3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsروح القرآن

Ayah 3:20

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے اور میرے پیروئوں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردیا ہے پھر اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اگر وہ بھی اس طرح اسلام لے آئیں تو وہ راہ راست پا گئے اور اگر وہ اعراض کریں تو تمہارے اوپر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے معاملات دیکھ رہا ہے)

فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ط وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتَابَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ ط فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِاھْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰـغُ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ع (اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں نے اور میرے پیروئوں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردیا ہے پھر اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اگر وہ بھی اس طرح اسلام لے آئیں تو وہ راہ راست پا گئے اور اگر وہ اعراض کریں تو تمہارے اوپر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے معاملات دیکھ رہا ہے) (20) مخالفین کو دھمکی اور دعوت آنحضرت ﷺ نے جس اہتمام اور جانفشانی سے مشرکینِ مکہ کے سامنے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی اس کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان پر اتمامِ حجت ہوگیا اور ویسے بھی اتمام حجت سے پہلے پروردگار اپنے رسول کو کبھی ہجرت کا حکم نہیں دیتا اور مدینہ طیبہ کے باسیوں کا جہاں تک تعلق ہے ‘ ان میں اوس و خزرج کی اکثریت مسلمان ہوچکی تھی اور جو لوگ ابھی دائرہ ایمان سے باہر تھے وہ بھی اسلام کے بارے میں کسی جہالت یا غلط فہمی کا شکار نہیں تھے۔ ان تک بھی اسلام کی دعوت پوری تفصیل کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔ رہے اہل کتاب تو خود ان کی کتابیں آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی حقانیت کے تعارف کے لیے کافی تھیں۔ ان میں آنحضرت ﷺ کی صفات بیان کی گئی تھیں اور قرآن کریم کے بارے میں ایسی تفصیلات موجود تھیں ‘ جن سے قرآن کریم کو پہچاننا ان کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔ اس طرح سے ‘ اہل کتاب اور عرب دونوں پر اتمامِ حجت ہوچکا تھا۔ اب اگر وہ کسی بات پر بحث کرتے ہیں تو اس کا مقصد بحث برائے بحث یا بات کو الجھانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ بحث میں وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان سے صاف صاف کہئے کہ قرآن کے مخاطب ہم بھی ہیں اور تم بھی۔ دونوں سے کل کو اللہ کے ہاں جواب طلب کیا جائے گا۔ ہم تو قرآن کی دعوت کے سامنے سر جھکا چکے ہیں۔ میں بھی اپنا آپ اللہ کے سپرد کرچکا ہوں اور میری پیروی کرنے والے لوگ بھی دل و جان سے اپنے آپ کو اللہ کے دین کے سپرد کرچکے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں اسلام لانے یا اسلام کی دعوت کے سامنے سر جھکانے یا اس کے قبول کرنے کی بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ میں نے اور میرے پیروکاروں نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کردیا ہے۔ عربی زبان میں جس طرح ہم سر جھکا دینا بولتے ہیں وہ چہرہ سپرد کردینا بولتے ہیں اور دونوں کا مفہوم یکساں ہے۔ جس طرح ” سَر “ پوری ذات کا استعارہ ہے اسی طرح ” چہرے “ سے بھی پوری ذات مراد ہوتی ہے۔ مثلاً ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا : کُلُّ شَیْئٍ ہَالِکٌ اِلاَّ وَجْہَہٗ (ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اللہ کے چہرے کے) دیکھئے ! یہاں اللہ کے چہرے سے مراد اللہ کی ذات ہے۔ اسی طرح یہاں بھی چہرہ ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ہم تو اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کرچکے اور اسلام قبول کرچکے تم بتائو کہ تم بھی اسلام کے سامنے سر جھکاتے ہو یا نہیں۔ اہل کتاب بھی اس کا جواب دیں اور امی بھی۔ اُمی سے مراد عرب ہیں۔ اُمی کا لفظ ان کے لیے بطور تحقیر نہیں بلکہ بطور لقب کے استعمال ہوا ہے۔ اہل کتاب چونکہ رسمی تعلیم و کتابت سے تعلق رکھتے تھے اور عرب لکھنے پڑھنے سے بالکل نا آشنا ‘ شریعت کی ابتدائی باتوں سے بھی بےبہرہ اور اپنی بدویانہ سادگی پر قائم تھے۔ اس لیے اہل کتاب کے مقابلے میں انھیں امی کہا گیا اور یہ لفظ اس طرح ان کی پہچان بن گیا کہ وہ خود بھی اپنی پہچان پر فخر کرتے تھے۔ علم و معرفت کی بہت سی باتیں اور زندگی کے بہت سے ہنر ایسے ہیں جنھیں لکھے پڑھے بغیر بھی آدمی سیکھ سکتا ہے اور زندگی کے حقائق کا بیشتر تعلق کتابی زندگی سے نہیں ‘ انسانی تجربے سے ہے۔ ایسے تمام علوم اور زندگی کے حقائق عرب امی ہونے کے باوجود بہت اچھی طرح جانتے تھے اور معاملاتِ زندگی کے ادراک میں وہ کسی سے پیچھے نہ تھے اور اہل کتاب نے علم و معرفت سے تعلق رکھنے کے باوجود جس طرح اخلاق باختگی کا ثبوت دیا تھا اس سے امیوں میں علم ہی کی طرف سے ایک بدگمانی پیدا ہوگئی تھی۔ اس لیے وہ اپنی بدویانہ سادگی پر پوری طرح قائم تھے۔ ان کی اسی بداوت کی وجہ سے یہاں ان کو امی کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ مراد اس سے مشرکینِ عرب ہیں۔ حضور سے کہا گیا ہے کہ آپ اہل کتاب کے ساتھ ساتھ عربوں سے بھی پوچھئے کہ وہ بحث وجدال چھوڑ کر اسلام پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو انھوں نے راستہ پالیا۔ وہ ہدایت پا گئے۔ اب ان سے کوئی جھگڑا نہیں ‘ بلکہ وہ آپ کے ہمسفر ہوں گے۔ لیکن اگر وہ اس سے پشت پھیریں اور ماننے سے انکار کردیں تو پھر اے پیغمبر ! آپ کو ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے ذمہ صرف دعوت کا پہنچانا تھا ‘ سو آپ اپنا فرض بتمام و کمال ادا کرچکے۔ رہا ان لوگوں کا رویہ تو اس سے آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ اپنے تمام بندوں کے احوال سے واقف ہے۔ ہر شخص اور ہر شخص کا عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔ یہ لوگ جو کچھ کریں گے اللہ اس سے بیخبر نہیں۔ اس کے مطابق انھیں جزا یا سزا دے گا۔
Ayahs 3:21–22

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

(جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِحَقٍّ لا وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ لا فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَا لُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ز وَمَا لَہُمْ مِّنْ النّٰصِرِیْنَ ۔ (جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں جو لوگوں میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھے۔ ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے) (21 تا 22) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور یہود کی تاریخی حقیقت کا اظہار ان آیات میں بھی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور اہل کتاب جنھیں اپنے صاحب علم ہونے اور تقدس اور مشیخیت کا بڑا دعویٰ تھا کا پردہ چاک کیا گیا۔ آنحضرت ﷺ کو قرآن کریم میں متعدد مواقع پر تسلی دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر اپنے دل میں اللہ کے بندوں کے لیے انتہا درجہ کی ہمدردی اور غمگساری رکھتا ہے اور آنحضرت ﷺ تو اس معاملے میں مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ جس جانفشانی سے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے تھے۔ جب لوگوں کی بےرخی بلکہ مخالفت کو دیکھتے تھے تو آپ ﷺ کا دل خون ہو ہوجاتا تھا۔ آپ ﷺ جب تصور فرماتے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو جہنم کی آگ میں جلیں گے تو آپ ﷺ کی پریشانی میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا تھا۔ آپ ﷺ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کے ایمان لانے کے لیے دعائیں فرماتے اور رو رو کر اللہ سے ان کے لیے ہدایت مانگتے۔ اس لیے پروردگار نے بار بار آپ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ ﷺ کا کام ان لوگوں تک اللہ کا دین پہنچانا ہے۔ اسے قبول نہ کرنے کی ذمہ داری ان پر ہے آپ ﷺ پر نہیں۔ آپ ﷺ اس سے دل گرفتہ کیوں ہوتے ہیں۔ یہاں ایک دوسرے انداز میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اہل کتاب کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ کفر و ایمان اور ہدایت و ضلالت کے معاملے میں ان کی ایک تاریخ ہے اور یہ اب تک پوری طرح اس تاریخ کی گرفت میں ہیں۔ جن اسلاف کے یہ جانشین ہیں اور جن کے راستے پر یہ ابھی تک چل رہے ہیں ان کے کارناموں میں سے نمایاں ترین کارنامہ یہ رہا ہے کہ وہ نبیوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ اور پھر صرف اسی پر بس نہیں جو اللہ کے نیک بندے ان کی حمایت میں اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے انھیں سمجھانے کے لیے اٹھتے اور ان کی بد اعمالیوں پر انھیں ٹوکتے ‘ یہ انھیں بھی قتل کرتے رہے ہیں۔ تاریخ میں آتا ہے کہ بخت نصر کے پہلے حملے کے موقع پر جب وہ ہیکل سلیمانی کو گھوم پھر کر دیکھ رہا تھا اس کی نظر ایک تیر کے نشان پر پڑی۔ اس نے اپنے ساتھ یہود کے علماء سے پوچھا کہ یہ تیر کا نشان کس بات کا اشارہ کر رہا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہاں زکریا (علیہ السلام) کو سنگسار کیا گیا تھا۔ اس نے پوچھا کیوں ؟ یہود نے جواب دیا کیونکہ وہ ہماری بد اعمالیوں پر ہمیں ٹوکتے تھے۔ جب ان کی روک ٹوک ناقابل برداشت ہوگئی تو ہم نے انھیں قتل کر ڈالا تو جن لوگوں کا ماضی یہ ہو کہ وہ اللہ کے نبیوں اور ان کے راستے پر چلنے والے اہل علم کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے رہے ہوں ‘ ان کے اخلاف سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں گے۔ اس آیت میں بِغَیْرِحَقٍّ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ نبی معصوم ہوتے ہیں۔ وہ کبھی کسی ایسے حق میں ماخوذ نہیں ہوسکتے جس میں انھیں قتل کیا جاسکے۔ یہاں اس لفظ کا استعمال یہود کے جرم کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے ہے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب جو یہود کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ یہود خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ ہم نبیوں کو بغیر کسی جرم کے قتل کرتے رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مقدمے کی پوری روداد اب مرتب ہوچکی ہے ‘ اسے پڑھنے سے حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس حد تک سنگدل واقع ہوئے تھے کہ عدالت نے جب صاف صاف کہا کہ کل کو عید کا دن ہے ‘ ہمیں اس حوالے سے کچھ اختیارات حاصل ہیں۔ ہمارے پاس دو بڑے مجرم ہیں ایک برابا ڈاکو اور دوسرے مسیح۔ تم چاہو تو ہم ان میں سے ایک کو چھوڑ سکتے ہیں تو یہود کے مجمع نے چیختے ہوئے کہا برابا کو چھوڑ دو مسیح کو مت چھوڑنا۔ ایسے لوگوں کے جانشینوں سے اسلام قبول کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ یہ تو اس قابل ہیں کہ انھیں عذاب الیم کی بشارت سنائی جائے اور انھیں یہ بھی بتادیا جائے کہ یہ اپنی جن دینداریوں پر فخر کرتے رہے ہیں یا اسلام کی مخالفت کو یہ نیکی سمجھتے رہے ہیں یہ سب کچھ ضائع ہوچکا۔ نہ دنیا میں کام آئے گا نہ آخرت میں اور کوئی ان کو مدد کرنے والا نہیں ملے گا۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا وہی بلائے جارہے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ایک گروہ ان میں سے پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ یہ لوگ ہیں ہی روگردانی کرنے والے

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا وہی بلائے جا رہے ہیں اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ایک گروہ ان میں سے پیٹھ پھیر لیتا ہے، یہ لوگ ہیں ہی روگردانی کرنے والے) (23) یہود پر تنقید کا سبب یہود مدینہ کی آبادی میں غالب عنصر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے مال و دولت، اپنی کاروباری وسعت، اپنے علم اور اپنی مشیخیت کے باعث اوس و خزرج کے لوگوں پر ان کا بےپناہ اثر تھا۔ یہ قحطانی عرب اپنی تمام تر خودداریوں کے باوجود یہود سے مرعوب رہتے تھے۔ کسی بھی اہم فیصلے کے لیے وہ ہمیشہ ان کی طرف دیکھتے۔ آنحضرت ﷺ کی مدینہ طیبہ میں تشریف آوری کے بعد عام لوگوں کا خیال یہ تھا کہ یہود آگے بڑھ کر آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کا استقبال کریں گے۔ لیکن جب ان کی طرف سے شدید مخالفت بلکہ مخاصمت کا آغاز ہوگیا تو اوس و خزرج کے بہت سارے لوگ ان کے علمی رعب کی وجہ سے اسلام کے بارے میں شش و پنج کا شکار ہوگئے۔ وہ ایک طرف اسلام اور پیغمبر ﷺ کی حقانیت کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور دوسری طرف یہود کا رویہ انھیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا تھا۔ اس لیے قرآن پاک نے مختلف مواقع پر یہود کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ گذشتہ آیت کریمہ میں تاریخ کے آئینہ میں ان کی اصل شکل دکھائی گئی ہے اور پھر یہ سوال عام لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ جس قوم کی تاریخ یہ رہی ہو اس قوم سے کس طرح قبولیتِ ایمان کی امید کی جاسکتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک دوسرے پہلو سے ان کی دینی حیثیت کو واضح فرما کر اظہارِ تعجب کیا گیا ہے اور ان کے عملی اور فکری تضاد کو نمایاں کر کے لوگوں کے سامنے ان کی اصل حقیقت لائی گئی ہے۔ تعجب اس بات پر فرمایا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ وہ لوگ ہیں جنھیں کتاب الٰہی کا کچھ نہ کچھ حصہ اپنے پاس رکھنے کا شرف حاصل ہے۔ نَصِیْـبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ کا مفہوم یہاں ممکن ہے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہود و نصاریٰ کے پاس مستقل اور مکمل کتابیں تھیں۔ یہود کے پاس تورات تھی اور عیسائیوں کے پاس انجیل تو پھر اس ارشاد کا کیا مطلب لیا جائے کہ انھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ کتاب سے اگر تورات مراد لی جائے تو وہ تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور جس کی ایک ایک نقل ہر قبیلے کے حوالے کی گئی تھی اور بنی لاوی کو اصل نسخہ دے کر حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور شاید وہی نسخہ یا اس کی ایک نقل تابوتِ سکینہ میں رکھی گئی تھی۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ وہ اصل کتاب اور اس کی نقول یہود نے گم کردیں۔ بختِ نصر کے حملے کے بعد اس کا ایک ایک نسخہ جلا دیا گیا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور بعض بزرگانِ بنی اسرائیل نے مل کر جو تورات مرتب کی وہ اصل تورات نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی تاریخ اور اس کے ضمن میں تورات کے وہ حصے شامل ہیں جو اس وقت تک لوگوں کے یا حضرت عزیر کے حافظے میں محفوظ تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگلی نسلوں نے اس کے بعد مزید تحریف و ترمیم سے کام لیا تو آنحضرت ﷺ کے ہم عصر یہود کے پاس تورات نام کی جو کتاب موجود تھی وہ یقینا اصل تورات کا حصہ تو کہی جاسکتی ہے، لیکن اصل تورات نہیں۔ جہاں تک انجیل کا تعلق ہے وہ اگرچہ خود بھی محفوظ نہیں رہی، لیکن اس میں چونکہ احکامِ شریعت نازل ہی نہیں کیے گئے بلکہ نصاریٰ کو تورات ہی کی شریعت کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ اس لیے حقیقت یہی ہے کہ انجیل بھی تورات کے مقابلے میں اس کا ایک جزو تو کہی جاسکتی ہے، مکمل کتاب نہیں۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور باقی تمام کتابیں اگر محفوظ بھی سمجھ لی جائیں تو وہ اس کے مقابلے میں اجزا کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ اللہ کی طرف سے انسانوں کی راہنمائی کے لیے ہر دور میں کتابیں اور صحیفے نازل ہوتے رہے، لیکن ہر صحیفے اور ہر کتاب میں نازل کیے جانے والے احکامِ شریعت اپنے اپنے دور کے انسانی ذہن اور انسانی معاشرہ کی ضرورتوں کے مطابق تھے اور انسانی ذہن اور انسانی معاشرے نے چونکہ بتدریج ارتقاء کا سفر کیا ہے اور وہ دھیرے دھیرے اپنی بلوغ کی عمر کو پہنچا ہے، اس لیے ہر دور میں اترنے والے احکام باہمی تفاوت رکھتے تھے اور یہ تفاوت ان کے ذہنی معیار کا عکاس تھا۔ جیسے جیسے انسان بلوغ کی طرف بڑھتا گیا ویسے ویسے اللہ کی طرف سے آنے والی شریعت تکمیل کی طرف بڑھتی گئی۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے وقت انسانیت چونکہ بلوغ کو پہنچ چکی تھی تو اللہ نے وہ کتاب نازل فرمائی جس میں مکمل شریعت عطا کی گئی۔ اسی لیے قرآن کریم میں تکمیلِ دین اور اتمامِ نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پہلی تمام کتابیں چونکہ اپنے ادوار کی ضرورتوں کے مطابق تھیں، اس لیے ان میں عقائد، احکام اور آداب ان کی ذہنی سطح کے مطابق مختصر دیئے گئے تھے۔ لیکن ہر دور میں جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا ویسے ویسے ان میں بھی ارتقاء ہوتا گیا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ پرائمری سکول میں جو کچھ پڑھتا ہے وہ انہی مضامین اور اسی علم کا پیش خیمہ ہوتا ہے جنھیں وہ آگے چل کر کالج یا یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، ان میں اگر فرق ہوتا ہے تو صرف مختصر، نامکمل اور مکمل اور مطول کا ہوتا ہے۔ لیکن دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہوتا، علم کا ایک سفر ہے جس کا ایک حصہ ابتدائی سکولوں میں اور اس کا آخری حصہ بعد کے تعلیمی اداروں میں مکمل ہوتا ہے۔ یہی حال دین اور شریعت کا بھی ہے۔ اگر پہلی آسمانی کتابوں میں تحریف واقع نہ ہوئی ہوتی اور وہ بعینہ اسی طرح محفوظ ہوتیں جیسے وہ نازل کی گئی تھیں تو ہر پڑھنے والا دیکھ سکتا کہ ان کی تعلیم اور قرآن کریم کی تعلیم میں اجمال و تفصیل اور آغاز و تکمیل کے سوا کوئی فرق نہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو جو کتابیں دی گئی تھیں وہ اسی مشکوٰۃ علم و معرفت سے پھوٹی تھیں، جہاں سے قرآن کریم طلوع ہوا ہے۔ اس لیے جو شخص ان کتابوں کا جاننے والا ہے وہ سارے تغیرات کے باوجود کتاب الٰہی کا شناسا َضرور ہوجاتا ہے۔ اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ کی کتاب کس مزاج کی حامل ہوتی ہے اور ان کتابوں میں چونکہ انبیائے کرام کی تاریخ، ان کی شخصیت کے خد و خال اور ان کی دعوت کے مختلف مراحل کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے کتاب کے کسی حصے کا پڑھنے والا بھی کتاب پڑھنے کے بعد ایسے ذوق کا حامل ضرور ہوجاتا ہے جس سے سچے نبی کو پہچاننا آسان ہوجاتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس کتابیں ہیں جن کی وجہ سے وہ اس ذوق اور اس شناسائی کے حامل ہیں اور پھر ان کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں پیش گوئیاں بھی موجود ہیں اور انہی کے یہ آج تک منتظر بھی رہے ہیں۔ تو عجیب بات ہے کہ جب انہی پیش گوئیوں کے مصداق اور انہی صفات کے حامل اللہ کے آخری رسول اور آخری کتاب نازل ہوگئے تو ان کو ماننے سے انھوں نے انکار کردیا۔ ایک نہ جاننے والا کسی حقیقت کا انکار کر دے تو چنداں تعجب خیز نہیں ہوتا لیکن جب جاننے پہچاننے والا جانی پہچانی ہوئی حقیقت کا انکار کرتا ہے تو تعجب بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی پیدا ہونے لگتا ہے کہ اس میں یقینا بدنیتی اور بدطینتی کا دخل بھی ہے۔ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ کا مفہوم لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ… الخ اس کا فاعل کتاب اللّٰہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اللہ کی آخری کتاب یعنی قرآن کریم پر عمل کرنے کی دعوت دی جارہی ہے تاکہ وہ اس کتاب اللہ کی مدد سے ان متنازعہ مسائل کا حل نکال سکیں جس میں وہ بری طرح مبتلا ہوچکے ہیں۔ یہود نے اپنی کتاب میں ترمیم و تحریف کرنے کی وجہ سے خود اپنے لیے ایسی الجھنیں پیدا کیں کہ نہ ان کے عقائد سلامت رہے اور نہ احکام کی اصل صورت باقی رہی اور نصاریٰ نے اپنی کتاب میں تحریف کی وجہ سے اپنے عقائد کو اس طرح بگاڑا کہ چودہ سو سال سے وہ ایک ایسے تضاد کا شکار ہیں جس کا کوئی حل ان کے پاس نہیں۔ انجیل سے اللہ کی توحید ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ان کا اختیار کردہ تثلیث کا عقیدہ کسی طرح توحید سے میل نہیں کھاتا۔ صدیوں سے وہ اس کی عقدہ کشائی میں لگے ہوئے ہیں کہ اللہ ایک بھی ہے اور تین بھی ہیں۔ ایک میں تین اور تین میں ایک۔ ایسا سوال ہے جس کا حل قیامت تک نہیں نکل سکتا۔ باوجود اس کے کہ ان کی انجیل انھیں تورات میں بیان کردہ شریعت کی پیروی کا حکم دیتی ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے احکام اس پر شاہد ہیں، لیکن پالؔ نے عیسائیت کو ایک ایسے ڈگر پر چلایا جس کی وجہ سے وہ شریعت سے آزاد ہوگئے۔ ان باتوں کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انکے اہل علم آگے بڑھ کر اللہ کے آخری رسول ﷺ اور قرآن کریم کا استقبال کرتے تاکہ جن الجھنوں نے ان کی زندگی ویران کر کے رکھ دی ہے اس سے وہ نجات حاصل کرسکتے۔ لیکن وہ بجائے استقبال کرنے کے مخالفت اور معاندت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ آیت کے آخری حصہ میں پروردگار نے خود اس تعجب سے پردہ اٹھایا اور اس حقیقت کو افشا کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے پاس کتاب کا ایک حصہ رکھتے ہوئے بھی اس لیے ایمان نہ لاسکے وَہُمْ مُعْرِضُوْنَ (کہ وہ ہیں ہی اعراض کرنے والے) صدیوں کی تاریخ ان کے اعراض کی داستانوں سے بھری پڑی ہے اور یہ اعراض ان کا مزاج بن چکا ہے۔ تو جو چیز ان کا مزاج بن چکی ہے، وہ آج اس روش سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ اس میں ایک طرف تو اہل کتاب کو ملامت کی جا رہی ہے اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ایسے لوگ جن کی فطرت بگڑ چکی اور قومی مزاج زہر آلود ہوچکا ہے آپ ان سے قبولیتِ حق کی امید کیسے رکھتے ہیں ؎ تم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے یہی ان کا قومی مزاج ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک ہر پیغمبر نے ماتم کیا ہے اور قرآن کریم کی شہادت موجود ہے کہ بڑے بڑے نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت کرائی گئی ہے۔
Ayah 3:24

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی دوزخ کی آگ مگر چند گنے ہوئے دن۔ اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کے دین کے بارے میں، ان باتوں نے جو وہ گھڑا کرتے تھے

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ص وَغَرَّہُمْ فِیْ دِیْنِہِمْ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (یہ اس سبب سے ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی دوزخ کی آگ مگر چند گنے ہوئے دن۔ اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کے دین کے بارے میں، ان باتوں نے جو وہ گھڑا کرتے تھے) (24) اہلِ کتاب کے ایمان نہ لانے کا سبب پیشِ نظر آیت کریمہ میں اہل کتاب کے اعراض اور ایمان نہ لانے کا سبب بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزر چکا۔ وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَاالنَّارُ اِلَّآ اَیَّاماً مَّعْدُوْدَۃً ط قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَاللّٰہِ عَھْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَھْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِٓیْئَـتُـہٗ فَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔ ان سے پوچھو کہ کیا تم نے اللہ سے عہدلے لیا ہے تو اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گایا تم اللہ پر ایک تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمہارے پاس کوئی علم نہیں۔ اصل معاملہ تو یوں ہے کہ جس نے گناہ کی کمائی کی اور اس کے اس گناہ نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتو یہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) (البقرۃ : 80، 81) انسان کو گمراہی یا سرکشی سے روکنے والی صرف ایک چیز ہے کہ اسے اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا۔ تمہیں اس غلط روی کے بدلے میں ایسے کٹھن حالات سے واسطہ پڑے گا جس کا تم کبھی سامنا نہیں کرسکتے۔ یہ ڈر اور خوف انسان کو غلط راستے پر چلنے سے روکتا ہے۔ لیکن اگر اسے یہ تسلی دے دی جائے کہ تم جو چاہو کرو تمہارا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں کیونکہ تم ایک ایسے حسب و نسب سے تعلق رکھتے ہو جس کی موجودگی میں کوئی طاقت تمہیں سزا دینے کی جرأت نہیں کرسکتی۔ جنت کی نعمتیں صرف تمہارے لیے پیدا کی گئی ہیں، جہنم دوسروں کے لیے تو ہوسکتا ہے لیکن تم سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں زیادہ سے زیادہ یہ ممکن ہے کہ تمہارے آبائو اجداد نے چالیس دنوں تک جو بچھڑے کی پوجا کی تھی اس کے بدلے میں محض فارمیلٹی پوری کرنے کے لیے تمہیں چالیس روز تک جہنم میں رہنا پڑے گا، اس کے بعد تمہاری ابدی زندگی جنت میں گزرے گی۔ یہ وہ آرزوئیں اور امیدیں ہیں جس نے بنی اسرائیل کے سیرت و کردار کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ اعمال کی ذمہ داریوں سے یکسر فارغ ہوگئے۔ وہ اخروی نعمتوں کو اپنا استحقاق سمجھنے لگے اور دنیا میں بھی باقی قوموں پر برتری اور تفوق کے احساس نے انھیں ہر طرح کے مکارمِ اخلاق سے بےنیاز کردیا۔ ان تصورات کی چونکہ کوئی حقیقت نہیں۔ یہ بنی اسرائیل کے خانہ ساز ہیں اور انھوں نے اپنے طور سے اللہ کی کتاب میں ترمیم و تحریف کرتے ہوئے ایسی باتوں کو کتاب میں شامل کردیا۔ چناچہ انہی افتراء ات اور گھڑی ہوئی باتوں نے انھیں ان کے دین کے بارے میں فریب میں مبتلا کردیا۔ یہ ایک ایسا میٹھا فریب ہے جس سے وہ نکلنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہیں۔ قرآن کی دعوت چونکہ ایمان و عمل کی دعوت ہے وہ کسی حسب و نسب پر اخروی کامیابیوں کا مدار نہیں رکھتا۔ وہ صاف صاف یہ کہتا ہے کہ دنیا میں بھی سر افرازیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کردیں اور آخرت کی نعمتوں کے بھی وہ لوگ سزا وار ہوں گے جو ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر وہاں پہنچیں گے اور حساب و کتاب میں جن کی نیکیوں کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ رحمت خداوندی کو اپنے ایمان و عمل کے باعث اپنی طرف متوجہ کرلیں گے۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جو قوم محض امیدوں اور سہاروں کے بل بوتوں پر آخرت کی کامیابیوں کا یقین رکھتی ہو اس کے لیے عمل کی دعوت ایک گالی سے کم نہیں۔ وہ اسے اپنے لیے ایک سزا سمجھتی ہے۔ چناچہ اسی لیے اس قوم نے من حیث القوم قرآن کریم کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ امتِ مسلمہ کا حال امتِ اسلامیہ جو اس دھرتی پر آخری امت ہے اور جسے اللہ نے حامل دعوت امت بنا کر اس کے سر پر عظیم ذمہ داری ڈالی ہے۔ خود اس کا حال بھی آج بنی اسرائیل سے مختلف نہیں۔ اس امت کی ایک قابل ذکر تعداد ایسی ہی آرزوئوں کے سہارے جی رہی ہے۔ نہ ایمان کی فکر ہے نہ عمل کا شوق۔ زندگی کے ہر شعبے میں گمراہیوں کا بسیرا ہے۔ نہ عبادات درست ہیں، نہ معاملات۔ لیکن کچھ لوگوں نے انھیں اس فریب میں مبتلا کر رکھا ہے کہ تمہارے لیے سرکارِ دوعالم ﷺ کی امت میں ہونے کا شرف نجات کے لیے کافی ہے۔ تم کچھ کرو یا نہ کرو آنحضرت ﷺ کی شفاعت تمہیں جنت میں پہنچا دے گی اور اگر کسی شخص کو آل رسول میں سے ہونے کی عزت حاصل ہے تو وہ نہ صرف اپنے آپ کو شریعت کی ذمہ داریوں سے فارغ سمجھتا ہے بلکہ اپنے دامن گرفتہ لوگوں کی نجات کی بھی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور وہ لوگوں کو تسلی دیتا ہے کہ ہم سید زادے اگر تمہاری نجات کا سامان نہ کرسکے تو پھر ہمارا کیا فائدہ ؟ تم ہماری خدمت جاری رکھو ہم تمہاری نجات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح کے تصورات نے بنی اسرائیل کو تباہ کیا اور ایسے ہی تصورات کے ہاتھوں یہ امت تباہ ہو رہی ہے اور قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس بات کو صراحت سے بیان فرمایا کہ نجات کے لیے ایمان و عمل کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے اللہ کا فضل شامل حال ہوگا اور اسی کے باعث آنحضرت ﷺ کی شفاعت بھی میسر آئے گی۔ آنحضرت ﷺ کی سفارش ایک مومن کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے اور اللہ کا فضل ایک بہت بڑا سہارا ہے۔ لیکن یہ دونوں باتیں اس شخص کو نصیب ہوں گی جس نے زندگی بھر ایمان و عمل کے حصول میں محنت کی، لیکن طبعی کمزوریوں کے باعث کمال ایمان اور مقام احسان حاصل نہ کرسکا۔ بعض دفعہ خواہشات کا اسیر ہو کر عملی کمزوریوں کا شکار ہوگیا۔ لیکن دانستہ کبھی سرکشی یا لاپرواہی کا رویہ اختیار نہ کیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ ان پر رحمت کی نظر فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت ان کے نصیب میں ہو۔
Ayah 3:25

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم انھیں ایک ایسے دن کے لیے جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰـہُمْ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ قف وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَایُظْلَمُوْنَ ۔ (سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم انھیں ایک ایسے دن کے لیے جمع کریں گے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر شخص کو جو اس نے کمایا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا) (25) جن لوگوں نے آخرت میں نجات کے لیے چند جھوٹے سہارے تراش رکھے ہیں اور امیدوں اور آرزوئوں میں بہل کر اس فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ہمیں آخرت میں کوئی پکڑنے والا نہیں، اللہ نے جنت ہمارے لیے ہی پیدا کی ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اس روز ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انھیں قیامت کے دن قبروں سے اٹھائیں گے اور پھر یہ کشاں کشاں محشر میں پہنچیں گے۔ وہاں انھیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک عمل کا ان سے حساب لیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ ہم نے تمہیں ایک ضابطہ حیات دیا تھا، تمہیں زندگی گزارنے کے لیے راہنمائی بخشی تھی۔ تمہاری طرف آخری نبی اور آخری کتاب بھیجی گئی تھی۔ ہر دور میں تمہیں شریعت کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا گیا تھا، آج بتائو تم نے زندگی کیسے گزاری ؟ تم نے جوانی کس طرح کے معمولات میں کھپائی ؟ تم نے مال کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ زندگی کی راہنمائی کے لیے جس علم کی ضرورت تھی وہ تم نے حاصل کیا یا نہیں ؟ اور اگر کیا تو اس کا کیا حق ادا کیا ؟ جب تک ان باتوں کا جواب نہیں دیا جائے گا زمین سے قدم الگ نہیں ہو سکیں گے۔ اس وقت یہ لوگ حیران و پریشان چاروں طرف دیکھیں گے کہ جن سہاروں پر ہم نے زندگی برباد کی وہ تو آج کہیں دکھائی نہیں دیتے اور جو سوالات ہم سے کیے جا رہے ہیں ہمارے پاس تو ان کا کوئی جواب نہیں۔ تو آج اگر اس کا جواب سوچ لیا جائے تو ممکن ہے کہ کل کی شرمندگی اور ہولناکی سے بچا جاسکے۔ لیکن اگر آج ان کا جواب مہیا نہیں کیا جائے گا تو وہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ کس کا بیٹا ہے یا کس کا باپ ہے بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال پوچھے جائیں گے اور جس شخص نے جیسے اعمال کیے ہوں گے ویسا اسے اس کا صلہ اور معاوضہ ملے گا۔ نہ جزا میں کمی ہوگی نہ سزا میں کمی بیشی ہوگی۔ کسی سے اس لیے زیادتی نہیں کی جائے گی کہ وہ ایک شودر کا بیٹا ہے اور کسی سے اس لیے رعایت نہیں کی جائے گی کہ وہ ایک سید زادہ ہے۔ ہر ایک کو اس کے ایمان و عمل کا صلہ ملے گا۔ یہ آرزوئیں اور امیدیں کام نہیں آئیں گی، ایمان و عمل کی سفارش اصل سفارش ہوگی جس سے ہر شخص کی نجات وابستہ ہوگی۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اے پیغمبردعا کیجیے ! اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو ہی جس کو چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے بادشاہی چھینے۔ تو جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلت دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ساری بھلائی ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْـکِ تُؤْتِی الْمُلْـکَ مَنْ تَشَآئُ وَتُنْزِعُ الْمُلْـکَ مِمَّنْ تَشَآئُ ز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّـکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ ۔ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ز وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ز وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ ۔ (اے پیغمبر ! دعا کیجیے، اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو ہی جس کو چاہے بادشاہی دے، جس سے چاہے بادشاہی چھینے۔ تو جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلت دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ساری بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) (26 تا 27) شانِ نزول بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ دونوں آیات کریمہ جنگ خندق کے موقع پر نازل ہوئیں۔ سیاق کلام یہود سے متعلق ہے اور یہود ہی کو سنا کر چند باتیں ارشاد فرمائی جا رہی ہیں۔ لیکن جنگ خندق کے موقع پر ان آیات کے نزول نے وقت کی تمام سرکش قوتوں کی طرف اشارے کیے ہیں جس میں یہود بھی ہیں، مشرکینِ عرب بھی اور بعض علاقوں کے سردار بھی اور مزید یہ کہ چوں کہ جنگ خندق کے انعقاد کا اصل سبب یہود ہی کی سازشیں تھیں، اس لیے اسی سیاق کلام میں ان آیات کو لایا گیا ہے۔ بنو نضیر کو جب سے مدینہ منورہ سے نکالا گیا تھا، انھوں نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے اس کا انتقام لیں گے۔ چناچہ انہی کی کوششوں کا یہ نتیجہ تھا کہ پورے عرب میں اسلام دشمنی کی ایک لہر اٹھی اور ایک بڑے لشکر کی صورت میں مدینہ پر چھا گئی۔ روایات مختلف ہیں، اس لشکر کی تعداد دس سے چوبیس ہزار تک روایت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے پاس زیادہ سے زیادہ تین ہزار کی تعداد تھی۔ انھیں اپنے بچوں اور خاندانوں کو بھی سنبھالنا تھا، بنوقریظہ کی درپردہ دشمنی کا بھی سدباب کرنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اتنی بڑی منہ زور قوت کا مقابلہ بھی کرنا تھا۔ مدینہ کے اقتصادی حالات کسی جنگ کے متحمل نہیں تھے۔ لیکن یہود کی سازشوں نے ایک طوفانِ عظیم کھڑا کردیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت سلمانِ فارسی ( رض) کے مشورہ سے خندق کھودنے کا آغاز فرمایا تاکہ خندق کے پیچھے بیٹھ کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ چناچہ جب یہ خندق کھودی جا رہی تھی تو ایک چٹان رستے میں حائل ہوگئی جو کسی طرح ٹوٹنے کا نام نہ لیتی تھی۔ مسلمانوں نے ہرچند کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی گئی، آپ ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ مسلسل فاقہ کی وجہ سے کمر سیدھی نہیں ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے اسے سیدھا رکھنے کے لیے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔ آپ ﷺ نے کمزوری کے باوجود پھاوڑا اٹھا کر چٹان پر ضرب لگائی، اس میں دراڑیں پڑیں اور ساتھ شعلے پھوٹے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں مبارک ہو مجھے اس میں قیصر کے محلات دکھائے گئے ہیں۔ دوسری ضرب لگائی تو پھر اس سے روشنی نکلی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں مبارک ہو میں نے اس میں کسریٰ کے محلات دیکھے ہیں۔ تیسری چوٹ نے چٹان کو ریزہ ریزہ کر ڈالا اور اس سے شعلے بھی نکلے آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ تمہیں مبارک ہو میں نے اس میں یمن کے محلات دیکھے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ آج جب کہ تمہیں زندگی کے لالے پڑے ہیں اور بظاہرحالات بقا کی جنگ درپیش ہے، لیکن مجھے دکھایا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ تینوں بڑی قوتیں مفتوح ہو کر مسلمانوں کے قدموں میں پڑی ہوں گی۔ جب یہ باتیں یہود اور منافقین کے کانوں تک پہنچیں تو انھیں مذاق اڑانے کا ایک نیا موقع ہاتھ آگیا۔ انھوں نے اپنی مجلسوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ ذرا ان مسلمانوں کو دیکھو نہ انھیں کھانے کو ملتا ہے نہ پہننے کو اور خواب یہ محلات کے دیکھتے ہیں۔ ان کے دماغوں میں بادشاہت کا سودا پیدا ہوگیا ہے۔ یہ تمسخر اور استہزاء اگرچہ مسلمانوں کے لیے کوئی نئی بات نہ تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے آغاز دعوت ہی سے تمام لوگوں پر یہ بات واضح کردی تھی اور ہر آنے والے دن میں آپ نے اس بات کو ہمیشہ نئے نئے عنوانات کے ساتھ دہرایا کہ میں جس دین کو لے کے آیا ہوں اس کو قبول کرنے کے نتیجے میں صرف عاقبت اور آخرت ہی اچھی نہیں ہوگی بلکہ دنیا بھی سنور جائے گی۔ جو گروہ اس دین کا علم لے کر اٹھے گا اسے اللہ تعالیٰ دنیوی اور اخروی نعمتوں سے نوازیں گے اور وقت کی بڑی بڑی قوتیں اس کے مقابلے میں مفتوح ہوجائیں گی۔ آپ ﷺ نے مکہ معظمہ میں بھی اس وفد کے سامنے یہ بات فرمائی جو ابو طالب کے مرض الوفات میں آنحضرت ﷺ سے گفتگو کرنے کے لیے آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں جو کلمہ لے کے آیا ہوں اگر تم اسے قبول کرلو اور اسے زندگی کا راہنما بنا لو تو تَمْلِکُوْنَ بِہَا الْعَرَبُ وَتُدِیْنُ لَـکمْ بِہَا الْعَجَمُ (تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم تمہارے قدموں میں جھک جائے گا اور تمہارا مطیع ہوجائے گا) ایسی ہی باتوں پر مشرکین مکہ بھی مذاق اڑاتے تھے، انھیں بھی اپنی قیادت سعادت اور امارت پر ناز تھا اور یہود بھی اسی فریب میں مبتلا تھے۔ قرآن کریم نے ان آیات میں مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھا کیونکہ ان کے تمسخر اور استہزاء سے مسلمانوں کے دل ہمیشہ زخمی ہوتے تھے اور ان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا ہے جس میں وہ آنے والے حالات کی صورت دیکھ سکتے ہیں اور یہود کو بطور خاص بالواسطہ توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تمہیں جس عظیم منصب پر فائز کیا گیا تھا، تم نے اس کی قدر نہ پہچانی، صدیوں تک تمہیں سنبھلنے کا موقع دیا گیا، اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں معزول کردیا جائے اور تمہاری جگہ قوموں کی دعوت و امامت کا منصب ان لوگوں کو سونپ دیا جائے، جو اپنے مضبوط ایمان اور صالح کردار کے باعث اس کے اہل ہیں۔ تم ہزار آل اسماعیل سے بغض رکھو اور اس فریب میں مبتلا رہو، لیکن تم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ اس کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ یہاں کے تغیرات اسی کے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔ چونکہ وہ مالک ہے اس لیے بجا طور پر اس کا حق ہے کہ وہ جسے چاہے ملک دے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت کے دلدل میں اتار دے۔ تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ تمہیں صدیوں تک حامل دعوت امت ہونے کی عزت بخشی گئی۔ تم بجائے اس کے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے، تم نے اسے بھی اپنا ذاتی استحقاق سمجھا اور جہاں تک دوسری قوموں کا تعلق ہے انھوں نے حکومت و اختیار کو تقدس یا الوہیت کی علامت سمجھا۔ اس لیے جہاں اقتدار دیکھا اس کے سامنے جھک گئے اور مقتدر قوتوں نے بھی اپنے آپ کو دوسروں سے برتر جانا بلکہ بادشاہی کو الوہیت یا نیم الوہیت کا درجہ دے دیا اور بادشاہوں کو خدا کا اوتار بنادیا۔ مصر میں فرعون کی پرستش ہوتی رہی، ہندوستان میں چندر بنسی اور سورج بنسی، راجا مہاراجا خدائی اوتار سمجھے گئے، جاپان میں میکاڈوآج تک مظہر خدا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں زور دے کر فرمایا گیا کہ مالک صرف اللہ کی ذات ہے، دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں سب اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب بادشاہوں سے اقتدار لینے پہ آتا ہے تو مسولینی اور ہٹلر جیسے آمر بھی عبرت بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے نہ تو مشرکین عرب کے پاس قبائل کی سرداریاں رہیں گی اور نہ یہود کے پاس امارتیں اور مشیخیت کی مسندیں رہیں گی۔ عزت و ذلت کے پیمانے بدلنے والے ہیں۔ یہود سے امامت چھین کر مسلمانوں کو دی جا رہی ہے۔ لیکن اسے کھل کے کہنے کی بجائے دعا کا پیرایہ اختیار کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک وجہ یہ تھی کہ ابھی حالات اتنے واضح نہیں ہوئے تھے کہ مسلمانوں کی کامیابی اور کافروں کی ہزیمت کھل کے سامنے آجاتی۔ مستقبل ابھی تک پردے میں تھا۔ اس لیے کھل کر بات کہنے کی بجائے یہی اسلوب زیادہ موزوں تھا اور دوسری یہ بات کہ خود مسلمانوں کو حالات کی نزاکت کا احساس دلانا تھا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ایک بہت بڑی ذمہ داری ان کے سپرد کر رہا ہے۔ وہ اسے ان احساسات کے ساتھ قبول کریں جو احساسات دعا میں کارفرما ہوتے ہیں۔ اتنے بڑے اعزاز سے فخر و غرور پیدا ہونے کی بجائے تواضع، تذلل اور احساسِ عبدیت کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں۔ وہ ہمیشہ اس بات کو سامنے رکھیں کہ پوری کائنات کا مالک تو پروردگار ہے۔ وہی عزت دیتا ہے وہی ذلت دیتا ہے، ہمیں ہرحال میں اسی کی بندگی اور اطاعت کرنا ہے اور اسی کے سہارے اعلائے کلمتہ الحق کا فرض انجام دینا ہے۔ بِیَدِکَ الْخَیْرُ کا مفہوم بِیَدِکَ الْخَیْرُ آیت کریمہ میں پہلو بہ پہلو دو باتوں کا ذکر ہے کہ اللہ وہ ہے جو جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے۔ دو متضاد باتیں ایک ساتھ بیان فرمائی گئی ہیں، جن میں ایک خیر ہے اور دوسری شر۔ ایک اچھائی ہے اور ایک برائی۔ اس لحاظ سے ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان باتوں کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا جاتا بِیَدِکَ الْخَیْرِ وَالشَّرِّ (تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے اور تیرے ہی ہاتھ میں برائی ہے) تو جس طرح خیر کا مالک ہے اسی طرح شر کا بھی مالک ہے۔ نہ خیر کسی کو تیری اجازت کے بغیر پہنچ سکتا ہے اور نہ شر تیری اجازت کے بغیر کسی کو لاحق ہوسکتا ہے۔ لیکن شر کا لفظ حذف کردیا گیا اور صرف خیر کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا۔ جب کہ مقتضائے حال کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں کو ذکر کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی کو تاہی فکر کے باعث دو باتوں کے سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایک یہ بات کہ وہ پوری انسانی دنیا کو جسد واحد سمجھنے کے بجائے ایک ایک فرد کو سامنے رکھ کر قیاس کرتا اور حکم لگاتا ہے۔ وہ اپنے فائدے کو فائدہ سمجھتا ہے اور اپنی تکلیف کو تکلیف گردانتا ہے۔ لیکن اس کی فکری کوتاہی کبھی اسے یہ سوچنے پر آمادہ نہیں کرتی کہ تم تو صرف اپنے بارے میں سوچتے ہو لیکن کائنات کا خالق پوری کائنات اور پھر پوری انسانی دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ وہ جہاں ایک ایک فرد کی مصلحت کو دیکھتا ہے وہیں پورے جسدِ انسانیت کی مصلحت بھی اس کے سامنے ہوتی ہے۔ اگر فرد کی تکلیف میں جسد انسانیت کی راحت ہے تو وہ فرد کی تکلیف کا فیصلہ کرتا ہے اور اگر فرد کی بھلائی میں جسدِ انسانیت کے لیے خیر ہے تو وہ خیر کا فیصلہ فرماتا ہے کیونکہ اس کے پیش نظر انسانیت کا اجتماعی فائدہ اور اجتماعی مصلحت ہے۔ ایک فرد کی مصلحت صرف اس کے لیے ہے، لیکن اجتماعی مصلحت میں تمام افراد شریک ہوتے ہیں اور ہر فرد اپنی قسمت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ دوسری بات جس کا ادراک عموماً ہر فرد نہیں کرتا وہ یہ ہے کہ خیر اور شر درحقیقت اضافی باتیں ہیں۔ اسی طرح فائدہ اور نقصان وہ بھی نسبت کے اختلاف کے ساتھ مختلف ہوجاتا ہے۔ ایک آدمی کو پہنچنے والی بظاہر تکلیف ضروری نہیں کہ دوسروں کے لیے بھی تکلیف ثابت ہو۔ متنبی کا مشہور مصرعہ ہے : مَصَائِبُ قَوْمٍ عِنْدَ قَوْمٍ فَوَائِدٗ (ایک قوم کے مصائب دوسری قوم کے فوائد ہوتے ہیں) ایک قاتل جب قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکتا ہے تو یقینا اس کے اہل خانہ کے لیے یہ ایک بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ بچے اس کے یتیم رہ جاتے ہیں، بیوی بیوہ ہوجاتی ہے، گھر کا پورا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کی پھانسی بہت سے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہے۔ لیکن جس گھر کا اس نے فانوس بجھایا، جن بچوں کے سر سے اس نے سایہ چھینا، جس عورت کا اس نے سہاگ لوٹا، ان سے پوچھ کر دیکھئے کہ کیا اس کی پھانسی کسی تکلیف کا باعث ہے یا راحت کا ؟ متذکرہ بالا دونوں حقیقتوں کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ خیر کی اور شر کی تقسیم ہماری کوتاہی فکر کا نتیجہ ہے ورنہ ہر چیز خیر ہے اور انسانوں کے غلط استعمال سے وہ شر ہوجاتی ہے۔ اس لیے اس دعا میں ہمیں یہ سکھایا گیا کہ ہم یہ دعا کریں کہ یا اللہ ! ہر بھلائی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں بھلائی نصیب فرما اور ہمیں ایسے ہر غلط استعمال سے محفوظ فرما جس میں تیری عطا کردہ بھلائی کو ہم برائی سے بدل ڈالیں کیونکہ ؎ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں دوسری آیت کریمہ میں اسی بات کو موکد کرنے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اختیارِ مطلق پر کائنات کا نظام تکوینی بھی شہادت دے رہا ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بےدست و پا ہے۔ وہی اللہ ہے جو رات کو دن میں تبدیل کرتا ہے اور رات کے بعد دن کو نمودار کرتا ہے۔ یہ مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔ اسی کے حکم سے انڈہ سے مرغی نکلتی ہے اور مرغی سے انڈا پیدا ہوتا ہے۔ وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی وہ دونوں یکے بعد دیگرے ایک نظام میں بندھے ہوئے اس طرح محو پرواز ہیں کہ یُکَوِّرُاللَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُالنَّہَارَ عَلَی اللَّیْلِ (کہ رات دن پر لپٹی چلی آتی ہے اور دن رات پر لپٹا چلا آتا ہے) دونوں میں کہیں انقطاع نہیں ہوتا۔ دن کی روشنی میں اندھیرا اور اندھیرے میں دن کی روشنی اس طرح اتر جاتی ہے جس طرح کوئی دل میں اتر جاتا ہے۔ جس پروردگار کے غلبہ اور استعلاء اور بےپناہ قدرت کا یہ عالم ہے اس پر یہ اعتراض کرنا کہ ” وہ آل اسماعیل میں نبی کیسے پیدا کرسکتا ہے یہ تو سراسر بنی اسرائیل کا حق ہے “ کس قدر بےہودگی ہے۔ بشارت کو دعائیہ اسلوب میں لپیٹ کر پیش کرنا اس کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی موجود ہیں مثلاً ہجرت کے حکم سے کچھ پہلے نبی کریم ﷺ کو یہ دعا سکھلائی گئی : وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَّـدُنْـکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا۔ وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْـبَاطِلُ اِنَّ الْـبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ (اے پیغمبر ! دعا کیجیے، اے میرے رب ! مجھے عزت کے ساتھ داخل کر اور مجھے عزت کے ساتھ نکال اور مجھے خاص اپنے پاس سے نصرت کا پروانہ عطا فرما۔ اور یہ بھی کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوا اور باطل نابود ہونے ہی کے لیے ہے) اس دعا میں دیکھ لیجئے کہ اس میں ہجرت کی طرف اشارہ بھی ہے اور ساتھ ہی اس بات کی بشارت بھی کہ آپ ﷺ کا مکہ سے نکلنا اور دارالہجرت میں داخل ہونا دونوں عزت کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا سروسامان فراہم کیا جائے گا کہ ہجرت اور مدینے میں داخلہ آسان ہوجائے گا اور پھر اس میں عجیب بات یہ ہے کہ داخل ہونے کا ذکر پہلے ہے اور نکلنے کا بعد میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں آپ کے پروقار داخلے کا پہلے سے سروسامان ہوچکا ہے اور اس پیرایہ دعا میں اس کٹھن سفر کو ایسی محبوبیت عطا کردی ہے کہ اس کے راستے کا ایک ایک کانٹا پھول محسوس ہونے لگا۔ یہی حال اس دعا کا بھی ہے۔ اس میں مسلمانوں پر ایک عظیم ذمہ داری ڈالے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن پیرایہ دعا میں اس عظیم ذمہ داری کو محبوبیت عطا کردی ہے اور ساتھ ہی دل و دماغ کو اس راستے میں آنے والی مشکلات کے لیے تیار کردیا ہے۔ بِغَیْرِ حِسَابٍ کا مفہوم اس لیے آخر میں فرمایا : وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے) بےحساب سے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ کے یہاں اس کا کوئی حساب نہیں ہوتا۔ اللہ کی حاکمیت تو اس حد تک مرتب اور مکمل ہے کہ اس میں کسی چیز کا توازن درہم برہم نہیں ہوتا، حقوق میں اختلال پیدا نہیں ہوتا اور کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نکل نہیں سکتی۔ اس لیے بےحساب کے دو مطلب لیے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ جب عطا کرنے پہ آتا ہے تو انسانوں کے پیمانے اس کی قدر و پیمائش سے عاجز رہ جاتے ہیں اور انسان کے ظن و گمان اس کے سامنے سمٹ جاتے ہیں اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے یَرْزُقْـہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ (وہ وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے سان گمان بھی نہیں ہوتا) اس کی بہترین مثال حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔ آپ ( رض) رفع حاجت کے لیے کھجوروں کے ایک جھنڈ میں جا کے بیٹھے۔ آپ ( رض) نے دیکھا کہ ایک چوہا بل سے نکلا۔ اس کے منہ میں سونے کی ایک اشرفی تھی جو اس نے بل سے باہر رکھ دی اور پھر بل میں گھس گیا۔ اس طرح اس نے سترہ چکر لگائے اور سترہ اشرفیاں لا کر باہر رکھ دیں اور پھر اس کی نگرانی کے لیے بیٹھ گیا۔ حضرت عبداللہ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو اس کی طرف بڑھے وہ انھیں دیکھ کر بل میں گھس گیا۔ آپ ( رض) نے وہ اشرفیاں اٹھائیں اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سارا واقعہ سنا کر پوچھا کہ میرے لیے ان اشرفیوں کا استعمال حلال ہے یا حرام ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ حلال اور طیب رزق ہے جو تجھے اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طریقے سے عطا فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے متذکرہ بالا آیت پڑھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ چوہا ایک ایسا جانور ہے جو باہر کی چیزیں اپنے بل میں لے جاتا ہے، اپنے بل سے کوئی چیز لا کر باہر رکھ دے، یہ اس کی عادت اور معمول کے خلاف ہے۔ ایسے جانور کے ذریعے رزق دینا ” بغیر حساب “ کہلاتا ہے یعنی ایسے ذریعے سے رزق دیا گیا جس سے کبھی گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حاصل کلام یہ کہ بظاہر حالات ابھی مسلمانوں کے حق میں نہیں، لیکن اس کائنات کا مالک جلدی تبدیلی لانا چاہتا ہے، تم عنقریب دیکھو گے کہ یہود کی سازشیں دم توڑ جائیں گی، ان کی گڑھیاں اور ان کے قلعے انھیں پناہ نہیں دے سکیں گے۔ مشرکین عرب بالآخر سرنگوں ہوجائیں گے اور انسانوں کی اصلاح و فلاح کی ذمہ داری مسلمانوں کے حوالے کردی جائے گی اور یہ سب کچھ اس طرح سے ہوگا جس کا آج گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چناچہ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ مسلمان اسی طرح نوازے گئے اور مسلمانوں کے دشمن ایک ایک کر کے یا مسلمان ہوگئے یا قتل ہوگئے یا تحلیل ہوگئے۔ امام بغوی نے اپنی سند کے ساتھ ایک حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ہر نماز کے بعد سورة فاتحہ، آیت الکرسی اور آل عمران کی دو آیتیں ایک آیت شَہِدَاللّٰہُ اَنَّـہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَ آخر تک اور دوسری یہ آیت قُلِ اللّٰہُمَّ سے بِغَیْرِ حِسَابٍ تک پڑھا کرے تو میں اس کا ٹھکانہ جنت میں بنا دوں گا اور اس کو اپنے حظیرۃ القدس میں جگہ دوں گا اور ہر روز اس کی طرف ستر مرتبہ نظر رحمت کروں گا اور اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا اور ہر حاسد اور دشمن سے پناہ دوں گا اور ان پر اس کو غالب رکھوں گا۔