3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayahs 3:126–127

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور نہیں بنایا اس کو اللہ تعالیٰ نے مگر تمہارے لیے بشارت تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں آتی مگر اللہ کی جانب سے جو غالب اور حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انھیں رسوا کر دے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں

وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَـکُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُـکُمْ بِہٖ ط وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِاللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ لا لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَـکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ ۔ (اور نہیں بنایا اس کو اللہ تعالیٰ نے مگر تمہارے لیے بشارت تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں اور مدد نہیں آتی مگر اللہ کی جانب سے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ تاکہ اللہ کافروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا انھیں رسوا کر دے کہ وہ خوار ہو کر لوٹیں) (126 تا 127) فرشتوں کا اترناصرف بشارت ہے، مدد اللہ کی جانب سے ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو فرشتوں کے نازل کرنے کی خوشخبری سنائی ہے اس سے بظاہر یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ بھی اگر کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اپنے فرشتوں کا محتاج ہے۔ جیسے بڑے سے بڑا بادشاہ کسی دشمن کو زیر کرنے یا اپنے کسی مخلص کی مدد کرنے کے لیے اپنی فوجوں کا محتاج ہوتا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ انسان چونکہ ظاہری اسباب کی خوشخبری سے متأثر ہوتا اور اس کا پریشان دل ایسی خوشخبری سے مضبوط ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی یہ خوشخبری اس لیے سنائی گئی تاکہ تین سو منافقین کے الگ ہونے سے جو ایک دھچکا لگا ہے اور اندیشہ ہائے دور دراز سے مسلمان دوچار کردیے گئے ہیں اس کا ازالہ ہوجائے اور مسلمانوں کے دلوں کو ایک اطمینان ملے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید فرشتوں کی شکل میں ہمارے ساتھ ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ یہ محض تمہاری تسلی کے لیے ہم نے فرشتے بھیجے یا ان کی آمد کی خوشخبری سنائی ورنہ تمہاری مدد کے لیے اللہ تعالیٰ کو فرشتوں کی ہرگز احتیاج نہیں، وہ کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں۔ البتہ فرشتے ہر کام میں اس کے محتاج ہیں۔ مدد جب بھی آتی ہے اللہ کی جانب سے آتی ہے۔ حقیقی مدد دینے والا وہی ہے۔ مخلوقات میں سے اگر کوئی کسی کی مدد کرتا ہے تو وہ اللہ کی دی ہوئی طاقت سے کرتا ہے۔ تو وہ مدد بھی درحقیقت اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ جنگ بدر میں آنحضرت ﷺ نے ریت کے کنکروں کی مٹھی بھر کے پھینکی تو اس سے قریش کے لشکر کے پائوں اکھڑ گئے۔ قرآن کریم نے اس کے بارے میں فرمایا : وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (وہ مٹھی آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی) یعنی اس میں قوت اور اثر پیدا کرنا اللہ کی قدرت سے تھا، آپ کی قدرت سے نہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں فرمایا : فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ( مسلمانو ! تم نے کافروں کو قتل نہیں کیا انھیں تو اللہ نے قتل کیا ہے) یعنی اللہ کی تائید و نصرت نہ آتی تو تم کافروں کو قتل نہیں کرسکتے تھے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ بھروسہ اور توکل اللہ پر رکھو مدد کے لیے ہاتھ اسی کے سامنے پھیلائو۔ قدرتوں کا مالک اسی کو جانو۔ درمیان کے واسطے سب اسی کی توفیق سے ہیں۔ کسی کو حقیقی قدرت کا مالک نہ جانو۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ہمیشہ مسلمان کی قوت کا باعث رہا ہے اور اسی میں کمزوری پیدا ہوجانے سے مسلمان دردر کی ٹھوکریں کھانے لگا ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ مسلمانوں کی تائید و نصرت بجائے خود مقصود نہیں بلکہ وہ اس لیے نوازے جا رہے ہیں کہ ان کے ذریعے سے کفر کی طاقت کو توڑنا اور ان کو ذلیل و خوار کرنا مقصود ہے۔ جب تک مسلمانوں کے پیش نظر اعلائے کلمتہ الحق، غلبہ دین اور دین کے دشمن کو ناکام کرنا رہے گا اس وقت تک اللہ کی تائید ان کے شامل حال رہے گی۔ لیکن جب ان کے اندر کمزوریاں پیدا ہوں گی اور وہ خدائی فوجدار بننے کی بجائے اپنی ذات کی سربلندی یا کسی اور کی سربلندی کے لیے کام کرنا شروع کردیں گے تو پھر وہ اللہ کی تائید و نصرت سے محروم ہوجائیں گے۔ اللہ کی نافرمانی اور اس کی تائید و نصرت ایک جگہ جمع نہیں ہوتے۔ جب بھی اس کی نافرمانی ہوگی مسلمان تائید و نصرت سے محروم ہوجائیں گے۔ چاہے اللہ کا رسول بھی ان میں موجود ہو۔ چناچہ جنگ بدر میں فتح کی صورت میں اسی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کی گئی اور جنگ احد میں شکست کی صورت میں مسلمانوں کو یہی سبق دیا گیا۔ منافقین کے علیحدہ ہوجانے کے بعد مسلمانوں کی تعداد سات سو رہ گئی۔ آنحضرت ﷺ انہی کو لے کر احد کی طرف بڑھے۔ دشمن پہلے سے وہاں پہنچ چکا تھا۔ آپ دشمن کو ایک طرف رکھ کر چکر کاٹتے ہوئے احد کے سامنے پہنچ گئے۔ پہاڑ کو پشت پر رکھ کر آپ نے صف آرائی کی۔ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) کو علم عنایت کیا، حضرت زبیر ابن العوام ( رض) رسالے کے افسر مقرر ہوئے۔ حضرت حمزہ ( رض) کو فوج کے اس حصے کی کمان دی گئی جو زرہ پوش نہ تھے۔ پشت کی طرف سے احتمال تھا کہ دشمن ادھر سے حملہ نہ کر دے کیونکہ کوہ احد اور جبل الرماۃ کے درمیان درّے کی صورت میں ایک گزرہ گاہ تھی۔ جہاں سے دشمن کو راستہ مل سکتا تھا۔ آپ ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ اس ٹیلے پر متعین فرمایا جسے اب جبل الرماۃ کہا جاتا ہے۔ اب تو اس کی بلندی بہت کم رہ گئی ہے اور وسعت بھی شاید تجاوزات کا شکار ہوگئی ہے۔ لیکن اس وقت وہ یقینا قابل ذکر ایک چھوٹا پہاڑ تھا ان تیر اندازوں کے افسر عبداللہ بن جبیر ( رض) مقرر کیے گئے اور انھیں ہدایت کی گئی کہ لڑائی کا نتیجہ کچھ بھی ہو تمہیں کسی صورت اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا۔ تمہارے سامنے ہماری بوٹیاں کیوں نہ نوچ لی جائیں تم اپنی جگہ ڈٹے رہنا۔ قریش نے بھی جنگ بدر کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صف بندی کی اور نمایاں لوگ نمایاں جگہوں میں مقرر کیے گئے۔ سب سے پہلے طبل جنگ کی بجائے خاتونانِ قریش دف پر اشعار پڑھتی ہوئی آگے بڑھیں، جن میں کشتگانِ بدر کا ماتم اور انتقامِ خون کے رجز تھے۔ ھند آگے آگے اور چودہ عورتیں ساتھ ساتھ تھیں۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں یہ اشعار پڑھ رہی تھیں ؎ نَحْنُ بَنَاتُ طَّارِقِ (ہم آسمان کے تاروں کی بیٹیاں ہیں) نَمْشَیْ عَلَی النَّمَُارِقِ (ہم قالینوں پر چلنے والیاں ہیں) اِنْ تُقْبِلُوْا نُعَانِقُ (اگر تم بڑھ کر لڑو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گی) اَوْ تُدْبِرُوْا نُفَارِقُ (اور پیچھے قدم ہٹایا تو ہم تم سے الگ ہوجائیں گی) قریش کا علمبردار طلحہ صف سے نکل کر پکارا ” کیوں مسلمانو ! تم میں کوئی ہے جو مجھ کو جلد دوزخ میں پہنچا دے اور یا خود میرے ہاتھوں بہشت میں پہنچ جائے ؟ “ حضرت علی مرتضی ( رض) نے صف سے نکل کر کہا ” میں ہوں۔ “ یہ کہہ کر تلوار ماری اور طلحہ کی لاش زمین پر تھی۔ طلحہ کے بعد اس کا بھائی عثمان رجز پڑھتا ہوا آگے بڑھا، علم ہاتھ میں لیا۔ حضرت حمزہ ( رض) مقابلہ کو نکلے اور شانہ پر تلوار ماری کہ کمر تک اتر گئی۔ ساتھ ہی ان کی زبان سے نکلا ” میں ساقی حجاج کا بیٹا ہوں۔ “ اب عام جنگ شروع ہوگئی۔ حضرت حمزہ ( رض) ، حضرت علی ( رض) ، حضرت ابو دجانہ ( رض) فوجوں کے دل میں گھسے اور صفوں کی صفیں الٹ ڈالیں۔ اچانک آنحضرت ﷺ نے نیام سے تلوار نکالی اور ہوا میں لہرائی۔ فرمایا کون اس کا حق ادا کرے گا ؟ حضرت علی، حضرت عمر اور حضرت ابو دجانہ ( رض) اور کئی بہادروں نے ہاتھ بڑھائے لیکن ابو دجانہ ( رض) کی قسمت نے یاوری کی۔ آپ ﷺ نے اپنی تلوار انھیں عنایت فرمائی۔ حضرت ابودجانہ ( رض) سر پر سرخ پٹی باندھ کر تلوار ہوا میں لہراتے ہوئے مستانہ وار آگے بڑھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ چال اللہ کو پسند نہیں لیکن آج یہی چال پسند ہے۔ حضرت ابو دجانہ ( رض) فوجوں کو چیرتے ہوئے لاشوں پر لاشیں گراتے ہوئے بڑھتے چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ ہند سامنے آگئی۔ اس کے سر پر تلوار رکھ کر اٹھا لی کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار اس سے بلند ہے کہ عورت پر آزمائی جائے۔ حضرت حمزہ ( رض) دو دستی تلوار مارتے جاتے تھے اور جس طرف بڑھتے تھے صفوں کی صفیں صاف ہوتی جاتی تھیں۔ اسی حالت میں سباغ غبثانی سامنے آگیا۔ پکارے ” او ختانۃ النساء کے بچے کہاں جاتا ہے “ یہ کہہ کر تلوار ماری وہ خاک پر ڈھیر تھا۔ وحشی جو ایک حبشی غلام تھا اور جس سے جبیر بن مطعم نے وعدہ کیا تھا کہ اگر تو حضرت حمزہ کو قتل کر دے تو آزاد کردیا جائے گا۔ وہ حضرت حمزہ کی طاق میں تھا۔ حضرت حمزہ ( رض) برابر آئے تو اس نے چھوٹا سا نیزہ جس کو حربہ کہتے ہیں اور جو حبشیوں کا خاص ہتھیار ہے پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہوگیا۔ حضرت حمزہ ( رض) نے اس پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گرپڑے اور روح پرواز کرگئی۔ لڑائی اپنے عروج پر تھی، بہادر بڑھ بڑھ کر داد شجاعت دے رہے تھے، کفار کے علمبردار ایک ایک کر کے کٹتے جا رہے تھے۔ بالآخر مسلمانوں کی ہمت، شجاعت اور اللہ کی تائید و نصرت کام آئی کہ کافروں کے پائوں اکھڑ گئے۔ اور وہ بہادرانِ اسلام کا مقابلہ کرنے کی بجائے پائوں سر پر رکھ کر بھاگے۔ بہادر نازنین جو رجز سے دلوں کو ابھار رہی تھیں بدحواسی کے ساتھ پیچھے ہٹیں اور مطلع صاف ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی مسلمانوں نے لوٹ شروع کردی۔ یہ دیکھ کر تیر انداز جو پشت پر مقرر کیے گئے تھے وہ بھی غنیمت کی طرف لپکے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر ( رض) نے بہت روکا، لیکن وہ رک نہ سکے۔ خالدبن ولید جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن اس وقت بھی دوربینی اور شجاعت میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ ان کی نگاہ بیدار نے جب تیر اندازوں کی جگہ خالی دیکھی تو پہاڑ کا چکر کاٹ کر سواروں کے دستے کے ساتھ نہایت بےجگری سے حملہ کیا۔ لوگ لوٹنے میں مصروف تھے، مڑ کر دیکھا تو تلواریں برس رہی تھیں۔ بدحواسی میں دونوں فوجیں اس طرح باہم مل گئیں کہ خود مسلمان مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر ( رض) جو آنحضرت ﷺ سے صورت میں مشابہ اور علمبردار تھے ابن قمیہ نے ان کو شہید کردیا۔ شور مچ گیا کہ آنحضرت ﷺ شہید کردیے گئے ہیں۔ اب کچھ نہ پوچھئے مسلمانوں پر کیسی قیامت یں گزریں ؟ جیتی ہوئی بازی ہار میں تبدیل ہوگئی۔ لیکن یہ بات ثابت ہوگئی کہ صبر وتقویٰ کے بغیر اللہ کی تائید و نصرت شامل حال بھی ہو تو واپس پلٹ جاتی ہے۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کے ساتھ رسول موجود بھی ہو تو تو اللہ کی نصرت نہیں اترتی۔ اسی سورت میں آگے چل کر پروردگار نے اس بات کا ذکر فرمایا ہے : وَلَقَدْ صَدَقَـکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ ج حَتّٰیٓ اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا اَرٰکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ط مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالدُّنْیَا وَ مِنْـکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالْاٰخِرَۃَ ج ثُّمَّ صَرَفَـکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَـکُمْ ج (152) (اور اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا جب کہ تم خدا کے حکم سے ان کافروں کو تہہ تیغ کر رہے تھے یہاں تک کہ تم نے کمزوری دکھائی اور تعمیلِ حکم میں اختلاف کیا اور اس وقت نافرمانی کی جب کہ خدا نے تمہیں تمہاری محبوب چیز ” فتح “ دکھا دی، تم میں کچھ دنیا کے طالب ہوئے اور کچھ آخرت کے تو اللہ نے تمہارا رخ ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائش میں ڈالے) اسی افراتفری میں آنحضرت ﷺ زخمی ہو کر ایک کھائی میں گرپڑے۔ مغفر کی دو کڑیاں چہرہ مبارک میں چبھ کر رہ گئیں۔ جانثاروں نے جانیں دے کر آپ ﷺ کو محفوظ رکھا۔ لیکن آپ ﷺ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ انتہائی تأسف کی حالت میں آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے کہ وہ قوم کیا فلاح پاسکتی ہے جو اپنے پیغمبر کو زخمی کرتی ہے۔ چناچہ صحیح بخاری میں ہے کہ اس پر اگلی آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Ayahs 3:128–129

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

اے پیغمبر ! تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انھیں عذاب دے، بیشک وہ ظالم ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

لَیْسَ لَـکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْیُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاََرْضِ ط یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ع (اے پیغمبر ! تمہیں اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انھیں عذاب دے، بیشک وہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) (128 تا 129) سُنتِ الٰہی اے پیغمبر ! کسی قوم کو فلاح دینے یا نہ دینے میں آپ کا کوئی اختیار نہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کا کام لوگوں تک اللہ کا دین پہنچانا اور بقدر ہمت اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں لوگ کیا کرتے ہیں وہ پروردگار دیکھ رہا ہے۔ آپ بہرصورت لوگوں تک اللہ کے دین کی دعوت پہنچانے کے مکلف ہیں۔ وہ قبول کریں تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں اور اگر وہ قبول کرنے کی بجائے آپ کی جان کے درپے ہوجائیں تو آپ کو اپنا فرض ادا کرنے سے پھر بھی رکنا نہیں چاہیے۔ اس لیے کہ کوئی بڑے سے بڑا کافر بھی کسی وقت ہدایت قبول کرسکتا ہے۔ آپ ان لوگوں کے وقتی اعمال کو دیکھ کر مایوس نہ ہوں اور ان کے لیے بددعا نہ فرمائیں کیونکہ یہ بات عین ممکن ہے کہ انہی میں سے کل کو کچھ لوگوں کو ایمان نصیب ہونا ہو۔ چناچہ حالات نے ثابت کیا کہ وہی خالد بن ولید جس نے اس جنگ میں فتح کو شکست سے بدل ڈالا، تھوڑے ہی عرصے کے بعد خود مدینہ آیا اور اپنے آپ کو آپ ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردیا اور اسلام کی سربلندی اور قوت کا ایسا ذریعہ ثابت ہوا کہ بارگاہِ نبوت سے سیف اللہ کا خطاب پایا۔ عمرو بن العاص جو جنگ احد میں کافروں کا سرمایہ تھا زیادہ دیر نہیں گزری کہ اس نے اپنے آپ کو اسلام کی آغوش میں ڈال دیا اور پھر تاریخ اسے فاتح مصر کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ابوجہل کا بیٹا جو اس جنگ میں فوج کا ایک اہم افسر تھا فتح مکہ کے بعد وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور کئی اہم جنگوں میں اسلام کا حق ادا کرتے ہوئے بالآخر جنگ یرموک میں اللہ کے راستے میں جان دے دی اور تاریخ نے تعجب سے دیکھا جس کے باپ نے کبھی اسلام کا نام سننا گوارا نہ کیا تھا اس کا بیٹا اسلام کے لیے سر کٹواتا ہے۔ وہ ابو سفیان جو فوجیں لے لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوتا رہا ایک وقت آیا کہ اس نے اسلام کو قبول کیا اور پھر اسلام ہی کی راہ میں اپنی ایک آنکھ قربان کر ڈالی۔ ایسے ہی کتنے لوگ ہیں جو اس جنگ میں شریک تھے اور پھر وقت کے یہ فاتح اسلام کے ہاتھوں مفتوح ہوگئے۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ عالم الغیب اللہ کی ذات ہے وہی جانتا ہے کہ ان میں سے کون کل کو اسلام کی آغوش میں آنے والا ہے اور کون ہے جس کی قسمت میں اللہ کا عذاب لکھا ہے۔ جو ان میں توبہ کرے گا وہ اللہ سے مغفرت کا حقدار ہوگا اور جو کفر پر اڑا رہے گا وہ بالآخر جہنم کا سزاوار ٹھہرے گا۔ زمین و آسمان اللہ کے ہاتھ میں ہیں ان کا اختیار اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ لیکن وہ جلد باز نہیں وہ مہلت دیتا ہے اے پیغمبر ! آپ بھی اپنی دعا میں جلد بازی نہ کریں۔
Ayahs 3:130–131

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! سود نہ کھائو دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پائو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور بچو اس آگ سے جو کافروں کے لیے تیار ہے

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنَوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْحَافًا مُّضٰعَفَۃً ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ ج وَاتَّقُوا النَّارَالَّتِیْٓ اُعِدَّتْ لِلْـکٰفِرِیْنَ ۔ ج وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ ج (اے ایمان والو ! سود نہ کھائو دگنا چوگنا بڑھتا ہوا اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پائو۔ اور بچو اس آگ سے جو کافروں کے لیے تیار ہے۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) (130 تا 132) جنگ احد کی شکست کے مضمر اسباب پیشِ نظر آیات کریمہ اپنے مفہوم میں عموم بھی رکھتی ہیں اور خصوص بھی۔ عموم تو یہ ہے کہ ان آیات میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور قیامت تک کے لیے ہیں اور خصوص ان معنوں میں کہ گزشتہ آیات کریمہ میں جنگ احد کے حالات پر تبصرہ ہے اور اس وقت کے مسلمانوں کی کمزوریوں پر توجہ بھی دلائی گئی ہے اور یہ تبصرہ قرآن کریم کے اپنے اسلوب کے مطابق ہے، مختلف وادیوں سے گذرتا ہوا ابھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان آیات کریمہ میں مسلمانوں کو جو احکام دیے گئے ہیں اس میں مسلمانوں کی کمزوریوں کی طرف اشارے بھی ہیں۔ جنگ احد میں جس طرح اللہ کی تائید و نصرت سے مسلمانوں کو فتح ہوئی اور دشمن اپنی برتر افرادی قوت اور بہتر اسلحہ جنگ کے باوجود شکست کھا کر سر پر پائوں رکھ کر بھاگا۔ لیکن جلدی ہی بعد خالد بن ولید کے مسلمانوں کے لشکر کے عقب سے اچانک حملے نے صورت حال بدل دی اور ایک جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہوگئی اور ایک فاتح لشکر شکست خوردہ لشکر میں بدل گیا۔ اس کے اسباب کیا تھے ؟ ان آیات کریمہ میں دو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ میں پہلے یہ بات عرض کرچکا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے عقب لشکر سے حملے کا خطرہ محسوس فرماتے ہوئے ایک ٹیلے پر مسلمانوں کو مقرر کیا تھا تاکہ اس درے اور راستے پر نگاہ رکھیں جس سے مسلمانوں کی پشت پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔ پچاس تیر اندازوں کو اس ٹیلے پر مقرر فرمایا اور یہ حکم دیا کہ ہمیں فتح ہو یا شکست تمہیں کسی صورت بھی اپنے مورچے چھوڑ کر آنے کی اجازت نہیں۔ حضور نے یہاں تک فرمایا کہ اگر تم یہ دیکھو کہ ہماری بوٹیاں نوچی جا رہی ہیں، یعنی کافر لشکر مسلمان لشکر کو تہِ تیغ کر رہا ہے تو تم ایسے حالات میں بھی اپنی جگہ چھوڑ کر ہماری طرف آنے کی کوشش نہ کرنا۔ لیکن جب قریش مکہ شکست کھا کر بھاگے اور ابھی اس کی بعض ٹکڑیاں ادھر ادھر میدانِ جنگ میں بکھری ہوئی تھیں کہ مسلمانوں نے لڑائی روک دی اور دشمن کا سامان اور ان کا مال و دولت لوٹنے میں لگ گئے۔ جبل الرماۃ کے تیر اندازوں نے جب دیکھا کہ لڑائی رک گئی ہے اور مسلمان سامانِ غنیمت اکٹھا کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مسلمان لشکر کی طرف بڑھے لیکن ان کے سالار حضرت جبیر بن مطعم ( رض) نے انھیں روکا اور یاد دلایا کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں ہر قیمت پر اپنے مورچوں پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی تھی۔ لیکن ان کے ساتھیوں نے ان کی ایک نہ سنی۔ چند سپاہیوں کے علاوہ تمام سپاہی مال غنیمت کی محبت میں اپنے مورچے خالی چھوڑ کر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوگئے۔ خالد بن ولید کی عقابی نگاہوں نے جب اس مورچے کو خالی دیکھا اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ مسلمان مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہیں اور ہتھیار اتار چکے ہیں۔ انھیں اس سے بہتر موقع کیسے ہاتھ آسکتا تھا۔ انھوں نے نہایت بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے پہاڑ کا چکر کاٹا اور مسلمانوں کی پشت پر حملہ کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک افراتفری مچ گئی، مسلمان چونکہ خالی ہاتھ تھے۔ اس اچانک حملے سے بچنے کے لیے ادھر ادھر تلواروں کی تلاش میں بھاگے۔ فوج ایک بھیڑ کی شکل اختیار کرگئی۔ ایسی مصیبت آئی کہ اپنے اور پرائے کی پہچان بھول گئی۔ حضرت حذیفہ ( رض) کے والد خود مسلمانوں کے نرغے میں آگئے۔ مسلمانوں نے انھیں کافر لشکر کا سپاہی سمجھ کر تلواریں برسانا شروع کردیں۔ حذیفہ ( رض) چیختے ہی رہے کہ مسلمانو ! یہ میرے والد ہیں، لیکن اس ہنگامے میں کون سنتا تھا۔ چناچہ ان کے والد شہید ہوگئے اور حضرت حذیفہ ( رض) صبر کی تصویر بنے صرف یہ کہہ سکے کہ مسلمانوں تمہیں اللہ معاف فرمائے۔ تم نے بیخبر ی میں میرے والد کو قتل کر ڈالا اور پھر اس کے نتیجے میں ستر (70) صحابہ شہید ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کے چچا اور حضرت عبداللہ ابن جحش ( رض) کی لاشوں کو مثلہ کیا گیا۔ خود آنحضرت ﷺ بری طرح زخمی ہوئے۔ خود کی کڑیاں روئے مبارک میں گھس گئیں۔ چار دانت متأثر ہوئے۔ چہرہ مبارک پر زخم آئے اور خون بہنے لگا۔ دشمن کی کھودی ہوئی کھائیوں میں سے ایک کھائی میں آپ گرگئے۔ اس طرح سے آنکھوں سے اوجھل ہوجانے کے باعث مسلمانوں میں یہ بات مشہور کردی گئی کہ پیغمبر ﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے اپنی جانوں پر کھیل جانا اتنا گراں نہ تھا جتنا آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ سننا کہ آپ ﷺ دنیا میں نہیں رہے۔ بڑے بڑے جی داروں نے حوصلے ہار دئیے اور زبان پر ایک ہی بات تھی کہ وہ ذات عزیز جس کی نظیر پوری کائنات میں نہیں اور جو مسلمانوں کے دل کی دھڑکن ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی زندگی تھی، جب وہ دنیا میں نہ رہے تو اب آخر کس کے لیے لڑا جائے۔ ایسی ابتر اور تشویشناک صورت حال اور قیامت کا سماں صرف اس لیے پیش آیا کہ مسلمانوں نے حب زَر میں مبتلا ہو کر اپنی جگہ چھوڑ دی اور اللہ کے رسول کے احکام سے سرتابی عمل میں آئی چناچہ ان آیات میں انہی دونوں غلطیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً کا مفہوم سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ مسلمانو ! سود مت کھائو دوگنا چوگنا بڑھتا ہوا۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ سود کھانے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن اس کو دوگنا چوگنا بنانے کی فکر میں رہنا شاید اس سے روکا گیا ہے۔ اصل بات یہ نہیں اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً کے اضافے سے محض صورت حال کی تصویر اور اس کے گھنائونے پن کو نمایاں کرنا مقصود ہے اور قرآن کریم کے اسلوب کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بعض دفعہ کسی حکم کے ساتھ ایسی قیود کا ذکر کرتا ہے جو مقصود نہیں ہوتیں بلکہ صرف یہ دکھانا ہوتا ہے کہ اس کی بدترین شکل درحقیقت یہ ہے۔ اس لیے تمہیں اس سے بچنا اور نفرت کرنا چاہیے۔ جس طرح فرمایا گیا ہے : وَلَا تُـکْرِہُوْا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَـآئِ اِنْ اَرَدْنَ تَحُصُّنًا ( اپنی لونڈیوں کو پیشہ کرنے پر مجبور نہ کرو، اگر وہ قید نکاح میں آنا چاہتی ہوں) اس میں اِنْ اَرَدْنَ تَحُصُّنًاکی شرط مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود اس سے صرف حال کی تصویر اور اس کی شناعت کو نمایاں کرنا ہے۔ یہی بات اس آیت میں بھی پیش نظر ہے۔ مزید یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خالق فطرت نے کچھ فطری اشارے بھی فرمائے ہیں۔ ایک اشارہ تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سود کو اگر بروقت نہ روکا جائے تو یہ ایک ایسا وبائی مرض ہے اور اس حوالے سے انسان میں ایسی کمزوری ابھرتی ہے کہ پھر یہ سود دوگنا چوگنا بڑھے بغیر نہیں رہتا بلکہ اس کے بڑھنے کی کوئی انتہا ہی نہیں رہتی۔ تو جو نتیجہ آگے چل کر نکل سکتا ہے اسے تعبیر کے انداز میں پہلے واشگاف کردیا گیا ہے تاکہ قرآن کے قاری اس سے فائدہ اٹھائیں۔ سود انفاق کا متضاد ہے دوسرا اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اور اس کے علاوہ متعدد جگہ قرآن کریم نے سود کو انفاق کے متضاد کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ اللہ کے راستے میں انفاق تو عین مطلوب ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہر صاحب ایمان اپنی ہمت اور اپنے عشق کے مطابق اس میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح حبِّ دنیا بھی انسانی سیرت و کردار کا ایک ایسا گناہ ہے کہ جو شخص اس میں مبتلا ہوجاتا ہے اسے کسی انتہا پر بھی چین نہیں ملتا۔ اس لیے اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃًکے لفظ سے اس کی حقیقت کو نمایاں فرماکر مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی انفاق کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ فطرت بگڑتی ہے تو انسان سود کی کمائی میں آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اگر فطرت صحیح رخ پہ کام کرتی ہے تو اس کے جذبہ انفاق میں ہمہ جہت ترقی ہوتی جاتی ہے۔ ان دونوں کے تقابل سے مسلمانوں کو صحیح راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت اس جنگ میں دوسری غلطی جیسا کہ گزارش کی گئی ہے مسلمانوں سے یہ سرزد ہوئی کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کے احکام کو نظر انداز کیا اور آپ ﷺ کے تاکیدی احکام کے باوجود اپنے مورچے چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔ اس لیے فرمایا کہ : وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) مسلمانوں کا جو گروہ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کمزوری دکھاتا ہے وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ کے رحم کا مستحق نہیں ہوتا۔ جس طرح سودی لین دین کرنے والا مسلمان ہوتے ہوئے بھی جہنم کا سزاوار ہوجاتا ہے اسی لیے فرمایا (اس آگ سے بچو جو کافر لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے) سودی کاروبار کرنے والے بیشک اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق ان کا انجام بھی کافروں والا ہوگا۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے ساتھ ساتھ اس کے رسول کی بھی اطاعت کرتا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس پر رحم کیا جائے۔ یوں تو دنیا میں حشرات الارض سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق کو زندگی اور اس کے امکانات اور زندگی کی بقا اور اس کے اسباب میسر ہیں لیکن خصوصی فضل و کرم اور خصوصی رحم و مروت وہ صرف اللہ کے رسول کی اطاعت ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں تازہ کرلیجئے کہ قرآن کریم عموماً جہاں اللہ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے وہیں اس کے ساتھ ہی رسول کی اطاعت کا بھی حکم دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ کی طاعت مستقلاً فرض ہے اسی طرح رسول کی اطاعت بھی اپنی جگہ مستقل طور پر فرض اور واجب ہے کیونکہ اس کی وجہ قرآن کریم کے مطابق یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر کبھی ہوائے نفس سے بات نہیں کرتا بلکہ جب بھی وہ دین کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے تو وہ وحی الٰہی ہوتا ہے۔
Ayahs 3:133–134

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے

وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ لا الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ ج (اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی اور غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے) (133 تا 134) ایک مومن کا اصل ہدف اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت جس شخص کی طبیعتِ ثانیہ بن جائے اس شخص کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ وہ سود کھائے یا سودی کاروبار کرے۔ اسی طرح یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان اللہ یا اس کے رسول کی اطاعت نہ کرے بلکہ ہر حرام چیز سے بچتے ہوئے اور ہر حکم الٰہی اور حکم رسول کی اطاعت کرتے ہوئے ان کے سامنے دو ہی باتیں رہنی چاہئیں کہ میں اپنے امکان کی حد تک وہ کیا کوششیں بروئے کار لائوں جس کی وجہ سے مجھے بخشش نصیب ہوجائے۔ اس کے لیے صحابہ اور تابعین نے اس کے بارے میں جو کچھ بھی فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان کو اسبابِ مغفرت کے حصول کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ البتہ صحابہ وتابعین کے یہاں اس کی تعبیرات مختلف ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی تفصیل ادائیگیِ فرائض سے فرمائی۔ حضرت ابن عباس ( رض) نے اسلام سے، ابو العالیہ نے ہجرت سے، انس ابن مالک ( رض) نے تکبیر اولیٰ سے، حضرت سعید بن جبیر نے ادائے اطاعت سے، ضحاک نے جہاد سے، عکرمہ نے توبہ سے کی۔ ان تمام اقوال کا حاصل اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ مغفرت سے مراد وہ تمام اعمالِ صالحہ ہیں جو مغفرت الٰہی کا باعث اور سبب ہوتے ہیں۔ ایک مومن کا ہدف اور ذہنی افق پروردگار نے بہت بلند رکھا ہے۔ تمام اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں بخشش اور مغفرت سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارا اصل ہدف تو جنت ہے۔ جنت کے حصول کا دارومدار چونکہ مغفرت پر ہے اس لیے مغفرت کو پہلے ذکر فرمایا گیا۔ ہمارے تمام اعمالِ صالحہ مل کر بھی جنت کی قیمت نہیں بن سکتے۔ لیکن اللہ کی سنت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی بندے کو نوازتا ہے جو اعمالِ صالحہ کرتا ہے بلکہ جس کو اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے یوں تو ہر نیکی عمل صالح کہلاتی ہے، لیکن ضرورت کے مطابق عمل صالح جنت کا سزاوار بناتا ہے۔ جس کی دعوت خود شریعت دیتی ہے اور جس کی پکار اسلام کے تقاضے ہوتے ہیں۔ نماز کتنا بڑا عمل ہے لیکن ایک بھوکا شخص جس کی جان پر بنی ہے اس کے لیے جس عمل صالح کو پکارا جائے گا وہ نماز نہیں بلکہ سخاوت و فیاضی ہے اور اعلائے کلمتہ الحق اور دین کی بقا کے لیے عبادت نہیں بلکہ جان و تن کی قربانی درکار ہوتی ہے۔ ایک ایسی جنت جس کی وسعتوں کے سامنے زمین و آسمان کی وسعتیں حقیر ہوجائیں ایسی جنت کا اللہ کے بندوں کو عمل صالح کے عوض میں ملنا اللہ کی ایسی عطا اور بخشش ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے کہنے کو تو یہ عظیم نعمت جسے جنت کہا جاتا ہے ایمان اور عمل صالح کے عوض میں نصیب ہوگی لیکن یہ بات ضرور ذہن میں رہنی چاہیے کہ ایمان اور اعمالِ صالحہ جب تک ایک خاص حد تک ترقی نہ کر جائیں اور ایک خاص شکل اختیار نہ کرلیں اس وقت تک جنت کا حصول ایک خواہش کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ صورت خاص جس تک اعمالِ صالحہ کو پہنچنا اور اسے اختیار کرنا ہے اس کا نام تقویٰ ہے اور اس کے اختیار کرنے والوں کو متقی کہا جاتا ہے۔ تقویٰ قرآن کریم کی ایک ایسی اصطلاح ہے کہ جس کو قرآن کریم نے سب سے زیادہ استعمال کیا ہے اور دنیوی اور اخروی نعمتوں کا دارومدار اسی صفت کو بنایا ہے اور جب ہم اس کی حقیقت پر غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ درحقیقت قرآن و سنت کی تمام تعلیمات کاست اور روح اور عملی تشکیل کا نام ہے۔ آدمی جیسے جیسے اس میں ڈوبتا جاتا ہے اور دل و دماغ کو اس کے حوالے کرتا جاتا ہے ویسے ویسے تقویٰ کی کیفیت اس میں اترتی چلی جاتی ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب آدمی کا ذوق اور اس کا مزاج تقویٰ کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی پسند و ناپسند کے زاویے اسی کے سائے میں ڈھلتے ہیں اور اس کی روحانی کیفیات پر تقویٰ ایک سایہ بن کر چھا جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ کی رعنائیاں اسی کے نور سے روشن ہوتی اور اس کے جسم و جان کی قوتیں اسی کے عشق سے توانا ہوتی ہیں۔ دنیا اور دولت دنیا ایک مومن کو ہزار بہکانے کی کوشش کریں لیکن وہ تقویٰ کی قوت سے ان سارے بہکاو وں پر غالب آجاتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کا خوف بن کر دل میں اترتا ہے، کبھی اللہ کی محبت بن کر دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ ایک مومن اللہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے پکڑتا ہے۔ اس کا سب کچھ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس طرح وقف ہوجاتا ہے کہ دوری کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ ایک مومن کے اپنے ارادے اور اپنی ترجیحات اللہ کے دین کی ترجیحات پر قربان ہوجاتی ہیں۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے متقی لوگوں کی چند صفات بیان فرمائی ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ایک مومن کی زندگی جسے تقویٰ سے تعبیر کیا جاسکے وہ اگلی آیت میں بیان کردہ صفات ہی پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ اس میں وہ صفات بھی پائی جاتی ہیں جو قرآن نے جا بجا ذکر فرمائی ہیں۔ لیکن ان آیات کا موضوع چونکہ جہاد و قتال ہے اس لیے اس موضوع کی مناسبت سے چند صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ خیر و شر کے معرکے میں کوئی جہاد بھی انفاق کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ خیر و شر کا معرکہ پوری اجتماعی زندگی پر حاوی ہوچکا ہو اور ایک نئی امت تشکیل پذیر ہو اور کفر اپنے پائوں تلے سے زمین نکلتے ہوئے دیکھ کر آخری حرکت مذبوحی کرنے پر تل گیا ہو اور حالات ایک فیصلہ کن معرکے کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ایسی صورت حال میں انفاق فی سبیل اللہ یقینا دین کی پہلی طلب اور سب سے بڑی نیکی بن جاتا ہے اور اس کے لیے جو لازمی صفات ہیں ان کی اہمیت بھی نہایت ترقی کر جاتی ہے۔ متقی کی پہلی صفت انفاق ہے اسی لیے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی صفت انفاق ہی کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ متقی وہ لوگ ہیں جو ہر طرح کے حالات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ وہ تنگ دست ہوں تو پیٹ کاٹ کر اور خوشحال ہوں تو دوسروں سے آگے بڑھ کر خرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دور صحابہ میں ہمیں دونوں طرح کی مثالیں نظر آتی ہیں۔ حضرت عثمان ( رض) ایک غنی آدمی تھے۔ مال و دولت کے مالک بھی تھے اور دل اس سے بھی بڑھ کر غنی تھا۔ آنحضرت ﷺ نے جب جنگ تبوک کے لیے انفاق کی اپیل فرمائی تو حضرت عثمانِ غنی ( رض) نے ایک طرف تو اشرفیوں کی ایک بڑی تعداد پیش کی اور دوسری طرف سینکڑوں آدمیوں کے لیے سواری اور اسلحہ جنگ مہیا کیا۔ آنحضرت ﷺ کو لوگوں نے دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہیں اور دونوں ہاتھوں سے اشرفیاں ایک دوسرے پر الٹ پلٹ رہے ہیں اور ساتھ یہ فرما رہے ہیں کہ ” عثمان ! آج کے بعد تمہیں تمہارا کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکے گا “ اور دوسری طرف غریب صحابہ کو دیکھئے کہ ان کے پاس کھانے کا سامان تک نہیں لیکن وہ کسی سے پیچھے بھی نہیں رہنا چاہتے۔ وہ دن بھر اور رات کا ایک حصہ مزدوری کرتے ہیں اور جو انھیں مزدوری میں چھوہارے ملتے ہیں وہ ایک پوٹلی میں باندھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں نہایت معذرت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ آپ ﷺ وہ پوٹلی وصول فرما کر اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ صحابہ کو حکم دیتے ہیں کہ ” مسلمانوں نے اللہ کے راستے میں جو مال دیا ہے جس سے صحن مسجد میں ایک ڈھیر لگ گیا ہے۔ یہ کھجوریں اس ڈھیر کے اوپر پھیلا دو تاکہ اللہ تعالیٰ اس اخلاص کی برکت سے جس سے کھجوریں لائی گئی ہیں سارے ڈھیر کو قبول فرمالے۔ “ اسی سلسلے میں ہم ایک اور انفاق بھی دیکھتے ہیں جس کی مثالیں امتوں میں کم کم ملیں گی کہ حضرت صدیق اکبر ( رض) ڈھیروں سامان لے کر حاضر ہوتے ہیں اور جب آنحضرت ﷺ پوچھتے ہیں کہ ” گھر میں کیا چھوڑا ہے ؟ اور یہاں کیا لے کر آئے ہو ؟ “ تو صدیق اکبر ( رض) عرض کرتے ہیں ” گھر میں جو کچھ تھا وہ خدمت میں حاضر کردیا ہے اور گھر میں اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ “ اقبال نے نہایت سادہ انداز میں اس واقعے سے متأثر ہو کر ایسا لافانی شعر کہا ہے کہ جس کی مثال شاید کہیں مل سکے : پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس گھر میں دولت کی ریل پیل ہو تو اللہ کی رضا کے لیے بقدر ہمت دینا تقویٰ ہے۔ لیکن تقویٰ کے مدارج ہیں۔ ہر درجہ اپنی جگہ اجر وثواب کا حامل ہے۔ لیکن سب سے افضل تقویٰ وہ ہے جسے آنحضرت ﷺ نے ایک مثال دے کے واضح فرمایا کہ ” سب سے افضل صدقہ اس شخص کا ہے جو خود ایک بےمایہ آدمی ہے۔ گھر میں بھوک ناچتی ہے لیکن پھر بھی وہ پیٹ کاٹ کر اپنے ایک ایسے عزیز کی ضرورت پوری کرتا ہے جو اس کا دشمن ہے اور اس کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتا۔ “ ایسی مثالیں اگرچہ بہت کم ملتی ہیں، لیکن عہد صحابہ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جس نے ایک مومن کے ذہنی افق کو بہت روشن کردیا ہے اور ہدف کو بہت بلند کردیا ہے۔ بھوکے رہ کر مہمان کو کھانا کھلانا اور فاقہ کر کے مہمان کے سامنے سب کچھ رکھ دینا اور پیاسا رہ کر دوسروں کو پانی پلانا حتیٰ کہ دوسروں کی جان بچانے کے لیے خود زخمی حالت میں جان دے دینایہ وہ اعلیٰ مثالیں ہیں جس نے انسانیت کا سر بہت اونچا کردیا ہے۔ یہاں انہی مثالوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ متقی کی مزید دوسری، تیسری اور چوتھی صفت دوسری صفت اس آیت کریمہ میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ لوگ غصہ پی جانے والے ہیں۔ یہ بظاہر کہنے کو ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک شخص جب اللہ کے راستے میں دوسرے شخص کو دیتا ہے تو بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ لینے والا انفاق کی اس مقدار پر قناعت کرنے کی بجائے اور زیادہ مانگتا ہے اور پھر اس پر بےجا اصرار کرتا ہے اور بعض دفعہ ناخوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں دینے والے کا برہم ہوجانا عین فطری بات ہے۔ ایسے وقت میں غصے کا ضبط کرنا اور پی جانا آسان نہیں ہوتا۔ اگر غصے کا اظہار کیا جائے تو نیکی برباد ہوجاتی ہے اور اگر غصہ ضبط کیا جائے تو اس کے لیے بہت صبر چاہیے جو آسانی سے میسر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے اللہ والوں کے سوا اور کسی میں ہمیں ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔ قرونِ اولیٰ میں انسانیت چونکہ بےحد ترقی کرگئی تھی اس لیے ایسی مثالیں ملنا مشکل نہیں۔ لیکن پھر بھی ایسی عام بھی نہیں کہ ہر گلی کو چے میں دکھائی دیں۔ سیدنا حسن بن علی ( رض) کا تذکرہ نگاروں نے اسی حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے اور دسترخوان بچھ چکا تھا۔ آپ نے غلام کو کھانا لانے کے لیے کہا۔ اس نے کھانا لانا شروع کیا۔ نہ جانے اس کا کیسے پائوں الجھا کہ گرم گرم شوربے کا پیالہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا اور سیدنا حسن ( رض) کی کمر پر گرا۔ یقینا آپ کی کمر پر آبلے پڑے ہوں گے یا کھال ادھڑ گئی ہوگی۔ آپ نے تکلیف کی شدت سے بےکل ہو کر غصے سے اس غلام کی طرف دیکھا۔ وہ غلام بھی چونکہ خاندانِ نبوت کا پروردہ تھا، حکمتِ دین کو بھی جانتا تھا اور افرادِ خاندان کے مزاج کو بھی۔ اس نے فوراً اس آیت کا پہلا جملہ پڑھا وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظ (متقی لوگ غصے کو پی جایا کرتے ہیں) آپ نے فوراً نگاہیں جھکا لیں اور غصہ پی گئے۔ اس نے دیکھا کہ موقع غنیمت ہے تو فوراً دوسرا جملہ پڑھا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ (اور وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں) آپ ( رض) نے فرمایا جا میں نے تجھے معاف کیا۔ اس خوش نصیب نے دیکھا کہ لوہا گرم ہے ہلکی سی چوٹ بھی کام دے جائے گی اس نے آخری جملہ پڑھا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (اور اللہ نیکی اور احسان کرنے والے کو پسند کرتا ہے) حضرت حسن ( رض) نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ وہ غلام آپ کو بےحد محبوب تھا اس کی ادائیں اور خصلتیں نہایت پیاری تھیں۔ آپ اسے کسی قیمت پر چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن اس انداز سے اس غلام کو آزادی مل گئی۔ بجائے اس کے کہ اسے اس کی غلطی کی سزا ملتی اس نے نہ صرف سزا سے معافی حاصل کی بلکہ غلامی سے بھی آزادی مل گئی۔ دوسروں کی غلطیوں پر غصہ پی جانا اور پھر درگزر کرنا اور پھر مزید احسان بھی کرنا یہ وہ صفات ہیں جو اعلیٰ انسانی کردار کی بنیادیں ہیں۔ اشتعال اور غصہ انسان کی فطرت ہے، یہ بےلگام ہوجائے تو اس سے بڑی برائی کوئی نہیں اور اگر اس پر قابو پا لیا جائے تو اس سے بڑی خوبی کوئی نہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ اگر یہ خصلت بھی شامل ہوجائے تو پھر انسان ایسی خوبیوں کا مالک بن جاتا ہے جنہیں اہل جنت کی خوبیاں کہا جاتا ہے اور سود خوری جن خصائل کو پیدا کرتی ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ عادتیں اور وہ خصلتیں جنم لیتی ہیں جو انسانی معاشرے کے لیے لعنت اور سزا سے کم نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں ایسی خصلتوں کا ذکر فرمایا جو ایک طرف انسانیت کا نمونہ ہیں اور دوسری طرف سیاق کلام کا تقاضا بھی۔ انفاق میں جذبہ انفاق دیکھا جاتا ہے ہماری ان گزارشات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے مال کی بڑی مقدار ضروری ہے اور نہ یہ بات کہ انفاق میں صرف مال ہی دیا جاسکتا ہے اور کوئی چیز نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح معاف کرنے اور احسان کرنے کا دائرہ بھی بڑا وسیع ہے اسے بھی محدود نہیں کرنا چاہیے۔ انفاق کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہاں تک فرمایا : اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْبِشِقٍ تَمْرَۃٍ وَ رُدُّوا السَّآئِلَ وَلَوْ بِظِلْفَ شَاۃٍ (تم جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو بچائو اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا صدقہ میں دے کر ہی ہو اور سائل کو خالی واپس نہ کرو اور کچھ نہیں تو بکری کے پائوں کی کھری ہی دے دو ) انفاق کے سلسلے میں امام رازی ( رح) نے اپنی تفسیر میں ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ ایک روزو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی تو جن کے پاس سونا چاندی تھا انھوں نے وہ صدقہ دے دیا۔ ایک شخص کھجور کے چھلکے لایا کہ میرے پاس اور کچھ نہیں وہی صدقہ کردیے گئے۔ ایک اور شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس کوئی چیز صدقہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔ البتہ ! میں اپنی قوم میں عزت دار سمجھا جاتا ہوں میں اپنی عزت کو خیرات کرتا ہوں کہ آئندہ کوئی مجھے کتنا ہی برا بھلا کہے میں اس سے ناراض نہیں ہوں گا۔ اندازہ فرمایئے ! انفاق فی سبیل اللہ کے تصور نے کہاں کہاں اصلاح و تعمیر کا حق ادا کیا ہے اور جہاں تک عفو و درگزر کا تعلق ہے اس کی وسعتیں بھی بےکنار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ چونکہ خلق عظیم کے منصب پر فائز تھے اور آپ معلم اخلاق بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ کو عفو و درگزر اور احسان کے حوالے سے بھی وہ بلند پایہ تعلیم دی گئی جس کی مثال پیدا کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ ﷺ سے پروردگار نے ارشاد فرمایا : صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَآئَ اِلَـیْکَ (جو شخص آپ سے قطع تعلق کرے آپ اس سے ملیں اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اس کو معاف کردیں اور جو آپ کے ساتھ برائی کرے آپ اس پر احسان کریں) رسولِ کریم ﷺ کی اخلاقی سطح تو اس قدر بلند ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے بھی بڑی ہمت چاہیے۔ البتہ ! آپ ﷺ کی تعلیمات کی برکت سے یہی اخلاق و اوصاف اپنے اپنے مرتبے کے مطابق آپ کے خدام میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے ہیں۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ ( رح) کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے بھرے بازار میں امام اعظم کی شان میں گستاخی کی اور گالیاں دیں۔ حضرت امام نے بجائے جواب دینے کے غصہ کو ضبط فرمایا اور خاموشی سے گھر تشریف لے گئے۔ گھر پہنچ کر ایک خوان میں کافی درہم و دینار رکھ کر اس کے گھر تشریف لے گئے۔ دروازے پر دستک دی۔ یہ شخص باہر آیا تو اشرفیوں کا یہ خوان اس کے سامنے رکھتے ہوئے فرمایا ” آج آپ نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا اپنی نیکیاں مجھے دے دیں، میں اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لیے یہ تحفہ پیش کر رہا ہوں۔ “ یہ کیسے ممکن تھا کہ اس واقعے کا اثر نہ ہوتا۔ اس شخص نے آپ سے معافی مانگی اور آئندہ کے لیے اپنی بد اخلاقی سے تائب ہوگیا، حتیٰ کہ آپ کے شاگردوں میں رہ کر ایک بڑے عالم کی عزت حاصل کی۔ حاصل کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں حقوق العباد میں سے چند حقوق کا ذکر فرمایا اور اسے حقوق اللہ پر اس لیے مقدم رکھا کہ اللہ کی ذات کریم بھی ہے اور بےنیاز بھی۔ انسان اگر اس کے حقوق میں کوتاہی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑتا اور پھر اسے معاف کردینے میں کوئی دشواری بھی پیش نہیں آتی۔ اس لیے جیسے ہی آدمی حقوق اللہ کی کوتاہیوں کی معافی چاہتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے اس کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا تاوقتیکہ متأثر ہونے والا معاف نہ کرے۔ اس لیے حقوق العباد کے بعد حقوق اللہ کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ انسان انسانوں میں رہے اور پھر اس سے کبھی کسی غلطی کا صدور نہ ہو۔ جنگلوں میں بسنے والے جوگی بھی غلطیوں سے بالکل مبرا نہیں ہوتے۔ لیکن اسلام تو انسانوں کو انسانوں میں رہ کر اعلیٰ سیرت و کردار کا مرقع دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ انسان سے اس بات کی توقع نہیں رکھتا کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے بلکہ وہ انسان کو انسان کی حدود میں رکھ کر ایسے خصائل کا مرقع دیکھنا چاہتا ہے جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں ایک ایسی ہی تصویر کھینچی گئی ہے۔