An-Naml 27:30

An-Naml · from ayah 30

27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۟ۙاِنَّهٗ مِنۡ سُلَيۡمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, it is from Solomon, and indeed, it reads: 'In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful,

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:30

وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے نہایت مہربان رحم والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہ (خط) سلیمان ؑ کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے، جو بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اسے اللہ رحمان رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ سلیمان کی طرف کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ (خ ط) سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ : شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is from Solomon, and it is: "In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is from Sulaiman, and it is (in the following words :) With the name of Allah, the All-Merciful, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

It is from Sulaiman, and it is (in the following words :) With the name of Allah, the All-Merciful, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful;'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! it is from Solomon, and lo! it is: In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, it is from Solomon, and indeed, it reads: 'In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful,

— Saheeh International

It reads, 'From Soloman. In the Name of God, the Beneficent and the Merciful.

— Muhammad Sarwar

Surely it is from Sulaiman, and surely it is in the name of Allah, the Beneficent, the Merciful;

— Muhammad Habib Shakir

Verily it is from Sulaiman, and verily it is: in the name of Allah, the Compassionate, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

"It is from Solomon, and is (as follows): 'In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–31

تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–30

سورة النمل 36 یہاں پہنچ کر ہدہد کا کردار ختم ہوتا ہے، عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سے انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کے اس قوت مشاہدہ، قوت تمیز اور قوت بیان سے بہرہ ور ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے، اس ملک کا نظام حکومت یہ ہے، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے، اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے، اس کو خدائے واحد کا پرستار ہونا چاہیے تھا، مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے، اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آکر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمان سے بیان کردے، انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملاحدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کلیلہ و منہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–31

خط نویس کے چند آداب اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، قرآن نے انسانی زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا جس پر ہدایات نہ دی ہوں۔ خط و کتابت اور مراسلت کے ذریعہ باہمی گفت و شنید بھی انسان کی اہم ضروریات میں داخل ہے۔ اس سورت میں حضرت سلیمان ؑ کا مکتوب بنام ملکہ سبا (بلقیس) پورا کا پورا نقل فرمایا گیا۔ یہ ایک پیغمبر و رسول کا خط ہے اور قرآن کریم نے اس کو بطور استحسان کے نقل کیا ہے اس لئے اس خط میں جو ہدایات خط و کتابت کے معاملے میں پائی جاتی ہیں وہ مسلمانوں کے لئے بھی قابل اتباع ہیں۔ کاتب اپنا نام پہلے لکھے پھر مکتوب الیہ کا سب سے پہلے ایک ہدایت تو اس خط میں یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

حضرت سلیمان کا مطالبہ اہل سبا سے تورات کی کتاب سلاطین سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانہ میں ان کے گرد و پیش کی تمام ریاستیں اور حکومتیں یا تواز خودان کی باجگزار اور ماتحت بن گئی تھیں یا حضرت سلیمان نے ان کو طاقت کے زور سے اپنے زیر نگین کرلیا تھا اور ایسا انہوں نے اس اصول کے تحت کیا تھا کہ کفر و شرک کا اقتدار خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے جس کو مغلوب کرنا اہل حق کے فرائض میں سے ہے۔ اس صول کے تحت اہل سبا سے بھی انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ سیدھے سیدھے ان کی ماتحتی میں داخل ہوجائیں، سرکشی کی روش نہ اختیار کریں کہ ان کے خلاف ان کو کوئی اقدام کرنا پڑے۔ مسلمین، یہاں اطاعت اور فرمانبرداری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–30

28-1یعنی ایک جانب ہٹ کر چھپ جا اور دیکھ کہ وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–31

11: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یمن کا یہ علاقہ بھی اصل میں حضرت سلیمان ؑ کے ماتحت تھا، لیکن کسی وقت اس عورت نے خفیہ طور پر یہاں اپنی حکومت قائم کرلی تھی، جس کی خبر آ کر ہد ہد نے دی۔ اسی وجہ سے حضرت سلیمان ؑ نے اس مختصر مگر نہایت بلیغ خط میں کوئی تفصیلی بات کرنے کے بجائے بلقیس اور اس کی قوم کو سرکشی سے باز رہنے اور تابع دار بننے کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–31

قالت ……مسلمین (13) وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔ ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–30

6 بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں اور درباریوں کو جمع کیا، کہنے لگی کہ میرے پاس یہ خط عجیب طریقہ سے پہنچا ہے جو ایک بہت بڑے معزز و محترم بادشاہ (سلیمان) کی طرف سے آیا ہے۔ غالباً حضرت سلیمان کا نام اور ان کی بےمثال حکومت و شوکت کا شہرہ پہلے سے سن چکی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–33

آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ” یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–30

28 سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد کا جواب یا اس کی معذرت سن کر فرمایا : میں تمہیں ایک خط لکھ کردیتا ہوں۔ یہ خط لے جاکر دربار میں ملے اور اس کے درباریوں کے سامنے پھینک دو ۔ پھر انتظار کی خاطر ایک طرف ہٹ جاؤ۔ پھر دیکھنا کہ اس خط کا ان پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔ اور واپس آکر مجھے اس رد عمل کے مطابق اطلاع بھی دو ۔ اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ اس یقینی خبر کو ہم تک پہنچانے میں کہاں تک سچے ہو۔ وہاں ان لوگوں کے ردعمل سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ کس ژہنیت کے مالک ہیں۔ بعض عقل پرست نے اس ہدہد کی پیغام رسانی کے قصہ کو بھی عقل کے مطابق بنانے کی کوشش فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طیر سے طیارے مراد لیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–31

37۔ خط کے مخاطب ملکہ کے علاوہ اعیان سلطنت بھی ہیں۔ اور تبعا جملہ اہل سبا۔ اسی لئے صیغہ جمع مخاطب کا ہے۔ (آیت) ” اتونی مسلمین “۔ سے مراد جسمانی حاضری نہیں۔ محض دعوت اسلام وا طاعت مقصود ہے المراد من المسلم اما المنقاد او ال مومن (کبیر) اے مومنین اومنقادین (بیضاوی) یہ ضرور نہیں کہ خط کی عبارت بجنسہ یہی ہو۔ قرینہ روایت بالمعنی کا ہے۔ یہود کے مقدس نوشتہ تالمود میں جو عبارت مکتوب دی ہوئی ہے۔ اس کے لیے ملاحظۃ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ مضمون مکتوب کے اس ایجاز سے امام رازی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ کلام انبیاء میں طوالت نہیں ہوتی، بلکہ نفس مطلب پر اکتفا ہوتا ہے۔ الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انہ من سلیمن . بلاشبہ یہ (خط یا عنوان) سلیمان کے پاس سے آیا ہے۔ وانہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم . اور وہ (مکتوب یا مضمون یہ ہے) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–32

(29 تا 32) غرض کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اور اس خط کو حضرت بلقیس نے اٹھا لیا اور پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لیے جمع کیا اور ان سے کہا کہ میرے پاس ایک مہر شدہ باوقعت خط ڈالا گیا ہے اور وہ حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ہے۔ اور اس میں یہ مضمون ہے کہ اول ،”۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم“۔ پھر یہ کہ تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع وفرمانبردار ہو کر چلے آؤ۔ اس کے بعد حضرت بلقیس نے درباریوں سے فرمایا کہ تم مجھے اس معاملہ میں اپنی رائے اور مشورہ دو اور میں کبھی کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–31

قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ۔۔ : چناچہ اس نے اپنی سلطنت کے سرداروں اور مشیروں کو جمع کیا اور انھیں مخاطب کرکے کہا : ”اے سردارو ! میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“ ملکہ نے اس خط کو بہت عزت والا اس لیے کہا کہ ایک تو وہ عجیب و غریب اور غیر معمولی طریقے سے آیا تھا، کسی سفارتی وفد کے بجائے ایک پرندے نے اسے لا پھینکا تھا۔ دوسرے وہ سلیمان جیسے باشکوہ بادشاہ کی طرف سے تھا جو شام و فلسطین اور اردگرد کے علاقوں کے فرماں روا تھے۔ تیسرے اس کی ابتدا بتوں یا دیوتاؤں کے نام کے بجائے اللہ رحمٰن ورحیم کے نام سے تھی، پھر اتنا مختصر اور جامع کہ لکھنے والے کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–31

( قالت یایھا۔۔۔۔۔۔ ) اس کے چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ قالت یا تھا الملواء کلام میں حذف سے مراد ہے فذھب فالقاہ الیھم فسمعھا وھی تقول یایھا الملاء وہ گیا اس نے خط ان پر پھینکا اس نے ملکہ بلقیس کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے قوم کے سردارو ! پھر کتاب کی صف کریم سے لگائی کیونکہ وہ خط ایسی ذات کی جانب سے تھا جو عظیم تھی یہ عظمت ملکہ بلقیس کے نفس میں تھی یا ان سرداروں کے نفوس میں تھی۔ ملکہ بلقیس نے خط کی عظیم سے صفت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تکریم کے لیے ذکر کی تھی، یہ ابن زید کا قول ہے یا اس نے یہ اشارہ کیا کہ اس پر مہر لگی ہوئی ہے تو خط کی کرامت اس کی مہر ہے، رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی مروی ہے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–31

بلقیس کی حکومت کی خبر 1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] مِنْ سُلَيْمٰنَ [ سلیمان (علیہ السلام) (کی طرف) سے ہے ] وَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ ] بِسْمِ اللّٰهِ [ اللہ کے نام سے ہے ] الرَّحْمٰنِ [ جو رحمن ہے ] الرَّحِيْمِ [ رحیم ہے ] نوٹ۔ 1: حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خط سے نیز رسول کریم ﷺ کے تمام مکاتیب سے ثابت ہوتا ہے کہ خط کے شروع میں بسم اللہ لکھنا سنت انبیاء ہے۔ لیکن قرآن و سنت کے نصوص و اشارات سے فقہا نے یہ کلیہ قاعدہ لکھا ہے کہ جس جگہ بسم اللہ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی نام لکھا جائے ، اگر اس جگہ اس کاغذ کے بےادبی سے محفوظ رکھنے کا کوئی اہتمام نہیں، بلکہ وہ پڑھ کر ڈال دیا جاتا ہے تو ایسے خطوط اور ایسی چیز پر بسم اللہ یا اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–37

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–31

ف 27:۔ اس سے پہلے اندماج ہے یعنی ہدہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لے بلقیس کے پاس پہنچا۔ بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں کو بلایا اور ان سے کہا الخ جب ہدہد خط لے کر پہنچا اس وقت بلقیس اپنے محل میں سو رہی تھی تمام دروازے مقفل تھے ہدہد نے ایک روشن دان سے داخل ہو کر خط اس کے سینے پر ڈال دیا۔ بلقیس نے بیدار ہو کر جب خط دیکھا تو کانپ اٹھی کہ دروازے مقفل ہونے کے باوجود یہ خط کس طرح اندر پہنچ گیا۔ جب اس نے خط پڑا تو اس پر مزید رعب وہیبت کا غلبہ ہوگیا۔ مشیروں کو جمع کر کے خط کے بارے میں بتایا کہ میرے پاس ایک سر بمہر خط آیا ہے، وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔ خدائے رحمن و رحیم کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–31

ربط آیات گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّہٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ 30ۙ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–40

انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–31

قَالَتْ یٰٓـاَیُّھَا الْمَلَؤُا اِنِّیْٓ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیْمٌ۔ اِنَّـہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّـہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ اَلاَّ تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔ (النمل : 29 تا 31) (ملکہ سبا نے کہا، اے اہل دربار ! ایک گرامی نامہ میرے پاس ڈالا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ تم لوگ میرے مقابل میں سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ۔ ) مکتوبِ گرامی سے متعلق چند اہم امور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مکتوبِ گرامی کو کس طرح ملکہ سبا کے دربار تک پہنچایا، کہا جاتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : خط موصول ہوتے ہی ملکہ سبا نے اپنے وزیروں، مشیروں کا اجلاس بلایا اور انہیں کو خط پڑھ کر سنایا۔ ملکہ سبا نے خط موصول ہوتے ہی اسے اپنے وزیروں اور مشیروں کے سامنے پیش کیا اور اس پر مثبت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے وزراء کرام ! میرے پاس سلیمان (علیہ السلام) کا قابل احترام خط پہنچا ہے جس کی ابتداء اللہ مہربان اور رحم کرنے والے کے نام سے کی گئی ہے۔ اس میں ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی کرنے کی بجائے تابعدار ہو کر میرے حضور پیش ہوجاؤ۔ مشرک ہونے کے باوجود ملکہ نے خط کی ابتداء یعنی ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ سے اندازہ لگالیا تھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ (کہ یہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون سے شروع ہوتا ہے) ۔ یہ در حقیقت جو خط اس کی طرف پہنچا تھا اس کی وضاحت ہے گویا کہ جب اس نے یہ کہا انی القی الی کتب کریم۔ تو اسے کہا گیا کہ وہ خط کس کی طرف سے ہے اور اس کا کیا مضمون ہے تو وہ کہنے لگی انہ من سلیمان وانہ کیت وکیت۔ یعنی وہ ایسے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30۔ وہ کہنے لگی ، انہ من سلیمان ، اور خط کھول کر بیان کردیا، اور کہا، وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–31

(27 تا 31) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو شبہ ہوا کہ ہد ہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے کہ ایک عورت کی بادشاہت اور نئی نئی چیزیں ملک سبا میں دیکھ کر آیا ہے اس واسطے اس کا جھوٹ آزمانے کو یہ بات فرمائی کہ اب معلوم ہوجاوے گا کہ تو سچا ہے یا جھوٹا ہے اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہد ہد کو دیا۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ابن ماجہ اور ابوداؤد کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ روایت 1 ؎ میں (1 ؎ مشکوٰۃ ص 362 باب مایحل اکلہ وما یحرم) آنحضرت ﷺ نے چیونٹی۔ شہد کی مکھی کے مارنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–31

28 مکتوب سلیمانی کا اختصار اور اس کی جامعیت : سو مختصر ترین خط ہونے کے باوجود اس مکتوب گرامی کی عظمت شان اور جامعیت ملاحظہ ہو کہ اپنا صرف نام لکھا کہ یہ خط سلیٰمن (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور بس۔ نہ اپنی بےمثال بادشاہی و حکمرانی کا کوئی ذکر و تذکرہ اور نہ کسی طرح کی عظمت شان کی طرف کوئی اشارہ یا کوئی اظہار۔ بلکہ کمال عبدیت و بندگی کا بیان و اظہار اور اپنے خالق ومالک کے بابرکت نام اور اس کی توحید و وحدانیت کا ذکر و تذکرہ اور مکتوب الیہم کو یہ پر عظمت دعوت و پیغام کہ ہویٰ و ہوس کی پیروی ترک کر کے حق و ہدایت کی پیروی اختیار کرلو اور بےچون و چرا فرمان بردار بن کر حاضر ہوجاؤ۔ سبحان اللہ ۔ کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–31

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے پہلے کسی نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نہیں لکھی۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ پہلے نبی ﷺ خط کے شروع میں ” باسماء اللھم “ لکھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے لگے۔ (قرطبی۔ شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:30) انہ من سلیمان۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کتب کے لئے ہے۔ وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میں ہ ضمیر مضمون کتاب کے لئے ہے اور اس انہ تک کلام ملکہ کی زبان سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–37

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–31

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس کے نام اور اس کا جواب۔ (ف 1) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ہم یہی دیکھتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولتا ہے چونکہ ہدہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے اب معلوم ہوجائے گا اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہدہد کو دیا اور فرمایا کہ اس خط کو لے جاکر اس کے پاس ڈال دے پھر ذراوہاں سے ہٹ جانا پھر دیکھنا کہ آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں غرض جب ہدہد نے روشن دان میں سے جاکر اس خط کو بلقیس کے سینہ پر ڈال دیا اوہ اپنے خلوت خانہ میں تکیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–37

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–31

ف 2: ملکہ سبا کی زبان سے رقعہ کا مضمون ملاحظہ ہو کس قدر مختصر اور کس قدر جامع ہے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر گویا اس کو یقین دلایا ہے کہ ہم ظالم نہیں ۔ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جو رحمن اور رحیم ہے اور جس کے فیوض رحمت آفتاب سے کہیں زیادہ ہیں اس کے بعد اس سے مطالبہ کیا کہ مطیع ہوکر میرے پاس چلے آؤ۔ اور کسی قسم کی سرکشی کا اظہار نہ کرو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) وہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–35

ف 6۔ باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود نہایت وجازت کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے جو اللہ رحمن ورحیم کے نام سے شروع ہوتا ہے : 30۔ ملکہ نے اپنے درباریوں کے سامنے جو اس خط کی تعریف کی اس کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کو بتایا کہ یہ خط سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے لکھا گیا ہے اور اس کے سرنامہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی تحریر ہے گویا یہ اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو بہت مہربان اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے اور اس کا مضمون کچھ اس طرح اور مضمون کا ذکر آئندہ آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–31

Some rules of writing letters إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ It is from Sulaiman and it is (in the following words:) With the name of Allah, the All-Merciful, the Very-Merciful. 27:30 There is not a single aspect of human life on which Qur'an does not provide guidance. Mutual exchange of welfare and other information through letters is part of human requirements. In this Surah, full text of the letter from Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) to Queen Saba' has been reproduced. This is a letter from a prophet, and Qur'an has reproduced it as an…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–30

36 Here ends the role of the hud-hud (hoopoe). The rationalists deny its being a bird for the reason that a bird could not possibly be endowed with such powers of observation, discrimination and expression that it should pass over a country and should come to know that it is the land of Saba`, it has such and such a system of government, it is ruled by a certain woman, its religion is sunworship, that it should have worshipped One God instead of having gone astray, and then on its return to the Prophet Solomon it should so clearly make a report of aII its observations before him. Due to these…

Read the full tafseer →