3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 3:1
سورة آل عمران۔ مدنی ہے اس کی آیات دو سو ہیں۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ربیع بن انس بیان کیا کہ کچھ عیسائی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ ﷺ سے مناظرہ کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے الآ اَﷲُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سے کچھ اوپر (1) [ حضرت مولف قدس سرہٗ نے لکھا ہے ظاہر یہ ہے کہ ان آیات کی تعداد 84 ہے یعنی لا نفرق بین احد منھم و نحن لہ مسلمون تک۔ اس کے بعد آیت : ومن یبتغ غیر الاسلام دینا۔۔ مرتدوں کے متعلق نازل ہوئی۔] اسّی آیات آل عمران کی نازل فرمائیں۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سہل بن ابی امامہ نے کہا کہ جب نجران کے نمائندے رسول اللہ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کے متعلق سوال کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو ان کے متعلق آل عمران شروع سے اسّی آیات کے آخر تک نازل ہوئی۔ (بیہقیفی الدلائل) بغوی (رح) نے کلبی اور ربیع بن انس ؓ کا قول بی یہی لکھا ہے کہ ان آیات کا نزول نجران کے نمائندوں کے متعلق ہوا جن کی تعداد ساٹھ تھی۔ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر آئے تھے پوری جماعت کے سردار 14 شخص تھے اور ان میں بھی صرف تین لیڈر تھے۔ عاقب سب کا امیر اور مشیر اعلیٰ تھا جس کے مشورہ کے بغیر اہل وفد کچھ کام نہیں کرتے تھے۔ عاقب کا نام عبد المسیح تھا۔ امیر سفر سید تھا جس کا نام ایہم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ پادری اور اہل قافلہ میں مذہبی عالم تھا۔ رسول اللہ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے کہ یہ وفد مسجد میں داخل ہوا۔ یمنی منقش کپڑے کے چغے پہنے اور خوبصورت مردانہ چادریں اوڑھے ایسے بھلے معلوم ہوتے تھے کہ دیکھنے والے کہہ رہے تھے ہم نے اس شان کا کوئی ڈیپوٹیشن 2 ؂ نہیں دیکھا۔ ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا اس لیے وہیں مسجد میں ہی نما زکو کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ نے بھی اجازت دیدی۔ مشرق کی طرف منہ کرکے انہوں نے نماز پڑھی۔ سید اور عاقب سے گفتگو ہوئی۔ رسول اللہ نے اسلام لانے کی دعوت دی۔ دونوں نے جواب دیا ہم تو آپ سے پہلے ہی اسلام لا چکے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا : تم غلط کہتے ہو تم کو اسلام سے روک دینے والی چیز یہ ہے کہ تم عیسیٰ ( علیہ السلام) کوا اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہو۔ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور خنزیر کو کھاتے ہو (یعنی خنزیر کے گوشت کو حلال سمجھتے ہو) کہنے لگے اچھا بتاؤ اگر عیسیٰ کا باپ خدا نہیں تو ان کا باپ اور کون تھا ؟ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : کیا تم ناواقف ہو کہ ہمارا رب زندہ ہے جس کو موت نہیں اور عیسیٰ پر موت آئے گی۔ اہل وفد نے کہا : بلاشبہ ایسا ہی ہے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہر چیز کو تھامے ہوئے ہے نگران کلی اور رزاق ہے۔ اہل وفد نے کہا جانتے کیوں نہیں ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا عیسیٰ کے قابو میں بھی ان امور میں سے کوئی شے ہے۔ اہل وفد نے جواب دیا نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم کو علم نہیں کہ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ اہل وفد نے کہا جانتے کیوں نہیں۔ فرمایا : تو کیا عیسیٰ بھی سوائے اپنے مخصوص علم کے اس میں سے کچھ جانتے ہیں اہل وفد نے کہا نہیں۔ فرمایا : ہمارے رب نے عیسیٰ کی شکل ماں کے پیٹ کے اندر جیسی چاہی بنا دی۔ ہمارا رب نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اہل وفد نے کہا جی ہاں فرمایا : کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ماں نے اپنے پیٹ میں اسی طرح رکھا جس طرح عورت بچہ کو اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور اسی طرح جنا جس طرح عورت جنتی ہے پھر عیسیٰ کو اسی طرح غذا دی گئی جیسے بچہ کو دی جاتی ہے عیسیٰ کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے اور پیشاب پاخانہ بھی کرتے تھے اہل وفد نے کہا ہم یہ باتیں جانتے ہیں فرمایا : تو پھر عیسیٰ تمہارے دعوے کے بموجب اللہ کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد اہل وفد خاموش ہوگئے اور اللہ نے سورة آل عمران کی شروع سے کچھ اوپر اسّی آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا

الۗـۗمَّ ۝ اللّٰهُ : یعقوب کے نزدیک الم پر وقف ہے اور اَﷲُ سے الگ ابتداء ہے۔ جمہور کے نزدیک وقف نہیں ہے اور الم اَﷲُ قراءت ہے سیبویہ کے نزدیک اللہ کا الف ساقط کردیا گیا اور میم کے فتحہ کو اللہ کے لام سے ملا دیا گیا۔ زمخشری کے نزدیک میم پر فتحہ اللہ کے الف کا دیدیا گیا پھر الف کو ساقط کردیا گیا۔ میم کو کم سے کم دو حرکات کے برابر اور زیادہ سے زیادہ چھ حرکات کے بقدر کھینچنا جائز ہے۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : یعنی سوائے اللہ کے کوئی اِلٰہ موجود نہیں ہے۔ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ : یعنی وہ حی وقیوم ہے۔ ابن ابی شیبہ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو امامہ کی مرفوع حدیث بیان کی کہ اللہ کا اسم اعظم تین سورتوں میں ہے البقرہ اور آل عمران اور طٰہٰ ۔ حضرت ابو امامہ کے شاگرد قاسم نے کہا میں نے تینوں سورتوں میں تلاش کیا تو الحی القیوم کو تینوں سورتوں میں مشترک پایا ایک سورة بقرہ کی آیۃ الکرسی میں دوسرے آل عمران کی اسی آیت میں اور تیسرے سورة طہٰ کی آیت : وَ عَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْم میں۔ جزری مؤلف حصن حصین نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک اسم اعظم لا الٰہ الا ہو الحی القیوم ہے۔ (یہی تینوں سورتوں میں مذکور ہے) میں کہتا ہوں کہ اسم اعظم لا الٰہ الا ہو ہے حدیثوں میں مطابقت اس طرح ہوجائے گی۔ ایک حدیث حضرت ابو امامہ کی روایت کردہ جو ابھی بیان کردی گئی۔ دوسری حدیث حضرت اسماء بنت یزید کی روایت کردہ کہ رسول اللہ سے میں نے خود سنا فرما رہے تھے اللہ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے : و الھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم اور اللہ لا الٰہ الا ھو الحی القیوم۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد ابن ماجۃ والدارمی) تیسری حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کردہ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ذوالنون (حضرت یونس ( علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ کے اندر اپنے رب سے جو دعا کی تھی وہ یہ تھی : لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ جو مسلمان کسی چیز کے متعلق ان الفاظ کے ساتھ اللہ سے دعا کرے گا تو اللہ اس کی دعا ضرور قبول کرے گا۔ (رواہ احمد والترمذی) مستدرک میں حاکم نے لکھا ہے : لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ اللہ کا وہ اسم اعظم ہے کہ اگر اس کے ذریعہ سے اللہ سے دعا کی جائے تو اللہ قبول فرماتا ہے اور اس سے کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔ چوتھی روایت حضرت یزید ؓ کی ہے کہ رسول اللہ نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا : اللّٰھُم انی اسء الک بانی اشھد ان لآ اِلٰہ اِلَّا انت الاحد الصمد الذی لم یلد و لم یولد و لم یکن لہ کفواً احد۔ فرمایا : اس شخص نے اللہ سے ایسا اسم اعظم پڑھ کر دعاء مانگی ہے کہ جب اس سے اس اسم کے ذریعہ سے کچھ مانگا جائے تو وہ عطا فرماتا ہے اور دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے 2 ؂۔ پانچویں حدیث اس پوری جماعت نے حضرت انس کی روایت سے بیان کی ہے حضرت انس ؓ نے فرمایا : میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے (نماز میں) کہا : اللھم انی اسأَلک بان لک الحمد لا الہ الا انت الحنان المنان بدیع السمٰوات والارض یا ذالجلال والاکرام یا حی یا قیوم۔. رسول اللہ نے فرمایا : اس نے اللہ کا ایسا اسم اعظم لے کر دعا کی ہے کہ اگر اس سے یہ نام لے کر دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے اور کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی شیبہ نے یا حی یا قیوم کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔ ان تمام احادیث کا تقاضا ہے کہ ان سب میں اور تینوں سورتوں میں اسم اعظم موجود ہے اور وہ صرف نفی و اثبات یعنی لا الہ الا ھو ہے سورة بقرہ میں آیۃ الکرسی کے اندر اور آل عمران میں اسی آیت کے اندر کلمہ توحید مذکور ہے اور سورة طٰہٰ میں آیت اللہ لا الہ الا ھو لہ الاسماء الحسنی موجود ہے۔ حضرت جابر ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ ہی افضل الذکر ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت معاذ ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ : لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے۔ اس مفہوم کی احادیث متواتر المعنی آئی ہیں۔ فائدہ احادیث میں اسم اعظم لا الٰہَ الَّا ھُوَ اور لا اِلٰہ الا اَنْتَ کو کہا گیا ہے لآ الہ الا اللہ (بھی اگرچہ اسم اعظم ہے مطلب سب کا ایک ہی ہے : ھُوَ اور اَنْتَ سے مراد بھی اللہ ہی ہے لیکن) سے مذکورۂ بالا دونوں جملوں کی عظمت زیادہ ہے کیونکہ ضمیریں (خواہ غائب کی ہوں یا مخاطب کی) محض ذات کے لیے موضوع ہیں (وصفی معنی کا ان کی وضع میں شائبہ بھی نہیں ہے ضمیروں سے ذہنی انتقال خالص ذات کی طرف ہوتا ہے کسی نام یا صفت یا حالت کا تصور بھی نہیں ہوتا اور لفظ اللہ کی وضع اگرچہ ذات کے لیے ہے (کیونکہ یہ ذات خدا وندی کا عَلَم اور خصوصی نام ہے) لیکن یہ لفظ بولنے سے اوّل اسم کا تصور ہوتا ہے پھر ذات کی جانب ذہنی انتقال ہوتا ہے اور اگر اللہ کو اسم وصفی قرار دیا جائے تو اشتقاقی معنی یعنی الوہیت کا مفہوم ذہن میں آتا ہے (اور نفس وضع کے لحاظ سے وصفی معنی یعنی الوہیت کی خصوصی وضع ذات خداوندی کے لیے نہیں قرار پاتی) لیکن وصف الوہیت کا تقاضا ہے کہ اِلٰہ کے اندر تمام صفات کمالیہ موجود ہوں اور عیوب و نقائص اس میں بالکل نہ ہوں اس لیے دوسرے وصفی ناموں کے مقابلہ میں لفظ اللہ زیادہ جامع ہوگا (لیکن کوئی وصفی نام محض ذات پر دلالت نہیں کرتا اس لیے لفظ اللہ گو کتنا ہی جامع الصفات ہو مگر اسم وصفی ہونے کی وجہ سے ذات خالص پر دلالت نہیں کرے گا۔ ) صوفیہ نے مبتدی کے لیے لا الٰہ الا اللہ (کا ورد) ہی منتخب کیا ہے کیونکہ مبتدی کے لیے بغیر کسی وصفی یا صفت کی وساطت کے ذات خالص تک رسائی ممکن نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس نفی و اثبات کے اسم اعظم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اثبات الوہیت کا تقاضا ہے کہ تمام صفات کمالیہ اس کی ذات میں بالذات موجود ہوں اور کوئی عیب و نقص اس میں نہ ہو کیونکہ جو ذات ایسی جامع الصفات اور نقائص سے منزہ نہ ہو اسکو استحقاق معبودیت نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں غیر اللہ کی الوہیت کی نفی اور ذات الٰہی میں تمام صفات ثبوتیہ و سلبیہ کے حصر پر جو کلمہ دلالت کرے گا وہی اسم اعظم ہوگا اس لییلا الٰہ الا اللہ ہی اسم اعظم ہے۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : اسی نے سچائی کا حامل یا دین حق کا حامل قرآن آپ پر تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا۔ حق سے مراد ہے سچائی یا دین حق۔ تنزیل (تفعیل) کا معنی ہے قدرے قدرے اتارنا۔ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ : یہ قرآن اپنے سے پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے اس لییجو یہودی اور عیسائی پہلی کتابوں کو مانتے ہیں ان پر قرآن کی تصدیق بھی لازم ہے۔ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ : اور اسی نے تورات و انجیل کو (جدا جدا) یکبارگی نازل فرمایا تھا۔ انزال کا معنی ہے قدرے قدرے یا مجموعۃً نازل کرنا اور تنزیل کا معنی ہے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کرنا اسی لیے نزول قرآن کے لیے نزَّل اور نزول تورات اور انجیل کے لیے انْزَل فرمایا۔ تورات عبرانی لفظ ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر جو کتاب اتری تھی اس کا نام ہے اور انجیل سریانی لفظ ہے اور حضرت عیسیٰ پر جو کتاب اتری تھی اس کا نام ہے۔ یہ دونوں لفظ عربی نہیں ہیں بعض لوگوں نے کہا کہ تورات کا وزن فَوْعَلَۃٌ یا تَفْعَلَۃٌ ہے اور مادہ وَرْیٌ ہے۔ وَرْیُ الزَّنْدِ چقماق روشن کرنا اور انجیلنجل سے مشتق ہے یہ توجیہ سراسر تکلف ہے۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے

مِنْ قَبْلُ : قرآن کو نازل کرنے سے پہلے تاکہ لوگ قرآن کو ماننے کے لیے تیار ہوجائیں۔ ھُدًى لِّلنَّاسِ : سب لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔ بعض علماء کے نزدیک الناس سے مراد ہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ کی امتیں۔ مگر اس قول کی کوئی وجہ نہیں (بلکہ الناس سے سب لوگ ہی مراد ہیں) کیونکہ تمام آسمانی کتابیں تمام انسانوں کو توحید الٰہی، تصدیق جمیع انبیاء اور مبدء و معاد پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہیں۔ اللہ کے احکام و نواہی پر پابند رہنے کی ہدایت کر رہی ہیں اور تورات و انجیل و زبور نے محمد رسول اللہ کی بعثت کی اطلاع دی ہے۔ ایک شبہ قرآن مجید کے احکام سے گذشتہ آسمانی کتابوں کے بعض اعمال فرعیہ منسوخ ہوگئے ایسی حالت میں ان سب کو ہدایت کے لیے بھیجنے کا کیا معنی ؟ ازالہ اگر بعض اوقات میں سابق کتب کے بعض فرعی احکام منسوخ ہوگئے تو اس سے ان کتابوں کا سراسر ہدایت ہونا منسوخ نہیں ہوگیا جس طرح قرآن مجید کے بعض احکام دوسرے احکام سے منسوخ ہوگئے بات یہ ہے کہ نسخ کا معنی (یہ نہیں ہے کہ منسوخ حکم غلط تھا بلکہ مطلب) یہ ہے کہ منسوخ حکم ایک مقرر مدت کے لیے تھا اب نہیں رہا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ گذشتہ انبیاء کی شریعتیں ہمارے لیے لازم نہیں لیکن آیت مذکورہ اس قول کے خلاف ہمارے لیے شہادت دے رہی ہے۔ کہ (باستثناء بعض احکام منسوخہ) باقی احکام سابقہ ہمارے لیے بھی ضروری ہیں۔ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ : اور اس نے (حق و باطل میں) تفریق کردینے والی تمام آسمانی کتابیں نازل کیں۔ الفرقان میں لام استغراقی ہے اور توریت و انجیل و قرآن کے علاوہ جو آسمانی کتابیں ہیں ان سب کو یہ لفظ شامل ہے۔ یا الفرقان سے مراد بھی قرآن مجید ہے مدح اور اظہار عظمت وشرف کے لیے دوبارہ قرآن کا ذکر فرمایا کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ تو سب ہی کتابیں ہیں لیکن قرآن کی عبارت بھی معجزہ ہونے کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان فرق قائم کرنے والی ہے۔ دوبارہ انزل کو ذکر کرنے کی دو وجوہ ہیں : (1) معطوف علیہ کا ذکر ذرا دور ہوگیا اس لیے اگر دوبارہ انزل کو ذکر نہ کیا جاتا تو ممکن تھا کہ کوئی الفرقان کو ہدًی پر معطوف سمجھ لیتا جو غلط تھا۔ (2) تکرار انزل سے اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کا نزول دوبارہ ہوا ایک بار شب قدر میں (پورا قرآن) آسمان دنیا پر نازل ہوا پھر دوسری بار ٹکڑے ٹکڑے ضرورت کے موافق اس زمین پر اتارا گیا۔ سَدِی کا قول ہے کہ عبارت میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت اس طرح تھی : و انزل التورات والانجیل من قبل والفرقان ھدی . اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ : جن لوگوں نے اللہ کی اتاری ہوئی آیات کا انکار کیا خواہ وہ کسی آسمانی کتاب کی ہوں ان کے لیے اس کفر کی وجہ سے عذاب شدید ہے۔ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ : اور اللہ غالب ہے عذاب دینے سے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ذُو انْتِقَامٍ : انتقام والا ہے کوئی انتقام لینے والا اس (اللہ عزوجل) جیسا انتقام نہیں لے سکتا۔ نمقمۃ سزا اس سے فعل نقم آتا ہے۔ گذشتہ آیات میں اوّل اثبات توحید کیا پھر رسول کی سچائی کی طرف اشارہ کیا کہ قرآن مجید دوسری آسمانی کتابوں کے مطابق ہے اور (عبارت کے لحاظ) سے طاقت بشریہ سے خارج بھی ہے۔ آخر میں اس آیت میں انکار کرنے والوں کو عذاب کی تنبیہ فرما دی۔
Ayah 3:5

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ : یہ حقیقت ہے کہ اللہ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ مراد یہ ہے کہ سارے جہان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ خواہ کمی ہو یا جزئی چونکہ حس کی رسائی صرف آسمان و زمین تک ہی ہے اس لیے انہی دونوں کا ذکر کیا مگر مراد سارا جہان ہے پھر زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیا کیونکہ یہاں مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ بندوں کے اعمال سے اللہ واقف ہے اور وہ اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ (اور بندوں کے اعمال کا مقام زمین ہے اس لیے زمین کا ذکر پہلے کیا) مذکورہ بالا پورا جملہ اللہ کے حی ہونے کو ثابت کر رہا ہے (ورنہ اس کا علم محیط کل کس طرح ہوسکتا ہے۔ علم کا مدار تو حیات پر ہے) اس کے بعد آئندہ آیت اللہ کی قیومیت کو ثابت کر رہی ہے۔
Ayah 3:6

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ : وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بنا دیتا ہے۔ یعنی تمہارے رنگ، مختلف شکلیں اور نرو مادہ جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ : اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس کسی کو اس کے سوا نہ علم ہے نہ قدرت ہاں جتنا اس نے عطا کردیا ہے اتنا حاصل ہے۔ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : وہی غالب اور حکمت والا ہے اس میں اللہ کے کمال قدرت اور ہمہ گیر علم کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ ہم سے اللہ کے سچے رسول ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک کا تخلیقی قوام ماں کے پیٹ کے اندر چالیس روز تک بصورت نطفہ پھر اتنی ہی مدت بصورت علقہ پھر اسی قدر بصورت مضغہ ہوتا ہے پھرا اللہ فرشتہ کو چار باتیں لکھنے کے لیے بھیجتا ہے حسب الحکم فرشتہ اس کا رزق (اچھے برے) اعمال ‘ مدت زندگی اور نیک بخت یا بد بخت ہونا لکھ دیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ اہل جنت کے سے عمل (اتنے) کرتے ہیں کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے آخر تقدیر کا لکھا آگے آتا ہے اور وہ شخص دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے کچھ لوگ دوزخیوں کے اعمال (اتنے) کرتے ہیں کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ آخر تحریر خلقی غالب آتی ہے اور وہ شخص اہل جنت کے سے کام کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (متفق علیہ) حضرت حذیفہ بن اسید کی مرفوع روایت ہے کہ رحم کے اندر نطفہ کے چالیس یا پینتالیس روز ٹھہرنے کے بعد ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور عرض کرتا ہے الٰہی یہ بد بخت ہے یا نیک بخت (حسب الحکم) دونوں باتوں میں سے کوئی بات لکھ دی جاتی ہے پھر عرض کرتا ہے مالک یہ نر ہے یا مادہ (حسب الحکم) یہ چیز بھی لکھ دی جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے اعمال، احوال، مدت، زندگی اور رزق بھی تحریر کردیا جاتا ہے پھر تحریر کو لپیٹ دیا جاتا ہے پھر اس میں زیادتی کمی نہیں کی جاتی۔ (رواہ البغوی)
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ : وہی ہے جس نے آپ ﷺ کے اوپر کتاب یعنی قرآن اتارا۔ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ : جس کی کچھ مضبوط آیات ہیں یعنی ایسی محکم آیات ہیں جن کو زبان داں شخص سن کر اشتباہ میں نہیں رہتا۔ نہ ظاہری الفاظ اس کے لیے شبہ آفریں ہوتے ہیں نہ مفہوم کلام نہ مقتضائے کلام خواہ غور کرنے کے بغیر ہی مفہوم اور مقتضاء سمجھ میں آجاتا ہو جیسے آیت : قل تعالو اتل ما حرم ربکم علیکم اور آیت : و قضٰی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ اور آیت : لیس کمثلہ شی و ھو السمیع البصیر یا غور و تامل کے بعدکلام کا مقتضاء سمجھ میں آجاتا ہو۔ شارع کی طرف سے بیان کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ جیسے آیت : السارق والسارقۃ۔۔ پر قدرے غور کرنے کے بعد خود ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ جیب تراش کو یہ آیت شامل ہے کیونکہ چوری کا معنی جیب تراشی میں موجود ہے بلکہ جیب تراشی کا مفہوم چوری کے مفہوم سے کچھ زائد ہی ہے (جیب تراش پرایا مال پوشیدہ طور پر لیتا ہے اور مالک مال کے پاس سے بہت ہی چھپ چھپا کرلیتا ہے اوّل چوری کا مفہوم ہے اور دوسرا جیب تراشی کا) لیکن کفن چور اس آیت کے حکم میں نہیں ہے کیونکہ کفن نہ میت کی ملک ہوتا ہے کیونکہ مردہ دنیوی اعتبار سے مٹی کی طرح ہے اور میت کے وارثوں کی ملک بھی نہیں ہے کیونکہ وارث کفن کے علاوہ دوسرے مال کے مالک ہوتے ہیں۔ ایک اور آیت بھی اسی طرح کی ہے اللہ نے فرمایا ہے : وارجلکم الی الکعبین ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوؤ چونکہ اس آیت میں دھونے کی آخری حد مذکور ہے اس لیے ظاہر ہے کہ ارجلکم کا عطف وجوھکم یا ایدیکم پر ہوگا (ورنہ لازم آئے گا کہ ٹخنوں تک مسح کی حد مقرر کی جائے جو غلط ہے 1 ؂) ایک اور آیت ہے : ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ 2 ؂ غور کرنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ تین حیض مراد ہیں طہر مراد ہونے کی صورت میں تین کا عدد پورا متحقق نہ ہوگا کیونکہ طلاق طہر میں ہی مشروع ہے اب اگر طلاق والے طہر کو بھی مدت عدت میں شمار کیا جائے گا تو تین طہر پورے نہ ہوں گے اور شمار نہ کیا جائے گا تو تین طہر سے زائد ہوجائیں گے اس لیے تین حیض مراد ہیں ایک اور آیت ہے : قَوَارِیْرَ مِنْ فِضَّۃٍ غور کرنے سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ قواریر سے وہ ظروف مراد ہیں جو چاندی کے ہونگے مگر چمک اور صفائی میں شیشہ کی طرح ہوں گے۔ ہم نے محکم کے معنی کی یہ توضیح حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی روشنی میں کی ہے اس توضیح پر ظاہر نص مفسر محکم خفی مشکل سب ہی محکمات کے اقسام قرار پاتے ہیں۔ محمد بن جعفر بن زبیر نے کہا کہ محکم وہ بیان ہوتا ہے جس کا صرف ایک ہی معنی محتمل ہوتا ہے دوسرے معنی کا احتمال ہی نہیں ہوتا۔ بعض نے کہا کہ محکم وہ بیان ہے جس کا معنی معروف ہو اور اس کی دلیل بالکل واضح ہو۔ مؤخر الذکر دونوں تفسیروں کی مراد بھی وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ : آیات محکمہ اصول فرائض ہیں۔ قاموس میں ہے ام ماں کو کہتے ہیں ہر چیز کی ام اس کی اصل اور سہارا ہوتی ہے۔ ام القوم : سردار قوم۔ ہر شے کی ام وہ ہے جو مختلف اشیاء کا مجموعہ ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں اس جگہ لفظ کتاب بمعنی مکتوب ہے اور مکتوب سے مراد ہے فرض کردہ جیسے آیت : کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَام میں کُتِبَ کا معنی ہے فرض کیا گیا۔ اس صورت میں ام الکتاب میں اضافت بتقدیر لام ہوگی یعنی محکمات وہ ہیں جو فرائض مامورات و منہیات کی اصول ہیں ‘ یا الکتاب سے قرآن مراد ہے اس صورت میں ام الکتاب کی اضافت یا بتقدیر مِن ہوگی یا بتقدیر لام اوّل شق پر یہ معنی ہوں گے کہ محکمات احکام قرآن کے اصول ہیں انہی سے احکام اخذ کئے جاتے ہیں۔ شارع کے (مزید) بیان کی ضرورت نہیں رہتی۔ دوسری شق پر یہ معنی ہوں گے کہ محکمات قرآن کا مدار اور سہارا ہیں تمام آیات کی سردار ہیں دوسری آیات کی ان کو ضرورت نہیں بلکہ دوسری آیات کو انہی سے ملا کر مطلب نکالا جاتا ہے۔ آیات محکمات کا تعدد چاہتا تھا کہ امہات الکتاب (بصیغۂ جمع) کہا جاتا لیکن تمام محکمات کا مجموعہ ایک ماں کی طرح ہے احکام مجموعہ کا استخراج مجموعہ محکمات سے ہوتا ہے ہر ایک سے نہیں اس لیے مفرد کا صیغہ استعمال کیا۔ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ : اور کچھ دوسری آیات متشابہات ہیں جب تک شارع کی طرف سے محکم عبارت میں ان کا بیان نہ ہو کوئی لغت شناس اور واقف زبان غور اور تامل کرنے کے بعد بھی ان کی مراد نہیں سمجھ سکتا اب اگر شارع کی طرف سے مراد کا بیان اور وضاحت ہوجائے تو اصول فقہ کی اصطلاح میں ایسے متشابہ کو مجمل کہتے ہیں جیسے صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، عمرہ اور آیت ربوا وغیرہ اور اگر شارع کی طرف سے بیان وتعلیم نہ ہو تو ایسے متشابہ کو اصول فقہ کی اصطلاح میں متشابہ کہتے ہیں۔ اس قسم کا تشابہ انہی امور میں ہوسکتا ہے جن سے عمل کا تعلق نہ ہو ورنہ تکلیف ما لا یطاق لازم آئے گی جیسے سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات ہیں۔ یا آیت : ید اللہ فوق ایدیھم اور آیت الرحمٰن علی العرش استویٰ ہے اس طرح کے متشابہات کا علم بعض اہل عرفان کو الہام اور تعلیم الٰہی کے ذریعہ سے کبھی ہوجاتا ہے جس طرح حضرت آدم کو اللہ نے تمام اسماء کا علم عطا فرمایا تھا۔ مشکوٰۃ نبوت سے خوشہ چینی شرح صدر کے بعد ہی ممکن ہے اور ایسی خوشہ چینی کبھی کبھی ہوتی ہے اور اسی وقت ہوتی ہے جبکہ زبان اور لغت سے تعلیم و تعلم ممکن نہ ہو کیونکہ ان حقائق کے لیے کوئی لفظ موضوع ہی نہیں ہے اس لیے عوام کا علمی خزانہ ان سے خالی ہے جن امور و احکام سے اعمال تکلیفیہ کا تعلق ہے۔ ان کے متعلق تاخیر بیان جائز نہیں تاکہ تکلیف بالمحال لازم نہ آئے۔ ایک شبہ آیت : الرکتاب احکمت ایاتہ بتارہی ہے کہ تمام آیات محکم ہیں لیکن دوسری آیت میں : کتابا متشابھا آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن متشابہ ہے اور اس جگہ بعض آیات کو محکم اور بعض کو متشابہ قرار دیا ہے یہ اختلاف بیان کیوں ہے۔ ازالہ پورے قرآن کے محکم ہونے کا یہ معنی ہے کہ تمام قرآن فساد معنی اور ضعف عبارت سے محفوظ ہے ایسا محکم ہے کہ کوئی اس پر نکتہ چینی نہیں کرسکتا۔ نہ مقابلہ کرسکتا ہے اور پورے قرآن کے متشابہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ حسن اور کمال میں سارا قرآن ایک جیسا ہے تمام آیات باہم حسن میں متشابہ ہیں اور اس جگہ تفریق و تقسیم سے مراد یہ ہے کہ بعض آیات کے معانی واضح ہیں (کہ مراد کا تعدد ممکن ہی نہیں) اور بعض کے خفی ہیں (کہ بغیر شارع کے بیان کے معلوم نہیں ہوسکتے) فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ : پس جن لوگوں کے دلوں میں حق سے کجی ہے۔ ربیع نے کہا آیت میں اہل نجران کا کا عیسائی وفد مراد ہے۔ اہل وفد نے رسول اللہ سے کہا تھا کیا آپ عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ نہیں کہتے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں کہتے۔ اہل وفد نے کہا بس ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلبی نے کہا یہودی مراد ہیں جنہوں نے ابجد کے حساب سے اس امت کی مدت بقاء کا علم حاصل کرنا چاہا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ کا ایک یہودی گروہ خدمت گرامی میں حاضر ہوا حیی نے کہا ہم کو اطلاع ملی ہے کہ آپ پر الم نازل ہوئی ہے ہم آپ کو قسم دے کر دریافت کرتے ہیں کہ کیا اللہ نے آپ پر اس کو نازل فرمایا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! حیی بولا اگر یہ بات صحیح ہے تو میں اس کو آپ کی امت کی مدت زندگی خیال کرتا ہوں اور یہ کل مدت 71 سال ہوگی کیا اس کے علاوہ کچھ اور بھی نازل ہوا ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ المص (بھی نازل ہوا ہے) حیی بولا اب تو بہت مدت ہوگئی۔ 161 سال ہوگئے کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں الر ہے بولا اس کی شمار بھی زیادہ ہے اس کی تعداد دو سو اکتیس ہے کیا اور بھی کچھ اترا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں المر ہے کہنے لگا یہ بھی بہت مدت ہے 271 سال کی ہے آپ نے ہمارے لیے گڑ بڑ کردی ہم نہیں سمجھتے کہ زیادہ مدت قائم کریں یا کم مدت ہم ایسی باتوں کو نہیں مانتے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن جریح نے کہا آیت میں منافق مراد ہیں اور حسن کے نزدیک خوارج مراد ہیں امام احمد وغیرہ نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے ارشا دنبوی اسی طرح نقل کیا ہے۔ قتادہ جب یہ آیت پڑھتے تھے تو کہتے تھے اگر یہ لوگ حروریہ اور سابیہ گروہ نہیں تو میں نہیں جانتا کہ اور کون لوگ ہیں بعض لوگوں کے نزدیک تمام بدعتی مراد ہیں صحیح یہ ہے کہ لفظ عام ہے مذکورہ بالا تمام گروہ اس میں داخل ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے آیت : ھو الذی انزل علیک الکتاب منہ اٰیات محکمات ھُنَّ ام الکتاب و اخر متشابھات اولوالالباب تک تلاوت فرمائی اور فرمایا : اگر تم ایسے لوگ دیکھو کہ متشابہات قرآن کے پیچھے پڑے ہیں تو (سمجھ لینا کہ) یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے اور ان سے احتیاط رکھنا۔ (رواہ البخاری) حضرت ابو مالک ؓ اشعری کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ فرما رہے تھے مجھے اپنی امت کے متعلق صرف تین باتوں کا اندیشہ ہے ان تین باتوں میں سے حضور ﷺ نے ایک بات یہ بیان فرمائی کہ بعض (لوگ) کتاب کھول کر متشابہات کی تاویلیں کرنے کے طلب گار ہوں گے حالانکہ ان کی تاویل سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا پکے علم والے تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارا اس (قرآن) پر ایمان ہے یہ سب ہمارے مالک کی طرف سے آیا ہے اور نصیحت پذیر صرف اہل دانش ہی ہوتے ہیں۔ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ : یعنی ٹیڑھے دلوں والے ‘ قرآنی متشابہات کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اہل بدعت اپنی نفسانی خواہش کے زیر اثر متشابہ کے اس معنی سے وابستگی اختیار کرتے ہیں جو ان کے مسلک کے موافق ہوتا ہے اور الفاظ میں اس معنی کا کچھ احتمال ہوتا ہے نہ محکم آیات و احادیث کی طرف رجوع کرتے ہیں نہ اس معنی پر کلام کو محمول کرتے ہیں جو دوسرے محکمات کے مطابق ہوتا ہے یا یہ مراد ہے کہ متشابہات پر ایمان رکھتے ہوئے اور ان کی مراد کو تسلیم کرتے ہوئے سکوت نہیں اختیار کرتے (بلکہ اپنی طرف سے تاویلیں کرتے ہیں) پس بقدر امکان متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹانا واجب ہے تاکہ مجمل کی مراد واضح ہوجائے اور اس پر عمل کیا جاسکے۔ جیسے نماز زکوٰۃ اور سود وغیرہ 1 ؂ یا متشابہات کی تاویل اور تعیین معنی کو چھوڑ کر خاموشی اختیار کرلی جائے اور اس بات پر ایمان رکھا جائے کہ ان سے جو کچھ شارع کی مراد ہے وہ حق ہے ہم اس کو مانتے ہیں۔ جب اجماع امت اور احادیث متواترہ کی نصوص سے ثابت ہوچکا ہے کہ چودھویں کے چاند کی طرح قیامت کے دن اہل ایمان کو دیدار الٰہی ہوگا تو اس پر ایمان رکھنا اور یہ کہنا لازم ہے کہ آیت : وجوہ یومئذٍ ناضرہ الی ربھا ناظرۃ میں رویت اور نظر سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہے ہاں محکم نص سے اگر معنی کی تعیین نہ ہوئی ہو جیسے : ید اللہ فوق ایدیھم اور الرحمن علی العرش استوی میں (دست خدا اور استواء بالائے عرش کے معنی کی تعیین کسی محکم آیت یا متواتر حدیث میں نہیں آئی ہے) تو ایسی آیات کے معنی میں سکوت اختیار کیا جائے لیکن ان پر ایمان رکھنا لازم ہے اور ظاہری معنی پر ایسے متشابہ الفاظ کو محمول نہ کیا جائے اور محکم آیت : لیس کمثلہ شیء کے معنی پر عمل کرتے ہوئے کہہ دیا جائے کہ اللہ ممکنات کی تمام صفات سے پاک ہے نیز مقطعات کی تفسیر میں خواہ مخواہ تکلیف نہ اٹھائی جائے۔ اس کی اجازت نہیں ہے۔ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ : یعنی وہ متشابہات کے پیچھے اس غرض سے پڑتے ہیں کہ مسلمانوں میں دین کی طرف سے فتنہ بپا کردیں، شک ڈال دیں، اشتباہ پیدا کردیں اور محکم کا متشابہ سے مقابلہ کرکے محکم کو توڑ دیں۔ 1 ؂ منافقوں کا یہی وتیرہ ہوتا ہے چناچہ روایت میں آیا ہے کہ بعض یہودیوں نے جب اسلام کی شوکت اور بلندی دیکھی تو جل گئے اور یقین کرلیا کہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی یہ امداد ان کے دین کی وجہ سے ہو رہی ہے لہٰذا دوغلے بن گئے ظاہر میں اسلام لے آئے اور متشابہات کی غلط توجیہات تفسیری کرنے لگے اور مذاہب باطلہ کی ایجاد کرنی شروع کردی چناچہ حروریہ اور معتزلہ اور رافضی وغیرہ بن گئے وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ : اس کا عطف ابتغاء الفتنۃ پر ہے یعنی وہ اپنی خواہش کے موافق متشابہات کی تفسیر کرنے کے لیے ان کے پیچھے پڑتے ہیں۔ تفسیر متشابہات کی طلب کبھی مبنی بر جہالت ہوتی ہے جیسا کہ بعض متاخرین اہل بدعت نے کیا ہے البتہ متقدمین منافق اکثر مذکورہ بالا دونوں وجوہ کی وجہ سے ہی متشابہات کی تفسیر کے در پے ہوا کرتے تھے۔ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ : حالانکہ متشابہات کی اصلی مراد سے واقف سوائے خدا کے کوئی نہیں۔ یعنی عربی زبان کو جاننا متشابہات کی مراد جاننے کے لیے کافی نہیں۔ بغیر خدا کے واقف کئے ہوئے کوئی نہیں جان سکتا ہماری اس توضیح پر عمل متشابہات کا اللہ میں حصراضافی ہوگا حقیقی نہ ہوگا (یعنی یہ مطلب نہ ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی انسان یا فرشتہ متشابہات کی مراد سے واقف ہی نہیں ہوسکتا بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ خدا کی طرف سے واقف کئے بغیر محض عربی دانی اور قیاس آرائی کی وجہ سے کوئی شخص ان کی صحیح مراد سے واقف نہیں ہوسکتا) لہٰذا آیت اس بات پر دلالت نہیں کر رہی ہے کہ رسول اللہ اور آپ کے بعض خصوصی کامل امتی بھی متشابہات کے معنی نہیں جانتے۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں آیا ہے : لَا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللہ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی بھی اللہ کے سوا غیب نہیں جانتا۔ (یہ بھی حصر اضافی ہے یعنی بغیر خدا کی طرف سے واقف بنائے ہوئے کوئی بھی از خود غیب سے واقف نہیں) ہم نے حصر کو اضافی اس لیے قرار دیا کہ اللہ نے خود فرما دیا ہے : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ اس آیت کا تقاضا ہے کہ اللہ کی طرف سے قرآن کے محکم و متشابہ کا بیان رسول اللہ کے لیے ہونا لازم اور ضروری ہے۔ رسول اللہ کے لیے قرآن کا کوئی حصہ بھی بغیر بیان کے نہ رہنا چاہئے ورنہ خطاب بیکار ہوگا اور خلاف وعدہ لازم آئے گا۔ صحیح بات وہی ہے جو ہم نے سورة بقرہ کے اوّل میں لکھ دی ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے درمیان متشابہات ایک راز ہیں عام لوگوں کو ان کا علم عطا کرنا مقصود ہی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے متشابہات کا علم ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول اللہ اور آپ کے بعض کامل امتیوں کو ہی بتانا مقصود ہے اور اخص الخواص حضرات ہی علم لدنی کے ذریعہ سے ان سے واقف ہوتے ہیں اور علم لدنی کا حصول صرف بےکیف، ذاتی یا صفاتی معصیت کے سبب سے ہوتا ہے (تحصیل اور کسب اور غور و فکر سے نہیں ہوتا) ۔ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ : اور جو لوگ علم میں پکے اور جمے ہوئے ہیں کہ ان کو کوئی شک و شبہ لاحق ہی نہیں ہوتا یہ لوگ اہل السنت والجماعت ہیں جنہوں نے مضبوطی کے ساتھ قرآن و حدیث کے محکمات کو پکڑ لیا ہے اور قرآن مجید کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین کے اجماع کی پیروی کی ہے اور متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹا دیا ہے اور اپنی خواہشات اور نفسانی ملمع کاریوں کو ترک کردیا ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ : الراسخون فی العلم سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے۔ میں کہتا ہوں اس تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اہل تصوف کہتے ہیں کہ راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو نفس اور عناصر کو فناء کرکے خواہشات سے بالکل الگ ہوچکے ہیں۔ تجلیات ذاتیہ میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ کوئی شبہ ان کو لاحق ہی نہیں ہوسکتا وہ کہتے ہیں کہ اگر نقاب ہٹا بھی دیا جائے تو جتنا یقین ہم کو ہوچکا ہے اس سے زیادہ نہ ہوگا (یعنی ہمارے یقین میں اضافہ کی گنجائش ہی نہیں ہے ہمارا ایمان عین مشاہدہ ہے ہم کو حق الیقین حاصل ہوچکا ہے) ۔ طبرانی وغیرہ نے حضرت ابو الدرداء ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ سے راسخین فی العلم کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا : جو لوگ قسم کے پورے زبان کے سچے استقامت قلبی رکھنے والے اور شکم و شرمگاہ کو (حرام سے) بچانے والے ہیں وہ راسخین فی العلم میں سے ہیں میں کہتا ہوں یہ اوصاف صوفیہ کے ہیں۔ آیت کی ترکیب عبارت میں (حنفیہ (رح) اور شافعیہ (رح) کا اختلاف ہے ایک گروہ قائل ہے کہ والراسخون میں واؤ عطف کا ہے اس وقت آیت کا معنی یہ ہوگا کہ متشابہات کو اللہ جانتا ہے اور راسخ علماء بھی جانتے ہیں اس صورت میں آئندہ جملہ۔ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ : لا حالیہ ہوگا یعنی علماء راسخین یہ کہتے ہوئے متشابہات کا علم رکھتے ہیں کہ پورا قرآن ہمارے رب کا بھیجا ہوا ہے ہم اس پر ایمان لائے۔ اسی کی نظیر ہے۔ آیت : لِلْفُقَرَاءِ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ ۔۔ وَالَّذِیْن تَبَوَّءُ وَلدَّارَ وَالْاِیْمَانَ ۔ پھر فرمایا : وَالَّذِیْنَ جَاءُ وْ مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِیْمَانِ ۔ (اس آیت میں بھی یقولون جملہ حالیہ ہے) یہ قول مجاہد اور ربیع کا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے بھی فرمایا تھا کہ میں راسخین فی العلم میں سے ہوں (یعنی متشابہات کی تفسیر سے واقف ہوں) یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ مجاہد نے فرمایا : میں بھی متشابہ کے مرادی معنی جاننے والوں میں سے ہوں۔ اکثر علماء کا خیال ہے کہ والراسخون میں واؤ استیناف کلام کے لیے ہے گذشتہ کلام الا اللہ پر ختم ہوگیا یہاں سے نیا کلام شروع ہو یہ قول حضرت ابی بن کعب حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عروہ بن زبیر ؓ کا ہے طاؤس کی روایت میں اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی کی گئی ہے حسن بصری اور اکثر تابعین بھی اسی کے قائل ہیں۔ کسائی فراء اور اخفش کے نزدیک بھی یہی قول پسندیدہ ہے اس کی تائید حضرت ابن مسعود ؓ کی دوسری قراءت سے بھی ہوتی ہے جس میں : و ما یعلم تاویلہ کی جگہ اِنْ تَاوِیْلُہٗ اِلَّا عِنْدَ اللہ والراسخون فی العلم یقولون۔۔ آیا ہے (اس قراءت پر تو والراسخون کا عطف اللہ پر ہو سکنا ممکن ہی نہیں) نیز حضرت ابی بن کعب کی قراءت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں آیت اس طرح آئی ہے : و یقول الراسخون فی العلم امنا بہ (اس قراءت پر بھی الراسخون کا عطف اللہ پر نہیں ہوگا) اسی لیے عمر بن عبد العزیز نے فرمایا تھا کہ تفسیر قرآن کے علم میں رسوخ رکھنے والوں کے علم کی یہ آخری حد آگئی کہ انہوں نے آمنا بہٖ کہہ دیا۔ كُلٌّ : سب۔ یعنی محکم متشابہ ناسخ منسوخ اور جس کی مراد سے ہم واقف ہیں وہ اور جس کی مراد سے ہم واقف نہیں وہ سب۔ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا : ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ راسخین فی العلم کا حال ان لوگوں کے حال سے بالکل برعکس ہے جن کے دل خواہشات نفسانی کی وجہ سے ٹیڑھے ہوگئے ہیں اور وہ اپنے ہی خیال کے پیرو ہیں جب کوئی علمی چمک ان کے سامنے آجاتی ہے اور نص شریعت ان کے خیالات کے مطابق ہوجاتی ہے تو اس روشنی میں وہ (چند قدم) چل لیتے ہیں اور اس کو مان لیتے ہیں لیکن اگر نص قرآنی کی تاویل ان کو نہ سوجھی اور اندھیرا چھا گیا اور نصوص شریعت ان کے خیالات کے مطابق نہ ہوئیں تو متحیر ہو کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور نہیں مانتے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ قول ظاہر آیت کے بھی مناسب ہے اور قواعد عربی کے بھی زیادہ مطابق ہے بغوی کی مراد یہ ہے کہ واؤ کو عاطفہ نہ قرار دینا اور الراسخون سے استیناف کلام ہونا قیاس نحوی کے زیادہ مطابق ہے کیونکہ علماء نحو کا اجماع ہے کہ نفی سے استثناء اثبات ہوتا ہے اور الراسخون میں الف لام استغراق کا ہے اب اگر واؤ کو عاطفہ کہا جائیگا تو یہ مطلب ہوجائیگا کہ متشابہات کو کوئی نہیں جانتا مگر اللہ اور تمام راسخین فی العلم یہ مطلب بدایت اور روایت دونوں کے خلاف ہے (نہ تمام راسخین کا عالم متشابہات ہونا روایۃً ثابت ہے نہ واقع میں ایسا ہے) ۔ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ : اور صرف سالم عقلوں والے ہی مضمون قرآن سے نصیحت اندوز ہوتے ہیں کیونکہ سلامتی عقل کا یہی تقاضا ہے کہ جس کا علم نہ ہو اسکے علم کو دانا بینا متکلم کے ہی سپرد کردیا جائے (نہ جاننے کے باوجود جاننے کے مدعی بن کر) جہل مرکب کی دلدل میں پھنسنا اور وادی گمراہی میں سرگرداں رہنا خلاف دانش ہے۔ بعض اکابر کا قول ہے کہ میں علم کا آدھا حصہ بھی نہیں جانتا۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا : اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو حق کی طرف سے نہ پھیر دے۔ ٹیڑھا نہ کردے جس طرح تو نے ان لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیردیا ہے جن کے قلوب میں کجی ہے۔ یہ جملہ راسخین فی العلم کا مقولہ بھی ہوسکتا ہے یعنی وہ یہ کہتے ہیں اور اللہ کی طرف سے تعلیم اور حکم بھی ہوسکتا ہے کہ جب متشابہات پر پہنچو تو یوں کہو کہ اے ہمارے رب۔۔ بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا : اسکے بعد کتاب بھیج کر تو نے ہم کو ہدایت کردی اور محکم و متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق عنایت کردی۔ وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً : اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت یعنی توفیق اور ثبات ایمانی عطا فرما۔ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ : بلاشبہ تو ہی وہاب ہے ہر مانگ کو عطا فرماتا ہے۔ اس آیت میں دلیل ہے اس امر کی کہ ہدایت ہو یا گمراہی سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس کی توفیق و عدم توفیق پر موقوف ہے اس پر کسی کا حق واجب نہیں بلکہ وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : کوئی قلب ایسا نہیں کہ وہ رحمن کی چٹکی میں نہ ہو (ہر قلب رحمن کی چٹکی میں ہے) وہی سیدھا کرنا چاہتا ہے سیدھا کردیتا ہے ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے ٹیڑھا کردیتا ہے رسول اللہ دعاء کیا کرتے تھے اے دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ۔ (عزت و ذلت کی) ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے روز قیامت تک وہ کسی قوم کو اونچا اور کسی قوم کو نیچا کرتا رہے گا۔ (رواہ البغوی) اسی قسم کی حدیث امام احمد اور ترمذی نے حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت سے اور مسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے اور ترمذی وابن ماجہ نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے کہ صحیحین میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : دل کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی پر کسی چٹیل میدان میں پڑا ہو اور ہوائیں اس کو الٹ پلٹ کر رہی ہوں۔ (رواہ احمد)
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ : اے ہمارے رب تو لوگوں کو ضرور جمع کرے گا قیامت کے فیصلہ کے لیے یا قیامت کے دن۔ مؤخر الذکر شق پر لیوم کا لام فی کے معنی میں ہوگا۔ لَّا رَيْبَ فِيْهِ : جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں نہ اس دن اعمال کی جزاء و سزاء واقع ہونے میں کوئی شک ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ : یہ یقینی بات ہے کہ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔ میعاد بروزن مفعال وَعْدٌ سے ماخوذ ہے۔ بھلائی کا وعدہ کرکے خلاف ورزی کرنا شان الوہیت کے لیے عیب ہے اس لیے ناممکن ہے ہاں وعید عذاب کی خلاف ورزی بصورت مغفرت ہمارے نزدیک جائز ہے خواہ توبہ کی ہو یا نہ کی ہو۔ وعید یہ معتزلہ کا قول ہے کہ وعید عذاب کی خلاف ورزی بھی جائز نہیں یہ لوگ اپنے قول کے ثبوت میں یہی آیت پیش کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ (یہ آیت مطلق نہیں مقید ہے) تمہارے اور ہمارے سب کے نزدیک وعید عذاب کی شرط یہ ہے کہ فاسق نے توبہ نہ کی ہو (توبہ کرنے کے بعد وعید عذاب متحقق نہ ہوگی) پس جس طرح وعید عذاب عدم توبہ کے ساتھ مشروط ہے اسی طرح ہمارے نزدیک عدم عفو کے ساتھ بھی مشروط ہے (کہ اگر گناہگار کو اللہ معاف نہیں کرے گا تو عذاب ہوگا) کیونکہ مندرجہ ذیل آیات کا حکم عام ہے (کافروں کے علاوہ تمام گنہگار اس کے اندر داخل ہیں) اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآء دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے : یَغْفِرُلِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ۔ تیسری آیت ہے : وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّالُوْنَ ایک اور آیت میں حکم ہے : لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ اس موضوع کی حدیثیں ان گنت آئی ہیں۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : بیشک جن لوگوں نے کفر کیا کفروا کا لفظ مشرکوں کو بھی ہے اور اہل کتاب کو بھی۔ لَنْ تُغْنِىَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا : ان کے مال اور اولاد اللہ کی رحمت یا طاعت کا عوض بالکل نہیں ہوسکتے۔ اس ترجمہ پر شیئاً موصوف محذوف کی صفت ہوگا۔ یعنی اِغْناءً ا شَیءًا اور لن تغنی کا مفعول مطلق بنے گا کیونکہ اغناء (مصدر باب افعال) لازم ہے مفعول بہ کو نہیں چاہتا لیکن اگر ترجمہ اس طرح کیا جائے کہ ان کے مال و اولاد اللہ کے عذاب کے کسی حصہ کو دفع نہیں کرسکیں گے تو چونکہ اس وقت غناء دفع کے معنی کو متضمن ہوگا اس لیے شیئاً مفعول بہ ہوجائے گا۔ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمْ وَقُوْدُ النَّارِ : اور یہی وہ لوگ ہیں جو آگ کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 3:11

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ : لا دأب مصدر ہے دَأبَ فی العمل کام میں محنت کی۔ یعنی ان لوگوں کا فعل کفر و تکذیب انبیاء آ ل فرعون کے عمل کی طرح ہے حضرت ابن عباس ؓ ، عکرمہ ؓ اور مجاہد ؓ کا یہی قول ہے کہ بعض لوگوں نے کہا کہ دأب کا معنی اس جگہ شان ہے یعنی ان کا حال کفر۔ آل فرعون کے حال کی طرح ہے۔ ابو عبیدہ نے دأب کا ترجمہ طریقہ کیا ہے۔ اخفش نے امر ترجمہ کیا ہے نصر بن شمیل نے عادت طریقہ شان حال وغیرہ سے اس لفظ کی تشریح کی ہے۔ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : اور ان لوگوں کے حال کی طرح جو آل فرعون سے پہلے تھے۔ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاَخَذَھُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ : انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کو پکڑا اور سزا دی۔ وَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : اور اللہ سخت سزا والا ہے یعنی اس کی سزا سخت ہے۔ ابو داؤد نے سنن میں نیز ابن جریر نے اور بیہقی نے دلائل میں محمد بن اسحاق کے سلسلۂ روایت سے بحوالۂ سعید بن جبیر ؓ و عکرمہ ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ جب بدر میں کامیاب ہو کر مدینہ کو واپس آئے تو آپ نے بنی قینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کرکے خطاب کیا اور فرمایا : اے گروہ یہود قبل اس کے کہ قریشیوں کی طرح تم پر مصیبت آئے مسلمان ہوجاؤ یہودیوں نے جواب دیا محمد ﷺ اس کا غرور نہ کرنا کہ چند قریشیوں کو تم نے قتل کردیا ہے وہ تو ناتجربہ کار تھے جنگ سے واقف ہی نہ تھے ہم سے لڑو گے تو معلوم ہوگا آدمی ہم ہیں ہماری نظیر تم کو نہ ملی ہوگی۔ اس گفتگو کے بعد اللہ نے مندرجہ ذیل آیات اولی الابصار تک نازل فرمائی۔
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

قُلْ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : کافروں سے یعنی ان یہودیوں سے کہہ دو کہ۔ سَـتُغْلَبُوْنَ : عنقریب تم مغلوب ہو گے اپنی یہ پشین گوئی اللہ نے پوری کردکھائی بنی قریظہ کو قتل اور بنی نضیرکودیس بدر کیا گیا خیبر فتح ہوا اور وہاں کے یہودیوں پر جزیہ مقرر کیا گیا۔ مقاتل نے بیان کیا کہ ان آیات کا نزول بدر کے واقعہ سے پہلے ہوا تھا اور الذین کفروا سے مشرکین مکہ مراد ہیں یعنی مکہ کے کافروں سے کہہ دو کہ تم بدر کے دن مغلوب ہو گے چناچہ اس آیت کے نزول کے بعدرسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن ان سے فرمایا کہ اللہ تم پر غالب آگیا اور تم کو ہنکا کر جہنم کی طرف لے گیا۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب بدر کے دن مشرکوں کو شکست ہوگئی تو مدینہ کے یہودیوں نے کہا : خدا کی قسم یہ تو وہی نہیں ﷺ ہیں جن کی بشارت موسیٰ نے دی تھی ان کا پھریرا نہیں لوٹایا جاسکتا۔ چناچہ یہودیوں نے آپ کے اتباع کا ارادہ کرلیا مگر پھر بعض لوگوں نے کہا ابھی جلدی نہ کرو ایک واقعہ اور دیکھ لو اس کے بعد جب احد کی لڑائی میں صحابیوں کو شکست ہوئی تو یہودی شک میں پڑگئے بدبختی غالب آگئی اور مسلمان نہ ہوئے یہود اور صحابہ ؓ کا مدت مقرر کے لیے ایک معاہدہ تھا۔ یہودیوں نے بین المیعاد اس معاہدہ کو بھی توڑ دیا اور کعب بن اشرف ساٹھ سواروں کو لے کر مکہ پہنچا اور اہل مکہ کو چڑھائی کرنے کی ترغیب دی اور سب نے باتفاق رائے رسول اللہ سے لڑنے کا ارادہ کرلیا۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ : اور آخرت میں تم کو ہنکا کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ وَبِئْسَ الْمِهَادُ : اور جہنم برا ٹھکانا ہے۔ یہ جملہ یا تو اس مقولہ کا جزء ہے جو کافروں سے کہا گیا ہے یا جدا کلام ہے۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ : اگر آیت سابقہ میں یہودیوں کو خطاب ہے تو اس میں بھی یہودی ہی مخاطب ہیں اور اگر آیت کا نزول مشرکوں کے متعلق ہے تو یہ خطاب بھی انہی کو ہے۔ برتقدیر اوّل یہ مطلب ہوگا کہ اے گروہ یہود میں جو تمہارے مغلوب ہونے کا دعویٰ کر رہا ہوں اس دعوے کی دلیل کھلی ہوئی ہے بر تقدیر دوم یہ مطلب ہوگا کہ اے گروہ مشرکین میری نبوت کی نشانی اور دلیل واضح ہے۔ فِيْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا : ان دونوں گروہوں میں جن کا بدر کے دن مقابلہ ہوا تھا۔ فِءَۃٌ بمعنی فرقہ۔ فَیءٌ لوٹنا۔ لڑائی کے دن بعض لوگ بعض کی طرف (مارنے یا پناہ لینے کے لیے) لوٹتے ہیں اس لیے فرقہ کو فءۃ کہا جاتا ہے۔ (1) [ حضرت مولف کا بیان کردہ یہ وجہ تسمیہ صرف فئۃ جنگ کے لیے ہوسکتی ہے حالانکہ فئۃ کا لفظ عام ہے عامگ روہ یا جماعت کے معنی میں اس کا استعمال ہے، اس لیے اگر لڑائی کے دن کا لفظ وجہ تسمیہ سے ساقط کردیا جائے تو مناسب ہے، 12 ] فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا یعنی رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کا مؤمن گروہ اللہ کے حکم کی اطاعت میں لڑ رہا تھا۔ اس گروہ کی تعداد 313 تھی ‘ 70 مہاجر اور 236 انصار۔ مہاجرین کے علمبردار حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ تھے یہی صحیح روایت ہے بعض نے حضرت مصعب بن عمیر کو علمبردار کہا ہے۔ انصار کے علمبردار حضرت سعد بن عبادہ تھے۔ اس لشکر میں سترّ اونٹ اور دو گھوڑے تھے ایک گھوڑا حضرت مقداد بن عمرو کا اور دوسرا حضرت مرثد بن ابی مرثد کا۔ اکثر فوجی پیادہ تھے۔ اسلحہ میں صرف چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں تھیں۔ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ : اور دوسرا گروہ کافر تھا یہ مکہ کے مشرک تھے۔ ان کی تعداد 950 تھی اور سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس تھا ان کے پاس سو گھوڑے تھے۔ بدر کی لڑائی جس میں رسول اللہ خود بنفس نفیس موجود تھے اوّل ترین جنگ تھی جو ہجرت سے اٹھارہ مہینے کے بعد ماہ رمضان 2 ھ میں ہوئی تھی۔ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ : نافع اور یعقوب کی قراءت میں ترونھم آیا ہے اب اگر یہودی مخاطب ہیں تو یہ مطلب ہوگا کہ تم کافروں کو مسلمانوں سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اس کے باوجود تمہاری نظروں کے سامنے فتح مسلمانوں کو ہوئی۔ بات یہ ہوئی کہ کچھ یہودی میدان قتال میں معاینہ جنگ کے لیے جا پہنچے تھے کہ دیکھیں پانسہ کدھر پڑتا ہے۔ ایک شبہ مشرک تو مسلمانوں سے تین گنے تھے ان کو دو گنا کیوں کہا گیا۔ جواب تعداد معین مراد نہیں ہے دو گنے سے مراد ہے تعداد کی کثرت جیسے آیت : فارجع البصر کر تین میں کر تین سے دو بار مراد نہیں بلکہ بار بار مراد ہے۔ اگر آیت کے مخاطب مشرک ہوں تو یہ مطلب ہوگا کہ تم کو لڑائی کے وقت مسلمان اپنے سے دو گنے نظر آرہے تھے۔ سوال سورة انفال میں آیا ہے : وَ یُقَلِّلُکُمْ فِیْ ٓ اَعْیُنِھِمْ اے مسلمانو ! کافروں کی نظر میں تمہاری تعداد اللہ کم کرکے دکھا رہا تھا اور اس آیت میں صراحت ہے کہ تمہاری تعداد ان کو اپنے سے دوگنی نظر آرہی ہے۔ دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔ جواب دونوں بیانوں میں تناقض بالکل نہیں ہے لڑائی سے پہلے کافروں کو مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم کرکے دکھائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ جری ہوگئے اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے لیکن لڑائی شروع ہونے کے بعدان کو نظر آیا کہ مسلمانوں کی تعداد ہم سے دوگنی ہے اس سے ان کے اندر بزدلی پیدا ہوگئی ہمتیں پست ہوگئیں اور شکست کھا گئے۔ جمہور کی قرأت یَرَوْنَھُمْ ہے یعنی مشرک مسلمانوں کو اپنے سے دگنا دیکھ رہے تھے یا جتنی تعداد واقعی مسلمانوں کی تھی اس سے دو گنا دیکھ رہے تھے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمان کافروں کو اپنے سے صرف دو گنا دیکھ رہے تھے حالانکہ وہ دوگنے نہ تھے بلکہ تین گنے تھے۔ اللہ نے کافروں کی تعداد مسلمانوں کی نظر میں قلیل کرکے اس لیے دکھائی کہ مسلمانوں کو ثبات و اطمینان حاصل رہے اور فتح کے اس وعدہ پر یقین رکھیں جس کا اظہار اللہ نے آیت : فان یکن منکم ماۃ صابرۃ یغلبوا مائتین میں فرمایا ہے اس کے بعد ایسا بھی وقت آیا کہ کافروں کی تعداد مسلمانوں کو اپنے برابر نظر آنے لگی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اوّل ہم کو کافر اپنے سے دوگنے نظر آتے تھے پھر جو ہم نے دیکھا کہ اپنے برابر ان کی تعداد نظر آئی ایک آدمی بھی زیادہ نہ دکھائی دیا۔ آخر میں اللہ نے کافروں کی تعداد ہماری نظر میں اتنی گھٹا دی کہ ہم ان کو اپنے سے کم دیکھنے لگے یہاں تک کہ میں نے اپنے برابر والے آدمی سے کہا ہم کو تو یہ کوئی ستر آدمی دکھائی دیتے ہیں اس نے کہا مجھے تو سو معلوم ہوتے ہیں۔ آیت میں رویت بمعنی علم ہے کیونکہ مثلیہم اس کا دوسرا مفعول ہے (اور رویت بمعنی نظر کا دوسرا مفعول نہیں ہوتا) مثلیہم کو حال قرار دینا معنی کے لحاظ سے غلط ہے۔ رَاْيَ الْعَيْنِ : آنکھوں دیکھتے۔ جب رویت مذکورہ بالا بمعنی علم ہے تو علم کو رأی العین قرار دینے میں مبالغہ ہے علم کی تشبیہ علمی مشاہدہ کے ساتھ ہونے سے علم میں قوت پیدا ہوگئی۔ اس وقت رای العین سے مراد ہوگا وہ علم جو آنکھوں سے دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے مسبب بول کر سبب مراد لینا بطور مجاز جائز ہے۔ یا حرف جر محذوف ہے۔ یعنی مسلمانوں کا کافروں کی تعداد کو کم سمجھنا مشاہدہ کی طرح تھا۔ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ : اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد سے قوی کردیتا ہے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ : مذکورہ تقلیل و تکثیر اور کمزور قلت کی مسلح کثرت پر فتحیابی کے اندر۔ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ : بصیرت والوں کیلئے یا ان لوگوں کیلئے جنہوں نے دونوں گروہوں کو دیکھا تھا بہت بڑی نصیحت ہے