3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

(کہہ دیجیے ! اے اہل کتاب ! آئو اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ بنائے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا پھر اگر وہ روگردانی کریں اس سے تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں

قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ م بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّااللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (کہہ دیجیے ! اے اہل کتاب ! آئو اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں مشترک ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں اور نہ بنائے کوئی ہم میں سے کسی کو رب اللہ کے سوا، پھر اگر وہ روگردانی کریں اس سے تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں) (64) اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ اہل کتاب کو ہے جن میں نصاریٰ اور یہود دونوں شامل ہیں، لیکن سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اصل روئے سخن نصاریٰ ہی کی طرف ہے۔ گزشتہ آیات میں دلائلِ قاطعہ سے ان کے خیالات کی تردید کی گئی اور دلائل کی دنیا میں انھیں بالکل بےبس ہونا پڑا۔ لیکن جب اس بےبسی کے باوجود بھی انھوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو پھر آپ ﷺ نے انھیں مباہلہ کی دعوت دی کہ آئو ہم اور تم اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیں کہ وہ ہمارے ساتھ وہ معاملہ کریں، جس کے ہم دونوں سزاوار ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے سے ہر طرح انکار کیا، وہ دلائل میں لاجواب ہو کر بھی اپنی بات پر اڑے رہے۔ اس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ انھیں اپنے موقف اور اپنے برسر حق ہونے کا پوری طرح یقین تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دلائل میں پوری طرح مقابلہ نہ کرسکے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جیسے ہی انھیں اپنے برسرحق ہونے کو ثابت کرنے کا موقع ملا تو وہ آگے بڑھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے موقف کی حقانیت کو ثابت کردیتے لیکن جب وہ اس مقابلے سے بھی بھاگ گئے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انھیں اپنے برسر حق ہونے کا بالکل یقین نہ تھا۔ البتہ ! ایک ہٹ دھرمی تھی جسے وہ آخر حد تک نبھانا چاہتے تھے۔ سر ولیم میور انیسویں صدی کے مسیحی مستشرق ہیں اور صرف مستشرق ہی نہیں، انھیں مشنری کہنا چاہیے۔ لیکن حق وہ ہے جو سر چڑھ کر بولے۔ انھوں نے ” لائف آف محمد ﷺ “ (Lifeof Muhammad) میں مباہلہ کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، اسے ملاحظہ فرمایئے : سارے واقعہ میں محمد ﷺ کے ایمان کی پختگی بالکل نمایاں ہے۔ نیز ان کے اس عقیدہ کی شہادت کہ ان کا تعلق عالم غیب سے جڑا ہوا ہے اور اس لیے حق تمام تر انھیں کے ساتھ ہے، درآں حالیکہ ان کے خیال میں مسیحیوں کے پاس ظن وتخمین کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دعوت کا حکیمانہ انداز اس طرح سے تمام ممکن ذرائع سے جب عیسائیوں پر اتمامِ حجت ہوگیا اور حق کھل کے ان کے سامنے آگیا۔ لیکن وہ پھر بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک دوسرے پہلو سے اور نہایت ٹھہرے ہوئے اور مثبت اسلوب میں انھیں اسلام کی دعوت دی اور اس میں بجائے ان کے عقائدِ باطلہ کو زیر بحث لانے کے نہایت حکیمانہ طریقے سے ایک قدر مشترک کے ذریعے بات کا آغاز کیا۔ گفتگو جب مباحثے اور مناظرے کا اسلوب اختیار کرلے تو پھر قرآن کریم حکمت کے ذریعے دعوت کا حکم دیتا ہے اور حکمت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ جانبین میں قدر مشترک تلاش کی جائے کیونکہ اگر آغازہی میں فریقِ مخالف کے خیالات پر تنقید اور اس کے عقائدِ باطلہ کا ابطال شروع کردیا جائے تو بات تو وہیں رک جاتی ہے البتہ لڑائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ قدرِ مشترک سے بات کے آغاز سے ایک تو بات کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے اور دوسری آسانی یہ ہوتی ہے کہ اس کی مقتضیات کو بڑی آسانی سے مخاطب کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے اور وہ ہزار کوشش کے باجود بھی فرار کا راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔ چناچہ یہاں بھی اسی طریق دعوت کو اختیار کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ انھیں دعوت دیجیے کہ آئو ایک ایسے کلمے کو بنیاد بنائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مشترک ہے۔ کلمہ سے مراد لفظ بھی ہوتا ہے، لیکن قرینہ بتارہا ہے کہ اس سے مراد جملہ مفیدہ ہے۔ ابن کثیر نے بھی یہی کہا الکلمۃ تطلق علی الکلمۃ المفیدۃ اور احادیث ِ پاک میں اسی بات کو کہیں الکلمۃ سے اور کہیں الکلمۃ الجامعۃ سے یاد کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بتانا بھی مقصود ہوتا ہے کہ ہم تمہیں ایک ایسی بات اور ایک ایسی حقیقت کی طرف دعوت دے رہے ہیں جو دنیا میں نئی نہیں اور نہ وہ کسی کی میراث ہے۔ جو پہلا انسان دنیا میں آیا تھا وہ اسی دعوت کو لے کر دنیا میں اترا تھا اور پھر جب جب اللہ کا کوئی نبی دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے۔ اس نے یہی بنیادی دعوت انسانوں کے سامنے پیش کی۔ انیسویں پارے میں پروردگار نے حضرت نوح، حضرت ہود حضرت صالح، حضرت شعیب اور بعض اور جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے اور ہر ایک پیغمبر کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کی طرف صرف ایک ہی دعوت لے کے آئے تھے یَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَـکُمْ مِنْ اِلٰـہٍ غَیْرُہٗ (اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا اور کوئی الٰہ نہیں) یہ حقیقت اور دعوت کی یہ بنیاد جب تک دنیا میں نظام حیات کی بنیاد بنی رہی اس وقت تک انسانیت کا دامن محفوظ رہا اور انسانیت نے وہ برگ و بار پیدا کیے جس نے اس دنیا کو ہمیشہ چمن زار کی صورت باقی رکھا اور جب بھی یہ دعوت انسانی زندگی کی بنیاد نہ رہی تو انسانیت مختلف گروہوں میں بٹ گئی، جس کے نتیجے میں یہ گلشن ہستی جہنم زار بن گیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے توحید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہی وہ اساس ہے جس پر ہر مذہب کی عظیم عمارت استوار ہوئی ہے۔ چناچہ اہل کتاب کو دوبارہ اسی عہد رفتہ اور متاع گم گشتہ کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ جس طرح اس کلمے کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کی جائے کیونکہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ نہ اس کا کوئی فرزند ہے، نہ کوئی اقنوم۔ نہ اس کا کوئی مظہر ہے جو اس کا اوتار بن سکے اور نہ کوئی دیوتا ہے جو اس کی قوتوں میں شریک ہو۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت عیسائی کیتھولک فرقہ کی صورت میں موجود تھے اور یا کلیسائے رومی کے متبع تھے۔ پروٹسٹنٹ فرقہ کئی صدی بعد کی چیز ہے۔ انھوں نے اللہ کی بندگی کے توڑ پر نہ جانے کتنی قسم کی پرستشیں ایجاد کر رکھی تھیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ شرک جلی کے ساتھ ساتھ شرک خفی کی کیا کیا صورتیں ان کے یہاں پائی جاتی تھیں۔ ان سب کی براہ راست تردید کرنے کی بجائے انھیں دعوت دی جا رہی ہے کہ اس بنیادی بات کو قبول کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس لیے اس کے سوا کسی اور کی بندگی روا نہیں۔ اسی طرح اس کا لازمی نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ اس کی بندگی میں شرک کا شائبہ بھی قابل قبول نہیں اور یہ وہ بنیاد ہے جس کے ذکر سے تورات آج بھی بھرپور ہے۔ جس میں توحید کی بار بار تاکید کی گئی ہے اور شرک کی بار بار ممانعت فرمائی گئی ہے۔ انجیل میں اگرچہ تورات کی طرح اس حقیقت کی فراوانی تو نہیں لیکن وہ یکسر اس سے بیگانہ بھی نہیں۔ اس میں بھی اسی بنیادی عقیدہ کی تعلیم موجود ہے۔ مثلاً : (تو خداوند خدا کو سجدہ کر اور صرف اس کی عبادت کر) (متی 4: 10) (یسوع نے جواب دیا کہ اول (حکم) یہ ہے اے اسرائیل سن ! خداوند ہمارا ایک ہی خداوند ہے) (یوحنا 17: 29۔ 30) (اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد و برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں) (متی 19: 17) عقیدہ توحید کا لازمی نتیجہ رب کی وحدت ہے اس عقیدے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ جس طرح آسمانوں میں اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح مخلوق میں بھی کسی کو اس کا شریک نہ مانا جائے اور شرک کی برأت کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ اللہ کے سوا جس طرح کوئی معبود نہیں، اسی طرح کوئی رب بھی نہیں۔ مخلوق میں سے کسی کو مطاع مطلق مان لینا یہ اس کو رب قرار دینا ہے۔ حدیث میں آتا ہے امام ترمذی نے حضرت عدی ابن حاتم طائی سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اہل کتاب نے اپنے علماء اور مذہبی پیشوائوں کو رب بنا رکھا ہے تو ہم اپنے مذہبی علماء و پیشواؤں کی عبادت تو نہیں کرتے کیونکہ عدی عرب اور عرب کے قبیلہ کے سردار ہونے کے باوجود عیسائی تھے۔ تو انھوں نے عیسائی ہونے کی وجہ سے ایمان لانے کے بعد اس بات کو جاننا ضروری سمجھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ کیا یہ بات نہیں ہے کہ جس چیز کو تمہارے احبارو رہبان حرام ٹھہرا دیں تم اس کو حرام ٹھہرا دیتے ہو اور جس چیز کو حلال ٹھہرا دیں اس کو حلال جانتے ہو۔ عدی نے کہا کہ ہاں ! ایسی بات تو ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہی ان کو رب بنادینا ہے یعنی اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو حلال و حرام کرنے کے کلی اختیارات سونپ دینا اور اس کو تحلیل و تحریم کے لیے اتھارٹی تسلیم کرلینا اس کو رب بنادینا ہے۔ چناچہ یہاں ان کو صاف صاف دعوت دی گئی کہ توحید کی دعوت تمہاری کتابوں نے بھی دی ہے اور ہم اسی کی تجدید کر رہے ہیں اور اس توحید کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کی جائے اور نہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور نہ کسی کو تحلیل و تحریم کا حق دیا جائے۔ اگر کسی کو یہ حیثیت دے دی جائے کہ زندگی میں حسن و قبح کے فیصلے جائز اور ناجائز کی حد بندی اور حلال و حرام کا قانون اور اوامرو نواہی کے اصول طے کرنا اس کا حق ہے اور اس معاملے میں اس کی بلا چوں و چراں اطاعت کی جائے گی۔ تو اسے قرآن کریم رب ماننے کے مترادف قرار دیتا ہے اور عقیدہ توحید میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ عیسائی چونکہ اپنے کلیسا کے بارے میں خاص عقیدہ رکھتے ہیں، اس کی معصومیت ان کے ایمان کا جزو ہے اور ان کے مذہبی رہنما ان کی دینی زندگی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں اور عیسائیوں نے سینٹ پال کے زیر اثر چونکہ اپنے آپ کو تورات کی شریعت سے آزاد کرلیا ہے تو اس طرح سے انھوں نے کلیۃً انسان کو اللہ کی حاکمیت سے آزاد کر کے اپنے منتخب نمائندوں کو زندگی کے وہ فیصلے کرنے کا حق دے دیا ہے جو صرف اللہ کا حق ہے۔ بندے اور اللہ کا تعلق ان کے نزدیک ایک پرائیویٹ اور تنہائی کا تعلق ہے۔ پبلک زندگی میں اللہ کو دخل دینے کی قطعاً اجازت نہیں اور اگر کسی کو اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے تو پھر اسے رہبانیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جو قوم اس قسم کے تصورات رکھتی ہو اس کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ توحید کے بنیادی تصور کو قبول کر کے اپنے انفرادی اور اجتماعی ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوجائے جبکہ اللہ کی تمام کتابوں نے اسی بنیادی بات پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور یہاں بھی اسی کی دعوت دی جا رہی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم نے جس بات کو انسانیت کی قدر مشترک اور مسلمہ سچائی کے طور پر ان کے سامنے پیش کیا اور انھوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ اس طرح سے وہ تو ہمیشہ کے لیے اسلام سے کٹ گئے لیکن امت مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے آج یہ بات کہتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ توحید کو ماننے کے باوجود اور پانچ وقت ایک اللہ کے سامنے جھکنے کے باوجود ہم اس بات کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں کہ ہم اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کو وہ حیثیت دے دیں جو توحید کا لازمی تقاضا ہے۔ مسلمانوں کی پارلیمان جب ان معاملات میں آزادانہ فیصلے کرتی ہے جس میں قرآن و سنت پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اور قرآن و سنت کے دیے ہوئے ضابطہ حیات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے کسی طور تیار نہیں۔ تو اس آیت کریمہ کا خطاب ان کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے اور انھیں بھی پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس قرآن کریم کو تم چومتے ہو، جسے خوشبو میں بسا کے رکھتے ہو، جس سے ایصالِ ثواب کرتے ہو اور جسے پڑھ کر اجر وثواب کا یقین رکھتے ہو اسی قرآن کریم کی یہ آیت اور اس کی ہم معنی بیسیوں آیات تمہیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے فیصلوں میں پابند کرتی ہے کہ قانون سازی اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بنیادی فیصلے تمہارا حق نہیں بلکہ اللہ کا حق ہے، تم اس میں دخل دے کر یا انھیں نظر انداز کر کے سوچو تو سہی کہ کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہو۔ ملک میں جرائم ہوتے ہیں، لیکن تم ان کا ازالہ اللہ کی حدود کے ذریعے کرنے سے گریزاں ہو۔ انسان بری طرح بگڑتا جا رہا ہے۔ اجتماعی زندگی زخم زخم ہوگئی ہے لیکن تم اس کی اصلاح کے لیے قرآن و سنت کے دیئے ہوئے ضوابط کو نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے، لیکن تم اپنے تعلیمی اداروں میں اس کا فہم عام کرنے کے لیے کسی طرح آمادہ نہیں ہو۔ جب تمہاری عدالتیں اسلامی قانون سے ہٹ کر فیصلے دیتی ہیں، جب تمہاری پارلیمنٹ اسلامی تعلیمات کے خلاف بل پاس کرتی ہے، جب تمہاری انتظامیہ شراب کے پر مٹ جاری کرتی اور ہوٹلوں میں پیش کرنے کی اجازت دیتی ہے، جب تمہارے قانون کے سائے میں قحبہ خانے کھلتے ہیں اور جب تمہارا مقتدر طبقہ اپنے اقتدار کے مقابلے میں اللہ کے اقتدار کو پرِ کا ہ کے برابر بھی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو غیر جانبداری سے کہو کہ اس آیت کی روشنی میں اس رویے کو کیا کہا جائے گا۔ جب کہ اس آیت میں ہمارے سپرد ایک دوہری ذمہ داری کی گئی تھی، جس کا ذکر اس آیت کریمہ کے آخری جملہ میں فرمایا گیا ہے۔ منصب شہادت کے دو تقاضے فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ اس جملے کو غور سے دیکھئے ! اس میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ اگر یہ اہل کتاب توحید کی اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیں جو تمام مذاہب کے درمیان قدر مشترک اور تمام مذاہب کی اساس کی حیثیت رکھتی ہے تو پھر تمہاری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ تم صاف صاف ان پر یہ بات واضح کردو کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح و ہدایت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ ہم حامل دعوت امت کے اسی منصب پر فائز کیے گئے ہیں، جس منصب سے اے اہل کتاب تمہیں معزول کیا گیا ہے۔ تمہاری سازشوں اور تمہاری مخاصمتوں نے اگرچہ ہمارے دل زخمی کر رکھے ہیں، تمہارا رویہ اگرچہ ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ باایں ہمہ ! ہم اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے ہر ممکن طریق سے تمہارے سامنے یہ دعوت پیش کرتے رہے ہیں۔ دلائل کی قوت سے ہم نے تمہیں پسپا کیا ہے۔ تمہاری بد اخلاقی کو اپنی اخلاقیات کی ڈھال سے ہمیشہ کند کیے رکھا ہے۔ آخری بات اللہ سے فیصلہ طلب کرنا تھا سو مباہلے کی صورت میں وہ بھی ہم کر گزرے۔ اس طرح سے ہمارا وہ فریضہ جسے شہادتِ حق کہا جاتا ہے ہم نے اسے ادا کرنے میں بفضلہ تعالیٰ کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اس لیے تم گواہ رہو کہ کل کو ہمارے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس فریضہ کی ادائیگی کے ہم نے تمام تقاضوں کو پورا کیا تھا یا نہیں۔ ہم تمہیں گواہ بنا کر کہتے ہیں تاکہ تم کل کو تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکو کہ ہم نے واقعی اپنا فرض انجام دے دیا ہے اور دوسری یہ بات کہ تم ہماری اس دعوت کے مقابلے میں کچھ بھی رویہ اختیار کرو اور اپنے ظاہری علم و فضل کو ہمارے راستے کی رکاوٹ کے لیے چاہے کیسے ہی اسالیب سے استعمال کرو اور تم اسلام کا راستہ روکنے کے لیے جو بن پڑے بیشک اس سے دریغ نہ کرو۔ لیکن ہمارا طرزعمل بالکل ایک حقیقت کی طرح اپنی جگہ قائم رہے گا کہ ہم ازاول تا آخر اللہ کے مسلم ہیں۔ ہم نے اپنے اللہ کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے۔ جب وہی ہمارا رب اور وہی ہمارا معبود ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس کے سوا اپنی زندگی کے فیصلوں میں کسی اور کو دخیل ہونے کا موقع دیں۔ کبریائی اسی کی، محبت اسی سے اور رہنمائی اور اطاعت اسی کی۔ یہ ہمارا وہ طرز عمل ہے جسے ہم کبھی بھی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی زندگی انہی دونوں چیزوں سے عبارت ہے۔ ایک طرف اللہ کی بلا کم وکاست بندگی و غلامی اور دوسری طرف اس کی ذات، اس کی صفات، اس کے دین کے برسر حق ہونے کی ایک ایسی گواہی جو زندگی کے ہر میدان میں بولتی ہوئی سنائی دے اور جسے دیکھ کر کوئی شخص اللہ کے سامنے یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ مجھے تو تیرے دین سے کسی نے باخبر نہیں کیا تھا۔ میرے سامنے وہ عملی زندگی کبھی نہیں آئی تھی جس پر صرف تیری کبریائی کی چھاپ ہوتی۔ اس لیے میں اہل دنیا کی دعوت اور طرز عمل کو قبول کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا تھا۔ عہدِ نبوت اور عہد صحابہ میں بھی امت مسلمہ کی یہی دوہری ذمہ داری تھی جس نے ان کو دنیا میں سر افراز کیا تھا اور آخرت کے وعدوں کا حقدار ٹھہرایا تھا اور آج بھی اس کی یہی دوہری ذمہ داری ہے اور آج بھی اس کی آبرومندانہ زندگی کے حصول کی اگر کوئی ضمانت ہوسکتی ہے تو وہ صرف یہی ذمہ داری ہے ؎ ہم کو بخشی ہیں خدا نے دوہری دوہری خدمتیں خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے خود سراپا نور بن جانے سے کب چلتا ہے کام ہم کو اس ظلمت کدے میں نور پھیلانا بھی ہے
Ayahs 3:65–68

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو درآں حالیکہ تورات اور انجیل نہیں نازل کی گئی ہیں مگر ان کے بعد، تم کیوں عقل سے کام نہیں لیتے ہو

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

ہاں ! تم لوگ وہی تو ہو کہ تم نے حجت کی ان چیزوں کے بارے میں جن کے باب میں تمہیں کچھ علم تھا تو اس چیز کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ یکسو مسلم تھے اور مشرکوں میں سے بھی نہ تھے

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بیشک ابراہیم سے سب سے قریب لوگ تو وہ ہیں جنھوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور اللہ ایمان لانے والوں کا ساتھی ہے

یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمَـآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ م بَعْدِہٖ ط اَفلَاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ مَا کَانَ اِبْرٰہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَّلاَ نَصْرَانِیًّا وَّلٰـکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو درآں حالیکہ تورات اور انجیل نہیں نازل کی گئی ہیں مگر ان کے بعد، تم کیوں عقل سے کام نہیں لیتے ہو۔ ہاں ! تم لوگ وہی تو ہو کہ تم نے حجت کی ان چیزوں کے بارے میں جن کے باب میں تمہیں کچھ علم تھا تو اس چیز کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ یکسو مسلم تھے اور مشرکوں میں سے بھی نہ تھے۔ بیشک ابراہیم سے سب سے قریب لوگ تو وہ ہیں جنھوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ان پر ایمان لائے اور اللہ ایمان لانے والوں کا ساتھی ہے) (65 تا 68) دلائل میں پسپائی کے بعد جذبات کا سہارا متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کا یہ شیوہ ہوتا ہے کہ جب وہ دلائل کے مقابلے میں پسپا ہوجاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مضبوط دلیل باقی نہیں رہتی تو بجائے راہ راست اختیار کرنے اور اپنی ناکامی کو قبول کرنے کے، لوگوں کے جذبات کو ابھار کر بدگمانیوں کی دھول میں اپنے لیے پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی دلیل سے غرض نہیں رکھتا۔ وہ جذبات پہ مرتا اور جذبات سے جیتا ہے۔ اسے اگر یہ یقین دلا دیا جائے کہ فلاں فرد یا فلاں گروہ اس عظیم شخصیت کے خلاف ہے جو تمہاری جذباتی عقیدت کا مرکز ہے تو اس کے بعد اہل حق کے مضبوط سے مضبوط دلائل بھی عوام کے ناقابلِ قبول ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ جس کے بارے میں بدگمان ہوجاتا ہے اس کی ہر بات اسے غلط اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ کے وقت بھی آج کی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت مرجع خلائق اور تمام مذاہب میں مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہود اور نصاریٰ دونوں کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا اور بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا جدِ امجد سمجھتے تھے اور اس نسلی تعلق کے ساتھ ساتھ یہ بھی مانتے تھے کہ وہ اللہ کے جلیل القدر رسول اور اس کے مقرب تھے۔ اسی طرح قریش اور مشرکینِ عرب بیت اللہ کے پجاری ہونے کی وجہ سے یہ تسلیم کرتے تھے کہ اس گھر کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے بنایا تھا۔ عدنان اور قحطان کی اولاد آپس کے اختلافات کے باوجود اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نسلی رشتے میں منسلک سمجھتی تھی اور اس کے علاوہ پورا عرب آپ کی عقیدت میں یک زبان اور رطب اللسان تھا۔ یوں تو اہل کتاب بھی آپ کی پیروی کا دعویٰ کرتے تھے لیکن عرب تو بطور خاص اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا علمبردار یقین کرتے تھے۔ اس لحاظ سے اس وقت کی معلوم دنیا میں جن لوگوں سے براہ راست آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو مقابلہ درپیش تھا وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بزرگ اور اپنا مرجع خیال کرتے تھے۔ چناچہ اہل کتاب نے جب آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں بری طرح ہزیمت اٹھائی اور ہر محاذ پر پسپا ہوتے چلے گئے تو انھوں نے اسی عوامی جذباتیت کو ڈھال کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم لوگ جس دین پر قائم اور جس راستہ پر چل رہے ہیں یہ ابراہیم کا دین ہے۔ ہم اگر یہودی یا نصرانی ہیں تو یہ نسبتیں ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی ہیں اور مسلمانوں نے ایک نئی نبوت اور ایک نئے دین کا اعلان کر کے اپنے لیے ایک بالکل نیا راستہ نکالا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بالکل مخالف ہے۔ اس لیے ہم ایک ایسے دین کو کیسے اختیار کرلیں جو ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت سے کاٹ دینا چاہتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں ان سے سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی تائید میں کس طرح پیش کر رہے ہو جب کہ تم خوب جانتے ہو کہ یہود کی بنیاد تورات پر ہے اور نصاریٰ کی بنیاد انجیل پر اور یہ دونوں کتابیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دنیا سے تشریف لے جانے کے صدیوں بعد نازل ہوئی ہیں۔ یہود نے تورات کی بنیاد پر اپنے آپ کو یہودی کہنا شروع کیا اور نصاریٰ نے انجیل کی بنیاد پر اپنا نام نصاریٰ رکھا۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ دونوں نسبتیں جو صدیوں بعد پیدا ہوئیں کیسے منسوب ہوسکتی ہیں ؟ ایک ایسی چیز جو ایک شخصیت کے صدیوں بعد وجود میں آئی ہے وہ صدیوں پہلے گزرنے والی شخصیت کو اپنے لیے دلیل کیسے بنا سکتی ہے۔ وہ اگر صحیح ہے تو اس کے پاس اپنے دلائل ہونے چاہئیں اور اگر وہ غلط ہے تو اسے اپنی غلطی قبول کرنی چاہیے۔ صدیوں پہلے گزرنے والی شخصیت صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے کس طرح حوالہ یا جائے پناہ بن سکتی ہیں۔ یہ تو ایک ایسی عقل کی بات ہے جسے معمولی عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے تو تم آخر اس بےعقلی کی بات پر اصرار کیوں کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دین اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس سے بھی بڑھ کر بےوقوفی کی بات یہ ہے کہ تم نے اب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خرق عادت ولادت اور غیرمعمولی معجزات سے ان کے بارے میں اگرچہ ایک سے ایک غلط بات کی، لیکن تب بھی یہ بات کسی حد تک کہی جاسکتی ہے کہ تم نے جو کچھ بھی کہا اس کا تعلق یقینا تمہاری معلومات سے تھا۔ تمہارے آبا و اجداد کے سامنے عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں آئے، انھیں کے سامنے معجزات کا ظہور ہوا۔ یہ باتیں یقینا ان کے علم میں تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ انھوں نے اس سے غلط نتائج نکالے اور غلط دلائل اخذ کیے۔ لیکن جو کچھ بھی کہا ان کی بنیاد بہرحال ان کا علم اور ان کی معلومات تھیں۔ لیکن اب جو تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کہہ رہے ہو اس کے بارے میں تم کیا جانتے ہو ؟ ایک شخصیت جو صدیوں پہلے گزر گئی۔ تم نے ان کا زمانہ نہیں پایا، ان پر اترنے والا کوئی صحیفہ محفوظ نہ رہا اور تم نے جو کچھ مذہب کے نام پر تانا بانا تیار کیا اس کی بنیاد تورات ہے یا انجیل تو آخر اس میں تم ابراہیم (علیہ السلام) کو کس طرح کھینچ لائے ہو ؟ جبکہ تم ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہو۔ ہاں ان کے بارے میں اگر کوئی باخبر ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس نے اپنا آخری رسول بھیج کر تمام صداقتوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ آج اگر کوئی بات قابل قبول ہوسکتی ہے تو وہ بات ہے جس کو اللہ کا آخری رسول اللہ کے حوالے سے پیش کر رہا ہے۔ لیکن اسے تم سننے کی بجائے ہر صداقت کو اپنی جہالت کی ہنگامے کی نذر کردینا چاہتے ہو۔ اس کے بعد قرآن کریم نے وہ قطعی اور حتمی بات ارشاد فرمائی ہے جسے آج تاریخ بھی ثابت کر رہی ہے اور جسے عقل نے بھی ہمیشہ مانا ہے اور آج جیسے جیسے تحقیق اور تجسس کا قدم آگے بڑھ رہا ہے اور کھدائیوں میں بعض کتبات ہاتھ آرہے ہیں تو قرآن کریم کی یہ حقیقت روز بروز واضح تر ہوتی جارہی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی، وہ اللہ کے فرمانبردار بندے، مسلم اور حنیف تھے۔ عربی میں الحنف گمراہی سے منہ موڑ کر حق کی طرف متوجہ ہونے کو کہتے ہیں اور حق سے روگردانی کر کے گمراہی کی طرف مائل ہونے کو الجنف کہا جاتا ہے۔ (مفردات) اس لحاظ سے حنیف وہ شخص کہلائے گا جو ہر باطل اور گمراہی سے منہ موڑ کر، ہر ماسوا اللہ سے کٹ کر ہمہ تن حق و صداقت سے وابستہ اور اللہ کی ذات سے لو لگانے والا ہو۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حنیف کا لفظ بطور صفت استعمال کیا ہے۔ ان کی ذات میں ایک ایسے شخص نے ظہور کیا تھا جس کا راستہ صراط مستقیم، جس کا دل محبت الٰہی سے سرشار، جس کے تمام تعلقات تعلق باللہ کی نذر، جس کی تمام خواہشات اعلائے کلمتہ الحق سے وابستہ اور جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کی تائید و نصرت کے نور سے روشن تھا۔ وہ ازسرتا پامسلم تھا۔ اس میں یہودیت یا نصرانیت کی پرچھائیوں کو کیسے جگہ مل سکتی تھی ؟ اسی طرح اس موحد کی زندگی میں کسی ایسے شرک کو کیسے بار مل سکتا تھا جسے اللہ کی ذات اور صفات قبول نہ کرسکتی ہوں۔ اس لیے نہ وہ یہودی تھا نہ نصرانی اور نہ وہ مشرک تھا۔ یہاں روئے سخن اگرچہ اہل کتاب کی طرف ہے، لیکن مشرکین بھی چونکہ اسی مرض میں مبتلا تھے اور اس لیے ساتھ ہی اس کی بھی تردید فرما دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ ابراہیم سے اگر کسی کو سچی نسبت ہوسکتی ہے تو وہ صرف وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی ذات کی پیروی کی۔ اگر یہ نسبت نسب سے ملتی تو آزر سے رشتہ نہ ٹوٹتا اور اگر اس کے لیے وطن کافی ہوتا تو آپ وطن سے نکل کر مختلف ملکوں کو اپنی دعوت کی آماجگاہ نہ بناتے۔ آپ کے ساتھ ان لوگوں کا رشتہ رہا جو آپ کی دعوت میں آپ کے دست وبازو اور اللہ کے دین میں آپ کے متبع تھے اور آج اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد ان سے تعلق کا دعویٰ کرسکتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے جنھوں نے ملت ِ ابراہیمی کو زندہ کیا اور یا آپ پر ایمان لانے والے ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ کا اتباع کرتے ہوئے دین ابراہیم کو نئی زندگی اور تازہ قوت بخشی اور ان کی ایک ایک سنت کو از سر نو زندہ کیا۔ ہر سال عید قربان کے موقع پر پوری امت مسلمہ اللہ کے حضور جانوروں کی قربانی پیش کرتی ہے اور ساتھ یہ دعا بھی کرتی ہے کہ یا اللہ ! اسے اسی طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اسے قبول کیا تھا کیونکہ یہ اسی عظیم شخصیت کی سنت ہے۔ جسے ہم پر ہمارے رسول پاک ﷺ نے لازم ٹھہرایا ہے۔ رہے وہ لوگ جو نام لیتے ہیں ملت ِ ابراہیم کا لیکن وابستہ ہیں یہودیت یا نصرانیت یا عرب کی مشرکانہ زندگی سے تو ان کا تعلق آخر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کیا ہوسکتا ہے اور آیت کریمہ کے آخر میں یہ نوید بھی سنا دی گئی کہ اب ملت ابراہیم کو جو عزت ملنے والی ہے اور جو برگ و بار پھوٹنے والے ہیں وہ نبی آخر الزماں ﷺ کے اتباع کے نتیجہ میں پھوٹیں گے اور انھیں پر ایمان لانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھی نام لیوا ہوں گے اور یہی لوگ ہیں کہ قیامت تک اللہ تعالیٰ ان کا ساتھی اور حامی ہوگا۔
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کہ کاش تمہیں گمراہ کر دے حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو۔ لیکن وہ اس کا احساس نہیں کرتے

وَدَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ لَوْیُضِلُّوْنَـکُمْ ط وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہل کتاب میں سے کہ کاش تمہیں گمراہ کر دے حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو، لیکن وہ اس کا احساس نہیں کرتے) (69) اہلِ کتاب کا اصل مرض گزشتہ آیات میں جس طرح ایک ترتیب سے تاریخی اور عقلی دلائل قائم کر کے اہل کتاب کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے بعد قرآن کریم کا ہر قاری یہود و نصاریٰ کے طرز عمل کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے کیونکہ اگر معاملہ صرف مشرکین عرب کا ہوتا تو ان کی ہٹ دھرمی کو ان کی جہالت پر محمول کیا جاسکتا تھا۔ لیکن اہل کتاب میں تو علم کا نہ صرف چرچا تھا بلکہ ان میں بڑے برے علماء اور مشائخِ طریقت موجود تھے جو کسی کو درخورِاعتنانھیں سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود اپنے بےہودہ، جاہلانہ اور فرسودہ خیالات اور طرز عمل پر جمے رہنا ناقابلِ فہم سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان کی اصل مرض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قرآن کریم چونکہ ہر بات میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتا ہے، اس لیے اس مرض کا ذکر کرتے ہوئے طَّـآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ کہہ کر یہ واضح فرمایا ہے کہ اس مرض کا شکار تمام اہل کتاب نہیں بلکہ ان میں سے ایک بڑا گروہ ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اسی گروہ کو اہل کتاب کی سربراہی اور پیشوائی حاصل ہے، جس کی وجہ سے دوسرے لوگ ان سے مختلف فیصلہ کرنے پر قادر نہیں ہو سکے۔ جس بیماری کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے، وہ بیماری وہ ہے جس کا قرآن کریم نے اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ وہ ہے اہل کتاب کا مسلمانوں کے خلاف عناد اور دشمنی جس کی بنیاد ان کا یہ حسد ہے کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل کی بجائے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کیسے آگیا ؟ ہم مختلف جگہ اس کا حوالہ دے چکے ہیں کہ اہل کتاب کے بڑے بڑے علماء تسلیم کرتے تھے کہ محمد ﷺ وہی آخری نبی ہیں جس کا ذکر ہماری کتابوں میں ہے۔ لیکن چونکہ وہ بنی اسماعیل میں آئے ہیں اس لیے ہم کسی طرح بھی انھیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حضرت صفیہ ( رض) جو ایک یہودی سردار کی بیٹی اور آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں، ان کی یہ بات حدیث کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ میرے والد نے میرے چچا سے کہا کہ ہیں تو یہ وہی نبی، لیکن جب تک جان میں جان ہے میں ان کی بات چلنے نہیں دوں گا۔ چناچہ ان کا یہی جذبہ حسد ان کی سازشوں اور مخاصمتوں کا ہمیشہ سبب بنا رہا۔ وہ بظاہر ہمدرد بن کر آنحضرت ﷺ کی مجلسوں میں آتے، مسلمانوں سے قربت کا تعلق قائم رکھنے کی کوشش کرتے، لیکن مقصود صرف یہ ہوتا کہ کسی طرح ہم مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ مختلف طریقوں سے اشتباہات اٹھائے جاتے، غلط فہمیاں پیدا کی جاتیں اور اس طرح سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی۔ لیکن ان نادانوں کو یہ خبر نہ تھی کہ اللہ کا آخری رسول دنیا میں اس انقلاب کی تکمیل کے لیے آیا ہے جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا تھا اور اس ہدایت کو عام کرنے کے لیے آیا ہے جس کے لیے ہر نبی نے کوششیں کیں اور اللہ کی دھرتی پر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے آیا ہے، جس کے لیے ہر نبی اور رسول نے قربانیاں دیں۔ ان کی کوششوں سے ہدایت کا یہ سفر رک نہیں سکتا۔ یہ قافلہ اپنی منزل تک پہنچ کے رہے گا البتہ گمراہ کرنے والے اس قافلے سے پچھڑ جائیں گے اور اس طرح اپنی قسمت کھوٹی کرلیں گے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ اپنا مقدر کھو رہے ہیں، لیکن انھیں اس کا احساس نہیں۔
Ayahs 3:70–71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! کیونکر انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا ؟ حالانکہ تم گواہ ہو

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب ! کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور حق کو چھپاتے ہو ؟ حالانکہ تم جانتے ہو)

یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَـکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْہَدُوْنَ ۔ یٰٓاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَـکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ ع (اے اہل کتاب ! کیونکر انکار کرتے ہو اللہ کی آیتوں کا ؟ حالانکہ تم گواہ ہو۔ اے اہل کتاب ! کیوں ملاتے ہو حق کو باطل کے ساتھ اور حق کو چھپاتے ہو ؟ حالانکہ تم جانتے ہو) (70 تا 71) ان دونوں آیتوں میں اہل کتاب سے خطاب ہے۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ملامت بھی کی جا رہی ہے اور اظہارِ افسوس بھی کیا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسا لگتا ہے کہ آخری فیصلہ بھی سنایا جا رہا ہے۔ جسے اتمامِ حجت بھی کہا جاسکتا ہے اور بدنصیبی کی انتہا بھی۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات سے کفر کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے تم قرآن کریم کے مزاج آشنا ہو ؟ تمہیں خوب اندازہ ہے کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ پھر وہ ان تمام باتوں کا مصداق بن کر آئی ہے جس کا ذکر تمہاری کتابوں میں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمہارے دل گواہی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کی آیات ہیں، جنھیں جھٹلایا نہیں جاسکتا اور اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری کتابوں میں تمہارے انبیاء کے ذریعے تم سے آخری نبی اور آخری کتاب کی آیات اور احکام کی شہادت دینے کا عہد لیا جا چکا ہے اور تم اس کا اقرار کرچکے ہو۔ چناچہ اسی سورة آل عمران میں آیت نمبر 89 میں اس کا ذکر موجود ہے۔ تفصیل سے بات تو وہاں ہوگی یہاں صرف اس کا ترجمہ نقل کیے دیتے ہیں۔ اور یاد کرو جب کہ اللہ نے تم سے نبیوں کے بارے میں میثاق لیا کہ چونکہ میں نے تم کو کتاب و حکمت عطا فرمائی ہے تو جب آئے تمہارے پاس ایک رسول سچی ثابت کرتا ہوا ان پیشین گوئیوں کو جو تمہارے پاس موجود ہیں تو تم اس پر ایمان لائو گے اور اس کی مدد کرو گے۔ پوچھا کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور اس پر میری طرف سے تم نے ذمہ داری اٹھائی ؟ بولے ہم نے اقرار کیا تو فرمایا اس پر گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ اس کے گواہوں میں سے ہوں۔ اندازہ فرمایئے ! اہل کتاب کو پہلے سے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا پابند کیا گیا تھا۔ انھوں نے نہ صرف ایمان لانا تھا بلکہ باقاعدہ خلق خدا کے سامنے ان کی سچائی کی گواہی بھی دینا تھی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جب قومیں تنزل کا شکار ہوتی ہیں تو وہ پستی میں ڈوبتی چلی جاتی ہیں۔ کہاں تو ان کا یہ منصب کہ وہ حق کی گواہی دیں اور کہاں ان کا یہ طرز عمل جس کا ذکر دوسری آیت کریمہ میں کیا گیا ہے کہ ” تم کیوں حق کو باطل سے گڈ مڈ کرتے ہو ؟ اور تم جانتے ہو کہ تم ایسی خیانتوں کا ارتکاب کرچکے ہو اور اس کی مثالیں سورة بقرہ میں گزر چکی ہیں کہ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور تعمیرِ بیت اللہ سے متعلق جو کچھ تورات میں کہا گیا تھا اس کی ایک ایک چیز تحریف کی نذر کردی گئی۔ صفا اور مروہ کے تلفظ سے لے کر محل وقوع تک خیانت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جسے دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ یہاں صرف اس کی یاددہانی فرما کر شرم دلائی گئی ہے شاید اس طرح کچھ دلوں میں ہدایت کا راستہ پیدا ہوجائے۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ایمان لائو اس چیز پر جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے صبح کے وقت اور شام کو اس کا انکار کردیا کرو تاکہ وہ بھی اس سے پھرجائیں

وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ ج صلے (اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ایمان لائو اس چیز پر جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے صبح کے وقت اور شام کو اس کا انکار کردیا کرو تاکہ وہ بھی اس سے پھرجائیں) (72) اس سے پہلے آیت نمبر 69 میں اہل کتاب کے جن عزائم کے بارے میں مسلمانوں کو باخبر کیا گیا تھا اس آیت کریمہ میں ان عزائم کی تکمیل کے لیے ایک منصوبہ اور ایک سازش کا انکشاف فرمایا جایا رہا ہے۔ آیت نمبر 69 میں تو اہل کتاب کے اندر جو مسلمانوں کے خلاف لاوا پک رہا تھا اس کی اطلاع دی گئی تھی، لیکن اس کی کیا کیا صورتیں ممکن ہیں، اسے مسلمانوں کی فراست پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس میں بنیادی بات جس پر زور دینا مقصود ہے۔ اسے سمجھنے کے اہل کتاب کا وہ تاریخی پس منظر جاننا ضروری ہے، جس نے انھیں نفسیاتی عوارض کا مرقع بنادیا تھا۔ وہ پس منظر یہ ہے : پس منظر اہلِ کتاب دین سے بیگانگی کے باعث اپنے انبیائِ کرام اور رسولانِ عظام کی احادیث و سنن کو یکسر فراموش کرچکے تھے۔ یہود کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کہاں ہے ؟ تورات کے آخری باب کا مؤلف خود تسلیم کرتا ہے کہ ” انھیں کوہ موآب کے دامن میں دفن کیا گیا تھا، لیکن آج کوئی شخص اس کا نشان تک نہیں جانتا “۔ رہے ان کی زندگی کے حالات اور ان پر اترنے والی شریعت کی تفصیلات اور اس کی عملی صورت جس کا تعلق ان کی پوری زندگی سے ہے اور جس کی وجہ سے تورات اور شریعتِ تورات کو ایک نظام زندگی کی صورت ملتی ہے اس کا تو شاید کوئی حصہ بھی یہود کے پاس باقی نہیں رہ گیا تھا اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر کتاب کے بارے میں پورے تیقن سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس میں شریعت کے اصول بیان کیے جاتے ہیں، بنیادی عقائد کو واضح کیا جاتا ہے، سفر کی منزل اور جہت مقرر کردی جاتی ہے۔ بعض جگہ احکام کی وضاحت بھی کی جاتی ہے، لیکن بالعموم اصولوں کو تفصیلی شکل دینا اس کو عملی صورت میں ڈھالنا، زندگی کے معاملات پر اس کا انطباق اور اس کو ایک اجتماعی تعامل اور اداروں کی شکل دے کر ضابطہ حیات اور تہذیب و تمدن کی صورت دے دینا، یہ کام ہمیشہ اللہ کے رسولوں نے کیا ہے اور ان کی زندگی کا ایک ایک طریقہ اور ایک ایک بات جسے حدیث اور سنت کہا جاتا ہے وہ درحقیقت دین کو عملی شکل دیتے ہیں۔ یہود چونکہ اس سے بالکل بےبہرہ تھے اس لیے ان کے دنیا دار علماء کو کتاب اللہ میں تحریف اور ترمیم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ اور احکام کو عملی شکل دیتے ہوئے انھوں نے کتاب کو موم کی ناک بنادیا کہ جب چاہا اور جیسے چاہا اسے عملی شکل میں ڈھال لیا۔ اس طرح سے وہ کہنے کو تو اہل کتاب اور حامل کتاب امت تھی، لیکن حقیقت میں وہ دینی اور شرعی ضرورتوں کے اعتبار سے ایک مفلس قوم تھے، جن کے پاس جھوٹے ادعا کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جہاں تک نصاریٰ کا تعلق ہے ان کا اپنا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تینتیس سالہ دنیوی زندگی میں ہم صرف تین سال سے باخبر ہیں۔ ان تین سالوں کی تبلیغی کاوشوں میں چند لوگوں کا دولت ایمان سے منور ہونا اور چند محیر العقول معجزات کا صدور اور یہود کی جانب سے مخالفتوں کے ہجوم میں بالآخر ان کا صلیب تک پہنچنا اور پھر آسمانوں پر اٹھایا جانا، یہ ان کی زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس کا نام عیسائیت ہے۔ انھوں نے اپنے ماننے والوں کو تورات کی شریعت پر چلنے کا حکم دیا تھا، لیکن پال کی سازشوں نے عیسائیت کو پٹڑی سے اتار کر شریعت کی پابندوں سے آزاد کردیا۔ البتہ چند ناقابلِ فہم عقائد اور چند مذہبی رسومات میں ان کو ایسا الجھایا کہ ان کی گرہیں کھولتے ہوئے انھیں دو ہزار سال گزر گئے۔ یہود و نصاریٰ کے دینی اور علمی سرمائے کی اس وضاحت کے بعد آپ کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اسلام جو قرآن و سنت کا مجموعہ ہے جس میں کتاب خداوندی کی ایک ایک آیت اور ایک ایک شوشہ محفوظ ہے اور اس کو عملی شکل دینے، اس کے اجمالات کو کھولنے اور اس کے ابہامات کو واضح کرنے کے لیے سنت کا ایک عظیم ذخیرہ پوری احتیاط کے ساتھ امت کے ہاتھوں میں ہے اور ان دونوں چیزوں نے مل کر جو اسلامی آئین و قانون اور اسلامی تہذیب و تمدن کو تشکیل کیا ہے اس میں ڈیڑھ ہزار سال میں کوئی انقطاع واقع نہیں ہوا۔ امت پر زوال کے ادوار آئے۔ آج پھر وہ ابتلاء سے گزر رہی ہے۔ لیکن دین سے یکسر بیگانگی یا دینی ضرورتوں سے بیخبر ی یا اس سرمائے سے تہی دامن ہوجانے کا خطرہ کبھی آج تک پیش نہیں آیا۔ یوں سمجھئے کہ اسلام اور یہودیت و نصرانیت میں درحقیقت دینی اعتبار سے ایسا ہی فرق ہے جیسا علم اور جہالت میں ہوتا ہے۔ وہ نام مذہب کا لیتے ہیں، لیکن عمل سیکولرازم پر کرتے ہیں۔ اپنی بظاہر شیرازہ بندی، ایک مذہب سے کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی شیرازہ بندی رنگ و نسل کی رہین منت ہے۔ وہ اپنی حکومتوں کا نام یہودی اور عیسائی حکومت رکھتے ہیں، لیکن حکومت چلانے اور اس کو عملی شکل دینے میں یہودیت یا نصرانیت کا دور دور تک کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ان کے گھر کی بےسروسامانی نے انھیں عجیب اشتعال میں مبتلا کردیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ صدیوں سے اپنی بےسروسامانی کا انتقام مسلمانوں کے گھر کی بربادی کی صورت میں لینا چاہتے ہیں۔ چناچہ قرآن کا یہ کہنا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ تمہیں گمراہ کردیں اس کا دراصل مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اپنے دین و شریعت کو اسی طرح بھول جاؤ جیسے وہ بھولے ہیں اور تمہارے پاس بھی بےسروسامانی کی وہی صورت ہو جیسے ان کے یہاں ہے۔ وہ اگرچہ مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، لیکن درحقیقت کسی کو عیسائی بنانے کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس اپیل کرنے والا علم نہیں۔ اس لیے ان کا سارا زور اس بات پر نہیں کہ وہ مسلمانوں کو عیسائی کردیں بلکہ زور اس بات پر ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان نہ رہنے دیں۔ ان کے اپنے علمی اثاثے کی جانب سے انھیں بدگمان کردیں۔ پھر وہ بھی عقل کی پرستش اور خواہشات کی پیروی میں اپنی زندگی کے اہداف مقرر کریں اور ان کے حصول میں وہ تمام شکلیں اختیار کریں جو آج کی عیسائی اور یہودی دنیا اختیار کرچکی ہے۔ تاریخِ گم گشتہ کو چھوڑیئے صلیبی دور کو بھی جانے دیجیے، لیکن ایک صدی یا دو صدی پہلے کے دور کو تاریخ کے آئینہ میں دیکھئے یہ دونوں باتیں آپ کو قدم قدم پر دکھائی دیں گی۔ لارڈمیکالے کی رپورٹ جو جدید تعلیمی نظام کی بنیاد ہے اس میں صاف طور پر یہ کہا گیا کہ ہمارے پیش نظر مسلمانوں کو عیسائی بنانا نہیں (کیونکہ یہ ان کے لیے ممکن نہیں) ہمارے پیش نظر صرف یہ ہے کہ ہم انھیں ایک ایسا نظام تعلیم دیں جس سے فارغ ہونے والا مسلمان تو کہلائے لیکن حقیقت میں مسلمان نہ رہے۔ اس کے دینی سرمائے کی ایک ایک چیز کے بارے میں اسے شک و شبہ میں مبتلا کردیا جائے اور یہی کام ان کے نام نہاد تحقیق و تجسس کرنے والوں نے کیا۔ انھوں نے بظاہر لائبریریوں میں بیٹھ کر غیر جانبدارانہ علمی تحقیق کا ڈول ڈالا۔ لیکن درحقیقت یہ مستشرقین استعمار کے ایجنٹ اور مذہبی مشنری تھے۔ انھوں نے قرآن کریم کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن محفوظ تو ضرور ہے لیکن ابھی تک وہ حقیقی ترتیب سے بیگانہ ہے۔ چناچہ ایک فرضی نزولی ترتیب کے مطابق گزشتہ صدی میں اسے شائع کیا گیا، جس کی پہلی سورة ” سورة الزلزال “ تھی اور اس طرح سے قرآن کریم کے عطا کردہ منظم ضابطہ حیات کو تلپٹ کرنے کی ایک مذموم کوشش کی، جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے۔ پھر انھوں نے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو اپنا ہدف بنایا۔ آپ نے دنیا میں جس طرح کا صالح اور کامیاب انقلاب برپا کیا ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اس کا انکار کرنا چونکہ ممکن نہیں تھا اس لیے آگے بڑھ بڑھ کر اس کی تعریفیں کیں اور آپ ﷺ کی ذات کو ذہانت و فطانت کا مرقع ٹھہرایا اور آپ ﷺ کی کامیابیوں کو آپ ﷺ کی غیر معمولی صلاحیتوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ایک سیدھا سادا مسلمان ان اعترافات کو دیکھ کر نہایت خوش ہوتا ہے کہ میرے نبی ﷺ کی تعریف کی جا رہی ہے۔ لیکن وہ آخر میں پہنچ کر نہایت اطمینان سے ذہن میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کامیابیوں کی تکمیل اور غیر معمولی کارناموں کی تشکیل کو کہیں نبوت کا نتیجہ نہ سمجھ لیا جائے۔ محمد ﷺ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فرد تھے لیکن وہ پیغمبر نہیں تھے اور پھر طریقے طریقے سے منافقین اور فرقہ باطنیہ کے اختراع کیے ہوئے الزامات کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتے چلے جاتے ہیں تاکہ اس سے یہ ثابت کرنا آسان ہوجائے کہ آپ ﷺ یقینا ایک بہت بڑے آدمی ہیں، لیکن پیغمبر نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں اخلاق کی یہ یہ کمزوریاں موجود تھیں۔ منٹگمری واٹ جیسے لوگ جو بظاہر علمی دیانت کے پیکر دکھائی دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں دل کھول کر تعریف کرتے ہیں، لیکن وہ بڑی خاموشی سے اپنے قاری کے ذہن میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ محمد ﷺ یقینا ایک ذہین و فطین اور انتہائی سچے انسان تھے، لیکن ان کے ذہن میں کوئی خرابی تھی جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو نبی سمجھنا شروع کردیا حالانکہ وہ نبی نہیں تھے۔ یہ مختصر سا پس منظر اگر ذہن میں رہے تو ان آیات کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ جس کی بنیاد میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ لوگ دین و شریعت کے اعتبار سے انتہائی مفلس اور بےسروسامان لوگ تھے، لیکن اپنی نسبتوں پر اترانے کی وجہ سے سیرت و کردار کی ایسی خرابیوں کا شکار ہوگئے تھے جس میں سرفہرست حسد کی بیماری ہے۔ چناچہ انہی خرابیوں کے باعث وہ مسلمانوں کا مقابلہ تو نہیں کرسکتے تھے۔ البتہ ! گمراہی کی جتنی شکلیں ممکن ہوسکتی ہیں اور اس کے لیے جیسی کچھ سازشیں کی جاسکتی ہیں، ان میں انھوں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اقبال نے ان کی علمی اور دینی بےکسی اور بےسروسامانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎ کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی سماتی کہاں اس فقیری میں میری سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری ہوئی دین و دنیا میں جس دم جدائی ہوس کی امیری ہوس کی وزیری یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا بشیری ہے آئینہ دار نذیری حسد کی بیماری اس بےسروسامانی نے ان کو جس طرح حسد کا مرقع بنادیا اس کا ذکر بھی قرآن کریم نے متعدد مواقع پر کیا ہے۔ چناچہ حسد کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے جو انھوں نے سازشیں تیار کیں اور جیسی جیسی کمینہ حرکتیں کیں اس سے بھی تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں۔ مختلف مذاہب میں علمی مباحثے اور مناظرے تو ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن جو کچھ یہود و نصاریٰ کرتے رہے ہیں اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً انہی میں سے ایک انتہائی مکروہ حرکت یہ بھی کی گئی جس پر تاریخ آج تک گواہی دیتی ہے کہ ملک شام کی حکومت نے چند یہودیوں کو آلہ کار بنا کر مدینہ طیبہ میں اس غرض کے لیے بھیجا کہ وہ زمین دوز سرنگ لگا کر کسی طرح آنحضرت ﷺ کے جسدِ مبارک کو نکال کے لے آئیں۔ اس کے بعد وہ کیا کرنا چاہتے تھے یہ سوچ کر بھی پسینہ آنے لگتا اور خون کھولنے لگتا ہے۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ وہ یہ خباثت ایک ایسی شخصیت کے بارے میں کر رہے ہیں جو اللہ کے آخری سچے رسول ہیں اور جس کے بعد پروردگارِ عالم نوع انسانی سے کبھی ہمکلام نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ پروردگار اتنی بڑی خباثت کو برداشت کرلیتے۔ چناچہ حضرت نورالدین زنگی (رح) جو اس وقت عراق اور فلسطین کے حکمران تھے انھیں خواب میں یہ صورت حال دکھلائی گئی اور انھوں نے فوراً مدینہ کا رخ کیا اور منزلوں پر منزلیں سر کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے اور ان دو بدبخت یہودیوں کو گرفتار کیا جنھوں نے جنت البقیع سے آنحضرت ﷺ کی قبر اطہر کی طرف سرنگ کھود رکھی تھی، جب انھیں پکڑا گیا ہے تو وہ اپنے مکروہ مقصد کے اس قدر قریب پہنچ چکے تھے کہ حضرت عمر فاروق ( رض) کا پائوں مبارک ننگا ہوچکا تھا کیونکہ جنت البقیع سے سرنگ کھودتے ہوئے پہلی قبر راستے میں حضرت عمر ( رض) کی حائل ہوتی ہے اور اس کے بعد حضرت صدیق اکبر ( رض) ہیں اور پھر وہ ذات رسالت مآب ﷺ ہیں جس کی عظمت سے زمین پر آسمان غش رہا ہے۔ ایک سازش چناچہ یہی وہ ذہنیت ہے جس نے دور نبوت ﷺ میں یہ سازش تیار کی کہ اپنے اندر سے چند ہوشیار لوگوں کو منتخب کیا کہ تم مسلمانوں کے پاس جا کر ان کے رسول کے ہاتھ پر ایمان لائو اور زیادہ سے زیادہ ان سے محبت اور شیفتگی کا اظہار کرو اور چند دنوں تک زیادہ سے زیادہ آنحضرت ﷺ کے گرد و پیش رہ کر آپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرو تاکہ مسلمانوں کو یقین ہوجائے کہ یہ لوگ واقعی آپ ﷺ کے جانثار اور اسلام کے سچے شیدائی ہیں اور پھر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا ایک ہی مرتبہ کرو بلکہ وقفے وقفے سے یہ عمل جاری رکھو اور پھر آہستہ آہستہ اسلام سے نکلنے کا آغاز کردو۔ جب اسلام میں جاؤ تو بلند آہنگی سے جاؤ تاکہ لوگوں کو پتہ چلے اور خوشیاں منائی جائیں کہ یہود کے اہل علم میں سے چند لوگ مسلمان ہوئے ہیں تو یقینا وہ اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی ہوئے ہوں گے۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اوس و خزرج کے لوگ جو اپنی بےعلمی کے باعث ہمیشہ یہو و نصاریٰ کے علم و فضل سے مرعوب رہتے ہیں، وہ جب ان کو ایمان لاتے ہوئے دیکھیں گے تو ان میں جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے ایمان میں استحکام آئے گا اور جو لوگ ابھی تک پس و پیش میں ہیں وہ پوری آمادگی سے اسلام کی طرف بڑھیں گے۔ لیکن پھر اچانک چند دنوں کے بعد تم واپسی کا سفر شروع کردو۔ ایک ایک کر کے اسلام سے برگشتگی کا اعلان کرنا شروع کردو اور جس طرح تم نے جاتے ہوئے محبت و شیفتگی کا اظہار کیا تھا اب نکلتے ہوئے اس سے بڑھ کر برگشتگی، بدگمانی اور خود فریبی کا ذکر کرو کہ ہم سے بڑی بھول ہوئی کہ ہم ایک سراب کو پانی سمجھ بیٹھے، ہم نے جسے آب حیات سمجھا تھا وہ تو آب بلا نکلا۔ ہم نے قریب جا کے دیکھا تو اصل ملمع اترنے لگا۔ جب حقیقت سامنے آئی تو ہم بھونچگا کر رہ گئے۔ حیرت ہوئی کہ اتنا بڑا دھوکا دیا جا رہا ہے کیسا بہروپ دھارا گیا اور نبوت و رسالت کے نام سے کس کامیابی سے ایک کھڑاگ رچایا گیا۔ اس کے نتیجے کے بارے میں بھی وہ یہ توقع کر رہے تھے کہ ایسے چند واقعات مسلمانوں پر قیامت بن کر گریں گے۔ نئے ایمان لانے والوں کی آمد رک جائے گی اور جو لوگ ابھی تک یکسو نہیں ہو سکے وہ بدگمان ہو کر پسپا ہوجائیں گے اور اوس و خزرج کے لوگ جنھیں اہل کتاب کے علم پر بھروسہ ہے وہ بھی بدگمان ہو کر اسلام سے نکل بھاگیں گے۔ اس طرح سے اسلام پیغمبر اور مسلمانوں کی ایسی ہواخیزی ہوگی کہ جس کا تدارک شاید وہ مدتوں تک نہ کرسکیں۔ لیکن اللہ نے کرم فرمایا وہ اپنے دین اور اپنے پیغمبر کا محافظ ہے۔ اس نے بروقت مسلمانوں کو اس سازش سے باخبر فرمایا۔ جس کا یقینا یہ نتیجہ نکلا ہوگا کہ جو لوگ ابھی تک اہل کتاب کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے انھیں اصل حقیقت سے آگاہی ہوگئی جو اہل کتاب کی تمام تر سازشوں کے باوجود ابھی تک نرم گوشہ رکھتے تھے اور اہل کتاب سے اس لیے ملتے جلتے رہتے تھے کہ شاید وہ اسلام قبول کرلیں، انھیں ان کی اصل ذہنیت کا اندازہ کرنے اور اصل حقیقت سمجھنے میں آسانی ہوگئی اور انھیں یقین ہوگیا کہ بظاہر یہ اہل علم اور مشیخیت کے دعویداروں کا گروہ درحقیقت فتنہ پرور اور فسادیوں کی ایک منڈلی ہے جو کسی طرح بھی حالات کو روبہ اصلاح نہیں ہونے دیتی۔