3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsسراج البیان

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ ہی معبود ہے سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ، وہ زندہ اور سب کا قائم رکھنے والا ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ خدائے واحد کے سوا کوئی عبادت ونیاز کا مستحق نہیں ، سارے سجدے اور تمام عبادتیں اسی کو زیبا ہیں ، اس لئے کہ زندہ اور قیوم خدا وہی ہے ، اس کے سوا سب فنا کے گھاٹ اترنے والے ہیں ، سب فانی اور حادث ہیں سب احاطہ امکان کے اندر ہیں اور سب ایسے ہیں جو اس کی عبادت کرنا باعث فخر ومباحات سمجھتے ہیں ، سب کا وظیفہ زندگی اس کی پرستش کرنا اور تسبیح و تقدیس کے مشغلوں میں مست رہنا ہے ،
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تجھ پر سچی کتاب نازل کی جو اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (ف 3) اور اس سے پہلے توریت اور انجیل نازل کی ۔

قرآن مصدق ہے : (ف 3) نزول قرآن کے وقت متعدد صحائف موجود تھے جن کے متعلق خیال تھا کہ یہ الہامی ہیں ، قرآن حکیم جب نازل ہوا ہے طبعا یہ سوال اٹھا کہ قرآن کریم کی حیثیت کیا ہے ؟ فرمایا کہ یہ پہلی تمام کتابوں کا جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں ‘ مصدق ہے ۔ تصدیق کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ جس قدر سچائیاں اور صداقتیں پہلے موجود ہیں ، قرآن حکیم ان کا بکمال وسعت قلبی اعتراف کرتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ توریت وانجیل کو بالکل تخریف ونصیحت سے مبرا مانتا ہے تصدیق صحیح اور درست کتاب کی ہے نہ اغلاط وتخریفات کی ، جیسا کہ قرآن حکیم کے دوسرے مواضع سے صاف ظاہر ہے ، وہ باوجود تصدیق کے ان کے غلط عقائد پر انہیں متنبہ کرتا ہے اور سختی کے ساتھ ٹوکتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ (آیت) ” لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ “۔ یعنی جہاں تک پیغام کی روح اور مغز کا تعلق ہے ۔ وہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ، اس میں کبھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اسی وجہ سے ہر الہامی کتاب کا فرض ہے کہ اس روح و رانحہ کی تائید کرے ۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ توراۃ وانجیل کے انجیل کے نزول کے بعد بھی روح انسانی تشنہ فیض تھی کہ وہ حسب وعدہ ایک مکمل شریعت سے بہرہ ور ہو ، یہ تشنگی اور ضرورت مسیح (علیہ السلام) کے ان الفاظ سے واضح ہے کہ ” دیکھو دنیا کا سردار آتا ہے “ ۔ اور یہ کہ ” میں بعض چیزیں تمہیں نہیں بتلاتا ، مگر وہ روح تمہیں سب کچھ بتائے گی ، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ میں تیرے بھائیوں میں سے تجھ جیسا ایک نبی ﷺ نازل کروں گا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنی ایک زبور میں اس سرخ وسفید شاہ عرب کے انتظار میں عزل سرا ہیں ۔ دانیال (علیہ السلام) حضور ﷺ کو ایک مکاشفے میں دیکھتے ہیں اور یسعیاہ نبی ﷺ کی کتاب میں اس قدوسی کی تعریف ہے ‘ جس کے ہاتھ میں آتشین شریعت ہے اور جس کی فتوحات روحانی سمندروں تک پھیل جائیں گی ، قرآن حکیم کہتا ہے میں مصدق ہوں ، یعنی ان تمام وعدوں ، امیدوں اور تمناؤں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ تصدیق کا لفظ ان معنوں میں ادبیات عربی میں بکثرت مستعمل ہے ۔ ایک شاعر چند شاہسواروں کے متعلق کہتا ہے ۔ ع فوارس صدقت فیھم ظنونی : یعنی ان لوگوں نے میری تمام امیدوں کو پورا کردیا ۔ حل لغات : اصرا : بوجھ ۔ مولی : کارساز ۔
Ayahs 3:4–6

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اتارا انصاف ، جو لوگ خدا کی آیتوں کے منکر ہیں ، انہیں سخت عذاب ہوگا اور اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ پر کوئی شے چھپی ہوئی نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ وہ ہے کہ رحموں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت (ف 1) بناتا ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

(ف 1) (آیت) ” المصور “۔ خدا تعالیٰ کی لاتعداد صفات ہیں ، ان میں سے ایک صفت مصور بھی ہے ، یعنی کائنات کو ایک موزون شکل میں پیدا کرنے والا ہے ، انسان ہی کو دیکھ لیجئے ، احسن تقویم کا کتنا اچھا مرقع ہے ۔ الہام روحی کے سیاق میں اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے ، ہم مذہب کی اہمیت کو پورا محسوس کریں ، اور جانیں کہ تعلق اللہ کے سوا عالم انسانیت کی جو شکل بھی ہوگی ، وہ غیر فطری اور بھونڈی ہوگی ، وہ خدا جو ہمیں مادی صورت میں پیدا کرتا ہے وہ چاہتا ہے ، ہماری روح کی تشکیل بھی ایک خاص ڈھب پر ہو ، اللہ کے پیغمبر ‘ اس کی کتابیں ‘ ان سب کا مقصد انسانیت کی مصوری ہے یعنی انسان کو جسم وروح کے لحاظ سے خوبصورت بنایا ۔ حل لغات : محکمت : واضح ، حکیمانہ اور قابل تاویل آیات ۔ متشابھات : محل تاویل و تفسیر ۔ متشابہات :
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

اسی نے تجھ پر کتاب نازل کی ، اس میں بعض آیتیں پکی ہیں اور وہی کتاب (ف 2) کی جڑ ہیں اور دوسری مشابہ (یعنی معنی معلوم یا معین نہیں) سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے متشابہات کے پیچھے جاتے ہیں ، حالانکہ ان کا مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، اور جو پکے عالم ہیں ، کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب کچھ ہمارے رب سے ہے اور سوا عقل والوں کے اور لوگ سمجھانے سے نہیں سمجھتے ۔

متشابہات : (ف 2) قرآن حکیم کی تقسیم محکمات ومتشابہات میں دائر ہے ، وہ لوگ جن کے دل نور ہدایت سے مستتیز ہیں ‘ اس تقسیم کو قدرتی اور طبعی خیال کرتے ہیں ، مگر وہ لوگ جن کا مقصد راہ راست سے بھٹک جانا ہے ، وہ محکمات کو جو اساس دین میں چھوڑ دیتے ہیں اور متشابہات جو محض برسبیل استطرادوتوثیق کے لئے بیان کی گئی ہیں ، وجہ نزاع ومخاصمت بنا لیتے ہیں اور گمراہ ہوجاتے ہیں ۔ قرآن حکیم میں عقائد سے لے کر معاشرت کے ادنی سے ادنی مسائل تک سب کو بیان کیا گیا ہے اور پھر ایک ایک مطلب ومقصد کو متعدد وسائل اور اسالیب بیان سے ادا کیا گیا ہے کبھی تشبیہ سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی استعارے سے کبھی حقیقت جلوہ آرا ہے اور کبھی مجاز اور پھر ہر طریق ادا میں ظاہر ہے کچھ اختلاف بھی ہے اور یہی نوع بلاغت کی جان ہے ، مگر بایں ہمہ اس اختلاف وتنوع کے ایک وحدت جھلک رہی ہے اور ایک مخصوص رنگ یکساں نمایاں ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کے سامنے کچھ چیزیں بطور اساس و مرکز کے ہیں اور کچھ ایسی ہیں جن کا مرتبہ توثیق وتوقیع کے سوا اور کچھ نہیں ، اب چاہیے تو یہ کہ قرآن فہمی کے لئے ان اساسی ومرکزی عقائد کو سامنے رکھا جائے اور دوسری آیات کو توضیح وتشریح کے لئے سمجھا جائے ، حقیقت کو مجاز پر قربان نہ کیا جائے اور وہ چیز جو واشگاف طور پر کہی گئی ہے اسے اصل قرار دیا جائے اور جو استعارے کے رنگ میں ادا کی گئی ہے ‘ اسے اس کی تائید کے لئے استعمال کیا جائے ، مگر اہل زیغ والحاد جن کے دل بصیرت سے محروم ہیں ‘ ہمیشہ الٹا چلتے ہیں ، وہ حقائق کو چھوڑ کر اساسی مرکز سے قطع نظر کر کے چند عقیدے از خود تراش لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد آیات تلاش کرتے ہیں جو ان کی تائید کریں ۔ قرآن حکیم ہی کی یہ خصوصیت نہیں ، ہر کلام بلیغ میں یہ تنوع موجود ہوتا ہے ، صاحب فہم وبصیرت حضرات یہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس تنوع میں کسی وحدت کو ڈھونڈا جاسکتا ہے ؟ اور وہ جو مخالف ہوتے ہیں وہ اس تنوع کو رفتار پر محمول کرتے ہیں ۔ اور اصل شے سے بالکل الگ ایک مفہوم تراش لیتے ہیں ۔ ہر فرقہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ اسی سبب سے کہ محکمات ومتشابہات میں فرق و امتیاز اٹھا دیتا ہے ، مثلا عیسائی کیوں تثلیث کی طرف مائل ہوئے ؟ اس لئے کہ جب وہ یونانی عقائد ذمیمہ سے دوچار ہوئے اور متاثر ہوئے تو انہوں نے انجیل سے اس بت پرستانہ عقیدہ کو استنباط کرنا چاہا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے لئے ” ابن اللہ “ کا لفظ اکثر استعمال کیا گیا ہے اور یہ کہ خدا اپنے لئے اکثر متکلم مع الغیر کا صیغہ استعمال کرتا ہے ۔ لہذا وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تثلیت ایک درست اور صحیح عقیدہ ہے ، حالانکہ یہ صحیح نہیں ، اگر وہ مرکز و اساس کو ہاتھ سے نہ دیتے اور حقیقت ومجاز میں فرق و امتیاز قائم رکھتے تو ایسی خطرناک ٹھوکر ہرگز نہ کھاتے ۔ ” ابن اللہ “ بطور مجاز کے مستعمل ہوا ہے جس کے معنی محبوب وپیارے کے ہیں ۔ انجیل اور دیگر کتب سماویہ کی مرکزی تعلیم توحید ہی ہے ، انجیل میں صاف لکھا ہے کہ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا ، توریت میں بار بار یہودیوں کو بت پرستی پر ٹوکا گیا ہے ۔ غرضیکہ قرآن حکیم جو کفر وزندقہ کے تمام احتمالات کو بیان فرماتا ہے ، یہ کہتا ہے کہ فتنہ وتاویل کے لئے قرآن حکیم کی ورق گردانی نہ کرو عمل و ایمان کے لئے قرآن حکیم محکمات وبینات سے معمور ہے ، متشابہات اور قابل تاویل واحتمال آیات کو انہیں بینات پر ڈھالنے کی کوشش کرو اور کہو کہ (آیت) ” کل من عند ربنا “۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ ہمارے دل میں زیغ والحاد کی آلودگیاں پیدا نہ ہوں اور یہ کہ ہم قرآن حکیم پر عمل کرنے کی وجہ سے اس کی رحمتوں کے سزاوار اور مستحق ہوں ۔ حل لغات : الراسخون فی العلم : علم میں کامل دستگاہ رکھنے والے ۔
Ayahs 3:8–11

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! جبکہ تو ہمیں ہدایت کرچکا تو ہمارے دلوں کو گمراہ نہ کر اور اپنی طرف سے ہمیں نعمت دے تو ہی سب کچھ دینے والا ہے ۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! تو سب آدمیوں کو اس دن جمع کرنے والا ہے جس میں کچھ شبہ نہیں ہے ، بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جو کافر ہیں ، خدا کے سامنے ان کے مال اور بال بچے کچھ کام نہ آئیں گے اور وہی دوزخ کا ایندھن ہیں ۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

جیسے فرعونیوں اور ان سے پہلوں کا حال تھا کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں میں پکڑا اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ کذب وافترا کی آخری حد عذاب الہی ہے ، وہ لوگ جو اب تک اسلام کے پیغام صداقت شعار کا انکار کرتے چلے آرہے ہیں ‘ وہ متنبہ رہیں کہ ان کا مال و دولت انہیں ہرگز اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا ، یہ خدا کا قانون ہے ‘ اس کی سنت ہے وہ نافرمانوں کو ہمیشہ سخت سزائیں دیتا رہا ہے ۔ دیکھ لو فرعون کس جاہ وحشم اور کس ٹھاٹھ سے رہتا تھا ، مگر ضرب موسوی کی تاب نہ لاسکا اور بنی اسرائیل کے سامنے دریا میں ڈوب گیا ۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

کافروں سے کہہ دے کہ ابھی تم مغلوب ہو گے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے ۔ (ف 2)

ایمان کی فتح اور کفر کی شکست : (ف 2) (آیت) ” قل للذین کفروا ستغلبون “ میں یہود کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ تم عنقریب مسلمانوں کے غلبہ واقتدار کے قائل ہو جاؤگے ، تمہیں تمہاری بستیوں سے نکال دیا جائے گا اور تمہارے باغات ویران کر دئے جائیں گے ، یہ اس لئے یہود کو اپنے مال و دولت پر بہت نازل تھا اور وہ قوت و عظمت کے نشہ میں سرشار تھے ، ضرورت تھی کہ انہیں خواب غفلت سے بیدار کیا جائے ، ضمنا اس آیت میں کفر کی دائمی مغلوبیت کی طرف اشارہ کردیا ، یعنی علو واقتدار ‘ بلندی وقوت صرف ایمان کے حصہ میں آئی ہے ، کفر ہمیشہ ہمیشہ پست اور ذلیل رہے گا ، چناچہ ان کے سامنے بدر کا نقشہ رکھا ۔ مسلمان کل تین سوتیرہ تھے ، ستر اونٹ ‘ دو گھوڑے ‘ سات زرہیں اور آٹھ تلواریں زاد حرب سمجھئے ، دوسری طرف کفار کا لشکر جرار پوری تیاری کے ساتھ صف آراء تھا ، جس کے تمام سرداروں نے اس فراغ دلی اور فیاضی کے ساتھ حصہ لیا تھا ، فخر و غرور تکبر وتمکنت اور قوت و کثرت کا یہ طوفان مسلمانوں کو ” مشت غبار “ کی طرح منتشر کردینا چاہتا تھا ، کفر وضلالت کے تاریک اور سیاہ بادل آمادہ تھے کہ خرمن ایمان وبصیرت پر بجلیاں گرائیں ، کفر و ایمان کی یہ پہلی اور خطرناک سازش تھی ، ایمان کی بےبضاعتی اور باب کفر کے لیے باعث صد خندہ تھی شیطان ہنس رہا تھا ، اور خوش تھا کہ اللہ والے آج مٹنے کو ہیں ، مگر رب ذوانتقام کی ظاہر فوجیں مسلمانوں کے ساتھ تھیں ، تائیدغیبی نے ان کے دلوں کو فولاد بنا دیا ، وہ لڑے اور اس بےجگری کے ساتھ کہ کفر بایں کثرت و حشمت بری طرح ذلیل اور رسوا ہوا ، ایمان ہمیشہ کے لئے سربلند ہوگیا اور کفر سرنگوں ، کیا یہ واقعہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ایمان بجائے خود فاتح ومنصور ہے اور کفر مغلوب ومقہور ۔
Ayahs 3:13–14

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لئے ان دو فوجوں میں جو آپس میں بھڑی تھیں ایک نشان ہے ، ایک فوج خدا کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسری فوج کافروں کی تھی جن کو (مسلمان) اپنی آنکھوں سے اپنے سے وہ چند دیکھ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہے اپنی مدد کا زور دے ، اس میں آنکھ والوں کے لئے عبرت ہے ۔

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

عورتوں اور اولاد سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیروں اور پالتو گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتی کے مزدوروں کی محبت پر آدمی فریفتہ کئے گئے ہیں ، یہ دنیا کی زندگی کا سرمایہ (ف 1) ہے اور اچھا ٹھکانا خدا تعالیٰ کے پاس ہے ۔ (ف 2)

ذلت کے اسباب : (ف 1) یہ مژدہ ایمان پرور سننے کے بعد کہ مسلمان ہمیشہ مظفر وکامران رہتا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کون سی چیزیں مسلمان کو ذلت و پستی کی طرف کھینچ لے جاتی ہیں ، اور وہ کیوں بعض حالات میں اپنے اصلی مقام رفعت و عظمت کو چھوڑ کر قفل وتعبد کی گرانبار زنجیروں کو زینت غلو بنا لیتا ہے ، قرآن حکیم کی زبان میں اس کا سبب ایک اور صرف ایک ہے ، یعنی خواہشات نفس کا ضرورت سے زیادہ احترام ۔ مسلمان خار زار دنیا میں بھیجا گیا ہے ، تاکہ آبلہ پائی کی تمام کی تمام مصیبتوں کو وہ برداشت کرے ، کانٹے کانٹے سے الجھے ، مگر دامن ایمان کو صاف بچا لے جائے ، وہ دنیا کی ہر لذت سے استفادہ کرے مگر جائز حد تک ، وہ عدل و مساوات اور ضبط ونظم کا محسوس پیکر بنے مسلمان کی زندگی جب عیش و عشرت کا رنگ اختیار کرے ، بیوی اور بچے جب اس کی تمام توجہات کو اپنی طرف جذب کرلیں ، سونے چاندی کا ڈھیر اس کا مقصد ٹھہریں اور خیل وحشم اس کا منہائے نظر کھیت اور باغات سے آگے اس کی جولانیاں نہ ہوں تو سمجھ لیجئے کہ متاع غرور نے اس کے پاؤں پکڑ لئے ہیں اور اس کی نگاہیں پاور گل ہو کر رہ گئی ہیں ، اب حسن مآب سے قطعا بیگانہ ہوگیا ہے اور آخری زندگی کی شادکامیاں اس کی نظر سے اوجھل ہوگئی ہیں ، ہاں اگر وہ ان رنگین زنجیروں کو زیب گلو نہ بنائے تو پھر فتح وظفر صرف اسی کا حصہ ہے ۔ حسن الماب : (ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ مادی خواہشات سے زیادہ قابل قدر جنات نعیم کی نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ہے ، وہ لوگ جو متقی ہیں ، جن کی طبیعتیں ایمان وبصیرت کی طرف زیادہ مائل ہیں ، وہ جو بالا صالت صرف خدا اور خدا کے دین سے محبت رکھتے ہیں ، جو دنیا سے بلند وبالا ہو کر رہتے ہیں ، جنہیں دنیا کی دلفریبیاں اپنی طرف نہیں کھینچتیں وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ، ان کی زندگی دائمی مسلسل اور پہیم خوشیوں کا نام ہے ۔ حل لغات : شھوت : جمع شھوۃ ، خواہش ، طلب ۔ القناطیر : جمع قنطار ، ایک ہزار اوقیہ یا مال کثیر ۔ الخیل المسومۃ : خوبصورت اور شان دار گھوڑے ۔
Ayahs 3:15–17

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

تو کہہ کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات بتاؤں ، پرہیزگاروں کیلئے ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اور ستھری عورتیں ہیں اور خدا کی رضا مندی ہے ، اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے ۔

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

جو صابر اور سچے اور حکم بجا لانے والے ہیں اور مال خرچ کرنے والے اور پچھلی رات میں گناہ بخشوانے والے ہیں (ف 1) ۔

اللہ کے بندے : (ف 1) اس سے پہلے کی آیت میں اللہ بندوں کے انعامات گنائے گئے تھے ۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ اللہ کے بندے کون ہیں ؟ وہ مومن جنہیں احساس گناہ ہر وقت طلب مغفرت پر مجبور کرتا رہے ، وہ جو صابر ہوں یعنی صبر علی الطاعات ہو ، صبر علی المحارم ہو ، تکلیفوں پر برداشت کی قوت رکھتے ہوں ، باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہوں ، یہ سب چیزیں صبر کے مفہوم میں داخل ہیں ، وہ جو صادق ہوں ، زبان ودل میں ان کے کوئی اختلاف نہ وہ ، سرا وجہرا ان میں کوئی تفاوت نہ پایا جائے ، ان کی خلوتیں جلوتوں سے بہتر ہوں ، وہ جو قانتین ہوں ، فرائض کی بجا آوری میں ہمہ تن رضا کار ہوں ، وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوں اللہ کے بندوں سے انہیں الفت ہو ، ان کی ضروریات کو وہ سمجھتے ہوں اور ہنگام سحر جب لوگ میٹھی نیند سو رہے ہوں ‘ ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوں ، وہ رات کی تاریکیوں میں دل کے اجالے مانگ رہے ہوں ، بخشش وطلب کے لئے بےچین ہوں اور مضطرب ہوں ، ایسے لوگ اللہ کے بندے ہیں ، اس کے پیارے ہیں ۔ اور انعامات کے مستحق ہیں ۔ حل لغات : القسط : انصاف وعدل ۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خدا نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی گواہی دی ، وہی (انصاف کا حاکم ہے) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ غالب حکمت والا ہے (ف 1) ۔

خدا کی گواہی : (ف 1) خدا کی توحید ایک اصل اور حقیقی عقیدہ ہے ، جس میں کبھی اختلاف نہیں ہوا لیکن مشرکین بایں ہمہ اس محسوس صداقت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں ، اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی شہادت ، فرشتوں کی شہادت اور علماء کی شہادت ہمیشہ توحید ہی کے حق میں رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ خدا برست موحدوں کی اعانت کی ہے انبیاء بھی توحید ہی کا پیغام لے کر زمین پر آئے ہیں اور علماء حق نے بھی عجز توحید کے کسی پر قناعت نہیں کی یہ تین شہادتیں ہیں اور ان کے اثبات کے لئے تین زبردست دلائل ہیں ، کفر و ایمان کی ساری تاریخ پڑھ جاؤ ، تمہیں کبھی بھی حق دبتا ہوا نظر نہ آئے گا ، کتابیں اور صحیفے جو خدا کی طرف سے ہیں ، توحید کے پیغام سے پر ہیں ، اسی طرح وہ لوگ جو صحیح معنوں میں عالم ہیں ، ہمیشہ توحید ہی کے قائل رہے ہیں ، کیا توحید پر ان سے زیادہ صاف ، اور مضبوط اور کھلی شہادت پیش کی جاسکتی ہے ؟
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

دین خدا کے نزدیک حکم برداری ہے اور اہل کتاب نے جو اختلاف ڈالا ‘ وہ بعد علم حاصل کرنے کے آپس میں ضد سے ڈالا ہے اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہوگا تو اللہ جلد حساب لینے والا ہے ، (ف 2)

صداقت کی ایک ہی راہ : (ف 2) سچائی اور صداقت کی ایک ہی راہ ہے جس کا نام اسلام کی منزل مقصود تک اور شاہد عرفان تک بجز اسلام کے اور کوئی راستہ نہیں جاتا ، اللہ کی محبت ، اس کی توحید اور نسل انسانی کی فلاح و بہبود کا سامان جس قدر اسلام میں میسر ہے ، دوسرا کوئی مذہب اس کا مدعی نہیں ہو سکتا ، اس لئے اسلام کے سوا جس قدر راستے ہیں وہ مخدوش ہیں ، منزل مقصود سے دور لے جانے والے ہیں اور گمراہ کرنے والے ہیں ، اس لئے کہ نسل انسانی کا مشترکہ مذہب صرف اسلام ہے ، ساری دنیا کو یہی مذہب عنایت کیا گیا ، سب کو یہی پیغام ہدایت سنایا گیا ، وہ پیغام جو آسمان سے زمین پر نازل ہوا ، وہ ایک ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں ، تمام انبیاء اور تمام مصلح ایک ہی پیغام لے کر آئے ہیں اور یہ جو اختلاف نظر آرہا ہے ‘ خواہشات کا اختلاف ہے نفس امارہ کی بوقلمونیاں ہیں اور اہل کتاب کی ہوا وہوس کا نتیجہ ہے ، ورنہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر مسیح (علیہ السلام) تک سب اسی حقیقت ثابتہ کی منادی کرتے آئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مخالف حلقے اسلام کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور نادانستہ اسلام کو قبول کرتے چلے جاتے ہیں ، سب اس کی صداقتوں کو محسوس کرتے ہیں اور عملا کوشاں ہیں کہ اسلام کی تمام مجوزہ اصلاحات کو قبول کرلیں ، وہ وقت نہایت قریب ہے جب ساری دنیا میں اسلام کو بطور ایک مشاہدہ اور نظریہ کے تسلیم کرلیا جائے گا اور شاید لفظی اختلاف باقی نہیں رہے گا ۔ حل لغات : العزیز : غالب ۔ زبردست ۔
Ayahs 3:20–21

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر اگر وہ تجھ سے حجت کریں تو کہہ کہ میں نے اور جو میرے ساتھ ہیں ‘ سب نے اپنا منہ خدا کے تابع کیا ہے اور کتاب والوں اور ان پڑھوں کو کہہ کیا تم بھی مانتے ہو ؟ پھر اگر وہ مانیں تو انہوں ہدایت پائی اور اگر منہ موڑیں تو تیرا ذمہ صرف پہنچانا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے اور لوگوں میں سے ان کو قتل کرتے ہیں جو انصاف کرنے کو کہتے ہیں ، ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دے ۔ (ف 1)

شہید انبیاء : (ف 1) قساوت قلبی اور شومئی قسمت کی بدترین صورت ہے کہ کوئی شخص اپنے محسن سے دشمن کا ساسلوک کرے ۔ انبیاء (علیہم السلام) نسل انسانی کے سب سے بڑے محسن ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ روح وجسم کی تربیت واصلاح کے لئے آتے ہیں اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں ، مگر حق وصداقت اور فلاں و بہبود انسانی سے دستبردار ہونے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتے ۔ یہودی ہمیشہ ضدی رہے ہیں ، ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے پہیم اور مسلسل نبی بھیجے ، تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں ، مگر وہ وہیں رہے اور ان کے جمود وتساہل میں ذرہ برابر تحریک پیدا نہیں ہوئی بلکہ تمرد ہوگئے اور بعض کو شہید ہی کر ڈالا ، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے ، اور وہ ایک زبردست عذاب کے لئے تیار رہیں ۔ (آیت) ” ومالھم من نصرین “۔ چناچہ خدا کی غیرت حرکت میں آئی ، اس کا غضب و جلال بھڑکا اور طے ہوگیا کہ بنی اسرائیل کو اس قساوت قلبی کی بدترین سزا دی جائے بخت نصر آیا اور کشت وخون کا بازار گرم ہوگیا ، یہودی بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ، تورات کے اوراق الاؤ کا ایندھن بنے اور قتل وسفاکا وہ طوفان اٹھا کہ دنیا چلا اٹھی ، اکثر یہودی مارے گئے ، جو بچ گئے انہیں بابل ونینوا کے جیل خانوں میں بند کردیا گیا اور مدت تک قیدوبند کی سختیاں جھیلتے رہے ، یہ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ وہ خدا کی طاقت کے سامنے جھکیں اور عبرت حاصل کریں ۔ بعض لوگوں نے یہ حرمت نبوت کے منافی خیال کیا ہے کہ نبی شہید ہوجائے اس لئے ان کی خیال میں (آیت) ” یقتلون “ کے معنی باہمی آویزش وتصادم کے ہیں ، مگر یہ صحیح نہیں ، ایک تو قرآن کے الفاظ صاف ہیں دوسرے تورات میں قتل انبیاء کی کئی مثالیں ملتی ہیں ، تیسرے یہ کوئی ضروری نہیں کہ انبیاء طبعی موت سے ہی دوچار ہوں اور شہادت سے محروم رہین ۔ یہ درست ہے کہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے مگر حق کو سربلند رکھنے کے لئے کبھی کبھی جان تک کو پیش کرنا پڑتا ہے ، شہید ہوجانا اس وقت وظیفہ نبوت کے منافی ہوتا ہے جب نبی اپنے مشن کو پیش کرنے سے قاصر رہے اور اس سے پیشتر کہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچائے ، زندگی سے محروم کردیا جائے اور اگر وہ سب کچھ پہنچا چکا ہو ، ضرورت صرف اس بات کی رہ جائے کہ وہ اس باغ کی آبیاری اپنے خون سے کرے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں بڑی محنت سے لگایا ہے تو اس وقت سے کرے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں بڑی محنت سے لگایا ہے تو اس وقت اس کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی جان پر کھیل جائے ، جب بستر مرگ پر جان دینا منصب نبوت کے منافی نہیں تو میدان جنگ میں شہادت سے سرفراز ہونا کیوں منافی ہو ؟ اصل شبہ عصمت انبیاء کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے مگر یہ یاد رہے کہ ” مجرد نبوت “ اس کے لئے کافی نہیں ، وہ انبیاء جنہیں اس کا وعدہ دیا گیا ہے وہی دشمنوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہتے اور دوسرے کوئی ضروری نہیں کہ محفوظ رہیں ، یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو (آیت) ” واللہ یعصمک من الناس “ کی ایک خصوصیت بخشی ورنہ کہہ دینا کافی تھا کہ آپ نبی ہیں اور انبیاء دشمنوں سے ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں ۔ حل لغات : بشرھم : خوشخبری سنا ، بطور طنز کے ہے نصیب : ایک حصہ :
Ayahs 3:22–24

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع گئے اور کوئی ان کا مددگار نہیں ۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہیں دیکھا جن کو کتاب میں سے کچھ حصہ ملا ہے ، وہ خدا کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں ، تاکہ وہ کتاب ان میں حکم کرے پھر ایک فرقہ ان میں سے منہ پھیر کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے (ف 1) کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں آگ نہ لگے گی مگر گنتی کے چند روز ، اور ان کی افتراپردازی نے ان کو ان کے دین میں فریب دیا ہے ۔

یہودیوں کا غرور مذہبی : (ف 1) یہودیوں کو قرآن مجید کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا کہ اس چشمہ فیض سے استفادہ کرو تو وہ اعتراض کرتے رہو کہتے کہ جہنم میں اگر جائیں گے بھی تو چند روز کے لئے ، اس لئے میں کسی دوسرے مذہب کو قبول کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ فرمایا ، یہ فریب نفس ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں بخشش ومغفرت ہی کے لئے جو حق کو قبول کرتا ہے اور نیک رہتا ہے ، صرف یہودی یا عیسائی کہلانا کافی نہیں ۔
Ayahs 3:25–26

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

بھلا اس وقت کیا ہوگا جب ہم ان کو اس دن جمع کریں گے جس میں کچھ بھی شبہ نہیں ، اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۔

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

تو کہہ اے اللہ ! اے ملک کے مالک ! تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر شے پر قادر ہے ۔ (ف 2)

مالک الملک : (ف 2) یہودیوں کو اپنے مال و دولت پر فخر تھا ، مدینہ اور آس پاس بستیاں ان کے اقتدار میں تھیں اس لئے وہ فاقہ مست مسلمانوں طرف کوئی توجہ نہ دیتے ، قاعدہ ہے ایک باعروج قوم اپنے تمدن وتہذیب پر قانع ہوتی ہے ، قرآن حکیم میں بطور دعا کے اس حقیقت کو واضح کیا کہ مالک الملک صرف خدا ہے جس کی بادشاہتیں ہمیشہ رہیں گی اس کے خزانے کبھی ختم نہ ہوں گے ، وہ جسے چاہے اور نگ وپہیم کا مالک بنا دے اور جس سے چاہے تاج ونگین چھین لے ، عزت وذلت صرف اس کے قبضے میں ہے ! اس لئے کوئی تاجور اس کا انکار نہ کرے اور حکومت کے نشے میں احکم الحاکمین کی بادشاہت کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھے کہ وہ پل بھر میں حکومت کے تختے کو الٹ سکتا ہے اس کی قدرت کے یہ ادنی کرشمے ہیں کہ وہ چشم زدن میں بڑے بڑے فرعونوں اور نمرودوں کو غرق وہلاک کردے ، اسی طرح غلام ومفلس اپنے مقدر سے مایوس نہ ہوں کہ وہ پستیوں کو بلندیوں میں تبدیل کرسکتا ہے ، وہ خارستان کو ابر رحمت کے چند قطروں سے باغ ارم بنا سکتا ہے اور اس کی دلیل لیل ونہار کے اختلاف میں ظاہر ہے ، دیکھ لو کس طرح دن کی روشنی رات کی تاریکی میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اور کس طرح شب دیجور کی گود میں خورشیدتاباں کھیلنے لگتا ہے اور پھر کس طرح ایک قطرہ آب حیوان ناطق بن جاتا ہے ، غرضیکہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ اور مالکوں کا مالک ہے ، سب اس کی چاکری کا اعتراف کرتے ہیں ، پس یہودی اپنے مال و دولت پر نہ اترائیں کہ خدا انہیں کفر وذلت کے مصائب میں مبتلا کرسکتا ہے اور مسلمان نہ گھبرائیں کہ خدا ان کی مایوسیوں کا امیدوں اور کامرانیوں میں بدل سکتا ہے ، یہ انداز بیان کتنا خدا پرستانہ اور موحدانہ ہے ، کس قدر موثر اور دلپذیر ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ لوگ غلط فہمی میں نہ رہیں اور اللہ تعالیٰ کی بےانداز قدرتوں کا اعتراف کریں ، یہ کہ حکومت وعزت صرف خدا کی دین ہے اور اس میں ہمارے کسب واختیار کو کوئی دخل نہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے حصول کے لئے قواعد بنا رکھے ہیں ، ان کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہے عزت و غلبہ اور حکومت واختیار یونہی بلا محنت حاصل ہونے والی چیزیں نہیں ، بلکہ یہ موقوف ہیں حاکمانہ اخلاق کے حصول پر ، اسی طرح غلامی ونکبت کے لئے بھی اسباب ہیں ، البتہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو پستی سے اٹھانا چاہتے ہیں تو ایسے اسباب کے حصول کی جو ضروری ہیں انہیں توفیق دے دیتے ہیں ۔
Ayahs 3:27–28

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی مردہ میں سے زندہ اور زندہ میں سے مردہ نکالتا ہے ، اور جسے چاہے ‘ بےحساب روزی دیتا ہے ،

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

چاہئے کہ مسلمان مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست (ف 1) نہ بنائیں اور جو (مسلمان) ایسا کرے گا تو اسے خدا سے کوئی تعلق نہیں البتہ اگر تم ان سے بچاؤ کرکے بچنا چاہو (تو مضائقہ نہیں) اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی طرف لوٹنا ہے ۔

کفار سے موالات : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان کافروں سے موالات نہ کریں اور ہرگز کسی غیر کو لائق محبت نہ سمجھیں ، اس مضمون کو متعدد آیات میں واضح کیا گیا ہے ، (آیت) ” لایتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ پھر یہ بھی فرمایا (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ (آیت) ” ومن یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیئ “۔ یعنی کفر سے دوستی ایمان سے ’ دشمنی کے مترادف ہے ، وہ جو اسلامی مفاد کو چھوڑ کر اور مسلمانوں سے رشتہ اخوت توڑ کر کفار سے تعلقات محبت استوار کرتا ہے ‘ وہ اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور ہرگز قابل اعتماد نہیں اور اس موالات میں کسی قوم وفرقہ کی تخصیص نہیں ، سارے کافر اسلام سے دشمنی رکھتے ہیں ، اور سچ اور جھوٹ میں کبھی اتحاد ممکن نہیں ، اگر رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے تو ضرورت ہے کہ کفر اور اسلام میں بھی کوئی تعلق نہ ہو ۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان نہایت محتاط بن کر رہیں اور کسی طرح کے فریب کا شکار نہ ہوں یہی مطلب ہے ان الفاظ کا کہ (آیت) ” الا ان تتقوا منھم تقۃ “۔ البتہ ناگزیز معاشی وسیاسی تعلقات میں مضائقہ نہیں ، اسلام یہ نہیں چاہتا ہے کہ مسلمان کا کوئی حقیقی دوست نہیں ، اپنے مصالح کے لئے وہ مسلمانوں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ورنہ ان کے دل بغض وحسد سے معمور ہیں (آیت) ” وما تخفی صدورھم اکبر “۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ مسلمان نے اس سے تغافل برت کر سخت نقصان اٹھایا ہے ہمیشہ اغیار نے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے ، اس لئے ضرورت تھی کہ اس حقیقت کا اظہار کردیا جائے ۔ وہ لوگ جو مخلصانہ مسلمانوں سے تعلقات رکھتے ہیں قرآن حکیم نے کھلے الفاظ میں ان کی تعریف کی ہے اور اپنے متعلقین کو تلقین کی ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا جائے ۔ حل لغات : اولیائ : حقیقی دوست ۔ نفسہ : یہاں اس کے معنی بذات خود کے ہیں ۔
Ayahs 3:29–31

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

تو کہہ کہ جو تمہارے دلوں میں ہے خواہ اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو ، اللہ اسے خوب جانتا ہے اور جو کچھ زمین وآسمان میں ہے وہ اسے بھی جانتا ہے ، اور اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر کوئی اپنی کی ہوئی نیکی اور بدی کو اپنے سامنے پائے گا ، آرزو کرے گا کہ کاش ! مجھ میں اور بدی میں فرق پڑجائے دور کا ، اور تم کو اللہ اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر شفقت رکھتا ہے ۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

تو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میرے تابع ہوجاؤ اللہ تم سے محبت رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ، اور اللہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1)

تقرب الہی کا واحد ذریعہ : (ف 1) انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ قول وفعل سے اللہ کے بندوں میں اللہ کی محبت پیدا کردیں اور گم کردہ راہ لوگوں کو جادہ مستقیم پر ڈال دیں ، وہ انسانوں کو ہدایت و رہنمائی کا پہلا اور آخری وسیلہ ہیں ، اس لئے ان سے قطع نظر کسی طرح جائز و درست نہیں ۔ اس آیت میں محبت الہی کے دعوے داروں کو اطاعت رسول ﷺ اور اتباع سید الابرار ﷺ کی جانب دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے بجز اطاعت رسول ﷺ کے اور کوئی طریق نہیں ، قیامت تک کے لئے محبوبیت ومقبولیت کا تاج فرق اقدس کے سوا اور کسی کے سر پر زیب نہیں دیتا ، وہ جو تقرب وتالف کے مدارج طے کرنا چاہتے ہیں وہ آئیں اور اطاعت رسول ﷺ کی راہوں پر گامزن ہوں کہ اس کے سوا منزل تک پہنچنے کے لئے کوئی راہ نہیں اسلام کی شاہراہ کے عام کے لئے وا ہوجانے کے کے بعد رشد وہدایت کے تمام راستے مسدود ہیں ، سلوک ومعرفت کے تمام مروجہ طریقے غلط ہیں اور گمراہ کن ہیں ‘ اگر ان میں اطاعت واتباع کا خیال نہیں رکھا گیا اور خدا رسی کے تمام ذرائع باطل ہیں ‘ اگر ان میں مشکوۃ نبوت کی روشنی نظر نہیں آتی ۔ اگر اطاعت رسول اللہ ﷺ کا جذبہ دلوں میں موجزن ہے تو پھر اللہ کی محبت ومغفرت بہرحال شامل حال ہے اور اگر اس سے محرومی ہے تو یہ جان لو کہ (آیت) ” فان اللہ لا یحب الکافرین “۔ حل لغات : امد : فاصلہ ۔ عباد : جمع عبد ۔ بندے اصطفے : مصدر اصطفا ۔ انتخاب ، چننا ۔
Ayahs 3:32–35

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

تو کہہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو ، پھر اگر وہ ہٹ جائیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ۔

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو سارے جہان کے اوپر برگزیدہ کیا ہے ۔

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

یہ (اولاد) ہیں ایک دوسرے کی ، اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب عمران کی عورت نے کہا کہ اے میرے رب جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد ، میں نے تیری نذر کیا ، تو اسے میری طرف سے قبول کر ، تو سنتاجانتا ہے (ف 1)

تین قصے : (ف 1) رسالت مآب حضور ﷺ کی نبوت پر یہودیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ اسرائیل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے کیوں بنی اسرئایل اسمعیل سے حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے منتخب کیا ، یہودی چونکہ حد درجہ ظاہر پرست تھے ، اس لئے وہ اس خرق عادت کو باور نہ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذیل میں تین قصے بیان کئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح کو کوئی نہیں جانتا اور اس قسم ونوع کے خوارق اکثر پیش آتے رہتے ہیں اور یہ کہ خود یہودی ان واقعات کو تسلیم کرتے ہیں ، اس لئے چاہئے کہ وہ حضور ﷺ کا سلسلہ اسماعیلیہ میں ہونا بھی قابل اعتراض نہ سمجھیں ، نبوت اللہ کی دین ہے ، جب تک اسرائیل اس بار امانت کو اٹھانے کے اہل رہے ‘ اللہ نے انہیں میں سے انبیاء بھیجے ، جب ان میں یہ اہلیت نہ رہی تو بنی اسمعیل کو اس شرف سے نوازا گیا ۔ یہ پہلا قصہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی نذر کا ہے ، ان کی والدہ چاہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں فرزند نرینہ بخشیں تو وہ یروشلم کی خدمت کے لئے اسے وقف کردیں ، مگر اللہ تعالیٰ کا یہ رسم توڑنا مقصود تھا ، اس لئے بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی اور اسے خلاف روایات یہود بہت المقدس کی خدمت کے لئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپرد کردیا گیا یہ قدیم روایات کے خلاف ایک خرق ہے ۔ دوسرا قصہ حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ہے یعنی حضرت یحیٰ بھی اس وقت پیدا ہوئے جبکہ بظاہر کوئی توقع نہیں کی جاسکتی تھی یہ دوسرا خرق ہے ، تیسرا قصہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت کا کہ بلا باپ پیدا ہوئے یہ تیسرا خرق ہے ۔ جب اتنے خوارق کو مان لینے میں یہودیوں کو کوئی تامل نہیں ہے تو پھر وہ حضور ﷺ کا صرف اس لئے کیوں انکار کرتے ہیں کہ وہ مقررہ عادت کے خلاف تشریف لائے ہیں کہ کیا رسم عادت مصالح کے تابع نہیں اور کیا اللہ ہی مصالح کو بہتر طریق پر نہیں جاوے پھر کیا وجہ سے کہ حضور ﷺ کا انکار کردیا جائے ، ان آیات میں پہلے قصے کی توضیح کی ہے کہ کس طرح حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ نے منت مانی اور کس طرح حضرت مریم (علیہا السلام) زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں آئیں ۔ حل لغات : محررا : آزاد ۔
Ayahs 3:36–38

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس کو جنا تو بولی کہ اے میرے رب میں نے تو لڑکی جنی ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ جنی ، اور نہیں ہو سکتا بیٹا مانند بیٹی کے ہے اور میں نے اس کا نام مریم (علیہا السلام) رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر اس کے رب نے اسے اچھی طرح کا قبول (کرنا) قبول کیا اور اسے اچھی طرح کا بڑھنا بڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل بنایا جب کبھی اس کے پاس زکریا (علیہ السلام) حجرے میں آتا تو اس کے پاس کچھ کھانا پاتا ۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے مریم ! یہ کھانا کہاں سے تیرے پاس آیا ؟ وہ بولی یہ اللہ کے پاس سے ہے ، بیشک اللہ جس کو چاہئے بےحساب رزق دیتا ہے ۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

تو اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی ، کہا ، اے میرے رب ! اپنے پاس سے مجھے پاکیزہ اولاد بخش ، بیشک تو سننے والا ہے ۔ (ف 1)

حضرت زکریا کی دعا : (ف 1) حضرت مریم (علیہا السلام) کی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں اس لئے دیا گیا تاکہ وہ بہترین تربیت حاصل کریں اور آیندہ چل کر اخلاق کے متعلق انہیں مہتم نہ کیا جائے ، مریم (علیہما السلام) ابھی بچی ہی تھیں کہ ان کا دل معرفت و سلوک کی تمام منزلیں طے کرچکا تھا ، زکریا (علیہ السلام) نے جب ان سے پوچھا کہ بچی ، یہ رزق کہاں سے آیا ہے تو آپ نے جواب دیا ، اللہ کی جانب سے ۔ یہ جواب سن کر حضرت زکریا (علیہ السلام) نہایت محفوظ ہوئے اور دل میں اس خواہش نے چٹکی لی کہ میرے گھر میں بھی ایسی ہی روح آئے ، چناچہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے مولا ! تو دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے ، مجھے بھی نیک اولاد عنایت کر ۔ اس دعا میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اولاد چاہتے بھی ہیں تو ایسی جس سے نسل انسانی کا فائدہ ہو ، اور اولاد کے لئے صرف باری تعالیٰ کا باب اجابت کھٹکھٹاتے ہیں ، دوسروں کے دروازوں پر جبہ سائی نہیں کرتے ۔ حل لغات : للمحراب : حجرہ ۔ عبادت گاہ ، بالاخانہ ۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر جب زکریا (علیہ السلام) محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ، فرشتوں نے اسے آواز دے کر کہا کہ اللہ تجھے خوشخبری دیتا ہے یحیٰ کی جو خدا کے ایک حکم (یعنی عیسیٰ ) کا ماننے والا اور دوسرا ہوگا اور عورت پاس نہ جائے گا اور نبی ہوگا نیکوں میں سے (ف 1)

(ف 1) دعا چونکہ دل سے نکلی تھی اور بلند خواہشات کے ماتحت کی گئی تھی ، اس لئے فورا شرف قبولیت سے نوازی گئی ، فرشتے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا کہ خدا تمہیں حضرت یحی کے تولد کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے کلام کی تصدیق کرے گا قوم میں اس کی سیادت و قیادت مسلم ہوگی ، پاکباز اور نبی ہوگا ۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا کہ اے میرے رب ! میرا لڑکا کیونکر ہوگا حالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری عورت بانجھ ہے ، فرمایا ، اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (ف 2)

(ف 2) حضرت زکریا (علیہ السلام) نبی ہونے کے ساتھ ساتھ چونکہ انسان بھی تھے ، اس لئے بشری نفسیت برابر کام کرتی رہی ، آپ نے از راہ استبعاد اور تعجب پوچھا ، اللہ ! یہ کیسے ممکن ہے جب کہ میں حد سے زیادہ بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی جوان نہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کذلک اللہ یفعل ما یشآء “۔ یعنی یہ معتاد قوانین تمہارے لئے ہیں اللہ تعالیٰ کسی قانون کا پابند اور محتاج نہیں وہ کبھی کبھی اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ایسے خوارق ضرور پیدا کرتا ہے ، تاکہ بےدین اور ملحد لوگ اس کی جلالت قدر کا صحیح اندازہ کریں ، جب لوگ اسباب ووسائل کی غیر معمولی اہمیت دے دیتے ہیں اور ہر بات کو مادی ذرائع کے ماتحت سمجھتے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ایسی محیر العقول باتیں ظاہر فرماتے ہیں جن سے یہ معلوم ہو کہ ایک عزیز وقاہر ہستی ایسی بھی ہے جو ہر قانون سے بالا اور بلند ہے اور تمام باتیں جس کے اشارے سے ظہور پذیر ہوتی ہیں ۔