسابی ادارے رات دن نظام کی نوک پلک سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔ تو یہ زمین اور آسمان کو تھامنے والی وہ کون سی قوت ہے کہ جس کی نافرمانی کا کبھی کسی کو حوصلہ نہیں ہوتا، جس کے احکام کبھی توڑے نہیں جاتے، جس نے اس طرح اپنی مخلوقات کو جن میں غیر معمولی طور پر بڑے بڑے کرے بھی شامل ہیں ایک نظام میں اس طرح باندھ رکھا ہے کہ مجال نہیں ہے کہ اس سے کوئی سرتابی کرسکے۔ ان کی عقلیں ہر مخلوق کے اردگرد گھومنے کی بجائے اس کے خالق کو تلاش کرتی ہیں۔ ہر مخلوق میں وہ اپنے خالق کی جھلک دیکھتی ہیں۔ وہ ریل کے انجن کو دیکھتے ہیں کہ وہ سرخ جھنڈی کو دیکھ کر رکتا اور روانہ ہوتا ہے تو وہ سرخ جھنڈی کو طاقت کا سرچشمہ نہیں سمجھتے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ اس کا ڈرائیور اس کو کنٹرول کرتا ہے لیکن وہ اسے بھی تمام طاقتوں کا منبع یقین نہیں کرتے۔ پھر اس میں بھرا ہواسٹیم یا بھاپ یا پٹرول کو دیکھ کر بھی وہ یہ نہیں سمجھتے کہ انجن کی تمام طاقت اس میں ہے بلکہ ان تنگنائیوں سے نکل کر وہ غور کرتے ہیں کہ سٹیم یا بھاپ کو طاقت کس نے دی ہے ؟ پٹرول کو پیدا کس نے کیا ہے ؟ ڈرائیور کو جسمانی توانائی اور دماغی رعنائی کس نے عطا کی ہے ؟ اس سے وہ اپنے خالق کو پہچاننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان کا نہایت سادہ سا براہ راست اور صحیح طریقہ ہے جس سے وہ اپنی عقل کا حق ادا کرتے ہیں کہ وہ تعمیر سے معمار کو پہچانتے ہیں۔ نظم کے راستے سے ناظم سے شناسا ہوتے ہیں۔ شعر سے شاعر تک پہنچتے ہیں اور مخلوق سے خالق تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایسا نکتہ ہے جسے قرآن کریم نے فاش کیا ہے یہ بہت سادہ بھی ہے اور بہت صحیح بھی۔ لیکن انسان نہ جانے اس کی طرف دھیان کیوں نہیں دیتا ؟ ایک بنا سنورا صاحب بہادر چمن میں چہل قدمی کرتے ہوئے پھول توڑ کر یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کام مشام جان کو معطر کرنا ہے اور یا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا صحیح مصرف اسے کالر یا گریبان میں لگانا ہے اور اگر اس کی عقل نے بہت کام دیا تو وہ یہ سمجھنے کو کافی سمجھتا ہے کہ اس سے گلقند بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ لیکن کبھی وہ پھول کی خوشبو، اس کی پنکھڑیوں کی نزاکت، اس کی پتیوں کی خوش رنگی، پر دھیان نہیں دیتا کہ یہ کس کی تخلیق کا شاہکار ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو جو بصیرت عطا کی تھی وہ یہی بصیرت تھی جس نے ان کے لیے خالق و مخلوق کے رشتے کو پہچاننا آسان کردیا تھا۔ ایک شخص نے حضرت علی ( رض) سے پوچھا کہ آپ نے اپنے پروردگار کو کیسے پہچانا ؟ آپ نے فرمایا : شہتوت کے پتے سے۔ سائل نے حیران ہو کر کہا : وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا : شہتوت کا پتہ اگر بکری کھاتی ہے تو وہ مینگنیاں کردیتی ہے، اگر ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو وہ ریشم بنتا ہے اور اگر ختن کا ہرن کھاتا ہے تو اس کے ناف سے کستوری نکلتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پتے کی کوئی خصوصیت ہے تو ہر جگہ یکساں ہونی چاہیے لیکن ہم تینوں جگہ مختلف خصوصیات کا اظہار دیکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پتے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ اصل قوت اس ہاتھ میں ہے جو کہیں اسے گوبر میں بدل دیتا ہے، کہیں ریشم کے دھاگے میں اور کہیں کستوری میں۔ وہ ہاتھ جو یہ تبدیلیاں عمل میں لاتا ہے دراصل وہی میرے اللہ کا ہاتھ ہے۔
وہ عقل والے جن کی یہاں تعریف کی گئی ہے وہ جب مخلوقات کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں تو اسی طریقے سے مخلوق کے واسطے سے خالق تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح سے ہوا کا ایک ایک جھونکا، پانی کی ایک ایک بوند، روشنی کی ایک ایک کرن، درخت کا ایک ایک پتہ، پھول کی ایک ایک پنکھڑی، حتی کہ خود انسان کی اپنی ذات اللہ کی خبر دیتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور انسان بےساختہ پکار اٹھتا ہے
ہر کہ بینم درجہاں غیرے تو نیست
یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو
چناچہ اپنے خالق کی معرفت کے بعد بےساختہ بندے کی زبان پر اس کا ذکر جاری ہوجاتا ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنی ذات، اپنی صفات، اپنے احساسات، اپنی صلاحیتوں اور اپنی توانائیوں کو دیکھتا ہے ویسے ویسے اسے اپنے خالق کی یاد ایک محبوب مشغلہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے، لیٹتے جاگتے، اللہ کی یاد کو اپنا معمول بنالیتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس کی یاد محبوب ہوجائے اس کی ذات بھی محبوب ہوجاتی ہے۔ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اس محبوب ذات کا حکم یہ ہے، وہ مجھ سے فلاں فلاں بات کا تقاضا کرتی ہے، اسے یہ یہ طور اطوار پسند ہیں اور یہ یہ باتیں اسے ناپسند ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ ایک عاشق صادق اپنے محبوب کی یاد سے دل تو بہلائے لیکن اس کے احکام اور اس کی پسند و ناپسند کو کبھی اہمیت نہ دے۔ اس لیے بعض علماء نے کہا کہ اللہ کی یاد کا مفہوم جہاں اللہ کا ذکر ہے وہیں اس کی اطاعت بھی ہے۔ ذکر بغیر اطاعت کے محض زبان کا جمع خرچ ہے اور اطاعت بغیر ذکر کے محض عادت ہے۔
عقل والوں کی دوسری علامت آسمان اور زمین کی تخلیق میں تفکر کرنا ہے۔ وہ جب مخلوقات کو دیکھ کر اپنے خالق تک پہنچ جاتے ہیں تو اب وہ مخلوقات میں تفکر کرنا شروع کرتے ہیں۔ تفکر کا لفظی معنی ” غور کرنا “ اور ” کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش “ ہے۔ اس آیت کریمہ میں جس طرح ان عقلمندوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اسی طرح یہ بات فرمائی کہ وہ مخلوقات میں تفکر بھی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذکر ایک عبادت ہے اس طرح فکر اور تفکر بھی عبادت ہے۔ البتہ ! یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ جو تفکر عبادت ہے اس کا تعلق مخلوقات سے ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات سے نہیں کیونکہ پروردگار کی ذات وصفات کی حقیقت کا ادراک انسان کی عقل سے ماورا ہے۔ اس کی ذات وصفات میں تدبر اور تفکرحیرانی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ جیسے جیسے آدمی اس راستے میں بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی جاتی ہے۔ اس لیے کہ ایک مخلوق اپنے فہم و ادراک کی وسعتوں کے باوجود مخلوق ہی ہے وہ اپنے دستیاب وسائل میں خالق کی وسعتوں کو نہیں سمیٹ سکتی۔ انسانی ذہن مخلوقات میں قدرت کا شاہکار ہے لیکن وہ بہر حال مخلوق اور محدود ہے۔ محدود میں غیر محدود کبھی نہیں سما سکتا۔ اکبرؔ مرحوم نے خوب کہا
جو ذہن میں گھر گیا لاانتہا کیوں کر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا
البتہ ! انسان کو اگر اپنی ذات میں فہم وادراک کی نارسائی اور اپنے عجز و درماندگی کا اعتراف نصیب ہوجائے تو یہ وہ دولت ہے جو عبدیت کی معراج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ عرفان و بصیرت کی راہ کے سالک ہیں۔ ان کے ادراک کا منتہا ہمیشہ یہی رہا ـ
ربِ زدنی فیک تحیرا
( اے اللہ ! ہمیں اپنے بارے میں ایسا کر کہ تیرے بارے میں ہمارا تحیر ہمیشہ بڑھتا رہے )
عارف رومی نے خوب فرمایا :
دور بینانِ بارگاہِ الست
غیر ازیں پے نبردہ اند کہ ہست
اس لیے اس راہ کے رمز شناس لوگوں نے وصیت کی۔
تَفَـکَّرْ فِیْ اٰیَاتِ للّٰہِ وَلاَ تَتَفَـکَّرْ فِی اللّٰہِ
(اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی نشانیوں میں غور وفکر کرو مگر خود اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں غور وفکر نہ کرو کہ وہ تمہاری رسائی سے بالاتر ہے۔ )
چناچہ اس آیت کریمہ میں آسمان و زمین کی پیدا ئش میں غور کرنے کو اہل خرد کا شعار قرار دیا ہے۔ تفکر و تدبر کا کوئی ایک گوشہ نہیں پوری کائنات تفکر کرنے والے کے لیے ایک مضمون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راہ میں تگ وتاز کرنے والے کے لیے ایک میدان کی مانند ہے۔ وہ ایک ذرے اور ایک قطرے سے لے کر سورج اور چاند تک اور حشرات الارض سے لے کر ملائکہ مقربین تک کو اپنے تفکر و تدبر کا موضوع بناسکتا ہے اور جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ اللہ کے قرب کی منزلیں طے کرتاچلا جاتا ہے۔ اس لیے حسن بصری رحمۃ اللہ نے فرمایا :
تَفَـکُّرُ سَاعَۃٍ خَیْرٌمِّنْ قِـیَامِ لَیْلَۃٍ
(ایک گھڑی آیات قدرت میں غور کرنا پوری رات کی عبادت سے بہتر اور زیادہ مفید ہے )
تفکر کا ایک پہلو
آیت کریمہ میں غور وفکر کے ایک زاویے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ہم اس کی راہنمائی میں غور وفکر کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم آسمانوں اور زمین پر غور کرتے ہیں تو سب سے بڑی حیرت انگیز چیز جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ آسمان پر بیشمار کرے ہیں کچھ ثوابت ہیں کچھ سیارے ہیں۔ ان کی مختلف حرکتیں ہیں ہر ایک کا اپنا مدار ہے اور ہر ایک کی اپنی سمت سفر۔ اسی طرح زمین کی بھی دو حرکتیں اور گردشیں ہیں جن کی رفتار بھی مقرر ہے اور اوقاتِ کار بھی معین ہیں۔ ان میں جو سب سے حیرت انگیز چیزدکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر مخلوقات کو اللہ نے انسان کی چاکری پر لگا رکھا ہے۔ سورج اس لیے چمکتا ہے تاکہ زمین پر بسنے والوں کو روشنی اور گرمی مہیا کرے۔ سمندر سے کرنوں کے ڈول بھر بھر کر کھینچے اور اس کے پانی کو فلٹر کرنے کے بعد فضا میں ابر کی چادروں کی شکل میں پھیلا دے۔ پھر ہوا کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق جہاں زمین کے لیے آبیاری کی ضرورت ہے وہاں اس بادل کو ہانکتی ہوئی لے جائے اور وہاں جاکر برسادے۔ فضائے آسمانی کا کام یہ ہے کہ وہ پہاڑوں پر برف جمائے اور سورج کا کام یہ ہے کہ وہ گرمیوں میں اس برف کو پگھلاکر ندی نالوں اور دریائوں میں پہنچادے تاکہ انسان اپنی ضرورت کے مطابق ان سے پانی حاصل کرسکے۔ زمین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی قوت روئیدگی کو عمل میں لائے اور انسان کی ضرورت کے ایک ایک دانے کو اپنی آغوش میں اس طرح پالے جس طرح ماں اپنے بچے کو پالتی ہے پھر اسے دھیرے دھیرے پودے کی شکل دے، ہوائیں آکر اسے لوریاں دیں، سورج اس کے دانے کو پکائے اور چاند اس میں گداز پیدا کرے، زمین میں کام کرنے والی مختلف قوتیں جو گیسز کی شکل میں موجود ہیں وہ غلے کی افزائش میں اپنا کام کریں۔ اس طرح سے بادل، ہوا، سورج، چاند، زمین اور اس کے مختلف عوامل اور آسمان کی مختلف قوتیں رات دن مصروفِ عمل ہیں تاکہ انسان کو خوراک مہیا کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے اس کارخانے کو باوجود اس کے کہ ان کے اپنے اندر کتنا تخالف پایا جاتا ہے اور کس طرح قدم قدم پر ان میں تضادات ہیں۔ لیکن مقصد کی ہم رنگی، ہم آہنگی اور وحدت کبھی ان کو ایک دوسرے سے اختلاف کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ ہمہ تن انسان کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں جب سے انسان دنیا میں آیا ہے اس وقت سے یہی ان کا وظیفہ ہے۔ ان کے اس وظیفہ اور عمل کو دیکھتے ہوئے انسان کے غور وفکر پر یہ نکتہ فاش ہوتا ہے کہ اے نالائق انسان تو تو ایک معمولی مخلوق ہے جس کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت نہیں۔ تیرے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں، تیرے دائیں بائیں بڑی بڑی مخلوقات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ نے عناصرِ قدرت اور عناصرِ فطرت کو تیری خدمت پر لگادیا ہے سورج تیرے لیے چمکتا ہے، چاند تیرے لیے دمکتا ہے، ستارے تیرے لیے ٹمٹماتے ہیں، روشنی تجھ پر قربان ہوتی ہے، تاریکی تیرے سکون کا باعث بنتی ہے، پانی تیری پیاس بجھاتا اور تیری کھیتیاں اگاتا ہے، غلہ تیری بھوک مٹاتا ہے، درختوں کا سایہ تجھے فرحت دیتا ہے، خوبصورت پرندے تیرے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث ہیں، ان کی مختلف بولیاں موسیقی کا کام دیتی ہیں، آبشاریں تیرے لیے گرتی ہیں، فوارے تیرے لیے ابلتے ہیں، گھنگھور گھٹائیں تیرے لیے تل کر آتی ہیں، بجلی تجھ سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے، بادلوں کی گرج تیری اولوالعزمی کو دعوت دیتی ہیں۔ بعض موانع کا سراٹھانا، چٹانوں کا حائل ہوجا نا اور پانی جیسی نعمت کا سیلاب کی صورت اختیار کر جانا تیرے عزائم اور قوت ایجاد کا امتحان ہے۔ مختصر یہ کہ تو پوری کائنات میں ایک مخدوم کی حیثیت رکھتا ہے اور تیرے چاروں طرف تیرے خادم پھیلے ہوئے ہیں حالانکہ بظاہر تو ان میں بہتر نہیں لیکن تو نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ ان کو تو پیدا کرنے والے نے ان کے مخدوم کی خبر دی اور انھوں نے اپنے مخدوم کو تلاش کرکے اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دیا۔ تو نے مختلف قسم کی کھانے کی چیزوں کو جیسے چاہا پکایا، جیسے چاہا بھون ڈالا، لیکن کبھی کسی نے تیرے سامنے سر ہلانے کی جرأت نہیں کی۔ تو نے ہاتھی جیسے جانور پر سواری کرڈالی، تو نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کردی، تو نے بجلی کو تاروں میں بند کردیا۔ لیکن کسی قوت نے تیری نافرمانی کی جرأت نہیں کی۔ لیکن تجھے یہ کبھی خیال نہیں آیا کہ ان کا تو میں مخدوم ہوں کیا میرا کوئی مخدوم نہیں ؟ انھیں تو اللہ نے میرے لیے پیدا کیا ہے تو مجھے بھی تو کسی کے لیے پیدا کیا ہوگا ؟ وہ مخلوقات میں سے تو کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام مخلوقات میری خادم بنائی گئی ہیں میں مخدوم ہو کر تو خادم کی بندگی نہیں کرسکتا۔ کس قدر احمق ہوگا وہ شخص جو اپنے نوکروں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے، ان کے سامنے دست سوال دراز کرے، مصیبتوں میں ان سے مدد طلب کرے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ میرا مخدوم اگر کوئی ہے اور یقینا ہے تو وہ صرف وہ ذات ہے جس نے مجھے اور تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم نے دوسری جگہ فرمائی
وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ
(میں نے جن وانس کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں)
مقدمات کی ترتیب
عبادت صرف ذکر وفکر کو نہیں کہتے بلکہ یہ پوری زندگی کو کسی کے تابع فرمان بنا دینے اور کسی کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ جب آدمی کی سوچ یہاں تک پہنچ جاتی ہے اور وہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میر امعبود، مسجود، مطلوب، محبوب، اور حاکم حقیقی ہے تو پھر خود بخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں اس کا اگر بندہ ہوں اور وہ میرا معبود ہے تو میری بندگی کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ مجھے کس طرح اللہ کی عبادت کرنی چاہیے ؟ وہ کیا احکام ہیں جس میں مجھے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے ؟ وہ کیا کام ہیں جن سے اللہ کی اطاعت میں مجھے رک جانا چاہیے ؟ اور وہ اللہ کے پسندیدہ مقاصد کیا ہیں جن کی خاطر مجھے زندگی قربان بھی کرنا پڑے تو کردینی چاہیے ؟ اور اس سے یہ نیتجہ بھی آپ سے آپ نکلتا ہے کہ ایک دن ایسا ہونا چاہیے کہ جب میں اپنے پروردگار کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر کیا جاؤں وہ مجھ سے تمام اعمال کا حساب لے۔ کامیابی کی صورت میں جزا سے نوازے اور ناکامی کی صورت میں سزا دے۔ یہ وہ پورا پر اسس ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن تفکر کرنے والے کے غور وفکر پر اعتماد کرتے ہوئے صراحت سے ذکر نہیں فرمایا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ جب وہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرتے ہیں تو غور وفکر کے نتیجے میں بالآخر وہ اپنے رب کو پکارنے لگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے اس دنیا کی کسی چیز کو باطل پیدا نہیں کیا۔ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد اور کوئی نہ کوئی منزل ہے۔ یقینا میری زندگی کا بھی کوئی مقصد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن اس مقصد کے بارے میں مجھ سے باز پرس ہوگی جو کامیاب ٹھہرا وہ نوازا جائے گا اور جو ناکام ہوگیا وہ جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ اس لیے اے میرے مالک ! میں اپنی کمزوریوں کا واسطہ دیتا ہوں تو پاک ہے کہ کسی کو بےسبب پکڑے، تیری رحمت تیرے غضب سے وسیع ہے۔ تو تو سرتاپا معافی ہے، بندوں کو معاف کردینا تیرا شیوہ ہے۔ تو کبھی کسی کو ناحق سزا نہیں دیتا۔ اگر تو مجھے پکڑے گا تو میری خطائوں پر پکڑے گا یا اللہ ! مجھے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لے اور جہنم کے عذاب سے بچالے کیونکہ جہنم کا عذاب صرف عذاب نہیں وہ ایسی رسوائی ہے جس کی برداشت کسی کے بس میں نہیں۔ جسے تو جہنم میں داخل کرتا ہے تو اسے رسوا کردیتا ہے۔ ساری دنیا کے سامنے اس کی رسوائی کا اعلان ہوتا ہے۔ یا اللہ ! ہمیں اس رسوائی سے محفوظ رکھنا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ظالموں کو تیرے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں اور کسی کو تیرے فیصلے کے خلاف مدد کرنے کی جرأت نہیں۔
ظلم کا مفہوم
ظلم کہتے ہیں : وضع الشیء فی غیر محلہ ” کسی چیز کا ایسی جگہ رکھنا جو اس کے رکھنے کی جگہ نہ ہو، کسی چیز کا ایسا استعمال جو اس کا صحیح استعمال نہ ہو “۔ اس لحاظ سے جو آدمی اللہ کی کسی طرح بھی نافرمانی کرتا ہے وہ اپنے جسم وجان پر ظلم کرتا ہے۔ اللہ نے سر اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کے سامنے جھکے۔ جو شخص غیر اللہ کے سامنے سر جھکاتا ہے وہ اپنے سر پر ظلم کرتا ہے۔ جسم کا ایک ایک رونگھٹا اللہ کی عبادت کے لیے وجود میں آیا ہے۔ جب وہ غیر اللہ کی خدمت میں استعمال ہوتا ہے تو وہ ظلم کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ جان بوجھ کر اپنی صلاحیتوں کو لادینی قوتوں کی خدمت کے لیے کام میں لاتے ہیں وہ اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں یہی وہ ظالم ہیں جن کا قیامت کے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔