Ayahs 3:90–91اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الضَّآلُّوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْ ئُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَوِفْتَدٰی بِہٖ ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا وَّمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ ع
(جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، یہی لوگ حقیقی گمراہ ہیں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے اگر وہ زمین بھر سونا فدیہ میں دے دیں تو ہرگز ان سے قبول نہیں کیا جائے گا، ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا) (90 تا 91)
گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قانون بیان فرمایا ہے کہ جو قوم من حیث القوم دل کے یقین اور عقل کو مطمئن کرنے والے دلائل کے بعد بھی کفر کا راستہ اختیار کرے تو ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ ایمان کی دولت سے بہرہ ور نہیں فرماتا کیونکہ بار گاہ ایزدی میں عموماً اجتماعی گناہوں کو معاف نہیں کیا جاتا۔ ان پر گرفت ضرور ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی ایک اشارہ فرمایا کہ اللہ کی رحمت چونکہ اس کے غضب پرچھائی ہوئی ہے اس لیے کچھ بعید نہیں کہ اگر کچھ لوگ توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے اور وہ گناہوں کی تلافی کرنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ تلافی کا موقع عطا فرمائے حالانکہ ان کا حقیقی بدلہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کے مستحق سمجھے جائیں۔
ان آیات میں ایک قدم آگے بڑھ کے فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ یقین و ایمان سے بہر ورہ ہونے کے بعد متذکرہ بالالوگوں کی طرح پھر ایمان کی روش اختیار کریں لیکن سابقہ لوگوں سے مختلف ہوتے ہوئے توبہ کا راستہ اختیار نہ کریں بلکہ کفر میں بڑھتے چلے جائیں ہر آنے والا دن ان کے کفر میں اضافہ کا باعث بنے۔ یہ اگر موت کی علامتوں کو دیکھ کر زبان سے توبہ توبہ کہنے لگیں تو ایسے لوگوں کی توبہ کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ در اصل حقیقی طور پر یہی گمراہ ہیں کیونکہ جس طرح ایمان میں استقامت ایمان کو حقیقی بناتی ہے اسی طرح کفر میں آخر حد تک اڑے رہنا اور کسی معقول اور ہدایت کی بات کی طرف توجہ نہ دینا یہ وہ حقیقی کفر ہے جس پر کبھی توبہ کا سایہ نہیں پڑتا اور ایسے ہی کفر کے حامل حقیقی گمراہ لوگ ہیں۔ یہ اگر قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے زمین بھر سونا بھی دے دیں تو تب بھی ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ اور معاوضے کی کوئی صورت ممکن ہے بلکہ یہ ہر طرح کے معاوضے کے امکان کو ختم کرنے کا ایک انداز ہے اور حتمی بات وہی ہے جو آخر میں کہی گئی ہے کہ ان کے لیے عذاب الیم ہے اور یہ ایسے بےبس اور بےکس لوگ ہیں کہ کسی کی مدد ان کے مقدر میں نہیں۔
Ayah 3:92لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط 5 وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔
(تم اللہ کی وفاداری کا درجہ ہرگز حاصل نہیں کرسکتے جب تک تم خرچ نہ کرو ان چیزوں میں سے جنھیں تم محبوب رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو یقینا اللہ اسے جاننے والا ہے) (92)
اس آیت کریمہ میں مختلف باتیں تشریح طلب ہیں جن کے بغیر اس آیت کو سمجھنا آسان نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس آیت میں الْبِرَّ کا لفظ ایک خاص سیاق کلام میں وارد ہوا ہے اور یہی لفظ اس سے ملتے جلتے سیاق کلام میں سورة بقرہ کی آیت 177 میں آچکا ہے۔ مخاطب دونوں جگہ اگرچہ اہل کتاب ہیں لیکن سورة بقرہ میں روئے سخن کا اصل ہدف یہود ہیں اور یہاں سورة آل عمران میں نصاریٰ ہیں۔
دونوں جگہ آپ دیکھیں گے کہ یہود و نصاریٰ پر مکمل اور جامع تنقید فرمانے اور اتمامِ حجت کے بعد یہ بات فرمائی گئی ہے کہ تم الْبِرَّ کو حاصل نہیں کرسکتے ہو۔ الْبِرَّ کو حاصل کرنے کے لیے جن حقائق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے یا جو حقائق الْبِرَّکا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں سورة البقرہ کی آیت نمبر 177 میں انھیں تفصیل سے بیان فرما دیا گیا ہے اور وہاں ہم اپنے طور پر اس کی تشریح بھی عرض کرچکے ہیں۔ یہاں مقصود تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان باتوں کی طرف توجہ دلائی جائے لیکن ان کا دوبارہ ذکر کرنا شاید بلاغت کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ اس لیے جس شخص کی نگاہ بھی اس آیت پر اس لحاظ سے ہوگی کہ یہ اس سورة کریمہ کی آیت ہے جو سورة البقرہ کا تتمہ ہے تو پھر اسے یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں ہونا چاہیے کہ الْبِرَّکے مقدمات اور اس کے نتائج کو یہاں ذکر کیوں نہیں فرمایا گیا۔
سورة البقرہ میں الْبِرَّوالی آیت اس وقت آئی جب یہود کے کاروبارِ مذہب کو پوری طرح بےنقاب کردیا گیا تھا اور انھوں نے اپنے بارے میں ان پڑھ عربوں کے دلوں میں جو خوش فہمیاں پیدا کر رکھی تھیں اور اپنے تقدس اور مشیخیت کا جو رعب ان کے دلوں میں بٹھا رکھا تھا اس کا تاروپود پوری طرح بکھیر دیا گیا تھا اور ان کے بنیادی تصورات کی کمزوریوں اور ان کی اخلاقی خرابیوں کو ایک ایک کر کے اس طرح نمایاں کیا گیا تھا جس سے یہ اندازہ کرنا کوئی مشکل نہ رہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ کی طرف سے حق کی روشنی ملی تھی لیکن انھوں نے اپنے لیے اندھیرے پسند کیے۔ اب اگر یہ اللہ کی طرف سے نئی آنے والی روشنی جو نبی آخر الزماں اور قرآن کریم کی شکل میں ان تک پہنچی ہے۔ اسے قبول نہیں کریں گے تو یہ ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو محروم کردیں گے اور ان کی گزشتہ بد اعمالیاں دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اپنی محرومیوں میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں کریں گے۔
پیشِ نظر آیت کریمہ میں نصاریٰ کو بطور خاص تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے عقائد کی کمزوریوں کو واضح کیا گیا ہے عقلی اور نقلی دلائل سے اس طرح انھیں بےبس کردیا گیا کہ بعد کے سوالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی زبانیں گنگ ہوچکی ہیں۔ پھر انھیں توجہ دلائی گئی ہے کہ اب بھی تمہارے لیے موقع ہے کہ تم اسلام کی دعوت کو قبول کرلو اور تم نے لوگوں کے سامنے جو تقدس کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اسے اتار پھینکو ورنہ یاد رکھو تمہیں اس انجام سے واسطہ پڑنے والا ہے جس میں دنیا بھر کی دولت بھی تمہیں عذاب سے بچا نہ سکے گی۔
اس کے بعد انھیں یاد دلایا گیا ہے کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تمہارا اپنے پروردگار سے جو حقیقی رشتہ ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہارے اور اللہ کے درمیان الْبِرَّ کا تعلق ہونا چاہیے، الْبِرَّ کا ترجمہ عموماً نیکی سے کردیا جاتا ہے۔ لیکن یہ نا مکمل اور ناکافی ترجمہ ہے۔ اس لفظ کی اصل روح ایفائے عہد اور ادائے حقوق و فرائض ہے۔ وہ حقوق و فرائض اللہ کے ہوں یا بندوں کے اس تقسیم سے ان کی حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اللہ کے حقوق جس طرح اللہ کی ذات وصفات اور اس کے احکام سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح بندوں کے حقوق بھی اللہ کے احکام کا نتیجہ ہیں۔ ورنہ بندوں میں سے کوئی بندہ بھی ذاتی طور پر کسی طرح کا استحقاق نہیں رکھتا۔ اس لحاظ سے جب آدمی اللہ کے حقوق ادا کرتا ہے تو تب بھی اللہ سے اپنے تعلق کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے تو تب بھی اللہ کی رضا کے حصول کی فکر کرتا ہے۔ مقصود ہر لحاظ سے اللہ کی ذات ہے۔ اگر اس بات کو سمجھ لیاجائے تو پھر یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ ایک بندے کا اپنے رب سے تعلق تمام تر تعلقات کے حوالے سے وفاداری، نیازمندی اور کمٹمنٹ کا ہے۔ یہود ہوں یا نصاریٰ یہ دونوں اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد کہتے ہیں اور دونوں ملت ابراہیم کے دعویدار ہونے کے داعی ہیں اور دونوں اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کے نبیوں کو جو عظمتیں ملی ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا کی قیادت کا جو منصب ملا ہے وہ ان کے کسی ذاتی رشتے یا ذاتی حیثیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ اللہ سے وفاداری کے حقوق کی ادائیگی کا نتیجہ تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کی ملت پر ہونے کا انھیں دعویٰ ہے ان کے بارے میں یہ خوب جانتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کی رضا کے حصول اور اس سے وفاداری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کیسی کیسی قربانیاں دیں۔ گھر چھوڑا، وطن سے بےوطن ہوئے، قوم نے برداشت نہ کیا، ملکوں ملکوں پھرتے رہے، دنیا بھر کی صعوبتیں اٹھائیں، بیوی اور نوزائیدہ بچے کو وادی غیرذی زرع میں چھوڑ آئے، بیٹا لڑکپن کی عمر کو پہنچا، باپ کی آرزوئوں اور امیدوں کی علامت بننے لگا تو حکم ہوا کہ بیٹے کو ہماری خاطر ذبح کردو۔ عظیم باپ نے اس حکم کی تعمیل میں آستینیں چڑھا لیں۔ زمین پر لٹا کر پوری قوت سے گلے پر چھری چلائی کہ اللہ نے ہاتھ روک دیا اور اس قربانی کو قبول فرمایا۔ اس طرح سے جب زندگی کے تمام امتحانات سے سرخرو ہو کر نکلے تو تب دنیا کی امامت کا شرف حاصل ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے تمام تر مناصب اور ان کی عظمتیں ان کے بر وتقویٰ کا نتیجہ تھیں اور تم نے محض ظاہری دینداری کا لبادہ اوڑھ کر یہ سمجھ لیا ہے کہ تم اللہ کے محبوب بن جاؤ گے۔
الْبِرَّ کے مقام کو حاصل کرنے کے لیے یہاں صرف ایک چیز کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہی ایک چیز ہے جو اہل کتاب کی قلعی کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ یہود کی اصل کمزوری جس سے نصاریٰ بھی بری نہیں اور جو آج تک ان کی علامت بنی ہوئی ہے اور وہ جہاں بھی رہیں اس علامت سے پہچانے جاتے ہیں وہ ان کا بخل اور خست ہے۔ چناچہ ان کی اسی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھا گیا کہ تم جب تک محبوب ترین چیزوں کو اللہ کے راستوں میں خرچ نہیں کرو گے اس وقت تک اللہ سے وفاداری کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ یہود کی تو یہ شہرت رہی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا تو بڑی دور کی بات ہے وہ تو اپنی ذات پر بھی خرچ کرتے ہوئے ہمیشہ خست سے کام لیتے ہیں۔ آج بھی ان کی آبادیاں ان کے بخل اور کمینگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وہ جہاں بھی رہیں گے اپنی اس عادت بد سے ہمیشہ پہچانے جائیں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بھلائی کا راستہ روکنے، خیر کے سرچشموں کو تباہ کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور دنیا کو ہمیشہ کے لیے ایسے مہلک ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے جو انسانیت کی مکمل تباہی کا باعث بنیں ان کی دولت ہمیشہ فراوانی سے لٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن خیر اور بھلائی کی قوتوں کو توانا کرنے کے لیے وہ کبھی ایک پیسہ خرچ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی برائی کے سرچشموں کا وجود ملتا ہے اس کے پیچھے آپ کو یہودی ذہن اور یہودی سرمایہ کار فرما دکھائی دے گا۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ وہ خدا کے ماننے والے لوگ ہیں، لیکن خدا کے انکار پر مبنی کمیونزم انہی کی دماغی کاوش کا نتیجہ ہے۔ وہ اخلاقیات کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن جن مفکروں نے اخلاق کی جڑ ماری ہے وہ انہی کے گھروں سے نکلے ہیں۔ ان کی کتابیں بےحیائی کی تردید کرتی ہیں لیکن دنیا بھر میں بےحیائی کو پھیلانے والا ہر ادارہ انہی کے دودھ سے پلتا ہے۔ انسانوں کی تباہی کے لیے مہلک سے مہلک ہتھیار انہی کی قوت ایجاد کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ نے ان کی اصل بیماری کو نشان زد کیا ہے اور پھر محبوب ترین چیزوں کو مال و دولت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کو عموم کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کہ جس طرح مال و دولت کے معاملے میں ان کا بخل اور یا برائی کی خاطر مال و دولت کا خرچ کرنا ان کی سرشت بن چکا ہے اسی طرح ان کی ذاتی حیثیت ان کے عہدے اور ان کے مناصب اور ان کے دل و دماغ کی صلاحیتیں ہر جگہ برائی کے مراکز کے کام آتی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ یاد رکھو ! تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ تم سازشوں میں اور سازشوں کے ذریعے خرچ کرتے ہو، لیکن اللہ کے علم سے وہ سازشیں مخفی نہیں رہتیں۔ تم نہایت رازداری سے مسلمانوں کی تباہی کے منصوبے بناتے ہو اور ان کی تشکیل پر دماغ لڑاتے ہو اللہ انھیں بھی خوب جانتا ہے اور اگر کہیں نیکی کے ارادے سے کوئی پیسہ خرچ کرتے ہو تو اللہ اس سے بھی واقف ہے جس طرح وہ ہر برائی پر سزا دے گا اسی طرح وہ نیکی پر جزا بھی دے گا۔ جب تک تم ان بنیادی تصورات کو دل و دماغ کا حصہ نہیں بنائو گے اور البر کو اپنی حقیقی منزل قرار نہیں دو گے اور اس کی خاطر تمام ممکن ذرائع کو خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گے اس وقت تک اللہ کے یہاں تمہارا کوئی مقام نہیں ہوگا۔
یہاں تک جو کچھ عرض کیا گیا وہ سیاق کلام کے حوالے سے تھا اور اہل کتاب کے چہرے سے وہ نقاب بھی اتارنا تھا جو انھوں نے اللہ سے اپنے تعلق کے حوالے سے پہن رکھا تھا اور ان کی اس دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ کر ان کے اصل مرض کو بتانا تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت جس طرح اپنا سیاق وسباق رکھتی ہے اسی طرح اپنی ذات میں مستقل حیثیت کی مالک بھی ہے۔ اس آیت کو بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں دونوں حیثیتیں دکھائی دیتی ہیں۔ سیاق وسباق کو تو ہم واضح کرچکے، لیکن مستقل حیثیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ صرف اہل کتاب کا نہیں بلکہ اب اس نئی بننے والی امت یعنی امت اسلامیہ کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر وہ اللہ سے حقیقی تعلق کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتی اور البر کے مقام تک پہنچنا چاہتی ہے تو اس کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی مطلوب اور محبوب چیزوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ انسان کی پسندو ناپسند یکساں نہیں ہوتی۔ لیکن جب اہداف اور مقاصد یکساں ہوں تو پسند و ناپسند میں واجبی سا امتیاز رہ جاتا ہے۔ اس لحاظ سے تمام جائز حلال اور طیب نعمتیں جو اللہ نے انسانوں کو عطا فرمائی ہیں ان میں سے جو نعمت بھی ایک مومن کو زیادہ محبوب ہو اسے اللہ کے راستے میں خرچ کردینا کمال بندگی کے حصول کا ذریعہ ہے اور البر کا یہی تقاضا ہے۔ البتہ ! اس میں دیکھنے کی بات یہ ہوتی ہے کہ نعمتوں میں فرقِ مراتب کبھی تو انسان کی پسند و ناپسند سے ہوتا ہے اور کبھی اسلامی ضرورتوں کے تحت ہوتا ہے۔ معرکہ حق و باطل میں مسلمان فوج اور اسلامی حکومت کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں ہاتھ بٹانا اور آگے بڑھ کر ان میں زیادہ سے زیادہ حصہ ادا کرنے کی کوشش کرنا یہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑی نیکی ہے کیونکہ اس وقت اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ ہر وہ چیز قربان کی جائے جو اسلام کی بالادستی کا ذریعہ بنے اور اگر ملک و ملت کے حالات پرسکون ہوں اور ضرورت اس بات کی ہو کہ تعلیمی ادارے زیادہ سے زیادہ کھولے جائیں تاکہ مسلمانوں میں تعلیمی تناسب بڑھے، ایسی صورت میں تعلیم سے متعلق جس چیز کی بھی ضرورت ہو ان میں سے بہتر سے بہتر چیزوں کو مہیا کرنا کمال بندگی اور البر کا تقاضا ہوگا۔ البتہ ! کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسلمان ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں نازک حالات پیدا کردیتی ہیں یا زلزلے کی شکست و ریخت زندگی دشوار کردیتی ہے یا آفاتِ ارضی و سماوی حالات کی ابتری میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ خرچ کرنے والا اپنے مہنگے کپڑے، اپنی پسندیدہ خوشبو، اپنے نفیس جوتے یا اور کوئی ایسی محبوب چیزیں مشکلات کا شکار لوگوں میں پہنچائے بلکہ اس وقت اگر لوگ وبا سے مر رہے ہیں تو سب سے پسندیدہ چیز دوائوں کا مہیا کرنا ہوگا اور اگر سر پہ چھت نہیں رہی اور لوگ سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں تو خیموں اور بستروں کا مہیا کرنا سب سے بڑی نیکی ہوگی غرضیکہ محبوب چیز کی ایک متعین تعریف بہت مشکل ہے۔ جس طرح خرچ کرنے والا اس کا فیصلہ کرسکتا ہے اسی طرح حالات اس فیصلے میں آسانی پیدا کرسکتے ہیں۔ البتہ ! اگر حالات کا دبائو کسی بات پر مجبور نہ کرتا ہو اور آدمی اپنے طور پر اللہ کو راضی کرنے کے لیے محبوب سے محبوب چیز اس کے راستے میں دینا چاہتا ہے تو پھر اس کا آسان پیمانہ وہی ہے جس کو ہر انسانی طبیعت سمجھتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جیسے ہی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرت ابو طلحہ ( رض) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور میرے پاس سب سے قیمتی چیز میرا وہ باغ ہے جس میں برحأ کنواں بہتا ہے اس سے بہتر میرے پاس کوئی اور چیز نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی حقیقی بندگی اور رضا کے مقام کو حاصل کرنے کے لیے اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دوں۔ آپ اسے قبول فرمایئے اور جہاں چاہیں استعمال میں لایئے۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ ( رض) سے پوچھا کہ تمہارے کوئی اعزا و اقرباء بھی ہوں گے جو اپنی جائز ضرورتیں رکھتے ہوں گے۔ بہتر ہے کہ تم یہ باغ ان میں تقسیم کردو۔ چناچہ آپ ( رض) نے اپنے چچازاد بھائیوں میں اسے تقسیم کردیا۔ یہ باغ بالکل باب مجیدی کے سامنے تھا۔ لیکن موجودہ توسیع میں مسجد کا حصہ بن چکا ہے۔ اسی طرح حضرت زید بن حارثہ ( رض) نے جب یہ آیت سنی تو ان کے پاس ایک بڑا قیمتی گھوڑا تھا۔ انھوں نے لا کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا کہ میں اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ ﷺ نے وہ گھوڑا ان کے صاحب زادے حضرت اسامہ ( رض) کو عطا فرمایا۔ حضرت زید ( رض) کو یہ دیکھ کر ملال ہوا کہ گھوڑا تو دوبارہ میرے ہی گھر میں آگیا ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہارا صدقہ قبول فرما لیا ہے۔ اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت ایسے کئی واقعات پیش آئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت نے مسلمانوں کے مزاج پر خاطر خواہ اثر ڈالا اور وہ اپنی قیمتی چیزیں اللہ کے راستے میں نثار کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔
یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قیمتی چیز کا فیصلہ چیز کو دیکھ کر نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی حیثیت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ بعض دفعہ لاکھوں روپیہ بھی ایک آدمی کے لیے کوئی بڑی دولت نہیں ہوتا۔ لیکن کسی دوسرے دوست کے لیے معمولی چیز بھی بڑی دولت کا درجہ رکھتی ہے۔ جنگ تبوک کے موقعہ پر جب مسلمان بڑھ چڑھ کر جنگی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے انفاق کا ثبوت دے رہے تھے۔ ایک شخص چھوہاروں کی ایک پوٹلی لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضور میرے پاس اس پوٹلی کے سوا کچھ نہیں اور یہ بھی میرے دن بھر کی مزدوری کی اجرت ہے۔ جو میں آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا کہ لوگوں کی داد و دہش سے جو خیرات کا ڈھیر لگ گیا ہے یہ پوٹلی اس ڈھیر پر بکھیر دی جائے تاکہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کا انفاق قبول فرما لے کیونکہ جو قدروقیمت اللہ کی نگاہ میں اس پوٹلی کی ہے وہ اس پورے ڈھیر کی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کو قیمتی بنانے والا وہ جذبہ اور وہ خلوص ہے جو انفاق کا اصل محرک ثابت ہوتا ہے۔
Ayahs 3:93–94کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ ِمنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰۃُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْہَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
(سب کھانے کی چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں مگر وہ جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لی تھیں توراۃ کے نازل ہونے سے پہلے، کہہ دیجیے ! لائو تورات پھر اسے پڑھ کے سنائو اگر تم سچے ہو۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی ظالم ہیں) (93 تا 94)
آنحضرت ﷺ اور امت مسلمہ نے جب اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا وارث قرار دیا اور آنحضرت ﷺ نے اپنا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جوڑا تو یہود نے مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ تم اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر قرار دیتے ہو اور خود کو ان کا وارث سمجھتے ہو حالانکہ تمہارے طور اطوار تو یکسر ان کے خلاف ہیں ملت ابراہیمی میں اونٹ کا دودھ اور اس کا گوشت پوست حرام کیا گیا تھا لیکن تم نہ صرف اسے حلال سمجھتے ہو بلکہ اس کا دودھ اور اس کا گوشت تمہاری پسندیدہ غذا ہے اور مزید یہ کہ اللہ کے راستے میں اس کی قربانی کو تم تقرب الیٰ اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہو اس سے بڑھ کر عجیب بات اور کیا ہوگی کہ جو جانور ملت ابراہیمی میں حرام ہو اور تم اسے نہ صرف حلال سمجھو بلکہ اپنے لیے محبوب جانو اور پھر بھی ملت ابراہیمی سے اپنی نسبت پر فخر کرو۔ قرآن کریم نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر جائز اور طیب چیز اللہ نے بنی اسرائیل پر حلال کی تھی انہی میں سے اونٹ بھی تھا۔ اس کا دودھ اور اس کا گوشت پوست بنی اسرائیل کے لیے حلال ٹھہرایا گیا تھا۔ البتہ ! جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عرق النساء کی تکلیف ہوئی تو انھوں نے اللہ سے نذر مانی کہ یا اللہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوجائے تو میں اپنی محبوب ترین چیز اپنے اوپر ممنوع قرار دے لوں گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں عرق النساء سے شفا بخشی تو آپ نے اپنی نذر کو پورا کرتے ہوئے اونٹ کا گوشت پوست اور اس کا دودھ اپنے اوپر ممنوع قرار دے لیا۔ اسلامی شریعت میں کسی بھی حلال اور جائز چیز کو نذر کے طور پر ممنوع یا حرام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اسے قسم توڑ کر قسم کا کفارہ دینا پڑتا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی شریعت میں اس بات کی اجازت تھی۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کے جواز سے فائدہ اٹھایا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسے ان کا ذاتی معاملہ سمجھا جاتا لیکن بنی اسرائیل کے فقہاء نے اسے پوری امت پر نہ صرف لاگو کیا بلکہ اس کے بارے میں یہ دعویٰ کرنے لگے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت سے اونٹ حرام چلا آتا ہے۔ چناچہ اس کی تردید کرتے ہوئے قرآن کریم نے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت نے اونٹ کو حرام قرار دیا تھا اور یہ حرمت آج تک ہر شریعت میں باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یقینا تورات میں اس کا ذکر ہوگا کیونکہ تورات بنی اسرائیل کی تاریخ بھی ہے اور ان کے دعویٰ کے مطابق اس میں وہی شریعت دی گئی ہے جس کا آغاز ملت ابراہیم سے ہو اتھا، تو پھر تورات نکال کر دکھائو کہ یہ حکم تورات میں کہاں موجود ہے۔ اگر تورات میں یہ حکم مل جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو، لیکن اگر تورات میں یہ حکم نہ ملے تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم نے یہ حکم اپنی طرف سے گھڑا اور اللہ کی طرف منسوب کردیا۔ ایک جھوٹ کا گھڑنا بجائے خود گناہ کبیرہ ہے، لیکن اسے اللہ کی طرف منسوب کرنا تو بہت بڑا گناہ ہے جس کا تم ارتکاب کر رہے ہو۔
بعض اہل تحقیق نے ٹھیک کہا ہے کہ تورات میں ملت ابراہیمی کے خلاف جن طیبات کو حرام ٹھہرایا گیا ہے وہ تین قسم کی ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو محض یہود کے فقہاء کے ذوق تحلیل و تحریم اور ان کی موشگافیوں کی پیدا کردہ ہیں۔ انھوں نے اپنے فتویٰ کے تحت کسی چیز کو حرام ٹھہرایا اور بعد میں ان کا یہی فتویٰ تورات میں شامل ہو کر اس کا ایک جزو بن گیا اور اس طرح فقیہوں کے ایک فتوے نے کتاب الٰہی کی حیثیت حاصل کرلی۔ تورات میں اس قسم کے جو گھپلے ہوئے ہیں ان پر یہاں بحث کا موقع نہیں ہے، ان کا تعلق تورات کی تاریخ سے ہے اور یہ ایک الگ موضوع ہے۔ دوسری وہ ہے جو یہود کی سرکشی ان کی کٹ حجتی اور ان کی سوال بازی کے سبب سے حرام ہوئی۔ انھوں نے کسی چیز کو متعین کرانے میں اتنے سوالات اٹھائے کہ ان کے لیے جواز کی راہ تنگ سے تنگ ہوتی چلی گئی اور اچھی بھلی طاہر و طیب چیزیں بھی ان کے لیے حرام ہو کر رہ گئیں۔ تیسری وہ ہیں جن سے احتراز و اجتناب کا تصور ان کے ہاں بزرگوں سے چلا آرہا تھا۔ مثلاً بعض چیزیں حضرت یعقوب کسی احتیاط یا محض طبعی و ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہود نے اس طرح کی چیزوں کا سرا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا دیا اور ان کی حرمت بھی تورات کی محرمات کی فہرست میں شامل ہوگئی۔
یہی وہ حرمتیں ہیں جن کو قرآن میں اصر و اغلال سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہود کے صحیفوں میں ملت ابراہیم پر مبعوث ہونے والے پیغمبر کے بارے میں یہ پیشگوئی موجود تھی کہ جب وہ آئیں گے تو یہود کے تمام طیبات کو حلال کریں گے اور جو طوق و سلاسل انھوں نے اپنے اوپر لاد رکھے ہیں ان سے ان کو نجات دیں گے۔
Ayah 3:95قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ قف فَاتَّبِعُوْا مِلَّـۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔
(آپ کہہ دیجیے ! سچ فرمایا ہے اللہ نے پس پیروی کرو تم ملت ابراہیم کی جو حنیف تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا) (95)
یعنی قرآن کریم تمہیں جس بات کی راہنمائی دے رہا ہے یہی اللہ کی صحیح تعلیم ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ سراسر اللہ پر جھوٹا بہتان ہے۔ اس لیے اپنی خرافات کو ملت ابراہیم ثابت کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس ملت ابراہیم کی پیروی کرو جس کی دعوت نبی کریم ﷺ دے رہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ سراسر اللہ کی بندگی پر قائم تھا اور وہ اس باب میں بالکل یکسو تھے۔ نہ انھوں نے اس راہ سے دوسری پگڈنڈیاں نکالیں اور نہ وہ مشرکین میں سے تھے۔
Ayahs 3:96–97اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ ج فِیْہِ اٰیٰتٌ م بَـیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْـٰرہِیْمَ 5 ج وَمَنْ دَخَلَـہٗ کَانَ اٰمِنًا ط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْـبَـیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰـلَمِیْنَ ۔
(بےشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور ہدایت تمام جہان والوں کے لیے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہوگیا وہ مامون ہوگیا اور جو لوگ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان کے اوپر اس گھر کا حج ہے اور جس نے کفر کیا تو اللہ بےپرواہ ہے جہان والوں سے) (96 تا 97)
گزشتہ بعض آیات کریمہ میں یہود کی بعض خیانتوں کا افشا کیا گیا ہے اور اسی حوالے سے ان کے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ انھوں نے تورات میں جو خیانتیں کی ہیں ان کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا رشتہ کسی طرح بیت اللہ اور مکہ معظمہ سے کاٹ دیا جائے اور تورات میں جو فضائل بیت اللہ کے حوالے سے ذکر فرمائے گئے ہیں ان کا مصداق بیت المقدس کو ٹھہرایا جائے۔ نیز یہ بھی ثابت کیا جائے کہ آخری آنے والے پیغمبر وہ بنی اسرائیل میں سے ہوں گے اور ان کا مرکز یہی بیت المقدس ہوگا۔ ان تمام باتوں کی اصلاح کے لیے بیت اللہ کی تاریخ کے چند ابواب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ دنیا میں جس گھر کو اللہ کے گھر کی حیثیت سے قدامت کا شرف حاصل ہے اور جو ہمیشہ سے انسانوں کی سجدہ گاہ چلا آرہا ہے اور جس کے طواف اور زیارت کے لیے دنیا کے دور دراز گوشوں سے لوگ کشاں کشاں آتے رہے ہیں وہ یہی اللہ کا گھر ہے جو مکہ معظمہ میں آباد ہے۔
مکہ اور بکہ کی تشریح
اس آیت کریمہ میں مکہ کو بکہ کے تلفظ کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ قدیم صحیفوں میں اس کا یہی نام آیا ہے اور آج بھی یہ لفظ شہر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً بعلبک مشہور شہر ہے جس کا تاریخ کی عام کتابوں میں ذکر ملتا ہے۔ اس کا معنی ہی یہ ہے کہ ” بعل کا شہر “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ بابل سے تشریف لائے تھے اور بابل کی زبان میں شہر یا آبادی کو ” بکہ “ کہتے ہیں۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس شہر کے لیے اپنی زبان کا لفظ پسند فرمایا۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں اسی اصل لفظ کو زندہ فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ اہل کتاب نے اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ اور آخری بعثت کے نشانات کو گم کرنے کے لیے اس لفظ کے تلفظ اور قرأت میں سو طرح سے تغیرات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ اسے تحریف کی سان پر چڑھا کر بکہ کی بجائے ” بکاء “ بنایا اور اس کو مصدر قرار دے کر اس کا ترجمہ رونا کردیا اور اس طرح وادی بکہ کو رونے کی وادی میں تبدیل کر کے اس سب سے بڑے نشان کو گم کرنے کی کوشش کی جس سے لوگوں کو نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں رہنمائی مل سکتی تھی۔ قرآن کریم نے بکہ کا لفظ بول کر قدیم نام کی یاددہانی کی ہے جو تورات کے صحیفوں میں موجود تھا بلکہ بعض صحیفوں، مثلاً زبور میں اب بھی موجود ہے۔
سب سے پہلا اللہ کا گھر
چناچہ یہی وہ گھر ہے جو سب سے پہلے روئے زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔ بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم و حوا (علیہ السلام) کے دنیا میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو وحی الٰہی کے ذریعے حکم دیا کہ وہ اللہ کا گھر بنائیں۔ چناچہ انھوں نے حکم کی تعمیل کی، پھر انھیں حکم دیا کہ اس کا طواف کریں اور ان سے یہ بھی کہا گیا کہ یہ وہ گھر ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی بناء کردہ یہ تعمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ تک باقی تھی۔ طوفانِ نوح میں منہدم ہوگئی اور رفتہ رفتہ اس کے نشانات مٹ گئے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی بنیادوں کو اللہ کے دیئے ہوئے علم سے تلاش کر کے ان پر اس گھر کی عمارت اٹھائی۔ اسی لیے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس گھر کی ابتدائی طور پر تعمیر کی بلکہ فرمایا :
وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمَاعِیْلُ
(اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے)
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بنیادیں پہلے موجود تھیں ان پر دیواریں چنی جا رہی تھیں۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں اور بھی واضح اشارہ فرمایا ہے :
وَاِذْ بَوَّأْنَا لِاِبْرَاہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ
(جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کی جگہ کا ٹھکانہ بتایا)
اسی علم کی روشنی میں آپ نے وہ بنیادیں تلاش کیں اور اس کے اوپر عمارت تعمیر کی۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ پھر کسی حادثہ کے باعث بیت اللہ کی عمارت منہدم ہوگئی تو قبیلہ جرہم کی ایک جماعت نے اس کی تعمیر کی۔ پھر ایک دفعہ ضرورت پیش آئی تو عمالقہ نے اس کو تعمیر کیا۔ پھر سیلاب کی وجہ سے اس کی دیواریں پھٹ گئیں تو قریش نے رسول اللہ ﷺ کی قبل از نبوت زندگی میں اسے بنایا اور آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود اس کی جگہ پہ رکھا۔ لیکن قریش نے اس نئی تعمیر میں کچھ تبدیلیاں بھی کیں، انھوں نے اپنے اوپر پابندی لگائی تھی کہ اللہ کے اس گھر کی تعمیر میں حلال کمائی کے سوا کوئی اور پیسہ نہیں لگایا جائے گا۔ چناچہ اس طرح جو ان کے پاس مصارف جمع ہوئے وہ اتنے نہ تھے کہ پورا گھر اس سے تعمیر ہوسکتا۔ چناچہ انھوں نے بیت اللہ کا ایک حصہ جسے حطیم کہا جاتا ہے۔ اسے بیت اللہ سے باہر چھوڑ دیا اور مزید یہ کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تعمیر کردہ کعبہ میں دو دروازے تھے ایک داخل ہونے کا اور دوسرا پشت کی جانب باہر نکلنے کا۔ قریش نے صرف مشرقی دروازہ کو باقی رکھا اور مزید تغیر یہ کیا کہ دروازہ سطح زمین سے کافی بلند کردیا تاکہ کوئی شخص بدوں اجازت آسانی سے اندر نہ جاسکے۔
زندگی کے آخری دنوں میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ موجودہ تعمیر کو منہدم کر کے اسے بنائِ ابراہیمی کے مطابق بنا دوں۔ لیکن نو مسلم لوگوں کی وجہ سے میں احتیاط کرتا ہوں کہ کہیں وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس میں کوئی تبدیلی نہ فرمائی۔ حضرت عبدللہ بن زبیر ( رض) کو چونکہ آنحضرت ﷺ کی اس خواہش کا علم تھا چناچہ جب وہ مکہ مکرمہ پر حکمران ہوئے تو انھوں نے آنحضرت ﷺ کی خواہش کے مطابق از سر نو بیت اللہ کی تعمیر کی۔ لیکن جب وہ شہید کردیئے گئے تو حجاج بن یوسف اور اس کی حکومت کو چونکہ آپ ( رض) کا ہر فعل ناپسند تھا اور وہ کسی طور یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کا یہ کارنامہ تادیر باقی رہے چناچہ انھوں نے لوگوں میں یہ مشہور کردیا کہ عبداللہ بن زبیر ( رض) نے کعبہ کی نئی تعمیر اپنی خواہش کے مطابق کی ہے۔ اس لیے ہمیں دوبارہ کعبہ کو ویسا ہی بنادینا چاہیے جیسا حضور ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ چناچہ انھوں نے بیت اللہ کو گرا کر پھر اسی طرح بنادیا جیسے قریش نے بنایا تھا۔ اس کے بعد بنی عباس کی حکومت نے اسے ازسرنو بیت ابراہیمی کے مطابق بنانے کا اظہار کیا تو امام مالک (رح) نے یہ فتویٰ دیا کہ اب بار بار بیت اللہ کو منہدم کرنا اور بنانا مستقبل کے بادشاہوں کے لیے بیت اللہ کو کھلونا بنادینا ہے۔ اس طرح سے ہر بادشاہ اپنی ناموری کے لیے اس کی اس سرِ نو تعمیر کرنا چاہے گا اس لیے اب جس حالت میں ہے اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا بہتر ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اہل کتاب نے مختلف طریقوں سے بیت المقدس کو بیت اللہ سے قدیم ثابت کرنے کی کوشش کی حالانکہ دنیا کے تمام مؤرخین جانتے ہیں کہ بیت المقدس کی تاریخ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سینکڑوں سال بعد حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہوئی ہے اور اس حقیقت کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جس کو عصبیت نے اندھا کر رکھا ہو۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
ایک حدیث سے غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ مناسب ہے کہ اسے بھی ذکر کردیا جائے۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ذر ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ دنیا کی سب سے پہلی مسجد کونسی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام یعنی کعبہ شریف۔ انھوں نے عرض کیا اس کے بعد کون سی مسجد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بیت المقدس۔ پھر دریافت کیا کہ ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا چالیس سال کا۔ اس کے عموماً دو جواب دیئے جاتے ہیں اور امکان یہ ہے کہ دونوں صحیح ہوں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پہلے بیت اللہ تعمیر کیا اور اسکے بعد کسی وقت انہی کے ہاتھوں بیت المقدس کی تعمیرہوئی۔ یہ دونوں اللہ کے گھر طوفانِ نوح سے منہدم ہوگئے۔ بیت اللہ کی تعمیر دوبارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں وجود میں آئی، لیکن بیت المقدس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سینکڑوں سال بعد دنیا میں تشریف لائے اور دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دونوں گھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہی تعمیر کیے تھے پہلے بیت اللہ اور پھر بیت المقدس، لیکن بیت المقدس کے مسمار ہونے کے بعد پھر اس کی دوبارہ تعمیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہوئی۔ کوئی سی بھی صورت رہی ہو اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ بیت ابراہیمی کو قدامت کا شرف حاصل ہے۔
بیت اللہ کی برکات
دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے گھر کو مبارک بھی بنایا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بھی۔ جہاں تک برکات کا تعلق ہے وہ ظاہری بھی ہیں اور معنوی بھی۔ ظاہری برکات کو تو اس گھر کے وجود سے لے کر آج تک ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھتی چلی آئی ہے کہ مکہ معظمہ ایک خشک جگہ ریگستان میں آباد ہے جس کی زمین اس حد تک بنجر ہے کہ اس میں کوئی چیز نہیں اگتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے دعائے ابراہیمی سے ایسا انتظام فرمایا ہے کہ ہر موسم میں ہر طرح کے پھل، ترکاریاں اور تمام ضروریات اس قدر افراط کے ساتھ موجود رہتی ہیں کہ آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہاں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی اور پھر حج کے ایام میں تو لوگوں کی تعداد ہمیشہ سے ہزاروں سے متجاوز رہی ہے اور اب تو یہ تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے، لیکن تاریخ ہمیں نہیں بتلاتی کہ کسی دور میں بھی وہاں ضروریات ِ زندگی کی کمی کا شکوہ پیدا ہوا ہو۔
یہ بھی تاریخ کی ایک حقیقت ہے کہ عرب کی سرزمین ہمیشہ سے فتنہ و و فساد کا مرکز رہی ہے۔ قبائل کی دشمنیوں نے اسے ہمیشہ جہنم بنائے رکھا، لیکن اس کے باوجود اشہر حرم میں بطور خاص اور باقی مہینوں میں بطور عام قافلہ ہائے تجارت کا آنا جانا اور ہر ملک سے سامان کی آمد و رفت ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جس کی ظاہر بین نگاہ کوئی توجیہ نہیں کرسکتی۔ لیکن حقیقت بین جانتے ہیں کہ یہ مکہ معظمہ میں جو ایک چوکور سادہ سا مکان قبا پہنے کھڑا ہے یہ اس سے عقیدت کی برکات ہیں اور اس کے مالک کی عنایات ہیں کہ اس نے جزیرہ عرب کے رہنے والوں کو اپنی تمام خرابیوں کے باوجود اس گھر کی برکتوں سے محروم نہیں ہونے دیا۔
جہاں تک معنوی برکات کا تعلق ہے اس میں بعض باتیں تو بالکل واضح ہیں کہ حج اور عمرہ اسی گھر کے ساتھ مخصوص عبادت ہے جس کے اجروثواب کی کوئی انتہا نہیں اور پھر اس گھر میں پڑھے جانے والی نماز اور طواف اپنے اندر جو اجر وثواب رکھتے ہیں وہ بھی اہل علم سے مخفی نہیں اور اس کی وہ روحانی برکتیں جسے صرف اہل دل دیکھ سکتے ہیں، ان کا تو کوئی حد و شمار نہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس گھر کی روحانی برکتوں نے جزیرہ عرب کو کتنا نوازا اور ان کے واسطے سے دنیا کو کیا کچھ دیا۔
بیت اللہ میں واضح نشانیاں
دوسری آیت کریمہ میں چند واضح نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن میں سے تین نشانیاں تو اس آیت کریمہ میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ کتنی ایسی نشانیاں ہیں جنھیں دیکھنے والی نگاہ دیکھ سکتی ہے۔ آیت کریمہ میں متذکرہ نشانیوں کے علاوہ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی گھر کی برکت سے اہل مکہ کو ہمیشہ مخالفین کے حملوں سے محفوظ رکھا۔ ابرہہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر مکہ پر حملہ آور ہوا۔ اس کی افرادی قوت کا مقابلہ پورے جزیرہ عرب کے بس کی بات نہ تھی اور مزید یہ کہ اس کے ساتھ ایک بہت بڑی تعداد ہاتھیوں کی بھی تھی جس کا عربوں کے پاس کوئی توڑ نہ تھا۔ لیکن تاریخ شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے ذریعے اس عظیم لشکر پر ایسی سنگ باری کرائی کہ اس کا بھرکس نکال کر رکھ دیا اور سوائے اکا دکا آدمیوں کے کوئی شخص زندہ واپس اپنے وطن نہ جاسکا۔
وہاں امن و اطمینان کا عالم یہ رہا ہے کہ وحشی جانور تک حدود حرم میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے۔ یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ بیت اللہ کی جس جانب بارش ہوتی ہے اس جانب کے ممالک زیادہ بارش سے سیراب ہوتے ہیں۔
سید جلال الدین سیوطی ( رح) نے خصائص کبریٰ میں بھی اس کا ذکر فرمایا اور ہر حاجی اپنی نگاہوں سے بھی دیکھ سکتا ہے کہ ہر حاجی تین دن جمرات پر کنکریاں پھینکتا ہے۔ حاجیوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ کروڑوں سے زیادہ تعداد میں یہ کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ ایک ہی دن میں وہاں کنکریوں کے ڈھیر لگ جائیں اور جمرات کنکریوں کے ڈھیر میں چھپ جائیں اور چند سالوں میں وہاں منیٰ کے دوسرے پہاڑوں سے بڑے پہاڑ کھڑے ہوجائیں۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ کنکریاں مارنے والے روزانہ دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک مختصر تعداد کے سوا باقی سب کنکر غائب ہوجاتے ہیں اور وہاں رہ جانے والے کنکر وہ ہوتے ہیں جن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ کنکر ان لوگوں کے ہیں جن کا حج قبول نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ کنکر اٹھانے کے لیے آج کل تو معلوم نہیں گزشتہ سالوں تک تو حکومت کی طرف سے کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا تو پھر آخر یہ کنکر کہاں چلے جاتے ہیں ؟ اس کا سیدھا اور صاف جواب یہ ہے کہ یہ اس کے گھر کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور آنحضْرت ﷺ کے معجزات میں سے ایک زندہ معجزہ ہے کہ کنکر اللہ کی جانب سے اٹھا لیے جاتے ہیں۔
آیتِ کریمہ میں بیان کردہ تین نشانیاں
جن نشانیوں کو قرآن کریم نے ذکر کیا ہے ان میں سب سے بڑی نشانی ” مقامِ ابراہیم “ ہے۔ مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی دیواریں اٹھائیں۔ یہ پتھر ” گو “ کا کام دیتا تھا۔ حسب ضرورت اوپر اٹھتا جاتا اور پھر خود بخود نیچے آجاتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ اس پتھر پر کھڑے ہو کر پتھر چنتے اور دیواریں اٹھاتے تھے۔ اس لیے یہ پتھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں میں پگھل گیا اور آپ کے دونوں قدموں کے نشانات اس پتھر میں ثبت ہوگئے۔ آج بھی وہ پتھر کعبۃ اللہ کے ساتھ موجود ہے۔ پہلے یہ بالکل دیوارِ کعبہ کے ساتھ تھا اب پیچھے ہٹا دیا گیا ہے تاکہ طواف کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ اس حکومت نے ایک بلوری خول کے اندر اس کو محفوظ کردیا ہے۔ وہ بلور اتنا صاف ہے کہ اس سے صاف وہ پتھر اپنی گہرائی سمیت بڑی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پچھلی صدیوں میں چونکہ یہ پتھر باہر رہا تو لوگ برکت کے حصول کے لیے اس میں پانی ڈال کے پیتے، اس پر ہاتھ پھیرتے، اسے چومتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی گہرائی گہری ہوتی چلی گئی۔ اس لیے اس حکومت نے اسے انسانی دسترس سے بچا کر پیتل کی تاروں میں ایک صاف ستھرے بلور کے خول میں بند کر کے رکھ دیا ہے تاکہ لوگوں کے چھونے سے خراب بھی نہ ہو اور لوگ اپنی عقیدت کی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے کے لیے آسانی سے دیکھ بھی سکیں۔
دوسری نشانی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ” اس میں جو شخص داخل ہوتا ہے وہ مامون اور محفوظ ہوجاتا ہے “۔ کسی کے باپ کا قاتل بھی وہاں بیٹے کے ہاتھوں غیر محفوظ نہیں ہوتا۔ اس محفوظ ہونے کے حوالے سے شریعت کے احکام یہ ہیں کہ جو شخص مسجد حرام میں داخل ہوجائے اسے نہ ستائو نہ قتل کرو۔ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر کے یا کوئی اور جرم کر کے وہاں چلا جائے تو اسے حدود حرم میں سزا نہ دی جائے بلکہ اسے وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جائے۔ جب وہ حرم سے باہر نکلے تو باہر آنے پر اس پر سزا جاری کی جاسکتی ہے اور جہاں تک تکوینی طور پر اس حفاظت کا تعلق ہے آج تو شائد اس کے مظاہر کم کم دکھائی دیں لیکن وہ زمانہ جو انسان کی بہیمیت اور بدتہذیبی کا زمانہ ہے اس میں تو ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھ سکتی تھی کہ وہاں اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو دیکھ کر بھی نگاہیں جھک جاتی تھیں۔ اس گھر کا ادب ایک ایسی رکاوٹ بن گیا تھا جس کی وجہ سے آدمی کے جذبات بےقابو نہیں ہوتے تھے بلکہ اگر اس کا اندیشہ بھی ہوتا تو ہر شخص اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتا۔
تیسری اس کی خصوصیت اور نشانی اس آیت کریمہ میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص پر جس کے پاس مصارفِ سفر ہوں اور جس کی صحت اور حالات سفر کی اجازت دیتے ہوں اس پر اس گھر کا حج فرض فرمایا “۔ ایک ایسی سرزمین جس میں دلچسپی کا کوئی ذریعہ نہ ہو، جس میں بظاہر خوبصورتی کا کوئی منظر ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا ہو اور جس کا موسم بھی ہر ملک کے رہنے والوں کے لیے سازگار نہ ہو اور حج کی عبادت بھی بجائے خود ایک مشکل عبادت ہو، لیکن اس کے باوجود ہر سال لوگوں کا دیوانہ وار وہاں پہنچنا اور جو پہنچ نہ سکیں ان کا پہنچنے کے لیے تڑپنا اور وہاں پہنچ کر پروانوں کی طرح اللہ کے گھر کے پھیرے لگانا اور زیادہ سے زیادہ طواف کرنے کی کوشش کرنا، ایک ایسا منظر ہے کہ جس کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ اس گھر کی خصوصیت ہے جو اللہ نے اس میں پیدا کردی ہے۔ ایک سیدھا سادھا سا گھر جو قبا پہنے کھڑا ہے اسے دیکھنے سے آنکھوں میں ٹھنڈک اترنے لگتی ہے۔ اس کا تصور کرنے سے دلوں کے جذبات بےقابو ہونے لگتے ہیں۔ اس کے گرد چکر لگانے سے عشق و جنوں کی وارفتگی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے ملتزم سے چمٹنے سے دل کی کدورتیں دھلتی اور دل میں آسودگی کی شبنم برسنے لگتی ہے۔ اس کے کنویں کا پانی پیتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آدمی کوثر و تسنیم کے جام پی رہا ہے۔ کوئی ممکن ہے یہ سمجھے کہ یہ کیفیتیں مذہب نے پیدا کی ہیں۔ لیکن اسلام کے آنے سے پہلے کی تاریخ کھنگال کر دیکھ لیجئے آپ کو افراط وتفریط ضرور دکھائی دے گی لیکن جہاں تک عشق کی وارفتگی کا تعلق ہے اور اس گھر کی خصوصیات کا تعلق ہے اس میں کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب حکم دیا گیا تھا کہ آپ ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پکاریئے کہ وہ اس گھر کا طواف کرنے کے لیے آئیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حیران ہو کر کہا تھا کہ یا اللہ یہاں میری آواز سننے والا کون ہے ؟ میری آواز تو ٹیلوں میں گم ہو کر رہ جائے گی تو اللہ نے فرمایا تھا کہ تم پکار کے تو دیکھو پھر دیکھنا کہ کس طرح تنگ اور دشوار گزار راستوں سے مریل سے مریل اونٹنیوں پر سوار ہو کر لوگ دیوانہ وار یہاں پہنچتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس زمانے سے لے کر جس زمانے کو ہم نہیں جانتے آج تک اس گھر کی کشش اور عقیدت میں اضافہ ہی ہوا ہے کوئی کمی نہیں آئی۔ سچ کہا تھا ریاض خیر آبادی نے ؎؎
کوئی تو بات ہے آخر کو میکدے میں ضرور
جو دور دور سے میخوار آکے پیتے ہیں
انڈیا کے ایک عمر رسیدہ شاعر سے میں یہ سن کر حیران رہ گیا جو بحری جہاز پر آئے تھے۔ انھوں نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا ؎
کہاں میری قسمت عنایت ہے ان کی سفینے پہ ان کے چلا جا رہا ہوں
ہوائوں کی بخشش لیے جا رہی ہے حرم کی کشش کے مزے پا رہا ہوں
Ayah 3:98قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَـکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ صلے ق وَاللّٰہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ۔
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! اے اہل کتاب تم اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس پر جو کچھ تم کر رہے ہو) (98)
گزشتہ آیات میں قرآن کریم نے مختلف پہلوئوں سے اہل کتاب پر تنقید بھی کی اور ان کے بعض اعتراضات کا جواب بھی دیا اور پھر ان کے بنیادی سوال کو جس پر ان کی پوری تاریخ اور آنحضرت ﷺ اور اسلام کی مخالفت کا انحصار ہے۔ سوال کا ذکر کیے بغیر چھیڑا ہے اور نہایت پہلو دار طریقہ سے اس کا جواب دیا ہے۔ یہود کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا وارث کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا تھا وہ مکہ معظمہ میں واقع بیت اللہ ہے بیت المقدس نہیں اور وہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا مرکز بنایا وہیں آخری نبی کی بعثت کے لیے دعائیں مانگیں، وہیں سے آخری امت کے اٹھائے جانے کی التجا کی اور وہی گھر ہمیشہ کے لیے نوع انسانی کی ہدایت کا مرکز بنایا، یہ تمام دعوے اور تمام حقائق صحیح نہیں حالانکہ ان تمام حقائق کا ذکر تورات میں موجود ہے۔ یہود نے انھیں غلط ثابت کرنے کے لیے کہیں تحریف کی، کہیں ترمیم کی، کہیں بعض الفاظ کا تلفظ بگاڑا۔ گزشتہ دو آیتوں میں بیت اللہ سے متعلق حقائق کو ثابت کر کے یہود کے تمام دعو وں کا تاروپود بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ اب حقیقت میں ان کے پاس کوئی ایسی علمی دلیل نہیں جسے وہ بنیاد بنا سکیں۔ لیکن حقیقت کے اسقدر واضح ہوجانے کے بعد بھی ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ برابر اپنے انکار پر قائم ہیں۔
چناچہ ان کے اسی انکار پر تنبیہ اور ملامت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر ان سے کہئے کہ تم تو اہل کتاب ہو، اُمی عرب جو کوئی علمی اور مذہبی بنیاد نہیں رکھتے وہ جیسی کیسی بھی حرکتیں کریں، انھیں ملامت کرنا مشکل ہے۔ لیکن تمہارے پاس کتاب کی روشنی موجود ہے۔ تم صدیوں سے کتاب اللہ کے وارث ہو اور تمہارے اہل علم خوب جانتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے اور تم نے اسے کس طرح بدلا ہے۔ اس کے باوجود تم اگر کفر کا رویہ بدلتے نہیں ہو تو تمہیں ملامت کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے اور تم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہو کیونکہ اہل کتاب ہوتے ہوئے بھی یہ باتیں تمہارے لیے اجنبی نہیں ہیں کہ اللہ ہر جگہ اور ہر وقت ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے۔ سمندر کی گہرائیوں میں کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو وہ اسے جانتا ہے۔ صحرا کی وسعتوں میں کوئی پتہ گرتا ہے تو اللہ اس سے واقف ہے۔ کسی درخت پر کوئی کونپل نکلتی ہے تو وہ اللہ کی نگاہوں میں ہے۔ اسی طرح تمہارا ہر عمل اس کے سامنے ہے۔ تمہاری کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی تم اللہ کی آیات سے انکار کی جرأت کیسے کرتے ہو۔ ایک معمولی قوت کے مالک حکمران کی داروگیر سے کوئی محکوم بےنیاز نہیں رہ سکتا۔ ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر اسے میرے کرتوتوں کی خبر ہوگئی تو پھر میری خیر نہیں۔ لیکن تم اللہ جیسے حکمران جس کی حکومت کی گرفت میں پوری کائنات جکڑی ہوئی ہے کی بازپرس سے اس حد تک بےنیاز ہو کہ اسی کی کتاب کو تم نے نشانہ بنا رکھا ہے اور اسی کے پیغمبر تمہارے مشق ستم بنے رہتے ہیں۔ سوچ لو کل کو ان باتوں کا کیا جواب دو گے ؟
Ayah 3:99قُلْ یٰٓـاَہْلَ الْـکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَہَا عِوَجًا وَّاَنْـتُمْ شُہَدَآئُ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔
(کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ! تم اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو، ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں۔ تم اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہو حالانکہ تمہیں گواہ بنایا گیا تھا اور اللہ باخبر ہے اس سے جو کچھ تم کرتے ہو) (99)
مزید شرم دلائی گئی ہے
گزشتہ آیت کریمہ کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ تم نہ صرف خود اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو بلکہ تمہاری جسارتوں کا عالم یہ ہے کہ تم ہر ایمان لانے والے شخص کو اللہ کے راستے سے روکنے کی کوشش کرتے ہو۔ سادہ دل مومنوں کے دلوں میں تم طریقے طریقے سے بدگمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ ان کے دلوں میں عجیب و غریب شبہات پیدا کرتے ہو۔ نئے نئے ایمان لانے والے چونکہ ابھی زیر تربیت ہیں اور ان کی اسلامی معلومات بھی ابھی تک بہت محدود ہیں، تم اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں اپنی علمی برتری سے مرعوب کر کے ان کا راستہ بدلنا چاہتے ہو۔ تمہارے پیش نظر صرف یہ ہے کہ تم مسلمانوں کے سامنے ایسی اڑچنیں کھڑی کردو جن سے وہ آسانی سے نکل نہ سکیں اور تم یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس بات کو بھول جاتے ہو کہ تمہاری اصل حیثیت شہدائے حق کی ہے۔ وہ ایک ہی حق ہے جو کبھی ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوا، کبھی موسیٰ (علیہ السلام) پر، کبھی عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور آج وہی حق محمد کریم ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ تم صدیوں تک اس حق کی شہادت اور گواہی پر مامور رہے ہو۔ تمہیں اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے نہ صرف حق کو قبول کرنا تھا بلکہ اس کی گواہی بھی دینا تھی اور تمہاری کتاب نے اس گواہی کے لیے تم سے عہد بھی لیا تھا۔ لیکن تمہاری سرکشی اور نقض عہد کی کیا توجیہ کی جائے کہ تم سب کچھ بھول چکے ہو اور تمہیں اسلام کی دشمنی نے ہر چیز سے بیگانہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اب تمہارے سامنے اللہ کے رسول کی مخالفت کے سوا اور کوئی ہدف نہیں۔ لیکن یہ مت بھولو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ سے ہرگز مخفی نہیں ہے۔