3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں کے بابت جبکہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں اور ان کو موت آجاتی ہے کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے، یہ خیال ان کے اندر اس لیے پیدا ہوا کہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں باعث حسرت بنا دے۔ اللہ ہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِیْ الْاَرْضِ اَوْکَانُوْا غُزًّی لَّوْکَانُوْا عِنْدَنَا مَامَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْاج لِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے کفر کیا اور جو اپنے بھائیوں کے بابت جبکہ وہ سفر یا جہاد میں نکلتے ہیں اور ان کو موت آجاتی ہے کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، نہ قتل ہوتے، یہ خیال ان کے اندر اس لیے پیدا ہوا کہ اللہ اس کو ان کے دلوں میں باعث حسرت بنا دے۔ اللہ ہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے) ( 156) عقیدہ کا ضعف کفر تک پہنچا دیتا ہے گزشتہ آیات سے جنگ احد کے حالات پر تبصرہ جاری ہے۔ مسلمانوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان کی نشاندہی کی جارہی ہے اور منافقین وغیرہ کے طرز عمل سے بچنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور ان کے طرز عمل میں جس چیز نے ان کے اندر بزدلی پیدا کی ہے اور جس تصور نے ان کی پوری عقائد کی دنیا کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان تصورات نے نہ صرف ان کو بزدل بنایا بلکہ ان سے ان کی طمانینتِ قلب اور آسودگی کو بھی چھین لیا ہے اور تم بھی اگر ان تصورات کو قبول کرو گے تو ظاہر ہے کہ اس کا انجام بھی یہی ہوگا اور کَفَرُوْاکا لفظ بول کر یہ بھی اشارہ کردیا ہے کہ تصورات کا یہ بگاڑ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک یہ کفر ہے اور کفر کا جو نتیجہ آخرت میں ظاہر ہوگا وہ تمہیں معلوم ہی ہے۔ ان کے رویے کی پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اگر ان کے عزیزوں میں سے کوئی شخص سفر پر چلا جائے یا جہاد میں شریک ہو اور اسی حالت میں مرجائے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ ہمارا عزیز ہمارے ساتھ ہوتا یا گھر میں رہتاتو اس طرح مسافرت کی موت نہ مارا جاتا۔ دوسرے لفظوں میں ان کا مطلب یہ ہے کہ موت اور زندگی انسان کی اپنی تدبیروں کے ماتحت ہے۔ آدمی اگر تدبیر کی غلطی نہ کرے تو موت کا شکار ہونے سے بچ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضے میں نہیں بلکہ وہ آدمی کے اپنے قبضے میں ہے اور جب کوئی شخص سفر یا جہاد کی حالت میں مرتا ہے یا شہید ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بےتدبیری کی نذر ہوگیا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جو انسان کو بزدل بھی بناتا ہے اور کفر تک بھی پہنچاتا ہے جبکہ اسلام نے انسان کے دل کی مضبوطی اور اس کے کردار میں پختگی کے لیے جو عقیدہ عطا فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ ہی مارتا اور اللہ ہی زندہ کرتا ہے۔ زندگی اور موت سراسر اس کے قبضے میں ہے۔ کوئی آدمی مضبوط سے مضبوط قلعے میں بھی موت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کتنے ایسے لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ موجوں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے ساحل پر پہنچ جاتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو تیرتے تیرتے ڈوب جاتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ جنھیں کشتیاں بھی خیریت سے ساحل پر نہیں پہنچا پاتیں ٹھیک کہا کسی نے ؎ وہ جن کو ڈوبنا ہو ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں خطرات سے کھیلنے والے بچ جاتے ہیں اور گھروں میں چھپنے والے خطرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے عقیدے کی اس پختگی پر زور دیا کہ دیکھنا تم ان کی طرح کمزور عقیدے کا شکار نہ ہونا ورنہ تم بھی ان کی طرح بزدلی کا شکار ہوجاؤ گے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو شخص موت کو حالات کا نتیجہ سمجھتا ہے اور اپنے اللہ کے بارے میں یہ مضبوط عقیدہ نہیں رکھتا کہ زندگی اور موت اس کے قبضے میں ہے وہ جب کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو صرف یہی نہیں کہ اس کے اندر سے بہادری اور بےخوفی جاتی رہتی ہے بلکہ وہ ایک عجیب کرب کا شکا رہوجاتا ہے جو اس کے لیے سزا سے کم نہیں ہوتا۔ وہ کرب یہ ہے کہ جب بھی اسے وہ حادثہ یاد آتا ہے یا اسے اپنے عزیز کی موت یاد آتی ہے تو وہ اپنے تصورات کے تحت یہ سوچنے لگتا ہے کہ کاش ! میں نے تدبیر کی یہ غلطی نہ کی ہوتی، کاش ! میرا بھائی جنگ پر نہ گیا ہوتا، کاش ! میرا بھائی سفر پر نہ جاتا تو یقینا وہ آج زندہ ہوتا۔ یہ سوچ اس کے اندر حسرت کا ایسا زخم لگادیتی ہے کہ جو زندگی بھر مندمل ہونے میں نہیں آتا وہ جب بھی اپنے مرحوم کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کے دل سے آہیں نکلنے لگتی ہیں کہ کاش ! اس نے ایسا نہ کیا ہوتا، کاش ! اس نے ایسا نہ کیا ہوتا، کاش ! وہ ہمیں چھوڑ کر نہ جاتا۔ یہ ایک ایسا خار غم ہے جو کبھی انسان کو چین نہیں لینے دیتا ان تمام کمزوریوں کا مداویٰ اور ایسی تمام کمزوریوں میں مضبوط قوت ارادی کا پیدا ہونا صرف اس بات پر موقوف ہے کہ آدمی وہم کی ان باتوں کو چھو ڑکر یہ مضبوط عقیدہ اختیار کرے کہ جب تک اللہ کو منظور نہ ہو موت نہیں آسکتی اور جب موت کا وقت آجاتا ہے تو بڑی سے بڑی حفاظت بھی موت سے بچا نہیں سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی دیوانہ وار موت کی وادی میں اترتا چلاجائے اور کسی معاملے میں کبھی احتیاط کا دامن نہ پکڑے اور بلاوجہ خطرات سے کھیلنا شروع کردے۔ نہیں ! بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں ان سے محض اس لیے گریز کا راستہ اختیارنہ کرے کہ اس میں زندگی کے چلے جانے کا امکان ہوسکتا ہے۔ محض امکانات پر فرائض سے دست کش ہوجانا یہ وہ کمزوری ہے جو انسان میں مضبوط ارادہ پیدا ہونے نہیں دیتی اور وہ کبھی بھی کسی مشکل کام کرنے کو تیار نہیں ہوتاجب کہ زندگی صرف آسانیوں کا نام نہیں اللہ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کا راستہ بعض دفعہ موت وحیات کے درمیان سے نکلتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا مثلِ خلیل ہو اگر معرکہ آزما کوئی ! اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لاتخف مزید اس آیت میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم اپنے عزائم اور اپنے کاموں کے بارے میں ذہول اور نسیان کا شکار ہوسکتے ہو لیکن تمہارا رب تمہارے اعمال سے کبھی بیخبر نہیں ہوتا۔ اگر تم نے اپنے اعمال سے اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرلیاتو ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی وقت بھی تم اس کی رحمت سے محروم کردیئے جاؤ۔ انتہائی خطرناک لمحوں میں بھی تم جب اسے پکارو گے تو تم اسے موجود پائو گے۔ آنحضرت ﷺ جب ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ اچانک ایک بدو برہنہ تلوار لیے آپ کے سر پر جا پہنچا اور آپ سے کہا کہ محمد ﷺ ! بتائو اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ تو آپ نے نہایت مضبوط لہجے میں فرمایا : ش۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے دل پر خوف طاری ہوگیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ اب آپ نے اس سے فرمایا کہ بتا تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ تو اس نے گڑگڑانا شروع کردیا۔ اس کے اندر چونکہ عقیدے کی مضبوطی نہیں تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گڑگڑانے لگا اور یہ سمجھا کہ اب مجھے کوئی نہیں بچاسکتا۔ اللہ پر بےپناہ اعتماد اور اس کی جانب سے عائد شدہ فرائض کی ادائیگی دونوں ملکر انسان کے اندر وہ توانا کردار پیدا کرتے ہیں جو ایک مومن کی اصل شناخت ہے۔
Ayahs 3:157–158

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے یا مرگئے تو اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرگئے یا قتل ہوگئے ہرحال میں اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جائو گے

وَلَئِنْ قُتِلْـتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْمُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ وَلَئِنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْـتُمْ لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے یا مرگئے تو اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں۔ اور اگر تم مرگئے یا قتل ہوگئے ہرحال میں اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے) (157 تا 158) ایک نوید جانفزا اس آیت کریمہ میں مسلمانوں سے خطاب فرماکر ایک نہایت دلنواز بات فرمائی گئی ہے کہ ان کافروں اور منافقوں کو تو چھوڑو زندگی اور موت کے بارے میں ان کے تصورات دنیا میں بھی ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں اور آخرت میں تو سرتاپا عذاب ہوں گے۔ لیکن مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کردئیے جاؤ یا اللہ ہی کے راستے پر چلتے ہوئے کبھی موت کا شکار ہوجاؤ تو دوسرے لوگوں کے لیے تو یہ دونوں باتیں غم واندوہ کا باعث ہیں لیکن تمہارے لیے اس میں ایک نوید جانفزا مخفی ہے۔ وہ یہ کہ تمہیں اللہ کے ہاں جاکر سب سے پہلی چیز جس کی خوشی سے تم دوچار کیے جاؤ گے وہ یہ ہوگی کہ تمہیں بتایا جائے گا کہ اللہ نے تمہاری سب غلطیاں، سب گناہ اور سب لغزشوں پر مغفرت کا قلم پھیر دیا ہے۔ تمہارا دامن ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں اللہ کی وہ رحمت میسر آئے گی جس سے بڑی نعمت کا ایک مومن تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ رحمت دراصل وہ انعام اور وہ نوازشات ہوں گی جو اللہ کی طرف سے اس مومن پر کی جائیں گی۔ مغفرت بجائے خود اتنا بڑا مقام ہے کہ جس کی اہمیت اگر دل میں اتر جائے تو پھر اس راستے میں سب کچھ جھونک دینا مومن کے لیے آسان ہوجاتا ہے اور رحمت تو اللہ کی بخشش کے بعد ملنے والے وہ ثمرات ہیں جو بخشش کے بعد عطا کیے جائیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے : جب ایک مرد مومن اللہ کی طرف سے ملنے والے انعامات اور نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ تمنا کرے گا کہ اگر یہ نعمتیں میری زندگی میں برداشت کی جانے والی تکلیفوں کا صلہ ہیں تو اے کاش ! میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی یعنی میں ناقابلِ برداشت اذیتوں سے دوچار کیا جاتا اور پھر مجھے یہاں ان اذیتوں کا بیش از بیش صلہ ملتا۔ آخرت کی نعمتوں اور دنیا کی نعمتوں کا درحقیقت آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ نادانی سے لوگ بعض دفعہ اخروی نعمتوں کی بجائے دنیوی نعمتوں کے پیچھے دوڑتے اور انھیں جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اگر انھیں ذرا سا بھی شعور ہوجائے کہ اخروی نعمتیں کیا اور کیسی ہیں تو وہ دنیوی نعمتوں کی بجائے اخروی نعمتوں کے حصول میں لگ جائیں۔ صحابہ کی زندگی میں یہی روح کارفرما دکھائی دیتی ہے۔ وہ چونکہ آخرت کے یقین سے بہرور تھے اس لیے بعض دفعہ دنیا میں اس کی خوشبو سونگھتے یا لذت یاب ہوتے تھے۔ حضرت نضربن انس ( رض) نے جنگ احد میں فرمایا تھا کہ میں تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو پارہا ہوں۔ چناچہ اسی خوشبو کی تلاش میں دیوانہ وار دشمن کی فوج میں جاگھ سے اور اسی (80) سے زیادہ زخم کھاکرشہید ہوئے۔ ایک صحابی کھجوریں کھا رہے تھے جب معرکہ کارزار پوری طرح گرم تھا تو انھوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضور اگر میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : جنت۔ کھجوریں حضور کے حوالے کیں۔ کہا : جب تک کھجوریں کھائوں گا بہت دیر ہوجائے گی اور اتنی دیر تک جنت کا انتظار بہت مشکل ہے۔ جنگ میں گھس گئے اور شہید ہوگئے۔ آپ نے خود ان کو لحد میں اتارا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) فرماتے تھے کہ وہ شخص شاید اسی وقت مسلمان ہوا تھا لیکن جب حضور نے اس کے جنتی ہونے کی خبر دی اور خود بچشم تر اس کو لحد میں اتارا تو مجھے اس سے رشک پیدا ہوا کہ کاش ! میں اس کی جگہ شہید ہواہوتا اور حضور مجھے اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارتے۔ یہاں انھیں باتوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم دنیا کے خزف ریزے جمع کرکے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتے ہو لیکن تمہیں کیا معلوم کہ خوش قسمتی تو آگے ہے۔ دوسری آیت میں ایک اور بات ارشاد فرمائی کہ جو مومن بھی اللہ کے راستے میں مارا جاتا ہے یا شہید ہوتا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کسی اور جگہ نہیں اللہ ہی کے پاس پہنچتا ہے۔ اگر وصل محبوب جنت سے بھی بڑی نعمت ہے تو یہ نعمت بھی اللہ ہی کے راستے میں مرنے سے نصیب ہوتی ہے۔ دنیا میں عشاق وصل محبوب کی تمنا میں عمریں گزار دیتے ہیں لیکن جنھیں یہ خوشخبری سنادی جائے کہ وصل محبوب اتنا ہی دور ہے جتنا زندگی سے موت کا فاصلہ تو اندازہ فرمائیے ان کے لیے جینا کس قدر مشکل ہوجائے گا۔ عام وصل کے لیے بےتابی دیکھنا ہو تو غالب کے اس شعر میں دیکھئے ؎ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا کچھ اور جیتے ہوتے یہی انتظار ہوتا اس معمولی وصال کے لیے اگر عمر بھر انتظار کیا جاسکتا ہے تو اللہ کے وصال کے لیے ایک مومن میں کیا بےچینی ہونی چاہیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں۔ سید احمد شہید کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی کو، جبکہ لڑائی چھڑ چکی تھی، تھوڑا سا دودھ اور کچھ چاول ملے۔ اس نے ایک برتن میں ڈال کر چولہے پر پکنے کے لیے رکھے اور ایک لکڑی لے کر اسے ہلانے لگا۔ میدانِ جنگ کی طرف دیکھا تو گولیاں برس رہی تھیں۔ سید صاحب پہاڑ سے نیچے اتر چکے تھے۔ اچانک اس نے کھیر کے برتن پر زور سے چھڑی ماری اور اسے زمین پر گراکر کہنے لگا کہ ادھر دوسرے پہاڑ پر حوریں کھڑی ہمارا انتظار کر ہی ہیں میں کب تک اس کھیر کے پکنے کا انتظار کروں چناچہ دیوانہ وار نیچے اترا اور شہید ہوگیا۔ ٹھیک کہا ماہر القادری مرحوم نے : درود اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں بڑھا دیتے ہیں اک ٹکڑا شجاعت کے فسانے میں
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم خو ہیں اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے، سو ان سے درگزر کریں ان کے لیے مغفرت چاہیں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں، پس جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَ نْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِیْ الْاَمْرِ ج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔ (یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم خو ہیں اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ سو ان سے درگزر کریں ان کے لیے مغفرت چاہیں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں۔ پس جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) (159) آنحضرت ﷺ کے کریمانہ اخلاق اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں آیتِ کریمہ کے پہلے لفظ میں ” ما “ کا استعمال اہل نحو کے نزدیک تاکید کے لیے ہوا ہے۔ لیکن محققین یہ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسے مواقع پر ” ما “ کا استعمال محض آہنگ کو ٹھیک رکھنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ آپ کے اخلاقِ عالیہ جس کا آئندہ ذکر ہورہا ہے وہ اتنے عظیم اور بلند ہیں کہ محض کسب واکتساب سے انھیں حاصل کرنا ممکن نہیں ایسے اخلاق محض اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتے ہیں اور آپ پر صرف اللہ کی رحمت ہی نہیں بلکہ آپ دنیا میں رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لیے ایسے اخلاق کا وجود محض آپ کی خصوصیت اور سراسر اللہ کی رحمت ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ سابقہ آیات میں منافقین پر سخت تنقید ہوئی ہے اور مزید یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ منافقین کی سازشوں اور عین جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران ان کی حرکتوں سے حددرجہ دل گرفتہ تھے۔ لیکن اس کا اظہار نہیں فرما رہے تھے۔ اب جو پروردگار کی طرف سے سخت تنقید سامنے آئی تو اندیشہ پیدا ہوا کہ آپ بھی ان پر گرفت فرمائیں گے اور سختی کا اظہار کریں گے۔ لیکن حالات کا تقاضا یہ تھا کہ ابھی آپ ان منافقین کو مزید مہلت دیں اور ان سے اپنا کریمانہ رویہ بدستور جاری رکھیں تاکہ ان میں جو لوگ اصلاح کے قابل ہوں وہ اصلاح قبول کرکے مخلص مومنین میں شامل ہوجائیں۔ لیکن آگے چل کر جب ان منافقین پر اتمامِ حجت ہوگیا اور اب مزید اصلاح کی امید اس گروہ میں باقی نہ رہی تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا رویہ بدلنے کا حکم دیا اور ان کے بارے میں سخت احکام نازل کیے۔ سورة توبہ میں ان کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے عفو و درگزر کی سفارش بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہاں جن لوگوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو عفو و درگزر کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے وہ منافقین نہیں بلکہ مخلص مسلمان ہیں۔ جن سے بعض اسباب کے تحت اجتہادی غلطیاں ہوئیں، وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، کہیں اشتعال کا شکار ہوئے اور کبھی ہراس کا نشانہ بنے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کو غیر معمولی نقصان ہوا۔ جنگ کے بعد جب حالات نارمل ہوئے تو جن مسلمانوں سے کو تاہیاں ہوئی تھیں وہ حددرجہ پریشان رہنے لگے تھے۔ مسلمانوں کو مختلف حوادث کا سامناچون کہ ان کی وجہ سے کرنا پڑا اس لیے وہ اپنے تئیں مجرم سمجھ رہے تھے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کے لیے صدمے کا باعث یہ تھا کہ ان کی بعض کوتاہیوں کے نتیجے میں خود آنحضرت ﷺ زخمی ہوئے۔ آپ انھیں پکارتے رہے لیکن جنگ کی ہولناکی نے جو بدحواسی پیدا کی اس کی وجہ سے انھوں نے آنحضرت ﷺ کی آواز نہیں سنی چناچہ ان کی اس فروگزاشت کی انھیں سزا یہ ملی کہ اللہ نے انھیں غم پر غم پہنچائے۔ لیکن اب مزید دل گرفتگی اور دل کے صدمے سے نکالنے کے لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ پر اللہ کا یہ خصوصی کرم ہے کہ اس نے آپ کو نرم خو بنایا ہے۔ حالات کیسے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں آپ نے اپنی نرم خوئی کو کبھی نہیں بدلا۔ اگر آپ تندخو ہوتے تو عرب کے بدو اور ان پڑھ لوگ جو اپنی طبیعتوں میں سختی اور اکھڑ پن رکھتے تھے وہ تو آپ کو چھوڑ کر چلے جاتے۔ لیکن یہ آپ کی نرم خوئی، آپ کی محبت اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا نتیجہ ہے کہ جن سر پھرے لوگوں کو کبھی کوئی رام نہ کرسکا وہ آپ کی ایک ایک ادا پر قربان ہونے لگے اور آپ سے اس درجہ انھوں نے محبت کی کہ کسی ذات سے آج تک انسانوں کے کسی گروہ نے اس طرح ٹوٹ کر محبت نہیں کی ہوگی۔ جنگ احد کا حادثہ ایک بہت بڑ احادثہ ہے سب کے دل زخمی ہوئے ہیں اور آپ کا خصوصی طور پر زخمی ہونا مسلمانوں کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ اگر آپ نے ان سے درگزر سے کام نہ لیا تو وہ اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں گے اس لیے آپ ان سے درگزر فرمائیں۔ وہ چونکہ آپ کے صحابہ ہیں اور دین کی انھوں نے بےپناہ خدمت انجام دی ہے۔ مہاجرین نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور انصار نے اپنا سب کچھ ان کے قدموں میں ڈال دیا، اس لیے اللہ کی نظر میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ پروردگار آنحضرت ﷺ سے سفارش فرما رہے ہیں کہ آپ ان سے درگزر فرمائیں اور مزید یہ فرمایا کہ صرف درگزر ہی نہ فرمائیں بلکہ ہم سے سفارش بھی کریں کہ ہم ان کی مغفرت کردیں۔ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ کا یہی مفہوم ہے۔ شیخ الہند نے یہی مفہوم مراد لیا ہے کہ اپنے رسول سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان سے جو غلطی ہوگئی ہے اسے خود بھی معاف کردیجیے اور میری جناب میں بھی شفاعت کیجیے کہ میں بھی ان سے راضی ہوجاؤں۔ سبحان اللہ ! کیا شان ہے صحابہ کرام کی اور کتنا مقام ہے ان کے نبی مکرم کا اور اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے جب درگزر فرمائیں گے اور اللہ سے ان کے لیے استغفار کریں گے تو یقینا آپ کا دل ان کی طرف سے بالکل صاف ہوجائے گا اور یہ خطرہ باقی نہیں رہے گا کہ کہیں آپ کے دل کا کوئی احساس اللہ کے یہاں ان کی آخرت کو مجروح کردے۔ لیکن صحابہ کرام کی دلجوئی اور ان کو حوصلہ دینے کے لیے مناسب یہ ہے کہ حسب سابق اپنے فیصلوں اور اپنے کاموں میں انھیں اپنے مشورے میں شامل رکھیں تاکہ انھیں پورا ا طمینان ہوجائے اور وہ یقین کرلیں کہ آنحضرت ﷺ کی وہی نظر کرم ان کے حال پر ہے جو اس سے پہلے تھی۔ حالات کا تقاضا اگرچہ کچھ اور تھا لیکن آنحضرت ﷺ کے جودوکرم کے بحر زخار نے رحمت کامینہ برسانے سے دریغ نہیں فرمایا۔ جو عطا اور بخشش صحابہ کے حال پر پہلے تھی اب بھی اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ اور صفاتِ حسنہ کے ذکر کے ساتھ آپ کو جو ہدایات عطا کی گئیں وہ قیامت تک کے لیے ارشاد واصلاح اور تبلیغ و دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے ایک ہدایت نامہ بن گئیں جن سے معلوم ہوتا رہے گا کہ ایک داعی الی اللہ کو کن صفات کا مرقع ہونا چاہیے ؟ اور اگر کبھی ناموافق صورتحال سے بھی دوچار ہونا پڑے تو اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے ؟ سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے اپنی رحمت سے آپ کو نرم خو بنایا ہے۔ اگر آپ کہیں تند خو ہوتے تو عرب کے سرپھرے جن میں آزادی کی حس خودسری تک پہنچی ہوئی تھی وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتے اور کبھی دیوانوں کی طرح آپ کے گرد جمع نہ ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مرشد ومبلغ کے لیے ترش روئی، سخت کلامی اور نازک مزاجی اس کی دعوتی اور اصلاحی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کی موجودگی میں دعوت کا کام انجام دیا ہی نہیں جاسکتا۔ صحابہ کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے آپ کو درگزر کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ کوئی ایسی کوتاہی جس سے پیغمبر کا دل دکھے اس سے ایمان چلے جانے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کو درگزر کرنے کا حکم دیا جارہا ہے تو کسی شیخ اور مربی یا دین کا کام کرنے والی جماعت کے امیر کے لیے بدرجہ اولیٰ یہ بات ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ چلنے والوں کے لیے دل آویزی کا پیکر بنے، بات بات پر ان سے باز پرس نہ کرے اور برا کہنے والوں سے بھی کبھی انتقام لینے کا ارادہ نہ کرے بلکہ نرمی اور چشم پوشی کو اپنا رویہ بنائے۔ مزید فرمایا کہ آپ کو صحابہ کے لیے استغفار کرنا چاہیے یعنی آپ کے دل میں ان کے لیے اتنی جگہ ہونی چاہیے کہ آپ نہ صرف اپنا دل ان سے صاف رکھیں بلکہ اللہ سے بھی ان کی مغفرت کی سفارش فرمائیں۔ جس طرح ایک باپ اپنی اولاد کے لیے نا خوشی میں بھی دعائیں کرتا اور بھلائی مانگتا ہے اسی طرح دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کو اپنے ساتھیوں کے لیے ایسے ہی جذبات کا حامل ہونا چاہیے۔ مشاورت کی ہدایت مزید فرمایا کہ عفو و درگزر اور استغفار کے ساتھ ساتھ آپ انھیں مشاورت میں بھی شریک رکھیں تاکہ وہ اجتماعیت سے کٹنے نہ پائیں اور باہمی حسن ظن اور اعتماد میں اضافہ ہو۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دینی امور میں تو مشورہ لینے کی بالکل ضرورت نہیں تھی کیونکہ دینی امور میں قدم قدم پر وحی الہٰی راہنمائی کرتی تھی۔ البتہ ! انتظامی معاملات میں وحی نہ اترنے کی صورت میں آپ کو مشاورت کی ضرورت ہوتی تھی۔ اگرچہ آپ کی اجتہادی قوت آپ کی راہنمائی کے لیے کافی تھی اور کسی بھی فروگذاشت کی صورت میں وحی الہٰی کی نگہداشت حفاظت کے لیے کافی تھی۔ باایں ہمہ ! آپ کو مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ امت کو مشاورت کی اہمیت کا اندازہ ہو اور نیز یہ بات بھی معلوم ہوجائے کہ مشورہ سنت نبوی ہے اور امت مسلمہ کے لیے اس کا اتباع ضروری ہے۔ اس لیے امام ابو عبداللہ القرطبی نے خوب لکھا ہے : قال ابن عطیہ والشوریٰ من قواعدالشریعۃ وعزائم الاحکام ومن لایستشیراھل العلم والدین فعزلہ واجب۔ (مشورہ شریعت کے مسلمہ اصولوں اور اہم ترین احکام سے ہے اور جو حاکم اہل علم ودین سے مشورہ نہیں کرتا بلکہ خودرائی سے کام لیتا ہے اسے معزول کردینا لازمی ہے ) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور باہم مشورہ کرنے کے بعد اس کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو صحیح اور مفید صورت کی طرف ہدایت مل جاتی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے۔ جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین آدمی ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورہ سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ امت میں اس کو رواج دینے کے لیے آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ صحابہ سے مشورہ کیا۔ غزوہ بدر میں آگے بڑھنے کا فیصلہ مشورہ سے ہی ہوا اور آپ کے ساتھیوں نے مشورہ دیتے ہوئے جس سرفروشی کا ثبوت دیا وہ ہمیشہ یادگار رہے گا۔ بدر میں پہنچ کر پڑاؤ کے لیے جگہ کے انتخاب میں آپ نے مشورہ ہی سے تبدیلی کی۔ غزوہ احد میں مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ صحابہ کرام کے مشورے سے ہی ہوا۔ غزوہ خندق میں بنو غطفان وغیرہ سے صلح کا معاہدہ اوس و خزرج کے سرداروں کی مخالفت کی وجہ سے ختم کیا گیا۔ حدیبیہ کے ایک معاملے میں صدیق اکبر ( رض) کے مشورہ پر فیصلہ ہوا۔ مختصر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے مشورہ کو اپنی سنت کے طور پر امت میں چھوڑا تاکہ امت اسی کو شورائیت کی بنیاد بنا کر اپنے اجتماعی امور سرانجام دے سکے۔ فیصلے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اس آیت کریمہ میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جب مشورہ کے بعد آپ کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں تو پھر اللہ پر بھروسہ کریں اور جس کام کا ارادہ کیا ہے اسے سرانجام دینے کا فیصلہ کرلیں اور عزم کی قوت کے ساتھ اسے بروئے کار لائیں۔ مشاورت میں یقینا موجود اسباب میں سے ایک ایک بات پر بحث ہوتی ہے۔ مثبت اور منفی پہلو سامنے آتے ہیں، تحفظات بھی طے کیے جاتے ہیں اور اقدامات کا بھی فیصلہ ہوتا ہے۔ اپنی قوت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور موانع اور مشکلات کا بھی۔ ان تمام باتوں کو سمجھ لینے کے بعد جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ اب اقدام کرنا ہے اور اس کام کو سرانجام دینا ہے تو پھر اسباب کی کمی کو دیکھتے ہوئے کسی کمزوری کو پاس نہ آنے دینا بلکہ اللہ کے بھروسے پر ایک ایک قدم اٹھانا ” توکل “ کا اصل مفہوم ہے۔ ہم نے توکل کو تعطل کا ہم معنی سمجھ لیا ہے۔ جب کسی کام کو نہ کرنے کا ارادہ ہو اور اس کے لیے جان مارنے کی ہمت نہ ہو تو ہم بےعمل ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم اللہ کے بھروسے پر ہی حالات کو آگے بڑھنے دیں گے۔ توکل کے لیے اولین شرط موجود اسباب کی فراہمی ہے اس کے بعد اللہ پر بھروسہ ہے۔ اس لیے حضور نے فرمایا : اعقل ثم توکل ” اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو کہ اب یہ کہیں نہیں جائے گا۔ “ اونٹ کو کھلا چھوڑ کر یعنی احتیاطی عمل کو ترک کرکے توکل کرنا، یہ توکل نہیں۔ شاعر نے ٹھیک کہا : توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا پھر اس خنجر کی تیزی کو مقدر کے حوالے کر
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے گا تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو پھر اس کے بعد کون تمہاری مدد کرے گا ؟ اور اللہ ہی کے اوپر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں

اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہَ فَلاَ غَالِبَ لَـکُمْ ج وَاِنْ یَّخْذُلْـکُمْ فَمَنْ ذَاالَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّن م بَعْدِہٖ ط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے گا تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے گا تو پھر اس کے بعد کون تمہاری مدد کرے گا ؟ اور اللہ ہی کے اوپر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں) (160) گزشتہ آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی تقسیم ایک ہی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ پسند نہیں کرتا اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری طرف مومن ہیں۔ مومن اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں اور کافر ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ دوسری بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ جنھیں پسند کرتا ہے انھیں نوازتا ہے اور ان کی غلطیوں پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ اگر وہ اپنی اصلاح سے بےفکر نہ ہوں اور اس کے احکام کو کبھی نظر انداز نہ کریں تو وہی دنیا و آخرت کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی جزا عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ توکل کو بطور عقیدہ کس طرح ماننا چاہیے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ توکل ترک اسباب اور ترک تدبیر کا نام نہیں بلکہ تمام ممکن اسباب کی فراہمی ایک مومن کے لیے بھی ضروری ہے۔ توکل اس بات کا نام ہے کہ جب ممکن اسباب فراہم ہوجائیں تو اب اپنی کامیابی کا دارومدار اسباب پر نہیں اللہ پر ہونا چاہیے۔ یہی ایک مومن اور کافر میں فرق ہے۔ کافر بھی اسباب فراہم کرتا ہے اور اس کا تمام تر بھروسہ اسباب پر ہوتا ہے۔ لیکن مومن کا اصل بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہوتا ہے اور اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ مدد صرف اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اگر وہ مدد کرے تو پھر چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں اور اس کی مدد کی موجودگی میں کسی اور مدد کی ضرورت نہیں ہوتی اور کوئی اور قوت ایسے بےپناہ یقین رکھنے والوں پر غالب بھی نہیں آسکتی اور ساتھ ہی وہ یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ اگر اللہ مدد سے ہاتھ کھینچ لے اور وہ اپنے ماننے والوں کو بےسہارا چھوڑ دے تو پھر کوئی اور ایسی قوت نہیں جو اس کے بعد مومن کی مدد کرسکے۔ اس مضبوط عقیدے پر ایمان دراصل توکل ہے اور ایسے صاحب ایمان لوگوں کو سب سے زیادہ یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ اور توکل کریں اور یہ توکل ہی ہے جو مسلمان کو باقی قوموں سے الگ کرتا ہے۔ اقبال کا نہایت سادہ سا شعر دراصل اسی بات کی تفسیر ہے لوگوں نے نہ جانے اس کے کیسے دوسرے معنی مراد لے لیے ہیں۔ وہ کہتا ہے کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی یعنی وہ امکانی حد تک اسلحہ جنگ فراہم کرتا ہے لیکن اس پر بھروسہ نہیں کرتا۔ بھروسہ چونکہ اللہ کی ذات پر ہوتا ہے اس لیے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے بےتیغ بھی لڑنا پڑے تو محض اس لیے میدان سے جی نہیں چراتا کہ میرے پاس تیغ نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اسباب کی فراہمی بھی اللہ کے اختیار میں ہے اس نے اگر ساری کوششوں کے باوجود اسباب نہیں دیئے اور حق و باطل کا معرکہ برپا ہوگیا ہے تو اب شاید وہ یہی چاہتا ہے کہ مجھے بےتیغ بھی میدانِ جنگ میں اتر جانا چاہیے۔
Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور ایک نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے دن آئے گا، پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پوراپورا بدلہ ملے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے

وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ج ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (اور ایک نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے دن آئے گا۔ پھر ہر جان کو اس کی کمائی کا پوراپورا بدلہ ملے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے) (161) غلول کا مفہوم اور یہاں اس سے مراد ؟ غَلَّ یَغُلُّ کا مصدر ہے غَلُوْلٌ۔ عام طور پر مال غنیمت میں کسی طرح کی خیانت یا چوری پر غلولکا لفظ بولا جاتا ہے۔ لیکن یہ لفظ عام خیانت، بدعہدی اور بےوفائی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ نَصَحَ کا ضد ہے۔ جس کا معنی ” خیر خواہی “ اور ” خیر سگالی “ کے ہیں۔ جن اہل علم نے مَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ کا یہ معنی کیا ہے کہ ” کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ مال غنیمت میں چوری یا خیانت کرے “ انھوں نے اس کے لیے ترمذی کی ایک روایت کا ذکر کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بدر میں ایک قبا یا ایک چادر چوری ہوگئی تھی بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لی ہے۔ کہنے والوں کا گمان یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو شاید ہر طرح کا اختیار حاصل ہے وہ مال غنیمت میں سے جو چیز چاہیں لے سکتے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ منافقین نے اسے چوری قرار دیا ہو۔ اس آیت کریمہ میں اسی الزام کا ذکر کرکے اس کی تردید فرمائی گئی ہے۔ لیکن ان آیات کے مفہوم کے سلسلے میں دشواری یہ پیش آتی ہے کہ یہ تمام آیات جنگ احد کے واقعات پر تبصرہ ہیں اور جنگ بدر اس سے ایک سال پہلے پیش آنے والا واقعہ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جنگ احد کے واقعات پر تبصرہ کے ضمن میں بدر کے ایک واقعہ کا ذکر کیا جائے۔ جنگ بدر میں یہ واقعہ ضرور پیش آیا ہوگا اس سے انکار نہیں لیکن موجودہ سیاق وسباق میں اس واقعہ کا ذکر نہ سمجھ آنے والی بات ہے۔ اس لیے بعض دوسرے اہل علم نے اس کا ایک اور مفہوم مراد لیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن تیراندازوں کو نبی کریم ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے پہاڑ پر بٹھایا تھا۔ انھوں نے جب دیکھا کہ دشمن کا لشکرمیدان چھوڑ کر بھاگ رہا ہے اور مسلمانوں نے مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے تو انھیں گمان ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو لوگ مال غنیمت سمیٹیں وہ سارا انہی کو دے دیا جائے اور ہم تقسیم کے موقعہ پر محروم رہ جائیں۔ یہ خیال کرکے اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر اس نافرمانی کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے جواب میں جو کچھ کہا وہ کوئی ایسا قابل قبول نہ تھا۔ تو آپ نے فرمایا : اظننتم اننا نغل ولانقسم لکم۔ (کیا تم یہ خیال کرتے تھے کہ ہم خیانت کریں گے اور تمہیں کچھ نہ دیں گے ؟ ) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور تقریبِ کلام سے مال غنیمت میں چوری کی شناعت اور اہمیت بھی بیان فرمادی۔ بعض اہل علم نے ایک اور مفہوم بیان کیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کا مال غنیمت کا چوری سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہاں منافقین کے الزام کی تردید کی جارہی ہے۔ منافقین کا الزام یہ تھا کہ ہم نے تو نبی کریم ﷺ پر ہر طرح کا اعتماد کیا ان کے ہاتھ پر بیعت کی اپنے نیک وبد کا ان کو مالک بنایا لیکن وہ ہمارے اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دشمن کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ مشورہ دیا کہ شہر کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے لیکن انھوں نے ہمارے مشوروں اور ہمارے بھائیوں کی جانوں کی کوئی قدروقیمت نہ سمجھی اور اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیں قربان کر ڈالا۔ یہ ایک خیانت ہے جو انھوں نے ہمارے اعتماد میں کی ہے اور یہ ایک بدخواہی اور بےوفائی ہے جو انھوں نے اعتماد کرنے والوں سے کی ہے۔ اس کے جواب میں یہاں فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر اپنی کوئی ذاتی آرزوئیں یا امنگیں نہیں رکھتا وہ معصوم ہوتا ہے۔ وہ کبھی اپنی امت کے ساتھ بیوفائی اور بدعہدی نہیں کرسکتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الہٰی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔ ان اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ تاویل سیاق کلام کے عین مطابق ہے اور تفسیر ابن جریر سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو اللہ کی خوشنودی کا طالب ہو اس شخص کے مانند ہوجائے گا جو اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہے ؟ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰہِ کَمَنْ م بَآئَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ ھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَاللّٰہِ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (کیا وہ شخص جو اللہ کی خوشنودی کا طالب ہو اس شخص کے مانند ہوجائے گا جو اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہے ؟ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے اور یہ جو کچھ کررہے ہیں اللہ اس کو دیکھ رہا ہے) (162 تا 163) حق و باطل کے معرکے میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ حق کے علمبردار اور باطل پرست۔ اہل حق کے پیش نظر ہمیشہ اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ وہ کوئی سا قدم اٹھانے سے پہلے اللہ کی خوشنودی کے بارے میں سوچتے ہیں اور اہل باطل کے سامنے ہمیشہ اپنی ذاتی خواہشات ہوتی ہیں۔ منافقین اور دیگر کفار اہل باطل کی نمائندگی کررہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا انجام اللہ کی ناراضگی اور اس کے نتیجے میں اس کا جہنم ہے اور اہل حق چونکہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں تو اللہ کی رضا ہی سے نوازے جاتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں بالآخر جنت سے نوازا جائے گا۔ یہ دو قافلے ہیں جو پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔ ہر آدمی کو ان میں سے کسی ایک گروہ کا ساتھ دینا ہے۔ اس لیے اسے یہ دیکھ کر ساتھ دینا چاہیے کہ ایک گروہ کا انجام جہنم ہے اور دوسرے کا جنت۔ مزید یہ بات بھی کہ اللہ کے یہاں نیکی کے بھی درجات ہیں اور برائی کے بھی۔ ان درجات کا حصول اعمال پر موقوف ہے۔ جیسے اعمال ہوں گے ویسے درجات سے واسطہ پڑے گا اور اللہ برابر اپنے بندوں کے اعمال کو دیکھتا ہے تاکہ انھیں کے مطابق ان سے سلوک کرے۔
Ayahs 3:163–165

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے ہاں ان کے درجے الگ الگ ہوں گے اور یہ جو کچھ کررہے ہیں اللہ اس کو دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

تحقیق اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

اور کیا جب تمہیں ایک مصیبت پہنچی کہ پہنچاچکے تھے تم اس سے دونی، تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو ! یہ تمہارے اپنے ہی پاس سے ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (تحقیق اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، بیشک یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے) (164) آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، کیوں ؟ یہ آیت تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورة البقرۃ میں گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے تمام اجزا کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ بدبخت منافقین جس پر خیانت اور بدخواہی کا الزام لگا رہے ہیں۔ اس ذات والا صفات کی اہمیت اللہ کے احسانِ عظیم کی سی ہے پروردگار نے انسانوں پر بیشمار احسانات کیے ہیں لیکن کسی احسان کو جتلانا گوارا نہیں فرمایا حالانکہ ان میں سے ایک ایک احسان اس قابل ہے کہ آدمی ساری زندگی اس کے شکر میں گزار دے تو اس کا حق ادانھیں ہوسکتا لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی احسان کا ذکر کرنا پسند نہیں فرمایا بجز اس احسان کے، اور واقعہ بھی یہ ہے کہ کائنات میں سب سے بڑی مخلوق اور کائنات کا گل سرسبد ” انسان “ ہے۔ اسی کی وجہ سے دنیا میں سرگرمی ہے، رونق ہے، اس کی صلاحیتوں کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی قوت ہیچ ہے۔ اس کے عزائم کے سامنے پہاڑوں کی بلندی سرنگوں ہے۔ اس نے لوہے میں قوت پرواز پیدا کی ہے۔ اس نے چند دھاتوں کے ڈبے میں انسانی دماغ اور حافظے کی قوت پیدا کردی ہے۔ اس نے ایسے کیمرے ایجاد کیے ہیں جو زمین کے ناقابلِ عبور حصوں کی تصویریں کھینچ رہے ہیں۔ اس کے راکٹ اور سیارے خلا کو عبور کررہے ہیں۔ اس کے دل کی قوتوں کے سامنے سمندروں کی گہرائیاں ہیچ ہیں۔ اس کے دماغ کی وسعتوں کے مقابلے میں کائنات کی وسعتیں محدود ہیں۔ اس کے آنسوئوں کی گرمی سے فضا کی پہناہیاں پگھلنے لگتی ہیں۔ اس کے سوز و گداز سے عالم ملکوت میں حیرانیاں ہیں۔ اس کی عبادت کا شوق اور اس کی قربانیوں کا جوش ملائے اعلیٰ میں بھی اس کے تذکرے کا باعث بنتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات میں سے چند احسانات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی کا بھی احسان نہیں جتلایاکیون کہ یہ تمام صلاحیتیں اور نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دین ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی منفرد حیثیت نہیں رکھتی۔ ان صلاحیتوں کا اچھا یا برا ہونا، بالا قیمت یا کم قیمت ہونا اس کا تعلق حضرت انسان سے ہے۔ اگر انسان کے ارادوں میں کمزوری ہے، اس کی نیت میں فساد ہے، اس کے دل میں اخلاص کی کمی ہے، اس کی جہتِ سفر غیر واضح ہے، اس کی منزل نامعلوم ہے، اس کے زاویہ نگاہ میں کجی ہے، تو وہ اپنی ساری خصوصیات کے باوجود انسانیت کے لیے بدنماداغ ہے۔ لیکن اگر اس کے ارادوں میں مضبوطی، اس کے دل میں اخلاص، اس کے اخلاص میں سوز و گداز کی کارفرمائی اور اس کی جہتِ سفر واضح اور منزل معلوم ومعین ہے تو یہ انسان کائنات کا گل سرسبد اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس لیے اللہ کا سب سے بڑا احسان ہیں کہ انھوں نے انسان کی تمام توانائیوں اور رعنائیوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے کامیابی سے محنت فرمائی۔ آپ نے اس مشت خاک کو ارادوں کی وسعت، استقلال کی عظمت، دلوں کا اخلاص، احساس کا سوز و گداز ‘ جہتِ سفر معلوم اور ہموار اور منزل متعین فرماکر ایک ایسا اعلیٰ و برتر وجود بنایا کہ جس پر فرشتے بھی رشک کرنے لگے اور ایسے نمونے کے انسان تیار کیے جس کی نظیر اس سے پہلے چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کا اسوہ انسانوں کی زندگی کی ضمانت ہے۔ اس کی تعلیم انسانی فکر کی صحت کی علامت ہے۔ وہ جب تک نہ آیا تھا تو دنیا نمرود اور فرعون، ہامان اور شدّاد جیسے انسانوں سے بھرپور تھی لیکن ان کے خلاف کوئی احتجاج نہ تھا۔ اس کے آجانے کے بعد انسان کو حقیقی شعور نصیب ہوا۔ آج اگرچہ برائی کی علامتیں توانا ہوگئی ہیں لیکن ان کے خلاف احتجاج اور شدت احساس اسی کی دین ہے اور یہ جب تک زندہ ہے انسان کی قسمت دھندلا تو سکتی ہے مردہ نہیں ہوسکتی۔ اَوَلَمَّـآ اَصَابَتْـکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا لا قُلْـتُمْ اَنّٰی ھٰذَا ط قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (اور کیا جب تمہیں ایک مصیبت پہنچی کہ پہنچاچکے تھے تم اس سے دونی، تو تم نے کہا کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو ! یہ تمہارے اپنے ہی پاس سے ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) (165) ” اَ “ حرف استفہام ہے اور ” و “ حرف ربط ہے۔ یہ حرف استفہام اظہارِ تعجب کے لیے ہے اور حرف ربط اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بات بھی منجملہ ان اعتراضات کے ایک اعتراض ہے جس کے جواب اوپر دیئے گئے ہیں۔ ایک سوال اور اس کا جواب پیچھے یہ بات گزر چکی ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے طور پر حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے تصورات بنارکھے تھے۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ جب کبھی حق و باطل کی کشمکش ہو اور ان میں خود اللہ کے نبی موجود ہوں تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایسی صورت میں اہل حق کو شکست ہو۔ اللہ کا نبی چونکہ دنیا میں اللہ کانمائندہ ہے اس لیے اللہ اپنے نمائندہ کو کبھی شکست سے دوچار نہیں ہونے دیتا۔ اس کی مدد کے لیے آسمانوں سے فرشتے اتارتا ہے اس تصور کی موجودگی میں جب انھیں احد کی شکست سے دوچار ہونا پڑا تو ان کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل ہوگیا کہ آخر یہ شکست کیسے ہوگئی ؟ وہ سوچ میں ڈوب گئے کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو پھر شکست ہوجانے کا کیا مطلب ؟ منافقین نے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ اور خود دین کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں پیدا کردیں۔ وہ باربار اس شکست کا حوالہ دیتے تھے کہ یہ شکست آخر کہاں سے آگئی ؟ قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اگر آج اس نقصان سے دوچار ہوئے ہو تو اس سے ایک سال پہلے میدانِ بدر میں تم کفار کو دوگنانقصان پہنچا چکے ہو۔ یعنی تمہارے ستر افراد شہید ہوئے تو ان کے بھی ستر افراد مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے اور اس جنگ میں بھی پہلے مرحلے پر تم نے ان کے کئی افراد مارڈالے اور وہ شکست کھاکر بھاگے بعد میں حالات نے تمہاری غلطیوں کی وجہ سے پلٹا کھایا اور تمہاری فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ جہاں تک اللہ کی طرف سے تائید اور نصرت کا تعلق ہے اس نے جنگ کے پہلے مرحلے میں تمہیں فتح یاب فرمایا تھا۔ لیکن تم نے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے جیتی ہوئی جنگ کو شکست میں تبدیل کردیاتو اب تم پوچھتے ہو کہ یہ شکست کہاں سے آگئی۔ اس شکست کا سبب کوئی اور نہیں بلکہ تم خود ہو۔ یہ شکست تمہارے نفسوں کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے بندوں کو فتح سے بھی نواز سکتا ہے اور اگر اس کے بندے کہلاتے ہوئے بھی نافرمانی کریں، تو شکست سے بھی دوچار کرسکتا ہے۔
Ayahs 3:166–168

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو پہنچی تمہیں مصیبت دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن پس وہ اللہ کے حکم سے پہنچی تاکہ اللہ ایمان والوں کو ممیز کردے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقین کو بھی ممیز کردے اور جن سے کہا گیا کہ آئو اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دشمن کو دفعہ کرو۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہوتے یہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے یہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیزکو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا حالانکہ وہ خود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ کیے جاتے ان سے کہہ دو ! ذرا دور تو کردکھائو اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو

وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ لا وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا صلے ج وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْفَعُوْا ط قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالاً لَّااتَّـبَعْنٰـکُمْ ط ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ج یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ ج اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْاَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا ط قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (اور جو پہنچی تمہیں مصیبت دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن پس وہ اللہ کے حکم سے پہنچی تاکہ اللہ ایمان والوں کو ممیز کردے۔ اور منافقین کو بھی ممیز کردے اور جن سے کہا گیا کہ آئو اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دشمن کو دفعہ کرو۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہوتے یہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے یہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ اس چیزکو خوب جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا حالانکہ وہ خود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو یوں قتل نہ کیے جاتے۔ ان سے کہہ دو ! ذرا دور تو کردکھائو اپنے آپ سے موت کو اگر تم سچے ہو) (166 تا 168) حق و باطل کا معرکہ من جانب اللہ ایک کسوٹی ہے پہلی آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو کچھ تمہیں مصیبت پہنچی ہے اور جو کچھ پیش آیا ہے یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو ہر طرح کی کمزوریوں اور نفاق سے پاک کردینا چاہتا ہے۔ میدانِ جنگ ایک ایسی کسوٹی ہے جس میں کھرا اور کھوٹا خوب پہچانا جاتا ہے۔ جس امت کے سپرد دنیا کی اصلاح کا کام ہو اس کا ایک ایک فرد اپنے اوپر اتنی بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتا ہے کہ جس سے بڑی ذمہ داری کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسے قدم قدم پر مخالفین سے واسطہ پڑتا ہے۔ فکری تضادات کی جنگ لڑنا پڑتی ہے، تہذیب کے ایک ایک مظہر پر ثبات قدم سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے، رسم و رواج اور میل جول کے معاملات میں سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے، اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقت کی قوتوں سے ٹکرانا پڑتا ہے، ایسے جانگسل اور پرخطر کام میں اگر اس امت اور گروہ کے چند افراد بھی اخلاص سے تہی دامن اور یکسوئی سے خالی ہیں تو وہ پوری جماعت کے لیے سوہانِ روح بن جاتے ہیں۔ کسی بھی نازک موقعہ پر وہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل سکتے ہیں اور اس طرح سے جیتی ہوئی بازی بھی پلٹ سکتی ہے۔ اس لیے قرآن کریم باربار اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تم اہل دنیا میں اپنی حیثیت کو سمجھو اور پھر فیصلہ کرو کہ کیا تم میں منافقین کا وجود گوارا کیا جاسکتا ہے ؟ اگر منافقین کے گروہ کو امت کے قائد اور امیر امت سے نکلنے کا حکم دے دیں تو اس کو مختلف معنی پہنا کر امت میں تفریق کے لیے راستہ کھل سکتا ہے۔ اس لیے اس ناگزیر کام کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو انسانی مصالح کے لیے زیادہ مناسب ہے اور وہ طریقہ وہی ہے جو احد میں پیش آیا کہ حق و باطل کے معرکے نے کسوٹی کی طرح ایک ایک شخص کو اس کے اصل مقام پر کھڑا کردیا۔ مخلصین الگ ہوگئے اور منافقین الگ۔ کمزور مسلمان الگ پہچانے گئے اور جان پر کھیل جانے والے الگ اپنا نقش چھوڑ گئے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے اس آیت میں مثال بھی دی گئی کہ تم نے دیکھا کہ تمہاری جمعیت میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جب ان سے کہا گیا کہ اٹھو میدانِ جہاد پکار رہا ہے یا کم از کم شہر کا دفاع تم سے اٹھنے کا تقاضا کررہا ہے۔ تو ان لوگوں نے اپنی بزدلی اور نفاق پر پردہ ڈالنے کے لیے عجیب بات بنائی کہ ہمیں علم ہے کہ اس موقعہ پر لڑائی نہیں ہوگی اگر لڑائی ہونا ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اصلاً جو کچھ کہنا چاہتے تھے وہ اپنی زبان پر لانے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ جو کچھ ان کے دل میں تھا اس کو لفظوں میں چھپا کر اپنے نفاق میں اخفا پیدا کیا۔ لیکن دوسری آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس راز کو کھول دیا کہ وہ درحقیقت یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی اور موت آدمی کے اپنے قبضے میں ہے۔ اگر بےتدبیری نہ کی جائے تو موت سے بچا جاسکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے ان بھائیوں کے بارے میں جوا للہ کے راستے میں قتل ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے اور میدانِ جنگ میں نہ جاتے تو وہ قتل نہ ہوتے۔ یہی موت کا خوف ہے جو درحقیقت انھیں نفاق پر مجبور کرتا ہے اور میدانِ جنگ میں جانے سے روکتا ہے۔ رہی ان کی سخن سازیاں تو وہ صرف بہانے ہیں اور اس آیت کے آخر میں یہ فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ زندگی اور موت کے راز سے واقعی واقف ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ موت سے بچا جاسکتا ہے تو پھر ان سے کہئے کہ تم اپنے آپ سے موت کو دور رکھودیکھنا موت کبھی تمہارے قریب نہ آنے پائے۔ اگر اس تدبیر سے تم ہمیشہ جیتے رہے اور کبھی تمہیں موت نہ آئی تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ تم واقعی اپنی بات میں سچے ہو۔ لیکن یہ کون نہیں جانتا کہ : موت ہے ہنگامہ آراء قلزم خاموش میں ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور ہرگز یہ خیال نہ کرو ان لوگوں کو جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کے راستے میں، مردہ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں۔

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

خوش ہیں ان نعمتوں سے جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں۔ اور وہ بشارت حاصل کررہے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ابھی تک ان سے نہیں ملے ہیں ان کے اخلاف میں سے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ بشارت حاصل کررہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی اور اس بات کی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا)

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ط بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ ۔ لا فَرِحِیْنَ بِمَآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ لا وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِہِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ لا اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ م یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لا وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع (اور ہرگز یہ خیال نہ کرو ان لوگوں کو جو قتل کیے گئے ہیں اللہ کے راستے میں، مردہ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں۔ خوش ہیں ان نعمتوں سے جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں۔ اور وہ بشارت حاصل کررہے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ابھی تک ان سے نہیں ملے ہیں ان کے اخلاف میں سے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ بشارت حاصل کررہے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کی اور اس بات کی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا) (169 تا 171) شہداء کو مردہ مت کہو، وہ زندہ اور رزق دیئے جاتے ہیں جنگ احد میں جن لوگوں کو شہادت کی عزت نصیب ہوئی منافقین ان کے پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو مردہ قرار دیتے اور ان کے پسماندگان کو صبر کی تلقین کرتے اور اس طرح سے قافلہ حق کی ہمتوں کو سلب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پروردگار نے ان منافقین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ خبردار اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کو مردہ نہ کہو۔ مردہ تو تم ہو جن کی وجہ سے زندگی بخش پیغام کو زخم لگے ہیں۔ وہ لوگ کیسے مردہ ہوسکتے ہیں جن کے خون کے ایک ایک قطرے سے صداقتیں توانا ہوتیں اور دین کی فصل لہلہاتی ہے کیونکہ : شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے بڑی زرخیز ہوتی ہے بڑی شاداب ہوتی ہے اللہ کے راستے میں جان دینے والے موت کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ان کی زندگی جاوداں ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے رب کے پاس زندہ رہتے ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے۔ احادیث میں شہدا کے زندہ ہونے اور ان کی لاشوں کے سلامت رہنے کا کئی دفعہ تذکرہ ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ سروردوعالم ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے۔ وہ جنتی محلوں پر سیر کرتے پھرتے ہیں جنتی میوے کھاتے ہیں، طلائی قندیلیں جو زیر عرش معلق ہیں ان میں رہتے ہیں، جب انھوں نے کھانے پینے، رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بےرغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انھیں تمہاری خبر پہنچائوں گا۔ اللہ کے رسول کی یہ حدیث بھی صحیح ہے اور اللہ کی کتاب کی یہ آیت بھی سچی ہے۔ جنت میں رہتے ہوئے شہداء کی روحوں کا تعلق اپنے بدنوں سے اس طرح قائم ہے کہ ہم اس کی کیفیت کو نہیں جانتے اور جنت میں وہ اللہ کے عطا کردہ جسموں کے ساتھ رہ رہے ہیں ان کی زندگی برزخی زندگی سے توانا زندگی ہے۔ وہ اللہ کے ہاں سے خصوصی رزق پاتے ہیں، دنیا میں جس کا ادراک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی اسی خصوصیت کے باعث آنحضرت ﷺ ہر سال شہدائے احد کی قبور پر تشریف لے جاتے تھے اور انھیں اپنی دعائوں سے محظوظ فرماتے تھے۔ اللہ کے یہاں اپنی قدر افزائی اور بندہ نوازی کو دیکھتے ہوئے اپنے پیچھے رہ جانے والے عزیزوں کے بارے میں آرزوئیں کرتے ہیں کہ کاش ! انھیں بھی شہادت نصیب ہو اور وہ بھی اس عیش کی زندگی میں ہم سے آملیں۔ قرآن کریم خبر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان شہداء کو بشارت مل رہی ہے کہ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ تمہارے اخلاف کو تم سے ملایا جائے گا اور انھیں بھی انھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا جن سے تم نوازے گئے۔ وہ اگر اپنے مقام و مرتبہ میں ان سے فروتر بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مقام میں اضافہ فرمادے گا۔ اس بشارت کے بعد اب ان شہداء کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ شہداء کے مقام و مرتبہ کو واضح فرماکر اللہ تعالیٰ نے ان تمام اسباب کا سد باب کردیا ہے جو منافقین مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے بلکہ شہادت ہر مسلمان کی آرزو اور تمنا بن گئی ہے۔