3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:116–117

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دنیوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہوا ہو، اس میں سخت ٹھنڈک ہو اور لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر پھر فنا کر دے اس کھیت کو۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْہُمْ اَمْوَالُہُمْ وَلَآ اَوْلَادُہُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَاَہْلَـکَتْہُ ط وَمَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَلٰـکِنْ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (بےشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے انھیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے ذرہ بھر اور وہ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مثال اس کی جو وہ خرچ کرتے ہیں اس دنیوی زندگی میں ایسی ہے جیسے ہوا ہو، اس میں سخت ٹھنڈک ہو اور لگے وہ ایک قوم کے کھیت کو جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر پھر فنا کر دے اس کھیت کو۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں) (116 تا 117) یہود کا قومی تجزیہ اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے دو باتوں کا احساس ہوتا ہے۔ حقیقت کا علم تو اللہ کو ہے، لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں یہود کا تجزیہ کرتے ہوئے انھیں تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا گروہ مخالفین اور معاندین پر مشتمل ہے۔ یہ یہود کا وہ طبقہ ہے جنھیں مذہبی طبقہ کہنا چاہیے۔ جنھیں اسلام دشمنی کسی کل چین نہیں لینے دیتی۔ ان کے لیے سب سے بڑا معاملہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور آپ کی دعوت بن چکا ہے۔ وہ ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو روکنا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہود کا دوسرا گروہ وہ ہے جن کا ذکر گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہوا، ان کی تعریف بھی کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ جو نیکی بھی کریں گے اللہ اسے کبھی ضائع نہیں فرمائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں قوم یہود کے تیسرے طبقے کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ یہ لوگ بھی اسلام اور آنحضرت ﷺ کے دشمن ہیں۔ لیکن ان کی اصل دلچسپیاں (جس نے ان کی زندگی کو گھیر رکھا ہے) مال و دولت سے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ یہود قوم سے اور یہودی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی زندگی کے معاملات دولت کے گرد گھومتے ہیں اور دولت کا پرستار فطری طور پر اولاد سے اس لیے زیادہ محبت کرتا ہے تاکہ اسے اپنا وارث میسر آئے اور زندگی میں اس کی دولت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ قرآن کریم نے مجموعی طور پر تو پہلے اور تیسرے گروہ پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار کا ذکر فرمایا اور قیامت کے دن ان کے بارے میں اللہ کے غضب کی خبر دی اور اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کو ان باتوں کی پرواہ نہیں ان پر صرف ایک ہی بات کی دھن سوار ہے، وہ ہے دولت اور اولاد۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان کی دولت اور اولاد قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے انھیں بچا نہیں سکیں گی۔ انھیں یقین رکھنا چاہیے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور انھوں نے یہ جو عقیدے تراش رکھے ہیں کہ ہمیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، اگر جہنم میں جانا پڑا بھی تو زیادہ سے زیادہ چالیس دن کے لیے ہوگا۔ ان کی غلط فہمی پر چوٹ لگاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ جہنم کی آگ میں ہمیشہ جلیں گے۔ دولت مند آدمی اگرچہ ہوس دنیا میں اندھا ہوجاتا ہے اور اسے اقدارِ انسانیت یا مذہب سے کوئی رشتہ کم ہی باقی رہتا ہے۔ لیکن پھر بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جن قوموں میں مذہبی تصورات کی کسی حد تک بھی حکمرانی رہتی ہے ان کا برگشتہ طبقہ بھی بالکل اس سے دور ہٹنے پر قادر نہیں ہوتا۔ انھیں کبھی نہ کبھی آخرت کا خیال آتا ہے اور پھر اس کے لیے وہ صدقہ و خیرات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کردیتے ہیں کہ یہ جو ہم اللہ کے راستے میں اس قدر خرچ کرتے ہیں۔ نیازیں پکواتے ہیں، مسجدوں میں قالین بچھواتے ہیں، بعض دفعہ اپنی شہرت کے لیے غریبوں میں خشک راشن تقسیم کرتے ہیں۔ یہ یقینا ہماری مغفرت کے لیے کافی ہوگا۔ ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے پروردگار نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے خرچ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی تیار کھیتی پر پالے والی ہوا چل جائے اور وہ اس کو برباد کر کے رکھ دے۔ کھیتی کا مالک یہ سمجھتا ہے کہ کھیتی کے کٹنے کی دیر ہے، غلے کے کھلیان لگ جائیں گے اور پھر غلہ بکے گا اور دولت کی ریل پیل ہوجائے گی۔ وہ اسی تصور میں مست رہتا ہے، لیکن اس وقت اس کی محرومی کی کوئی انتہا نہیں رہتی جب کہ ایک ٹھنڈی آگ اس کی کھیتی یا اس کے باغ کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ کفر اور شرک کے ساتھ اللہ کے راستے میں کچھ بھی خرچ کیا جائے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں کیونکہ کفر و شرک ٹھنڈی آگ کی طرح ہیں جو ساری محنت کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ انفاق سے متعلق غلط فہمی کا ازالہ معلوم ہوتا ہے ہر دور میں مذہب سے واجبی رشتہ رکھنے والے بد عمل اور بےعمل لوگوں کی ہمیشہ یہ غلط فہمی رہی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے ایمان و عمل کے بغیر بھی جنت خریدی جاسکتی ہے۔ وہ ایمان و عمل کی ہر خرابی میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے رفاہی کاموں کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہر دور میں ملے گی جو نہ ایمان کی پروا کرتے ہیں نہ عمل صالح کی۔ لیکن رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ گنگا رام اور گلاب دیوی ہسپتال غیر مسلموں کے بنائے ہوئے ہیں۔ ہماری بعض تعلیمی ادارے کسی نہ کسی غیر مسلم کی سخاوت و فیاضی کا ثبوت ہیں۔ ایسے ہی بعض لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی تھے۔ انہی میں ایک شخص ابن جدعان رفاہی خدمات میں بہت مشہور تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے بطور خاص آنحضرت ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گا کیونکہ اس نے کبھی اپنے اللہ سے یہ التجا نہیں کی تھی کہ یا اللہ میرے گناہ معاف فرما دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ کا بندہ ہونے کی حیثیت سے اپنا نام رجسٹرڈ کروانا اور اللہ کی کبریائی کو اپنی زندگی اور معاملات پر حاوی کرنا اور اس کے احکام کو زندگی کا چلن بنانا نجات کے لیے شرط اول ہے۔ اس کے بعد صدقہ و خیرات، سخاوت و فیاضی اور رفاہی خدمت کی قیمت پڑتی ہے ورنہ ان خدمات کا کوئی صلہ اللہ کے یہاں سے نہیں ملے گا۔ ہاں ! یہ ضرور ہے کہ جو غیر مسلم رفاہی کاموں میں خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کے رزق میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی حاکمیت، الوہیت اور کبریائی کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بغیر ان کا سارا کیا کرایا ضائع ہوجائے گا اس کی کوئی قیمت نہیں پڑے گی۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ ان کے تمام رفاہی کاموں کا ضائع ہوجانا یہ اللہ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں بلکہ یہ وہ ظلم ہے جس کا ارتکاب خود وہ بندے کرتے ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ ان کا دل و دماغ بھی اللہ کی مخلوق ہے اور اسے اللہ نے اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے جسم کا انگ انگ بھی اللہ کی چاکری کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جب یہ لوگ اپنی جسمانی قوتیں اور دل و دماغ کی رعنائیاں غیر اللہ کے حوالے کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں کہ ان چیزوں کو اللہ نے پیدا اپنے لیے کیا تھا اور انھوں نے انھیں غیروں کے حوالے کردیا۔ یہی وہ ظلم ہے جس کا وہ خمیازہ بھگتتے ہیں ورنہ اللہ کی ذات تو رحیم و کریم ہے۔
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ بنائو اپنا راز دان باہر والوں کو وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ وہ پسند کرتے ہیں اس چیز کو جو تمہیں مشقت میں ڈالے۔ ظاہر ہوچکی ہے عداوت ان کے مونہوں سے۔ جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لاَ یَاْلُوْنَـکُمْ خَبَالاً ط وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ ج قَدْ بَدَتِ الْـبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ صلے ج وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ط قَدْبَیَّنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (اے ایمان والو ! نہ بنائو اپنا راز دان باہر والوں کو وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ وہ پسند کرتے ہیں اس چیز کو جو تمہیں مشقت میں ڈالے۔ ظاہر ہوچکی ہے عداوت ان کے مونہوں سے۔ جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں اگر تم سمجھ رکھتے ہو) (118) آیت میں چند الفاظ لغوی طور پر وضاحت طلب ہیں۔ بِطَانَـۃٌ کپڑے کا وہ حصہ جو اندر کی جانب ہوتا ہے اور جسم سے ملا ہوتا ہے اس کو بِطَانَـۃُ الثَّوْبِ کہتے ہیں۔ لحاف کے استر کو بِطَانَـۃٌ کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس آدمی کو جس پر کامل اعتماد اور بھروسہ ہو اور جسے آدمی اپنا ہمراز سمجھتا ہو اسے بھی بِطَانَـۃٌ کہا جاتا ہے۔ بِطَانَـۃٌ الرَّجُل سے آدمی کے اہل و عیال اور اس کے خواص مراد ہوتے ہیں۔ لاَ یَاْلُوْنَ کا معنی ہے وہ کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ لاَ یَاْلُوْ فِی الْاَمْرِ کا معنی ہے کسی معاملے میں کسر نہ اٹھا رکھنا۔ خَبَالاً جسمانی، عملی اور عقلی خرابی اور فساد کو خَبَالْ یا خَبَلْ کہتے ہیں۔ انصار اور یہود کے تعلقات کا پس منظر یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ اوس و خزرج کے لوگ مدینے کے یہود سے دیرینہ مراسم رکھتے تھے۔ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا اور اٹھنا بیٹھنا چلا آرہا تھا۔ یہود چونکہ اپنے دین کو تبلیغی دین نہیں سمجھتے اس لیے انھیں اس پر اصرار نہیں تھا کہ اوس و خزرج کے لوگ ان کا دین قبول کرلیں۔ اس طرح دینی معاملات میں دونوں فریق اپنی اپنی جگہ یکسو تھے۔ یہود چونکہ اہل کتاب اور صاحب علم تھے اس لیے اوس و خزرج اپنی بعض رسوم کی ادائیگی میں ان کی طرف رجوع کرتے، اپنے معاملات میں ان سے فیصلے کرواتے اور وہ چونکہ مالدار لوگ تھے اس لیے اپنی ضرورتوں کے تحت ان سے قرض بھی لیتے۔ دو اچھے ہمسایوں کے جیسے تعلقات ہوتے ہیں صدیوں سے ان میں قائم تھے۔ جب کبھی ان میں آپس میں تلخی ہوتی تو بعض یہودی علماء اوس و خزرج کو یہ کہہ کر ڈراتے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کی تشریف آوری کا وقت قریب آرہا ہے۔ ہم ان کے ساتھ مل کر تمہاری زیادتیوں کا تم سے انتقام لیں گے اور تمہیں اپنا مفتوح بنا کے رکھیں گے چناچہ جیسے ہی اہل مدینہ تک نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ کی اطلاع پہنچی انھوں نے آگے بڑھ کر اس خیال سے کہ یہود پہلے ایمان قبول کر کے نبی آخرالزماں ﷺ کے قریب نہ ہوجائیں ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ ہمیں آگے بڑھ کر آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آنا چاہیے۔ چناچہ چند سالوں میں ان دونوں قبیلوں کے بیشتر لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے اور پھر آپ ﷺ کو مدینہ طیبہ آنے کی دعوت دی۔ ان کی دعوت پر حضور ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے اور ایک اسلامی ریاست کو وجود بخشا۔ اب اوس و خزرج اس انتظار میں تھے کہ یہ یہود جس نبی کی آمد سے ہمیں ڈرایا کرتے تھے وہ اب تشریف لاچکے ہیں یہ یقینا آگے بڑھ کر ان کا دامن تھامنا چاہیں گے، لیکن ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے دیکھا کہ یہود تو آنحضرت ﷺ کی دشمنی پر تل گئے ہیں اور وہ انھیں بھی طریقے طریقے سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چناچہ مسلمانوں میں جو ذہین اور بیدار مغز لوگ تھے وہ تو یہود کی اصل حقیقت کو پہچان گئے لیکن عام لوگوں میں ابھی تک یہ خوش فہمی پائی جاتی تھی کہ یہود چونکہ اصحابِ علم ہیں اس لیے ہمیں ان کے علم سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چناچہ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر ان سادہ دل مسلمانوں کی خوش فہمی دور کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ آیات کریمہ میں ان کے چہرے سے پوری طرح نقاب کھینچ کر اتار دیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حکم دیا جا رہا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں یہود کے بارے میں یکسو ہوجانا چاہیے۔ ان سے دنیوی تعلقات رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ حالات اجازت دیں تو ان کے ساتھ کاروبار بھی کیا جاسکتا ہے۔ وہ اگر مسلمانوں کے ملک میں اسلامی مملکت کے باشندے بن کر رہیں یا مسلمانوں کے ساتھ کسی معاہدہ میں شریک ہوں تو ان کے حقوق کی پاسداری کرنا اسلام کی تعلیم ہے۔ اگر ان کے ساتھ ہمسائیگی ہو تو جس طرح مسلمان ہمسائے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جاتے ہیں اور مروت سے کام لیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ان سے بھی لیا جائے گا۔ اہلِ کتاب کو ہمراز نہ بنائو لیکن جہاں تک قلبی تعلقات اور ہمراز بنانے کا تعلق ہے یہ غلطی کبھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ ایک نظریاتی مملکت کا تمام تر انحصار اپنی نظریاتی قوت پر ہوتا ہے۔ ایک ایسا شخص یا ایک ایسی قوم جو اس نظریے کو نہ صرف قبول کرنے سے انکار کرے بلکہ ہر ممکن طریقے سے دشمنی کا راستہ اختیار کرے تو کوئی بھی نظریاتی قوم ایسے لوگوں کے ساتھ قلبی اور گہرے تعلقات نہیں رکھ سکتی کیونکہ اس سے نظریاتی قوت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ فاروق اعظم ( رض) سے کہا گیا کہ یہاں ایک غیر مسلم لڑکا ہے جو بڑا اچھا کاتب ہے۔ اگر اس کو آپ اپنا میرمنشی بنالیں تو بہتر ہوگا۔ اس پر فاروق اعظم نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : قَدْ اِتَّخَذْتُ اِذًا بِطَانَـۃً مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ( اگر میں ایسا کروں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے مسلمانوں کو چھوڑ کر دوسری ملت والے کو رازدان بنا لیا ہے) جو نص قرآن کے صریح خلاف ہے۔ یہود جیسی قوم جن کی دشمنی تاریخ کا حصہ ہے، ان کی ہمیشہ آرزو رہتی ہے کہ وہ تمہیں کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کریں۔ تم ان کی مجلسوں میں بیٹھ کر دیکھو تمہیں اندازہ ہوگا کہ ان کے ہزار چھپانے سے بھی ان کے اندر کا بغض چھپنے میں نہیں آتا۔ کسی نہ کسی بات کے حوالے سے اندر کی بات باہر آجاتی ہے۔ ان کے سینوں میں کینہ و بغض کی جو بھٹی سلگ رہی ہے تمہیں اس کا اندازہ نہیں۔ انفرادی معاملات میں بھی ایک غیر مخلص آدمی پر اعتماد کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ جہاں تک قومی معاملات کا تعلق ہے وہ چونکہ ملک و ملت کے اجتماعی مفاد سے متعلق ہوتے ہیں اس لیے ان میں کسی ایسے شخص یا ایسی قوم کے افراد کو اعتماد میں لینا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے قومی راز دوسروں تک پہنچتے ہیں اور دشمن ایسی باتوں سے باخبر ہوجاتا ہے جس کے بعد وہ بڑی آسانی سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پھر جب بھی اسے موقع ملتا ہے وہ نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی سادگی کا یہ عالم ہے کہ وہ انھیں اپنا ہمدرد و غمگسار سمجھتے ہیں اور ان کی باتوں کی کوئی نہ کوئی توجیہ کر کے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں مسلمانوں کی اسی سادگی اور ان کی عیاری سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
Ayah 3:119

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

یہ تمہی ہو کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور امر واقعہ یہ ہے کہ تم ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہہ دو ! تم اپنے غصے میں مر جائو، اللہ سینوں کے بھید سے خوب واقف ہے

ھٰٓـاَنْـتُمْ اُولَآئِ تُحِبُّوْنَـہُمْ وَلاَ یُحِبُّوْنَـکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْـکِتٰبِ کُلِّہٖ ط وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا صلے ق ج وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْـکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ط قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (یہ تمہی ہو کہ تم ان سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور امر واقعہ یہ ہے کہ تم ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ کہہ دو ! تم اپنے غصے میں مرجاؤ، اللہ سینوں کے بھید سے خوب واقف ہے) (119) مسلمانوں کی سادگی اور یہود کی عیاری ہٰٓـاحرف تنبیہ ہے۔ یہ ضمیر خطاب اور اُولَآئِ کے درمیان میں آئی ہے۔ اس طرح ہٰٓـا کا استعمال تاکید پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں نہایت مؤکّد انداز میں مسلمانوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ان کی دشمنی میں کوئی ابہام نہیں۔ وہ ہر شب ہے سے بلند ہے۔ اسی طرح تمہاری سادگی میں بھی کوئی کلام نہیں۔ ان کی بات بات سے دشمنی جھلکتی ہے اور ان کی کوئی بات ایسی نہیں جس سے ان کی دوستی پر دلیل لائی جاسکے۔ لیکن تمہاری سادگی کا کیا کہنا کہ تم اس کے باوجود ان سے دوستی کا دم بھرتے ہو حالانکہ تمہاری بہت سی باتیں ان کے لیے دوستی کی دلیل بن سکتی ہیں۔ لیکن وہ تمہاری بڑی سے بڑی بات کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں اور جو انھوں نے طرز عمل اپنا لیا ہے اس میں تبدیلی کے لیے آمادہ نہیں۔ اب تک جتنی کتابیں ان پر نازل ہوئی ہیں۔ تم سب پر ایمان رکھتے ہو بلکہ اب تمہارا ایمان قرآن کریم پر ہے جو درحقیقت مکمل کتاب ہے۔ اس سے پہلے دنیا میں اترنے والی کتابیں اسی کتاب کے اجزاء ہیں۔ جو مختلف قوموں کو عطا ہوئے۔ اس لیے قرآن کریم نے تورات کو کتاب کا ایک حصہ قرار دیا۔ یہود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ (کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا) اس سے مراد یہودی ہیں جنھیں بظاہر پوری کتاب دی گئی۔ لیکن حقیقت میں وہ کتاب قرآن کریم کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح باقی کتابیں بھی قرآن کریم کے اجزاء ہیں۔ ہر دور میں اور ہر قوم پر اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی کتاب یا صحیفہ اترتا رہا ہے اور وہ ان کی ضرورت کے لیے کافی ہوتا تھا۔ جب انسانیت بلوغ کی عمر کو پہنچ گئی تو انسان کو ایک مکمل کتاب سے نوازا گیا، جو قیامت تک ان کی ضرورتوں کے لیے کافی ہوگی۔ چناچہ یہاں یہی فرمایا گیا ہے کہ تم تو ایک مکمل کتاب پر ایمان رکھتے ہو اور انھیں کتاب کے اجزاء دیے گئے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ نئے تقاضوں اور ضرورتوں کے تحت اس مکمل کتاب کی قدر کرتے۔ اس پر ایمان لاتے اور اسلام اور مسلمانوں سے مخلصانہ تعلق قائم کرتے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تم اپنے پاس مکمل کتاب رکھتے ہوئے بھی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو اور وہ ایک نامکمل کتاب اور محرف کتاب رکھتے ہوئے بھی تمہاری دوستی کے جواب میں دشمنی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ ہر قدم پر تمہیں دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو تم سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور جب وہ آپس میں علیحدہ ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پاک ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ تم ان کی دوستی کے فریب میں مت آئو۔ یہ تمہاری دشمنی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اس لیے بجائے ان سے دوستی کرنے کے ان سے کہو کہ ہم تمہارا اصل چہرہ دیکھ چکے ہیں۔ اس لیے اب ہم کسی فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں تم اپنے غیظ و غضب سے اگر نکل نہیں سکتے تو پھر اسی میں مر رہو یہی تمہارا انجام ہے۔ تم ہمیں تو سخن سازی سے دھوکا دے سکتے ہو لیکن اس کا کیا کرو گے کہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے بھیدوں کا جاننے والا ہے۔
Ayah 3:120

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے کھل اٹھتے ہیں اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کی کوئی تدبیر تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے)

اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ ز وَاِنْ تُصِبْـکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّـفْرَحُوْا بِہَا ط وَاِنْ تُصْبِرُوْا وَتَـتَّـقُـوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُ ہُمْ شَیْئًا ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ ع (اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے کھل اٹھتے ہیں اور اگر تم صبر کرو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ان کی کوئی تدبیر تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے) (120) یہود سے ہوشیار رہنے کی ہدایت اس آیت کریمہ میں یہود کے بارے میں آخری بات فرمائی گئی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کی کیسی ہی دشمن کیوں نہ ہو لیکن وضع دار افراد کی طرح وضعدار قومیں بھی اپنی وضع کا بھرم قائم رکھنے کے لیے ایسے تعلقات ضرور رکھتی ہیں جس سے باہمی مفادات کسی نہ کسی حد تک قائم رہتے اور بعض دفعہ پروان بھی چڑھتے ہیں۔ لیکن ان بدبختوں کا حال تو یہ ہے کہ تمہیں اگر کوئی خوشی میسر آتی ہے یا کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو ان سے وہ بھی گوارا نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ اگر کوئی مصیبت پڑتی ہے، کوئی نقصان ہوتا ہے، کوئی ارضی و سماوی آفت آتی ہے تو یہ اس سے نہایت شاداں وفرحاں ہوتے ہیں۔ اندازہ فرمایئے ! کس طرح ایک ترتیب سے پروردگار نے قوم یہود کو مسلمانوں کے سامنے تعلقات کے حوالے سے بالکل کھول کے رکھ دیا ہے۔ ذرا اس ترتیب کو ملاحظہ فرمایئے : 1 وہ ہر ممکن طریقے سے تمہیں نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں اور کوئی سی خرابی کی بھی ان سے امید کی جاسکتی ہے۔ 2 تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی آرزو پوری ہوگئی۔ گویا ان کی تمنائوں میں بھی دشمنی گھر کرچکی ہے۔ 3 وہ مانے ہوئے سخن ساز اور ڈپلومیٹ ہیں۔ کبھی دل کی بات زبان پر نہیں آنے دیتے۔ لیکن مسلمانوں کی دشمنی ان کی ایک ایسی کمزوری بن گئی ہے کہ ہزار چھپائے بھی چھپتی نہیں بلکہ کہیں نہ کہیں ان کے منہ سے نکل جاتی ہے۔ رہی وہ دشمنی جن سے ان کے سینے آباد ہیں اس کی تو انتہا ہی کوئی نہیں۔ 4 پالیسی ساز ادارے تو ایک طرف رہے عام افراد کا حال بھی یہ ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے تمہیں بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے ایمان کا یقین دلاتے ہیں۔ لیکن جب آپس میں علیحدہ ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تمہارے خلاف انگلیاں کاٹتے ہیں۔ 5 قوموں کی ظاہر داری یا نام نہاد وضع داری بھی ان کی دشمنی پر قربان ہوچکی ہے وہ بہرصورت دشمنی پہ جیتے اور دشمنی پہ مرتے ہیں۔ ایک ایسی قوم کہ جس کی قومی زندگی پر یہ پانچ باتیں غالب ہوں اور وہ مسلمانوں کے حوالے سے ان کمزوریوں کے حامل بن چکے ہیں کیا مسلمانوں کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ؟ چناچہ جب یہ تفصیلات عہد نبوت کے مسلمان کے سامنے آئیں تو انھوں نے یہود سے ہر طرح کے تعلقات منقطع کرلیے کیونکہ انھیں بہرصورت اسلام کا مفاد عزیز تھا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے مقابلے میں کسی کی محبت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ لیکن آج کا مسلمان وہ اپنے دشمنوں کے بارے میں اس سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ ” کروسیڈ “ کا لفظ کتنی دفعہ ان کی زبانوں سے ابل چکا ہے اور ان کی تلواریں ہر جگہ مسلمانوں کا خون پینے پر مصر ہیں۔ ان کی پالیسیاں مسلمانوں کو ختم کرنے کی غماز ہیں۔ وہ مسلمانوں کے ایک ملک کو دوسرے مسلمان ملک کے خلاف استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ بر و بحر میں انھوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ با ایں ہمہ ! ہم ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے پر مصر ہیں۔ وہ قدم قدم پر زہر اگل رہے ہیں۔ ہم اسے اپنے لیے آب حیات سمجھتے ہیں۔ ؎ بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی ہے بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں آیتِ کریمہ کے آخر میں دشمنانِ دین کا عموماً اور یہود کی دشمنی سے بچنے کا خصوصاً ایک علاج تجویز کیا گیا ہے اور اس علاج کے نتیجے میں مکمل ضمانت دی گئی ہے کہ ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی اور وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ نسخہ نہایت مختصر ہے لیکن نہایت مجرب۔ جب بھی مسلمانوں نے اللہ کے عطا کردہ اس نسخہ شفا کو آزمایا ہے تو اللہ نے انھیں ہمیشہ دشمن کی ہر تدبیر سے بچایا اور ہر مصیبت سے شفا بخشی ہے۔ وہ نسخہ یہ ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے دشمنوں کی کوئی تدبیر، کوئی منصوبہ اور کوئی چال تمہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اب ہم دونوں الفاظ کی الگ الگ وضاحت کرتے ہیں۔ صبر کا مفہوم صبر کا معنی ہے ” اڑ جانا، ثابت قدم رہنا، رک جانا، مضبوطی سے اپنے مؤقف پر قائم رہنا اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرنا۔ “ اہل علم نے اسے تین دائروں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کا پہلا دائرہ ” اطاعت “ ہے۔ 1 صَبَرْعَلَی الطَّاعَاتِ اس لحاظ سے صبر کا معنی ہے صَبَرْ عَلَی الطَّاعَاتِ (اللہ کے احکام اور اس کی عطا کردہ ہدایات پر مضبوطی سے عمل کرنا اور قائم رہنا) اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے اور زندگی کا ہر شعبہ اس میں سمٹ جاتا ہے۔ عبادات بھی اس میں شامل ہیں، معاشرت اور معیشت بھی، سیاست اور حکومت بھی، فرائض اور حقوق بھی اور قومی اور بین الاقوامی آداب بھی۔ ان تمام حوالوں سے پروردگار نے جو شریعت عطا فرمائی ہے اور ہر ایک کے بارے میں جو احکام دیے ہیں ان میں سے ہر حکم پر پابندی سے عمل کرنا اور حالات چاہے اجازت دیں یا نہ دیں ہرحال میں اس پر ثابت قدم رہنا یہ صَبَرْ عَلَی الطَّاعَاتِ ہے اور یہ مومن کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ 2 صَبَرْعَنِ الْمَعْصِیَاتِ دوسرا ہے صَبَرْ عَنِ الْمَعْصِیَاتِ آدمی کا نفس، اس کی خواہشات، اس کی آرزوئیں اور اس کے مفادات جب اللہ کی نافرمانی پر اکسائیں اور ایسے کام کرنے پر مجبور کریں جنھیں اللہ کی شریعت نے روکا ہے اور شیطان پوری طرح دلوں میں یہ بات ڈال دے کہ اگر تم اللہ کے احکام پر چلتے رہے تو تمہاری زندگی دکھوں میں گزرے گی، تم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلا سکو گے۔ تم ساری عمر کرائے کے مکان میں گزارا کرو گے۔ اگر تم آسائش اور آرام کی زندگی چاہتے ہو تو پھر شریعت کی پابندیوں کو کچھ نہ کچھ ڈھیلا کرنا پڑے گا کیونکہ آج کے دور میں اپنے آپ کو ہر طرح سے بچا کے رکھنا ممکن نہیں۔ تمہارے گردو پیش میں سب رشوت لے رہے ہیں۔ سارے اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اب لوگوں کی نگاہ میں عزت ان لوگوں کی ہے جن کے پاس پیسہ اور لمبی کار ہے۔ اس آدمی کی کوئی عزت نہیں جو سائیکل پہ آتا جاتا اور شریعت کی حدود میں سمٹ کر رہتا ہے۔ ایسے بہلاو وں اور ایسے بہکاو وں کے مقابلے میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور نہایت پابندی سے حالات کا مقابلہ کرنا، نہ گناہوں کو قریب آنے دینا اور نہ گناہوں کے قریب جانا یہ صَبَرْ عَنِ الْمَعْصِیَاتِ ہے۔ 3 صَبَرْعَلَی الْمَصَائِبِ تیسرا ہے صَبَرْ عَلَی الْمَصَائِبِ آدمی صراط مستقیم پر چلنے کا فیصلہ کرلے اور پختہ تہیہ کرلے کہ میں کسی حرام چیز کے قریب نہیں جاؤں گا اور مجھے بہرصورت حلال کمانا اور بچوں کو حلال کھلانا ہے اور اگر مجھ سے غلط کام لینے کی کوشش کی گئی تو میں کسی طرح اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ وہ روش ہے جس کے مقابلے میں مصیبتیں سر اٹھاتی ہیں۔ ایک شریف آدمی کا جینا دوبھر کردیا جاتا ہے۔ بیوی کی فرمائشیں اور ہر فرمائش کے ساتھ آنکھوں میں جھلملاتے آنسو زندگی ویران کردیتے ہیں۔ بچوں کو دائیں بائیں سے بہکایا جاتا ہے کہ تمہارا باپ اگر چاہے تو تمہارے لیے زندگی کی ہر آسائش مہیا کرسکتا ہے۔ تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح پر تعیش زندگی گزار سکتے ہو۔ اولاد ان باتوں سے متأثر ہو کر اپنے آپ کو محروم سمجھ کر باپ کے سامنے محرومی کا رونا روتی ہے۔ بچوں کی آنکھوں سے ابلتا ہوا ایک ایک آنسو باپ کے دل و دماغ کے لیے انگارہ بن جاتا ہے۔ سخت سے سخت دل باپ بھی ڈولنے لگتا ہے اور اس کا دل مجبور کرتا ہے کہ بچوں کی محرومیوں کے ازالے کے لیے کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔ یہ اور اس طرح کے اور مصائب ہیں جو آدمی کو ہلا ڈالتے ہیں۔ ایسے تمام مصائب پر حوصلہ مندی سے صبر کرنا ایک مومن کی شان ہے اور یہاں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ اللہ کے احکام پر پوری توانائی کے ساتھ عمل کرنا اور زندگی کی کسی اور بات کو کبھی اس پر ترجیح نہ دینا اور اس کی نافرمانی کو کبھی قریب بھی نہ پھٹکنے نہ دینا۔ اس راستے پر چلتے ہوئے مصائب کے طوفان اٹھیں گے، ان کے سامنے پہاڑوں جیسے عزم و استقلال کے ساتھ ڈٹے رہنا، ہر دکھ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا، ہر محرومی کو اللہ کی جانب سے آزمائش سمجھنا، لوگوں کے سارے اکساو وں اور بہلاو وں کے باوجود اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھنا اور آخرت میں اللہ کے انعامات کا یقین رکھنا یہ وہ طرز زندگی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی ضمانت دی ہے۔ یہی طرز زندگی اور آخرت میں اللہ کے انعامات پر یقین، جب دل کی آرزو اور دل کی پکار بن جائے تو اسے تقویٰ کہتے ہیں۔ تقویٰ کا مفہوم تقویٰ اصل میں ” وقویٰ “ ہے، جس کا معنی ہے بچنا، پرہیز کرنا اور لحاظ کرنا۔ لیکن اصطلاحِ شریعت میں دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ حاضر و ناظر ہونے کا یقین پیدا کر کے دل میں خیر و شر کی تمیز کی خلش اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کردیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ضمیر کے اس احساس کا نام ہے جس کی بنا پر ہر کام میں خدا کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید رغبت اور اس کی مخالفت سے شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ ہے جو حضرت ابی ٔ ابن کعب ( رض) سے منقول ہے۔ حضرت عمر ( رض) نے ان سے پوچھا ” تقویٰ کسے کہتے ہیں ؟ “ انھوں نے فرمایا ” امیر المؤمنین آپ کو کبھی ایسے راستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں اور راستہ تنگ ہو ؟ “ حضرت عمر ( رض) نے فرمایا ” بارہا۔ “ انھوں نے پوچھا ” تو ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں ؟ “ حضرت عمر ( رض) نے جواب دیا ” میں دامن سمیٹ لیتا ہوں اور کپڑے اوپر اڑس لیتا ہوں اور نہایت احتیاط کے ساتھ کھلی آنکھوں سے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہوا چلتا ہوں کہ کانٹے دامن میں الجھ کر اسے تار تار نہ کردیں۔ “ حضرت ابی ٔ ( رض) نے کہا ” بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔ “ زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کر رہا ہے دونوں طرف افراط وتفریط، خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات کی گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خاردار جھاڑیوں سے بھرا ہوا ہے اس راستے پر کانٹوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعتِ حق کی راہ سے ہٹ کر بداندیشی و بدکرداری کی جھاڑیوں میں نہ الجھنا، یہی تقویٰ ہے۔ صبر کے ساتھ جب یہ قوت شامل ہوتی ہے تو ایک ایسا مضبوط کردار مومن کے اندر جنم لیتا ہے جس کے مقابلے میں کفر اور اس کی پیدا کردہ مشکلات خس و خاشاک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم یہود کے مقابلے میں صبر اور تقویٰ کی تصویر بن جاؤ تو تمہارا ایک ایک عمل ایک چراغ کی طرح چمک اٹھے گا اور تم دیکھو گے کہ راستے کے اندھیارے کس طرح روشنی میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور تمہاری قربانیاں کس طرح تمہارے مصائب کو سمیٹنے لگتی ہیں۔ تمہارے اعمال اگر ایک طرف انسانوں کو راہ راست کی طرف کھینچیں گے تو دوسری طرف اللہ کی نصرت و تائید تمہارے شامل حال ہوگی۔ تمہارا اپنے اللہ پر یقین روز بروز بڑھتا جائے گا۔ تم محسوس کرو گے کہ میں ایک مضبوط حصار میں ہوں جسے کوئی وقت کا طوفان مسمار نہیں کرسکتا۔ بڑے سے بڑا دشمن تمہیں راہ راست سے ہٹانے میں ناکام رہے گا۔ تم بجائے سراسیمہ ہونے کے اللہ پر اعتماد کی وجہ سے قوت اور طاقت کا سرچشمہ بن جاؤ گے۔ کوئی بڑی سے بڑی دھمکی تمہیں راہ راست سے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔ ایسے افراد پر مشتمل جب ایک جماعت یا قوم تیار ہوتی ہے تو ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے کہ جس سے ٹکرانا سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے لیے زندگی اور موت بےمعنی لفظ بن جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر اللہ کی رضا، اس کے دین کی بالادستی اور اس کے بندوں کی خدمت کے سوا کوئی اور ایسا مقصد نہیں ہوتا جسے وہ ان مقاصد پر ترجیح دے سکیں۔ وہ زندہ رہتے ہیں تو اسی مقصد کی توانائی کے لیے اور وہ مرتے ہیں تو اسی مقصد کی آبیاری کے لیے۔ مقصد کے یہ وفادار لوگ ایسے لوگوں کے ساتھ کبھی گہرے اور محبت کے تعلقات استوار نہیں کرسکتے جنھیں ان کے مقصد سے تعلق کی بجائے دشمنی ہو۔ دشمن چاہے کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو وہ چونکہ اپنے اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح ہمیں دیکھ رہا ہے اسی طرح ہمارے دشمنوں اور ان کی تمام منصوبہ بندیوں کو بھی گھیرے ہوئے ہے۔ اس لیے ہمارا بڑے سے بڑا دشمن بھی ہمیں ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتا جس سے ملی تشخص کے بےآبرو ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے۔
Ayahs 3:121–122

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب اے پیغمبر تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، بٹھا رہے تھے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب ارادہ کیا تم میں سے دو جماعتوں نے کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَلِلْقِتَالِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لا اِذْہَمَّتْ طَّـآئِفَتٰنِ مِنْـکُمْ اَنْ تَفْشَلاَ لا وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اور اس وقت کو یاد کرو جب اے پیغمبر تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے، بٹھا رہے تھے مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ جب ارادہ کیا تم میں سے دو جماعتوں نے کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ تعالیٰ دونوں کا مددگار تھا اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں) (121 تا 122) غزوہ احد کے واقعات پر تبصرہ مسلمانوں کی فتح و نصرت کے لیے گزشتہ آیت کریمہ میں صبر اور تقویٰ کو لازمی شرط اور ضمانت کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ جنگ احد میں چونکہ مسلمانوں کو بظاہر شکست سے دوچار ہونا پڑا اس لیے ضرورت پیدا ہوئی کہ یہ دیکھا جائے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت چونکہ ان دو صفات پر مدار رکھتی ہیں تو کیا جنگ احد میں ان میں کہیں کمی واقع تو نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اتنا بڑا واقعہ پیش آیا۔ جنگ احد کا واقعہ چونکہ ان آیات کے نزول کے زمانے ہی میں پیش آیا ہے اس لیے اس جنگ کے وقوع اور ان آیات کے نزول نے ایک تقریب پیدا کردی جس کی وجہ سے قرآن کریم نے پیش نظر آیت کریمہ سے جنگ احد کے حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے ایک تمہید اٹھائی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ جنگ احد میں مسلمان اتنے بڑے نقصان سے دوچار کیوں ہوئے۔ تمہید میں آنحضرت ﷺ کے جنگ کی خاطر گھر کے نکلنے سے واقعات کا آغاز کیا گیا ہے۔ جنگ بدر کو گزرے ایک سال کا عرصہ ہوا تھا۔ لیکن یہ سال قریش نے انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزارا تھا۔ ان کے لیے مسلمانوں کے ہاتھوں یہ شکست ایک ایسا المیہ تھا جسے وہ کبھی نہیں بھول سکتے تھے۔ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمانوں جیسی کمزور طاقت سے وہ اتنے بڑے حادثے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ چناچہ جیسے ہی ان کا شکست خوردہ لشکر واپس مکہ پہنچا تو انھوں نے اعلان کردیا کہ کوئی شخص اپنے مقتولوں پر رونے کی غلطی نہ کرے تاکہ یہ صدمہ آنسوئوں میں تحلیل نہ ہوجائے۔ چناچہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کا یہ صدمہ آتش انتقام کو بڑھکاتا چلا گیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ جنگ بدر سے پہلے جو قافلہ تجارت ایک بڑے نفع کے ساتھ واپس آیا تھا وہ سارا نفع تقسیم کرنے کی بجائے اس جنگ کا انتقام لینے پر صرف کیا جائے۔ چناچہ وہ جنگ کے دوسرے ہی سال یعنی شوال 3 ہجری میں تین ہزار کا لشکر جرار لے کر نکلے اور جوش حمیت کو تیز کرنے کے لیے ان کی عورتیں بھی ساتھ آئیں جن کی قیادت ابو سفیان کی بیوی ہند کر رہی تھی۔ آنحضرت ﷺ کو حضرت عباس ( رض) نے اس ساری نقل و حرکت اور جنگی تیاریوں سے متعلق پوری تفصیلات لکھ بھیجیں۔ حضرت عباس ( رض) کے قاصد نے پانچ سو (500) کلومیٹر کی مسافت صرف تین دن میں طے کر کے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری دی۔ جب قریش کا لشکر احد کے میدان میں پہنچ گیا تو آپ ﷺ نے اکابر مسلمانوں کی مجلسِ شوریٰ طلب کی۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے اپنا خواب بیان فرمایا کہ واللہ ! میں نے ایک بھلی چیز دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح کی جا رہی ہیں اور میں نے دیکھا کہ میری تلوار کے سرے پر کچھ شکستگی ہے اور یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ زرہ میں داخل کیا۔ پھر آپ ﷺ نے گائے کی یہ تعبیر فرمائی کہ کچھ صحابہ قتل کیے جائیں گے۔ تلوار میں شکستگی کی یہ تعبیر بتلائی کہ آپ کے گھر کا کوئی آدمی شہید ہوگا اور محفوظ زرہ کی یہ تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد شہر مدینہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے دفاعی حکمت عملی کے متعلق اپنی رائے پیش کی کہ مدینے سے باہر نہ نکلیں بلکہ شہر کے اندر ہی قلعہ بند ہوجائیں۔ اب اگر مشرکین اپنے کیمپ میں مقیم رہتے ہیں تو بےمقصد ہوگا اور اگر مدینے میں داخل ہوتے ہیں تو مسلمان گلی کو چے کے ناکوں پر ان سے جنگ کریں گے اور عورتیں چھتوں کے اوپر سے ان پر خشت باری کریں گی۔ یہی صحیح رائے تھی اور اسی رائے سے عبداللہ بن ابی ٔ رئیس المنافقین نے بھی اتفاق کیا جو اس مجلس میں خزرج کے ایک سر کردہ نمائندہ کی حیثیت سے شریک تھا۔ جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جنگ سے دور بھی رہے اور کسی کو اس کا احساس بھی نہ ہو۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا اس نے چاہا کہ یہ شخص اپنے رفقاء سمیت پہلی بار رسوا ہوجائے اور مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کی آستین میں کتنے سانپ رینگ رہے ہیں۔ چناچہ نوجوان صحابہ کی ایک جماعت نے جو شوق شہادت سے بےتاب ہو رہے تھے اس بات پر اصرار کیا کہ میدان میں نکل کر مقابلہ کیا جائے۔ بعض صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم تو اس دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ سے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اب اللہ نے یہ موقع فراہم کردیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آگیا ہے تو پھر آپ دشمن کے مدمقابل ہی تشریف لے چلیں، وہ یہ نہ سمجھے کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ ان گرم جوش حضرات میں خود رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ( رض) سرفہرست تھے جو معرکہ بدر میں اپنی تلوار کے جوہر دکھا چکے تھے۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ ” اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی میں کوئی غذا نہ چکھوں گا یہاں تک کہ مدینے سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے ان سے دو دو ہاتھ کرلوں۔ “ چناچہ کثرت رائے کے پیش نظر حضور ﷺ نے بھی اسی فیصلے سے اتفاق فرمایا اور خود زرہ پہن کر گھر سے باہر تشریف لائے اور ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ 6 شوال بروزجمعہ 3 ہجری عصر کے بعد مدینہ طیبہ سے احد کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے شیخان نامی ایک مقام پر پہنچ کر لشکر کا معائنہ فرمایا، جو لوگ چھوٹے یا ناقابلِ جنگ نظر آئے انھیں واپس کردیا۔ لشکر کی تیاری میں چونکہ شام ہوچکی تھی لہٰذا آپ ﷺ نے یہیں مغرب اور پھر عشاء کی نماز پڑھی اور یہیں رات بھی گزارنے کا فیصلہ فرمایا۔ پچاس صحابہ پہرہ دینے کے لیے منتخب فرمائے جن کے قائد محمد بن مسلمہ انصاری ( رض) تھے۔ طلوعِ فجر سے کچھ پہلے آپ ﷺ پھر آگے بڑھے اور مقام شوط پر پہنچ کر فجر کی نماز ادا فرمائی۔ اب آپ ﷺ دشمن کے بالکل قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہیں پہنچ کر عبداللہ بن ابی ٔ نے دھوکا دیا اور اپنے تین سو ہمراہیوں کے ساتھ الگ ہوگیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا کیونکہ اب مسلمانوں کی تعداد کفار کی تعداد سے چوتھائی سے بھی کم ہوگئی۔ اس نے علیحدگی کا بہانہ یہ کیا کہ چونکہ ہماری بات نہیں مانی گئی ہم اندر رہ کر مدینے کی مدافعت کرنا چاہتے تھے اس لیے اب ایسی لڑائی میں ہم شریک نہیں ہوسکتے جو صریحاً خودکشی کے مترادف ہے حالانکہ اس کا یہاں تک مسلمانوں کے ساتھ چلے آنا بجائے خود اس بات کی دلیل تھا کہ اس کا بہانہ غلط ہے۔ وہ محض اپنی سازش پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ ایسے نازک موقع پر بعض لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش بھی کی، انھیں میں حضرت جابر ( رض) کے والد حضرت عبداللہ ابن حرام ( رض) نے بھی انھیں ہر ممکن طریقے سے ان کا فرض یاد دلایا۔ لیکن وہ جو کچھ کہتے رہے قرآن کریم نے یہ کہہ کر اس کا پردہ چاک کیا : یَقُولُوْنَ بِاَفْوَاہِہِمْ مَا لَیْسَ فِیْ قَلُوْبِہِمْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَـکْتُمُوْنَ (وہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے) اس نے یہ سازش اپنے ساتھیوں سے مل کر اس لیے کی تھی کہ ہم جب عین وقت پر مسلمانوں کا ساتھ چھوڑیں گے تو یقینا اس کا اثر دوسرے لوگوں پر بھی پڑے گا۔ وہ یا تو ہمارا ساتھ دیں گے اور یا حوصلہ ہار جائیں گے۔ وہ کسی حد تک اپنے ارادوں میں کامیاب ہونے ہی والے تھے کہ اللہ نے ان کی چال ناکام کردی۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ آیت میں دو گروہوں کا تذکرہ اس آیت کریمہ میں جن دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ وہ قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ ہیں۔ ان دونوں گروہوں میں منافقین کی پسپائی کی وجہ سے کچھ کمزوری کے آثار پیدا ہوئے اور وہ بھی واپس جانے کے بارے میں سوچنے لگے۔ لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو سنبھالا اور ان کے اندر جو اضطراب پیدا ہوا تھا اسے دور فرما دیا۔ اگر اللہ انھیں سہارا نہ دیتا تو بہت ممکن تھا کہ یہ لوگ ہمت ہار جاتے لیکن اللہ نے فرمایا کہ اللہ ان کا ولی ہے یعنی کارساز ہے، غمگسار ہے اور سہارا دینے والا ہے۔ ان کے اندر بےہمتی کا اثر ایک وقتی بات تھی اور یہ بڑے سے بڑے صاحب ایمان میں بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اپنے گزشتہ اعمال اور قربانیوں کے باعث وہ اللہ کی ولایت کے مستحق بن چکے تھے اس لیے اللہ نے بروقت ان کو سنبھالا اور ساتھ ہی یہ بات فرمائی کہ جب اللہ کسی کا سہارا بن جاتا ہے تو پھر ساری دنیا بھی مخالف ہوجائے تو اسے ڈولنے اور ہراساں ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اللہ کی طاقت کے مقابلے میں صفر ہے۔ جس شخص کو اس بات کا یقین ہو کہ اللہ میرا کارساز ہے، اس کے لیے پھر ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ہر بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی اپنے اللہ پر بھروسہ کرے کیونکہ صاحب ایمان لوگ غیر اللہ پر نہیں اللہ ہی پر بھروسہ کیا کرتے ہیں۔ چناچہ ان دونوں گروہوں نے بھی اللہ پر بھروسہ کیا اور نہایت پامردی کے ساتھ دشمن کے خلاف مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ آیت کریمہ میں چونکہ ان کی بےہمتی کا ذکر ہوا ہے اور یہ قیامت تک پڑھا جائے گا۔ اس لیے جب بھی اس آیت کی تلاوت ہوتی تو ان دونوں گروہوں کے لوگوں کو نہایت شرمساری ہوتی۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم اپنی کمزوری پر اللہ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، لیکن ہمارے لیے یہ اعزاز کیا کم ہے کہ پروردگار نے اپنی ذات کو ہمارا ولی قرار دیا ہے۔ یہ اتنے بڑے فخر کی بات ہے کہ جس میں کوئی شریک وسہیم نہیں۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہاری مدد بدر میں بھی کی جبکہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار رہ سکو

وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّاَنْتُمْ اَذِلَّـۃٌ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (اور اللہ نے تمہاری مدد بدر میں بھی کی جب کہ تم نہایت کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اس کے شکر گزار رہ سکو) (123) غزوہ بدر سے استدلال گزشتہ آیت کریمہ میں آخر میں فرمایا کہ صاحب ایمان لوگوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس بھروسے کے نتیجے میں کیا ملتا ہے ؟ اور کیسے کچھ انعامات اللہ کی جانب سے اترتے ہیں ؟ اس کے لیے جنگ بدر کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی اَذِلَّـۃٌ کا لفظ بول کر اس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی وہ بھی مسلمانوں کے سامنے رکھ دی۔ اَذِلَّـۃٌ ذلیل کی بھی جمع ہے اور ذلول کی بھی۔ یہ لفظ عزیز کے مقابل استعمال ہوتا ہے۔ عزیز کے معنی ہیں، غالب، زور آور اور دوسروں کی دسترس سے باہر۔ اس کے متضاد کے طور پر ذلیل کے معنی ہیں کمزور، ناتواں اور دوسروں کے لیے لقمہ تر۔ جس معنی میں ہم ذلیل کا لفظ اردو میں بولتے ہیں عربی میں جب یہ عزیز کے متضاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو پھر اس کا وہ معنی نہیں ہوتا یعنی اسے اخلاقی طور پر کمزور اور کمینے آدمی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس آدمی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو یا تو کمزور ہو یا نہایت نرم خو اور سہل الحصول ہو۔ سورة مائدہ میں مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا گیا : اَذِلَّـۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْـکَافِرِیْنَ (وہ مسلمانوں کے لیے نہایت نرم اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہیں) اگر کافر انھیں اپنی خواہشات کے لیے استعمال کرنا چاہیں تو وہ پتھر کی چٹان ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے وہ ریشم سے بھی زیادہ نرم اور پھول کی پتی سے زیادہ نازک ہیں۔ تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں اس وقت تمہاری مدد کی جب تم انتہائی کمزور تھے۔ تعداد بھی کم تھی اسلحہ جنگ نہ ہونے کے برابر تھا اور تمہارا مقابل ہر اعتبار سے ایسا تھا کہ اس کے شکست کھا جانے کی کوئی شخص بھی توقع نہیں کرسکتا تھا۔ ایسے ناموافق حالات میں اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا ہے تو اب کیوں نہیں کرے گا۔ اس لیے تمہیں منافقین کے الگ ہوجانے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ پر تمہارا توکل اور بڑھ جانا چاہیے۔
Ayahs 3:124–125

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

یاد کرو ! جب اے پیغمبر ! تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے اور دشمن تمہارے اوپر اچانک آدھمکے تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا جو اپنے خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّـکُمْ بِثَـلٰـثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ ۔ ط بَلٰی لا اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِہِمْ ھٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّـکُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔ (یاد کرو ! جب اے پیغمبر ! تم مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار تازہ دم فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے۔ ہاں اگر تم ثابت قدم رہو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے اور دشمن تمہارے اوپر اچانک آدھمکے تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا جو اپنے خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے) (124 تا 125) قرآن کریم نے اس منظر کی مسلمانوں کو یاد دلائی ہے جب وہ منافقین کی علیحدگی سے پریشان اور متاثر ہو رہے تھے تو اللہ کے رسول نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا تم ان تین سو کی پروا نہ کرو اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے۔ اس کی قوتیں بےپناہ ہیں۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ تین سو آدمیوں کی جگہ وہ تین ہزار فرشتوں کو بھیج دے اور فرشتے بھی ایسے آئیں جو تازہ دم ہوں۔ وہ کارکنانِ قضا و قدر جو زمین پر اپنے فرائض انجام دینے میں لگے رہتے ہیں انھیں ادھر سے ہٹا کر تمہاری مدد کے لیے نہیں بھیجا جائے گا بلکہ تازہ دم فرشتے آسمان سے اتارے جائیں گے۔ یہ بات صرف مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے کہی جا رہی ہے کہ افرادی قوت انسانوں کے لیے یقینا ایک حوصلے کا سامان ہے۔ اس لیے ان کی کمی بیشی انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن جن کے پیچھے اللہ کی قوت کارفرما ہو انھیں ہرگز پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ تم تین سو آدمیوں کے جانے سے پریشان ہو اللہ تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری پریشانی کا ازالہ فرما دیں گے۔ پروردگار نے اس کی تائید فرماتے ہوئے اس خوشخبری کو مؤکد بنادیا کہ تین ہزار تو ایک طرف رہے ہم تو پانچ ہزار بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہی دو شرطیں جن کا ذکر آغاز کلام میں ہوا یعنی صبر اور تقویٰ ۔ اگر ان میں کمی نہ آنے دی جائے بلکہ اس کا معیار پہلے سے بھی بہتر ہوجائے اور دوسری یہ بات کہ دشمن اچانک مسلمانوں پر حملہ کر دے۔ ایسی صورت حال میں یقینا زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضرورت کو پروردگار فرشتوں کے ذریعے پوری فرمائیں گے اور یہ پانچ ہزار فرشتے وہ ہوں گے جو اللہ کے یہاں نہایت قدرومنزلت کے مالک ہیں۔ مُسَوِّمِیْنَ کے لفظ سے ان کے قدرومنزلت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لفظ سَامَۃٌ یا سِیْمَۃٌ سے بنا ہے۔ اس کا معنی ” علامت “ ہوتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتے اپنی مخصوص علامت کے باعث باقی فرشتوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی عزت و وجاہت اور اللہ کے یہاں قرب کا کیا کہنا کہ ان کی مدد کے لیے جو فرشتے بھیجے جاتے ہیں وہ بھی نہایت قدرومنزلت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کی عزت افزائی مقصود ہے۔ لیکن ساتھ ہی اگلی آیت کریمہ میں ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جس سے مسلمانوں کو ایک بہت بڑی غلط فہمی اور عقیدے کی خرابی سے بچانا مقصود ہے۔