Ayah 3:38ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّـہٗ ج قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْـکَ ذُرِّیَّـۃً طَـیِّـبَـۃًج اِنَّـکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ ۔
(اس وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا۔ عرض کی کہ اے میرے رب ! عطا فرما مجھ کو اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد۔ بیشک تو ہی سننے والا ہے دعا کو) (38)
ھُنَالِکَ کا مفہوم
ہُنَالِکَظرفِ مکاں بھی ہے اور ظرف زماں بھی۔ یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ ” اسی وقت زکریا نے اپنے رب کو پکارا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ” وہیں زکریا نے اپنے رب کو پکارا “ دونوں صورتوں میں توجہ دلانا یہ مقصود ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جو اللہ کے مقبول بندے اور اسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے والے تھے انھوں نے جب دیکھا کہ بےموسم اور تازہ پھل بغیر کسی واسطہ کے حضرت مریم کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو فوراً خیال آیا کہ اولاد تو ماں باپ کی جوانی کا پھل ہے۔ میں بوڑھا کھوسٹ ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے۔ بظاہر اولاد کا موسم گزر گیا لیکن اگر وہ مریم جیسی پاکیزہ بچی کو بےموسم اور تروتازہ پھل دے سکتا ہے تو اس سے کیا بعید ہے کہ وہ ایک بوڑھے کی تمنا بھی پوری کر دے اور ایک بڑھیا کی گود ہری کر دے اور ممکن ہے کہ یہ خیال بھی آیا ہو کہ اگر وہ مریم کی والدہ کو مریم جیسی پاکیزہ اور صاحب کرامت بچی عطا کرسکتا ہے تو کیا تعجب ہے کہ مجھے بھی ایک پاکیزہ صفت بیٹا عطا کر دے۔ چناچہ بڑھاپے کی وجہ سے جو خواہش دب چکی تھی اور جسے زبان پر لانے کی ہمت نہیں پڑتی تھی اسے مریم کی صفات و کمالات اور اللہ تعالیٰ کی غیرمعمولی عنایات نے زبان پر لانے کی جرأت عطا کردی۔
توجہ طلب باتیں
یہاں متعدد باتیں توجہ طلب ہیں۔ پہلی یہ بات کہ حضرت زکریا اپنے تمام روحانی کمالات کے باوجود یہ یقین رکھتے تھے کہ اللہ کی قدرت کسی موسم کی محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو صحرائوں میں حباب اٹھا دے اور چاہے تو سمندر کو پایاب کر دے۔ دنیا کا ہر چھوٹا بڑا آدمی اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اسی ذات بابرکات کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا محتاج ہے، اسباب کی احتیاج ہم بندوں کے لیے ہے۔ اللہ جب کسی پر کرم فرماتا ہے تو وہ اسباب سے بےنیاز ہو کر فرماتا ہے۔ اسے کبھی اسباب کی احتیاج نہیں ہوتی، وہ مسبب الاسباب ہے۔ اسباب اس سے اثر اور خواص کی بھیک مانگتے ہیں اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ روحانیت، خدا پرستی، اللہ کا قرب ترک دنیا میں نہیں بلکہ دنیا کو اللہ کے احکام کے مطابق برت کر دکھانے میں ہے۔ ترک دنیا تو ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ ہے اور یہ سب سے آسان راستہ ہے۔ انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بازار سے گذرے اور خریدار نہ ہو، وہ محض اس خیال سے دریا کی موجوں سے کنارہ کش نہ رہے کہ میرا دامن تر ہوجائے گا کیونکہ مقصود اپنے دامن کو پانی سے بچانا نہیں بلکہ اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہے کہ اگر دامن تر ہوجائے تو ہاتھوں میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ جب چاہیں دامن کو نچوڑ دیں۔ اگر اولاد کی خواہش دنیا داری ہوتی تو پیغمبر کبھی اس کی خواہش نہ کرتے اور اپنے پیروئوں کاروں کو کبھی اس کی اجازت نہ دیتے اور مزید یہ بات کہ انسان کو اس کے فطری جذبات سے الگ کردینا یہ انسانیت اور فطرت میں جنگ کا راستہ کھولنا ہے جو سراسر غیر انسانی اور غیر فطری بات ہے۔ جس کے نتیجے میں یا انسانیت ناکام ہوجاتی ہے اور یا فطرت اپنے فرائض ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسانیت کا قافلہ سمٹ کر رہ جاتا ہے اور جو کسی طرح بھی اللہ کو پسند نہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے جا بجا اللہ کے نیک بندوں کی دعائوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں اولاد کی خواہش کا بار بار اظہار کیا گیا ہے۔ تیسری چیز یہ معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبروں کی دعائوں میں صرف اولاد کی خواہش کا ذکر نہیں بلکہ اولاد کی خواہش کو کہیں ذُرِّیَّـۃً طَـیِّـبَـۃًکے ساتھ مشروط کیا گیا اور کہیں قرۃ العین کے ساتھ یعنی انھوں نے جب بھی اولاد مانگی ہے تو صرف اولاد نہیں بلکہ ایسی اولاد مانگی ہے جو نیک سیرت اور اللہ کی فرمانبردار ہو۔ جن کے طور اطوار ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں، جن کی جوانی دین اور انسانیت کی شوکت کا اظہار اور جن کی کہولت دینی تجربہ اور دینی فکر کی غماز ہو اور چوتھی بات کی طرف آیت کریمہ کے آخری لفظ نے اشارہ کیا کہ اللہ کے نیک، صالح اور مقرب بندے اپنے مقاماتِ بلند کے باوجود اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے کہ کائنات کے فیصلوں اور انسانی مقدر کی تعمیر میں ہمارا بھی کوئی دخل ہے۔ اس لیے وہ اس بات کا ضرور اظہار کرتے ہیں کہ یا اللہ دعائوں کا سننے والا، قبولیت سے نوازنے والا اور ناموافق حالات میں بھی امیدوں کا پورا کرنے والا صرف تو ہے۔ سورة مریم میں تو اس بات کو مزید کھول کر دعا میں ذکر کیا گیا ہے کہ یا اللہ ! میری ہڈیوں میں گودا تک نہیں رہا۔ میرا سر بڑھاپے سے ہلنے لگا ہے اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے جس سے اولاد کی امید نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے باوجود تیرے سامنے ہاتھ پھیلا کر مجھے بدبختی کا کوئی ڈر نہیں۔ تو ہر طرح کے حالات میں امیدیں پوری کرنے پر قادر ہے۔ اللہ کی رحمت سے پر امید رہنا، اسی کے سہارے زندگی گزارنا، اسی کی بےپناہ طاقتوں پر یقین رکھنا ایک مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ چناچہ جب اس یقین سے بہرہ ور ہو کر ایک مومن اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو بالعموم ادھر سے استجابت آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ ادھر سے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے درد اور اثر میں ڈوبی ہوئی آواز میں دعا مانگی ادھر سے آواز آئی :
Ayah 3:39فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَہُوَ قَـآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ لا اَنَّ اللّٰہَ یُـبَشِّرُکَ بِیَحْيٰ مُصَدِّقًا م بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(تو فرشتوں نے اس کو ندا دی جب کہ وہ محراب میں نماز میں کھڑا تھا کہ اللہ تم کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے، جو اللہ کے کلمے کی تصدیق کرنے والا ہوگا، سردار ہوگا، لذات دنیا سے کنارہ کش ہوگا اور زمرہ صالحین میں سے نبی ہوگا) (39)
فرشتوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت اس وقت دی جب وہ محراب میں نماز اد اکر رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کے محراب میں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے پاس رکھے ہوئے تروتازہ پھلوں اور حضرت مریم کی غیر معمولی شخصیت سے جو غیر معمولی اثر قبول کیا، دل و دماغ تو یقینا اسی وقت اس سے مہک اٹھے لیکن اس کا اظہار انھوں نے اپنے محراب میں آ کر نفل نماز میں کیا کیونکہ نماز کی حالت ایک طرف قرب الٰہی کی غماز ہے اور دوسری طرف بندگی کے اظہار کی سب سے پاکیزہ صورت ہے۔ نماز ہی میں آدمی سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے۔ ایسی حالت میں زبان سے جو دعا نکلتی ہے وہ اپنی عاجزی اور فروتنی میں بھی بےمثال ہوتی ہے اور اللہ کے درِ اجابت کو حرکت دینے کی بھی اپنے اندر طاقت رکھتی ہے۔ چناچہ عاجزی اور سرافندگی اور امید اور آرزو کی توانائی دونوں نے مل کر جب اللہ کی بارگاہ میں التجا کی صورت اختیار کی تو ادھر سے فرشتوں کو زکریا (علیہ السلام) کے لیے بشارت دینے کا حکم ملا اور بشارت صرف بیٹے کی نہیں ملی بلکہ بیٹے کی صفات کا ذکر فرما کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی ان دعائوں کو قبول کرلیا گیا جن کی وہ اپنے بیٹے سے امید لگائے بیٹھے تھے۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی صفات اور فرائض
سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ آنے والا بیٹا اللہ کے کلمے کا مصدق بن کر آئے گا اور اس کا نام ” یحییٰ “ ہوگا اور یہ یحییٰ وہی ہیں جنھیں انجیلوں میں ” یوحنا “ کہا گیا ہے اور سورة مریم میں بتایا گیا کہ بشارت میں یہ بات بھی فرمائی گئی کہ اس بیٹے کا نام یحییٰ رکھنا اور اس نام کا بچہ ہم نے آج تک دنیا میں پیدا نہیں کیا اور اس آنے والے کی اصل ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اللہ کے کلمے یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے کے لیے آئے گا۔ یہاں کلمۃ اللہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور کلمہ پر تنکیر لا کر یہ اشارہ کردیا گیا کہ کائنات میں اور بھی بہت سے کلمات ہیں، انھیں میں سے ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کلمتہ اللہ سے مراد یہ ہے کہ ان کی ولادت اسباب کے عام ضابطے کے خلاف اللہ تعالیٰ نے کلمہ ” کُنْ “ سے فرمائی۔ دنیا میں ہر آنے والا بچہ ماں باپ کے اتصال سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بغیر باپ کے اللہ کے کلمہ ” کُنْ “ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر یہ ایک طرف اللہ کی قدرت کا غیر معمولی اظہار ہے تو دوسری طرف انسانوں کے لیے آسانی سے الزام لگانے کا موقع بھی۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اللہ تعالیٰ انھیں پیدائش کے بعد ہی لوگوں کے سامنے اس طرح لاتا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی غیر معمولی آمد کو اپنی نگاہوں سے دیکھتی اور بچپن ہی میں انھیں اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتی۔ دوسری یہ بات کہ کسی برگزیدہ شخصیت کو ان کا راستہ صاف کرنے کے لیے بھیجا جاتا اور خود وہ برگزیدہ شخصیت دنیا میں ان کا نقش اول ثابت ہوتی۔ چناچہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اسی لیے دنیا میں تشریف لائے کہ ایک طرف تو ان کے والدین موجود ہونے کے باوجود بھی کالعدم تھے کیونکہ دونوں اولاد کی عمر سے نکل چکے تھے۔ والد گرامی انتہائی ضعف کی حالت کو پہنچ چکے تھے اور والدہ ماجدہ بانجھ پن کی عمر گزار رہی تھیں۔ بظاہر اسباب ان سے بچے کی پیدائش کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر کوئی یہ اعتراض کرتا کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم پہلے یہ تو ثابت کریں کہ ان کا باپ کون ہے ؟ کیونکہ بغیر باپ کے تو کوئی بچہ دنیا میں نہیں آسکتا تو حضرت یحییٰ کہہ سکتے تھے کہ میری مثال تمہارے سامنے موجود ہے۔ میں عملی لحاظ سے بغیر ماں باپ کے صرف اللہ کی قدرت سے دنیا میں آیا ہوں اور مزید یہ کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے جس طرح زندگی گزاری وہ حیرانی کی حد تک پاکیزہ زندگی تھی، جس کی طرف ” حَصُوْر “ کہہ کر اشارہ کیا گیا۔ حصور، حصر سے فعول کے وزن پر ہے۔ جس کا معنی ہے ” اپنے آپ کو گھیرے رکھنے والا “ اور جس سے مراد لذات دنیا سے کنارہ کش رہنے والا ہے۔ چناچہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے دنیا کو چھوڑا نہیں، لیکن اس کی لذات سے اس طرح کنارہ کش رہے ہیں کہ شاید اس کی مثال کہیں اور نہ مل سکے۔ جب تک زندہ رہے ان غذائوں میں سے کسی غذا کو ہاتھ نہیں لگایا جنھیں بالعموم انسان کھاتے ہیں۔ ایسا کوئی کپڑا نہیں پہنا جسے عزت والے لوگ پہنتے ہیں۔ جنگل کی ٹڈیاں کھاتے اور جنگلی شہد سے اپنا پیٹ بھر لیتے۔ کسی عورت کا تصور بھی ان کے دل و دماغ سے نہیں گزرا۔ وہ ایک بانکے سجیلے جوان تھے کیونکہ ہر پیغمبر اپنے دور کا خوبصورت ترین فرد ہوتا ہے۔ باایں ہمہ ! انھوں نے شادی تک نہیں کی اور پھر ایسا بھی نہیں تھا کہ انھیں لوگوں کے ساتھ میل جول سے نفور ہو اور آبادیوں سے دور رہتے ہوں بلکہ وہ لوگوں میں حق کی آواز اٹھاتے اور برائیوں پر برملا تنقید کرتے تھے۔ دنیا اور دولت دنیا سے گریز کی تصویر اور اس دور میں عام پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف صدائے احتجاج تھے اور ساتھ ہی ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات وصفات کا کھلا کھلا اعتراف اور ان سے متعلق تمام حقائق کا اعلان اور اوامرو نواہی کا اظہار اس طرح فرماتے تھے جیسے وقت کا حکمران کرتا ہے۔ مرعوبیت انھیں چھو تک کے نہیں گئی تھی۔ بڑے سے بڑے حکمران سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتے۔ کھلم کھلا اللہ کے احکام توڑنے والوں کے گریبان کھینچتے تھے۔ وقت کے حکمران کو اس کی بدکاریوں پر اس طرح برملا ٹوکا کہ یہ حق کی آواز اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس نے اپنی محبوبہ کے کہنے پر آپ کا سر کٹوا کر اس بدبخت عورت کو طشتری میں رکھ کر پیش کیا۔ مؤرخین کہتے ہیں ولید بن عبدالملک کے زمانے میں جب جامع مسجد کی بنیادیں کھودی جا رہی تھیں تو اس میں گرجے کی کچھ زمین بھی شامل تھی جو غالباً ان سے خریدی گئی تھی۔ اس کی کھدائی میں ایک کمرہ دریافت ہوا، جس سے ایک تابوت ملا۔ تابوت کھولا گیا تو اس میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سر مبارک تھا، بالکل صحیح سالم ایک بال تک ٹوٹنے نہیں پایا تھا۔ اسی طرح اسے دفن کردیا گیا۔ یہ اپنے وقت کے ایک ایسے نبی تھے جن کی دعوت نے گلی کوچوں اور عوامی جگہوں سے لے کر درباروں اور محلات تک میں تہلکہ مچا رکھا تھا اور جنھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی پاکیزگی کی اس بلند آہنگی سے دعوت دی تھی کہ کسی کو بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ان کے نسب کے بارے میں زبان کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا وہ نبی ہوں گے اور زمرہ صالحین میں سے ہوں گے۔ یعنی حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اپنی تمام تر غیر معمولی صفات کے باوجود اللہ کے نبی ہوں گے خدا نہیں ہوں گے اور وہ اپنے سارے کمالات کے باوصف صالحین میں سے ہوں گے۔ وہ بالکل اسی طرح زندگی گزاریں گے جیسے شریعت کا فرمانبردار پیغمبر زندگی گزارتا ہے۔ وہ لذات دنیا سے کنارہ کش اور ضبط نفس کی مثال ہونے کے باوجود تارک الدنیا راہب نہیں ہوں گے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک عمل شریعت کی تصویر ہوگا یعنی نہ انھیں الوہیت کا کوئی مقام حاصل ہوگا اور نہ وہ شریعت سے الگ ہو کر ترک دنیا کی تعلیم دیں گے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں بالکل ٹھیک فرمایا کہ ” مائوں نے جن کو جنا ان میں یوحنا سے بڑا کوئی نہیں۔ “
Ayahs 3:40–41قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰـمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْـکِبَرُ وَامْرَأَتِیْ عَاقِرٌط قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ اٰیَۃً ط قَالَ اٰیَتُـکَ اَلَّا تُـکَلِّمَ النَّاسَ ثلٰـثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ط وَاذْکُرْ رَّبَّـکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔ ع
(حضرت زکریا۔ ) نے کہا : اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ اس حال میں کہ مجھے بڑھاپا آچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔ اللہ نے فرمایا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس نے کہا : اے میرے رب ! تو میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دے۔ فرمایا : تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا مگر اشارے سے اور اپنے رب کو بہت زیادہ یاد کر اور صبح و شام اس کی تسبیح کر) (40 تا 41)
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی درخواست کا مفہوم
حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جس طرح یقین و اعتماد سے بہرہ ور ہو کر ناموافق حالات میں اپنے اللہ سے اولاد کی درخواست کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھیں اللہ کی قدرت کے ظہور میں کوئی شک ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہ بات تو خارج از بحث ہے کہ اس سوال کا تعلق کسی ایسی بات سے ہوگا۔ البتہ ! یہ بات قرین قیاس ہے کہ وہ یہ جاننے کی خواہش رکھتے ہوں گے کہ میری دعا کی قبولیت کی شکل کیا ہوگی۔ کوئی غیر معمولی طریقہ عمل میں آئے گا۔ ہم میاں بیوی کو از سر نو جوان کردیا جائے گا یا بغیر کسی تبدیلی کے محض اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اسباب کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ جس بات کا بھی فیصلہ ہوچکا ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ اسے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ ویسے بھی انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی خوشی مایوسی کے بعد ملتی ہے یا غیر معمولی طریقے سے ملتی ہے تو انسان یہ ضرور جاننا چاہتا ہے کہ مجھے یہ تو معلوم ہو کہ میرے لیے خوشیوں کا وقت کب آئے گا اور کیسے آئے گا ؟ چناچہ ایسی ہی سادہ اور پاکیزہ خواہش حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بھی تھی جو خوشی اور امید سے زبان پر آگئی۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تخلیق کے عمل کے لیے میاں بیوی کی جوانی اللہ کا مقرر کردہ ایک طریقہ ہے ورنہ بجائے خود جوانی کسی موثر عامل کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی جوان جوڑا بےاولاد نہ ہوتا۔ وہ جس طرح جوانی کو عمل تخلیق کا ذریعہ بنا سکتا ہے اسی طرح وہ بڑھاپے کو بھی بنا سکتا ہے۔ تم دونوں میاں بیوی اپنی حالت پر رہو گے لیکن تخلیق کا عمل تمہیں سے وجود میں آئے گا کیونکہ کائنات کی اصل قوت اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت ہے۔ اس کی مشیت جب کسی بات کو چاہتی ہے تو ویسا ہو کے رہتا ہے۔ اس کے بعد حضرت زکریا (علیہ السلام) نے درخواست کی کہ ہمیں کوئی ایسی نشانی بتادی جائے جس سے وقت کے تعین میں آسانی ہو تو فرمایا گیا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک کسی سے بات نہیں کرسکو گے۔ ہاں اگر کوئی ضروری بات کہنی ہو تو اشارے سے کام لے سکو گے۔ لیکن اللہ کی اس بےپایاں عنایت پر تم چونکہ سرتاپا شکر ہو اور چاہتے ہو کہ جیسے جیسے وہ موقع قریب آئے تو اظہارِ شکر میں اضافہ ہوتا جائے اس لیے ہم نے تم پر یہ عنایت کی ہے کہ تم تین دن تک دنیوی باتوں پر تو قادر نہیں رہو گے، البتہ اللہ کے ذکر میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ان دنوں میں تمہیں صبح و شام اللہ کے ذکر میں لگے رہنا چاہیے۔ یہاں بظاہر تو اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ تم شکر ادا کرسکو گے، لیکن جب شکر ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو یہ بات خود سے سمجھ میں آتی ہے کہ شکر کے اظہار کی قوت ہوگی تو اس پر عمل کرنے کی نوبت آئے گی۔ ” بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ “ بالکل اسی طرح ہی ہے جیسے ہم صبح و شام یا رات دن کا لفظ بولتے ہیں۔ مقصود اس سے یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اس کام میں گزارو۔ یہاں بھی زیادہ سے زیادہ شکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayahs 3:42–43وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰـمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰـکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ یٰـمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّـکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔
(یاد کرو ! جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاک کردیا ہے اور تمہیں ترجیح دی ہے دنیا کی عورتوں پر۔ اے مریم ! خلوص سے اپنے رب کی عبادت کرتی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو) (42 تا 43)
حضرت مریم وقت کے ساتھ ساتھ عمر کا سفر طے کرتی گئیں۔ بچپن گزرا، لڑکپن میں داخل ہوئیں، شعور نے آنکھ کھولی، ایک وقت آیا جب اللہ کی رحمت نے انھیں پکارا۔ یوں تو ان کا بیت المقدس میں تربیت کے لیے قبول کرلیا جانا اور پھر حضرت زکریا (علیہ السلام) جیسے مقرب الٰہی کی تربیت میں رہنا اور ہر وقت بیت المقدس کی پاکیزہ فضائوں میں سانس لینا، بجائے خود ان کے لیے اللہ کے قرب اور پسندیدگی کی علامت تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے شعور کو پختہ کرنے اور دل و دماغ کو ایک خاص رخ پر ڈالنے کے لیے ہاتفِ غیبی کے ذریعے یا ملائکہ کی زبان میں انھیں پکارا اور یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ نے کسی خاص مقصد کے لیے ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں چنا اور برگزیدہ کیا ہے اور اس بڑے مقصد کی انجام دہی کے لیے سیرت و کردار میں جو پاکیزگی ہونی چاہیے اس کا پوری طرح انتظام کردیا ہے۔ ایک مقرب بارگاہ کی تربیت اور بیت المقدس کا پاکیزہ ماحول بجائے خود اس تطہیر کے لیے کافی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے پاکیزگی کے وہ انوار دل و دماغ میں اتارے جا رہے ہیں جو ہمیشہ خاصانِ خاص کا نصیب رہا ہے اور اس کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ مریم اس عنایت کو معمولی نہ سمجھ لینا، یہ اتنا بڑا منصب ہے کہ جو دنیا میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ اس کی شکرگزاری اور اس کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ انتہائی تذلل اور عاجزی کے ساتھ اپنی ذات کو اللہ کے ساتھ وابستہ کردو، دل و دماغ میں صرف اسی کو بسائو، زندگی کی ہر دلچسپی پر اسی کو ترجیح دو اور اسی کی محبوبیت کو حاصل زندگی سمجھو۔ تمہارا سراپا اور تمہارے احساسات ہر وقت اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے چاہئیں اور تمہاری خوش قسمتی ہے کہ بیت المقدس میں رہنے کے باعث تم نماز کی جماعت میں شامل ہوسکتی ہو۔ اس لیے جب لوگ اللہ کے سامنے جھکیں تو تم بھی جماعت کی پابندی کے ساتھ جھکنے میں ان کا ساتھ دو ۔ سجدہ غایت تذلل کا نام ہے اور رکوع جماعت میں شرکت کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس لیے پہلے سجدہ کا ذکر فرمایا تاکہ انفرادی اور اجتماعی دونوں حالت کو محیط ہوجائے اور پھر رکوع کا ذکر فرمایا تاکہ بندگانِ خدا کا ساتھ نصیب ہوجائے اور یہود چونکہ اپنی نمازوں میں بالکل رکوع کو گم کرچکے تھے۔ اس لیے بھی شاید رکوع کا اہتمام کے ساتھ ذکر فرمایا۔
Ayah 3:44ذٰلِکَ مِنْ اَنْـبَآم ئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْـکَ ط وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْیُلْقُوْنَ اَقْلاَ مَہُمْ اَیُّـہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ ص وَمَاکُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْیَخْتَصِمُوْنَ ۔
(یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ اور آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ (قرعہ اندازی کے لیے) اپنی قلمیں ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی سرپرستی کرے اور آپ اس وقت بھی ان کے پاس نہ تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے) (44)
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب کی تاریخ کا جو حصہ بیان کیا ہے اس کا انجیل میں اولاً تو ذکر ہی نہیں اور اگر کہیں ذکر ہے تو کچھ غیر مربوط باتیں ہیں۔ اس لیے اثنائے کلام میں نبی کریم ﷺ کی طرف التفات فرما کر آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں تمہارے علم و اطلاع سے غیر متعلق ہیں کیونکہ یہ واقعات عرب سے باہر پیش آئے اور عربوں کی تاریخ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور جن کی تاریخ سے یہ واقعات متعلق ہیں انھوں نے تاریخ کا یہ حصہ نہایت نامکمل شکل میں تاریخ کے حوالے کیا ہے ؟ جن علاقوں میں یہ واقعات پیش آئے آپ نہ کبھی وہاں رہے اور نہ کبھی گئے اور پھر وہ زمانہ بھی آپ ﷺ کے زمانے سے نہایت دور کا زمانہ ہے۔ لیکن آپ ﷺ پر جو کتاب نازل ہو رہی ہے وہ جس طرح ان واقعات کو حسن ترتیب، غایت صحت اور حکمت سے بھرپور انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کر رہی ہے یہ بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو منصب نبوت سے نوازا ہے اور آپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے وحی اتر رہی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ عیسائی حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور زکریا کو بھی کاہن اعظم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور حضرت مریم کے بارے میں تو وہ انتہائی غلو کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ باایں ہمہ ! حضرت یحییٰ و زکریا کا تو کیا کہنا حضرت مریم کے واقعات کو بھی انجیل میں نہایت سرسری انداز میں بیان کیا گیا ہے اور اس سے یہاں تک مترشح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ محترمہ کا اس طرح احترام نہیں کرتے تھے جس احترام کی وہ مستحق تھیں۔ بعد میں عیسائیوں نے حضرت مریم کے بارے میں جو بھی عقیدہ اختیار کیا ہو لیکن ان کی اصل حیثیت اور ان کا تقدس اور احترام انجیل نے نہیں، قرآن کریم نے واضح کیا ہے۔ لیکن کس قدر ستم کی بات ہے کہ عیسائی اس پر شکرگزار ہونے کی بجائے مسلمانوں کی دشمنی پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
آیت میں قلمیں ڈالنے کا جو ذکر آیا ہے اس سے مراد وہ قلم ہے جو بیت المقدس میں قرعہ اندازی کے لیے رکھے گئے تھے۔ بیت المقدس میں رکھے گئے تیروں کی طرح ان کا استعمال جوئے کے لیے نہیں ہوتا تھا بلکہ انھیں قرعہ اندازی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور اسلام نے حقوق مساوی ہونے کی صورت میں تصفیہ نزاع کے لیے قرعہ اندازی بالکل جائز رکھا ہے۔ مثلاً چار بھائیوں کا ایک مکان ہے جس میں وہ برابر کے شریک ہیں۔ اب ان میں نزاع یہ ہے کہ اسے کس طرح تقسیم کیا جائے ؟ تو اس میں اگر وہ آپس میں قرعہ اندازی کرلیں تو اسلام اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ چناچہ ہیکل کے تمام خدام حق کفالت میں برابری رکھتے تھے۔ حضرت مریم جب ان کے پاس آئیں اور سوال یہ پیدا ہوا کہ ان کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری کون اٹھائے ؟ تو حضرت عمران کی صاحبزادی ہونے کی حیثیت سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ یہ نیک کام میرے حصے میں آئے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے گھر میں چونکہ ان کی خالہ تھیں اور یہ بات ان کی ترجیح کے لیے کافی تھی لیکن دوسرے خدام نے اس وجہ ترجیح کو کافی نہیں سمجھا۔ اس لیے حق کفالت کے فیصلے کے لیے باہمی قرعہ اندازی کرنا پڑی۔ آیت کے آخری حصہ میں پھر خدام کے جھگڑے کا ذکر ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ جھگڑا کفالت کا حق ادا کرنے کے سلسلے میں نہیں کیونکہ اس کا فیصلہ تو قرعہ اندازی سے ہوگیا۔ یہ جھگڑا ممکن ہے اس سوال پر ہوا ہو کہ ایک لڑکی ہیکل کے زمرہ خدام میں شامل بھی کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کے آنے سے پہلے یہ روایت موجود نہ تھی۔
Ayahs 3:45–46اِذْقَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْـہُ صلے ق اسْمُہٗ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ لا وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ وَکَہْلاً وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
(اس وقت کو یاد کرو ! جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں وجاہت والا ہوگا اور اللہ کے مقربین میں سے ہوگا۔ اور وہ لوگوں سے کلام کرے گا گہوارے میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیکو کاروں میں سے ہوگا) (45 تا 46)
سورة آل عمران کا اصل موضوع نصاریٰ اور ان کے غلط عقائد ہیں۔ ان کے غلط عقائد کی بنیاد چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلط تصور پر ہے اس لیے اس آیت کریمہ میں ان کے اس غلط تصور اور پھر ان کے عقائد کی اصلاح کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کی آیات اسی کی تمہید ہیں۔ ان کے خاندان کو سلسلہ انبیاء میں شمار کروا کر ان کی اصل حیثیت کو واضح کیا گیا ہے۔ پھر ان کی پیدائش کے واقعات کو حضرت مریم سے آغاز کیا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو غیر معمولی نوازشات ہوئی ہیں، ان کا آغاز ان کی والدہ ماجدہ سے ہی ہوگیا تھا اور پھر حضرت مریم کے کفیل اور مربی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا، قبولیت اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی ولادت کو تفصیل سے بیان فرما کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک بنیاد فراہم کی گئی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو نبی نہ ہوتے ہوئے بھی ملائکہ کے ذریعے پکارا اور انھیں بیٹے کی بشارت عطا فرمائی۔ اسی طرح حضرت مریم جو اللہ کی نبیہ نہ تھیں، لیکن غیر معمولی التفات کے طور پر فرشتوں نے اللہ کی جانب سے انھیں پکار کر ایک ایسی بشارت دی جس کی زمین ہموار کرنے کے لیے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو صاف صاف بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم تمہیں ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ لیکن حضرت مریم کو بشارت دیتے ہوئے بیٹے کا نام نہیں لیا کیونکہ پروردگار سے بڑھ کر اور کسے معلوم ہوسکتا تھا کہ مریم ایک کنواری لڑکی ہے اور جو شرم و حیا کا پیکر ہے۔ جس نے شرم و حیا سے ہٹ کر کبھی کوئی بات کی نہ سنی۔ اس لیے نہایت اختصار بلکہ ابہام کے ساتھ بیٹا کا لفظ کہنے کے بجائے ایک کلمے کی بشارت دی۔ لیکن یہ بات واضح کرنے کے لیے کہ کلمے سے مراد کوئی پہیلی نہیں اور نہ اللہ کی حمد و ثنا کا کوئی کلمہ ہے بلکہ اس سے مراد ایک بچہ ہے۔ فرمایا اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔
یوں تو کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کے کلمہ ” کن “ کے بغیر پیدا ہوئی ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری معلومات اور تجربات کی حد تک عالم ناسوت کی ہر چیز کو سبب اور مسبب اور علت اور معلول کے رشتہ میں پرو دیا ہے۔ اس لیے جب بھی ہمارے سامنے کوئی وجود معرض وجود میں آتا ہے تو ہماری نگاہیں سبب اور علت کے حجاب میں اٹک کر رہ جاتی ہیں حالانکہ کائنات کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنھیں قدرت نے پہلے مرحلہ میں کلمہ کن سے پیدا فرمایا۔ خود انسانوں کے جدامجد کسی سبب سے وجود میں نہیں آئے بلکہ ان کا ظہور اللہ کے کلمہ کن کا مرہونِ منت ہے۔ اس لیے شاید کَلِمَۃٌ کی تنوین کو تنکیر کے لیے لایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) ہی اس صفت کے حامل نہیں بلکہ اس شرف سے اور مخلوقات بھی مشرف ہوچکی ہیں۔ پھر انسانوں میں آپ کو مشخص اور ممتاز کرنے کے لیے آپ کے لقب، آپ کے نام اور آپ کی کنیت کا ذکر فرمایا۔ مسیح آپ کا لقب ہے اور لقب کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ اسے نام سے پہلے لاتے ہیں۔ عیسیٰ آپ کا اسم مبارک ہے اور ابن مریم آپ کی کنیت اور آپ کی وجہِ اختصاص ہے۔ بنی اسرائیل میں یہ روایت رہی ہے کہ اگر نئے نبی کے آنے کے وقت، وقت کا نبی بقید حیات ہوتا تو وہ آنے والے نبی کے سر پر مقدس تیل مل کر اسے اپنا جانشین بناتا اور جب بنی اسرائیل کے یہاں بادشاہت کا سلسلہ شروع ہوا تو وقت کا نبی بادشاہِ وقت کے تقرر کے لیے اس کے سر پر تیل ملنے لگا۔ جس سے یہ بتلانا مقصود ہوتا کہ یہ شخص مستقبل کا بادشاہ بھی ہے اور خدا کا برگزیدہ بھی۔ دوسرے پارے کے آخری دو رکوعوں میں ہم حضرت طالوت کا واقعہ پڑھ چکے ہیں۔ تورات نے ان کے بارے میں بتایا ہے کہ طالوت کو حضرت سموئل نے اس وقت کے بنی اسرائیل کا امیر اور بادشاہ مقرر کیا تھا اور وہ جب ان کے گھر کے سامنے سے گدھوں کی تلاش کے سلسلے میں جا رہا تھا تو اسے بلا کر امارت کی خوشخبری دی اور تیل کی کپی منگوا کر اس کے سر پر تیل ملا۔ اسی طرح چند سالوں کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) کو بھی اسی طرح حضرت سموئل نے ممسوح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں انجیلوں سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی اسی راویت کے مطابق حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے ان کو بپتسمہ دیا، لیکن تیل ملنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدائشی مسیح تھے۔ آنحضرت ﷺ نے معراج میں انھیں دیکھا تھا تو لوگوں کے سامنے ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ جب سر جھکاتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سر سے تیل ٹپک رہا ہے۔ ہوسکتا ہے ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے انھیں مسیح کہا گیا ہو اور شاید اسی لیے انجیل میں ان کے لیے ” خدا کا مسیح “ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔
جہاں تک آپ کی کنیت کا تعلق ہے وہ تو ان کے لیے وجہِ اختصاص بھی ہے اور وجہِ امتیاز بھی اور یہی وہ چیز ہے جس نے انھیں باقی انبیاء کرام سے ممتاز کردیا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک تمام انبیاء کرام اور رسولانِ عظام بجز حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماں اور باپ سے پیدا ہوئے۔ سب کا باپ بھی تھا اور ماں بھی تھی۔ لیکن ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جو صرف اپنی والدہ کی طرف منسوب کیے گئے۔ عرب میں خصوصاً اور دنیا میں عموماً مائوں کی طرف نسبت کو ہمیشہ ایک کمزوری سمجھا گیا۔ جب بھی کسی شخص کا انتساب ماں کی طرف کیا گیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اس شخص کا نسب نامعلوم ہے۔ ” زیاد “ جو عرب کے مدبروں میں ایک قابل ذکر نام ہے۔ اسے اقتدار ضرور ملا لیکن وہ عزت نصیب نہ ہوسکی جو ایک خاندانی شخص کو نصیب ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک فاحشہ عورت کا بیٹا تھا اور اس کا باپ نامعلوم تھا۔ اس لیے ہمیشہ زیاد بن ابیہ کہہ کر یاد کیا گیا یا اس کی نسبت اس کی ماں کی طرف کی گئی۔ اللہ کے نبی جس طرح شکل و صورت کے اعتبار سے دنیا میں ممتاز ہوتے ہیں اسی طرح وہ خاندانی وجاہت لے کر بھی آتے ہیں۔ کوئی شخص انھیں کسی طرح کی گراوٹ کا طعنہ نہیں دے سکتا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اگر کوئی والد ہوتے تو یقینا انھیں والد کی طرف منسوب کیا جاتا لیکن قرآن کریم بار بار پوری تحدی اور اہتمام کے ساتھ انھیں ” عیسیٰ ابن مریم “ کے نام سے یاد کرتا ہے اور یہی نسبت ان کے لیے باعث افتخار بھی ہے کیونکہ الزام کی بات تو یہ ہے کہ کسی کا باپ تو ہو لیکن معلوم نہ ہو یا جائز نہ ہو۔ لیکن یہ بات کہ کسی کو بغیر باپ کے پیدا کیا جائے، یہ تو ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حاصل ہے اور شاید اسی لیے آپ کے لیے فرمایا گیا :
وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ
(آپ دنیا اور آخرت میں ذی وجاہت اور عزت والے ہوں گے)
دنیا آپ کے خیالات سے تو اختلاف کرے گی، آپ پر ایمان لانے سے ہزار انکار کرے گی لیکن آپ کی عزت و حرمت کو کبھی چیلنج نہ کرسکے گی۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے بارہ سال کی عمر میں پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی۔ لیکن اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم کی حکمت و معرفت، کلام کی بلاغت و جزالت اور لب و لہجہ کی عظمت و جلالت کا عالم یہ تھا کہ فقیہ اور فریسی سردار کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ وہ حیرانی کے عالم میں ایک ایک سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے جو اس شکوہ سے بات کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو اختیار ملا ہوا ہے۔ یہود نے آپ کی دشمنی میں کیا کچھ نہیں کیا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وہ آپ کی زندگی میں کبھی آپ کے نسب پر طعن نہ کرسکے۔ آپ اللہ کے مقرب بندوں میں سے تو تھے ہی لوگوں کے دلوں میں بھی آپ کی محبت اور عظمت کا عالم یہ تھا کہ یہودیوں کی بستیوں میں جب انھوں نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل چل مچ گئی، خلقت ان پر ٹوٹی پڑتی تھی۔ فقیہ اور فریسی سب پر ایک سراسیمگی کا عالم طاری تھا۔ وہ ان کو زچ کرنے اور عوام میں ان کی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے ان سے طرح طرح کے سوالات کرتے، لیکن سیدنا مسیح دو دو لفظوں میں ان کو ایسا جواب دیتے کہ پھر ان کو زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوتی۔
حضرت مسیح کی انہی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے بارے میں جو خرافات مشہور ہوچکی ہیں اور جن میں سے بعض انجیلوں میں بھی مذکور ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ انتہائی وجیہہ آدمی تھے، اس لیے یہودیوں کا یہ کہنا کہ انھوں نے ان کو گالیاں دیں، ان کے منہ پر تھوکا، ان کے طمانچے مارے، یہ سراسر خانہ ساز باتیں ہیں۔ اللہ کے رسولوں کی عزت کی حفاظت پروردگار خود فرماتے ہیں۔ ان کی قوم کو ایک خاص حد تک ڈھیل دی جاتی ہے لیکن جب قوم حد سے بڑھنے کی جسارت کرتی ہے تو پھر ایسے نا ہنجاروں کا بیڑا غرق کردیا جاتا ہے۔
اللہ نے ان کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے اور بن باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی انگشت نمائی سے بچانے کے لیے جو انتظامات کیے ان میں سے ایک تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری تھی۔ جنھوں نے اپنی بےپناہ شخصیت سے ان کے بارے میں ایک ایک غلط فہمی کا ازالہ کردیا اور دوسرا انتظام پروردگار نے یہ فرمایا کہ جیسے ہی حضرت مریم بیٹے کی پیدائش کے بعد انھیں لے کر اپنی قوم میں آئیں تو انھیں یہ دیکھ کر انتہائی تعجب ہوا کہ ہارون کی بہن اور عمران کی بیٹی کنوار پن میں کسی بچے کو جنم دے سکتی ہے، چناچہ سورة مریم میں ان کی قوم کا قول دہرایا گیا ہے
یٰٓـاُخْتَ ہَارُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ اِمْرَاَ سَوْئِ وَمَا کَانَتْ اُمُّـکِ بَغِیًّا
(اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی)
تو نے یہ کیا اندھیر کیا ؟ مریم جو شرم و حیا کا پیکر تھیں اس کے سوا کچھ نہ کرسکیں کہ آپ نے نوزائیدہ بچے کی طرف اشارہ کیا کہ اسی سے پوچھ لو۔ قوم حیران کہ ہم بچے سے کیسے پوچھیں۔ بچے نے بولنا شروع کیا :
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اٰتَانِیَ الْـکِتَابُ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بولے بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے اور مجھے بابرکت بنایا ہے)
پنگھوڑے اور گود میں سارے ہی بچے چند مہینے کے بعد ” ہوں ہاں “ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے کہ عیسیٰ ایک ایسے بچے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے بتادیا گیا کہ وہ ایک دو دن کی عمر میں بھی اس طرح بولیں گے جس طرح ایک بڑی عمر کا باشعور نوجوان بولتا ہے بلکہ جس طرح ایک نبی اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ کہولت اور بڑھاپے میں بھی بولیں گے۔ بڑھاپے میں بھی دنیا کے سارے لوگ بولتے ہیں۔ لیکن بڑھاپے میں ایک خاص وقت ایسا آتا ہے جب علم و دانش کا پیکر بھی بچوں جیسی باتیں کرنے لگتا ہے۔ لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں گے تو ان پر اس طرح کا زوال نہیں آئے گا۔ وہ اس وقت بھی ایک پیغمبر کی حیثیت سے بولیں گے۔
یہاں شاید ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ کیا جا رہا ہے کہ عیسائیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر تینتیس سال ہوئی۔ آپ بھرپور جوانی میں یہود و نصاریٰ کے کہنے کے مطابق سولی چڑھا دیئے گئے اور مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ انھیں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر بڑھاپے اور کہولت کی عمر نہیں آئی اور اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان پر بڑھاپا آئے گا اور وہ جوانوں کے لیے بھی باعث صد رشک ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کے بارے میں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرب قیامت میں وہ واپس تشریف لائیں گے اور دمشق کو فوجی کارروائیوں کے لیے مستقر بنائیں گے۔ اس وقت وہ تینتیس سال کی عمر میں ہوں گے، پھر وہ چالیس سال تک ایک عادلانہ حکومت قائم کریں گے۔ اس دوران دو دفعہ حج کے لیے جائیں گے۔ تقریباً چوہتر سال کی عمر میں اللہ کی طرف سے بلاوا آئے گا تو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں دفن کیے جائیں گے۔ آپ کے مدفن میں ایک قبر کی جگہ خالی ہے جہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دفن کیا جائے گا۔ اس طرح ان کا پاکیزہ بڑھاپا اپنی آخری عمر کو پہنچے گا۔
بالکل آخر آیت میں فرمایا وَمِنَ الصَّالِحِیْنَ (وہ صالحین کے زمرے میں سے ہوں گے) اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) غیر معمولی کمالات کے حامل ہوں گے آپ بچپن میں علم و حکمت کی باتیں کریں گے۔ نبوت کا اعلان کریں گے۔ اپنے بابرکت ہونے کی خوشخبری دیں گے اور پھر زندگی میں بیشمار معجزات دکھائیں گے اور زندگی کے خاتمے کی کیفیت یہ ہوگی کہ جس عمر میں آدمی حواس گم کر بیٹھتا ہے اور بات کی ششتگی اور شائستگی ختم ہوجاتی ہے اور بالکل بچوں جیسی حرکتیں کرنے لگتا ہے اس عمر میں بھی ایسی باتیں کریں گے جس کے سامنے علم و دانش بھی سرنگوں ہوجائیں گے۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ خدا یا کوئی اوتار نہیں ہوں گے نہ انھیں دیوتا ہونے کا دعویٰ ہوگا بلکہ وہ اللہ کے نیک بندے ہوں گے اور انھیں میں سے اپنے شمار پر فخر کا اظہار کریں گے۔
Ayah 3:47قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَـکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ ط قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَایَشَآئُ ط اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَـقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَـکُوْنُ ۔
(فرشتوں کی خوشخبری سن کر حضرت مریم نے) کہا : اے میرے پروردگار ! میرے یہاں لڑکا کس طرح ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا ؟ اللہ نے فرمایا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی عمل کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کو کہتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے) (47)
یہ بعینہٖ ویسا ہی سوال ہے جیسا حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کیا تھا کہ میں بوڑھا کھوسٹ ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ ہم دونوں اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں تو ہم سے اولاد کیسے ہوگی ؟ یہی بات حضرت مریم نے کہی کہ میں ایک پاکباز لڑکی ہوں اور غیر شادی شدہ ہوں۔ تخلیق کا عمل تو لڑکی لڑکے کے اتصال سے ہوتا ہے۔ میں چونکہ ایسے ہر طرح کے تعلق سے بری اور پاک ہوں تو میرے یہاں لڑکا پیدا ہونے کا کیا سوال ؟ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سوال بھی اللہ کی قدرت اور رحمت پر عدم اعتماد نہیں تھا۔ اسی طرح حضرت مریم بھی اللہ کی قدرت کے بارے میں بدگمان نہ تھیں بلکہ یہ نہایت حسین وبلیغ انداز سے طلب تصدیق ہے اور ایک ایسی بات کے بارے میں سوال ہے جو بظاہر ناممکن ہے۔ لیکن اس کا صدور اور وقوع سراسر اللہ کے فیصلے اور قدرت سے ہوگا۔ لیکن اس کی قدرت اپنے اظہار کی کوئی شکل تو رکھتی ہے اور وہ چونکہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی سختی کا معاملہ نہیں کرتی، اس لیے پیش آنے والے واقعات کی پہلے سے اس میں پیش بندی بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ باتیں تھیں جو سوال بن کر زبان پر آگئیں۔ لیکن پروردگار نے کسی فلسفے یا علت کو بیان کیے بغیر شاہانہ انداز میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کا ظہور صرف اللہ کی قدرت کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کے بارے میں بشارت دیتے ہیں کہ وہ ہونے والی ہے تو پھر اس کے ہو کے رہنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اسے ویسے ہی تخلیق کا جامہ پہناتا ہے جیسے اس کی مشیت چاہتی ہے۔ البتہ اگلی آیت کریمہ میں یہ کرم ضرور فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کی جو علت یا جو مقاصد ہوسکتے تھے ان میں سے چند ایک کو بیان فرما دیا تاکہ حضرت مریم جو اتنی بڑی اور نازک امانت کو ادا کرنے والی تھیں ان مقاصد کو دیکھتے ہوئے اس بوجھ کو اٹھانے کی اپنے اندر ہمت پیدا کرلیں۔
Ayah 3:48وَ یُعَلِّمُہُ اللّٰہُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ ج
(اللہ اسے تعلیم دے گا کتاب اور حکمت کی اور تورات اور انجیل کی۔ (48)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کی غرض وغایت چار لفظوں میں سمیٹ کر بیان کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ اسے اس لیے دنیا میں بھیج رہا ہے تاکہ اس کو کتاب کی تعلیم دے اور حکمت سے آشنا کرے۔ بعد کے دونوں لفظ کتاب اور حکمت کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ یعنی اللہ جس کتاب کی تعلیم دے گا وہ کتاب ” توراۃ “ ہوگی اور جو حکمت سکھائے گا اسے انجیل کی شکل میں نازل فرمائے گا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نئی شریعت عطانھیں کی گئی بلکہ آپ کو تورات کی شریعت کا متبع اور اس کا داعی بنا کر بھیجا گیا۔ آپ نے بار بار اور بڑے زور اور تاکید کے ساتھ لوگوں سے فرمایا اور انجیلیں آج بھی اس پر شاہد ہیں کہ میں کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ میری شریعت توراۃ کی شریعت ہے۔ میں اسی کی دعوت دیتا ہوں اور اسی کو صحیح شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہود چونکہ احکامِ خداوندی کو بےجان رسوم کی شکل دے چکے تھے اور شریعت کا ایک ایک حکم اصل روح کی قوت سے محروم ہوچکا تھا اس لیے انجیل کی شکل میں آپ پر شریعت کی روح نازل کی گئی جسے یہاں حکمت سے تعبیر کیا گیا اور آپ نے اپنے دائرہ کار کو متعین کرتے ہوئے واضح طور پر فرمایا کہ میرا دائرہ کار اور دائرہ تبلیغ صرف بنی اسرائیل کے لوگ ہیں۔ میں انہی کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ حتیٰ کہ اپنے حواریوں کو تبلیغ دین کی مہم پر روانہ فرماتے ہوئے صاف صاف لفظوں میں فرمایا کہ ” میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔ دیکھو ! تم کسی غیر بنی اسرائیل کے پاس میرا پیغام لے کر مت جانا۔ “ ایک غیر اسرائیلی عورت نے جب ان سے دعائے شفا کی درخواست کی تو آپ نے صاف صاف جواب دیتے ہوئے فرمایا ” کہ بچوں کے حصے کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا ٹھیک نہیں۔ “ چناچہ آپ نے صرف بنی اسرائیل کو اپنی دعوت کا ہدف بنایا۔ انہی کے معروفات پر اپنی دعوت کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسی سے دلیل و حجت کا تانا بانا استوار کیا۔ اپنی نبوت کی حقانیت کے ثبوت کے لیے بیشمار معجزات دکھائے، لیکن بنی اسرائیل نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیا اور آپ کو جس کشمکش سے گزرنے پر مجبور کیا اور انبیاء کی تاریخ کے مطابق آپ نے صبر اور استقامت کی جو تاریخ روشن کی یہاں اس کا حصہ بالکل محذوف ہے۔ لیکن آپ نے جو حیرت انگیز معجزات دکھائے ان میں سے چند ایک کا ذکر فرمایا گیا۔
Ayah 3:49وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ 5 لا اَنِّیْ قَدْجِئْـتُـکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّـکُمْ لا اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَـکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِفَاَنْفُخُ فِیْہِ فَـیَـکُوْنُ طَیْرًا م بِاِذْنِ اللّٰہِ ج وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ ج وَاُنَـبِّـئُـکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ لا فِیْ بُیُوْتِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّـکُمْ اِنْ کُنْـتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ ج
(اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا، چناچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی) میں تمہارے خداوند کی جانب سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندوں کی صورت کی مانند صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مار دیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے اور میں اللہ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردیتا ہوں اور میں تمہیں بتاسکتا ہوں جو کچھ تم کھاتے اور ذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں، بیشک ان باتوں کے اندر تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو) (49)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنی حیثیت واضح فرمائی کہ میں بنی اسرائیل کی طرف اللہ کا رسول بن کے آیا ہوں۔ بنی اسرائیل چونکہ اہل کتاب ہیں۔ نبوت، کتاب اور دین کے بنیادی تصورات کو سمجھتے ہیں اور ان کی تاریخ سینکڑوں انبیاء کی تاریخ سے معمور ہے۔ یہ نبوت کی شخصیت کو کما حقہ سمجھتے ہیں اور اس پر اترنے والی کتاب کے مندرجات کی حقیقت کو بھی جانتے ہیں۔ میری غیر معمولی ولادت بھی ان کے سامنے ہوئی۔ میری شخصیت کے بارے میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے بلند آہنگی سے گواہی دی۔ اب میں ان کے سامنے وہ معجزات پیش کر رہا ہوں جس طرح کے معجزات وہ پہلے انبیاء کرام سے دیکھ چکے ہیں۔ میں مٹی سے پرندہ بناتا ہوں، اسے اللہ کے نام سے پھونکتا ہوں تو وہ اڑنے لگتا ہے۔ میں پیدائشی اندھوں اور کوڑھیوں کو ہاتھ پھیرتا ہوں تو وہ شفایاب ہوجاتے ہیں۔ میں ان کے سامنے مردوں کو زندگی دیتا ہوں۔ اگر میں ان میں سے ہر بات کی نسبت اپنی طرف کرتا تو میں ایک شعبدہ باز اور جھوٹا آدمی ہوتا۔ میں جس کمال کا بھی اظہار کرتا ہوں اسے بِاِذْنِ اللّٰہِ انجام دیتا ہوں۔ ہاتھ میرا ہے، پھونک میری ہے لیکن قدرت اللہ کی ہے۔ میں تو اس کے ہاتھ میں بالکل بےبس ہوں۔ وہ مجھ سے اپنا کام لے رہا ہے۔ اس لحاظ سے میں اس کا چاکر اور اس کا بندہ ہوں۔ میں لوگوں کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھا کے آئے ہو اور کیا گھروں میں چھوڑ کے آئے ہو ؟ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی وحی سے مجھے خبر ہوتی ہے اور میں لوگوں کو خبر دیتا ہوں۔ ان میں سے ایک ایک بات، میری شخصیت کا ایک ایک حوالہ، میری دعوت کی ایک ایک حقیقت، خود اپنی زبان سے کہہ رہی ہے کہ میں اللہ کا نبی اور رسول بن کر تمہارے پاس تمہاری ہدایت کے لیے آیا ہوں۔ جو نشانیاں تم میرے ہاتھوں ظہور پذیر ہوتے دیکھ رہے ہو یہ اپنے تئیں کیسی بھی عظیم ہوں، وہ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ وہ ان کا اظہار صرف تمہاری ہدایت کی آسانی کے لیے کررہا ہے۔
قرآن کریم نے جن معجزات کا ذکر کیا ہے، ان میں سے بیشتر انجیل میں موجود ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہر معجزے کی روح یعنی بِاِذْنِ اللّٰہِ کو حذف کردیا گیا ہے تاکہ عیسائیت کے لیے ان غلط عقائد کو پھیلانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے جنھیں انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے۔ اللہ کی قدرت دیکھئے کہ ان کی ساری ہوشیاریوں کے باوجود انجیل میں آج بھی توحیدِ خالص کی شہادتیں موجود ہیں۔ مزید فرمایا :