3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 3:1
ترکیب : الم کی ترکیب بیان ہوچکی اللہ مبتداء لا الہ اِلَّا ھو جملہ اس کی خبر الحی القیوم موصوف و صفت خبر ثانی ‘ نزل علیک الخ جملہ یا خبر ثالث ہے یا مستانفہ ہے۔ بالحق حال ہے مفعول سے یا فاعل سے ای نزلہ محقانی تنزیلہ او متلبا بالحق۔ مصدقا حال ہے کتاب سے لما بین یدیہ جملہ مفعول ہے مصدقا کا اور لام کی ہے تقویۃ عمل کے لئے ھدی للناس خبر نصب میں ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 3:2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ اس کے سوا (اور) کوئی معبود نہیں

الم اس کی تشریح سورة بقرہ میں ہوچکی۔ اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ ان عیسائیوں کے مقابلہ میں ان کے تینوں عقیدے بطلان کے لئے یہ ایک چھوٹا سا جملہ بیشمار دلائل اور براہین کا مجموعہ ہے۔ ان کے تین عقیدے یہ تھے۔ اول تثلیث کہ خدا اور عیسیٰ اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا بعض حضرت مریم علیھا السلام کو تیسرا اقنوم قرار دیتے تھے۔ دوم حضرت عیسیٰ خدا ہے ٗ انسان کی شکل میں خدا نے ظہور کیا تھا۔ سوم حضرت عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے۔ آج کل کے عیسائی بھی بجز چند فرقوں کے یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس آیت میں ان تینوں عقیدوں کو باطل کردیا۔ اللّٰہ لا الہ الا ھو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ صرف اس توحید سے تینوں عقائد کا ابطال ہوگیا۔ اول کا اس لئے کہ جب خدا ‘ تثلیث اور توحید حقیقی میں صریح تضاد ہے۔ اگر ہر ہر جز کو خدا مستقل مانا جائے تو تین خدا ہوتے ہیں۔ اگر تینوں سے مرکب کو خدا کہا جائے تو وہ مرکب اعتباری واحد ہے نہ حقیقی طور پر علاوہ اس کے وہ حادث بھی ہوگا ٗ پھر وہ قیوم نہیں ہوسکتا کیونکہ قیوم حقیقی وہی ہے جس نے سب کو قائم و موجود کیا ہو۔ اس کو کسی نے موجود نہ کیا ہو اور حادث کے لئے محدث قیوم ہونا ہے۔ دوسرے کا ابطال اس طور سے کہ اگر عیسیٰ کو بھی خدا مانا جائے تو دو خدا ہوجاتے ہیں۔ توحید نہیں رہتی۔ اسی طرح سے تیسرے عقیدہ کا ابطال بھی ظاہر ہے کہ بیٹا قیوم نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے باپ قیوم ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ ایک ہے اس کی کیا دلیل ؟ اس کی دلیل یہ ہے الحی القیوم حی کے معنی زندہ کے ہیں جس واجب کو الوجود کہتے ہیں اور اس کے سوا جو کچھ ممکن الوجود ہے اس کی ذات کے لحاظ سے وہ معدوم ہے نہ حی ہے نہ قیوم ہے۔ اس جملہ میں اور جملہ مذاہب باطلہ کا بھی ابطال ہوگیا کس لئے کہ جس قدر مشرک گروہ ہیں وہ جو غیر اللہ کو پوجتے ہیں ضرور ان کو حی وقیوم سمجھتے ہیں۔ خدائی کارخانہ میں نفع و نقصان کا مالک و مختار بھی جانتے ہیں۔ عرب کے مشرک بتوں کو ارواح غیر مرئیہ کو جنوں کو ایرانی عناصر اور سیارات کو بعض فرشتوں اور خدا کے برگزیدہ بندوں کو پوجتے پکارتے ان کی نذر و نیاز کرتے ہیں۔ اسی اعتقاد سے کہ وہ کارساز ہے۔ جب آیت نے یہ ثابت کردیا کہ وہی حی یعنی زندہ ہے تو یہ جملہ اشیاء مرتبہ ذات میں سرے سے موجود ہی نہیں معدوم ہیں۔ پھر جب معدوم ہیں تو کیونکر قیوم یعنی کارساز ہیں۔ محمد ﷺ کی نبوت اور قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا ثبوت : جب خدا تعالیٰ ان کے عقائدِ مذکورہ کو باطل کرچکا اور توحید خوب ثابت ہوچکی تو اب آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن مجید کا کتاب الٰہی ہونا ثابت کرتا ہے نزل علیک الکتاب بالحق مصدقالما بین یدیہ یہاں کتاب یعنی قرآن مجید کی نسبت فرمایا ہم نے اس کو آپ پر اے نبی نازل کیا ہے۔ یہ کتاب برحق ہے اور اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ دو گواہ کتاب الٰہی ہونے کے لئے خدا نے بیان فرمائے جیسا کہ پہلے مطالب کے لئے دو گواہ الحی القیوم بیان کئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک شخص ایسے ملک کے باشندے سے کہ جس میں علوم و فنون کا مطلق چرچا نہ ہو اور خاص اس شخص نے نہ کبھی کچھ لکھا پڑھا ہو نہ کسی اہل علم یہودی یا نصرانی یا مجوسی کی صحبت پائی ہو۔ نہ جہان کی سیر کی ہو بلکہ چالیس برس کا وہ حصہ (کہ جس میں اکتساب علوم کیا جاتا ہے) ایک ریگستانی ملک کے دو خشک پہاڑوں میں گزارا ہو پھر اس پر دنیا کی تنگدستی اور عزیز و اقارب کے روزمرہ کے جورو ظلم اور بھی مزید ہوں پھر اس سے ایک ایسی کتاب کا ظاہر ہونا کہ جس میں یہ دو وصف ہوں بلاشک معجزہ ہے۔ وہ کتاب آسمانی اور وہ شخص نبی ہے۔ وصف اول برحق ہونا اس کی یہ صورت ہے کہ قرآن مجید کے مطالب عالیہ (ذات وصفات مبداء معاد ‘ انسان کی سعادت و شقاوت ‘ قصص گذشتہ اخبار آیندہ قوانین ملت ‘ دستور العمل ‘ سیاست ملک ‘ میراث ‘ بیع و شراء ‘ حلت و حرمت ‘ طہارت و نجاست علم اخلاق ‘ رحمدلی ‘ راستبازی ‘ بردباری ‘ خدا ترسی ‘ دنیا سے دل برداشتگی وغیرہ وغیرہ) کس عمدہ اور پاکیزہ عبارت میں مبالغہ شاعرانہ اور تخیلات جاہلانہ سے خالی ایسے ہیں کہ جن میں سے کوئی بھی عقل سلیم کے برخلاف نہیں۔ دوسرا وصف تصدیق کرنا کتب الٰہیہ کا۔ سو یہ بھی ایک بڑی بھاری بات ہے۔ قرآن میں اور کتب سابقہ تورات و انجیل و زبور کے مضامین مذکورہ بالا میں سرموتفاوت نہیں اور جو امور جزئیات فرعیات میں کچھ فرق ہے تو بلحاظ ملک و زمانہ ہے۔ اس لئے کہ انبیاء ہر زمانہ میں لوگوں کے مناسب احکام میں کمی زیادتی کیا کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر اس کے کہ سب کا مبداء الہام ربانی واحد مانا جاوے۔ ممکن نہیں بالخصوص اس شخص کے لئے کہ جس نے وہ کتابیں آنکھ سے بھی نہیں دیکھیں چہ جائیکہ ان کو یاد کیا ہو۔ پس جب اس قرآن میں یہ دو وصف ہیں تو اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کیا شبہ ہے اور جب یہ کتاب الٰہی ہے تو آنحضرت ﷺ نبی برحق ہیں۔
Ayahs 3:3–4

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

وہ زندہ (اور) عالم کا کارساز ہے (اے نبی ! ) اس نے آپ پر کتاب برحق نازل کی جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس سے پہلے تورات اور انجیل (بھی) نازل کرچکا ہے۔

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

لوگوں کی ہدایت کے واسطے اور اس نے حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا (قرآن) بھی اتارا جو لوگ اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں ان کے لئے (تو بڑا ہی) سخت عذاب ہے اور اللہ زبردست ‘ بدلہ لینے والا ہے۔

وانزل التورۃ والانجیل من قبل الآیہ۔ یہ دوسری دلیل ہے اس دعویٰ کے لئے یعنی یہ بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس سے پیشتر خدا نے تورات و انجیل نازل کی تھی۔ اب بتلائو ان کے کتاب الٰہی ہونے کی کیا دلیل ہے ؟ جو دلیل ان کے لئے ہے وہی قرآن کے لئے ہے۔ مبدئِ فیاض نے اپنی اسی رحمت سے انزل القرآن قرآن نازل فرمایا۔ پھر باوجود ان آیات بینات کے ان الذین کفروا جو کوئی خدا کی آیات کا انکار کرے گا ان کو عذاب شدید ہے وہ خدائے رحیم جس نے اپنے فضل سے کتابیں نازل فرمائی ہیں عزیز زبردست بھی ہے۔ ذو انتقام بدلہ لینے والا بھی ہے۔
Ayahs 3:5–6

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

اور اللہ سے تو کوئی چیز ( بھی) پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی جس طرح چاہتا ہے (ماں کے) پیٹ میں تمہاری صورتیں بنایا کرتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے

ترکیب : ھومبتداء الذی الخ خبر ‘ فی الارحام متعلق ہے یصور سے۔ کیف ظرف ہے یشا کا یہ کل جملہ موضع حال میں ہے فاعل یشاء سے ‘ تقدیرہ یصور کم علی مشیتہ ای مرید امنہ آیات محکمت جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ حال ہے کتاب سے۔ اس جملہ میں آیات محکمات صفت و موصوف مبتدا اور منہ خبر۔ ھُنَّ مبتداء ام الکتاب خبر ‘ لفظ ام گرچہ مفرد ہے لیکن معنی جنس کے دیتا ہے اس لئے جمع کی خبر ہوگیا۔ اُخر جمع ہے اخرٰی کی جو مونث ہے۔ آخرا فعل تفضیل کا معطوف ہے آیات پر ‘ متشابہات اس کی صفت ہے ما بمعنی الذی تشابہ منہ صلہ مجموعہ مفعول ہے۔ یتبعون کا ابتغاء مفعول لہ یتبعون کا الفتنۃ مضاف الیہ اور اسی طرح ابتغاء تا ویلہ والراسخون فی العلم مبتداء یقولون الخ خبر اور بعض کہتے ہیں والراسخون معطوف ہے لفظ اللہ پر اور یقولون حال ہے۔ تفسیر : پہلے خدا تعالیٰ نے عقائدِ باطلہ کے ابطال میں اپنے وصف میں الحی القیوم ذکر فرمایا تھا اور حی قیوم وہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی حاجات پوری کرے اور ان کی ضروریات کا خبر گیراں رہ کر تدبیر و تصرف کرے اور یہ بات دو وصف چاہتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کو ہر ایک بات کا علم بھی ہو۔ انجام آغاز پر نظر ہو۔ بےسوال کئے بھی حاجت کو جانتا ہو۔ دوسری یہ چیز کہ ہر چیز پر قادر بھی ہو۔ جو چاہتا وہ کرسکتا ہو۔ اس لئے صفت علم کے اثبات کے لئے ان اللّٰہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء فرمایا کہ اس کو ہر چیز معلوم ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ دوسرے وصف کے ثابت کرنے کو ھو الذی یصور کم فی الارحام کیف یشاء فرمایا کہ اس کا تصرف اشرف المخلوقات انسان پر بھی ماں کے پیٹ اور اندھیری کوٹھڑی میں کس نظم و نسق کے ساتھ ہے کہ عقل حیران ہے جس کی کسی قدر کیفیت کتب طبیہ سے معلوم ہوتی ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ اول وصف ان اللہ الخ بھی گویا ایک دعویٰ تھا۔ اس کے ثبوت کے لئے ھوالذی یصورکم دلیل قاطع ہے کیونکہ جو ارحام میں ایسی تصرفات کرتا ہے اس پر کوئی چیز کب مخفی رہ سکتی ہے ؟ یا یوں کہو پہلی آیات میں نصاریٰ کے عقائدِ فاسدہ تثلیث اور الوہیت مسیح وغیرہ کا رد تھا اور پیشتر عیسائی ان خیالات باطلہ پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علم وقدرت سے استدلال کیا کرتے ہیں۔ علم سے یوں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) غیب کی باتیں بتاتے تھے اور جو کوئی گھر میں کچھ کھا کر آتا اس کو بھی ظاہر کردیتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ خدا تھے کہ خدا انسان کی صورت میں ظاہر ہوا تھا یا خدا کے بیٹے تھے کہ جو باپ کی طرح علم مغیبات رکھتے تھے۔ قدرت سے اس طرح پر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے ٗ کوڑھیوں اندھوں کو تندرستی دیتے تھے ہوا کو ڈانٹتے اور جنوں کو نکالتے تھے۔ یہ بھاری کام انسان کے نہیں اس سے بھی معلوم ہوا کہ وہ خدایا اس کے بیٹے تھے۔ گرچہ پہلی آیتوں میں الحی القیوم فرما کر ان شبہات کو رد کردیا تھا لیکن یہاں تتمہ کے طور پر اور بھی ان شبہات کا دلائلِ قطعیہ سے رد کردیا۔ پہلے شبہ کا جواب ان اللّٰہ لا یخفی الخ میں دیا کہ خدا کی شان علام الغیوب ہونا ہے۔ سو یہ بات سوائے ذات باری اور کسی کو حاصل نہیں اور جو کسی نبی یا فرشتہ کو کوئی بات معلوم ہو تو وہ بھی اس کی طرف کا فیضان ہے اور جو عیسیٰ خدا ہوتے تو ضرور ان پر بھی کوئی بات مخفی نہ ہوتی۔ حالانکہ ان پر بہت سی باتیں مخفی تھیں۔ چناچہ انجیل لوقا کے چوتھے باب میں لکھا ہے کہ یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یرون سے پھرا اور روح کی رہنمائی سے بیابان میں گیا جب غیر کی رہنمائی ہوئی تو علام الغیوب کہاں رہا ؟ علاوہ اس کے اسی کتاب کے آٹھویں باب میں ہے کہ ایک عورت نے کہ جس کا بارہ برس سے خون جاری تھا چپکے سے آکے پیچھے سے مسیح کی پوشاک چھو لی جس سے اس کا خون بند ہوگیا مگر مسیح کو وہ نہ معلوم ہوئی۔ لوگوں سے پوچھا آخر اس عورت نے اظہار کیا اور بہت سے مقامات سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ دوسرے شبہ کا جواب ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء میں دیا کہ خدا قادر مطلق ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات کب حاصل تھی ٗ وہ خدا سے دعا مانگتے تھے۔ چناچہ اسی انجیل کے چھٹے باب 12 درس میں ہے کہ (وہ مسیح) پہاڑ پر دعا مانگنے گیا اور خدا سے دعا مانگنے میں رات کاٹی۔ اس کے علاوہ بقول نصاریٰ جب ان کو سولی دینے یہود لے چلے اور سولی پر چڑھا دیا تو انہوں نے خدا سے فریاد کرنی شروع کی کہ مجھے کہاں چھوڑ دیا اور بڑی سختی سے چیخ چیخ کر جان دی۔ جیسا کہ انجیل متی کے 27 باب میں مذکور ہے۔ اور نیز ھوالذی یصورکم الخ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) خدا ہوتے تو وہ عورت کے رحم میں آکر آدمی کی شکل کیوں قبول کرتے۔ خدا تو اوروں کی شکلیں رحم میں بناتا ہے۔ اس کے بعد پھر کلمہ توحید کا اعادہ کرتا ہے لا الہ الا ھو العزیز الحکیم اس میں بھی لفظ عزیز سے قدرت کاملہ کی طرف اور حکیم سے علم حقیقی کی طرف اشارہ ہے۔ جب نصاریٰ کو دلائلِ عقلیہ سے عاجز کردیا جاتا ہے تو وہ اس مسئلہ میں کہنے لگتے ہیں کہ کتب سماویہ میں ان کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اور خدائی کے الفاظ بھی ان کی نسبت بولے گئے ہیں اور قرآن میں بھی ان کو روح اللہ و کلمۃ اللہ کہا ہے تو ہم اس بات کو عقل و ادراک کے احاطہ سے باہر جان کر صرف کلام الٰہی کا اتباع کرکے خدا اور اس کا بیٹا کہتے ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ سے بھی عیسائیوں نے یہی تقریر کی تھی اور اب بھی عاجز آکر یہی کہا کرتے ہیں۔ اس کا جواب خدا تعالیٰ نے ان جملوں میں دیا ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ھن ام الکتاب واخر متشابہات کہ خدا کے کلام میں وہ آیات (کہ جن پر احکام شریعت اور امور اخلاقیہ اور تذکیرِ آخرت کا مدار ہوتا ہے جن کو ام الکتاب یعنی اس کی بنیاد کہتے ہیں) ‘ صریح اور کھلی کھلی ہوتی ہیں اور کہیں کسی رمز اور مصلحت سے ایسے جملہ بھی ہوتے ہیں کہ جن کے کئی معنی اور پیچیدہ مطلب ہوتا ہے اور اس کلام کا دوسراپہلو بھی ایک پہلو کا ہمسر ہوتا ہے جن عبارات سے ان کا استدلال ہے وہ از قسم متشابہات ہیں۔ ابن کا لفظ حقیقی بیٹے پر بھی بولا جاتا ہے اور پیار میں نوکر اور غلام اور بندہ کو بھی کہہ دیتے ہیں اور اس کے برعکس لفظ خداوندذات باری پر اور بادشاہ اور ذی مرتبہ لوگوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ پس جو کجرو گمراہ لوگ ہوتے ہیں وہ ان کی تاویل اپنی خواہش کے موافق کرکے ایک مطلب گھڑ لیتے ہیں جیسا کہ عیسائی اور جو اہل کتاب اور باخدا ہیں وہ ان ظاہر الفساد معنی کو ترک کرکے اس کلام کی اصلی مراد کو خدا کے سپرد کردیتے ہیں کہ اس کو وہی جانتا ہے اور یہ بات کتب سابقہ ہی پر منحصر نہیں بلکہ قرآن میں جو اے نبی ! آپ پر نازل ہوا ہے اس میں یہی بات 1 ؎ ہے۔ پھر ان عقائدِ فاسدہ کو ان متشابہات سے ثابت کرنا اور وہ معنی لینا کہ جو دیگر آیات کے برخلاف ہیں صریح گمراہی ہے یا یوں کہو قیوم کے لئے دو باتیں ضرور ہیں۔ اول مصالح جسمانیہ کا پورا کرنا شکل و صورت بنانا اس کو ھوالذی یصورکم میں بیان کیا۔ دوم مصالح روحانیہ اعنی علم والہام سے بہرہ ور کرنا اس کو ھوالذی انزل الخ میں بیان کیا۔
Ayah 3:7

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

(اے نبی ! ) وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی کہ جس میں سے کچھ آیتیں تو مستحکم 1 ؎ ہیں کہ جو کتاب کے اصول ہیں اور کچھ دوسری (ایسی بھی ہیں) کہ جن کے کئی کئی معنی ہیں۔ پھر جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کتاب کی انہیں آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں کہ جن کے کئی کئی معنی ہیں تاکہ تا فتنہ برپا کریں اور ان کی تاویل کریں۔ حالانکہ ان کی تاویل تو کوئی نہیں جانتا مگر اللہ (ہی جانتا ہے) اور وہ جو علم میں ثابت قدم ہیں (یہی) کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر ایمان لائے کہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور (سمجھانے سے تو) عقلمند ہی سمجھا کرتے ہیں۔

1 ؎ مستحکم یعنی صاف صاف اصول دین بیان کرتے ہیں۔ 12 منہ فائدہ : محکم اور متشابہ کے معنی لغت میں مضبوط اور ملتے جلتے کے ہیں۔ عرب محکم مضبوط بنیاد کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزیں آپس میں ملتی جلتی ہوں ان کو متشابہ کہتے ہیں اور اسی لئے قرآن کو کتابا متشابہا فرمایا کہ حسن و خوبی میں باہم ہر ایک آیت دوسرے سے برابر ہے۔ ان معنی کے لحاظ سے تمام قرآن پر متشابہ کا اطلاق ہوسکتا ہے اور محکم کے معنی لغوی مضبوط اور حق ہونے کے ہیں۔ اس لحاظ سے تمام قرآن کو محکم بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے الر کتاب حکمت آیاتہ یہ دونوں لغوی معنی باہم کچھ منافات نہیں رکھتے مگر بعض ناسمجھ پادری اس نکتہ کو نہ سمجھے۔ انہوں نے ان میں تعارض ثابت کرکے قرآن پر اعتراض کردیا۔ البتہ اس آیت میں محکم اور متشابہ کے اصطلاحی معنی میں منافات ہے جو محکم ہے متشابہ نہیں اور جو متشابہ ہے اس کو محکم نہیں کہہ سکتے اور وہ معنی یہ ہیں ٗ محکم ممنوع کو کہتے ہیں کہ اس میں ایک احتمال کے سوا دوسرا احتمال منع کیا گیا ہے۔ اس کا گزر نہیں اور اسی لئے حاکم کو حاکم کہتے ہیں کہ وہ ظالم کو منع کرتا ہے اور حکمت چونکہ لا یعنی باتوں سے روکتی ہے۔ اس لئے اس کو حکمت کہتے ہیں اور متشابہ وہ کلام کہ جس میں چند احتمالات مساوی ہوں اور اس معنی سے جو محکم ہے وہ متشابہ نہیں۔ علمائِ اصول نے کلام کی یوں تقسیم کی ہے کہ جو کلام کسی معنی کے لئے موضوع ہو اگر اس میں دوسرا احتمال نہیں تو اس کو نص کہتے ہیں اور جو ہو تو پھر اگر وہ دونوں احتمال برابر ہیں تو اس کو مشترک کہتے ہیں اور بالتعین ہر احتمال کے لئے مجمل اور جو ایک احتمال قوی ہو اور دوسرا ضعیف احتمال قوی کے لحاظ سے اس کو ظاہر کہتے ہیں اور ضعیف کے لحاظ سے ماوَّل۔ ان میں سے نص اور ظاہر پر لفظ محکم بولا جاوے گا اور مجمل اور ماوَّل کو متشابہ کہیں گے۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ تقسیم یوں ہونی چاہیے جو کلام کہ کسی معنی پر ظاہراً دلالت کرتا ہے اور اس میں دوسرے احتمال کی گنجائش بھی ہے۔ پس اگر یہ معنی نفس الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں تو اس کو ظاہر کہیں گے اور جو سیاق بھی اس کے لئے ہے تو اس کو نص کہیں گے اور کبھی عموماً ہر آیت و حدیث کو نص کہہ دیتے ہیں اور جس میں دوسرے احتمال کی گنجائش نہیں اگر احتمال نسخ ہے تو اس کو مفسر کہتے ہیں اور اگر یہ بھی احتمال نہیں تو اس کو محکم کہتے ہیں اور جو ظاہراً دلالت نہیں کرتا اور اس میں پوشید گی ہے۔ اگر وہ پوشیدگی کسی عارضی وجہ سے ہے تو اس کو خفی کہتے ہیں اور اگر نفس الفاظ میں ہے پھر اگر وہ قرائن کی مدد سے دور ہوسکتی تو اس کو مشکل کہتے ہیں اور جو قرائن سے بھی دور نہیں ہوتی مگر متکلّم سے انکشاف کی امید ہے تو اس کو مجمل کہتے ہیں اور اگر امید بھی نہیں تو اس کو متشابہ کہتے ہیں۔ وہی اس آیت میں مراد لیا گیا ہے۔ لایعلم تاویلہ الا اللّٰہ ابن عباس اور عائشہ ؓ اور حسن اور مالک بن انس اور کسائی اور فتراء اور امام ابوحنیفہ وغیرہم علماء یہ کہتے ہیں کہ الا اللہ پر کلام تمام ہوگیا اور یہاں وقف لازم ہے اور والراسخون جدا کلام ہے وعطف کے لئے نہیں بلکہ ابتدائِ کلام کے لئے۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ متشابہات سے جو کچھ مراد ہے اس کو بجز خدا کے اور کوئی نہیں جانتا اور یہی ٹھیک ہے کس لئے کہ اسرار غیب کو عقل جب تک جسم کے ساتھ مقید ہے اس کی تاریکی کی وجہ سے نہیں دریافت کرسکتی اور مجاہد اور ربیع بن انس اور اکثر متکلمین اور جمہور معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ والراسخون فی العلم کا اللہ پر عطف ہے یہاں وقف نہیں۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ علمائِ ربانی بھی متشابہات کو جانتے ہیں کیونکہ بندوں سے جب کلام کیا گیا ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کو کوئی بھی نہ سمجھے ورنہ اس کے نازل کرنے سے کیا فائدہ تھا۔ والعلم عند اللہ تعالیٰ ۔ 1 ؎ انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات میں یہ بات بتائی ہے کہ جس طرح قرآن میں یہ بات ہے اسی طرح پہلی کتابوں میں بھی تھی۔ کس لئے کہ مبدائِ فیض ہر ایک کا واحد ہے اور زبان الہام میں ایسے اسرار ہوتے ہیں جو عقول عامہ پر مخفی ہوتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 3:8–11

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

(اور وہ یہ دعا بھی کرتے رہتے ہیں) کہ اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ٹیڑھا نہ کر دیجئے گا اور خاص اپنے پاس سے ہمارے لئے رحمت عطا فرما کیونکہ تو بڑا ہی دینے والا ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! بیشک تو ایک دن کہ جس کے آنے میں کوئی بھی شبہ نہیں سب کو جمع کرے گا (کیونکہ) خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے انکار کردیا ہے نہ تو ان کے مال ہی ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئیگی) اور یہی تو ہیں جو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کی بھی فرعون والوں اور ان سے پہلے لوگوں جیسی حالت ہے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جس پر خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور اللہ کی مار بھی بڑی ہی سخت ہے۔

ترکیب : بعد ظرف ہے لا تزغ کا ‘ من لدنک صفت ہے رحمۃ کی یا حال۔ لیوم لام بمعنی فی ای فی یوم لاریب فیہ جملہ موضع جر میں ہے صفت ہے یوم کی الذین موصول وصلہ اسم ان لن تغنی الخ اس کی خبر۔ من اللّٰہ موضع نصب میں ہے۔ تقدیرہ من عذاب اللہ ای لا یدفع اموالہم والا اولادھم من اللّٰہ شیئا مفعول بہ ہے لن تغنی کا اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ کداب کاف موضع نصب میں ہے۔ لغت ہو کر مصدر محذوف کی ای کفروا القرا کعادۃ آل فرعون اور ممکن ہے کہ خبر ہو مبتداء محذوف کی ای دابہم کداب آل فرعون۔ تفسیر : یہ بھی راسخین فی العلم کا مقولہ ہے یعنی وہ متشابہات کو علم الٰہی کے حوالہ کرکے اس پر ایمان لا کر یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اے رب ! تو نے ہم کو ہدایت دی اور فہم سلیم عطا کیا ہے اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے دل کجی کی طرف میلان کر جاویں کیونکہ استقامت تیرے ہی ہاتھ میں ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : (بنی آدم کے دل خدا کی دو انگلیوں میں ہیں۔ جدھر چاہتا ہے پھرا 1 ؎ دیتا ہے) داعیہ خیر اور داعیہ شر قلب میں اس کی طرف سے پیدا ہوتا ہے اور دلی استقامت کے بعد ہم کو اپنی رحمت خالصہ بھی عطا کر۔ فائدہ : رحمت کی چند قسمیں ہیں۔ اول یہ کہ دل میں نور ایمان و توحید حاصل ہو۔ دوم یہ کہ اعضاء پر اطاعت اور خدمت کے انوار ظاہر ہوں۔ سوم یہ کہ دنیا میں رزق اور اسباب معاش سہل ہوجاویں اور تندرستی اور امن و عافیت حاصل ہو۔ چہارم یہ کہ شدت موت اور اس کے بعد قبر اور حشر میں رستگاری ہو۔ پنجم یہ کہ عالم سرور میں اس کا دیدار اور نعماو بیشمار حاصل ہوں۔ لفظ رحمت ان سب کو شامل ہے۔ اس کے بعد کافروں کا حال ذکر کرتا ہے کہ وہ جو دنیا میں اولاد و مال کے لئے خدا سے غافل ہیں۔ یہ آخرت میں ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ دوزخ میں جلیں گے جس طرح کہ فرعون کے لوگ اور ان سے پہلے منکر لوگ اولاد و مال میں مستغرق ہو کر خدا کو بھول گئے اور اس کی آیات کو جھٹلانے لگے۔ ہرچند انبیاء نے ان کو سمجھایا لیکن نہ مانے۔ آخر الامر خدا نے ان پر ان کی بدکاری کی وجہ سے عذاب نازل کیا۔ داب عادت اور خصلت کو کہتے ہیں۔ وقود بالفتح ایندھن اور بالضم آگ جلانا۔ 1 ؎ مشکوۃ 12
Ayah 3:12

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کافروں سے کہہ دو کہ تم بہت جلد مغلوب کئے جاؤ گے (اور مرنے کے بعد) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ (دوزخ) کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

ترکیب : آیۃ اسم کان لکم خبر ‘ فی فئتین موصوف التقتا صفت مجموعہ صفت ہے آیۃ کی اور ممکن ہے فی فئتین خبر ہو اور لکم کان سے متعلق ہو فئۃ موصوف تقاتل فی سبیل اللّٰہ صفت مجموعہ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای احد ہا فئۃ الخ واخری لغت ہے مبتداء محذوف کی ای وفئۃ اخری۔ کافرۃ خبر یرونہم اس کا فاعل المسلمون وقیل الکفار مثلیہم ای مثل مسلمین او مثل عسکرھم مفعول ثانی رای العین مفعول مطلق یہ جملہ محل نسب میں ہے کیونکہ صفت ہے فئتین کی۔ تفسیر : نیک اور بد بندوں کی سیرت بیان فرما کر اس مقام سے کچھ حال بدوں کا بیان فرماتا ہے جنہوں نے نہ صرف یہی ایک جرم کیا تھا کہ آیات اللہ کی تکذیب کی تھی بلکہ نیک بندوں کے ساتھ طرح طرح سے بدسلوکیاں بھی کی تھیں جس لئے ان پر اس عزیز ذوانتقام کا غصہ بھڑکا اور ان کو ذلت سے ہلاک کیا۔ اس لئے ہلاک ہونے سے پہلے نبی کو حکم دیتا ہے کہ قل للذین کفروا الخ کہ اے رسول کافروں اور آیات اللہ کی تکذیب کرنے والوں کو پہلے سے مطلع کر دو کہ تم اپنے زور و کثرت پر گھمنڈ نہ کرو۔ عنقریب دنیا میں مغلوب کئے جائو گے اور مرنے کے بعد جہنم میں جمع کئے جائو گے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو پیغامِ الٰہی پہنچا دیا مگر وہ کب باور کرنے والے تھے ٗ تمسخر میں اڑایا۔ آخر ان پر اس مغلوبی کا وہ وقت آیا جس کی ابتداء اس جملہ سے ہوتی ہے قد کان لکم آیۃ الخ جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مکہ سے ہجرت کرکے نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو کفار مکہ جب بھی اہل اسلام کو امن وامان نہ دیتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا۔ ہجرت سے اگلے سال رمضان کے مہینے میں آنحضرت ﷺ کو یہ خبر لگی کہ ابو سفیان ایک قافلہ لے کر شام سے مکہ کو آتا ہے جس میں تجارت کا مال ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اسی بشارتِ الٰہی کے اطمینان پر لوگوں کو آمادہ کیا۔ گرچہ لوگوں کی یہ خوشی تھی کہ قافلہ کو لوٹ لیجئے کیونکہ اس میں نفع اور آسانی تھی مگر خدا کو یہ منظور تھا کہ کفر کی شوکت توڑے۔ اس لئے یہی بات پیش آئی کہ ابو سفیان کو بھی کہیں یہ خبر مل گئی ٗ وہ قافلہ کو دوسرے راستہ سے لے کر مکہ کی طرف لے نکلا اور کہلا بھیجا کہ جلد میری مدد کو پہنچو ورنہ محمد ﷺ اور ان کے اصحاب میرے تعاقب میں آرہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ اس کے تعاقب میں مکہ سے کئی منزل بدر کے قریب تک آپہنچے اور ایک میدان میں کہ جس کو بدر کہتے ہیں پانی دیکھ کر ڈیرا کردیا۔ حضرت ﷺ کے ساتھ تقریباً تین سو تیرہ آدمی تھے جو محض بےسامان تھے۔ جن میں صرف دو سوار تھے اور چند زرہ پوش تھے اور اسی (80) کے پاس تلواریں تھیں باقی لٹھ پتھر لئے ہوئے تھے۔ ان کے مقابلہ میں مکہ کے لوگ نکلے۔ ابوجہل اور عتبہ اور عباس وغیرہ بڑے بڑے سردار تھے۔ ان کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ ان کے پاس ساز و سامان بھی خوب تھا۔ سوار بھی بہت تھے۔ انہوں نے بھی اسی میدان میں ایک طرف ڈیرا کردیا اور پھر باہم صف بندی ہو کر مقابلہ شروع ہوا۔ اب یہاں سے تائیدات غیبیہ کا ظہور ہونا شروع ہوا۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لئے ان دو لشکروں میں جو (بدر کے دن) باہم مقابل ہوئے تھے قدرت کی بڑی نشانی تھی۔ ایک (لشکر) تو خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافروں کا (گروہ) تھا جو مسلمانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دوچند دیکھ رہا تھا اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مدد سے فتح دیتا ہے۔ بیشک اس (واقعہ) میں ان کے لئے جو آنکھ رکھتے ہیں بڑی عبرت ہے۔

تائید غیبیہ اور نصرت الہی کا ظہور۔ اول یرونہم الخ کہ کفار کو مسلمان لشکر جو بہت قلیل تھا اپنے سے دو چند نظر آنے لگا جس سے ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا۔ پھر کیا تھا جو کچھ ہے دل ہی تو ہے۔ اس بات کا ثبوت خود اس جماعت کے بہت سے لوگوں سے بھی ہوا جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ یرونہم مثلیہم کے یہی معنی ہیں مگر بعض نے یرون کا فاعل مسلمانوں کو بتایا ہے کہ مسلمان ان کو دو چند دیکھ رہے تھے۔ اس پر خدا نے تائید غیبی کا اظہار کیا۔ آخر کفار نے بڑی شکست کھائی۔ وہ بشارت صادق ہوئی۔ ابو جہل وغیرہ بڑے بڑے کفر کے سردار مارے گئے۔ ستر گرفتار کئے گئے ٗ کچھ بھاگ نکلے۔ واضح ہو کہ کفروا کا اطلاق مشرکین عرب پر بھی ہوتا ہے جن کے مغلوب ہونے کا حال معلوم ہوگیا اور یہود و نصاریٰ و مجوس وغیرہ فرقوں پر بھی اس لئے عموماً اس پیشین گوئی کا روئے سخن سب ہی کی طرف ہے جو اس زمانہ پر لحاظ کرنے والوں کے نزدیک ایک امر محال کی پیشین گوئی تھی۔ کس لئے کہ مسلمانوں کی مدینہ میں بہت ہی تھوڑی جماعت تھی جس کا غلبہ قریش مکہ اور دیگر قبائل عرب پر بھی جو بڑے بہادر اور جنگجو تھے بظاہر محال تھا۔ اس کے سوا دو سلطنتیں ایسی زبردست زور آور تھیں کہ جنہوں نے دنیا پر احاطہ کر رکھا تھا۔ ایک مجوسی سلطنت کسریٰ شاہان ایران کی جن کے ماتحت ہندو ترکستان وغیرہ ملک تھے۔ دوسرے عیسائی قیصروں کی سلطنت جس کا اقتدار تمام یورپ اور ایشیائے کو چک اور شام اور بعض ممالک افریقہ پر مسلم تھا مگر آسمانی تائید کے بھروسے پر سب میں بآواز بلند پکار دیا گیا ستغلبون کہ تم جلد مغلوب کئے جائو گے۔ کس لئے کہ عرب کی زبان میں سین زمانہ استقبال میں قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ایک صدی تمام نہ ہونے پائی تھی کہ یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی۔ اگر یہ منجانب اللہ کوئی علامت پیغمبر (علیہ السلام) کے برحق ہونے کی نہیں تو اور کیا تھا ؟ اس لئے خدا فرماتا ہے واللّٰہ یؤیَّد بنصرہ من یشاء کہ یہ تائیدِ الٰہی ہے وہ جس کو چاہے اسے فتح یاب کرے۔ ظاہری سامان و اسباب اس کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آتے جس کا اب بھی تجربہ و مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات بڑے غور و فکر کے لائق ہے ان فی ذلک لعبرۃ لا ولی الابصار کہ اس میں چشم بصیرت والوں کے لئے خدا پر اور اس کی آیات پر ایمان لانے اور ایمان لا کر رسولوں کے رستہ پر چلنے کے لئے ایک بڑی عبرت ہے۔ اس لئے کہ یہ بات عالم اسباب کے مخالف ہے۔ پھر اس کا ظہور اگر خاص خدا کی طرف سے نہیں تو اور کیا ہے۔
Ayahs 3:14–15

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو مرغوب چیزوں کی خواہش بھلی معلوم ہوتی ہے۔ عورتوں کی اور اولاد کی اور سونے چاندی کے چنے ہوئے ڈھیروں کی اور پلے ہوئے گھوڑوں کی اور چارپایوں اور کھیتی کی یہ سب زندگی دنیا کا سامان ہے اور عمدہ ٹھکانا تو اللہ ہی کے یہاں ہے

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) کہہ دیجئے کہ (کہو تو) میں تم کو اس سے بھی بہت بہتر چیز بتائوں (وہ یہ کہ) پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے ہاں باغ ہیں کہ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہا کریں گے اور (ان کے لئے) پاکیزہ بیویاں ہیں اور نیز ان کے لئے خدا کی خوشنودی ہے اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے

ترکیب : زین فعل مجہول للناس اس کے ساتھ متعلق حب الشہوات مفعول مالم یسم فاعلہ من النساء الخ اس کا بیان ذلک مبتداء متاع الحیوۃ الدنیا خبر ‘ واللّٰہ مبتداء عندہ جملہ الخ خبر ‘ قل فعل انت اس کا فاعل اؤنبئکم جملہ مقولہ بخیر موضع نصب میں ہے اونبئکم سے من ذالکم موضع نصب میں ہے بسبب خبر کے تقدیرہ بما یفصل ذلک۔ جنت موصوف تجری الخ صفت مکمجموعہ مبتداء للذین اتقوا خبر خالدین فیہا حال ہے محذوف سے ‘ ازواج معطوف ہے جنات پر۔ الذین یقولون موضع صبر میں صفت ہے للذین کی الصابرین الخ موضع جر میں صفت ہے للذین کی۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا اِنَّ فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار کہ ان عجائبِ قدرت میں اہل بصیرت کو عبرت کا مقام ہے جس سے عاقل کے نزدیک یہ دنیا اور اس کے تنزیہات ایک ناچیز اور فانی معلوم ہوتے ہیں اور عالم باقی کے آگے خواب سا معلوم ہوتا ہے مگر اس چشم حقیقت بین پر لذات دنیا اور اس کے سامان کی محبت کے پردے پڑے ہوئے ہیں جس سے وہ عالم آخرت پر دنیا کو ترجیح دے رہا ہے اور چند روزہ عیش کے لیے کفر و الحاد میں آکر آخرت اور عالم باقی کی خوبیوں سے بیخبر ہے اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ جس کا بیان نہیں۔ یا یوں کہو کہ خدا کی منزل کتابوں کے منکروں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہوگا اس کو بیان فرما کر ان کی غفلت اور اندھے پن کا سبب ذکر کرتا ہے کہ وہ مال وزن فرزند کی محبت اور فریفتگی ہے جو فانی ہیں۔ اس کے بعد اسی سلسلہ سے دار آخرت کی نعمتیں جو نیکوں کو ملیں گی ان کا ذکر فرماتا ہے اور نیکی کے اصول بھی ذکر کرتا ہے۔ لذائذِ دنیا کہ جن پر ہر انسان تفاخر کرتا اور ان کی رغبت کا دم بھرتا ہے سات چیزیں ہیں۔ اول عورت اس سے جس قدر مرد کو لذت اور انس ہے وہ کس چیز سے ہے ؟ اسی کی محبت انسان کو ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے مرد میں اور اس میں ایک جذب مقناطیسی رکھا ہوا جیسا کہ فرمایا ہے خلق لکم من انفسکم ازواجاً لتسکنوا الیہا و جعل بینکم مودۃ ورحمۃ اس کے بعد بیٹا ہے جس کو انسان اپنا نائب اور قائم مقام سمجھ کر جو بات اپنے لیے چاہتا ہے اس سے بڑھ کر اس کے لیے چاہتا ہے اور نیز اس کا ہر وقت میں قوت بازو اور معین ومدد گار بھی ہوتا ہے۔ اس سے بھی انسان کو بڑا فخر اور نہایت خوشی ہوتی ہے اس کے مال دولت روپیہ اشرفی بالخصوص توڑے چنے ہوئے یہ بھی ایک عجیب چیز ہے جمیع حاجات کا ذریعہ خیال کیا گیا ہے ‘ اس کا غرور اور سرور بھی انسان کو اندھا کردیتا ہے ‘ خدا اور رسول سے بغاوت پر آمادہ کرا دیتا ہے ‘ خدائی دعویٰ کرانے لگتا ہے۔ پھر کو تل گھوڑے ‘ پھر گائے بیل اونٹ وغیرہ مواشی پھر باغ کھیتی ان چیزوں کے بعد خدا تعالیٰ یہ بات جتلاتا ہے کہ یہ چیزیں صرف زندگی دنیا کا سامان ہیں مگر خدا کے پاس اس سے زیادہ اور عمدہ لذائذِ روحانیہ وجسمانیہ موجود ہیں مگر بتقاضی آب وگل انہیں محسوس اور فانی چیزوں پر فریفتہ ہے اور یہ اس کی جبلی بات ہے کیونکہ آدمی جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اسی کو عمدہ عالم سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب باہر آتا ہے تو رو رو کر غل مچاتا ہے پھر جب آنکھ کھلتی ہے تو اس عالم پر غش ہوجاتا ہے ‘ سدا یہیں رہنا پسند کرتا ہے ‘ یہیں کی ان چیزوں پر جم جاتا ہے۔ آخر جب اس عالم باقی میں جاتا ہے تو اس عالم کو وہاں کے نعماء اور وسعت کے مقابلہ میں ایسا تنگ و تاریک وپُرالم سمجھتا ہے کہ جس طرح دنیا میں ماں کے پیٹ کو اور وہاں کے رہنے اور واپس جانے کو یہ چیزیں دل لگانے کے قابل نہیں کیونکہ یہاں کا ہر عیش وہر چیز فانی وہاں کی باقی اور جاودانی ہے۔ یہاں ہر عیش تلخی پر مبنی ہے اور پھر راحت کے بعد تلخی ہے جب تک کہ پیاس اور دھوپ کا رنج نہ اٹھاوے سایہ اور سرد پانی کا کبھی مزہ نہ آوے۔ اس عالم باقی میں یہ باتیں نہیں اس لیے خدا نے مجملاً واللّٰہ عندہ حسن المآب کا لفظ کہہ کر اس عالم کا شوق دلادیا۔ اس کے بعد اور بھی کلام کو بلند کیا اور نبی سے فرمایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کہو تو میں تم کو دنیا کی ان چیزوں سے عمدہ چیزیں بتلائوں ؟ پھر آپ ہی فرماتا ہے کہ پرہیز گاروں کے لیے اس عالم میں (عندربہم) باغ ہیں کہ جن میں نہریں بہتی ہیں (جہاں تمام جگہ خوشبو دار رنگ برنگ کے پھول وپھل اور طائران خوش الحان اور نہایت تکلف کے مکانات ہیں) ان میں بیویاں ہیں کہ جو صورت و سیرت کی تمام برائیوں سے مبرّا حسن و خوبی میں یکتا ‘ اس پر دوام اور بقاء۔ یہاں تک تو جنت جسمانیہ کی طرف اشارہ تھا اس کے بعد جنت روحانیہ کی طرف اشارہ فرماتا ہے ورضوان من اللّٰہ یعنی خدا کی رضا مندی آنحضرت (علیہ السلام) نے گویا صحابہ کو اس عالم کو دکھا دیا تھا جس سے ان کی نظروں میں دنیا اور اس کے تنزیہات گرد ہوگئے تھے یہ کیا کم معجزہ ہے ؟ اس کے بعد ان نعماء کے مستحق لوگوں کا بھی عجب لطف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے للذین اتقوا یعنی پرہیز گاروں کے لیے یہ عام لفظ ہے پھر اس کے بعد اس کی اور بھی تشریح ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن میں یہ چھ وصف پائے جاتے ہیں۔
Ayahs 3:16–17

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

(یہ ان کے لئے ہے) جو کہ کہا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے سو ہمارے گناہ معاف کر دے اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچائیو۔

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

وہ جو صبر کرتے اور سچ بولتے اور بندگی میں لگے رہتے اور خرچ کرتے رہتے ہیں اور صبح کے وقتوں میں استغفار کیا کرتے ہیں۔

(1) یقولون ربنا الخ کہ وہ خدا سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تجھ پر ایمان لائے تو ہمارے گناہ معاف کر اور عذاب النار سے بچائیو (2) صبر کرنے والے صبر کہتے ہیں محنت کا نفس پر برداشت کرنا خواہ عبادات قائم کرنے میں خواہ نفس کو اس کی خواہشوں سے روکنے میں (3) صادقین سچ بولنے والے اور ہر بات کو سچ کر دکھانے والے (4) خدا کی عبادت کرنے والے (5) منفقین یعنی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے خواہ بذریعہ صدقہ نافلہ خواہ بذریعہ زکو ٰۃ اپنوں کو دے خواہ بیگانوں کو (6) سحر کے وقت خدا سے استغفار کرنے والے۔ اس وقت شب کی ظلمت دور ہو کر نور پھیلتا ہے رات کا مردہ زندہ ہوتا ہے یہ وقت جود عام اور فیض تام کا وقت ہے اور کچھ عجب نہیں کہ عالم قدس کی صبح کا پر تو اس عالم کی صبح ہو۔ دوم یہ خواب و غفلت کا وقت ہے ایسے وقت اس طرف متوجہ ہو کر استغفار کرنا اور اس مبدئِ فیاض سے اپنی مغفرت کا سوال کرنا بلاشک عالم سرور میں پہنچنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور اسی لیے صحابہ اور صالحین امت بلکہ اگلے انبیاء اور ان کے تربیت یافتہ اس وقت عبادت و استغفار کرتے تھے اور اسی لیے اس وقت سونا نشہ میں پڑا رہنا نحوست اور بربادی کا باعث ہے۔
Ayahs 3:18–19

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

اللہ اور فرشتے اور علم والے عدالت کے ساتھ گواہی دے چکے کہ اس کے سوائے کوئی معبود نہیں کوئی بھی خدا نہیں مگر وہی (ایک) زبردست حکمت والا۔

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بیشک دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا ہے تو صرف یہ معلوم ہوجانے کے بعد (محض) آپس کی ضد سے اور جو کوئی اللہ کی آیتوں کا انکار کرتا ہے تو اللہ بھی بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

ترکیب : شہد فعل اللّٰہ فاعل ‘ انہ یہ جملہ بیان شہادت والملائکۃ واولوا العلم معطوف ہے لفظ اللّٰہ پر قائما بالقسط حال ہے فاعل شہد سے ‘ الدین اسم ان الاسلام خبر عنداللہ ظرف ومن مبتدا یکفر خبر اور ممکن ہے کہ من شرطیہ یکفر الخ شرط فان اللّٰہ جزا۔ تفسیر : اس بیان کو تمام کرکے پھر مسئلہ توحید کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پہلے فرمایا تھا کہ دنیا اور اس کے نعماء فانی ہیں اور دار آخرت اور وہاں کی نعمتیں باقی ہیں اور وہ نعمتیں ان کے لیے ہیں جو کہتے ہیں ربنا اننا آمنا الخ یعنی جن کی قوت نظریہ ایمان ‘ کامل توحید اور اس کی صفات پر یقین ہے اور قوۃِ عملیہ بھی کامل ہے جیسا کہ الصابرین الخ میں اشارہ ہے اب یہاں اس بات کو ظاہر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کی توحید پر ایمان لانا جو نجات کا مدار ہے کوئی خلاف واقع اور بےاصل بات نہیں جیسا کہ بےعقل لوگ جو صرف محسوسات ہی کا وجود مان کر اور چیزوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ بلکہ یہ بات بہت واضح اور کھلی ہے خدا نے خود آسمان و زمین اور ان کے اندر کی کائنات کو اپنے وجود اور توجہ کے لیے شاہد بنا رکھا ہے جس طرح کوئی نقش پائوں رکھنے والے کے وجود پر بغیر اس کے کسی نے اس کو آنکھ سے دیکھا ہو با آواز بلند گواہی دے رہا ہے اسی طرح ہر چیز مخلوقِ الٰہی بزبان حال اس کے وجود وحدت کو بیان کررہی ہے۔ ففی کل شیء لہ شاہد یدل علی انہ واحد شہداللّٰہ الخ کے یہ معنی ہیں اس کے علاوہ یوں بھی خدا تعالیٰ کتب الہامیہ میں شہادت دے رہا ہے اور نیز وہ ملائکہ سے اور ملائکہ انبیاء سے کہتے ہیں وہ علماء سے فرماتے ہیں وہ عامہ خلائق کو سناتے ہیں والملائکۃ واولو العلم اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ جب عقل نور الہام کی روشنی سے آنکھ اٹھا کر عالم ہستی میں دیکھتی ہے تو اس مخلوقات کو اس کا مظہر اور ظل جان کر سوائے اس کے اور کوئی نظر نہیں پڑتا۔ ع بخدا غیر خدا در وو جہاں چیزے نیست۔ لا الہ الاللّٰہ مگر بسبب لطافت کے وہ عزیز حکیم حس بصری سے محسوس نہیں ہوسکتا اور جبکہ یہ عقائد اور یہ اعمال صالحہ وہ ہیں کہ جن کا تسلیم کرنا عقل سلیم کے نزدیک ضرور ٹھہرا تو یہی مذہب حقانی اور مقبول عنداللہ ہوا اور مذہب اسلام اسی کا نام ہے تمام انبیاء اور ہر بنی آدم کا فطرتی مذہب یہی ہے حضرت محمد ﷺ اس کے مجدد ہیں نہ موجد اور اب جو یہود اور نصاریٰ اور دیگر مذاہب اختلاف کرتے ہیں تو یہ سب دلائلِ حقہ سے اعراض کرکے محض ضد اور نفسانیت سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد مذہب اسلام کا عجیب لطف سے برحق ہونا ثابت کرکے اہل کتاب سے مناظرہ شروع فرماتا ہے اور ان کو ان کے عقائدِ فاسدہ اور اعمالِ کا سدہ پر اذ غدوت من اھلک تک الزام دیتا ہے۔ اسلام کے لغوی معنی فرماں برداری کرنا اور شرع میں ایمان اور اسلام سے ایک معنی مراد ہیں، ہاں کبھی لغوی معنی کے لحاظ سے دونوں میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ قل لم تو منواولکن قولوا اسلمنا تب ایمان سے مراد تصدیق قلبی اور اسلام سے انقیاد ظاہری لی جاتی ہے۔
Ayahs 3:20–22

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے نبی ! ) پس اگر وہ آپ سے حجت کریں تو کہہ دو کہ میں نے اور میرے ماننے والوں نے تو اپنا سر اللہ کے آگے جھکا دیا اور آپ اہل کتاب اور ان پڑھوں سے پوچھئے کہ کیا تم بھی سر جھکاتے ہو۔ اگر وہ بھی سر جھکائیں تو انہوں نے بھی ہدایت پائی اور اگر نہ مانیں تو آپ پر صرف (حکم) پہنچا دینا ہی ہے (اور بس) اور اللہ تو اپنے بندوں کو آپ دیکھ رہا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور نبیوں کو ناحق (ناروا) مار ڈالتے ہیں اور ان کو بھی قتل کرتے ہیں جو لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتے ہیں تو (اے نبی ! ) ان کو عذاب الیم کا مژدہ سنا دو ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے عمل دنیا و آخرت میں اکارت گئے اور ان کا کوئی بھی مددگار نہیں۔

ترکیب : ومن اتبعن من موضع رفع میں ہے عطف ہے اسلمت کی ‘ ت پر واتبعن کی ی حذف ہوئی ہے رؤس الآت کی مشابہت سے اور قائم بھی کی جاتی ہے کیونکہ اصل ہے۔ الذین موصول وصلہ مع معطوف اسم ان فبشرھم اس کی خبر اوراس پر اس لئے دخل ہوئی کہ الذین کا صلہ فعل تھا تاکہ معلوم ہو یہ بشارت جزائے کفر ہے اور ان اس کو مانع نہیں۔ تفسیر : جبکہ بدلیل قوی ثابت کردیا گیا کہ دین برحق عند اللہ اسلام ہے اور جو کچھ اختلافات لوگوں نے پیدا کئے ہیں۔ وہ ضد اور تعصب سے ہیں اس پر بھی ناانصاف حجت کئے چلے جاتے ہیں تو اب کی تمام بیہودہ گفتگو اور کل شکوک شبہات کا عجیب لطف کے ساتھ جو اب اپنے نبی کو تعلیم فرماتا ہے کہ جس کے آگے منصف مزاج کو سوائے تسلیم کے اور کچھ بن ہی نہیں آتا۔ وہ یہ کہ دنیا میں دو قسم کے اہل مذہب ہیں۔ ایک وہ کہ جو کتاب الہامی اور کسی نبی کے اتباع کا ادعا کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہود اور عیسائی وغیرہم۔ دوم وہ کہ جو ایسے نہیں جن کو ان پڑھ اور بےعلم کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشرکین عرب۔ ان سب سے کہہ دو کہ حقانی اور آسمانی مذہب خدا تعالیٰ کی حقیقی فرمانبرداری ہے کہ جس کو تم بھی مانتے ہو۔ سو میں نے اور میرے متبع لوگوں نے فرمانبرداری کی بلکہ اس کے آگے گردن جھکا دی۔ خواہ اعتقادیات لو خواہ عملیات ‘ سب میں تسلیم ہے۔ خدا کو وحدہ لاشریک اور جمیع صفات عمدہ سے متصف اور بری صفتوں سے پاک جاننا اور قیامت پر ایمان لانا اور اس کے تمام انبیاء کو بلا تفریق برحق سمجھنا ہمارا عقیدہ ہے۔ پنجگانہ نماز میں طہارت ظاہری و باطنی حاصل کرکے اپنی روح اور جسم کو اس پر نثار کرنا کہ جس کو نماز کہتے ہیں۔ اپنے مال میں سے علاوہ اور خیرات کے ایک حصہ معین دینا ‘ مخلوق الٰہی پر رحم کرنا ‘ بلاوجہ کسی کے ایذا سے باز رہنا اور اس کی عزت و توحید پھیلانے میں اپنی جان عزیز کو بھی قربان کردینا ‘ شہوات و لذات بیجا کی پیروی نہ کرنا ہمارا شیوہ خاص ہے۔ کارِما عشق است و بارِما عشق است حاصل روزگارِ ما عشق است یہ باتیں تمام شریعتوں کا عطر اور عقل سلیم کا مسلّم مسئلہ ہیں۔ پس اگر تم بھی ایسا کرتے ہو تو تم نے بھی ہدایت پائی اور یہی اسلام ہے اور جو نہیں تو اب تمہارے گمراہ ہونے میں کیا کلام ہے۔ اب نبی کا ذمہ خبر دینا ہے ٗ اس کی سزا عالم آخرت میں خود پائیں گے۔ اس کے بعد یہود و نصاریٰ کے وہ خصائلِ بد کہ جو ان میں پائے جاتے تھے مجملاً بیان کرکے عذاب آخرت سے ڈراتا ہے۔ وہ خصائلِ بدیہ تھے۔ عقائد میں آیات الٰہی کا انکار کرنا ٗ اعمال میں انبیاء کو اور دیگر کلمۃ الخیر کہنے والوں کو ناحق قتل کرنا اس پر نجات کا امیدوار رہنا۔
Ayahs 3:23–25

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کتاب میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف اس لئے بلائے جاتے ہیں کہ وہ کتاب ان کا جھگڑا فیصل کر دے (اس پر بھی) انہیں کا ایک فریق منہ موڑ کر پھرا جاتا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

اس لئے کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ہم کو ہرگز دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے چند روز تک اور ان کو ان کے مذہبی ڈھکوسلوں نے مغرور کردیا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

پھر اس دن کہ جس کے آنے میں کچھ بھی شبہ نہیں ‘ کیا حال ہوگا اور (اس دن) جس نے جو کچھ کیا ہے اس کا اس کو پورا (پورا) بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر (کچھ بھی) ظلم نہ کیا جائے گا۔

ترکیب : یدعون موضع حال میں ہے الذی سے اور ھم معرضون جملہ موضع رفع میں ہے ‘ صفت ہے فریق کی یا حال ہے ضمیر محرور سے۔ ذلک مبتداء بانہم خبر فکیف موضع نصب میں ہے اور عامل اس میں محذوف ہے تقدیرہ کیف یصنعون۔ لا ریب فیہ جملہ صفت ہے یوم کی ووفیت اس پر معطوف والعائد محذوف۔ تفسیر : یہ ان اہل کتاب کی ایک خصلت بد بیان کی جاتی ہے اور اس کا سبب بھی بتایا جاتا ہے کہ مذہب انبیائی میں تحریف کرکے انہوں نے چند ڈھکوسلے بنا رکھے ہیں جن کے اعتماد پر وہ ایسا کرتے ہیں۔ خصلت بد یہ تھی کہ جب ان کو باہمی منازعات کے فیصلہ کے لئے کتاب اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا کہ جو کتاب اللہ کہہ دے ٗ اس کو مانو تو وہ روٹھ کر چلے جاتے تھے۔ چناچہ ایک بار جیسا کہ کتب حدیث میں مذکور ہے یہ ہوا کہ یہود میں ایک مرد و عورت شریف اور دولتمند نے زنا کیا اور ان کے علماء نے بلحاظ دولتمندی اصلی حکم جاری کرنے میں حیلہ بہانہ کیا اور باہم جھگڑا ہونے لگا تو وہ لوگ فیصلہ کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت شریف میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن صوریا یہودی عالم بھی آیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ٗ حکمِ الٰہی ان کے لئے کتاب اللہ یعنی قرآن میں یہ ہے کہ ان کو پتھروں سے مارا جاوے (جس کو رجم کہتے ہیں) اور یہی حکم تورات 1 ؎ میں بھی ہے۔ عبداللہ نے کہا نہیں ہے ٗ آپ نے فرمایا ٗ اچھا تورات لائو جب لائے اور اس مقام کو نکالا تو عبداللہ نے اس جگہ انگلی رکھ کر چھپانا چاہا مگر عبداللہ 2 ؎ بن سلام ؓ نے ہاتھ اس کا اٹھا کر وہ آیت پڑھ دی۔ تب آنحضرت ﷺ نے رجم کا حکم دیا جس پر یہود اور ان کے علماء آنحضرت ﷺ سے اور بھی زیادہ ناراض ہوگئے اور اکڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ان کا اس کتاب کی نسبت بھی کہ جس کو یہ برحق سمجھتے ہیں ٗ یہ حال ہے تو پھر قرآن کی نسبت کیا ٹھکانا ہے ؟ اور اس بےدینی اور بےباکی کا سبب یہ ہے کہ ان کے پیرومرشد نے چند ڈھکوسلے ان کے دل میں بٹھا دیے تھے یہ کہ بجز چند روز کے یہود کو نسل ابراہیم ہونے کے سبب عذاب نہ ہوگا جس پر وہ مغرور تھے۔ فرماتا ہے کہ قیامت کے روز کہ جس میں کوئی بھی شبہ نہیں جب ہم ان کو جمع کریں گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری جزا و سزا ملے گی تو پھر ان کو ان خیالات خام کی حقیقت معلوم ہوجاوے گی۔ دراصل اب بھی سینکڑوں فرقے مذہبی ڈھکوسلوں پر نازاں ہیں۔ ہندوئوں کے پنڈتوں نے ہزاروں ایسے مسئلے بنا رکھے ہیں۔ عیسائیوں نے یہ بات بنا رکھی ہے کہ مسیح جملہ گناہوں کا کفارہ ہیں۔ فائدہ : یدعون الی کتاب اللّٰہ عبداللہ بن عباس ؓ کے نزدیک کتاب اللہ سے مراد قرآن مجید ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ کس لئے کہ جب ان پر حجت قائم ہوچکی تب کتاب اللہ کی طرف بالخصوص اس فیصلہ کے لئے بلانا کہ جس کو وہ بھی تسلیم کرتے تھے ٗ بہت ٹھیک تھا اور یہ بھی 1 ؎ کتاب احبار کے باب 2 دس میں تصریح ہے۔ 12 منہ۔ 2 ؎ عبداللہ بن سلام ؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ پہلے ان کا نام حصین تھا رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالسلام رکھا۔ تورات کے بڑے عالم تھے۔ 42 ھ میں انتقال ہوا۔ ممکن ہے کہ عموماً تورات و انا جیل و دیگر صحف مراد ہوں کیونکہ اپنے زعم میں وہ سب کو کتاب اللہ کہا کرتے تھے۔ پھر جب ان کی بشارات کی طرف کہ جو آنحضرت ﷺ کی شان میں تھیں (اور کچھ اب ہیں) ہدایت کی جاتی تھی تو ہرگز نہیں مانتے تھے۔
Ayahs 3:26–28

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

(اے نبی ! ) آپ (یہ) کہئے کہ اے ملک کے مالک تو جس کو چاہتا ہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں (سب) بہتری ہے۔ بیشک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو مردوں سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

ایمان والوں کو نہ چاہیے کہ ایمانداروں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائیں اور جو ایسا کرتا ہے تو وہ خدا کی طرف سے کسی حمایت میں بھی نہیں ٗ ہاں اگر تم ان سے کوئی بچاؤ کرنا چاہتے ہو (تو کوئی مضائقہ نہیں) اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کے پاس پھر کر جانا ہے۔

ترکیب : اللہم میم مشددہ قائم مقام یا کے ہے مالک الملک ندا ثانی ہے ای مالک الملک تؤتی الملک اور اس کے بعد کے جملہ جو اس پر معطوف ہیں ‘ خبر ہیں مبتداء محذوف کی اے انت۔ بیدک الخیر جملہ مستانفہ ہے بعض کہتے ہیں اس کا حکم پہلے جملوں کا سا ہے۔ بغیر حساب صفت ہے مصدر محذوف کی ای رزقا غیر قلیل ‘ لایتخذ نفی ہے بمعنی نہی ‘ من دون اللّٰہ موضع نصب میں ہے صفت ہے اولیاء کی لیس کا اسم ضمیر ہے فی شیء خبر ‘ من اللّٰہ حال ہے فی شیء سے اے لیس فی ولایۃ اللہ فی شیء۔ تفسیر : منجملہ ان کے خصائلِ بد کے یہ بات بھی ان میں تھی کہ وہ دنیا اور اس کے اسباب پر مغرور تھے۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو بسبب ان کے فقرو افلاس کے بچشم حقارت دیکھتے تھے اور نیز یہود کو اپنے خاندان اسرائیلی پر بھی بڑا فخر تھا اور وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ جو مبعوث ہوگا تو اسی انبیائی خاندان میں سے ہوگا نہ عرب کے جاہلوں مشرکوں میں سے۔ ان سب کا ابطال ان آیات میں کیا جاتا ہے اول کا اس آیت میں قل اللہم مالک الملک الی قدیر کہ سلطنت و دولت ‘ عروج و نزول ‘ عزت و ذلت کسی کی موروثی نہیں جس کو چاہے خدائے قادر دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اس میں ان کے اس طعن کا بھی جواب ہے جو وہ ستغلبون کی بشارت پر کیا کرتے تھے کہ بایں ذلت و خواری اہل کتاب پر غالب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ جن کے پاس یہ زور و سلطنت ہے اور نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ سلطنت و عزت عنقریب گروہ خدا پرست اسلام کو دی جائے گی اور ان سرکشوں سے لی جائے گی جس کا ظہور بہت جلد ہوا اور دوسری بات کا جواب اس جملہ میں دیا جاتا ہے تولج الیل فی النہار کہ تم رات دن اس کی قدرت کا کرشمہ دیکھ رہے ہو کہ دن 1 ؎ میں رات داخل ہوتی ہے اور رات میں دن ٗ رات جو بڑھتی ہے وہ اس قدر وقت کو لے لیتی ہے جو گرمیوں میں دن کے لئے تھا۔ اسی طرح گرمیوں میں دن جو بڑا ہوتا ہے تو رات میں داخل ہوجاتا ہے کہ جاڑے کی رات کا جو وقت تھا۔ اب اس میں آگیا اور نیز رات آتی ہے دن کا وقت لے لیتی ہے اسی طرح رات کے بعد دن آتا ہے اسی طرح وہ مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے۔ مرنے کے بعد جانداروں سے زندہ بچہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ مٹی جو ایک جرم مردہ ہے اس سے زندہ حیوان پیدا ہوتا ہے ٗ مادہ بےجان سے صدہا زندہ حیوان پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح زندہ حیوان سے مردہ بچہ یا منی مردہ پیدا ہوتی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خدا زندہ اور انبیائی خاندانوں سے نالائق لوگ بھی پیدا کرتا ہے جو مردوں سے بدتر ہیں اور جاہل خاندانوں سے جو بمنزلہ مردہ ہیں ایسے روشن آفتاب پیدا کردیتا ہے جو روشنی اور حیات ابدی کا باعث ہوتے ہیں جیسا کہ عرب بالخصوص خاندان قریش خصوصاً بنی ہاشم سے کیسے زندہ لوگ پیدا کئے کہ جنہوں نے ملک عرب بلکہ روئے زمین کو دوبارہ زندگی بخشی اور زندہ خاندانوں سے یہود اور نصاریٰ پیدا ہوئے جن میں حیات ابدی کا کچھ اثر نہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی عطا کرتا ہے اور جبکہ یہ بات خدا نے ظاہر فرما دی کہ یہ سب باتیں ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں اور دنیا کی ظاہری طمطراق بےاصل و بےحقیقت ہے تو اب مسلمانوں کو یہ تعلیم فرماتا ہے کہ اپنے لوگوں کو ترک کرکے خدا کے دشمنوں سے ان کی شوکت ظاہری پر نظر کرکے دوستی اور محبت نہ کرنا چاہیے اور جو ایسا کرے گا تو وہ خدا کے طرفداروں اور دوستوں میں کچھ بھی شمار نہ ہوگا۔ البتہ اگر کچھ خوف جان و مال ہو تو ظاہرداری کا کچھ مضائقہ نہیں۔ 2 ؎ 1 ؎ رات دن گھٹتے بڑھتے ہیں جس قدر دن گھٹتا ہے وہ رات میں شامل ہوجاتا ہے اور جس قدر رات گھٹتی ہے دن میں شامل ہوجاتی ہے۔ کبھی وہ مردہ عورت میں سے زندہ بچہ پیدا کرتا ہے اور کبھی زندہ عورت سے مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے یا یہ مراد کہ نالائقوں سے لائق اور لائقوں سے نالائق پیدا کرتا ہے۔ یہ سب قادر مختار کی قدرت کے عیاں ہونے کی دلیلیں ہیں۔ 12 منہ حقانی 2 ؎ واضح ہو کہ کفار سے ایمانداروں کی محبت کے تین طریق ہیں (1) یہ کہ ان کے ملت و مذہب کی وجہ سے خوش ہو کر ان سے محبت رکھے۔ سو یہ حرام قطعی ہے بلکہ جو ایسا کرے گا قطعی کافر ہوگا۔ (2) یہ کہ ان کی ملت و مذہب کو تو برا جانتا ہے مگر معاملات دنیا میں خوش اسلوبی اور رحمدلی سے پیش آتا ہے۔ سو یہ ممنوع نہیں۔ (3) ان دونوں کے درمیانی حالت وہ یہ کہ کفار کے ملت و مذہب کو تو برا جانتا ہے مگر بمقابلہ اہل اسلام قرابت ‘ محبت یا کسی دنیاوی نوکری وغیرہ کی غرض سے ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ کفر نہیں لیکن سخت گناہ ہے۔ انجام اس کا کفر ہوجاتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اور دیگر آیات لاتتخذوا عدوی وعدو کم اولیاء ولا تتخذو الیہود والنصاریٰ اولیاء میں اسی سے منع کیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے شان نزول میں حاطب بن ابی بلتعہ صحابی ؓ کا قصہ کتب حدیث میں مذکور ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ارادہِ کا حال کفار مکہ کو لکھ بھیجا تھا جس پر ان سے سخت بازپرس ہوئی۔ الا ان تتقوا منہم ثقۃ سے یہ مراد ہے کہ اگر کفار سے مضرت کا سخت اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ظاہرداری کا کچھ مضائقہ نہیں بشرطیکہ دین میں کوئی قباحت نہ آوے۔ اسی کو تقیہ کہتے ہیں۔ یہ بات کہ کفار سے دلی دوستی نہ کرو آسمانی قانون کا قدیم مسئلہ ہے۔ تورات میں بھی جیسا کہ پہلے گزرا اس سے بھی بڑھ کر ہے اور عقل سلیم بھی یہی فتویٰ دیتی ہے۔
Ayahs 3:29–30

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے دل کی کوئی بات چھپاؤ گے یا اس کو ظاہر کرو گے تو اللہ اس کو جان ہی لے گا اور (وہ) جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ جانتا ہے اور اللہ (تو) ہر چیز پر قادر ہے۔

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

اس دن کو (یاد کرو) کہ جس نے جو کچھ نیکی کی ہے اس دن اس کو موجود پائے گا اور (نیز) جو کچھ برائی کی ہے (اس کو بھی پائے گا) تو چاہے گا کہ کاش برائی میں اور اس میں بڑی دور کا فاصلہ ہوجائے اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔

ترکیب : ان تخفوا شرط یعلمہ اللّٰہ جزا اور اس کا ترتب بااعتبار علم تفصیلی کے ہے۔ یوم ظرف منصوب اس کے ناصب میں مختلف اقوال ہیں۔ ابن انباری کہتے ہیں المصیر سے متعلق ہے۔ بعض کہتے ہیں اذکر محذوف ہے۔ بعض کہتے ہیں تود سے۔ وماعملت مابمعنی الذی اور عملت اس کا صلہ اور یہ معطوف ہے۔ ما اول پر ‘ لو ان الخ یہ جملہ ممکن ہے کہ تود کی صفت ہو تقدیرہ وما عملت من سوء الذی تودلوان بینہا وبینہ امدا بعیدا (کبیر) اور ممکن ہے کہ حال ہو امدا اسم ہے ان کا۔ تفسیر : جبکہ مومنوں کو کفار سے محبت کرنے کی ممانعت کردی اور بشرط ضرورت ظاہرداری کی اجازت دی تو ان آیات میں اس بات پر تنبیہ کردی کہ دیکھو دل کا حال کوئی مخفی نہیں۔ اس پر زمین و آسمان کا حال منکشف ہے۔ پھر اگر کفر کی محبت کو دل میں جگہ دو گے تو وہ تم کو سزا دے گا۔ وہ ہر چیز اور ہر قسم کی سزا پر قادر ہے۔ پھر روز حساب کا ذکر کرکے شامت اعمال کے نتیجہ سے ڈراتا ہے کہ اس روز جس نے جو کچھ کیا ہے اس کو موجود پائے گا اور برائی کو دیکھ کر آرزو کرے گا کہ کاش وہ مجھ سے بہت ہی دور رہے۔ پھر فرماتا ہے کہ خدا تم کو اپنے سے ڈراتا ہے کہ اس میں شان قہر بھی ہے۔ باوجود اس کے وہ بندوں پر مہربان بھی ہے اور عواقب امور سے متنبہ کرنا بھی اس کی بڑی مہربانی ہے۔