Ayahs 3:146–148وَکَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰـتَلَ لا مَعَہٗ رِبِّـیُّـوْنَ کَثِیْرٌ ج فَمَا وَھَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَـکَانُوْا ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَـبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ فَاٰتٰـھُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ ع
(اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہوکربہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، تو نہ تو وہ پست ہمت ہوئے اس مصیبت کی وجہ سے جو اللہ کے راستے میں انھیں پہنچی اور نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے گھٹنے ٹیکے۔ اللہ پسند کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں کو۔ ان کی دعا تو ہمیشہ یہی رہی کہ اے ہمارے رب ! بخش دے ہمارے گناہوں کو، ہماری بےاعتدالیوں کو اور ہمارے قدموں کو جمائے رکھ اور ہمارے گناہ بخش دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ پس اللہ نے انھیں عطا فرمایا دنیا کا صلہ بھی اور آخرت کے اچھے اجر سے بھی نوازا اور اللہ نیک کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) (146 تا 148)
بعض اوہام کی اصلاح
پیشِ نظر تین آیات کریمہ میں ایک اور انداز میں ان کمزور مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے جو منافقین کی لگائی بھجائی اور ان کی وسوسہ اندازیوں سے متأثر ہورہے تھے۔ وہ باربار ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال رہے تھے۔ کہ اللہ کے نبی تو دنیا میں نصرت الہٰی کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آہی نہیں سکتا۔ وہ جدھر بھی رخ کرتے ہیں اللہ کی تائید ونصرت اور فتح ان کے ہمرکاب ہوتی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ہم میں اللہ کے نبی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ایک بہت بڑے خونی حادثے سے دوچار ہوئے۔ اس طرح کی وسوسہ اندازیوں کا جواب تاریخ کے آئینے میں دیا جارہا ہے کہ نبی کریم ﷺ دنیا میں آنے والے پہلے رسول نہیں اور نہ یہ پیش آنے والی جنگ حق و باطل کا پہلا معرکہ ہے۔ جب تک اولادِ آدم نے غلط راستہ اختیار نہیں کیا تھا تو دنیا میں کوئی کشمکش نہ تھی۔ لیکن جب شیطانی قوتوں نے پر پرزے نکالے اور انسانوں میں سے کچھ لوگوں نے شیطان کی پیروی شروع کی تو حق و باطل کی کشمکش کا آغاز ہوگیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کشمکش میں نشیب و فراز آتے رہے جب بھی اہل باطل اہل حق کے لیے مسائل پیدا کرتے رہے اور حق کا زندہ رہنا مشکل کردیاتو اللہ تعالیٰ نے حق کی سربلندی کے لیے نبی اور رسول بھیجے جن کے آنے سے یہ کشمکش تیز ہوگئی۔ پھر جیسے جیسے کفر کی بعض قوتیں سرنگوں ہوتی گئیں انسانوں کو خوف وحزن سے پاک زندگی میسر آتی گئی۔ لیکن جب پھر باطل نے زور پکڑا تو پھر وہی کشمکش جاگ اٹھی تو کہنا صرف یہ ہے کہ مسلمان جس کشمکش میں مبتلا ہوئے ہیں اور لڑائیوں کا جو سلسلہ چل پڑا ہے یہ حق و باطل کا پہلا معرکہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے :
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
اور دوسری بات یہ کہ رِبِّـیُّـوْنَ نے ہمیشہ حق و باطل کی کشمکش میں اپنے نبیوں کا ساتھ دیا رِبِّـیُّـوْنَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو وقت کے نبی اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کو اپنا رب سمجھتے ہیں۔ انھیں رَبَّانِیْ بھی کہا جاتا ہے اور رَبِّیْ بھی۔ رَبِّیْْ معلوم ہوتا ہے عبرانی لفظ ہے، جو عربی میں آکر رَبَّانِیْ ہوگیا۔ اللہ پر ایمان لانے والوں نے ہمیشہ اس کشمکش میں اللہ کے نبی کا ساتھ دیا ہے۔ اس کشمکش میں جیسے بھی حالات پیش آئے انھوں نے ہمیشہ اس کا سامنا کیا۔ مصیبتوں سے واسطہ پڑا تو مصیبتیں برداشت کیں، ہزیمتوں سے سابقہ پیش آیا تو کبھی کمزوری کا اظہار نہیں کیا۔ بڑی سے بڑی قوت سے ٹکرانا پڑاتو کبھی تھڑدلے پن یا بےصبری کو قریب نہیں آنے دیا۔ ہمیشہ اللہ کے راستے میں استقامت دکھائی۔ بالآخر ایمان کی یہ قوت اور صبر و استقامت کی بےپناہی اللہ کے حضور کام آئی اور اللہ نے انھیں اپنی پسندیدگی سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ ہو یا حضرت داؤد (علیہ السلام) کا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دور ہو یا حضرت سموئیل (علیہ السلام) کا۔ ہر دور میں حق و باطل کے معرکے اور سرفروشوں کی سرفروشی کا ایک ہی رنگ رہا۔ جس طرح کفر نے کبھی اپنے طور اطوار نہیں بدلے اسی طرح مسلمانوں نے بھی کبھی صبر و استقامت سے منہ نہیں پھیرا اور کبھی اللہ سے شکایت نہیں کی، جیسے جنگ احد میں پہنچنے والے نقصان کی شکایت مسلمانوں میں کمزور لوگ کررہے تھے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے ؎
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسداللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری
ہر دور کا مسلمان ہمیشہ آزمایا گیا ہے۔ بڑی سے بڑی آزمائشوں سے گزارا گیا ہے۔ لیکن مجال کیا ہے جو اس نے موت سے ڈرنا سیکھا ہو۔ بزدلی کا راستہ اختیار کیا ہو، قربانی وایثار سے جی چرایا ہو۔ یا نازک سے نازک وقت میں بھی حریف کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوں۔ انھوں نے اپنا سب کچھ اللہ کے راستے میں لٹایا، کھپایا اور اس طرح اللہ سے پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بڑی سے بڑی قربانی اور بڑے سے بڑا معرکہ سر کرنے کے بعد بھی ان کے اندر کبھی اپنے استحقاق کے فتنے نے سر نہیں اٹھایا۔ وہ جیسے جیسے معرکہ آرائی میں سرخرو ہوتے گئے ویسے ویسے عجزونیاز مندی اور فروتنی میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ بڑے سے بڑا معرکہ سر کرنے کے بعد بھی ہمیشہ اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ شاید ہم سے اس راستے میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ اتنی عظیم ہے کہ بڑے سے بڑا عمل بھی وہاں پزیرائی کے قابل نہیں ہوتا۔ وہاں تو سب کچھ کرنے کے بعد بھی ایک ہی عمل پسند آتا ہے جسے ” عاجزی اور نیاز مندی “ کہا جاتا ہے۔ وہ عاجزی میں ڈوب کر چار طرح کی دعائیں کرتے ہیں
1 یا اللہ ! ہم نے جو کچھ کیا اگرچہ اپنی ہمت سے بڑھ کر کیا لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں کوئی گناہ یا کوتاہی کا گزر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہم عرض گزار ہیں کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے۔
2 اس جنگ سے پہلے بھی زندگی کا ایک حصہ گزرا ہے اس میں بھی یقینا غلطیاں ہوئی ہوں گی یا اللہ ! انھیں بھی معاف فرمادے۔
3 زندگی کا بڑے سے بڑا عمل بھی کوئی معنی نہیں رکھتا اگر اس کے ساتھ ثباتقدم اور استقامت شامل نہ ہو۔ اس لیے یہ دعا ہے کہ ہمیں ثابت قدمی کی دولت عطا فرما۔
4 ہم اپنی ساری کوششوں کے باوجود کمزور اور ناتواں ہیں الہٰی تو ہمیں دشمنوں پر غالب کردے۔
ان ساری دعائوں میں جو چیز روح کی طرح کارفرما دکھائی دیتی ہے وہ یہ احساس ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں یا عام معمول کی زندگی میں اگر کوئی نیکی اور عمل صالح کی توفیق ملی ہے تو یا اللہ ! وہ سراسر تیری عطا ہے۔ دل و دماغ میں نیکی کا ارادہ بھی صرف تو ہی پیدا کرتا ہے۔ پھر اس ارادے کو عمل کی شکل دینا بھی تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں اور پھر ایسے تمام اعمال کو دکھاوے اور تعلی سے محفوظ رکھنا بھی سراسر تیرے ہاتھ میں ہے۔ اکبر نے ہماری ترجمانی کرتے ہوئے کہا
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا
ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جو ہوا، ہوا کرم سے تیرے
جو ہوگا، تیرے کرم سے ہوگا
Ayahs 3:149–151یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰـکُمْ ج وَھُوَخَیْرُالنّٰصِرِیْنَ ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَـآ اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا ج وَمَاْوٰھُمُ النَّارُ ط وَبِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ ۔
(اے ایمان والو ! اگر تم بات مانوگے کافروں کی تو وہ تم کو پھیر دیں گے الٹے پائوں اور تم نامراد ہو کر رہ جاؤ گے۔ بلکہ اللہ تمہارا مددگار ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔ ہم ان کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انھوں نے ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے جن کے حق میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے) (149 تا 151)
منافقین کا پروپیگنڈا اور اس کا ازالہ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ احد کے بعد جو صورتحال پیش آئی اس سے منافقین اور غیر مسلم قوتوں نے پوری طرح فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح سے اسلام اور مسلمانوں کو جزیرہ عرب میں قابل ذکر طاقت سمجھا جانے لگا تھا۔ غیرمسلم قبائل کا بغض اور کینہ اپنی جگہ پر تھا لیکن اب وہ اس کے اظہار میں بہت محتاط ہوگئے تھے۔ جنگ احد کے حادثے نے اس پوری صورتحال اور تأثر کو الٹ کر رکھ دیا اور منافقین نے اس تأثر سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ جیسے ہی نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑی تو منافقین جو مسلمانوں کے ساتھ سائے کی طرح لگے ہوئے تھے انھوں نے مسلمانوں سے کہنا شروع کیا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اب ہمارے لیے کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی۔ اس سے پہلے کہ قریش کا لشکر مدینے میں جاگھ سے اور ہماری عورتوں اور بچوں کو غلام بنالے ہمیں عبداللہ بن ابی سے کہہ کر ان سے کوئی معاملہ طے کرلینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے پوری طرح اسلام کی صف لپیٹ دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اور آپ کی خیریت سے اگرچہ مسلمانوں کو حوصلہ ملالیکن منافقین اور دشمن برابر گھات میں تھے اور وہ ہر وقت کمزور مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ اس لیے پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ منافقین اور دشمنانِ دین جو کچھ چاہتے ہیں مسلمانوں اگر تم نے ان کی باتوں پر کان دھرنے شروع کردیئے تو وہ تمہیں آخرکار کافر بناکر چھوڑیں گے۔ ذرا اندازہ کرو ! تمہیں اللہ نے جہنم سے نکالا ہے کیا تم پھر اسی جہنم میں واپس چلے جانا چاہتے ہو۔
شرک کی کوئی بنیاد نہیں
مسلمان جس صورتحال سے دوچار ہوگئے تھے اور ان کے مصائب سے منافقین جس طرح فائدہ اٹھانے کے درپے تھے، پروردگار نے مسلمانوں پر رحم فرمایا اور مسلمانوں کو سنبھالادیا۔ ایک طرف تو ان پر یہ بات واضح کی کہ اگر تم نے منافقین کی باتوں پر توجہ دی تو ان کے ارادے نہایت بھیانک ہیں اس لیے تمہیں اس سے باخبر رہنا چاہیے۔ اور دوسری یہ بات فرمائی کہ رہی یہ بات کہ مرعوب دشمن نے پھر سراٹھانا شروع کردیا ہے اور سانپ پھر اپنے بل سے نکل آیا ہے اور مخالف قوتیں پھر پر پرزے نکالنے لگی ہیں۔ تو تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے، عنقریب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے۔ تم بظاہر جس طرح ان کو بپھرا ہوا دیکھ رہے ہو حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو حالات نے زخمی ضرور کیا ہے لیکن زخمی شیر جب انگڑائی لے کر اٹھتا ہے تو پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور اگر تم ان کی ہیئت ترکیبی پر غور کروتو تمہیں اندازہ ہوگا کہ بزدلی، کمزوری اور انتشار کے اسباب خود ان کے اندر مضمر ہیں۔ ان کا تعلق کسی ایک آستانے سے نہیں بلکہ مختلف آستانوں سے ان کی عقیدتیں وابستہ ہیں۔ شرک نے ان کی اجتماعی قوت کو اتفاق و اتحاد کی بجائے انتشار کی نذر کردیا ہے۔ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں کسی ایک قوت سے استمداد کرنے کی بجائے مختلف قوتوں سے مختلف گروہوں میں بٹ کر مدد طلب کرتے ہیں۔ جس سے قدرتاً ان کے اندر ایک ضعف کا احساس امڈتا ہے۔ ایسے بکھرے ہوئے لوگ ایک ایسی متحدہ قوت سے کبھی نہیں ٹکراسکتے جن کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ جو اللہ سے مدد مانگتے اور اللہ کے سہارے پر سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جن کے عقیدے کی بنیاددلائل وبراہین پر کھڑی ہے جو ایک زندہ خدا پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ اس کی محبت وعقیدت میں کٹ مرنے میں ہمیشہ کی زندگی سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے مقابلے میں وہ لوگ کبھی کھڑے نہیں ہوسکتے جن کے عقیدے کی قوت سے لے کر عمل کی ساکھ تک ہر چیز شرک کی ریت پر کھڑی ہے۔ وہ اپنے کسی عمل کی کوئی دلیل نہیں رکھتے، چند رسم و رواج ہیں یا اسلام دشمنی کا جذبہ ہے جس نے انھیں ایک قوم کی شکل دے رکھی ہے۔ ورنہ حقیقت میں ان کی قوت کی کوئی بنیاد نہیں ایسے لوگوں کا انجام دنیا میں تباہی اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ کیا جانیں کہ جہنم ایسے ظالموں کے لیے کس قدر برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 3:152وَلَقَدْ صَدَقَـکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہٖ ج حَتّٰیٓ اِذَا فَشِلْـتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الْاَمْرِ وَعَصَیْـتُمْ مِّنْ م بَعْدِ مَآاَرٰ کُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ط مِنْـکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالدُّنْیَا وَمِنْـکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُالْاٰخِرَۃَ ج ثُمَّ صَرَفَـکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ ج وَلَقَدْ عَفَا عَنْـکُمْ ط وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ کردکھایا جبکہ تم ان کو تہِ تیغ کررہے تھے اللہ کے حکم سے، یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑگئے اور تم نے حکم میں اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ اس نے دکھادی تمہیں وہ چیز جس کو تم پسند کرتے تھے، تم میں سے کچھ وہ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں اور تم میں کچھ وہ ہیں جو آخرت کے طالب ہیں۔ پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیر دیاتا کہ تمہیں آزمائش میں ڈالے اور اللہ نے تم سے درگزر کیا اور اللہ مومنوں پر بڑے فضل والا ہے) (152)
مسلمانوں کی شکست فتح کے بعد اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ایک پروپیگنڈے کا بطور خاص جواب دیا ہے۔ وہ بڑا زور دے کر یہ بات کہہ رہے تھے کہ تم یہ کہتے تھے کہ جنگ بدر تم نے اس لیے جیتی کہ وہاں اللہ نے تمہارے ایمان کی وجہ سے تمہاری مدد فرمائی فرشتے تمہاری مدد کے لیے نازل ہوئے اور اس طرح کافروں کو اپنی ساری طاقت کے باوجود ناکام اور نامراد ہونا پڑا۔ لیکن جنگ احد میں وہ مدد کہاں چلی گئی ؟ نہ فرشتے اترے، نہ اللہ کی مدد آئی بلکہ تمہیں اتنی بڑی شکست سے دوچار ہونا پڑا جس میں تمہارے ستر سربرآوردہ آدمی شہید ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وعدے اور فرشتوں کا نازل ہونا یہ محض سخن سازیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ پروردگار نے اس پر اپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے وعدے کا تعلق ہے کہ وہ مسلمانوں کو کافروں پر ہمیشہ فتح عطا فرماتا ہے اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مشروط ہے غیر مشروط نہیں۔ مسلمانوں نے شروع میں ایمان کی تمام شرائط کے ساتھ قریش کے لشکر کا مقابلہ کیا تو اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔ حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت ابودجانہ ( رض) جیسے بہادروں نے صفیں الٹ ڈالیں۔ مسلمانوں نے کافروں کو تیغوں پر دھر لیا، چند ہی لمحوں میں وہ لوگ سرپرپائوں رکھ کر بھاگے۔ تحسونھم، حس یحس سے ہے۔ اس کا معنی صرف قتل کرنا نہیں ہوتا بلکہ دشمن کا مکمل استیصال کرنا ہوتا ہے۔ شروع میں مسلمانوں نے اس طرح دشمن کو تہِ تیغ کیا ہے کہ اگر دشمن بھاگ نہ جاتا تو اس میں سے شاید کوئی بچ کر نہ جاتا لیکن جب مسلمانوں نے خود ان شرائط کو پامال کرنا شروع کردیا جن شرائط پر عمل کیے بغیر اللہ کی طرف سے تائید ونصرت نہیں اترتی۔
سب سے پہلی کوتاہی مسلمانوں نے یہ کی کہ انھوں نے فشل کا ارتکاب کیا یعنی وہ ڈھیلے پڑگئے۔ جنگ بدر میں اس بات پر عتاب نازل ہوا تھا کہ دشمن کو اچھی طرح تہِ تیغ کرنے سے پہلے مسلمان مال غنیمت کی طرف متوجہ کیوں ہوئے کیونکہ مقصود اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے راستوں کا صاف کرنا ہے دنیا کا مال اکٹھا کرنا نہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس کوتاہی کو معاف کردیا لیکن اب پھر اس کو دھرایا گیا کہ دشمن جیسے ہی شکست کھاکر بھاگاتو بجائے دشمن کا تعاقب کرنے اور اس کا استیصال کرنے کے مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ دشمن کو بھاگتے ہوئے دوبارہ پھر اکٹھے ہونے کا موقعہ مل گیا۔ اس نے جب دیکھا کہ فاتح لشکر بجائے ہمارا تعاقب کرنے کے دل پسند مصروفیت میں کھو گیا ہے تو انھیں پلٹنے میں کوئی چیز مانع نہ تھی۔
دوسری سنگین کوتاہی مسلمانوں سے یہ ہوئی کہ پشت کے درے پر جن لوگوں کو حفاظت کے لیے مامور کیا گیا تھا انھیں تاکید کی گئی تھی کہ جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو تمہیں کسی قیمت پر اس جگہ سے نہیں ہلنا۔ لیکن انھوں نے جب مسلمانوں کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو آپس میں اختلاف کا شکار ہوگئے ان کے امیر نے ہرچند انھیں سمجھایا کہ ہمیں یہاں سے ہٹنا نہیں چاہیے لیکن اکثریت نے ان سے اختلاف کیا کہ فتح ہوچکی ہے اب یہاں رکنے کا کیا فائدہ، وہ دوسرے لوگوں کیساتھ جاملے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خالد بن ولید نے درے کو خالی پاکر گھوڑسوار دستے کے ساتھ حملہ کردیا اور ادھرمفرور لشکر بھی واپس آگیا اب مسلمانوں نے پلٹ کر دیکھا تو ہر طرف تلواریں برس رہی تھیں اور کندھوں سے سر اتر رہے تھے۔
اس طرح سے تم لوگوں نے اللہ کے رسول کی نافرمانی کی کہ کچھ لوگ دنیا کے طلب گار ہوگئے اور کچھ آخرت کے، اسلام کی صفوں میں ایسے لوگوں کا موجود ہونا جو دنیا کی خاطر رسول کے حکم کو نظر انداز کردیں اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اس وجہ سے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ تمہیں امتحان میں ڈالے پھر اس امتحان میں مسلمانوں پر جو گزری وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن اللہ نے پھر ان سے درگزر فرمایا کہ باوجود اس کے کہ مسلمان بری طرح بکھر گئے تھے مسلمانوں کی مکمل شکست میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی۔ قریش کے لیے بہترین موقعہ تھا کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی فتح کی تکمیل کرتے مسلمانوں کو گرفتار کرتے اور مدینہ پر چڑھ دوڑتے۔ لیکن اللہ کی رحمت پھر جوش میں آئی اس نے مسلمانوں سے درگزر کیا کیونکہ ہمارا پروردگار مومنوں پر بڑ افضل و کرم والا ہے۔ اس نے قریش کی فوج کو اس کی ہمت عطانھیں فرمائی کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی فتح کو مکمل کرلیتے بلکہ انھوں نے ڈاکوؤں کے لشکر کی طرح جو حاصل ہوا اسی کو غنیمت سمجھا اور مسلمان ابھی تک وہیں تھے اور فاتح لشکر وہاں سے غائب ہوچکا تھا۔
Ayah 3:153اِذْتُصْعِدُوْنَ وَلَاتَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰ کُمْ فَاَثَابَـکُمْ غَمًّا م بِغَمٍّ لِّـکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلاَ مَـآاَصَابَـکُمْ ط وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔
(یاد کرو ! جب تم دور بھاگے جارہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول (کریم۔ ) تمہیں تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے پس اللہ نے تمہیں غم پر غم پہنچایا تاکہ تم دل شکستہ نہ ہوا کرو کسی نقصان پر اور نہ کسی مصیبت پر اور اللہ تعالیٰ خبردار ہے جو کچھ تم کررہے ہو) ( 153)
زمین میں دو رتک دوڑے چلے جانے یا کسی چڑھائی کی سمت میں جانے کو ” اصعاد “ کہتے ہیں۔ ابو حاتم نے کہا ہے کہ بلندی پر چڑھنے کو ” صعود “ اور ہموار زمین اور وادیوں میں چلنے کو ” اصعاد “ کہتے ہیں۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ منہ اٹھائے بدحواسی میں دوڑے چلے جانا اور شدت غم سے کسی طرف دھیان نہ دینا اور بلندی پر بھی چڑھنا اور ہموار زمین میں بھی سرپٹ دوڑے چلے جانا ان تمام کیفیتوں کو ” اصعاد “ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اصحابِ سیر نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کا پہلا حملہ اتنا زور دار تھا کہ قریش مکہ اپنی ساری بہادری اور منہ زوری کے باوجود میدان میں جم کر لڑ نہ سکے فوج کے پائوں اکھڑ گئے اور وہ بےتحاشہ بھاگ نکلے۔ دشمن کی اس پسپائی نے مسلمانوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا کہ دشمن مکمل طور پر شکست کھاچکا ہے اور اب اس کے پلٹ کر حملہ آور ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ چناچہ اسی خیال کے پیش نظر صحابہ نے ہتھیار کھول دیئے اور بجائے دشمن کا تعاقب کرنے کے اطمینان سے مال غنیمت سمیٹنے لگے۔ جبل الرماۃ پر جن تیر اندازوں کو متعین کیا گیا تھا انھوں نے اپنی فوج کے طرز عمل سے یہ سمجھا کہ اب لڑائی ختم ہوگئی ہے چناچہ وہ اپنے امیر کے روکنے کے باوجود اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے والوں میں شامل ہوگئے۔ خالد بن ولید کی عقابی نگاہوں نے جیسے ہی درے کو خالی دیکھا تو پہاڑ کا چکر کاٹ کر پیچھے سے حملہ آور ہوا۔ درے کی حفاظت پر جو چند لوگ ابھی باقی تھے ان کو روندتا ہوا آگے بڑھا اور وہ نہتے مسلمان جو ہتھیار کھول چکے تھے اور اب سامان اکٹھا کرنے میں مصروف تھے ان پر عقاب کی طرح جھپٹا اور کوئی بعید نہیں کہ چندسواروں کو بھاگتی ہوئی فوج کے پاس پیغام دے کر بھیجا ہو کہ میدان صاف ہے تم واپس پلٹ آئو۔ چناچہ ایک طرف دشمن کے گھڑ سوار دستے نے مسلمانوں کو تلواروں پر رکھ لیا اور دوسری طرف ان کی پیادہ فوج واپس پلٹ آئی اور انھوں نے بھی حملہ کردیا، اب مسلمان دفاعی قوت کی بجائے دونوں طرف سے دشمن فوج میں گھر گئے۔ اس قدر افراتفری مچی کہ مسلمانوں کی تلواریں مسلمانوں پر برسنے لگیں۔ جن مسلمانوں کو اپنے بچائو کے لیے کوئی تلوار یا کوئی اور ہتھیار نہ مل سکا ان میں کچھ لوگ تو وہ تھے جنھوں نے نہتے ہونے کے باوجود دشمنوں کا مقابلہ کیا اور دشمنوں سے ہتھیار چھین کر انھیں روکنے کی کوشش کی یا اپنے نہتے جسموں کو دوسرے مسلمانوں کے لیے ڈھال بنادیا لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جو انسانی فطرت کے خلاف صرف قتل ہونے کے لیے میدان میں ٹھہر نہیں سکتے تھے ان میں سے کچھ پہاڑ کی طرف بھاگے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور کچھ میدانی علاقے میں بھاگتے ہوئے مدینہ منورہ میں جاکر رکے۔ آنحضرت ﷺ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو آپ نے لوگوں کو اپنی طرف پکارنا شروع کیا۔ آپ بجائے اپنی جگہ چھوڑنے کے پہاڑ کی طرح ایک جگہ جم گئے۔ روایت کے مطابق آپ کے ساتھ کل بارہ آدمی باقی رہ گئے تھے باقی یا تو شہید ہوگئے اور یا بکھر گئے اور یا بھاگتے ہوئے میدانِ جنگ چھوڑ گئے۔ آپ نے نہایت پامردی، استقلال اور شجاعت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک جگہ ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ باربار آپ پکارتے رہے : الیّ عباد اللہ الیّ عباد اللہ ” اللہ کے بندوں میری طرف آئو، اللہ کے بندومیری طرف آئو “ لیکن اس ہنگامہ آہ وبکا اور ہنگامہ رستا خیز میں کون کسی کی سنتا ہے۔ چناچہ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن کریم نے کہا :” ذرا اس وقت کو یاد کرو ! جب تم بدحواس ہو کر ہر نشیب و فراز کی طرف بھاگے چلے جارہے تھے اور اللہ کے عظیم رسول تمہیں پیچھے سے پکار رہے تھے لیکن تم کسی طرف دیکھنے کی بھی ہمت کھو چکے تھے “۔
حدیث میں آتا ہے کہ حضرت کعب بن مالک ( رض) نے جو نہایت بلند آواز تھے، نے مسلمانوں کو پوری قوت سے پکارا کہ مسلمانو ! کدھر جارہے ہو ؟ نبی کریم ﷺ تو یہاں ہیں۔ تب مسلمان پلٹے لیکن اس وقت اتنی دیر ہوچکی تھی کہ مسلمانوں پر ایک طرف تلواروں کی بارش ہورہی تھی اور دوسری طرف غموں کا ہجوم ہورہا تھا۔ قرآن کریم کہتا ہے : پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں غم پر غم پہنچایا اس جملے کا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو ایک طرح کی سزادی گئی لیکن اس سے مقصود سزا نہیں بلکہ تادیب تھا۔ دوسرا جملہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تادیب کی صورت کو واضح کررہا ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بظاہر یہ سزا تھی لیکن حقیقت میں یہ ابتلاء تھا جو مسلمانوں کے لیے سراسر اللہ کی رحمت ہوتا ہے۔ جہاں تک سزا کا تعلق ہے اس کا سبب تو بالکل واضح ہے کہ جب مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی آواز پہچاننے میں کوتاہی کی اور بجائے آپ کی فکر کرنے کے بدحواس ہو کر ادھر ادھر جانکلے۔ تو یہ بہرحال ایک فروگزاشت تھی جس کا صدور ان لوگوں سے تو نہیں ہونا چاہیے تھا جو اسلام کا ہر اول دستہ تھا اور جن کی حیثیت زمین کے نمک کی تھی اور جن کی کمزوریاں کل کو تاریخ کی کمزوریاں بننے والی تھیں اور جن کے کندھوں پر دنیا کی اصلاح کا دارومدار تھا۔ لیکن ان کی اس بدحواسی کے پیچھے بھی ایک عذر کارفرما تھا اور وہ عذر یہ تھا کہ یہ افواہ پھیلا دی گئی تھی کہ آنحضرت ﷺ شہید کردیئے گئے ہیں۔ صحابہ کے لیے ہر چیز قابل برداشت تھی لیکن اس خبر کا برداشت کرنا صحابہ کے لیے ناممکن تھا۔ وہ شمع جس سے انھیں روشنی ملی، وہ آفتاب جس کی تمازت سے ان کا کاروبارِزندگی رواں دواں ہوا، وہ جانِ جہاں جس کی حرارت ہر دل کے لیے حرکت کا باعث تھی اس کے اٹھ جانے کی خبر ایسی نہ تھی جسے برداشت کیا جاسکتا۔ چناچہ اسی خبر نے بڑے بڑے لوگوں کے حوصلے توڑ ڈالے۔
حضرت مصعب بن عمیر ( رض) جو مسلمان فوج کے علمبردار تھے ابن قمیہ نے جب انھیں شہید کیا تو وہ چونکہ آنحضرت ﷺ سے شکل و صورت میں کسی حد تک مشابہت رکھتے تھے تو یہ بات مشہور ہوگئی یا کردی گئی کہ آنحضرت ﷺ کو شہید کردیا گیا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) جیسے بطل جلیل بھی اس افواہ کی زد میں آئے اور تلوار پھینک کر بیٹھ گئے کہ اب کس کے لیے لڑنا ہے ؟ حضرت انس ابن نضر ( رض) نے دیکھا کہ آپ تلوار رکھے بیٹھے ہیں تو پوچھا عمر یہ کیا ماجرا ہے ؟ بولے جب وہ نہ رہے جن کے لیے ہم لڑتے تھے اب لڑ کر کیا کریں گے ؟ انھوں نے برجستہ کہا تو ان کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے ؟ انھوں نے جس مقصد کے لیے جان دی ہے ہمیں بھی اسی مقصد کے لیے جان دینی چاہیے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خبر نے مسلمانوں پر واقعی غیر معمولی اثر ڈالا۔ چناچہ وہ غم جو پہلے ہی ان کے لیے جان لیوا تھے اس غم نے ان کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ کردیا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے جسم زخموں سے چور ہیں، ان کے عزیزوں کے لاشے خاک وخوں میں تڑپ رہے ہیں۔ ان کی فتح شکست کے خون میں نہلائی جارہی ہے کہ عین اس وقت آنحضرت ﷺ کے دنیا سے اٹھ جانے کی خبر ملتی ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس خبر نے کیا قیامت برپا کی ہوگی۔ یہ صورتحال بظاہر ایک سزا معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیقت مسلمانوں کے لیے ایک ابتلاء تھی اور اسی ابتلاء کا اشارہ گذشتہ آیت کریمہ میں بھی دیا گیا ہے۔ ابتلاء سے ہمیشہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ جن کمزوریوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ آئندہ یہ کمزوریاں باقی نہ رہیں اور نہ دوبارہ پیدا ہوسکیں۔ اس لیے فرمایا : لِکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلَا مَـآاَصَابَـکُمْ ہم نے تمہیں اس ابتلا میں اس لیے مبتلا کیا ہے کہ تم نے جو یہ کمزوری دکھائی ہے کہ جیسے ہی تم پر مصائب کی بارش برسی اور غموں کا ہجوم ہوا تو تم بدحواس ہوگئے، تم پر ہراس طاری ہوگیا اور تم نے ہراساں ہو کر وہ کمزوریاں دکھائیں جو تمہارے شایانِ شایان نہ تھیں۔ تمہیں دنیا میں ایک انقلاب برپا کرنا ہے۔ دنیائے کفر تمہارے خون کی پیاسی ہے۔ تمہیں انہی دشمنوں میں رہ کر ان کی اصلاح کا کام کرنا ہے۔ جہاد و قتال سے تمہارا واسطہ ایک دن کا نہیں بلکہ زندگی بھر کا ہے۔ تمہیں ابھی اندازہ نہیں کہ دشمنوں کی کتنی بڑی تعداد تمہاری گھات میں ہے۔ اگر تم نے ہراساں ہو کر کمزوریوں کا شکار ہونا نہ چھوڑا اور تمہارے اندر پہاڑوں جیسی استقامت اور پانی کی روانی جیسی راستہ بنانے کی عزیمت پیدا نہ ہوئی اور تم نے چٹانوں کے دل میں شگاف ڈالنا نہ سیکھا اور تم نے وقت کی آندھیوں سے نبرد آزماہونے کی مشق نہ کی تو آنے والے معرکہ ہائے حق و باطل میں اپنا فرض پوری طرح ادا نہ کرسکو گے۔ اس لیے تمہیں غموں کے اس ہجوم سے گزارا گیا ہے، تمہاری کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ آئندہ ہر طرح کی صورتحال کا تم وقار کے ساتھ سامنا کرسکو اور دوبارہ اسلام کو ایسی خطرناک صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ حوادث اور آزمائشیں ہمیشہ قوموں کی باوقار زندگی کی ضامن بنتی ہیں۔ جو قومیں مصائب سے گزرنا نہیں جانتیں اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا نہیں جانتیں وہ کبھی مشکل حالات میں اپنے حواس پر قابو نہیں رکھ سکتیں اور جو شخص یا جو قوم اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکے اسے خطرناک حالات میں صحیح فیصلے کرنے کی کبھی توفیق نہیں ملتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس آیت کریمہ میں پیش فرمائی جارہی ہے۔ ممکن ہے تم اپنی کمزوریوں کا کوئی جواز بھی رکھتے ہو کیونکہ آدمی جب کبھی اپنے بارے میں سوچتا ہے تو ہمیشہ اپنے آپ کو الائونس دیتا ہے۔ لیکن تمہارے ذہنوں میں یہ بات ہمیشہ تازہ رہنی چاہیے کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ ہمیشہ اس سے باخبر رہتا ہے۔
Ayah 3:154ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْـکُمْ مِّنْ م بَعْدِالْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَـآئِفَۃً مِّنْـکُمْ لا وَطَـآئِفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّونَ بِاللّٰہِ غَیْرَالْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ ط یَـقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّناَ مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْئٍ ط قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّـہٗ لِلّٰہِ ط یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالاَ یُبْدُوْنَ لَکَ ط یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا ط قُلْ لَّوْکُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَالَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِھِمْ ج وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَافِیْ صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَافِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔
(پھر اللہ نے تم پر غم کے بعد اطمینان نازل فرمایا یعنی ” نیند “۔ جو چھارہی تھی تم میں سے ایک گروہ پر اور ایک گروہ ایسا تھا جسے اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ بدگمانی کررہے تھے اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت، زمانہ جاہلیت کی قسم کی بدگمانی۔ وہ کہتے کہ بھلا ہمیں ان معاملات میں کیا دخل۔ کہہ دیجیے ! اختیار تو سارا اللہ کا ہے۔ وہ اپنے دلوں میں وہ چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں (اپنے دلوں میں): اگر اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی دخل ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔ کہہ دیجیے ! اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو ضرور نکل آتے وہاں سے وہ لوگ جن کا قتل ہونا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں کی طرف۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اور صاف کردے جو میل کچیل تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کا) (154)
گزشتہ آیت کریمہ سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ مسلمان جو اتنی بڑی مصیبت سے دوچار ہوئے وہ درحقیقت ان کی تربیت کے لیے ایک ضروری امر تھا اور آئندہ انقلابی عزائم کو بروئے کار لانے کے لیے یہ امتحان ضروری تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ مسلمانوں کا رشتہ اپنے اللہ سے ٹوٹ چکا ہے۔ چناچہ جیسے ہی مسلمانوں نے اپنے آپ کو سنبھالا آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لیے مسلمان چاروں طرف سے امڈ امڈ کرآئے۔ بالآخر آپ کو لے کر ایک گھاٹی پر چڑھ گئے اور ایسی پامردی دکھائی کہ دشمن اپنی افرادی قوت اور مسلمانوں کی وقتی غفلت سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اپنی فتح کی تکمیل نہ کرسکا۔ بجائے قدم آگے بڑھانے کے اس نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ بچ کر واپس چلا جائے۔ چناچہ مسلمانوں کا لشکر ابھی میدانِ احد میں تھا کہ غنیم کی پوری فوج احد کی وادی سے نکل چکی تھی۔ یہ خطرہ ضرور موجود تھا کہ مسلمانوں کو چونکہ بہت نقصان پہنچ چکا ہے ستر لاشے ابھی بےگوروکفن پڑے ہیں، ہر صحابی زخموں سے چور ہے، دشمن نے اگر ذرا بھی تدبر کا ثبوت دیا تو اندیشہ ہے کہ کہیں پلٹ کر حملہ نہ کردے اس لیے مسلمان پوری طرح چوکنا اور کمر بستہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اچانک مسلمانوں پر اطمینان کی کیفیت نازل فرمائی۔ دلوں میں سکون کی شبنم برسی۔ غموں سے تپتے ہوئے سینے اللہ کی رحمت کی ٹھنڈک محسوس کرنے لگے۔ ماہرینِ جنگ کہتے ہیں کہ فوج کے ایک ایک فرد کو جس طرح مناسب غذا ملنی چاہیے اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اسے آرام اور نیند کا موقعہ ملنا چاہیے جو بالعموم جنگوں میں نصیب نہیں ہوتا۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے تو بھاگتے ہوئے بھی سپاہی کچھ نہ کچھ کھانے کا موقعہ تلاش کرلیتے ہیں۔ لیکن جنگ کی ہولناکیاں اور سفر کی رواروی اور دشمن کے حملہ کا خطرہ سونے کا کبھی موقعہ پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اگر مسلسل فوج بےخوابی کا شکار رہے تو اعصاب کی شکست کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے بعد کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ نے مسلمانوں پر جو اطمینان کی کیفیت نازل فرمائی اس کی اہم ترین بات یہ تھی کہ فوج کی ایک بڑی تعداد پر نیند طاری کردی۔ عین خطرات کے موقعہ پر نیند کا آنا اللہ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ امن کی حالت میں آدمی اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اسی لیے پروردگار نے جنگ بدر میں جو مسلمانوں پر احسانات کیے ان میں سے بطورخاص اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم پر نیند غالب کردی کہ قریش مکہ کی ساری فوج رات بھر جاگتی رہی اور مسلمانوں کی فوج جنھیں پریشانی کے اسباب نے گھیر رکھا تھا وہ رات بھر کمر کھول کرسوئی۔ مسلمانوں کو جس فوج سے مقابلہ تھا اس کی تعداد تین گنا سے بھی زیادہ تھی۔ اس کا ایک ایک سپاہی لوہے میں ڈھل کر نکلا تھا۔ ان کے پاس بڑی تعداد میں گھوڑے تھے۔ کمک اور رسد کے وسائل کی کوئی کمی نہ تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ ہتھیار تھے، نہ گھوڑے۔ وسائل کی کمیابی خود اپنے منہ سے بول رہی تھی۔ ان میں سے ایک ایک چیز ایسی تھی جو نیند اچاٹ کردینے کے لیے کافی تھی۔ اس کے باوجود یہ سراسر اللہ کا کرم تھا کہ رات بھر وہ نیند کی آغوش کے مزے لوٹتے رہے اور دشمن پریشان کن بیداری میں دہکتا رہا۔ یہی انعام اللہ تعالیٰ نے میدانِ احد میں بھی کیا۔ حضرت ابوطلحہٰ ( رض) ماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کرم کا حال یہ تھا کہ ہمارے خوف وہراس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہم پر غنودگی طاری کردی، مضمحل اور منفعل لشکر پھر سے تازہ دم ہوگیا۔ ایک ایک سپاہی اونگھ رہا تھا۔ تلواریں ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ کر گرا چاہتی تھیں۔ لیکن اسی فوج میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جنھیں اپنی جانوں کی پڑی تھی۔ منافقین کی تین سو کی تعداد تو راستے ہی میں مسلمانوں سے کٹ کر الگ ہوگئی تھی۔ لیکن ایک مختصرسی جماعت معب بن قشیر اور اس کی پارٹی مسلمانوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی تاکہ جب بھی موقعہ ملے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے۔ انھیں سوائے اپنی جانیں بچانے کے اور کوئی فکر نہ تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں نیند کے لطف سے محروم رکھا۔ چناچہ جب تک حالات نے پلٹا نہیں کھایا وہ برابر پریشانیوں میں گھلتے رہے۔ جب حالات ذرا پرسکون ہوئے تو ان کا چھپا ہوا نفاق اور اسلام دشمنی آہستہ آہستہ ان کی زبان سے ظاہر ہونے لگی اور وہ ایسی باتیں مسلمانوں سے کہنے لگے جس سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کیا جاسکتا تھا یا ان کے حوصلوں کو پست کیا جاسکتا تھا۔ لیکن مسلمان اب چونکہ منافقین کی طرف سے کھٹک گئے تھے اس لیے ان کے بقیہ لوگ اپنے نفاق کے اظہار میں بڑے محتاط ہوگئے۔ وہ بات کہتے تھے لیکن الفاظ میں لپیٹ کر۔ وہ خود تو اپنے دلوں میں ابھی تک جاہلیت کے خیالات بسائے ہوئے تھے اور یہی وہ خیالات تھے جو درحقیقت ان کے نفاق کا سبب تھے۔ چناچہ انھیں خیالات کو وہ الفاظ میں لپیٹ کر آہستہ آہستہ مسلمانوں میں پھیلانے کے درپے تھے۔ انھوں نے پہلی بات مسلمانوں سے یہ کہی : کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے ؟ یعنی جنگ کے معاملات پیش آتے ہیں، اس کے لیے تدبیریں طے کی جاتی ہیں۔ مناسب تیاریاں ہوتی ہیں باہمی مشورے ہوتے ہیں، دشمن سے عہدہ برآ ہونے کی منصوبہ سازی کی جاتی ہے۔ لیکن ہمیں تو کسی معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔ ہمیں تو پوچھا ہی نہیں جاتا کہ ہم یہ کام کریں یا نہ کریں۔ لیکن جب کوئی ناگوار صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ ہمیں بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا : اے پیغمبر ان سے کہو ! مسلمانوں کے معاملات کے سارے اختیارات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اللہ کا نبی ہمیشہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور مسلمان انھیں فیصلوں کے پابندہوتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ درحقیقت یہ منافق دبی دبی زبان میں جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ وہ بات نہیں جو وہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔ وہ اصل میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے ہمارا مشورہ قبول کیا ہوتا کہ مدینہ ہی میں رہ کر مدینہ کا دفاع کیا جائے تو یہ جو آج ستر لاشے پڑے دکھائی دیتے ہیں یہ یہاں آکر اس طرح قتل نہ ہوتے۔ یہاں ان کا قتل ہونا سراسر بےتدبیری کا نتیجہ ہے اور ہماری بات نہ ماننے کا خمیازہ ہے۔ یہ چونکہ سراسر ایک عقیدے کا معاملہ ہے اس لیے قرآن کریم نے اس کا جواب دینا ضروری سمجھا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے یہ عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی شخص کو کب مرنا ہے اور کس سرزمین میں اس کی موت آئے گی اس کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا اس سے کوئی واقف نہیں۔ جن کے بارے میں یہ طے ہوچکا کہ ان کی موت احد کے دامن میں آئے گی وہ گھر بھی بیٹھے ہوتے تو موت انھیں احد کے دامن میں خود لے آتی۔ کتنی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ سے لوگ خیریت سے گھر واپس آجاتے ہیں اور گھر میں بیٹھنے والے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جس نے زندگی بھر کبھی کسی جگہ کا نام بھی نہیں سنا، حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ حالات کا الٹ پھیر اسے وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں اس کی موت اس کے انتظار میں ہوتی ہے اور وہاں کی مٹی اس کا مدفن بننے والی ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسی وقت آئے گی جب اسے منظور ہوگا یہ اتنی بڑی قوت ہے جو انسان کو موت کے سامنے سپرانداز ہونے سے بچاتی ہے۔ وہ موت کو اللہ کا حکم سمجھتا ہے اور جانے والے کو اس کی امانت۔ اس لیے نہ اسے خوف لاحق ہوتا ہے اور نہ اس کے اندر شکایت پیدا ہوتی ہے۔ ایک نومسلم انگریز نے اپنے ایمان لانے کی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
ایک بڑے میاں میرے پاس ملازم تھے ایک دن اس کی بیوی فوت ہوگئی۔ میں دوسرے دن افسوس کرنے گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بڑے ادب واحترام سے بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہے۔ مجھے دیکھ کر کتاب بند کرکے میری طرف متوجہ ہوا۔ میں نے افسوس کا اظہار کیا کہنے لگا : صاحب ! افسوس کس بات کا، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے زندگی کا بڑاحصہ اسے میرے ساتھ گزارنے کا موقعہ دیا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی محبت اور خدمت سے فائدہ اٹھایا۔ اب اس کی زندگی کا وقت ختم ہوگیا۔ اللہ نے اسے اتنی زندگی دی تھی تو وہ اسے لے گیا۔ مجھے اس کی موت کا دکھ تو ضرور ہے، شکایت نہیں کیونکہ موت اللہ کے حکم سے آتی ہے اور اس کے حکم پر شکایت نہیں کی جاتی، صبر کیا جاتا ہے۔ میں اس کا شکر گزار بھی ہوں کہ ہم اتنے سال اکٹھے رہے اور اب موت آئی ہے تو میں صبر کروں گا تاکہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو۔ یہ نومسلم انگریز کہتا ہے کہ اتفاق یہ ہوا کہ چند مہینے کے بعد اس کا جوان بیٹا مرگیا۔ میں نے سوچا کہ اتنے بڑے صدمے کو برداشت کرنا اس بڑے میاں کے بس کی بات نہیں۔ میں افسوس کے لیے گیا تو دیکھا کہ پھر وہی کتاب پڑھ رہا ہے۔ میں نے افسوس کیا تو کہنے لگا کہ صاحب میرا بیٹا اللہ کی امانت تھا۔ جب تک وہ میرے پاس رہا میں نے اس کی زندگی اور اس کی خدمت سے فائدہ اٹھایا اب اللہ کو منظور ہوا تو وہ اپنی امانت واپس لے گیا۔ مجھے اس پر کوئی شکایت نہیں مال والا اپنا مال واپس لے جائے تو شکایت کیسی۔ میں صبر کروں گا تاکہ میرے صبر کا صلہ مجھے ملے۔ وہ لکھتا ہے کہ اللہ کی شان چند مہینوں کے بعد اس کے مرنے والے بیٹے کا ایک ہی بچہ تھا جو وہ پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ وہ بھی مرگیا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ اب یہ بوڑھا زندہ نہیں رہ سکتا یا تو اس کا دل فیل ہوجائے گا اور یا یہ خودکشی کرلے گا کیونکہ ہمارے یہاں کبھی کوئی شخص اتنے صدمے برداشت نہیں کرتا۔ میں اس کے پاس افسوس کرنے گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس پر مایوسی کا کوئی اثر نہیں تھا۔ وہ بڑے آرام سے بیٹھا وہی کتاب پڑھ رہا تھا جو ہمیشہ میں اسے پڑھتا دیکھتا تھا اور وہی باتیں کہہ رہا تھا جو اس سے پہلے کہتا تھا۔ میں نے اس سے حیرانی سے پوچھا کہ تمہیں یہ باتیں کس نے سکھائی ہیں اور تمہیں یہ حوصلہ کون دیتا ہے ؟ یہ تو حیران کن قوت ہے جو تمہارے اندر کام کررہی ہے۔ اس نے کہا : صاحب ! یہ باتیں مجھے میری اس کتاب نے سکھائی ہیں جس کا نام ” قرآن مجید “ ہے۔ یہ کتاب ہمارے پیغمبر پر نازل ہوئی تھی۔ اسی سے ہم عقیدہ لیتے ہیں اور یہی ہماری زندگی کی رہنما ہے۔ کہا : میں نے اس سے وہ کتاب لے لی اس کا ترجمہ منگوا کر پڑھاتو میری دنیا بدل گئی اور میں نے اسلام قبول کرلیا۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور موت کے بارے میں اسلام کا دیا ہوا یہ عقیدہ کہ وہ سراسر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اللہ کے حکم سے پہلے نہیں آسکتی، اس کا ایک وقت اور ایک جگہ مقرر ہے، نہ وہ وقت سے پہلے آسکتی ہے اور نہ اس کی جگہ بدل سکتی ہے، مسلمانوں کی قوت کا اصل سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ احد جیسے حالات میں مبتلا فرماکران تمام خیالات باطلہ اور فاسد عقائد کی اصلاح فرمادی جو انسانی زندگی اور مسلمان کے ایمان کے فساد کا باعث بن سکتے ہیں تاکہ آئندہ کبھی مسلمان اس طرح کی کمزوری میں مبتلا نہ ہو۔
Ayah 3:155اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْـکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ لا اِنَّمَا اسْتَزَلَّـھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَاکَسَبُوْا ج وَلَقَدْ عَفَااللّٰہُ عَنْھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ ع
(بےشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تھے تم میں سے دو گروہوں کی مڈھ بھیڑ کے دن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کو شیطان نے ان کے کسی عمل کے سبب سے پھسلا دیا تھا، اللہ نے ان سے درگزر فرمایا، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) (155)
جن لوگوں نے جنگ احد میں میدانِ جنگ سے بھاگ کر کمزوری دکھائی۔ پچھلی آیت کریمہ میں بھی اللہ نے انھیں بخشنے کا اعلان فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں پہلی بات تو یہ فرمائی گئی کہ جو لوگ میدانِ جنگ سے پشت پھیر گئے اور حالات کی سنگینی نے انھیں وقتی طور پر وہاں سے ہٹ جانے پر مجبور کردیا انھیں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ ان سے یہ عمل شیطان کی وسوسہ اندازی سے وجود میں آیا تھا کیونکہ جیسی کچھ صورتحال پیدا ہوئی اس کی سنگینی میں شیطان کے وساوس کا بہت دخل تھا۔ لیکن ان مسلمانوں کو صرف اس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں چونکہ شیطان نے پھسلایا اور ہم پھسل گئے۔ اس میں اگرچہ قصور ہمار ابھی ہے لیکن زیادہ تر شیطان کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کو کبھی بھی کسی مسلمان کو بہکانے کا موقعہ نہیں ملتا تاوقتیکہ مسلمان خود اس کے لیے اپنے دل کا پٹ کھلا نہ رہنے دے۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ نیکی مزید نیکی کے اسباب پیدا کرتی ہے اور برائی برائی کو جنم دیتی ہے۔ جو آدمی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اس کے بعد نیکی کرنا یا اللہ سے معافی مانگنا بھول جاتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے شیطان کی دراندازی کے لیے دل کا ایک پٹ کھلا چھوڑ دیا ہے۔ چناچہ شیطان ہمیشہ اس کھلے دروازے سے آنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ کبھی اس میں تساہل نہیں کرتا۔ میدانِ جنگ سے ہٹنے والے صحابہ سے یقینا اس سے پہلے کوئی ایسی غلطیاں ہوئی ہیں جس سے شیطان کو انھیں بہکانے کا موقعہ ملا ہے۔ آئندہ اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ کبھی غفلت میں بھی غلطی ہوجائے تو اس کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک بات کا اعلان بھی فرمایا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے یہاں صحابہ کا مقام و مرتبہ کتنا بلند ہے۔ ایک طرف تو یہ کہا جارہا ہے کہ جو لوگ میدانِ جنگ سے بھاگے انھوں نے بہت بڑا قصور کیا اور مزید یہ کہ ان سے یہ غلطی شیطان کے پھسلانے سے ہوئی اور شیطان کا پھسلانا اس لیے ممکن ہوسکا کہ صحابہ اس سے پہلے بعض ایسی غلطیوں کا ارتکاب کرچکے تھے۔ اب اس کے بعد بظاہر تو اس بات کا انتظار شروع ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنبیہ آئے گی لیکن اس کے برخلاف اس کے بعد ہم ایک دل آویز اور جانفزا کلمہ پڑھتے ہیں :
وَلَقَدْ عَفَااللّٰہُ عَنْھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ
(بےشک اللہ نے انھیں معاف کردیا ہے، یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور نہایت حلم والا ہے )
اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ آنے والی دنیا سابقہ آیات کریمہ کو دیکھ کر اور جنگ احد کے واقعات کو پڑھ کر صحابہ کے بارے میں کسی بدگمانی کی شکار نہ ہو اور نہ کسی دریدہ دہنی کا ارتکاب کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے بعض صحابہ کرام پر غزوہ احد کے اسی واقعے کا ذکر کرکے طعن کیا تو اس پر حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) نے فرمایا : جس چیز کی معافی کا اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا، اس پر طعن کرنے کا کسی کو کیا حق ہے۔ عقائد نسفیہ میں ہے :
ویکف عن ذکرالصحابۃ الابخیر
(واجب ہے کہ صحابہ کا ذکر بغیر خیر کے اور بھلائی کے نہ کرے )
ایک دفعہ حضرت عثمان اور عبدالرحمن ابن عوف ( رض) میں کسی بات پر تیز کلامی ہوگئی تو حضرت عبدالرحمن ( رض) نے حضرت عثمان ( رض) سے کہا کہ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ مجھے برابھلا کہو کیونکہ میں بدر میں شریک تھا اور تم غیر حاضر تھے۔ میں نے بیعت رضوان کی اور آپ نے نہیں کی اور میں احد میں ثابت قدم رہا اور آپ نہ رہے، تو حضرت عثمان ( رض) نے کہا کہ غزوہ بدر میں میری غیر حاضری کی وجہ تم جانتے ہو حضور ﷺ کی صاحبزادی اور میری زوجہ محترمہ کی خطرناک علالت تھی اور میں ان کی تیمارداری اور ان کی خدمت میں رہا اور حضور نے مجھے مجاہدینِ بدر جیسے اجر کی خوشخبری بھی دی اور مال غنیمت میں سے مجھے ان کے برابر حصہ بھی دیا۔ بیعتِ رضوان کے وقت میں آنحضرت ﷺ کا سفیر بن کرکفارِ مکہ کے پاس گیا ہوا تھا اور جب تم لوگ بیعت کرچکے تو حضور نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ فرمایا : ھذہٖ لعثمان ” یہ ہاتھ عثمان کی طرف سے ہے “۔
فیمین رسول اللہ ﷺ وشمالہ خیرلی من یمینی وشمالی۔
(میرے دائیں اور بائیں ہاتھ سے سرور عالم کا دایاں اور بایاں ہاتھ میرے لیے ہزار درجہ بہتر ہے )
باقی رہا غزوہ احد کا حادثہ تو اس کے متعلق خود اللہ کریم نے فرمادیا : وَلَقَدْ عَفَااللّٰہُ عَنْھُمْ (اللہ تعالیٰ نے انھیں بخش دیا) ۔ یہ مسکت جواب سن کر حضرت عبدالرحمن کو خاموش ہونا پڑا۔