3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:108–109

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں)

تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْـکَ بِالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع (یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں) (108 تا 109) ایک اہم ترین سوال کا جواب یہ اللہ کی آیات ہیں جنھیں ٹھیک ٹھیک ہم آپ پر پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کا انجام آخر کیا ہوگا ؟ کیونکہ اس کی زندگی بےسبب تو نہیں اور نہ اس کی زندگی بےمقصد ہوسکتی ہے۔ وہ اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ یقینا کسی مقصد عظیم کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، لیکن اس مقصد کا سراغ لگانا اور اس کے حوالے سے انسان کی زندگی کے انجام کا تعین کرنا یہ انسانی بس کی بات نہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان ہمیشہ الجھتا رہا ہے۔ کبھی وہ زندگی کے مقاصد کے تعین میں ٹھوکر کھاتا ہے اور کبھی اپنے انجام کے بارے میں اندازوں سے کام لیتا ہے اور یہی وہ خرابی کی بنیاد ہے جس نے ہمیشہ انسان کی منزل کھوٹی کی ہے حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ انسان ایک مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کا خالق ہے تو پھر خالق سے بڑھ کر مخلوق کی زندگی کے بارے میں رہنمائی اور کون دے سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ آخری نبی ہیں اس لیے اگر ان باتوں کا جواب آنحضرت ﷺ کے واسطے سے انسانوں کو نہ ملا تو پھر تو دنیا میں کوئی اور واسطہ ایسا نہیں آئے گا جس سے انسانیت کا بھلا ہو سکے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں صاف صاف فرمایا گیا کہ قومیں کس طرح زندہ ہوتی ہیں اور کس طرح مرتی ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں ان کی نجات کے اسباب کیا ہیں ؟ اور ان کی ہلاکت کے کیا ہیں ؟ اور اس بارے میں قدرت نے کیا اصول مقرر کر رکھے ہیں ؟ یہ وہ اللہ کی آیات ہیں جس میں اہل کتاب نے بھی ٹھوکر کھائی ہے۔ اس لیے اے پیغمبر ! ہم ٹھیک ٹھیک آپ پر انھیں نازل کر رہے ہیں کیونکہ آپ کے بعد کوئی اور آنے والا نہیں آئے گا۔ اللہ نے رسالت کو ختم کردیا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اسے حق کی ضرورت ہے تو وہ صرف آپ کی بارگاہ سے مل سکتا ہے۔ قیامت کے دن ہم نے جس انجام کی خبر دی ہے یہ وہ یقینی انجام ہے جس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں۔ ایمان اور عمل، اعتصام بحبل اللہ اور اتفاق و اتحاد یہی وہ سکے ہیں جو قیامت کے دن کام آئیں گے۔ انسانوں کی بہتری اور بھلائی کے لیے یہ تمام باتیں کھول کھول کے بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا والوں کے لیے ظلم کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ تو ان کو اپنے رحم سے نوازنا چاہتے ہیں۔ کائنات میں فیصلہ کا اختیار صرف اللہ کو ہے مزید یہ بات بھی ذہنوں میں رہنی چاہیے کہ کائنات اور انسان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اگر کسی کو اختیار حاصل ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے کیونکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اس کی ملکیت کا حق صرف اللہ کو ہے وہ چونکہ ان سب کا خالق ہے اس لیے اسے حق ہے کہ وہ جو چاہے ان کے بارے میں فیصلے کرے اور جس طرح چاہے احکام دے اور یہ بات انسانوں کو اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ انھیں جو احکام دیئے جا رہے ہیں اور زندگی کے جن حقائق سے انھیں آشنا کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک ایک بات، ایک ایک عمل اور ایک ایک ارادہ اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والا ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ جس طرح انسان مرنے کے بعد ایک دن اپنے اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اسی طرح انسانوں کے اعمال بھی اور ان کی زندگیوں کی تفصیلات بھی اللہ کی طرف لوٹائی جاتی ہیں، وہیں سے جو فیصلہ ہوگا وہی انسان کا اصل مقدر ہوگا۔
Ayah 3:110

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

(تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے نکالا گیا ہے۔ معروف کا حکم دیتے ہو منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ط وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْـکِتٰبِ لَـکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ ط مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے نکالا گیا ہے۔ معروف کا حکم دیتے ہو منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں) (110) بنی اسرائیل کی منصب ِ امامت سے معزولی اور امت ِ مسلمہ کا تقرر سیاقِ کلام دیکھتے ہوئے یہ بات پورے اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ اہل کتاب کو حامل دعوت امت ہونے اور دنیا کی امامت کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ ان کی فکری کجرویوں، نیتوں کے فسادات، گروہوں کی عصبیتوں اور اعمال کی خرابیوں کو ایک ایک کر کے اس طرح نمایاں کیا گیا ہے، جس سے خود بخود یہ بات واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ یہ امت جسے کبھی تمام جہان پر فضیلت دی گئی تھی اور جسے توحید کا علمبردار بنایا گیا تھا اور جسے ہدایت کا سرچشمہ قرار دے کر اللہ کے انعامات کا مورد بنادیا گیا تھا۔ اب اس کا زوال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور اب اس سے وہ عزتیں اور وجاہتیں واپس لی جا رہی ہیں جس کا اسے حامل بنایا گیا تھا۔ اس کے طور اطوار اور معاملات نے نہ صرف اپنی حیثیت کو خراب کیا بلکہ وہ اللہ کے دین کی رسوائی کا بھی باعث بنے۔ جب باغبان ہی باغ کو اجاڑنے لگے، جب گھر کا پاسبان ہی گھر کی دیواریں توڑنے لگے اور جب قلعہ دار ہی دشمنوں کے لیے قلعے کے مورچے کھول دے تو ایسے لوگوں پر تو غداری اور بےوفائی کا مقدمہ چلنا چاہیے نہ کہ انھیں اصل منصب پر بحال رکھنا چاہیے۔ چناچہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں جا بجا اس حقیقت کو نمایاں ہوتے دکھایا گیا ہے۔ قرآن کریم کا قاری اہل کتاب کے کرتوت پڑھ کر انتظار کرنے لگتا ہے کہ کب یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچتے ہیں اور قدرت کب ان کے لیے سزا کا اعلان کرتی ہے۔ چناچہ چند رکوع پیشتر قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْـکِ… الخ کی دعا کے ضمن میں واضح اشارہ دیا گیا تھا کہ کاتب تقدیر فیصلہ لکھنے ہی والا ہے۔ چناچہ یہاں تک وہ پہنچ کر تقدیر کا فیصلہ لکھا جا چکا اور اب پیش نظر آیت کریمہ سے امت مسلمہ کو اس عظیم منصب پر فائز کیا جا رہا ہے جس پر کبھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فائز ہوئے تھے اور جن کی جانشینی امت بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ امتِ مسلمہ کی صفات اس آیت کریمہ میں براہ راست امت مسلمہ کو خطاب ہے۔ خطاب میں نہ صرف ان کے ٹائٹل اور انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے بلکہ ان صفات کا بھی ذکر کردیا گیا جو اتنے بڑے منصب پر فائز ہونے کے بعد مسلمانوں کے اندر نظر آنی چاہئیں۔ ٹائٹل اور منصب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سب سے بہتر امت ہو۔ دنیا میں امتوں کی کمی نہیں۔ روئے زمین پر جا بجا امتیں بکھری ہوئی ہیں۔ لیکن انھوں نے اپنی اصل حیثیت کو نہ پہچان کر اپنی دوسری شناختیں مقرر کر رکھی ہیں۔ اپنی زندگی کے وظائف وہ ٹھہرا لیے ہیں جس کی وجہ سے وہ اصل امتیاز سے محروم ہوگئے ہیں۔ انھوں نے انسانی زندگی اور حیوانی زندگی میں بہت کم فرق رہنے دیا ہے۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ ایک ایسی امت کو اٹھایا جاتا جو انسان کی اس بنیادی ضرورت کی امین بنتی۔ اس کی ذات اسی کی مبلغ و مناد ہوتی۔ اس کی زندگی کے فیصلے خود بخود بولتے کہ اس کی اصل حیثیت کیا ہے ؟ چناچہ امت بنی اسرائیل کو صدیوں تک اسی کام کے لیے مصروفِ عمل رکھا گیا۔ لیکن ان کی نا اہلی اور معزولی کے بعد اب یہ ضروری ہوگیا کہ کسی نئی امت کو اس عظیم اور کٹھن ذمہ داری پر فائز کیا جائے کیونکہ اللہ کی زمین ایسے لوگوں کے سپرد نہیں کی جاسکتی جو اسے درندوں کا بھٹ بنادیں۔ جس میں ظلم اور بربریت کے سوا اور کسی چیز کو ترجیح ملتی نظر نہ آئے۔ چناچہ اللہ نے انسانوں پر رحم فرمایا اور اس امت کو اس عظیم منصب پر فائز فرما کر انسانوں کی اصل ضرورت کو پورا کردیا۔ اس عظیم منصب پر فائز ہونے والی چونکہ ہر امت اسی لقب سے ملقب ہوتی رہی ہے اس لیے اس امت کو بھی یہی لقب دیا گیا کہ تم سب سے بہترین امت ہو اور سورة بقرہ میں اسی منصب کا اعلان دوسرے لفظوں سے کیا گیا ہے وَکَذَالِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (چنانچہ ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے) اس کا معنی بھی بہترین امت ہے کیونکہ خَیْرُالْاُمُوْرِ اُوْسَطُہَا (بہترین امور ان کے اوسط ہوتے ہیں) ہر اہم چیز کو وسط میں جگہ ملتی ہے۔ صدارت کی کرسی ہمیشہ درمیان میں رکھی جاتی ہے۔ تخلیقی اور تکوینی طور پر اعتدال اور میانہ روی سب سے اہم صفت ہے۔ جس کا تعلق کمال اخلاق وصفات سے ہے۔ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کا مفہوم لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ خیر امت ہونے کا لقب یا اعزاز محض ایک عہدہ و منصب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ایسی ہے جو امت کو انفرادیت دینے کے لیے کافی ہے کہ تم وہ بہترین امت ہو جنھیں لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی تمہاری بعثت تمہاری قدر و منزلت اور تمہارے منصب کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنی فکر بعد میں کرو دوسروں کی فکر پہلے کرو حالانکہ انسانی سرشت اور فطرت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انسان سب سے پہلے اپنی فکر کرتا ہے، پھر اپنے بچوں کی کرتا ہے، پھر اپنے عزیزواقارب کی کرتا ہے، پھر اپنی قوم کی کرتا ہے، پھر اپنے ملک کی کرتا ہے۔ اس میں غور فرمایئے کہ انسانی ترجیحات اور اس کی فکر مندیوں میں سب سے بڑا جو امتیاز ہے وہ اپنا ہے۔ یعنی وہ ہر وہ کام کرتا ہے جس کے ساتھ اپنا ہونے کی صفت لگی ہوئی ہے۔ اگر وہ بڑوں کی فکر کرے گا تو سب سے پہلے اپنے اپنے بڑوں کی۔ بچوں کی فکر کرے گا تو سب سے پہلے اپنوں بچوں کی۔ قرابت کی فکر کرے گا تو سب سے پہلے اپنے قرابت داروں کی۔ قوم اور وطن کے بارے میں سوچے گا تو سب سے پہلے اپنی قوم اور اپنے وطن کے بارے میں، لیکن اس امت کو مبعوث کرتے ہوئے جو بات کہی گئی ہے وہ اس رویے کے بالکل خلاف ہے۔ کہ تمہیں اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ تم اپنی اور اپنے بچوں کی فکر کرنے کی بجائے دوسروں کی فکر کرو۔ تمہیں بھوک لگی ہو تو خود کھانا کھانے کی بجائے پہلے اسے کھلائو جو تم سے زیادہ بھوکا ہے۔ اسے کپڑا پہنائو جو تم سے کم وسائل رکھتا ہے۔ اس کا علاج کرو جو تم سے زیادہ تکلیف میں ہے۔ ایسا ہونا بظاہر مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر ہم ایک خاص پہلو سے اس پر غور کریں توہ میں محسوس ہوگا کہ دنیا میں عزت و نجابت اور فضیلت ووجاہت اگر ملتی ہے تو صرف اسے جس کا زندگی گزارنے کا طریقہ یہی ہو۔ کہ وہ اپنی بجائے دوسروں کی فکر کرتا ہو۔ اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتا ہو۔ دنیا میں ہر پیشہ ور آدمی اور ہر مزدوری کرنے والا شخص صرف روٹی کمانے کے لیے محنت کرتا ہے موچی جوتا گا ٹھتا ہے، مزدور مزدوری کرتا ہے، کاشت کار ہل جوتتا ہے، نان بائی روٹی پکاتا ہے، مقصد سب کا ایک ہے کہ اپنی ضرورتیں پوری کی جاسکیں اور اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک کا علاج کیا جاسکے۔ صرف پیشہ ور لوگ نہیں، بلکہ جو لوگ دماغی محنت سے کام لیتے ہیں مختلف صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں، ان کا مقصود بھی معاش پیدا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو نوکری کرتے ہیں، جان کھپاتے ہیں، بلکہ بعض دفعہ جان قربان بھی کردیتے ہیں، ہر طرح کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں، لیکن ان کا مقصودِ حقیقی روٹی کمانا یعنی معاش پیدا کرنا نھیں ہوتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان کی َضروریات نہیں ہوتیں یا وہ غذا سے بےنیاز ہوتے ہیں یا ان کے بچوں کو تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی یا انھیں رہنے کے لیے چھت نہیں چاہیے، وہ یہ سب ضرورتیں رکھتے ہوئے بھی ان ضرورتوں کی خاطر جان نہیں کھپاتے۔ فوج ہر ملک کی ضرورت ہے۔ ملک کا وقار فوج سے ہے۔ ملک کا دفاع فوج کی ذمہ داری ہے۔ فوج کے بغیر کوئی ملک محفوظ نہیں رہ سکتا۔ فوج میں بھرتی ہونے والا یا کمیشن لینے والا کوئی شخص بھی تنخواہ کی خاطر فوج میں نہیں جاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ انھیں تنخواہ بھی ملتی ہے۔ قوم ان کی ضروریات کو پورا بھی کرتی ہے، لیکن خود ایک سپاہی سے لے کر جرنیل تک تنخواہ کے لیے کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ انھیں کمیشن دیتے ہوئے یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ تم یہاں نوکری کے لیے نہیں بلکہ ایک مقصد کے لیے آئے ہو۔ مقصد یہ ہے کہ تم قوم اور ملک کی حفاظت کرو۔ تم اس لیے جاگو تاکہ قوم اطمینان کی نیند سو سکے۔ تم اس لیے ملک کی سرحدوں پر پہرہ دو تاکہ ملک کا ایک ایک باسی اپنے جان و مال اور عزت و آبروکو محفوظ سمجھے۔ تم اس لیے زندہ رہو تاکہ قوم کی زندگی پر آنچ نہ آئے۔ لیکن اگر کبھی ایسا وقت آجائے کہ تمہیں مر کر قوم کو زندگی دینا پڑے تو پھر تمہارا اصل ہدف اور اصل کام مرنا ہے جینا نہیں۔ ہر فوجی کے دل و دماغ کو اسی حقیقت سے آشنا کیا جاتا ہے اور اسی حقیقت کے ساتھ ہر فوجی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی فوج صرف تنخواہ لینے اور کمانے کے لیے فوج کی نوکری کرے اور فوجی ذمہ داریاں ادا کرے تو ایسی کرائے کی فوج ملک و قوم کے لیے بوجھ تو ہوسکتی ہے، ملک کی ضرورت نہیں ہوسکتی۔ جانور جنھیں اللہ تعالیٰ نے صرف احساسات کی دولت بخشی ہے جوہر عقل سے نہیں نوازا اور خیر و شر کی تمیز تو ان کا موضوع ہی نہیں۔ با ایں ہمہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جانور بھی سب یکساں نہیں۔ جانوروں میں بیشتر انواع ایسی ہیں جنھیں صرف اپنی ضروریات کے حصول کی فکر ہوتی ہے۔ انھیں روٹی کا ٹکڑا یا دانہ دنکا ملنا چاہیے چاہے کسی بچے کے ہاتھ سے چھیننا پڑے۔ وہ ہر وقت پلٹنے جھپٹنے میں رہتے ہیں تاکہ کہیں سے بھی اپنی ضرورت پوری کی جاسکے۔ لیکن انھیں میں سے ایک جانور شاہین بھی ہے۔ وہ اپنی پرواز کی قوت اور اڑان کی بلندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوتوں سے نوازا ہے لیکن اس کے باوجود وہ کبھی کسی مردار پہ نہیں اترتا۔ کبھی کسی کے ہاتھ سے روٹی کا ٹکڑا نہیں چھینتا۔ کبھی کسی کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ وہ سب سے زیادہ پلٹتا جھپٹتا ہے، لیکن ضروریات رکھتے ہوئے بھی پلٹنے جھپٹنے کا مقصد ضروریات کا حصول نہیں ہوتا۔ وہ بالکل ایک مرد مومن کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ ہمارے قومی شاعر اقبال نے اس کے اندر مومنانہ صفات دیکھی ہیں۔ اسی لیے اسی کی زبان سے اس نے کہلوایا ؎ کیا میں نے اس خاکداں سے کنارہ جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا مرا نیلگوں آسماں بےکرانہ حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ اس امت کو بھی ایسی ہی صفات دے کر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ایک ایک فرد کو بھی بھوک لگتی ہے۔ اسے بھی تن پوشی کے لیے کپڑا چاہیے، اسے بھی موسم کی شدت سے بچنے کے لیے وسائل درکار ہیں، اسے بھی اپنے سر کے لیے گھر کی چھت کی ضرورت ہے، اس کے بچے بھی تعلیم کے محتاج ہیں، انھیں بھی دوسرے بچوں کی طرح تمام ضرورتیں ملنی چاہئیں۔ لیکن یہ تمام چیزیں اس کا مقصد نہیں۔ اس کا مقصد بھی فوج کی طرح دوسروں کے لیے جینا ہے۔ یہ زندگی کی ضروریات پر محنت سے زیادہ اپنے منصبی مشاغل پر محنت کرتا ہے۔ اس کے سامنے لوگوں کی اصلاح و ہدایت ہے۔ جس طرح ایک دنیا دار ایک ایک روپے کی طلب میں جان کھپاتا ہے یہ ایک ایک شخص کی ہدایت کے لیے محنت کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں درہم و دینار اور سونا چاندی کے ڈھیروں کی وہ قیمت نہیں جو ایک انسان کی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس زمین کی خوشحالی اور زمین پر رہنے والے انسانوں کی آسودگی خود انسان کے اصلاح یافتہ ہونے میں ہے۔ انسان میں اگر محنت کا جذبہ ہے تو وسائل فراہم ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اگر اس میں اللہ کا خوف اور تقویٰ ہے تو وسائل کو انسانی فلاح و صلاح میں خرچ کرتے ہوئے کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اگر انسان کے اندر شکر کی صفت پائی جاتی ہو تو وہ جہاں اللہ کی نعمتوں کا قدردان ہوگا وہیں انسانوں کی خدمتوں کا قدردان بھی ہوگا۔ اگر اس کے اندر صبر کی قوت پائی جائے گی تو وہ ہوس زر میں کبھی مبتلا نہیں ہوگا اور بڑی سے بڑی مشکل کو بھی برداشت کرلینے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ آپ مثال کے طور پر ایک ایسے گھر کا تصور کیجیے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کے پاسدار ہوں۔ وہ اللہ سے ڈرنے والے اور اپنی اولاد کے لیے سرتاپا شفیق ہوں اور ان کی اولاد اسلامی تربیت سے آراستہ ماں باپ کی فرمانبردار ہو اور اگر گھر میں اور افراد بھی ہیں تو ہر فرد دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کے لیے بےچین ہو۔ اندازہ فرمایئے ! اس گھر سے بڑھ کر خوش قسمت اور سعادت مند گھر اور کونسا ہوگا ؟ لیکن اس کے برخلاف اگر ایک گھر میں دولت کی ریل پیل ہے، لیکن میاں بیوی دونوں ایک دوسرے سے خیانت کرتے ہیں، شرم و حیا گھر سے رخصت ہوچکے ہیں، اولاد ماں باپ کی شفقت سے محروم اور ماں باپ اولاد کی محبت اور خدمت سے بیگانہ ہیں۔ غور فرمایئے ! کہنے کو تو یہ گھر بڑا خوبصورت گھر ہوگا لیکن حقیقت میں یہ گھر نہیں بلکہ حیوانوں کا باڑا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ تم بہترین امت ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں خود سے زیادہ دوسروں کی ہدایت و فلاح کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ تمہاری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔ تمہاری بھی باقی قوموں کے افراد کی طرح یقینا یہ خواہش ہوگی کہ ہمارے ملک میں وسائل کی فراوانی ہو، سڑکیں صاف ستھری، مکانات خوبصورت اور آرام و راحت کا ہر ذریعہ میسر ہو، ہمارے کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلتی ہوں، ہمارے کھیت سونا اگلتے ہوں، ہر طرف دولت کی ریل پیل ہو۔ ان میں سے کوئی خواہش بھی بری نہیں۔ لیکن یہی تمام خواہشیں اور یہی تمام وسائل عذاب بن جاتے ہیں جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر عمل نہیں ہوتا۔ مال لٹتا ہے، عزتیں اچھلتی ہیں، انصاف بےوقار ہوتا ہے، عدالتیں بکنے لگتی ہیں، احتسابی اداروں کی قیمتیں لگنے لگتی ہیں، حکمران حکومت کے نشے میں اندھے ہوجاتے ہیں تو اولاً تو یہ وسائل مہیا نہیں ہوسکتے اور اگر ہوجائیں تو آسودگی کی بجائے تباہی کا سبب بنتے ہیں جیسے آج ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ تمہیں اس لیے اٹھایا گیا ہے کہ تم دنیا میں معروف کو سربلند رکھنے کی کوشش کرو۔ برائی کو کبھی سر چڑھنے نہ دو ۔ دنیا میں ان دونوں کا شعور عام کردو اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دو کہ تمہارا اصل سرمایہ نیکی کا فروغ اور بدی کا زوال ہے۔ اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اسی میں انسانی وقار ہے۔ باقی ساری امتیں وہ بیشک دنیا طلبی میں اندھی ہوتی رہیں لیکن تم اپنی اس بنیادی خصوصیت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا۔ تمہاری فکر مندی بہتر سے بہتر وسائل کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمہاری فکر مندی اور پریشانی ایک ایک نیکی کے فروغ کے لیے، ایک ایک فرض کی ادائیگی کے لیے، ایک ایک حق کی بجا آوری کے لیے اور ایک ایک بھلائی کی سربلندی کے لیے ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جبکہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو یعنی تمہارا دل و دماغ کبھی اس تصور سے خالی نہ ہونے پائے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو تمہارا اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ تمہارا ہر کام اس کی نگاہوں میں ہے۔ تم اسی کے عائد کردہ فرائض کی پابندی میں اسی کی رضا کی خاطر لگے ہوئے ہو۔ تمہاری رات کی تنہائیاں بھی اسی کی یاد اور اسی کے خوف سے آباد رہیں کیونکہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا استحضار وہ دولت ہے جو انسان کو ہر برے تصور سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر یہ دولت آدمی کو نصیب نہ ہو تو نیکی بھی برائی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ بظاہر نیکی کا وعظ کہا جاتا ہے لیکن اس کا اثر اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے ایمان کا نور نہیں ہوتا۔ جگر مراد آبادیؔ نے ٹھیک کہا ؎ واعظ کا ہر اک ارشاد بجا تقریر بہت دلچسپ مگر آنکھوں میں سرور عشق نہیں چہرے پہ یقیں کا نور نہیں ایسی صورت میں خالی باتیں انسان کی قسمت بناتی نہیں بلکہ بگاڑتی ہیں۔ امتِ مسلمہ کی عزت افزائی اور ان کی حقیقی قدرومنزلت کو بیان کرنے کے بعد ایک عجیب بات ارشاد فرمائی۔ دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی نااہل کو اس کی نا اہلی کی وجہ سے کسی عظیم منصب سے معزول کیا جاتا ہے تو پھر اسے کسی رحم یا مہربانی کا مستحق نہیں سمجھا جاتا۔ اہل کتاب کو سینکڑے سالوں کی نااہلی کے بعد اس عظیم منصب سے معزول کیا گیا۔ اب ان کی اصل جگہ سوائے جہنم کے اور کہیں نہیں۔ لیکن قربان جایئے اللہ کی کریمی کے کہ آخری آیت میں فرمایا : وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْـکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ( اگر اہل کتاب اپنی تمام تر بد اعمالیوں اور چیرہ دستیوں کے باوجود اب بھی ایمان لے آئیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا ) گزشتہ صدیوں کا ان سے حساب نہیں لیاجائے گا۔ وہ ایمان لا کر نئی زندگی کا آغاز کریں گے اور اپنے صدق و اخلاص سے اپنے لیے جو مقام پیدا کریں گے وہی ان کا حقیقی مقام ہوگا۔ گزشتہ حوالوں سے کسی بات کا ان سے تذکرہ نہیں ہوگا۔ اس قدر مروت و رحمدلی کے باوجود افسوس یہ ہے کہ ان میں ایمان لانے والے بہت کم ہیں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نافرمان اور حد سے گزرجانے والے ہیں۔
Ayah 3:111

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی تکلیف کے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے

لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ اَذًی ط وَاِنْ یُّـقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لاَ یُنْصَرُوْنَ ۔ (وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی تکلیف کے اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھائیں گے پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے) (111) یہود کی اجتماعی اور عسکری قوت سے متعلق چند پیشگوئیاں گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب کو دنیا کی امامت و قیادت کے منصب سے معزول کر کے مسلمانوں کو اس عظیم منصب پر فائز کیا گیا۔ اہل کتاب بطور خاص یہود چونکہ ایک کینہ ور قوم ہیں۔ وہ اتنے بڑے نقصان کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اس لیے وہ اپنی تاریخی جبلت سے مجبور ہو کر جو ان سے بن پڑے گا مسلمانوں کے خلاف کر گزریں گے۔ مسلمان ان کی اس سرشت سے واقف ہونے کی وجہ سے یقینا متفکر اور پریشان تھے۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں اب یہود کیا کرتے ہیں ؟ پروردگار نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے چند ایسی پیش گوئیاں فرمائی ہیں، جنھیں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ جس شخص کی نگاہ ظاہری حالات پر ہو وہ یقینا سوچے گا کہ یہود کے پاس بےپناہ وسائل ہیں۔ دولت کی کوئی کمی نہیں اور پناہ گاہوں کے لیے مضبوط قلعے ان کی ملکیت میں ہیں اور اس کے مقابلے میں مسلمان اپنی تعداد اور وسائل کے اعتبار سے نہایت کمزور ہیں۔ ایک ظاہر بین ان حالات کو دیکھ کر اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ اگر یہود اور مسلمانوں میں جنگ چھڑ گئی تو مسلمانوں کے لیے نہایت تباہ کن ہوگی۔ لیکن پروردگار نہایت مؤکد انداز سے فرما رہے ہیں کہ مسلمانو ! تمہارے لیے فکر کی کوئی بات نہیں، تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت دے کر ایک نئی زندگی سے بہرہ ور کیا ہے۔ جنگ میں وسائل کی بھی ایک اہمیت ہے لیکن اصل فیصلہ کن چیز ہر سپاہی کا عزم اور کردار ہے۔ وہ اگر اپنے مؤقف پر بےپناہ یقین رکھتا ہے اور اس کے اندر اپنے مؤقف کے لیے قربانی دینے کا جوش و جذبہ موجود ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں اللہ پر اعتماد کی دولت سے سرشار ہے تو پھر ایسی فوج کو میدانِ جنگ میں شکست دینا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ مسلمان تمام معنوی اور اجتماعی قوتوں سے مسلح تھے اور یہود کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے تھے۔ وہ بظاہر کتاب اللہ کے حامل تھے، ان کے یہاں حصول علم کے لیے مدارس کی کمی نہ تھی، سود خور ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پاس بڑی مقدار میں دولت بھی رکھتے تھے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں ! البتہ تھوڑی بہت تکلیف سے ضرور دو چار کرسکتے ہیں۔ اَذًی کا معنی ضَرَرٌ یَسِیْرٌ ہوتا ہے۔ یعنی تھوڑی سی تکلیف۔ مراد اس سے یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گالی گلوچ کرسکتے ہیں، زبان کے جوہر دکھا سکتے ہیں، تہمتیں باندھ سکتے ہیں، طعن وتشنیع کرسکتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اپنی دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ لیکن میدانِ جنگ میں کوئی معرکہ سر کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ یہود کی جڑ کٹ چکی ہے اب ان کے اندر کوئی دم خم باقی نہیں۔ ممکن ہے قوی عصبیت سے مجبور ہو کر وہ میدانِ جنگ میں آنے کی جرأت کرلیں تو پروردگار فرماتے ہیں کہ اگر وہ تم سے لڑنے کی کوشش بھی کریں تو میدان سے پیٹھ پھیر کے بھاگیں گے۔ چناچہ بعد کے حالات نے ایک ایک پیش گوئی کو سچا ثابت کر دکھایا۔ جنگ بدر سے واپسی پر سب سے پہلے یہود کے ایک قبیلے بنو قینقاع نے شوریدہ سری اور بدطینتی کا مظاہرہ کیا۔ مدینے میں سونے کے کاروبار پر یہی قبیلہ چھایا ہوا تھا۔ کوئی مسلمان عورت شاید کسی زیور کے حصول کے لیے ان کی کسی دکان پر گئی۔ ان بدبختوں نے ایسی کمینی حرکت کی جس سے اس کا ستر کھل گیا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کا نام لے کر دہائی دی ” کیا محمد ﷺ کے شہر میں بھی میری عزت محفوظ نہیں ؟ “ کوئی مسلمان پاس سے گزر رہا تھا اس کی حمیت برداشت نہ کرسکی۔ اس نے آگے بڑھ کر جس یہودی نے یہ حرکت کی تھی اسے قتل کردیا۔ یہود نے اس مسلمان کو جو بالکل اکیلا تھا حملہ کر کے یہودی کے قتل کے انتقام میں مار ڈالا۔ آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی، آپ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے بنوقینقاع کے ذمہ دار لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو ! قریش تم سے کہیں زیادہ طاقتور تھے، لیکن اللہ کی جب گرفت آئی تو میدانِ بدر میں جو ان کا حشر ہوا تم سب کے سامنے ہے۔ اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا انجام بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ہے۔ لیکن بنوقینقاع نے بجائے اس کے کہ اپنے رویے پر معذرت کریں انتہائی دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ محمد ﷺ ! بدر کی کامیابی نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ اور تم اپنے آپ کو بہت بڑی قوت سمجھنے لگے ہو۔ قریش کیا جانے کہ لڑنا کسے کہتے ہیں اس لیے وہ تمہارے ہاتھوں مارے گئے۔ ہم سے جب واسطہ پڑے گا تو اندازہ ہوگا کہ لڑنا کسے کہتے ہیں۔ “ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ بنوقینقاع کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے چناچہ آپ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ انھوں نے جب مسلمانوں کو دیکھا تو اپنی گڑھیوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ پندرہ روز تک محاصرہ جاری رہا۔ بالآخر اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ اب وہی لوگ جو بات بات پر بدزبانی کرتے تھے اور پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے، ان کی ساری ہیکڑی جاتی رہی اور اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ رسول اللہ ﷺ ان کی جان و مال، آل اولاد اور عورتوں کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے انھیں منظور ہوگا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے حکم سے ان سب کو باندھ لیا گیا۔ ممکن ہے آپ ﷺ ان کے بارے میں کوئی سخت فیصلہ فرماتے لیکن عبداللہ بن ابی ٔ نے منافقانہ کردار ادا کیا اور نہایت اصرار کے ساتھ آپ ﷺ کو مجبور کردیا کہ آپ ﷺ ان کو شہر سے نکال دیں، لیکن ان کی زندگیوں سے تعرض نہ کریں۔ یہود کا دوسرا قبیلہ بنونضیر کے نام سے معروف ہے۔ بنوقینقاع کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے بنونضیر کو کسی حد تک پرسکون رہنے پر مجبور کردیا۔ لیکن غزوہ احد کے بعد ان کی جرأتیں بڑھ گئیں اور وہ کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف مختلف طریقوں سے دشمنی کا اظہار کرنے لگے۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ سیرت نگاروں نے اس کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ حسب ذیل ہے : نبی کریم ﷺ اپنے چند صحابہ کے ہمراہ ایک معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے یہود کے پاس تشریف لے گئے۔ یہود نے آپ ﷺ سے کہا کہ ابو القاسم ! آپ فکر نہ کریں جیسا آپ فرمائیں گے ہم ویسا ہی کریں گے۔ آپ کچھ دیر کے لیے تشریف رکھیں ہم ابھی آپ کی ضرورت پوری کیے دیتے ہیں۔ آپ ان کے گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کرنے لگے۔ آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی اور صحابہ کرام ( رض) کی ایک جماعت تھی۔ ادھر یہود تنہائی میں جمع ہوئے تو ان پر شیطان سوار ہوگیا۔ انھوں نے باہم مشورے سے نبی کریم ﷺ کے قتل کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ انھوں نے آپس میں کہا کون ہے جو اس چکی کو اٹھا کر اوپر جائے اور آپ ﷺ کے سر پر گرا کر آپ ﷺ کو کچل دے۔ اس پر ایک بدبخت یہودی عمرو بن جحاش نے کہا میں یہ کام کروں گا۔ ان لوگوں میں سلام بن مشکم نے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ خدا کی قسم ! انھیں تمہارے ارادوں کی خبر دے دی جائے گی اور پھر ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد و پیمان ہے یہ اس کی خلاف ورزی بھی ہے۔ لیکن انھوں نے ایک نہ سنی اور اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوششیں کرنے لگے۔ رب العالمین کی جانب سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آپ ﷺ کو یہود کے ارادوں سے باخبر کیا۔ آپ ﷺ تیزی سے اٹھے اور مدینے کے لیے چل پڑے۔ بعد میں صحابہ کرام بھی آپ ﷺ سے آن ملے اور کہنے لگے کہ آپ ﷺ تشریف لے آئے۔ ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کیوں واپس تشریف لے آئے۔ چناچہ آپ ﷺ نے صحابہ کو یہود کے ارادے سے باخبر کیا۔ مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے فوراً ہی محمد بن مسلمہ ( رض) کو بنی نضیر کے پاس روانہ فرمایا اور انھیں یہ نوٹس دیا کہ تم لوگ مدینے سے نکل جاؤ۔ اب یہاں میرے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ تمہیں دس دن کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد جو شخص بھی پایا جائے گا اس کی گردن مار دی جائے گی۔ اس نوٹس کے بعد یہود کو جلاوطنی کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا۔ چناچہ وہ چند دن تک سفر کی تیاریاں کرتے رہے، لیکن اسی دوران عبداللہ بن ابی ٔ رئیس المنافقین نے کہلا بھیجا کہ اپنی جگہ برقرار رہو۔ ڈٹ جاؤ اور گھر بار نہ چھوڑو۔ میرے پاس دو ہزار مردانِ جنگی ہیں جو تمہارے ساتھ تمہارے قلعے میں داخل ہو کر تمہاری حفاظت میں جان دے دیں گے اور اگر تمہیں نکالا ہی گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے بارے میں کسی سے ہرگز نہیں دبیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی ہم تمہاری مدد کریں گے اور بنو قریظہ اور بنو غطفان جو تمہارے حلیف ہیں وہ بھی تمہاری مدد کریں گے۔ یہ پیغام سن کر یہود کی خوداعتمادی پلٹ آئی اور انھوں نے طے کرلیا کہ جلاوطن ہونے کی بجائے ٹکر لی جائے گی۔ ان کے سردار کو توقع تھی کہ رئیس المنافقین نے جو کچھ کہا ہے وہ پورا کرے گا۔ اس لیے اس نے رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیج دیا کہ ہم اپنے دیار سے نہیں نکلتے، آپ کو جو کرنا ہو کرلیں۔ لیکن اللہ کی قدرت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ چھ سات دن کے محاصرے کے بعد ہی بنو نضیر کے حوصلوں نے جواب دے دیا اور وہ جن کے اعتماد پر ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہے تھے ان میں سے کوئی شخص بھی ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا۔ چناچہ انھوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا کہ ہم مدینے سے نکلنے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کی جلاوطنی کی پیش کش قبول فرما لی اور یہ بھی منظور فرما لیا کہ وہ اسلحہ کے سوا باقی جتنا سازو سامان اونٹوں پر لاد سکتے ہوں سب لے کر بچوں سمیت نکل جائیں۔ اس طرح سے بنو نضیر کا کام تمام ہوا۔ نہ ان کے ہتھیار ان کے کام آئے نہ ان کی افرادی قوت حوصلہ دکھا سکی، نہ ان کے حلیف وقت پر امداد کے لیے پہنچ سکے۔ یہود کا تیسرا قبیلہ مدینہ منورہ میں بنوقریظہ کے نام سے معروف تھا۔ ان لوگوں کا مسلمانوں سے معاہدہ تھا کہ اگر باہر سے کوئی حملہ کرے گا تو ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدینے کی حفاظت کریں گے۔ لیکن غزوہ خندق میں انھوں نے کھلم کھلا معاہدہ توڑ ڈالا اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کی۔ چناچہ جب اللہ نے قریش اور ان کے حلیفوں پر تیز آندھی کا عذاب بھیجا تو وہ اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ سر پر پائوں رکھ کر بھاگے۔ مسلمان جیسے ہی ادھر سے یکسو ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بنوقریظہ کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا تاکہ انھیں ان کی عہد شکنی کی سزا دی جائے۔ محاصرے کی شدت نے بنوقریظہ کا دم خم توڑ ڈالا اور وہ سمجھ گئے کہ صلح کی پیشکش کے سوا اور ہمارے سامنے کوئی راستہ نہیں۔ چناچہ انھوں نے مسلمانوں کو پیغام بھیجا کہ ہمارے بارے میں سعد بن معاذ ( رض) کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ وہ جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا۔ چناچہ حضرت سعد ( رض) جو غزوہ خندق میں زخمی ہوچکے تھے وہ مدینہ میں تھے، آنحضرت ﷺ نے ان کو طلب فرمایا۔ سعد ( رض) تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا ” سعد ! یہ لوگ تمہارے فیصلے پر اترے ہیں “ حضرت سعد ( رض) نے کہا : کیا میرا فیصلہ ان پر نافذ ہوگا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ انھوں نے کہا : مسلمانوں پر بھی ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ تو آپ ( رض) نے کہا ” میرا فیصلہ یہ ہے کہ مردوں کو قتل کردیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور اموال تقسیم کرلیے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے ان کے بارے میں وہی فیصلہ کیا ہے جو سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ “ حضرت سعد ( رض) کا یہ فیصلہ انتہائی عدل و انصاف پر مبنی تھا کیونکہ بنو قریظہ نے مسلمانوں سے موت وحیات کے نازک ترین لمحات میں جو خطرناک بدعہدی کی تھی وہ تو انتہائی قابل نفرت تھی ہی لیکن اس کے علاوہ بھی انھوں نے مسلمانوں کے خاتمے کے لیے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے، تین سو زرہیں اور پانچ سو ڈھالیں مہیا کر رکھی تھیں۔ جن پر فتح کے بعد مسلمانوں نے قبضہ کیا۔ یہود کے یہ وہ تین قبائل تھے جو اس طرح سے اپنے انجام کو پہنچے۔ قرآن کریم نے جب ان کے بارے میں پیش گوئی فرمائی تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یہود کے ان قبائل کا یہ انجام ہوگا۔ ان تینوں میں سے ایک ایک قبیلہ اپنے انجام کی طرف بڑھتا گیا، لیکن قرآن کریم کی پیش گوئی کے مطابق کسی طرف سے ان کو مدد نہ پہنچ سکی حالانکہ مدینہ منورہ کے گرد و پیش میں پھیلے ہوئے قبائل سے ان کے معاہدے تھے۔ لیکن کوئی معاہدہ ان کے کام نہ آیا۔
Ayah 3:112

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

تھوپ دی گئی ہے ان پر ذلت وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہدہو اور وہ لوٹے اللہ کا غْضب لے کر۔ اور مار دی گئی ہے ان پر مسکنت۔ یہ سب کچھ اس سبب سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے تھے اور نبیوں کو بلا وجہ قتل کر ڈالتے تھے اور یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حدود سے نکل جاتے تھے

ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّـۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَـآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَـقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَـآئَ بِغَیْرِحَقٍّ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔ (تھوپ دی گئی ہے ان پر ذلت وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی عہدہو اور وہ لوٹے اللہ کا غْضب لے کر۔ اور مار دی گئی ہے ان پر مسکنت، یہ سب کچھ اس سبب سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے تھے اور نبیوں کو بلا وجہ قتل کر ڈالتے تھے اور یہ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حدود سے نکل جاتے تھے) (112) قومِ یہود عبرت کا نمونہ یہود کا وجود اہل دنیا کے لیے عبرت کا نمونہ ہے۔ انسانی اسٹیج پر بیشمار قومیں نمودار ہوئیں جو عروج وزوال کے مختلف ادوار سے گزریں اور بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ آج تاریخ میں سوائے ان کے ذکر کے کوئی چیز بھی باقی نہیں ہے۔ لیکن یہ واحد قوم ہے جو ہزاروں سال سے دنیا کے سٹیج پر زندہ ہے۔ اس نے زوال کا شکار ہونے کے بعد کبھی عروج کا منہ نہیں دیکھا۔ ایک عظیم منصب سے معزول کیے جانے کے بعد دنیا کی نگاہوں میں بھی کبھی اسے عزت نہیں مل سکی۔ اللہ نے شاید اس کو اسی لیے زندہ رکھا ہے تاکہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ جو قوم اللہ کی ناشکرگزاری کے جرم میں ماخوذ ہوتی ہے اس کے طور اطوار کیا ہوتے ہیں اور وہ کن حوادث کا شکار ہوتی ہے۔ اس قوم کے لیے سنبھل جانے کا آخری موقع آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ تھی۔ لیکن اس موقعہ کو کھو دینے کے بعد دوسرا اس کے لیے کوئی موقع نہیں تھا۔ اس لیے وہ بار بار ایسے مصائب کا شکار ہوتی گئی جس سے دوسری قومیں عبرت حاصل کرسکتی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس قوم کے افراد میں غیر معمولی ذہانت پائی جاتی ہے، اس نے بڑے بڑے سائنسدان پیدا کیے ہیں۔ عالی دماغ لوگ اس قوم میں پید اہوتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی طرف سے جو ذلت اس پر تھوپ دی گئی ہے وہ کبھی عزت میں تبدیل نہیں ہوسکی۔ ان کی ذہانتیں کبھی خیر کو بالا بلند کرنے میں کام نہ آئیں۔ ان کی ایجادات ہمیشہ ظلم کا ذریعہ بنیں۔ ان کی منصوبہ بندی کی صلاحیت ہمیشہ سازشوں میں استعمال ہوتی رہی۔ اس نے علم کے نام سے دنیا میں وہ وہ برائیاں پھیلائی ہیں، جن کا تصور ہی کپکپا دینے کے لیے کافی ہے۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ جس ملک میں بھی رہے ہیں بالآخر وہاں سے نکالے گئے ہیں اور کبھی بھی انھیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔ یہ دنیا کی امیر ترین قوم سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ان کی دولت کبھی خیر کے کام نہیں آئی۔ گزشتہ صدی میں جرمنی میں، ہنگری میں، اٹلی میں، زیکوسلاوی کہ (چیکو سلواکیہ) میں اور دوسرے ملکوں میں باوجود ان کی خوشحالی اور امارت کے جو ان کی گت بن چکی ہے اور جس طرح کا سلوک ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے، وہ یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ ذلت کی پھٹکار کسے کہتے ہیں ؟ اور اس آیت کریمہ میں جو فرمایا گیا ہے اس کا مفہوم کیا ہے ؟ ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں کو یہ خیال گزرتا ہے کہ ماضی میں یہ قوم جیسی کچھ بھی رہی ہو لیکن آج تو اس کی ایک خاص حیثیت ہے جسے دنیا تسلیم کرتی ہے۔ وہ نہایت محدود افرادی قوت کے باوجود ایک بڑے علاقے کو فتح کرچکی ہے۔ وسائل کی انتہائی کمی ہونے کے باوجود وہ سائنسی طور پر اتنی ترقی یافتہ ہوگئی ہے کہ عرب اپنی سارے وسائل کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ اپنے جغرافیے کے اعتبار سے عربوں کے وسیع صحرا کے مقابلے میں ایک گٹھلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ عرب اتنی بڑی افرادی قوت رکھتے ہیں کہ اگر وہ اس کی طرف منہ کر کے تھوکنا شروع کردیں تو یہ قوم شاید اس کے سیل میں بہہ جائے۔ لیکن آج وہ عربوں کے سینے پر چڑھ کر مونگ دل رہی ہے اور عرب بےبسی سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر شبہ ہونے لگتا ہے کہ قرآن کریم نے جس ذلت اور مسکنت کی بات کہی ہے یہ تو بالکل اس کے برعکس ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صورت حال فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک سراب ہے جس کو ہم حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت کریمہ میں جو آج نازل نہیں ہوئیں، بلکہ ڈیڑھ ہزار سال سے اسے قرآن کریم میں پڑھا جا رہا ہے اس کی پوری منظر کشی کی گئی ہے اور ڈیڑھ ہزار سال پہلے بتادیا گیا تھا کہ یہ قوم ہر جگہ ذلیل ہو کر رہے گی بجز دو صورتوں کے۔ ایک حَبْلُ مِّنَ اللّٰہِ اور دوسرا حَبْلُ مِّنَ النَّاسٍ ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں : فِی الْکَلَامِ اِخْتَصَارٌ وَالْمَعْنٰی اِلَّا اَنْ یَّعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ مِّنَ اللّٰہِ …الخ یعنی اس کلام میں اختصار ہے۔ اس میں اَنْ یّعْتَصِمُوْا محذوف ہے یعنی ذلت اور مسکنت اس قوم کا مقدر بنادی گئی ہے۔ یہ جہاں بھی رہیں گے ذلیل سمجھے جائیں گے۔ وقتی طور پر کہیں انھیں عروج مل بھی جائے وہ پائیدار نہیں ہوگا۔ وہی عروج ایک وقت گزرنے کے بعد ان کے لیے تباہی کا باعث ہوگا۔ جیسے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح ان پر مسکنت کی پھٹکار ماری گئی ہے یعنی یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عزت نفس سے محروم رہیں گے۔ قومیں انھیں اپنے حق میں استعمال کریں گی اور یہ کرائے کے بدمعاشوں کی طرح ان کی خدمت بجا لائیں گے۔ لوگ ان کی بدمعاشی کو ان کی عزت خیال کریں گے حالانکہ بدمعاش کی بظاہر عزت حقیقت میں عزت نہیں ہوتی۔ آج بھی باوجود اس کے کہ انھیں ایک مضبوط ملک میسر ہے اور وہ ایٹمی طاقت بن چکے ہیں، لیکن دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جو انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہو اور مزید یہ کہ یہ اپنے ملک میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دوسروں کی خدمت بجا لا رہے ہیں۔ عیسائیت جو صلیبی جنگوں کے زمانے سے مسلمانوں کی تباہی کے درپے ہے اور اہل مغرب اور امریکہ مختلف لبادے اوڑھ کر ہمیشہ مسلمانوں کی تباہی کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی سے انھوں نے مسلمانوں کی تباہی کے لیے عربوں کے دل میں ایک خنجر کی طرح انھیں گاڑ رکھا ہے اور ان سے وہ وہی کام لے رہے ہیں جیسے بستی کے چوہدری کرائے کے بدمعاشوں سے کام لیتے ہیں۔ وہ بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک آزاد ملک میسر آگیا ہے حالانکہ وہ مغرب و امریکہ کے آلہ کار ہیں اور وہ ان سے وہ کام لے رہے ہیں جو ان کے لیے خود کرنا مشکل ہوتا اور جب کبھی وہ محسوس کریں گے کہ یہ ہمارا پروردہ ہمارے ہاتھوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے تو پھر اسے تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ یہی بات قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں فرمائی ہے کہ ان کے دنیا میں زندہ رہنے اور کسی حد تک عزت حاصل کرنے کے دو ہی راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں یعنی اسلام قبول کرلیں تو پھر یہ مسلمانوں کا حصہ ہوں گے اور ان کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ ہوگی اور یا مسلمانوں سے معاہدہ کرلیں کیونکہ حبل کا معنی جس طرح رسی ہے اسی طرح یہ لفظ معاہدہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ملک میں ذمی بن کر یا معاہد بن کر رہنا قبول کرلیں تو اس صورت میں ان کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی۔ چناچہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں انھیں آرام اور عزت کی زندگی صرف مسلمانوں ملکوں میں میسر آئی ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ ان سے فیاضانہ برتائو کیا لیکن یہ اپنی عقربی فطرت سے مجبور ہیں۔ جب بھی ان کا بس چلتا ہے یہ نیش زنی ضرور کرتے ہیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ لوگوں کی رسی کو پکڑ لیں یعنی کسی بڑی قوت کی پناہ میں آجائیں، ان کے مفادات کے ایجنٹ بن کر اپنے لیے مراعات حاصل کرلیں۔ آج کا اسرائیل اس دوسری حیثیت کا حامل ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی کوششوں سے اسے فلسطین میں جگہ ملی۔ عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے اور تاریخ کے چہرے کو بگاڑتے ہوئے یہود کو فلسطین میں بسایا گیا اور پھر انھیں افرادی قوت مہیا کرنے کے لیے روس نے پورے ملک میں پھیلے ہوئے یہود کو اکٹھا کر کے اپنے جہازوں کے ذریعے فلسطین پہنچایا۔ اس طرح سے وہ تمام قوتیں جو مسلمانوں کی بدترین دشمن ہیں انھوں نے اسلام دشمنی میں یہود کے لیے آسانیاں مہیا کیں، ہر طرح اسے سپورٹ کیا اور دیکھے دیکھتے اسے ایٹمی قوت میں تبدیل کردیا۔ اب اس ملک کے دفاع کی فکر یہود کو شاید اتنی نہ ہو جتنی امریکہ اور برطانیہ کو ہے۔ یہ ایک طرح سے امریکہ اور مغرب کی چھائونی ہے۔ جسے بوقت ضرورت وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ اس پوری تفصیل سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے یہود کی بقا کے لیے جو راستہ تجویز کیا تھا اسی راستے پر چل کر وہ آج ایک ملک قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ طاقتور ملکوں کی رسی ہے جسے تھام کر ان لوگوں نے اپنے لیے وسائلِ حیات اور ترقی کے وسائل پیدا کیے ہیں۔ یہود پر ذلت و مسکنت کے اسباب یہود پر جو ذلت اور مسکنت کی پھٹکار پڑی اور جس طرح یہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے آیت کریمہ کے آخر میں اس کے اسباب بیان فرمائے گئے ہیں۔ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ … الخ یہود باوجود حامل دعوت امت ہونے اور باوجود انبیاء کرام کی اولاد ہونے کے اس لیے اپنے انجامِ بد کو پہنچے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ جب کسی امت کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی امانت سپرد کرتا ہے تو پھر اس کی رفعت اور سربلندی اس امانت کی پاسداری میں ہوتی ہے۔ وہ جس قدر اللہ کے احکام کی بجا آوری اور اس کے نفاذ کے لیے مخلصانہ کوشش جاری رکھے گی اسی قدر اللہ کی عنایات اس کے شامل حال ہوں گی۔ لیکن جب وہ اپنی اصل حیثیت کو بھول کر دنیا کی دوسری قوموں کی طرح دنیا طلبی اور حبِّ دنیا میں ڈوب جائے گی، جلبِ زر اس کا مقصد بن جائے گا اور وہ دنیا کے لیے جئے گی اور دنیا کے لیے مرے گی تو پھر باقی قوموں کو تو اللہ تعالیٰ مہلت عطا فرماتے رہتے ہیں لیکن اس امت کو جو اللہ کے دین کی علمبردار اور پاسدار تھی مہلت نہیں ملتی اور اگر مہلت دی جاتی ہے تو اسے دنیا میں عبرت بنا کے رکھا جاتا ہے۔ چناچہ ہمیں تاریخ میں دونوں صداقتوں کی شہادت ملتی ہے۔ قوم عاد وثمود تباہ کردی گئیں، لیکن قوم یہود عبرت کے لیے زندہ رکھی گئی ہے اور اس کی تاریخ کے مختلف ادوار اس کا عبرت ہونا بار بار ظاہر کرچکے ہیں۔ غضب خدا کا کہ جس قوم کو نبیوں کی اولاد ہونے پر فخر ہے اور وہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں وہی اللہ کی آیات یعنی کتاب خداوندی کو بدلتے اور اسے عضومعطل بنا کے رکھ دیتے ہیں اور انہی کے ہاتھوں اللہ کے نبی قتل ہوتے رہے ہیں۔ جب بھی نبیوں نے انھیں راہ راست پہ لانے کے لیے ان کی بد اعمالیوں پر تنقید کی اور ان کے سامنے آئینہ رکھا تاکہ وہ اپنی اصل شکل دیکھ سکیں تو بجائے اپنی شکل کی اصلاح کرنے کے انھوں نے آئینہ توڑنے میں عافیت سمجھی۔ حضرت ذکریا (علیہ السلام) کو سنگسار کیا گیا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سر قلم کیا گیا اور نہ جانے کتنے انبیاء ان کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بنی اسرائیل کے سب سے آخری پیغمبر جو غیر معمولی شان سے تشریف لائے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انھیں بھی انھوں نے صلیب پر پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ بِغَیْرِحَقٍّ کا مفہوم یہاں قرآن کریم نے نبیوں کے قتل کے سلسلے میں بِغَیْرِحَقٍّ کا لفظ استعمال کیا ہے کہ بنی اسرائیل نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اللہ کے نبی تو معصوم ہوتے ہیں۔ ان سے کبھی کوئی ایسا گناہ سرزد نہیں ہوتا جس سے ان کا خون مباح ہوجائے۔ وہ تو جب بھی قتل کیے جائیں گے بےگناہ اور ناحق ہی قتل کیے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ پھر یہاں بِغَیْرِحَقٍّ کے استعمال کا کیا مفہوم ہے ؟ بات یہ ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مقتول تو اپنے آپ کو بےگناہ سمجھتا ہے لیکن قاتل اسے گنہگار سمجھ کر قتل کرتا ہے یا عدالت اسے گنہگار سمجھ کر سزا دیتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے کہ بنی اسرائیل نے جب بھی کسی نبی کو قتل کیا ہے تو یہ سمجھ کر نہیں کیا کہ جسے ہم قتل کر رہے ہیں وہ قتل کا واقعی سزاوار ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس نبی کے قتل کو قتل ناحق سمجھ کر کرتے رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مقدمے کی پوری روداد اب تاریخ کی روشنی میں آچکی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدالت خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معصوم اور بےگناہ سمجھتی تھی۔ اس لیے وہ چاہتی تھی کہ انھیں چھوڑ دیا جائے۔ لیکن بنی اسرائیل کے اصرار پر عدالت نے انھیں سزا دی اور کہا جاتا ہے کہ عدالت کے جج نے سزا کا حکم سنانے سے پہلے اپنے ہاتھ دھو کر لوگوں پر واضح کیا کہ میں اس ظلم سے بری ہوں۔ یہ سب کچھ تمہارے اصرار پر کر رہا ہوں۔ حیرانی کی بات ہے کہ اللہ کے نبی جو انسانیت کے گل سرسبد ہوتے ہیں اور انھیں کے سہارے انسانیت سعادت اور کمال کے مدارج طے کرتی ہے، لیکن یہود کا ان کے قتل پر اس حد تک دلیر ہوجانا ناقابلِ فہم بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن قرآن کریم اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ( یہود یہ ناقابلِ فہم حرکت اس لیے کر گزرے کہ وہ نافرمان اور حد سے گزر جانے والے لوگ تھے) جو قوم اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرے اور اسے اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کا خوف لاحق نہ ہو اور جو اللہ کی حدود کو پامال کرتے ہوئے نہ شرمائے اور نہ خوف کھائے ایسی قوم سے پیغمبروں کا قتل کوئی بڑی بات نہیں۔ امتِ مسلمہ آخری امت ہے۔ جسے دنیا کی اصلاح کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس امت میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ البتہ ! نبیوں کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے علمائِ کرام، مجتہدینِ عظام اور مجددین پیدا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے تجدید و احیائے دین کا کام لیں گے اور یہ لوگ اللہ کی دھرتی پر اللہ کی دلیل ہوں گے۔ چناچہ امت مسلمہ میں گذشتہ صدیوں میں فی الواقع ایسے بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے اور انھوں نے ہر قربانی دے کر امت کی اصلاح کی کوشش کی۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہی اللہ کی برگزیدہ ہستیاں جو اصلاحِ امت کے لیے پیدا کی گئیں اس امت کے ہاتھوں کبھی عافیت میں نہ رہ سکیں۔ جس نے بھی ان کے سامنے حق کہا اس کی رات آرام سے نہیں کٹی۔ کتنے ایسے علماء گزرے ہیں جنھیں شہید کیا گیا، خود مسلمان ریاستوں میں بڑے بڑے علماء حوالہ زنداں کیے گئے۔ امام ابوحنیفہ جیسا عظیم آدمی جیل میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ امام احمد ابن حنبل پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہماری قریبی تاریخ میں اور پاکستان جیسا عظیم ملک بن جانے کے بعد اس ملک میں اللہ والوں پر کیا کیا قیامت یں نہ ٹوٹیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم میں اللہ کی نافرمانی عام ہوجاتی ہے اور وہ حدود اللہ کو پامال کرنے میں دلیر ہوجاتی ہیں، اس کے بعد اس کے لیے بڑا سے بڑا جرم کرنا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں رہتی۔
Ayahs 3:113–115

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

سب یکساں نہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور معروف کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور جو نیکی بھی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کیے جائیں گے اور اللہ خدا ترسوں کو جاننے والا ہے

لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآئَ الَّیْلِ وَہُمْ یُسْجُدُوْنَ ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْـکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ ط وَاُوْلٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّـکْفَرُوْہُ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ (سب یکساں نہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ اپنے عہد پر قائم ہے۔ یہ تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کی رات کے اوقات میں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور معروف کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں۔ اور جو نیکی بھی یہ کریں گے تو اس سے محروم نہیں کیے جائیں گے اور اللہ خدا ترسوں کو جاننے والا ہے) (113 تا 115) اہلِ کتاب سب یکساں نہیں یہود و نصاریٰ پر تنقید کے سلسلے میں ان کی بدترین بداعمالیوں کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ اللہ کی طرف سے وہ جس سزا کے سزاوار ٹھہرے اسے بھی بیان فرمایا۔ اس تنقید سے بظاہر یہ مترشح ہوتا ہے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو بھی شائد ہدایت کی دولت نہیں ملی۔ لیکن قرآن کریم چونکہ اپنے اسلوبِ اخبار و انشاء میں نہایت امین واقع ہوا ہے، اس لیے وہ حقِ امانت کی ادائیگی کو کبھی نہیں بھولتا۔ اس لیے یہاں صاف صاف فرمایا کہ یہ مت سمجھو کہ اہل کتاب سب ایک جیسے تھے۔ نہیں ! انہی لوگوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان سے بالکل مختلف تھے۔ پھر ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ جو عہد و میثاق باندھا تھا اور اس کی شریعت پر چلنے کا جو عہد کیا تھا وہ آج بھی پوری طرح اس پر قائم ہیں۔ ان کا اللہ سے تعلق کا حال یہ ہے کہ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے تو وہ رات کے اوقات میں اٹھ کر کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ راتوں کو نیند سے اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہونا اور پھر اس میں کتاب الٰہی کی تلاوت کرنا یہ اس لیے ہے کہ ان کا اپنے رب سے گہرا تعلق ہے۔ اسی تعلق کے اظہار کے لیے راتوں کو کبھی قیام میں ہوتے ہیں اور کبھی سجود میں۔ سجدہ چونکہ نماز کے اہم ترین ارکان میں سے ہے اور یہی وہ رکن ہے جس میں خشیت اور تذلل اپنے عروج پہ ہوتا ہے۔ آدمی اپنی ساری شخصیت اللہ کی بارگاہ میں ڈھیر کردیتا ہے۔ اس لیے بطور خاص سجدے کا ذکر فرما کر ان کی بندگی کی تحسین فرمائی ہے اور سجدے کا ذکر کرنے میں شاید یہ مصلحت بھی ہو کہ ان لوگوں کا تعلق اگرچہ اہل کتاب سے ہے لیکن یہ باقی اہل کتاب سے اس حد تک مختلف ہیں کہ وہ لوگ تو اپنی نمازوں سے سجدے کو نکال چکے ہیں۔ لیکن یہ لوگ راتوں کو اٹھ کر تنہائی میں اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ چونکہ اپنے عہد پر قائم رہنے والے لوگ ہیں، اس لیے یہ اللہ پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ یومِ آخرت کا تصور ان کے دل سے محو نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ اس گروہ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اہل کتاب میں سے آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اگرچہ ان آیات کے نزول تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرسکے تھے لیکن اندر سے وہ بالکل مومن صادق تھے۔ قرآن کریم نے اور بھی کئی مواقع پر اس گروہ کا ذکر کیا ہے۔ جو تعداد میں اگرچہ بہت زیادہ نہیں تھے لیکن اپنے علم اور اثر میں دوسرے اہل علم سے کم نہ تھے۔ تاریخ ان میں سے کئی بڑے بڑے لوگوں کا تذکرہ کرتی ہے۔