3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

نہ بنائیں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کے خلاف اور جو ایسا کریں گے تو اللہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں، مگر یہ کہ تم ان سے بچو، جیسا کہ بچنے کا حق ہے۔ اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

لاَ یَتَّخِذِالْمُؤْمِنُوْنَ الْـکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَـآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَمَنْ یَّـفْـعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلَّآ اَنْ تَـتَّـقُـوْا مِنْہُمْ تُقٰـۃً ط وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (نہ بنائیں مسلمان کافروں کو دوست مسلمانوں کے خلاف اور جو ایسا کریں گے تو اللہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں، مگر یہ کہ تم ان سے بچو، جیسا کہ بچنے کا حق ہے، اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) (28) پس منظر گزشتہ آیات کریمہ میں یہود کے مذہبی عقائد پر تنقید اور ان کے کردار کے گھنائونے پن کے اظہار کے ساتھ ان کی اصل شکل مسلمانوں کو دکھائی گئی اور انھوں نے اوس و خزرج پر جو اپنے مذہبی علم کا ایک رعب طاری کر رکھا تھا، اس کا پردہ چاک کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو آنے والے دنوں میں جو غلبہ اور استعلاء نصیب ہونے والا تھا دعا کی صورت میں اس کی بھی نشان دہی کردی گئی۔ اس طرح سے مذہبی، علمی اور سیاسی طور پر آنے والے دنوں کی پردہ کشائی فرما کر یہود کی اصل حیثیت کو کھول کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا اور مسلمانوں کو اپنے موقف کی سچائی سے بہرہ ور فرما کر بےپناہ عزم اور اعتماد سے مسلح فرمانے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں ایک خاص حکم دیا گیا کہ تم اب تک یہود کے علم اور ان کی سیاسی اقتدار کی وجہ سے ان کے بارے میں ایک رائے رکھتے تھے اور تمہارے کمزور لوگ ان کے غلبے کو نظر انداز کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے، لیکن اب جب کہ تمہارے سامنے تصویر کا ہر رخ بےنقاب ہوتا جا رہا ہے تو ہم تمہیں پالیسی کے طور پر یہ حکم دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی بھی غیر مسلموں کے ساتھ ایسا رشتہ ولا نہیں رکھنا چاہیے اور ایسے گہرے تعلقات قائم نہیں کرنے چاہئیں جو صاف صاف مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہوں یا آگے چل کر مسلمانوں کی اجتماعی بہبود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہو۔ یہاں مومنون سے مراد وہ مسلمان ہیں جو ابھی تک یہود کے علمی اور سیاسی اثر سے آزاد نہیں ہو سکے۔ اور الکافرین سے مراد یہود ہیں۔ وقتی اور مستقل ہدایت بات تو انہی کے حوالے سے ہو رہی ہے، لیکن مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ایک مستقل پالیسی بھی دی جا رہی ہے۔ اس وقت کے حالات کے مطابق تو مسلمانوں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہود اس وقت گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہیں جو عنقریب خود اس دیوار کے نیچے دفن ہوجائیں گے تو تم ایک ایسے گھر کی پاسبانی کیوں کر رہے ہو جس گھر کے اجڑنے میں چند روز باقی ہیں۔ لیکن مستقل پالیسی کے طور پر ایک اصول دے دیا گیا ہے کہ مسلمان بھی اسی سرزمین پر اپنی حکومتیں قائم کریں گے، ان کے اپنے ممالک کی ضرورتیں ہوں گی۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ ہر طرح کی ضرورت ملک کے اندر پوری ہوممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور اسی لیے ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں۔ مسلمان بھی اس سے بےنیاز نہیں رہ سکتے۔ اس لیے یہ بات از بس ضروری تھی کہ اس کی لیے کوئی اصول دے دیا جاتا کہ غیر مسلم ممالک سے تعلقات کی نوعیت کیسی ہونی چاہیے ؟ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ مسلمان بنیادی طور پر اللہ کے دین کا مبلغ اور مناد ہے۔ وہ کسی طور بھی اپنے اس بنیادی فریضے سے صرف نظر نہیں کرسکتا۔ یہ ذمہ داری جس طرح ہر فردِ مسلم پر ہے اسی طرح مسلمانوں کی ہر مملکت پر بھی ہے۔ اس فرض کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکتی، تا وقتیکہ غیر مسلم ممالک اور حکومتوں سے مسلمانوں کے مناسب تعلقات نہ ہوں۔ اس لیے یہاں مطلق تعلقات رکھنے سے منع نہیں فرمایا گیا بلکہ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی قید لگائی گئی ہے۔ یعنی ایسا تعلق جو مسلمانوں کے خلاف ہو یا مسلمانوں کو نظر انداز کر کے قائم کیا جائے۔ جس تعلق میں مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہو یا مسلمانوں میں عقیدے کے تحفظ میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات قائم کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اس لحاظ سے جب ہم تعلقات کی نوعیت پر غور کرتے ہیں تو تعلقات کی چار صورتیں ذہن میں آتی ہیں، جس کی اہل علم نے وضاحت کی ہے۔ 1 موالاۃ : یہ قلبی تعلق اور محبت کا نام ہے یعنی دو شخصوں یا دو قوموں کے درمیان ایسے تعلق کا قائم ہوجانا جو حمیت اور حمایت کے جذبے کی صورت اختیار کرلے اور دونوں ایک دوسرے کی نگہبانی اور پاسبانی کا عہد کرلیں۔ اسے موالات کہتے ہیں۔ یہ قلبی رشتہ صرف مسلمانوں کے درمیان ہونا چاہیے، غیرمسلموں کے ساتھ اس کی اجازت نہیں کیونکہ اس طرح کا تعلق دو طرح کے نقصانات پر منتج ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ مملکت کا کوئی راز، راز نہیں رہتا۔ عوام جب دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران فلاں غیر مسلم حکومت کے ساتھ بالکل بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی باہمی شیر و شکر ہیں تو اس کا اثر مملکت کے ہر ادارے تک پہنچتا ہے۔ جس کے بعد غیر مسلموں کے لیے مسلمانوں کے اندرونی معاملات اور حساس حالات سے باخبر ہونے میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی اور دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر مسلمان ملک اپنی تہذیب و تمدن اور تعلیم کے حوالے سے حساس نہیں ہے اور اسے اپنی بنیادی اقدار کا پوری طرح پاس نہیں تو غیر مسلم قوت کو مسلمانوں کی تہذیب اور تمدن پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے اور وہ تعلیم کے حوالے سے مسلمانوں کی برین واشنگ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس لیے اسلام نے اس تعلق کو کافر ملکوں کے ساتھ قائم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی ہے۔ 2 مواساۃ : اس کا معنی ہے ہمدردی، خیرخواہی اور نفع رسانی۔ مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ دین اور عقیدے کے اختلاف کے باوجود انسانی رشتہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتا۔ اگر کوئی آفتِ ارضی و سماوی کسی کافر ملک میں آتی ہے اور وہ مدد کے لیے پکارتے ہیں تو انسانی رشتے کے باعث اسلام مسلمانوں کو مکلف کرتا ہے کہ وہ ایسے ملک کی مدد کریں۔ قریش مکہ نے جب آنحضرت ﷺ سے قحط کے دنوں میں مدد طلب کی تو آپ ﷺ نے متعدد اونٹ کھجور کے لدوا کر مکہ روانہ فرمائے۔ جس علاقے سے اہل مکہ کو غلہ ملتا تھا جب اس کا سردار مسلمان ہوگیا تو اس نے غلہ بند کردیا۔ آنحضرت ﷺ نے اسے غلہ کی ممانعت ختم کردینے کا حکم دیا۔ البتہ ! اس میں صرف ایک شرط ہے کہ یہ تعلق اس کافر ملک کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے جس کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ ہو رہی ہو یعنی اگر دونوں ملک ایک دوسرے سے برسرپیکار نہیں ہیں تو پھر ان کے ساتھ خیر خواہی کا تعلق رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ سورة ممتحنہ میں پروردگار نے واضح طور پر اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ارشاد فرمایا : لَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا اِلَیْہِمْ ط (اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے نہیں دین کے معاملے میں، اور انھوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ ان کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرو) ( الممتحنۃ : 8) اسی حکم کی وجہ سے مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی غیر مسلم رعایا کے ساتھ احسان کا سلوک کیا اور غیر مسلم ممالک کے ساتھ بھی ہمیشہ ہمدردی کا رویہ اختیار کیا۔ 3 مدارات : اس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتائو۔ اس کی بھی غیر مسلموں کے ساتھ اجازت ہے اور اگر دو مقاصد میں سے کوئی مقصد پیش نظر ہو پھر تو اسے واجب ٹھہرایا۔ ایک تو یہ کہ غیر مسلموں کے جس گروہ یا جس ملک سے امید کی جاسکتی ہو کہ وہ اسلام کے بارے میں ہمدردانہ رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ انھیں اسلام کی تبلیغ و دعوت پر کوئی اعتراض نہیں اور وہاں کے لوگوں میں قبولیتِ اسلام کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں تو ایسے ملک اور ایسے لوگوں سے اچھے تعلقات رکھنا اور خوش خلقی کا اظہار کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا مہمان ہو۔ ایسی صورت میں مسلمان میزبان کے لیے غیر مسلم مہمان کا اکرام کرنا، اس کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال کرنا ضروری ہے۔ 4 معاملات : میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ تمام ممالک کو اپنے اقتصادی حالات کی بہتری اور ملکی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے تمام ممالک سے تجارتی تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔ صنعت و حرفت کا تبادلہ کرنا پڑتا ہے، بعض دفعہ ایک دوسرے کے ملکوں میں اجرت اور ملازمت کے معاہدے بھی طے پاتے ہیں۔ ایسے معاملات غیر مسلموں کے ساتھ رکھنے کی مسلمانوں کو آزادی دی گئی ہے۔ وہ شوق سے ان کے ساتھ تجارت کریں اور ملک کو جس قسم کے تعلقات کی ضرورت ہو اسے بروئے کار لائیں۔ اس تمام تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ جس تعلق سے مسلمانوں کو روکتا ہے وہ صرف موالاۃ کا تعلق ہے۔ اس لیے کہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ کوئی بھی کافر اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے بارے میں غیر جانبدار نہیں ہوتا اور اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کو اپنے دین پر ترجیح دینے لگے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کا چونکہ دل و دماغ کا رشتہ اپنے دین سے ہے تو وہ اس رشتے کو مسلمانوں کے ساتھ کبھی نہیں جوڑ سکتا۔ وہ مفادات کے حصول کی کوشش تو کرے گا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیر بھی کرے گا، لیکن اسلام اور مسلمانوں سے قلبی روابط قائم کرلے، یہ ممکن نہیں۔ تو مسلمان جن کا حقیقی تعلق صرف اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین سے ہے ان کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ کافر کو بھی اپنے دل میں جگہ دے دیں۔ اس لیے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا : لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّاللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَـآئَ ہُمْ اَوْاَبْنَـآئَ ہُمْ اَوْاِخْوَانَہُمْ اَوْعَشِیْرَتَہُمْ ۔ (تم کوئی ایسی قوم نہیں پاسکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو پھر وہ ان لوگوں کے ساتھ دوستی رکھے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہوں خواہ اپنے باپ دادا ہی ہوں یا اپنی اولاد یا اپنے بھائی یا اپنے خاندان والے) کفر اور اسلام باہمی متضاد ہیں کفر اور اسلام دو متضاد حقیقتیں ہیں۔ جس طرح اندھیرا اور اجالا اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح کفر اور اسلام کی مصلحتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ جس دل میں اسلام کی روشنی ہے وہاں کفر کا اندھیرا نہیں آسکتا۔ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایک ہی دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت بھی ہو اور ساتھ ہی کفر سے پینگیں بھی بڑھائی جا رہی ہوں۔ مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْـبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ (اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے پیٹ میں دو دل پیدا نہیں فرمائے) اگر دو دل ہوتے تو متضاد تعلقات بھی الگ الگ دونوں دلوں میں رہ سکتے تھے۔ دل چونکہ ایک ہے اس لیے وہ ایک ہی محبت سے آباد رہ سکتا ہے۔ اس میں دو محبتیں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے محبت کا رشتہ اگر اللہ اور اس کے رسول سے قائم ہے تو پھر یہ رشتہ کسی اور کے ساتھ قائم نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک باقی تعلقات کی قسموں کا تعلق ہے وہ حربی کافروں کے سوا تمام دوسرے لوگوں سے قائم کیے جاسکتے ہیں۔ حربی کافروں سے مراد وہ کافر ملک ہیں جن کے ساتھ مسلمان حالت جنگ میں ہوں۔ البتہ ! آج کی دنیا میں حالت جنگ کی دو قسمیں ہیں ایک تو حالت جنگ وہ ہے جب باقاعدہ جنگ جاری ہو اور دوسری حالت جنگ وہ ہے جبکہ جانبین ایک دوسرے کی نفرتوں میں جل رہے ہوں۔ دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتے رہتے ہوں۔ بعض دفعہ سرحدوں پر فوجیں بھی لا کھڑی کرتے ہوں۔ ایک دوسرے کے ملکوں میں جاسوس بھیج کر حساس معلومات بھی حاصل کرتے ہوں اور موقع ملنے پر وارداتیں بھی کراتے ہوں۔ لیکن حکومت کی سطح پر بظاہر مذاکرات بھی ہو رہے ہوں۔ ایسے ملک کے ساتھ بھی مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا تعلق قائم نہیں کیا جاسکتا۔ غیر حربی کافروں سے تعلقات کی شرط غیر حربی کافر ممالک سے ہر طرح کے تعلقات رکھے جاسکتے ہیں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ اس میں مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو اور مسلمانوں سے مراد صرف اپنے ملک کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمان مراد ہیں۔ اگر وہ ملک لالچ دے کر یا دھمکی دے کر کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف تعلق قائم کرنا چاہے تو ایسا تعلق سراسر حرام ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں۔ کسی جگہ بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ پوری امت اور ملت کا نقصان ہے۔ جس کے لیے پوری امت قیامت کے دن جواب دہ ہوگی اور اگر وہ مسلمان ملک جس کے خلاف اتحاد کیا جا رہا ہے پڑوسی ہو تو اس کے حقوق دو گونہ ہوجاتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اور دوسرا پڑوسی ہونے کی حیثیت سے۔ اس کے خلاف نہ صرف کہ کسی کافر حکومت کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کی حفاظت بھی واجب ہوجاتی ہے۔ دوسرے مسلمان پڑوسی ممالک اس کی ہر طرح مدد کرنے کے دینی طور پر پابند ہیں اور اگر وہ اپنی کمزوریوں کے باعث مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو یہ تو کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ دشمن ملک کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔ اس معاملے میں اسلامی احکام بہت واضح اور بہت حساس ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے مقدس اور اہم ترین رشتہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ جن کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ لیکن اگر کبھی کوئی مسلمان کافروں کے قابو آجائے اور وہ اسے بندوق کی نوک پر مجبور کریں کہ تم اپنے اللہ یا رسول کے بارے میں کوئی نازیبا بات کہو تو ایسی صورت میں اس مجبور مسلمان کے لیے عزیمت کا راستہ تو یہ ہے کہ وہ جان دے دے لیکن کلمہ کفر زبان پر نہ آنے دے۔ لیکن اگر وہ یہ عزیمت نہیں دکھا سکتا تو اسے اس بات کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ زبان سے کلمہ کفر کہہ سکتا ہے بشرطیکہ اس کا دل پوری طرح ایمان کی قوت سے بھرپور ہو۔ صرف جان بچانے کے لیے اسے اس طرح کا کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر کسی مسلمان سے بندوق کی نوک پر یہ کہا جائے کہ تم فلاں شخص کو گولی مار دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ہم تمہیں گولی مار دیں گے اس شخص کے لیے کسی طرح بھی اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے مسلمان بھائی کو مجبوراً بھی گولی مارے۔ اگر اس کی جان بھی چلی جائے تو اسے پرواہ نہیں کرنی چاہیے، اسے اللہ تعالیٰ درجہ شہادت عطا فرمائیں گے۔ لیکن وہ محض اپنی جان کی حفاظت کے لیے دوسرے مسلمان کو ہرگز نشانہ نہیں بنا سکتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ : ” اگر ایک طرف مسلمان کا خون بہہ رہا ہو اور دوسری طرف کعبہ گر رہا ہو تو میں پہلے مسلمان کو بچانے کی کوشش کروں گا “ مزید فرمایا کہ : اگر ساری دنیا بھی مل کر کسی مسلمان کے قتل ناحق کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس خون ناحق کے قصاص میں پوری دنیا کو بھی جہنم میں ڈالنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ ان باتوں سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مسلمانوں کو غیر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے جو پالیسی دی گئی ہے وہ کس قدر واضح ہے۔ لیکن امت مسلمہ کے لیے یہ کس قدر عظیم حادثہ ہے کہ آج خود مسلمان ممالک مسلمانوں کے خلاف اس غیر مسلم قوت کے اتحادی بنے ہوئے ہیں جس کے دشمن اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اپنے وسائل مسلمانوں کو تہِ تیغ کرنے میں دشمنوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور اسے نیکی سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ لیکن شائد جو حکمران اس جرم کے براہ راست مرتکب ہو رہے ہیں انھیں طویل انتظار نہ کرنا پڑے کیونکہ قرآن کریم نے اس آیت ِکریمہ میں واضح طور پر ان کے انجام کی خبر دے دی ہے۔ دنیا میں ممکن ہے کہ پروردگار انھیں ڈھیل دیتا رہے، لیکن آخرت میں ان کا انجام وہی ہوگا جو کافروں کا ہوگا کیونکہ اس آیت میں واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَـتَّخِذُوا الْـیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اَوْلِیَـآئَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَـآئُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلّٰہُمْ مِنْـکُمْ فَاِنَّـہٗ مِنْہُمْ ۔ (اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں (مسلمانوں سے ان کی کوئی دوستی نہیں) تو جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا ) اس میں واضح طور پر فرما دیا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کرنے والے اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو انجام کافروں کا ہوگا اور ساتھ ہی ایک بہت بڑی حقیقت بھی منکشف فرمائی گئی کہ جتنی کافر قومیں ہیں وہ بظاہر بیشک ایک دوسرے کے خلاف ہوں، لیکن جب بھی ان میں سے کسی قوم کا مسلمانوں سے تصادم ہوگا تو تمام کافر قومیں اس کافر قوم کا مسلمانوں کے خلاف ساتھ دیں گی کیونکہ اسلام اور مسلمان کی دشمنی ان کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی ہے۔ وہ کسی طرح بھی اس سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ وہ محض اپنے مفادات کے لیے مسلمان ملکوں کو اپنے معاہدات میں بھی شریک کریں گے، لیکن کوئی نازک وقت آئے گا تو ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کے خلاف، مسلمانوں کے دشمنوں کے حق میں ہوں گی۔ یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جس سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے پردہ اٹھایا گیا اور آج تک ہر دور میں وقت نے اس حقیقت کو ثابت ہوتے دیکھا۔ لیکن انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ذمہ دار نہ جانے اس حقیقت کو کیوں نہیں سمجھتے۔ ہماری اور ہمارے دشمنوں کی کیفیت کچھ اس طرح کی ہے ؎ بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی ہے بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں اِلَّآ اَنْ تَـتَّـقُوْا مِنْہُمْ تُقٰـۃً کا مفہوم اِلَّآ اَنْ تَـتَّقُـوْا مِنْہُمْ تُـقٰـۃًآیتِ کریمہ کے اس جملے کے انطباق میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ میں یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان کافروں کو دوست نہ بنائیں، یہ جملہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کافروں میں گھر جائے اور اسے اس بات کا یقینی اندیشہ ہو کہ اگر میں نے ایمان کا اظہار کیا یا ان کے سامنے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی کوشش کی تو یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے تو اس کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس طرح رہے کہ وہ اسے اپنی صف کا آدمی سمجھیں۔ اس کا ظاہری رویہ ان کے ساتھ بہتر اخلاق پر مبنی ہو۔ اس کے طور اطوار سے کسی طرح بھی اجنبیت کا احساس نہ ہونے پائے۔ اگر وہ اسلام کے بارے میں کوئی ناگوار بات بھی کہیں تو یہ خاموش رہے۔ لیکن اگر وہ اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا چاہیں اور اس سے کوئی ایسا کام لینا چاہیں جس سے مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اسے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں۔ البتہ ! عام معاملات میں وہ ان کے ساتھ رہنے سہنے میں آزاد ہے۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ دینے کی بھی اجازت ہے بشرطیکہ دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن مکرر یہ بات عرض کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے مفادات کے خلاف یا مسلمانوں کی اجتماعی مصلحتوں کو نقصان پہنچا کر کسی کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اس کے لیے اگر جان بھی دینی پڑے تو دینا ہوگی کیونکہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحتیں، مسلمانوں کی جان اور اسلام کی عزت و آبرو اس کی جان سے زیادہ قیمتی ہیں۔ تو اس جملے میں اسی بات کی اجازت دی گئی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ جملہ آیت کے اصل حکم سے مستثنیٰ نہیں بلکہ اپنے ساتھ والے جملے سے مستثنیٰ ہے۔ یہ جو فرمایا گیا کہ مسلمان کافروں کے ساتھ دوستی کا رشتہ نہ رکھیں اور جو شخص مسلمانوں کے خلاف کافروں سے دوستی کا رشتہ رکھے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس نفی سے استثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ سے تعلق رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان لوگوں سے اپنا دامن بچا کر رکھا جائے جو اللہ، اس کے دین اور اس کے وفادار بندوں کے دشمن ہیں یعنی اللہ سے تعلق ان لوگوں کا ہوگا جو تا حدِّ آخر کافروں سے مخالفِ اسلام موالاۃ سے بچیں گے اور یہ بچنا محض زبان کا جمع خرچ نہیں ہوگا بلکہ اس طرح بچیں جس طرح بچنے کا حق ہے۔ اسی سورت میں ایک دوسری جگہ فرمایا گیا : یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تَقَاتِہٖ (اے مومنو ! اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے) اسی طرح یہاں بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ کافروں سے موالاۃ کا تعلق قائم کرنے میں اس طرح بچیں جس طرح بچنے کا حق ہے۔ یہاں بھی تُـقٰـۃً مفعول مطلق واقع ہوا ہے جس سے فعل کی تاکید مقصود ہے۔ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ (اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے) اس میں کمزور مسلمانوں یا منافقین کو تنبیہ ہے کہ تم غیر مسلم قوتوں سے اس لیے ترک تعلق کرنے سے ڈرتے ہو کہ کہیں تم کسی مشکل میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ مومن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا اصل تعلق اللہ سے ہونا چاہیے۔ تم اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں رکھو لیکن تم انسانی قوتوں سے اللہ سے بڑھ کے ڈرتے ہو اور اصل قوت و طاقت کا سرچشمہ انھیں سمجھتے ہو۔ تو ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے، تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ کس قدر قوتوں اور قدرتوں کا مالک ہے۔ اس نے تمہیں مہلت عمل دے رکھی ہے اور اپنی رحمت کی وجہ سے تمہاری بد اعمالیوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رہا ہے، تو تمہیں اس کی شان کریمی سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ وہ جس طرح رحیم و کریم ہے اسی طرح عادل بھی ہے۔ جب اس کی صفت عدل کا ظہور ہوگا تو پھر تمہیں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا کیونکہ اس وقت مہلت عمل ختم ہوچکی ہوگی۔ تم پلٹنا چاہو گے لیکن وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ اس لیے اب تمہیں موقع ہے کہ اللہ کی ذات کا ڈر اپنے اندر پیدا کرو اور باقی ہر طرح کے خوف سے اپنے اپ کو نجات دے دو اور یہ بھی یاد رکھو کہ یہاں ہمیشہ کسی کو زندہ نہیں رہنا۔ ایک نہ ایک دن اس زندگی کا خاتمہ ہونا ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ( اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانا ہے) اگر اس نے یہاں گرفت نہ فرمائی تو قیامت کے دن تو ہر صورت میں اس کے عدل کا ظہور ہوگا۔ ہر ایک کے ایمان و عمل کی جانچ ہوگی، اعمال تولے جائیں گے۔ اس دن تم اگر ایمان سے محروم رہے تو یہود سے تمہارے تعلقات تمہیں سزا سے بچا نہیں سکیں گے۔ اس دن تو اسے پناہ ملے گی جس پر اللہ رحم فرمائے گا۔ اس دن اندازہ ہوگا کہ اللہ کی ذات کتنی عظیم ہے اور تم نے اس کے مقابلے میں دوسری قوتوں کو بڑا سمجھ کر کیسی حماقت کی تھی اور آج کوئی قوت اس کے غضب سے تمہیں بچا نہیں سکے گی۔
Ayahs 3:29–30

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو چھپائو یا ظاہر کرواللہ اسے جانتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن موجود پائے گا ہر شخص جو اس نے نیکی کی ہوگی اور جو اس نے برائی کی ہوگی اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے درمیان ایک طویل مدت حائل ہوجائے اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا مہربان ہے)

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا صلے ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍ ج تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَـہٗٓ اَمَدًا م بَعِیْدًا ط وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ع (کہہ دیجیے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو چھپائو یا ظاہر کرواللہ اسے جانتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس دن موجود پائے گا ہر شخص جو اس نے نیکی کی ہوگی اور جو اس نے برائی کی ہوگی اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کے درمیان ایک طویل مدت حائل ہوجائے اور اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے، اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا مہربان ہے) (29، 30) محبت اور دوستی کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل ایک ایسی گہری وادی ہے کہ جس کے ایک ایک احساس کو جاننا اور اس کی ایک ایک لہر کو گننا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایک شخص چرب زبانی سے اپنی محبت کا اظہار کر کے دوسرے کو یقین دلا دیتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتا ہوں اور سننے والا اس کی چرب زبانی سے متأثر ہو کر یقین کرلیتا ہے۔ لیکن حالات ثابت کرتے ہیں کہ اس کا زبانی اظہار دھوکا دہی کی واردات کے سوا کچھ نہ تھا اور یہی وہ مرحلہ ہے جس میں ہمیشہ تعلقات آزمائے جاتے ہیں اور انسان اسی طرح ایک دوسرے کو فریب دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جو آدمی اللہ کی صفات کا استحضار نہیں رکھتا وہ اپنے دینی تعلق میں بھی انہی کمزوریوں کا شکار رہتا ہے۔ زبان سے کچھ کہتا ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان پر یہ بات واضح کردو کہ تم اپنے سینے کی باتوں کو ظاہر کرو یا چھپائو اللہ کی ذات کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ تمہارے سینوں کے اسرار سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تمہارے دل میں خیال کی لہر بعد میں اٹھتی ہے اللہ کے علم میں پہلے سے ہوتی ہے اور صرف تم ہی نہیں اس کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کے علم میں نہ ہو۔ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا (زمین پر کوئی پتہ نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے) خزاں میں زمین پر گرنے والے پتوں کو کون شمار کرسکتا ہے اور پوری زمین پر اٹھنے والوں آہٹوں کو کون سن سکتا ہے ؟ لیکن اللہ کے علم کی وسعتوں کا کیا ٹھکانہ ہے کہ وہ ایک ایک پتے کو گرتا ہوا دیکھتا ہے اور اس کے گرنے کی آہٹ سنتا ہے۔ سمندر کی نچلی تہہ میں اگر کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو اللہ اس کی حرکت کو جانتا ہے، زمین کی پہنائیوں میں گھاس کی پتی پھوٹتی ہے کوئی دانہ اگتا ہے، کوئی گٹھلی سوئی نکالتی ہے، کوئی سیپ منہ کھولتی ہے، کوئی قطرہ گہر بنتا ہے، سورج کی کوئی کرن نکلتی ہے، کوئی کلی چٹکتی ہے، ان میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کے علم میں نہ ہو۔ جس طرح اس کا علم مکمل اور بےمثال ہے اسی طرح اس کی قدرتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا شخص بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ اگر آج تم اس کے علم کی وسعتوں اور اس کی قدرتوں کی بےپناہی کو دل و دماغ میں بٹھا لو تو عاقبت سنور جائے گی اور زندگی پاکیزہ ہوجائے گی ورنہ اس بات کو یاد رکھو وہ دن زیادہ دور نہیں جس دن ایک ایک شخص اللہ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہوگا اور ہر شخص کے ہاتھوں میں اپنا نامہ عمل ہوگا۔ اس نے زندگی میں کوئی نیکی کی ہوگی تو اس میں وہ بھی موجود پائے گا اور کوئی برائی کی ہوگی تو وہ بھی موجود ہوگی۔ آدمی کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی جب وہ دیکھے گا کہ جو اعمال میرے حافظہ سے اتر چکے تھے وہ سب اس میں موجود ہیں، وہ چیختے ہوئے کہے گا : یٰـوَیْلَتٰی مَا لِھٰذَا الْـکِتَابَ لَایَغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصَاہَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَلاَ یَظْلِمُ رَبُّـکَ اَحَدًا (ہائے شامت اعمال…! یہ نامہ عمل کیسا ہے ؟ نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتا ہے نہ کوئی بڑی، انھوں نے زندگی بھر جو کیا ہوگا اس میں موجود پائیں گے (اب جزا سزا انھیں اعمال کے حوالے سے ہوگی) اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا) اس وقت انسان آرزو کرے گا کہ کاش ! اس کے اور اس کی بد اعمالیوں کے درمیان ایک لمبی مسافت حائل ہوجائے تاکہ وہ اپنی بد اعمالیوں کو نہ دیکھ سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اس وقت اس پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن اللہ کے کرم کا کیا کہنا، اللہ پھر امید کا چراغ روشن کرتا ہے اور دوبارہ وہی بات ارشاد فرماتا ہے جو پہلی آیت میں گزر چکی کہ اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے، اس سے ڈرو اور اپنی بد اعمالیوں سے باز آجاؤ۔ نفاق کا رویہ ترک کردو، اسلام کے بارے میں یکسو ہوجاؤ۔ وہ بار بار اپنی ذات سے تمہیں اس لیے ڈراتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے لیے رؤف ہے۔ رؤف کا مصدر رأفۃ ہے۔ رأفت ” دل کی نرمی اور خیر خواہی “ کو کہتے ہیں۔ لیکن اس میں دفع شر کا پہلو غالب ہوتا ہے یعنی یہ ایک ایسی رحمت ہے جو بندوں کو ہر نقصان اور شر سے بچانا چاہتی ہے اور چونکہ اصل نقصان آخرت کا نقصان ہے اور اصل سزا جہنم کی سزا ہے اس لیے پروردگار اپنے بندوں کو اس سے بچانے کے لیے بار بار اپنی ذات کا حوالہ دے رہا ہے۔
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْـکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَـکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) (31 ) اس آیت کریمہ میں خطاب یہود سے بھی ہے اور ان مسلمانوں سے بھی جو اسلام کے بارے میں یکسو نہیں ہو رہے تھے۔ یہود کو ہمیشہ اس بات کا دعویٰ رہا کہ ہمارا اللہ سے خاص رشتہ ہے۔ ہم اس کے انبیاء کی اولاد ہیں، اس لیے ہم اللہ کے چہیتے ہیں۔ جب انھیں اسلام کی دعوت دی جاتی اور اللہ کے دین کی طرف آنے کا مطالبہ کیا جاتا تو وہ بگڑ کر مسلمانوں سے کہتے کہ تمہیں بڑا دعویٰ ہے اللہ سے محبت کا حالانکہ ہم تم سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتے ہیں اور وہ ہم سے محبت رکھتا ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو تو پھر اس کا ثبوت بھی سامنے آنا چاہیے۔ ہر دور میں اللہ سے محبت اور اس کے تعلق کے لیے ایک ہی کسوٹی اور سند رہی ہے کہ اس دور میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لایا جائے اور اس کا اتباع کیا جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں اللہ سے تعلق کا دعویٰ موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کے سوا ایک بےمعنی بات تھی۔ اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد اللہ سے تعلق کی سند صرف یہ تھی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان ہے یا نہیں اور ان کا اتباع کیا جا رہا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اللہ سے تعلق کی تفصیلات اور اس سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ اور اس کی شناسائی کا طریقہ اور اس کی صفات کی معرفت کا انسان کے پاس اللہ کے رسولوں کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ وہ اپنی عقل سے کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ میرا پروردگار کیسا ہے ؟ اور وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے تو جس آدمی کو اللہ کی محبت عزیز ہے وہ یقینا اللہ کے رسول کی پیروی کرنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ کے رسول کو ماننے اور پیروی کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ براہ راست اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے اور یا اپنے دعویٰ میں صرف سخن سازی سے کام لیتا ہے اور یہ دونوں باتیں کفر اور نفاق کے سوا کچھ نہیں۔ یہود سے اسی اصول کے تحت یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تم اگر واقعی اللہ سے تعلق کے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر اللہ کے آخری رسول پر ایمان لائو اور غیر مشروط طور پر اس کا اتباع کرو۔ منافقین سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تم اگر اسلام کا دعویٰ کرنے میں سچے ہو اور اللہ کی بندگی کا دم بھرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ کے رسول کے اتباع سے انکار کیوں ہے ؟ اللہ کے رسول ﷺ کی ذات ایک اسوہ اور نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ سے محبت کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی محبت کے تقاضے کیا ہیں اور اس کی رضا اور خوشنودی کن باتوں میں ہے ؟ اس کا علم اللہ کے رسول کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکتا اور ویسے بھی محبت ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت پیدا کرنے کے لیے ایک نمونے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ آدمی محض سخن سازی کو یا دعویٰ کو ہی محبت سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کی ذات میں ایک اسوہ موجود ہے۔ اس کی ذات اللہ کی پسند و ناپسند کا ایک نمونہ ہے۔ وہ ایک ایسا مینارہ نور ہے جس کی روشنی میں صراط مستقیم کا سفر کیا جاسکتا ہے اور اسی کی زندگی کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ سے محبت کرنا کسے کہتے ہیں ؟ اس لیے تم اگر اپنے دعو وں میں مخلص ہو تو اللہ کے رسول کا اتباع کرو۔ اس کا انعام تمہیں یہ ملے گا کہ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا، اس کی نوازشات کی بارش تم پہ برسنے لگے گی، تم اب تک جو غلطیاں اور کمزوریاں دکھا چکے ہو ان سب کو معاف فرما دے گا۔ اس کی ذات تو سرتاپا بخشش اور رحم ہے۔ کوتاہی بندے کی جانب سے ہوتی ہے، جیسے ہی بندہ اپنا استحقاق پیدا کرتا ہے ادھر سے جواب ملنے میں دیر نہیں ہوتی۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ اعراض کریں (تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (کہہ دیجیے کہ اللہ کی اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ اعراض کریں (تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا) (32) اطاعت احکام کی ہوتی ہے اور اتباع احکام سے لے کر ادائوں تک کا ہوتا ہے۔ مآل کا ردونوں ایک ہوجاتے ہیں۔ پہلی آیت کریمہ میں نہایت نرم روی بلکہ ازراہِ تلطف اتباع کی دعوت دی گئی اور ساتھ ہی نوازشات کی خبر بھی دے دی گئی۔ لیکن اس آیت کریمہ میں لہجہ بدل کر حاکمانہ اسلوب میں حکم دیاجا رہا ہے کہ تمہیں بہرصورت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہے۔ یہاں سے اسلام کا آغاز ہوتا ہے۔ خالی دعوئوں سے کام نہیں چلتا، ایک ایک حکم کی تعمیل ضروری ہے۔ لیکن اس صراحت اور تہدید کے بعد بھی اگر کچھ لوگ اعراض کا رویہ اختیار کریں اور مسلمانوں کے ساتھ یکسو ہونے کی بجائے پہلو تہی کا طریقہ اپنائیں۔ شامل رہنا بھی چاہیں اور الگ الگ بھی رہیں تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ طریقہ کافر کا تو ہوسکتا ہے مسلمان کا نہیں۔ انھیں دعوت مسلمان بن کر رہنے کی ہے۔ اگر وہ اس سے ہٹ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ کفر کی زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیت میں جو محبت کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور گناہوں سے مغفرت کی نوید سنائی ہے وہ اتباع کرنے والوں کے لیے ہے۔ اگر یہ لوگ اتباع حتیٰ کہ اطاعت تک سے گریز کریں تو پھر انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رویئے میں کافر ہیں اور اللہ کافروں کو کبھی پسند نہیں کرتا اور ان سے کبھی محبت نہیں کرتا۔ یہی وہ بات ہے جس کی آنحضرت ﷺ نے مختلف اوقات میں ترغیب بھی دی اور تاکید بھی فرمائی اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دین کا آغاز اللہ کے رسول کی اطاعت سے ہوتا ہے اور اس میں قوت اللہ کے رسول سے محبت سے پید اہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں اگر اپنے اندر اخلاص رکھتی ہیں اور ان میں کوئی جھول نہیں تو یقینا اس سے اللہ کی محبت پیدا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جو شخص اللہ کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا، لیکن ساتھ ہی وہ اللہ سے محبت کا دعویدار ہے یا رسول سے محبت کا دعویدار ہے تو وہ نہ جانتے ہوئے بھی نفاق کا شکار ہے اور بالآخر اس کا شمار کافروں میں ہو کر رہے گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کُلُّ اُمَّتِیْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّـۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ دَخَلَ الْجَنَّـۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی۔ (میری امت جنت میں جائے گی، ہاں ! وہ نہیں جائے گا جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کس نے انکار کیا ؟ فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا) ایک عرب شاعر نے کیا خوب بات کہی ؎ تَعْصِی الرَّسُوْلَ وَ اَنْتَ تَظْہَرُ حُبَّہٗ ھٰذَا الْعَمْرِیْ فِی الزَّمَانِ بَدِیْعٗ لَوْ کَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَاَطَعْتَہٗ اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیْعٗ (تو رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے اس حال میں کہ تو ان سے محبت کا اظہار بھی کرتا ہے، مجھے اپنی بقا کی قسم ! زمانے میں یہ بالکل نئی بات ہے، اگر تو اپنی محبت میں سچا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتا کیونکہ محبت کرنے والا ہمیشہ محبوب کا اطاعت گزار ہوتا ہے)
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے دنیا جہان پر برگزیدہ کیا ہے

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

، یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے

اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ لا ذُرِّیَّۃً م بَّـعْـضُہَا مِنْ م بَـعْـضٍ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ ج (بیشک اللہ نے آدم اور نوح اور خاندانِ ابراہیم اور خاندانِ عمران کو سارے دنیا جہان پر برگزیدہ کیا ہے، یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے) (33، 34) اس سے پہلے کی آیت پر سورة آل عمران کی تمہید ختم ہوگئی جس میں اللہ کی توحید، دین اسلام اور اس کی مبادیات، انسانوں کے لیے وحی الٰہی کی رہنمائی کی ضرورت، اہل کتاب میں پیدا ہونے والے اختلافات کا حل ہے۔ مضامین کو دلائل وبراہین سے ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ یہود کے طرزعمل اور ان کی گمراہیوں سے پردہ اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کی حقانیت کو پوری طرح آشکارا فرمایا گیا۔ اس کے بعد تمام دنیا کو عموماً اور یہود کو خصوصاً اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی اور انکار کرنے کی صورت میں انجام سے بھی آگاہ کیا گیا۔ آخری بات کے طور پر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کو ایک مکمل راہنما اور مینارہ نور کی طرح پیش فرما کر اتمامِ حجت کرنے کے ساتھ ساتھ نرمی سے آپ ﷺ کے اتباع کی دعوت دی گئی اور پھر تہدیدآمیز انداز میں اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اگر تم اس اطاعت سے انکار کرتے ہو تو یہ کافروں کا طریقہ ہے اور کافر اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ تمہید میں بنیادی صداقتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ یہود پر تنقید بھی کی گئی کیونکہ مدینے میں اصل موثر رول انہی کا تھا۔ لیکن اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے عیسائیت بھی دنیا میں اپنا ایک اثر اور کردار رکھتی تھی اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت رومن ایمپائر کی مالک بھی تھی اور چند ہی سالوں بعد ان سے سابقہ بھی پیش آنے والا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ جن غلط فہمیوں کے باعث عیسائیت صراط مستقیم سے دور ہٹ گئی، ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے اور پوری دنیا کو سلسلہ نبوت کی اصل بنیاد سمجھا کر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ چناچہ اس ضرورت کے پیش نظر، پیش نظر آیت کریمہ سے ایک دوسرے خطبے کا آغاز ہوتا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطبہ (9) ہجری میں نازل ہوا جبکہ نجران کی عیسائی جمہوریت کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ لیکن اس کا مضمون چونکہ سورة آل عمران کے مضمون سے متحد ہے اس لیے اللہ کے حکم سے نو ہجری میں نازل ہونے والی ان آیات کو سورة آل عمران کا حصہ بنادیا گیا۔ نجران سے آنے والا وفد عیسائیت کی ترجمانی اور نمائندگی کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ فتح مکہ کے بعد چونکہ ملک کا مستقبل اسلام اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھ میں آچکا تھا اس لیے عرب کے مختلف گوشوں سے آپ ﷺ کے پاس وفود کی آمد شروع ہوگئی۔ اسی سلسلے میں نجران کا وفد بھی آیا۔ نجران کا علاقہ حجاز اور یمن کے درمیان ہے۔ اس وقت اس علاقے میں تہتر بستیاں شامل تھیں اور کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار جنگی سپاہی اس میں سے نکالے جاسکتے تھے۔ اس جمہوریہ کی تمام تر آبادی عیسائیوں پر مشتمل تھی۔ اس مملکت کا انتظام اور انصرام دنیوی اور دینی تین سرداروں کے ہاتھ میں تھا۔ ایک عاقب کہلاتا تھا، جس کی حیثیت امیر قوم کی تھی۔ دوسرا سید کہلاتا تھا جو ان کے تمدنی اور سیاسی امور کی نگرانی کرتا تھا اور تیسرا اسقف (بشپ) تھا، جو ان کا مذہبی پیشوا تھا۔ ان لوگوں نے مسلمانوں کی اٹھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ ہم جنگی طاقت ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں سے لڑنے کی ہمت نہیں رکھتے اور مزید یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ان کے مذہبی رہنما آنحضرت ﷺ کی علامات کے بارے میں جو کچھ سن چکے تھے اس سے انھیں اندازہ ہوگیا تھا کہ ہماری کتابوں میں جس آنے والے نبی کا ذکر ہے، وہ آپ ﷺ ہی ہیں۔ لیکن اپنی نسلی برتری اور ذہنی عصبیت کے باعث اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ ساٹھ آدمیوں پر مشتمل یہ وفد تینوں سرداروں سمیت مدینے پہنچا اور آنحضرت ﷺ سے مذہبی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کی۔ یہ لوگ چونکہ اپنا ایک مذہب رکھتے تھے اور اسی حوالے سے اسلام کے تابع رہنا انھیں پسند نہ تھا۔ ان کی اسی حیثیت کے پیش نظر ان سے زیادہ تر گفتگو مذہبی معاملات میں ہوئی اور اس سلسلے میں راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ان آیات میں سب سے پہلے ان کی اصل بیماری کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ ان کی اصل بیماری یہ تھی کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ اور رسول ماننے کی بجائے، اللہ کا بیٹا اور اس کی الوہیت میں اس کا شریک قرار دیتے تھے۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، اللہ نے انھیں یہود کی ہدایت کے لیے چنا، لیکن وہ اس برگزیدگی میں پہلے شخص نہ تھے۔ اس کا آغاز تو پہلے انسان سے ہوگیا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نوعِ انسانی کے جدامجد ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس مقام پر فائز فرمایا جس طرح ان سے انسانی نسل وجود میں آئی اسی طرح انسانوں کی راہنمائی کا آغاز بھی انہی سے ہوا پھر ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ انسانوں ہی میں سے کچھ لوگوں کو برگزیدہ فرماتا رہا اور ان سے انسانی راہنمائی کا کام لیتا رہا۔ نوح (علیہ السلام) جو لامخ کے بیٹے اور عراق کے رہنے والے تھے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے بعض روایات کے مطابق دسویں پشت میں تھے۔ انھوں نے ساڑھے نو سو سال عمر پائی اور عمر کا بیشتر حصہ انسانوں کی ہدایت کے لیے صرف فرمایا اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے آدمی اور انسان تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ عراق ہی میں سے انسانوں کی ہدایت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اٹھایا گیا جو نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے عظیم فرزند عطا کیے اور ان دونوں کے واسطے سے ہدایت کے دو سلسلے قائم ہوئے۔ ایک نے بنی اسرائیل کے نام سے مشرق وسطیٰ میں اللہ کے دین کا نور پھیلایا اور دوسرے نے آل اسماعیل کے نام سے عرب کو راہنمائی بخشی۔ انہی دونوں سلسلوں میں نبوت اور رسالت کا نور پھوٹتا رہا۔ مشرق وسطیٰ کے بیشتر انبیاء بنی اسرائیل میں آئے اور نبی آخر الزماں ﷺ آل اسماعیل یعنی قریش میں سے اٹھائے گئے۔ جس سلسلہ نبوت نے مشرق وسطیٰ کے بیشتر حصے کو راہنمائی بخشی اسی سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، جو باقی انبیاء کی طرح اللہ کی طرف سے برگزیدہ فرمائے گئے اور لوگوں کی ہدایت کے لیے انھیں چنا گیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے والد ماجد کا نام عمران بن ماتان ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آپ کے نواسے ہیں۔ آپ بیت المقدس کے امام اور کاہن اعظم تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم سے ہدایت رسانی کا کام لیا اسی مقصد کے لیے آل عمران میں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھایا گیا۔ آپ کو نبوت دی گئی اور آپ پر کتاب نازل فرمائی گئی۔ اس آیت کریمہ میں عمران کے ذکر سے یا تو یہی عمران مراد ہیں یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نانا اور یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والدگرامی مراد ہیں جن کا نام عمران تھا اور عیسیٰ (علیہ السلام) نسلاً بعد نسلٍ ان کی اولاد میں سے تھے۔ دونوں باتوں میں سے جو بات بھی مراد لی جائے مقصود صرف یہ ہے کہ یہ سلسلہ انبیاء جو انسانوں سے اٹھایا گیا اور یہ سلسلۃ الذہب جس نے ہمیشہ انسانوں کی شیرازہ بندی کی اسی کے ایک فرد اور اسی کی ایک کڑی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے بارے میں الوہیت کے تصورات کہاں سے پیدا ہوگئے جبکہ یہ تمام انبیاء ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور ایک دوسرے کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ باقی تو سب انسان ہیں، اس کے ایک فرد یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آخر انسانی نسل سے الوہیت کے منصب پر کیسے فائز ہوگئے ؟ اگر کسی کو یہ شبہ ہے کہ چونکہ ان کے والد نہیں اس لیے وہ یقینا اپنے اندر الوہیت کی صفات رکھتے ہوں گے تو اس غلط فہمی کی کوئی بنیاد نہیں کیونکہ وہ بھی اپنے ماں کے بطن اسی طرح پیدا ہوئے ہیں جیسے باقی لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ البتہ ! یہ بات کہ ان کے والد نہیں، اس لیے ان کو خدا مان لیا جائے یہ نہایت بےعقلی کی بات ہے۔ آدم (علیہ السلام) کے سرے سے ماں باپ دونوں نہیں تھے۔ اللہ نے انھیں اپنی دست قدرت سے بنایا تھا اور اپنی قدرت سے ان میں روح پھونکی تھی۔ انھیں تو کبھی کسی نے خدا یا خدا کا بیٹا نہیں کہا، لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) اپنا ننھیالی خاندان رکھتے ہوئے بھی اللہ کے بیٹے کیسے ہوگئے ؟ چناچہ اگلی آیات کریمہ میں ان کی ولادت کے واقعات کو بیان کیا جا رہا ہے تاکہ عیسائیوں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کا تدارک ہو سکے۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

یاد کرو ! جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ اے میرے رب ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو ہر چیز سے چھڑا کر تیرے لیے خاص کیا تو اس کو میری طرف سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے جو سننے والا جاننے والا ہے

اِذْقَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَـکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ ج اِنَّـکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (یاد کرو ! جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ اے میرے رب ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو ہر چیز سے چھڑا کر تیرے لیے خاص کیا تو اس کو میری طرف سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے جو سننے والا جاننے والا ہے) (35) اس آیت کریمہ پر غور فرمایئے کہ عمران کی بیوی نے جن کا نام اسرائیلی روایات کے مطابق ” حنہ “ ہے۔ عام عورتوں کی طرح اپنے پیٹ میں حمل کی گرانی محسوس کی اور وہ سمجھ گئی کہ اللہ نے مجھے ایک امید سے گراں بار کیا ہے چونکہ وہ اپنے شوہر کی طرح اللہ کی نہایت پاک باز بندی تھیں، اس لیے اپنے ہونے والے بچے کے بارے میں انھوں نے وہ دعا کی جو کوئی بھی نیک ماں تقرب الٰہی کے لیے اپنے اللہ سے کرسکتی ہے۔ نہایت عاجزی سے عرض کیا کہ میں اپنے اس ہونے والے بچے کو تیرے لیے تیرے گھر کی نذر کر دوں گی۔ میں اسے دنیا کے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے گھر کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی تاکہ وہ شب و روز تیرے گھر کی خدمت کرے، وہاں کی جاروب کشی کرے، بندوں کی خدمت کرے اور تیری عبادت کا حق ادا کرے۔ جس طرح میں تیری عاجز بندی ہوں میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی تیرا عاجز اور فرمانبردار بندہ ثابت ہو۔ اندازہ فرمایئے ! اپنے پیدا ہونے والے بچے کے لیے ماں کا تصور سوائے ایک فرمانبردار بندے کے اور کچھ نہیں اور وہ اس کے لیے ایک آرزو رکھتی ہے کہ وہ اللہ کے گھر کی خدمت کرے۔ اس لیے وہ اپنی اس نذر اور پیش کش کے قبول کرنے کی استدعا کرتی ہے اور یہ بھی اس کے علم میں ہے کہ اللہ ہی سننے والا ہے اور اللہ ہی علم والا ہے۔ اس کے گمان میں یہ ہے کہ اللہ مجھے نرینہ اولاد عطا فرمائے گا تو میں اسے بیت المقدس کا خادم بنائوں گی۔ یہ اس دور میں دینی اعتبار سے سب سے بڑی آرزو تھی۔
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

تو جب اس نے اسے جنا تو اس نے (حیرت و حسرت سے) کہا : اے رب ! میں نے تو جنم دیا ہے ایک لڑکی کو اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا اور میں نے اس کا مریم نام رکھا ہے میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

لیکن : فَلَمَّا وَضَعَتْہَا قَالَتْ رَبِّ اِنّیْ وَضَعْتُہَـآ اُنْثٰی ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ط وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی ج وَاِنِّی سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَاِنِّیْٓ اُعِیْذُہَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (تو جب اس نے اسے جنا تو اس نے (حیرت و حسرت سے) کہا : اے رب ! میں نے تو جنم دیا ہے ایک لڑکی کو اور اللہ خوب جانتا تھا جو اس نے جنا اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا اور میں نے اس کا مریم نام رکھا ہے میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں) (36) پیدائش کے وقت ماں کو معلوم ہوا کہ مجھے تو اللہ نے بیٹے کے بجائے بیٹی دی ہے۔ اب اسے بڑا ترددپیش آیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہیکل کی خدمت کے لیے لڑکیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہاں تو صرف لڑکوں کو قبول کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا اللہ ! میری گود سے تو لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی ہے اور لڑکا تو لڑکی جیسا نہیں ہوتا کیونکہ جو خدمت لڑکا انجام دے سکتا ہے اور جس طرح وہ مردوں سے اختلاط رکھ سکتا ہے لڑکی اپنی نسوانیت اور اپنے حجاب کے باعث وہ سب کچھ نہیں کرسکتی۔ لیکن پروردگار نے ماں کی حکایت کے ضمن میں ارشاد فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم تھا جو کچھ اس نے جنا تھا۔ لیکن ماں کو معلوم نہیں تھا کہ جو لڑکی اس کے ہاں پیدا ہوئی ہے وہ کس قدر سعادتوں اور برکتوں کی امین ہے اور اللہ اس سے کتنی بڑی خدمت لینے والا ہے۔ ماں کے ذہن میں پیدا ہونے والی کے بارے میں ایک کہتری کا احساس پایا جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ پیدا ہونے والی بچی کل کو کتنی عظیم اور بابرکت ہستی بننے والی ہے۔ اس لیے ماں نے بڑی عاجزی سے درخواست کی کہ لڑکی لڑکے جیسی تو نہیں ہوتی لیکن میں چونکہ نذر مان چکی ہوں، اس لیے میں درخواست کرتی ہوں کہ اسی کو ہیکل کی خدمت کے لیے قبول کرلیا جائے اور پھر مستقبل میں اس کی اور اس کی اولاد کی حفاظت کے لیے میں اسے اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ اندازہ فرمایئے ! ماں جس لڑکی کو اللہ کے حضور نذر کر رہی ہے وہ اسے لڑکی گمان کر کے احساسِ کہتری سے دبی جا رہی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ عیسائی اسی پیدا ہونے والی بچی کو خدا کی حیثیت دے کر نہ جانے کس دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس واقعہ میں قدم قدم پر بندگی اور فدویت، عاجزی اور فروتنی کا اظہار ہو رہا ہے۔ لیکن عیسائیوں کے مذہبی رہنما اسی عاجزی اور فروتنی سے خدائی کشید کر رہے ہیں۔ اس داستان کا ایک ایک لفظ اگر خالص نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ صحیح عقیدہ کی طرف رہنمائی کے لیے کافی ہے۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو اس کے رب نے اس کو اپنی پسندیدگی کی قبولیت سے نوازا اور اسے عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا نگران بنایا، جب بھی زکریا محراب میں اس کے پاس جاتے تو پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں۔ انھوں نے پوچھا : اے مریم ! یہ تمہارے لیے کہاں سے آتا ہے ؟ مریم بولی یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَـبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْبَتَہَام نَبَاتًا حَسَنًا لا وَّکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ط کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ لا وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا ج قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَـکِ ھٰذَا ط قَالَتْ ھُوَمِنْ عِنْدِاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ ۔ (تو اس کے رب نے اس کو اپنی پسندیدگی کی قبولیت سے نوازا اور اسے عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا نگران بنایا۔ جب بھی زکریا محراب میں اس کے پاس جاتے تو پاتے اس کے پاس کھانے کی چیزیں۔ انھوں نے پوچھا : اے مریم ! یہ تمہارے لیے کہاں سے آتا ہے ؟ مریم بولی یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) (37) والدہ مریم نے بچے کی بجائے بچی کے پیدا ہونے پر جس حسرت کا اظہار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے بالکل برعکس اس بچی پر اپنے انعامات کی بارش کردی۔ اسے حسن قبولیت سے نوازا اور اس طرح اس کی تربیت فرمائی کہ اس کی تمام عقلی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتیں خوب پروان چڑھیں۔ اللہ تعالیٰ کو چونکہ اس بچی سے ایک بہت بڑا کام لینا تھا اس اپنی عنایات کے ساتھ ساتھ اس کے لیے خصوصی مربی کا بھی انتظام فرما دیا کہ ان کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری حضرت زکریا (علیہ السلام) پر ڈالی جو حضرت مریم کے خالو بھی تھے اور اس دور میں بیت المقدس کے اسرائیلی اصطلاح میں کاہن اعظم بھی۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت مریم کو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ایک محراب میں رکھا تھا۔ ہمارے یہاں محراب امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ لیکن لغت میں محراب کا معنی ہے اَکْرَمُ مَوْضَعٍ فِی الْمَجْلِسِ (مجلس میں سب سے باعزت جگہ) یہاں اس سے مراد وہ حجرہ عبادت ہے جو سطح زمین سے کچھ بلندی پر بنایا جاتا ہے اور جس میں جانے کے لیے سیڑھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہیکل سلیمانی کے اردگرد ہیکل کے خادموں اور چلہ کشوں کے لیے جو کمرے بنے ہوئے تھے انہی میں سے ایک میں حضرت مریم مشغولِ عبادت رہا کرتی تھیں اور حضرت زکریا (علیہ السلام) چونکہ ان کے سرپرست تھے، اس لیے اکثر ان کی خبر گیری کے لیے ان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ وہ جب بھی حضرت مریم کے پاس جاتے تو وہاں طرح طرح کے پھل دیکھتے۔ گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں۔ تو حیرانی سے حضرت مریم سے پوچھا کہ تیرے پاس یہ پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ کیونکہ یہاں تو میرے سوا کوئی نہیں آتا۔ پس مریم نے کہا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔ اندازہ فرمایئے ! ایک زیر تربیت بچی جو ابھی نو عمر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے کس طرح دل و دماغ کی قوتیں عطا فرمائی ہیں اور کس طرح اپنی فیاضیوں سے نوازا ہے۔ اس سے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اللہ کی یہ نوازشات ان بندوں پر ہوا کرتی ہیں جنھیں وہ اپنا بنا لیتا ہے اور جو شب و روز اس کی بندگی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ایسے ہی بندوں کو اولیاء کہا جاتا ہے اور اس میں مرد و زن کی کوئی تقسیم نہیں۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی نوازتا ہے اور عورتوں کو بھی نوازتا ہے۔ حضرت مریم پیدائشی طور پر اللہ کی ولیہ تھیں۔ خصوصی حالات میں ان کی تربیت فرمائی گئی تاکہ مستقبل کی کٹھن ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اضمحلال کا شکار نہ ہوں۔ لیکن اس پوری داستان میں صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ ایک طرف سے بندگی، تواضع، خشیت اور عبادت ہے اور دوسری طرف سے عنایتیں اور انعامات ہیں۔ جو سراسر بندگی کے نتیجے میں نصیب ہو رہے ہیں، لیکن اس میں الوہیت کے مفہوم کو داخل کرنا یا اس سے کشید کرنا ایک بگڑے ہوئے ذہن کا ہی کام ہوسکتا ہے یا وہ لوگ ایسا کرسکتے ہیں جو اللہ کے دین کو بگاڑنا چاہیں۔