Ayahs 3:10–11اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمْ وَقُوْدُالنَّارِ ۔ لا کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَاج فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔
(بےشک جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہر گزان کے مال ان کے کام نہیں آئیں گے اور نہ ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں، یہی لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آل فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاتو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انھیں پکڑ لیا اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے) (10 تا 11)
قبولیتِ حق میں اصل رکاوٹ
آیت 4 میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کیا ہے یعنی وہ ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کو انھوں نے اپنا معمول اور مشغلہ بنا لیا ہے وہ قیامت کے دن سخت عذاب کا شکار ہوں گے۔ اللہ کی آیات سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ اسلامی دعوت کی بنیاد قرآن کریم کی دعوت پر ہے اور قرآن کریم پر ایمان آنحضرت ﷺ پر ایمان کا جزء اور توحید کا نتیجہ ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں انہی لوگوں کے ایمان نہ لانے کے حقیقی اسباب بیان فرمائے گئے ہیں۔ سابقہ آیات کریمہ سے یہ معلوم ہوا تھا کہ ان لوگوں کا قرآن کریم پر ایمان نہ لانے کا اصل سبب آیات متشابہات ہیں۔ وہ بجائے آیات محکمات سے فائدہ اٹھانے کے ‘ آیات متشابہات کے درپے ہوئے ‘ خود بھی فتنہ میں مبتلا ہوئے اور لوگوں کو بھی اس میں مبتلا کیا اور وہ اپنے انکار کی بنیاد اسی بات پر رکھتے تھے کہ جس کتاب کی بعض آیات کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں ‘ اس پر آخر ہم ایمان کیوں لائیں ؟ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں بتلایا گیا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب آیات متشابہات کا ناقابلِ فہم ہونا نہیں کیونکہ جو شخص آیات محکمات پر یقین رکھتا ہے اور وہ انھیں منزل من اللہ مانتا ہے تو اس کے ایمان کے لیے آیات متشابہات رکاوٹ نہیں بنتیں { اور ہم اس سے پہلے اس کی وضاحت کرچکے ہیں } ان کے ایمان نہ لانے کا سبب درحقیقت وہی ہے جو ہر دور کے کافروں کا رہا اور ہر دور کے کفار نے کبھی اسے تسلیم نہیں کیا وہ اسباب کے طور پر ہمیشہ دوسری باتوں کا ذکر کرتے رہے۔ اللہ کے نبی کو کبھی شاعر کہتے ‘ کبھی کاہن قرار دیتے ‘ کبھی ساحر اور شعبدہ باز ٹھہراتے ‘ لیکن جو اس کا حقیقی سبب ہے اس کے ذکر سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ یہاں اسی حقیقی سبب کو بالواسطہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی مال اور اولاد سے حد سے بڑھی ہوئی محبت اللہ کے عذاب سے انھیں بچا نہیں سکے گی۔ اس میں کہنا یہ مقصود معلوم ہوتا ہے تم جو آج اسلام کی دعوت اور قرآن کریم کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کرتے ہو جبکہ قرآن کریم کی حقانیت سورج سے زیادہ روشن ہے۔ اس کے الفاظ کی فصاحت و بلاغت ‘ اس کے جملوں کا در و بست ‘ اس کی ترکیب کا حسن ‘ اس کے محاوروں کا جمال اور اس کے اسلوبِ کلام کی شیرینی اور ہیبت اور پھر اس کلام کے اندر باہمی حیرت انگیز نظم و ضبط اور اس میں بیان کیے جانے والے نظام زندگی کی یکسانی اور ہم آہنگی اور ہر طرح کے اختلاف اور تضاد سے پاکیزگی ہر قاری کو اپنی تاثیر اور تأ ثر میں کھینچ لیتی اور اپنی سحر آفرینی سے مسحور کردیتی ہے اور پھر صاحب قرآن کی دل آویز شخصیت کے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھوں پر ظاہر ہونے والے معجزات اور اس کی غیر معمولی کامیابیاں اور مخالفتوں کے مقابلے میں حیرت انگیز استقامت ‘ ان میں سے ایک ایک بات مخاطب کے لیے اپنے اندر ایک ایسی قاطع دلیل رکھتی ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود جو شخص قرآن پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو اس کا سبب صرف یہ ہے کہ مال و دولت اور اولاد کی محبت نے اس کے دل و دماغ میں کسی اور بڑے مقصد کے لیے جگہ نہیں رہنے دی۔ وہ ہر وقت دولت کے لیے سوچتا اور دولت کے حصول کے لیے جان کھپاتا ہے۔ اولاد کا موہوم مستقبل ہمیشہ اسے پریشان رکھتا ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی انہی دو محبتوں کے سائے میں اس طرح گزارتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں کوئی اور چیز جچنے نہیں پاتی۔ دولت کے حصول اور اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے اگر انسانی رشتے توڑنے پڑیں ‘ اخلاقی قدریں پامال کرنی پڑیں ‘ عدل اور انصاف کا خون کرنا پڑے ‘ ملک و ملت سے غداری کرنا پڑے ‘ وہ یہ سب کچھ کر گزرے گا تاکہ مال و اولاد کی محبت کا حق ادا کرسکے۔ اپنے گرد و پیش میں نظر ڈال کے دیکھئے کہ وہ خونی رشتے جو محبت اور مودت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں انھیں بھی جب مال و دولت یا اولاد کی محبت سے تقابل پیش آتا ہے تو ان رشتوں کے خون کو بھی سفید ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ آدمی اپنے بیوی بچوں اور مال و دولت کے لیے اپنے ماں باپ اور اپنے بہن بھائیوں کو نظر انداز کردیتا ہے اور چند مرلے زمین یا چند گز کی دکان کے عوض اپنے بھائیوں حتیٰ کہ اپنے والدین تک کو بھی موت کی نیند سلا دینے سے خوف نہیں کھاتا۔ اخبارات ایسی خبروں سے بھرے رہتے ہیں کہ چند ٹکوں کی خاطر بھائی نے بھائی کو مار ڈالا۔ تو جو شخص چند ٹکوں کے لیے خون بہا سکتا ہے ‘ جب یہی ٹکے اور یہی درہم و دینار اس کا مقصود بن جائیں تو وہ کسی نظریئے اور کسی مقصد کی خاطر انھیں قربان کرنے کی کبھی حماقت نہیں کرسکتا۔ البتہ ! ان کی خاطر بڑے سے بڑے مقصد سے دستبردار ہوجائے گا۔ سقوط بغداد ہوس زر اور ہوس اقتدار کی وجہ سے پیش آیا۔ ایک شخص نے اپنے اقتدار کی حفاظت بلکہ اس میں ترقی کے لیے مسلمانوں کی تاریخ پامال کر ڈالی۔ بر صغیر میں سراج الدولہ اور سلطان ٹیپو باوقار اور غیرت مند حکمران گزرے ہیں ‘ لیکن ان کے مقابلے میں انگریز کی نسبتاً حقیر قوت نے اس لیے ان پر فتح پائی کہ ان کے قلعوں کی چابیاں ان لوگوں کے ہاتھ میں تھیں جو درہم و دینار اور کرسی و اقتدار کی ہوس میں مسلمانوں کے مفادات کا سودا کرچکے تھے۔ آج بھی ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں کہ مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں ‘ قرآن و سنت کے مراکز مسلمانوں کے ہاتھوں اجاڑے جا رہے ہیں ‘ ہماری بڑی بڑی علمی و دینی شخصیتیں اپنے ہی لوگوں کی سازشوں سے موت کے گھاٹ اتاری جا رہی ہیں۔ ان انسانیت دشمنوں کے طور اطوار کو ملاحظہ فرمایئے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ مال و اولاد کی محبت کس قدر انسان کو بدل دیتی ہے اور عہدہ و منصب کی درازی کی ہوس آدمی سے کیا کیا کروا دیتی ہے۔
اس آیت کریمہ میں اسی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ لیکن براہ راست بات کہنے کی بجائے بالواسطہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن سے کفر کررہے ہیں اور ان کے کفر کا سبب مال اور اولاد کی محبت ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن جب انھیں اللہ کے عذاب سے سابقہ پیش آئے گا تو نہ مال ان کے کام آئے گا، نہ اولاد ان کے کام آئے گی اور اس بات کو مزید مؤکد کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کا حال کوئی پہلا حادثہ نہیں بلکہ ان سے پہلے جو قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی ہیں وہ بھی اسی بیماری کا شکار تھیں اور یہی اسباب تھے جن کی وجہ سے وہ اللہ کے نبیوں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان نہ لاسکے۔ پھر بطور خاص آل فرعون کی مثال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر پیغمبر جس کے ہاتھوں بڑے بڑے معجزات کا صدور ہوا اور فرعون اور آل فرعون نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ‘ لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے اور انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو سحر اور جادو قرار دیا اور آپ پر عجیب عجیب اتہامات باندھے ‘ کئی سالوں تک موسیٰ (علیہ السلام) نے مسلسل فرعون اور آل فرعون کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی ‘ لیکن فرعون اور آل فرعون اپنے تخت و تاج کی محبت اور اپنی قومی عصبیت کے باعث موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ماننے کے روادار نہ ہوئے۔ وہ بار بار آپ پر الزام لگاتے کہ تم درحقیقت نبوت کے پردے میں مصر کی حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ جب ان کا کفر اور جحود اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور انھوں نے موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) اور آپ کی قوم پر مظالم کی انتہا کردی تب پروردگار نے انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑا ‘ یعنی انھیں بحر قلزم میں ڈبو کے مار دیا۔ تو فرعون اور آل فرعون کی تاریخ اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوجاتے ہیں اور اولاد کی محبت انھیں اپاہج بنا دیتی ہے تو وہ حق کو قبول کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ بالآخر اللہ کا عذاب حرکت میں آتا ہے اور انھیں تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔
شَدِیْدُالْعِقَابِ کا مفہوم
آخر میں فرمایا وَاللّٰہُ شَدِیْدُالْعِقَابِ (اور اللہ سخت عذاب اور سزا دینے والا ہے) وہ پیغمبر اور کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو مہلت پہ مہلت دیتا چلا جاتا ہے ‘ لیکن جب وہ کسی طرح بھی مال و دولت کی محبت سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہے تو ان کے اعمال کی پاداش میں انھیں وہ سزا دی جاتی ہے جو سخت ترین سزا ہوتی ہے۔ یہ اس کا ایک ایسا قانون جس میں کبھی پس و پیش نہیں ہوتا۔ جس طرح اللہ کے قانونِ تکوینی میں اسباب کا نتیجہ ضرور ظاہر ہوتا ہے اسی طرح اس کے تشریعی قانون میں کفر ‘ سرکشی اور تمرد کے نتیجے میں اللہ کا عذاب ضرور حرکت میں آتا ہے۔ مہلت دینا اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے تاکہ کوئی آدمی سنبھلنا چاہے تو سنبھل جائے ‘ لیکن جب مہلت عمل کا وقت گزر جاتا ہے تو پھر اسی قانون کے تقاضے کے طور پر اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ سخت ترین عذاب ہوتا ہے۔
ان بنیادی حقائق کو ذکر کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اپنے مخالفین بالخصوص یہود کو وارننگ دیجیے
Ayah 3:12قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَہَنَّمَط وَبِئْسَ الْمِہَادُ ۔
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا ہے کہ قریب ہے وہ وقت کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) (12)
یہود کو وارننگ
لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے یوں تو ہر طرح کے کافر مراد ہیں ‘ لیکن یہاں معلوم ہوتا ہے خطاب بطور خاص یہود سے ہے۔ اوس و خزرج کے تمام لوگ ان آیات کے نزول تک ‘ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اکثریت چونکہ مسلمان ہوچکی تھی اس لیے ان کی طرف سے کسی بڑی رکاوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ان میں جو منافقین تھے وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو کچھ بھی کرتے تھے اس کی ڈور ہمیشہ یہود کی طرف سے ہلتی تھی ‘ یہ لوگ انہی کے آلہ کار اور انہی کے زیر اثر تھے ‘ اس لیے براہ راست یہود سے خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم دشمنی میں حد سے بڑھ رہے ہو اور تمہاری سازشیں روز بروز ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔ جہاں تک تمہیں سمجھانے کا تعلق ہے ‘ اس میں کوئی کمی نہیں رہی۔ تمہارے ایک ایک سوال کا کافی و شافی جواب دیا گیا ہے۔ اس لیے اب تمہیں وارننگ دی جا رہی ہے کہ تم نے اگر اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ وقت دور نہیں جب تم مغلوب ہوجاؤ گے۔ اسلام اپنے غلبہ عمومی کی طرف قدم قدم بڑھ رہا ہے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ و سلم نے جنگ بدر کے بعد جب یہود کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور انھیں سمجھایا کہ تمہارے لیے عافیت کا راستہ یہی ہے کہ تم اسلام کے دامن میں آجاؤ ‘ لیکن ان میں سے بطور خاص بنو قینقاع نے کہا کہ
محمد ﷺ ! جنگ بدر کی فتح نے تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کردیا ہے۔ مکہ والے کیا جانیں کہ لڑنا کیا ہوتا ہے، اس لیے تم نے ان کو مار لیا ‘ لیکن جب ہم سے واسطہ پڑے گا تو ہم تمہیں بتادیں گے کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔
اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ‘ کہ تم سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ دو ‘ لیکن اگر تم اس سے باز نہیں آتے تو پھر یاد رکھو چند دنوں کی بات ہے ‘ جب تم مسلمانوں کے سامنے مفتوح اور مغلوب ہو کر ذلت کی تصویر بنے کھڑے ہو گے۔ اس طرح سے تم دنیا ہی میں اپنے انجام کو پہنچ جاؤ گے۔ لیکن یاد رکھو ! دنیا کی یہ سزا اصل سزا نہیں۔ اصل سزا تو تمہیں قیامت کے دن ملے گی ‘ جب تم جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت قرآن کریم اسلام کے غلبے اور یہود کی مغلوبیت کی پیش گوئی کر رہا تھا اس وقت مسلمانوں کی قوت اس قدر زیادہ نہیں تھی کہ وہ یہود پہ غالب آسکتے۔ ان کا ایک ایک قبیلہ الگ الگ بھی مسلمانوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کافی تھا۔ بنوقینقاع کی افرادی قوت تنہا بھی مسلمانوں سے زیادہ تھی اور وسائل کے اعتبار سے تو مسلمانوں کو ان سے کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ لیکن قرآن کریم حالات کے علی الرغم یہ دھمکی دے رہا ہے کہ عنقریب مغلوب ہونا تمہارا مقدر ہے، چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بنوقینقاع کا حضور ﷺ نے محاصرہ کیا ‘ انھوں نے شروع شروع میں تو بہت بدزبانی اور ہیکڑی سے کام لیا۔ لیکن چند دنوں کے سخت محاصرے کے بعد دماغ سیدھا ہوگیا۔ عبداللہ بن ابی ٔ کے انتہائی اصرار کی وجہ سے ان کی جانیں تو بچ گئیں ‘ لیکن انھیں اپنے قلعوں ‘ اپنے کاروبار اور اپنے باغوں سے دستبردار ہو کر بےکسی اور بےبسی کی تصویر بن کر مدینہ سے شہر بدر ہونا پڑا۔ اس لحاظ سے یہ آیت کریمہ قرآن کریم کی حقانیت کی ایک واضح دلیل ہے۔ دنیا میں تو ان کو یہ سزا ملی کہ وہ شہر سے نکال دیے گئے اور جا کر خیبر میں آباد ہوگئے ‘ لیکن جو آخرت میں سزا ملے گی وہ اس سے بدرجہا زیادہ ہے کہ انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بننا پڑے گا۔
یہود نے اپنے مصنوعی اور جاہلانہ تصورات کی وجہ سے جہنم کو ایک بےضرر سی چیز سمجھ رکھا تھا اور یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ جہنم کی آگ ہمیں نہیں چھوئے گی اور اگر ہمیں عجل پرستی کی سزا کے طور پر چالیس دن جہنم میں رہنا بھی پڑا تو یہ محض ایک ضابطے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے آیت کے آخر میں ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے وَبِئْسَ الْمِہَادُ (جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے)
مِہَاداصل میں ” بستر اور فرش “ کو کہتے ہیں۔ انسان کی تکلیف اور بےچینی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو اسے بستر بھی کانٹوں کا معلوم ہوتا ہے۔ بستر پر بجائے آرام ملنے کے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک عذاب دیا جا رہا ہے۔ اور ” بِئْس “ کے لفظ نے تو شدت عذاب کو انتہا تک پہنچا دیا اور قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے عذاب کی شدت کو شائد الفاظ ادا نہیں کرسکتے۔ یہود نے اللہ کی رحمتیں دیکھیں ‘ اس کی طرف سے مسلسل ڈھیل ملنے کے باعث یہ لوگ فریب خوردگی کا شکار ہوگئے تھے۔ اس لیے اس لفظ سے انھیں تنبیہ کی گئی ہے ؎
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 3:13قَدْ کَانَ لَـکُمْ اٰیَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ط فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ط وَاللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُوْلِی الْاَبْصَارِ ۔
(تحقیق تمہارے لیے نشانی ہے ان دو گروہوں میں { جو بدر میں } ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر تھا۔ یہ ان کو کھلم کھلا ان سے دو گنا دیکھ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے بصیرت ہے) ( 13)
گزشتہ آیت میں دعویٰ کی دلیل
سابقہ آیت کریمہ میں مخالفین کو اسلام کے غلبہ اور ان کے مغلوب ہونے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایک ایسے واقعہ سے اس پر دلیل پیش کی جا رہی ہے جو تھوڑا ہی عرصہ پیشتر پیش آیا تھا۔ مراد اس سے جنگ بدر کا واقعہ ہے۔ کفار کو اپنی عددی برتری اور وسائلِ جنگ کی فراوانی پر ناز تھا۔ یہی دونوں چیزیں ہمیشہ جنگ میں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہیں اور یہی دونوں چیزیں کافروں کے پاس بہتات کے ساتھ تھیں اور مسلمان اس سے تہی دامن تھے۔ بدر کے واقعے سے انھیں بتایا جا رہا ہے کہ واقعہ کو غور سے دیکھو تو تمہیں صاف معلوم ہوگا کہ جن چیزوں کو تم نے کامیابی کی ضمانت سمجھ رکھا تھا، بدر میں وہ دونوں چیزیں کام نہیں آئیں۔ اس جنگ میں قریش کا لشکر ساڑھے نو سو (950) مردانِ جنگی پر مشتمل تھا اور وسائلِ جنگ کی ان کے پاس فراوانی تھی۔ اسلحہ جنگ کی کوئی کمی نہ تھی ‘ رسد اور کمک کے انتظامات مکمل تھے اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ ان کی صفوں میں صرف تین سو تیرہ (313) آدمی تھے۔ اسلحہ جنگ میں ان کے پاس صرف آٹھ تلواریں ‘ دو گھوڑے اور چھ زرہیں تھیں۔ اللہ کے ان عظیم بندوں میں ایسے بھی تھے جن کے تن پر قمیض نہ تھی۔ اکثریت کے ہاتھوں میں شمشیریں یا کمانیں تھیں اور بعض ایسے مجاہد بھی تھے جو بالکل خالی ہاتھ تھے اور انھوں نے درختوں سے تنے توڑ کر اپنے لیے لاٹھیاں تیار کی تھیں۔ ایک صحابی نے آپ ﷺ سے خالی ہاتھ ہونے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ایک لکڑی کا تختہ اٹھا کے دیا جو ان کے ہاتھ میں پہنچ کر ایک چمکتی ہوئی تلوار بن گیا۔ اس بےسروسامانی کے باوجود جب مقابلہ ہوا تو قلت کثرت پر غالب آگئی۔ نہتے لوگوں نے مسلح لوگوں کی کمر توڑ دی۔ جنگ میں کامیابی کے تمام مسلمہ اصول دھرے رہ گئے۔ اس واقعے میں سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ میدانِ جنگ میں فتح و شکست افرادی قوت اور اسلحہ جنگ میں کمی بیشی سے نہیں ہوتی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے ہوتی ہے اور یہ تائید و نصرت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کے راستے میں ‘ اللہ کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ فتح اس گروہ کو ہوتی ہے جو اخلاقی اقدار کا علمبردار ہوتا ہے ‘ جن کا بھروسہ صرف اللہ کی ذات پہ ہوتا ہے ‘ وہ اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی کے باوجود ہراساں نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے بھروسے پر میدان میں استقامت دکھاتے ہیں اور ان کا استقلال اور توکل اللہ سے انعام لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں اصل فرق یہی تھا۔ ایک طرف قریش مکہ کے لشکر میں شرابوں کے دور چل رہے تھے ‘ ناچنے اور گانے والی لونڈیاں ساتھ آئی تھیں اور خوب داد عیش دی جارہی تھی اور اپنی قوت اور برتری کے اظہار کے دعوے تھے ‘ لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں پرہیزگاری تھی ‘ خدا ترسی تھی ‘ انتہا درجے کا اخلاقی انضباط تھا ‘ نمازیں تھیں اور روزے تھے ‘ زبان پر اللہ کا نام تھا ‘ اسی سے دعائیں مانگی جا رہی تھیں ‘ اسی سے التجائیں ہو رہی تھیں ‘ دل اسی کی امید سے لبریز تھے۔ ان دونوں لشکروں میں یہ فرق ایمان اور اخلاق کا تھا جس نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلحہ جنگ اور افرادی قوت میں اگر کمی بھی ہو ‘ لیکن اللہ سے تعلق اور تعمیل احکام میں کوئی کمی نہ ہو تو قلت تعداد اور بےسروسامانی کی تلافی اللہ کی تائید و نصرت سے ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر ایمان میں کمزوری اور کردار میں کجی ہو تو اس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں ہوتی۔ میدانِ جنگ میں وہی قومیں غالب آتی ہیں ‘ جو اپنے سیرت و کردار اور حوصلوں میں زندہ ہوتی ہیں اور اسلحہ جنگ کی تیاری میں بھی مقدور بھر کوتاہی نہیں کرتیں ‘ لیکن کوشش کے باوجود بھی اگر اللہ والے بےسروسامانی کا شکار ہوجاتے ہیں تو اللہ کے فرشتے ان کی مدد کے لیے آجاتے ہیں۔ اسی بات کو قرآن کریم نے دونوں جماعتوں کے تعارف کے طور پر نہایت اعجاز اور ایجاز کے ساتھ ذکر فرمایا فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ دو مقابل باتوں میں سے ایک مقابل کو اختصار کے لیے بالعموم حذف کردیا جاتا ہے کیونکہ مذکور لفظ محذوف کی طرف رہنمائی کر رہا ہوتا ہے۔ یہاں بھی اسی اسلوب کے تحت اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اصل عبارت اس طرح ہے فِئْۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سِبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ تَقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ پہلے جملے میں لفظ ” مؤمنۃ “ کو حذف کیا گیا اور دوسرے جملے میں فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِکو حذف کیا گیا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر گروہ طاغوت کے راستے میں لڑ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ جو اللہ کے راستے میں لڑنے والا گروہ ہے اس کا تعلق یقینا اپنے اللہ سے ہوگا۔ وہ اللہ ہی کے کلمے کی سربلندی کے لیے لڑے گا۔ اس کا بھروسہ اسی کی ذات پر ہوگا اور وہ اپنے کسی عمل سے بھی اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرے گا اور دوسرا گروہ جو طاغوت اور لا دینیت کے راستے میں لڑے گا وہ نہ جانے کس کس کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ چونکہ بنیادی طور پر بندہ نفس ہوگا ‘ اس لیے اس کا ایک ایک عمل تمرد ‘ غرور اور سرکشی کی تصویر ہوگا اور یہ دونوں گروہ جب آپس میں ٹکرائیں گے تو اللہ کی تائیدو نصرت پہلے گروہ کے ساتھ ہوگی۔ اس کی نصرت اور تائید کے سو طریقے ہیں ‘ لیکن وہ سارے طریقے صرف مسلمانوں کے حوصلے توانا کرنے کے لیے ہیں ورنہ مدد تو صرف اللہ کی جانب سے آتی ہے۔ فرشتوں کا اترنا بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے اور حالات کی سازگاری بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ لیکن وہ تائید و نصرت جو جنگ کا نقشہ بدلتی ہے وہ بطور خاص اللہ کی جانب سے آتی ہے۔
تائید و نصرت کی ایک مثال
تائید و نصرت کے ظاہری اسباب میں سے ایک کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ انھیں ان کی اصل تعداد سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔ مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ یَرَوْنَ کا فاعل کون ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس کا فاعل مسلمان ہیں۔ وہ قریش مکہ کے لشکر کی تعداد کو جو کہ اس سے تین گنا تھی ‘ دو گنا دیکھ رہے تھے۔ لیکن بعض محققین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ یَرَوْنَ کا فاعل قریش مکہ تھے۔ وہ مسلمانوں کو ان کی اصل تعداد سے یا اپنے آپ سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔ یہ اللہ کی جانب سے تائید و نصرت کی پہلی شکل تھی کہ قریش مکہ جو عددی برتری کے زعم میں یہاں پہنچے تھے ‘ جب انھوں نے میدانِ جنگ میں مسلمانوں کو دیکھا تو انھوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کی تعداد ان سے دو گنا ہے۔ کافر چونکہ ہمیشہ اسباب و وسائل کی جنگ لڑتا ہے اس لیے جہاں بھی اسے وسائل نظر آتے ہیں اور اسباب کی کثرت دکھائی دیتی ہے وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس نے مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھا تو اس کے حوصلے چھوٹ گئے۔ ممکن ہے بعض لوگ ایک شبہ کا اظہار کریں ‘ وہ یہ کہ سورة انفال میں پروردگار نے یہ فرمایا ہے کہ غزوہ بدر میں کفار بھی مسلمانوں کی نظر میں کم کر کے دکھائے گئے تھے اور مسلمان بھی کفار کی نظر میں کم دکھائے گئے تھے اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کو دو چند دیکھا تو ان دونوں باتوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت دراصل یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو دونوں کو اپنا حریف کم تر نظر آیا۔ مسلمانوں نے کفار کی تعداد کم دیکھی اور کفار نے مسلمانوں کی تعداد۔ اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ دونوں کو دوسرے کی تعداد اس لیے کم دکھائی گئی تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے سے لڑنے اور جھپٹنے کے لیے دلیر ہوجائیں اور اگر ان کو واقعی ویسا ہی دکھایا جاتا یا قریش کو پہلے مسلمانوں کو زیادہ دکھا دیا جاتاتو ممکن تھا کہ کوئی ایک فریق میدانِ جنگ چھوڑ دیتا جبکہ اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ آج اس میدان میں حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کردیا جائے۔ لیکن جب دونوں فوجیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو اب چونکہ بھاگنے کا مرحلہ تو گزر چکا تھا اب تو تصادم شروع ہوچکا تھا اب ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمانوں کی تائید و نصرت کے لیے کافروں کی نگاہوں میں مسلمانوں کی تعداد کو زیادہ دکھایا جائے تاکہ وہ مرعوب ہو کر حوصلہ چھوڑ دیں۔ تو آیات انفال میں جس موقع و محل کا ذکر ہے وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کا ہے اور پیش نظر آیت کریمہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد کا ہے جب تائید الٰہی ملائکہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ممکن ہے کہ انھیں ملائکہ کی شکلیں دکھائی گئی ہوں تو جب انھوں نے مسلمانوں کو بھی دیکھا اور ملائکہ کو بھی تو اس صورت میں مسلمانوں کی تعداد ان کو اصل تعداد سے بہت زیادہ معلوم ہوئی۔
آخر میں فرمایا کہ اس واقعے میں دیدہ بینا رکھنے والوں کے لیے بہت سبق پوشیدہ ہیں۔ وہ جتنا اس بات پر غور کریں گے ان دونوں گروہوں کے بارے میں انھیں نئے سے نیا سامانِ عبرت حاصل ہوگا۔
Ayah 3:14زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِالْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۔
(مزین کردی گئی ہیں لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس یعنی عورتیں ‘ بیٹے ‘ سونے چاندی کے ڈھیر ‘ نشان زدہ گھوڑے ‘ چوپائے اور کھیتی، یہ دنیوی زندگی کے سروسامان ہیں اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے) (14)
آیت نمبر 10 کی مزید تشریح
یہ آیت کریمہ آیت نمبر 10 کی تشریح بھی ہے اور ایک اہم حقیقت کا اظہار بھی۔ آیت نمبر دس میں یہ کہا گیا کہ جو لوگ قرآن اور قرآن کی دعوت کے مخالف اور دشمن ہیں وہ اپنی دشمنی کے دلائل کے طور پر قسم قسم کی باتیں کرتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں ان کی مخالفت کا صرف ایک ہی سبب ہے وہ ہے حبِّ دنیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد چونکہ ایک نئی طرح کی زندگی اختیار کرنا پڑتی ہے جس میں تمام احساسات اور انفعالات پر جو جذبہ حکمرانی کرتا ہے وہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین سے محبت کا جذبہ ہے۔ محبت کے اور جتنے رشتے اور جتنے علاقات ہیں وہ سب اس رشتے کے تابع ہیں۔ کائنات کی سب سے پہلی اور ابدی حقیقت اللہ کی ذات ہے اور اسی سے تعلق اور اسی کی محبت انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ پھر اس محبت کے تقاضے یا نتیجے کے طور پر جو جو رشتے وجود میں آتے ہیں ان رشتوں کی پاسداری اور ان کی محبت اللہ کی محبت کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ لیکن جو محبتیں اس کے راستے میں حائل ہوتی ہیں یا اللہ سے محبت پر غالب آتی ہیں ‘ اسلام نے ایسی ساری محبتوں اور تعلقات کو ممنوع قرار دیا۔ اس آیت کریمہ میں اسی بات کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ انسان درحقیقت حبِّ دنیا کا اسیر ہو کر اللہ کی محبت سے غافل ہوجاتا ہے اور یہی بات تمام خرابیوں کی اصل بنیاد ہے۔ پھر جن جن چیزوں سے انسان محبت کرتا ہے، ان کی تفصیل بیان فرمائی کہ انسان کی محبت کی اصل شکل مشتہیات یعنی مرغوباتِ نفس سے محبت ہے۔ اس آیت میں شہوات سے مشتہیات مراد ہیں۔ یعنی وہ مرغوباتِ نفس جن کی طرف نفس مائل ہوتا ہے ‘ نفس جن کی خواہش کرتا ہے ‘ جنھیں پسند کرتا ہے اور یہی پسند بالآخر محبت کا روپ اختیار کرلیتی ہے۔ ان مرغوبات میں پھر ایک ترتیب ہے جو بالکل فطری بھی ہے اور نفس کے تقاضوں کے مطابق بھی۔ آدمی سب سے زیادہ اور سب سے پہلے اہل و عیال سے محبت کرتا ہے کیونکہ اہل و عیال کی محبت انسان کی معاشرتی زندگی اور اس کی تنہائیوں کی آبادی کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لیے انسانی تعلقات میں سب سے بلند مقام اسی رشتے کا ہے۔ دوسری چیزوں کی محبت ‘ اسی محبت سے پھوٹتی ہے بلکہ ضرورت کے تحت وجود میں آتی ہے۔ ہر آدمی اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسب اور اکتساب کرتا ہے ‘ کسی نہ کسی طریقے سے مال کمانے کی فکر کرتا ہے تاکہ اس سے گھر کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ لیکن پھر نفس کی بےاعتدالیوں کے باعث یہ ضرورت محبت کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ آدمی پھر اس پر قناعت نہیں کرتا کہ میں اس کے لیے اتنی محنت کروں جس سے میرے گھر کی ضروریات پوری ہو سکیں بلکہ وہ اسے مقصد بنا کر اسے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
مال و دولت میں چونکہ سب سے قیمتی چیز سونا اور پھر چاندی ہے ‘ اس لیے یہاں اسی ترتیب سے اس کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ قناطیر، قنطار کی جمع ہے اور مقنطرۃ اس کی صفت ہے۔ اس کے لیے خزانہ کا لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے ‘ لیکن اس کا اصل معنی ” مال کثیر “ ہے۔ یہاں قنطار کے ساتھ مقنطرۃ کی صفت کا استعمال کثرت میں اضافے کے لیے ہے۔ جیسے ” لیل الیل “ یا ” ظل ظلیل “ بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مال کا اکتساب جو ضرورت کے تحت وجود میں آتا ہے لیکن پھر بڑھتے بڑھتے وہ خزانے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اب اکتساب کرنے والے کی طلب کسی حد پر بھی قناعت نہیں کرتی اور یہی وہ چیز ہے جس کو کسی چیز کی محبت کہا جاتا ہے۔ پھر جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ میرے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے تو پھر وہ ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی بھی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ عرب میں ایسی زندگی کے لیے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی تھی ان میں پہلی چیز قیمتی گھوڑے ہوتے تھے۔ اہل عرب زینت ‘ فخر اور دفاع تینوں کے نقطہ نظر سے گھوڑے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ جو ان کے اصطبل کی زینت بھی تھا اور یہی لڑائیوں میں سب سے کارآمد ہتھیار بھی تھا اور یہی اس دور کی سب خوبصورت سواری بھی تھی۔ اس لیے ہر امیر آدمی کوشش کرتا تھا کہ میں ایسے قیمتی گھوڑے پر سواری کروں جیسا گھوڑا کسی اور کے پاس نہ ہو۔ جس طرح آج کے امراء قیمتی سے قیمتی گاڑی رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں ‘ اس دور میں گاڑی کا متبادل گھوڑا سمجھا جاتا تھا۔ پھر قبائلی اور بدوی زندگی میں معاش کا زیادہ تر انحصار چوپایوں پر تھا۔ جن میں اونٹ بھی شامل تھے اور بھیڑ بکریاں بھی۔ اونٹ بار برداری کے کام بھی آتے اور صحرا کے سفر میں سب سے کارآمد سواری بھی یہی تھی ‘ انہی کے بالوں سے خیمے تیار ہوتے ‘ انہی کی کھالوں سے بہت سی ضرورتیں پوری کی جاتیں اور اہل مکہ کے یہاں یہ سب سے بڑی صنعت بھی تھی اور بھیڑ بکریاں ان کی غذا کا سامان تھیں۔ جس طرح وہ اونٹ کا دودھ شوق سے پیتے تھے اس طرح بھیڑ بکریوں کا دودھ بھی پیتے تھے اور ان کے چمڑے اور اون سے اپنی بہت سی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔
آخری چیز جو بیان فرمائی گئی ہے وہ ہے حرث، حرث کا اطلاق کھیت پر بھی ہوتا ہے ‘ کھیتی پر بھی اور باغ پر بھی۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت چونکہ تمدن کا دور شروع ہوچکا تھا ‘ بدویت کے دور میں اگرچہ حرث کی کوئی اہمیت نہ تھی ‘ لیکن تمدن شروع ہوتے ہی جب انسان نے شہروں اور دیہاتوں کی رہائش اختیار کی تو حرث کو زیادہ سے زیادہ اہمیت ملتی گئی۔ اس لیے مال و دولت دنیا میں اس کا ایک اہم مقام ٹھہرا۔ دنیا کی ان تمام چیزوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن نے جس اہم حقیقت کو منکشف فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی چیز کی چاہت بھی اپنی ذات میں بری نہیں بلکہ یہ تو انسان کی ایسی ضرورتیں ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ! وہ چیز جو حق کے قبول کرنے اور دین کا راستہ اختیار کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے وہ ان چیزوں کی تزئین ہے۔
تزئین کا مفہوم
تزئین کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اس طرح آنکھوں میں کھب جائے کہ آدمی اس کے اثر میں ڈوب کر ہر چیز اسی کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے۔ یہاں تک کہ اس سے الگ ہو کر اس کے لیے کسی چیز کو دیکھنا ممکن ہی نہ رہے۔ وہ ہر چیز کو تولنے اور پرکھنے کے لیے اسی کو پیمانہ اور کسوٹی قرار دے لے۔ جس طرح بھوکا آدمی خواب میں بھی روٹیاں دیکھتا ہے اور اس سے پوچھاجائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ چار کی بجائے چار روٹیاں کہتا ہے کیونکہ پیٹ کی آگ اس کے دماغ تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ایک آدمی اپنی ضروریات کو مقاصد کا درجہ دے کر ان کے حصول میں رات دن لگ جاتا ہے تو وہ اس کے احساسات اور انفعالات پر غالب آجاتی ہیں۔ وہ ہر چیز کو انہی کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ وہ اگر بیمار بھی ہوتا ہے تو ہند وبنیے کی طرح اپنی اولاد سے پوچھتا ہے کہ میرے علاج پر خرچ زیادہ آئے گا یا میری بعد از مرگ رسموں پر۔ ان دونوں میں سے جس پر کم خرچ آتا ہے تمہیں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ دنیا کی محبت میں ڈوب جانے والا آدمی بیشک ہندو بنیے کی طرح یہ بات نہ کہے لیکن اس کی زندگی کے معمولات قدم قدم پر اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔ دنیا کی محبت کا اس طرح غالب آجانا ‘ یہ فطرت کے بھی خلاف ہے اور خالق فطرت کے منشاء کے بھی۔ ایسی زندگی کو اختیار کرلینے کے بعد صرف یہودی ذہنیت یا بنیا پن تو باقی رہ سکتا ہے ‘ دین یا اخلاق کے باقی رہنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے مال و دولت کے حصول سے نہیں روکا ‘ لیکن اس کی تزئین یعنی اس میں ڈوب جانے اور اس کی محبت میں فنا ہوجانے سے سختی سے روکا ہے اور ایسے تمام ذرائع کو ممنوع قرار دیا ہے جس سے یہ ذہنیت فروغ پاتی ہے۔ اس لیے بڑی بڑی مرغوباتِ نفس اور مال و دولت کی مختلف صورتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (یہ ہے حیات دنیا کا سامان) اس چھوٹے سے فقرے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ معانی کا کیسا جہان پوشیدہ ہے۔ اس فقرے کے اسلوب سے دنیا کی بےثباتی بھی جھلکتی ہے اور عالم باقی کے مقابلے میں اس کی بےحقیقتی بھی۔ مسلمان کو اللہ نے اپنی محبت اور آخرت کا شعور دے کر آخرت کا مسافر بنایا ہے۔ آخرت کی نعمتیں جنت کی صورت میں اس کے لیے چشم براہ ہیں۔ اس کی بےبصیرتی کی کیا انتہا ہے کہ ان سے منہ پھیر کر یہ دنیا کے خزف ریزوں کی محبت میں ڈوب جانا چاہتا ہے۔ پوری دنیا کی اصلاح اس کی ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے۔ لیکن جو شخص مرغوباتِ نفس کا اسیر ہوجائے گا وہ دنیا کی اصلاح کیا کرے گا ؟ اس کی تگ و تاز تو گھر کے باورچی خانے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اس کا معدہ اس کا مطاف بن جائے گا۔ وہ دنیا کی اصلاح کی بجائے دنیا کو ہوس اور لالچ کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دے گا۔ یہ وہ لازمی نتائج ہیں جو مرغوباتِ نفس کی خواہشات میں ڈوب جانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے پاس ان کے لیے بہترین ٹھکانہ ہے۔ دنیا کی محبت میں ڈوب جانے والا شخص اللہ کے پاس بہترین ٹھکانے کو بھول جاتا ہے اور وہ دنیا ہی میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور یہ وہ حماقت ہے جس سے ہزاروں حماقتیں پھوٹتی ہیں۔
Ayah 3:15قُلْ اَؤُنَـبِّئُکُمْ بِخَیْرٍمِّنْ ذٰلِـکُمْ ط لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ج
(اے پیغمبر ! ان سے کہئے کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز کی خبر نہ دوں ؟ ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں گے ان کے رب کے پاس ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہوگی۔ اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا ہے) ( 15)
دنیا کی غلامی سے نکالنے کی ایک کوشش
قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی دعوت نے نہایت حکیمانہ طریقے سے انسان کو مرغوباتِ نفس کی محبت اور دنیا اور اموالِ دنیا کی غلامی سے نکالا ہے۔ اس نے عیسائیت کی طرح نہ تو ترک دنیا کی تعلیم دی اور نہ بدھ مت کی طرح بھکشوبننے کی اجازت دی اور نہ ہند و مت کی طرح جوگی ازم کو پسندیدہ ٹھہرایا۔ یہ چونکہ ایک فطری دین ہے جو دنیا کی آبادی اور انسان کی اصلاح کے لیے آیا ہے۔ اگر انسان کو آبادی سے نکال کر جنگلات کا راستہ دکھانا ہے اور دنیا کے معمولات سے ہٹاکر ‘ ترک دنیا کی ترغیب دینی ہے تو یہ اصلاح نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے فرار کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی صلاحیتیں بھی دم توڑ جائیں گی اور انسانی آبادیاں بھی بےآباد ہوجائیں گی۔ ترک دنیا اور اس سے ملتے جلتے دوسرے طریقے چونکہ خلاف فطرت ہیں اس لیے انسان نے کبھی اسے سنجیدگی سے لینے کی کوشش نہیں کی۔ چند افراد سے زیادہ اسے قبول عام حاصل نہیں ہوا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیوی ہما ہمی باقی ہے اور انسانی قافلہ رواں دواں ہے اور خود رہبانیت اور ترک دنیا کی تعلیم دینے والے اسے چھوڑ کر انسانی قافلے میں شریک ہوچکے ہیں۔ مذہبی عبادت گاہوں میں چند افراد کے سوا دنیا میں کہیں اس کے ماننے والے نہیں رہے۔ اس لیے کہ جو چیز خلاف فطرت ہوگی اور جس کو منفی بنیادوں پر اٹھایا جائے گا وہ کبھی دیر پا نہیں ہوتی اور انسان اسے کبھی خوش دلی سے قبول نہیں کرتا۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر دنیا اور اموالِ دنیا کی طلب انسان کا مقصد بن جاتی ہے اور وہ اس کی محبت کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے تو پھر نہ اخلاقیات باقی رہتی ہیں ‘ نہ انسانی رشتوں کا تقدس باقی رہتا ہے ‘ انسان بجائے انسان کے کام آنے کے انسان کو شکار کرنے والا اور بھنبھوڑنے والا ایک درندہ بن جاتا ہے۔ اس کی نظر ہمیشہ دوسرے کی جیب پر رہتی ہے۔ وہ دوسروں کی ضرورتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی تجوری بھرنے والا ایک سنگ دل شخص بن جاتا ہے۔ اسے صرف اپنی دولت بڑھانے کی فکر ہوتی ہے ‘ چاہے اس کے لیے اسے کیسے ہی جرائم کا ارتکاب کرنا پڑے۔ جس طرح ترک دنیا سے دنیا تباہ ہوتی ہے اسی طرح دنیا کی ہوس بھی دنیا کو تباہ کردیتی ہے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان قرآن کریم نے ایک زاویہ نگاہ دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتا ہے تم دنیا میں رہو ‘ دنیا کو برتو اور دنیا کی ضروریات کے لیے محنت کرو اور ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے جن اشیاء کی ضرورت ہے ان اشیاء کو حاصل کرو۔ اگر تمہارے کسب اور اکتساب کے نتیجے میں تمہیں ضرورت سے زیادہ دولت ہاتھ آجاتی ہے تو اسے اپنے پسماندگان کے لیے بھی بچا کے رکھو ‘ لیکن اگر تمہارے گرد و پیش میں ضرورت مند لوگ موجود ہیں تو ان پر خرچ کرو۔ انسانی ضرورتوں پر کبھی ہوس اور خواہشات کو غالب نہ آنے دو ۔ تم دنیا کے لیے محنت کرو ‘ لیکن اسے مقصود اور محبوب نہ بنائو۔ تمہاری محبوب ہمیشہ آخرت ہونی چاہیے۔ آخرت کی نعمتوں کے حصول کے لیے جیسے سیرت و کردار کی ضرورت ہے وہ اپنے اندرپیدا کرنے کی کوشش کرو۔ تمہاری حقیقی منزل آخرت ہے اور آخرت میں بھی جو چیز تمہارا منتہائے نگاہ ہونی چاہیے وہ اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ چناچہ عرب کے مادہ گزیدہ اور خواہشات پر فنا ہوجانے والے معاشرے میں جب اس زاویہ نگاہ کو قبولیت کا موقع ملا تو حیرانی کی حد تک ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آیا۔ جس کا ایک ایک فرد سیرت و کردار کی اعلیٰ مثال تھا۔ اس کا مزدور ایک صابر و شاکر مزدور تھا اور اس کا مالک مزدور کا پسینہ خشک ہوجانے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اجرت دینے کا حریص تھا۔ اس کا طبقہ امراء دولت کا امین بن کر دولت کو وہاں خرچ کردینے کے لیے بےچین رہتا تھا جہاں ضرورت مند انسان بستے تھے۔ کسی شخص کی معمولی تکلیف بھی حکمرانوں کو بےچین کردیتی تھی۔ اس معاشرے میں تخت شاہی کا تصور ایک بوریے کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔ حکمران راتوں کو چھپ چھپ کر لوگوں کی ضروریات معلوم کرنے کی کوشش کرتے تاکہ وہ انھیں آسودہ زندگی دے سکیں۔ اس معاشرے میں دولت کمائی جاتی تھی ‘ لیکن خیر کے حصول کے لیے، اس میں انسان محنت کرتا تھا ‘ اپنی ضرورتیں پوری کرنے اور دوسروں کے کام آنے کے لیے۔ اس دنیا میں بسنے والے لوگ دنیا کو دارالعمل سمجھتے تھے اور آخرت کو اپنی منزل گردانتے تھے۔ آخرت کی نعمتیں ان کا مقصود اور مطلوب بن گئی تھیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی زاویہ نگاہ کے بدلنے کی کوشش فرمائی گئی ہے اور جن لوگوں میں یہ تبدیلی پیدا ہوگئی ‘ بعد کی آیات میں انہی کی صورت آرائی کی گئی ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ان سے کہئے کہ تم جو دنیا کی معمولی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے جان توڑ کوششیں کرتے ہو ‘ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہاری کوششوں کا اس سے بہتر ہدف بھی موجود ہے۔ بس اس کے لیے ضرورت یہ ہے کہ تم تقویٰ کی زندگی اختیار کرو۔ اس کے نتیجے میں تمہیں آخرت میں ایسی جنتیں ملیں گی جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ انسان چونکہ اکیلا رہ کر کبھی زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے زندگی گزارنے کے لیے رفیقہ حیات چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ ان جنتوں میں اہل جنت کو پاکیزہ بیویاں دی جائیں گی۔ اللہ نے ان کے ذوق اور ان کے طور اطوار کی ایسی اصلاح فرمائی ہوگی کہ وہ ہر لحاظ سے پاکیزہ کہلانے کی مستحق ہوں گی۔ ان کی کسی بات میں اپنے رفیق حیات کے لیے تکلیف دہ اشارہ تک موجود نہیں ہوگا۔ قدرت نے انھیں غیر معمولی طور پر اخلاق ‘ عادات اور ذوق کی تطہیر کے عمل سے گزارا ہوگا۔ یہ نعمتیں بجائے خود ایسی ہیں کہ جن کی طلب میں آدمی بڑی سے بڑی قربانی دے سکتا ہے ‘ لیکن ان سے بھی بڑی نعمت جنت میں اللہ کی رضا ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرمائیں گے کہ لوگو ! میں تم سے راضی ہوں اور تمہیں اپنی رضا سے نوازتا ہوں۔ یہ اعلان اہل جنت کے لیے اتنی بڑی نعمت ہوگا کہ جنت کی وہ نعمتیں جن کی رعنائی کو ہم تصور میں بھی نہیں لاسکتے وہ سب اس کے مقابلے میں ہیچ محسوس ہوں گی اور آخر میں فرمایا وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ اس میں بیک وقت تسلی بھی ہے اور دھمکی بھی۔ دھمکی تو یہ ہے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور یہ مت سمجھو کہ وہ تمہارے اعمال سے بیخبر ہے۔ اس لیے اگر تم نے ایسے اعمال اختیار کیے جو اس سے بغاوت کے مترادف ہیں تو یقین جانو کسی وقت بھی تم گرفت میں آسکتے ہو اور تسلی ان معنوں میں ہے کہ جو لوگ آخرت کی تیاری کے لیے دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار کریں گی انھیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اس راستے میں وہ جن جن مصائب سے دوچار ہوں گے اور جو مشقتیں انھیں اٹھانا پڑیں گی ان کی ایک ایک کیفیت اور ایک ایک قربانی سے اللہ پوری طرح واقف ہے اور وہ ان کی ایک ایک نیکی کا زیادہ سے زیادہ صلہ دے گا اور ان کی کوئی قربانی ضائع نہیں جائے گی۔