An-Naml 27:28

An-Naml · from ayah 28

27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ۟اِذۡهَبْ بِّكِتٰبِىۡ هٰذَا فَاَلۡقِهۡ اِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَانْظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُوۡنَ

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Take this letter of mine and deliver it to them. Then leave them and see what [answer] they will return."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:28

میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے اس خط کو لے جاکر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ اور دیکھ کہ وه کیا جواب دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آپھر دیکھ وہ کس بات کی طرف رجوع کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میرا یہ خط لے جا، پس اسے ان کی طرف پھینک دے، پھر ان سے لوٹ آ، پس دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ میرا خط لے جا اور ان کی طرف پھینک دے پھر ان سے ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ میرا نامہ لے کر جائو اور ان کے پاس ڈال دیجیو اور ہٹ کر دیکھیو کہ کیا ردعمل وہ ظاہر کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ میرا خط لے جا کر ان لوگوں کی طرف ڈال دے پھر ان سے ذرہ ہٹ کر دیکھا کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

(اچھا تو) یہ میرا خط لے جانا اور اسے اس کے پاس ڈال دینا پھر ان کے پاس سے (ذرا) ہٹ جانا پھر دیکھنا آپس میں کیا سوال جواب کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میرا یہ خط لے جاؤ اسے ان کے پاس جا کر ڈال آؤ پھر ان سے الگ ہو کر دیکھتے رہو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Take this letter of mine, deliver it to them, and then draw back from them, and observe what they do."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Go with this letter of mine, and deliver it down to them, then turn back from them, and see how they react.

— Muhammad Taqi Usmani

Go with this letter of mine, and deliver it down to them, then turn back from them, and see how they react.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Go you with this letter of mine and deliver it to them, then draw back from them and see what they return."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Go with this my letter and throw it down unto them; then turn away and see what (answer) they return,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Take this letter of mine and deliver it to them. Then leave them and see what [answer] they will return."

— Saheeh International

Take this letter of mine and deliver it to them, then return and see what their reply will be."

— Muhammad Sarwar

Take this my letter and hand it over to them, then turn away from them and see what (answer) they return.

— Muhammad Habib Shakir

Go thou with this epistle of mine, and cast it down unto them, and turn aside from them, and see how they return.

— Abdul Majid Daryabadi

"Go thou, with this letter of mine, and deliver it to them: then draw back from them, and (wait to) see what answer they return"...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–31

تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–30

سورة النمل 36 یہاں پہنچ کر ہدہد کا کردار ختم ہوتا ہے، عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سے انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کے اس قوت مشاہدہ، قوت تمیز اور قوت بیان سے بہرہ ور ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے، اس ملک کا نظام حکومت یہ ہے، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے، اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے، اس کو خدائے واحد کا پرستار ہونا چاہیے تھا، مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے، اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آکر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمان سے بیان کردے، انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملاحدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کلیلہ و منہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تحریر اور خط بھی عام معاملات میں حجت شرعیہ ہے اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا، حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کے نام خط بھیجنے کو اس پر اتمام حجت کے لئے کافی سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں تحریر و خط قابل اعتبار ثبوت ہے۔ فقہاء ؒ نے صرف ان مواقع میں خط کو کافی نہیں سمجھا جہاں شہادت شرعیہ کی ضرورت ہے کیونکہ خط اور ٹیلیفون وغیرہ کے ذریعہ شہادت نہیں لی جاسکتی۔ شہادت کا مدار شاہد کا عدالت کے سامنے آ کر بیان دینے پر رکھا گیا جس میں بڑی حکمتیں مضمر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بھی دنیا کی کسی عدالت میں خط اور ٹیلیفون پر شہادت لینے کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔ مشرکین کو خط لکھنا اور ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 30-29 حضرت سلیمان کا نامہ ملکہ سبا کے نام نامہ کے موصول ہونے کے بعد ملکہ نے فوراً اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ ان کو بتایا کہ انفی القی الی کتب کریم (میرے پاس ایک معزز گرامی نامہ ڈلوایا گیا ہے) اس انداز تعارف سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ پرندوں کے ذریعہ سے خطوط بھیجنے اور بھجوانے کا طریقہ اس زمانے میں کم از کم بادشاہوں کے ہاں، ایک معلوم و معروف طریقہ تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو مکلہ کو بھی اس طرح، بغیر کسی قاصد یکے خط آنے پر تعجب ہوتا اور درباری بھی اس پر تعجب کا اظہار کرتے لیکن نفس خط کے وصول ہونے پر نہ مکلہ نے کسی تعجب کا اظہار کیا نہ ان کے درباریوں نے بلکہ ملکہ نے بھی اس کا ذکر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–30

28-1یعنی ایک جانب ہٹ کر چھپ جا اور دیکھ کہ وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–31

11: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یمن کا یہ علاقہ بھی اصل میں حضرت سلیمان ؑ کے ماتحت تھا، لیکن کسی وقت اس عورت نے خفیہ طور پر یہاں اپنی حکومت قائم کرلی تھی، جس کی خبر آ کر ہد ہد نے دی۔ اسی وجہ سے حضرت سلیمان ؑ نے اس مختصر مگر نہایت بلیغ خط میں کوئی تفصیلی بات کرنے کے بجائے بلقیس اور اس کی قوم کو سرکشی سے باز رہنے اور تابع دار بننے کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

قال سننظر……یرجعون (82) اس منظر میں خط کا مضمون نہیں دکھایا جاتا۔ گویا یہ بند پیغام ہے تاکہ یہ مکتوب الیہ تک پہنچ جائے اور وہاں کھولا جائے تاکہ ہر نئی بات ناظرین کے سامنے اپنے صحیح وقت پر آئے۔ پردہ گرتا ہے۔ اب ہم ملکہ سبا کے دربار میں ہیں اور خط وہاں پہنچ گیا ہے اور کھولا جاتا ہے۔ ملکہ اب اپنی شوریٰ کے سامنے مضمون پیش کر کے مشورہ لیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی سلیمان نے ایک خط لکھ کر ہدہد کے حوالہ کیا کہ ملکہ " سبا " کو پہنچا دے اور جواب لے کر آ۔ اور دیکھنا خط پہنچا کر وہاں سے ایک طرف ہٹ جانا۔ کیونکہ قاصد کا وہیں سر پر کھڑا رہنا آداب شاہانہ کے خلاف ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی آپ کو چھپا، لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ، ہدہد خط لے گیا، بلقس جہاں اکیلی سوتی تھی۔ روزن میں سے جا کر اس کے سینہ پر رکھ دیا۔ " (موضح)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 28 اِذْہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ” چنانچہ وہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط لے گیا اور جا کر ملکہ کے آس پاس یا شاید اس کی خواب گاہ میں پھینک دیا۔ ملکہ نے یہ غیر معمولی خط پڑھا تو فوری طور پر قوم کے بڑے بڑے سرداروں کو مشورے کے لیے دربار میں طلب کرلیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–30

28 سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد کا جواب یا اس کی معذرت سن کر فرمایا : میں تمہیں ایک خط لکھ کردیتا ہوں۔ یہ خط لے جاکر دربار میں ملے اور اس کے درباریوں کے سامنے پھینک دو ۔ پھر انتظار کی خاطر ایک طرف ہٹ جاؤ۔ پھر دیکھنا کہ اس خط کا ان پر ردعمل کیا ہوتا ہے۔ اور واپس آکر مجھے اس رد عمل کے مطابق اطلاع بھی دو ۔ اس سے جہاں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ اس یقینی خبر کو ہم تک پہنچانے میں کہاں تک سچے ہو۔ وہاں ان لوگوں کے ردعمل سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ کس ژہنیت کے مالک ہیں۔ بعض عقل پرست نے اس ہدہد کی پیغام رسانی کے قصہ کو بھی عقل کے مطابق بنانے کی کوشش فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طیر سے طیارے مراد لیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

35۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فرماتے ہیں اچھا ابھی امتحان ہوا جاتا ہے، یہ خط لے کر جا، بس حقیقت حال معلوم ہوئی جاتی ہے کہ تیرا بیان صحیح ہے یا غلط .... پرندوں کے ذریعہ سے خطوط رسانی کا طریقہ دنیائے قدیم میں عام رہا ہے، اور کبوتروں سے تو یہ خدمت یورپ میں آج تک لی جارہی ہے۔ (آیت) ” ثم تول عنھم “۔ ہٹ جانے کا حکم جو ہدہد کو دیا گیا، اس میں تعلیم ہے تہذیب وادب مجلس ملوک کی (تھانوی (رح) لیکن یہ مقصود بھی ہوسکتا ہے کہ غیر ملک کے سفیر کے بالکل سامنے وہ لوگ آزادی سے بات چیت نہ کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : فَمَکُثَ کاف کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ، چناچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ (اس نے آکر) کہا یعنی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ بازو اور دم لٹکائے ہوئے اور سر اٹھائے ہوئے عاجزانہ طریقہ پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا، چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو معاف کردیا اور زمانہ غیبونت میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے کہا میں ایسی خبر لایا ہوں کہ آپ کو اس کی خبر نہیں یعنی میں ایسی خبر پر مطلع ہوا ہوں کہ آپ کو اس کی اطلاع نہیں اور میں (قوم) سبا کی سچی خبر آپ کے پاس لایا ہوں سَبَأ منصرف اور غیر منصرف دونوں ہے، سبا یمن میں ایک قبیلہ کا نام ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذھب بکتنی ھذا فالقہ الیھم ثم تول عنھم فانظر ماذا یرجعون . میرے اس خط کو لے جا کر ان لوگوں کے پاس ڈال کر الگ ہوجانا پھر دیکھتے رہنا وہ لوگ باہم کیا گفتگو کرتے ہیں۔ حسب الحکم ہدہد خط لے کر بلقیس کے پاس پہنچا ‘ بلقیس اس وقت صنعاء سے تین منزل پر مقام مآرب میں تھی۔ ہدہد ملکہ کے قصر میں پہنچا تو دروازے سب مقفل پائے اور کنجیاں ملکہ نے اپنے سرہانے رکھ لی تھیں۔ غرض ہدہد (کسی طرح) بلقیس کے قریب پہنچ گیا۔ بلقیس چت لیٹی سو رہی تھی ‘ ہدہد نے خط اس کے سینہ پر رکھ دیا۔ کذا اخرج عبد بن حمید وابن المنذر و ابن ابی حاتم عن قتادہ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ہدہد اپنی چوند میں خط پکڑ کرلے گیا اور بلقیس کے سرہانے جا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) میرا یہ خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دینا پھر ذرا وہاں سے ہٹ جانا کہ وہ دیکھ نہ سکیں پھر دیکھنا کہ میرے خط کے بارے میں وہ آپس میں کیا گفتگو اور سوال و جواب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا۔۔ : سلیمان ؑ نے فوراً ہی خبر کی تحقیق کا آغاز کردیا، چناچہ خط لکھا اور ہد ہد کو حکم دیا کہ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف پھینک، پھر ان سے لوٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یعنی ایک طرف رہ کر ان کی باتیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ، پھر آ کر مجھ سے بیان کر۔ یہاں بات کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے کہ ہد ہد وہ خط لے کر گیا اور اسے ملکہ سبا کے پاس لے جا کر پھینک دیا۔ ملکہ اس خط کی آمد کا طریقہ اور اس کا مضمون پڑھ کر حیران رہ گئی۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ ہد ہد سے عام معلومات کی بہم رسانی کے علاوہ خط رسانی کا کام بھی لیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم ابن محصین نے العظیم پڑھا ہے مرفوع ہے لفظ اللہ اسم جلالت کی صفت ہے۔ باقی قراء نے مجرور پڑھا ہے یہ العرش کی صفت ہے رب کا خصوصاً ذکر فرمایا کیونکہ مخلوقات میں سے عظیم ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں اور اس کے قبضہ میں ہیں۔ مسئلہ نمبر 14 :۔ ستظر یہ اس نظر سے مشتق ہے جس کا معنی غور و فکر کرنا ہے۔ اصدقت امر کنت من الکذبین کیا تو اپنی بات میں سچا ہے یا جھوٹا ہے کنت یہ انت کے معنی میں ہے کہا : ستنظر اصدقت یہ نہیں کہا۔ سننضر فی امرت کیونکہ جب ہد ہد نے علم میں فخر کی تصریح کردی احطت بما لم تحط بہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے قول کے ساتھ تصرزیح کی ستظر اصدقت ام کنت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–31

بلقیس کی حکومت کی خبر 1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْهَبْ [ تو جا ] بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا [ میرے اس خط کے ساتھ ] فَاَلْقِهْ [ پھر تو ڈال دے اس کو ] اِلَيْهِمْ [ ان لوگوں کی طرف ] ثُمَّ تَوَلَّ [ پھر تو منہ موڑ لے ] عَنْهُمْ [ اس سے ] فَانْظُرْ [ پھر تو دیکھ ] مَاذَا [ کیا ہے جو ] يَرْجِعُوْنَ [ وہ لوٹاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–37

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–44

قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔ (ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

26:۔ ہدہد نے اس عجیب و غریب انکشاف کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا اب میں تحقیقات کرتا ہوں تم سچ کہہ رہے ہو یا جھوٹ بول رہے ہو۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے ورنہ تحقیقات کی کیا ضرورت تھی۔ “ اذھب بکتابی ھذا الخ ” حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک خط لکھ کر ہدہد کے حوالے کیا اور فرمایا یہ خط لے جاؤ اور ملکہ سبا سے اس کا جواب لے کر آؤ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 20–31

ربط آیات گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْہَبْ بِّكِتٰبِيْ ھٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَيْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ۝ 28 ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–28

و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ اِذْھَبْ بِّکِتٰبِیْ ھٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْھُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ۔ (النمل : 27، 28) (حضرت سلیمان نے کہا ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا یا تم جھوٹوں میں سے ہو۔ میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دو اور ہٹ کر دیکھو کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ) ہدہد کی عذرخواہی کا جواب ہدہد کی باتیں سننے کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جو اپنی غیرحاضری کا عذر پیش کررہے ہو، ہم ابھی اس کی سچائی معلوم کیے لیتے ہیں، اندازہ ہوجائے گا کہ تم سچ بول رہے ہو یا جھوٹ کہہ رہے ہو۔ آپ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–28

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے نہایت توجہ کے ساتھ ہدہد کی رپورٹ سماعت فرمائی اور حکم صادر فرمایا کہ فوری طور پر میرا خط لے کر ملکہ سبا تک پہنچاؤ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہُد ہُد کو ارشاد فرمایا کہ عنقریب ہم ایک حکم کے ذریعے جاننا چاہیں گے کہ تو نے ہمارے سامنے سچ بولا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں شامل ہے۔ تیرے لیے حکم یہ ہے کہ ہمارا مراسلہ لے کر فوری طور پر ملکہ سبا کی طرف جاؤ اور ان کے سامنے ہمارا مراسلہ ڈال کر پیچھے ہٹ کر جائزہ لو کہ وہ ہمارے مراسلہ کا کیا ردِّ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مراسلہ پوری ذمہ داری کے ساتھ ملکہ بلقیس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: اِذْ ہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ (میرا یہ خط لے جائو اور اس کو ڈال دو ) ۔ قراءت : القہ۔ ہاء کے سکون کے ساتھ بطور تخفیف ابو عمرو ‘ عاصم اور حمزہ نے پڑھا اختلاس کسرہ کے ساتھ تاکہ یائے محذوفہ پر دلالت کرے یزید قالون اور یعقوب نے پڑھا ہے فَأَلْقِہِیْ یاء کے اثبات کے ساتھ دیگر قراء نے نمبر 1۔ (فالقہی) پڑھا ہے۔ اِلَیْہِمْ (یعنی بلقیس اور قوم بلقیس کی طرف) ۔ یہاں بھی ضمیر مذکر اور جمع کی لائی کیونکہ ہدہد نے اپنے قول میں اسی طرح ذکر کیا وجدتہا وقومہا یسجدون للشمس۔ [ النمل : 24] اسی لئے خط میں خطاب کی بنیاد جمع کے لفظ کے ساتھ لائی گئی۔ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ (پھر الگ ہوجائو تم ان سے) ۔ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ اذھب بکتابی ھذافالقہ الیھم، ،، ابوعمرو عاصم ، حمزہ حاء کے ساکن کے ساتھ ، ابوجعفر ، یعقوب نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ثم تول عنھم، ان سے ذرا دور رہ کر دیکھنا، فانظر ماذایرجعون، وہ اس خط کا جواب کیسے دیتے ہیں، کیا جواب دیتے ہیں ۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اصل میں اس طرح عبارت تھی، اذھب بکتابی ھذا فاقلہ الیھم فانظر ماذایرجعون، ، میرے اس خط کو لے جاؤ اور اس کو ان تک پہنچادو، اور دیکھو اس کا ردعمل کیا ہے وہ کیا کرتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر بلقیس کے پاس پہنچا بلقیس اس وقت صنعاء سے تین منزل پر مقام مارب میں تھی، ہدہد ملکہ کے قصر میں پہنچاتودروازے سب بند تھے اور کنجیاں ملکہ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–31

(27 تا 31) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو شبہ ہوا کہ ہد ہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے کہ ایک عورت کی بادشاہت اور نئی نئی چیزیں ملک سبا میں دیکھ کر آیا ہے اس واسطے اس کا جھوٹ آزمانے کو یہ بات فرمائی کہ اب معلوم ہوجاوے گا کہ تو سچا ہے یا جھوٹا ہے اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہد ہد کو دیا۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ابن ماجہ اور ابوداؤد کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ روایت 1 ؎ میں (1 ؎ مشکوٰۃ ص 362 باب مایحل اکلہ وما یحرم) آنحضرت ﷺ نے چیونٹی۔ شہد کی مکھی کے مارنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

26 سلیمان کا خط ملکہ سبا کے لیے ہدہد کو پرکھنے کی غرض سے : سو حضرت سلیمان نے ہدہد سے فرمایا کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو یا جھوٹے۔ سو تم میرا یہ خط لے جاؤ اس کو ان کے آگے ڈال دو اور پھر ان سے ذرا ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات آداب کے خلاف ہے کہ خط دینے کے بعد تم ان کے سر پر کھڑے رہو ۔ سبحان اللہ ۔ کس طرح ایسے باریک آداب کی رعایت رکھی گئی ہے جس سے آج بھی بہت سی دنیا غافل و بیخبر ہے اور بڑے بڑے تیس مار خان بھی ان سے محروم ہیں۔ بہرکیف حضرت سلیمن نے ہدہد کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم یہ خط لے جاکر ان تک پہنچا دو اور پھر ان سے ذرا ہٹ کر دیکھنا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–31

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

6 ۔ یعنی جو باتیں وہ آپس میں کریں انہیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ اور پھر مجھ سے آ کر بیان کر۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یعنی آپ کو معلوم نہ کروا لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ، ہد ہد (وہ خط) لے گیا۔ بلقیس جہاں اکیلی سوتی تھی روزن (روشندان) میں سے جا کر اس کی چھاتی پر رکھ دیا۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:28) القہ : الق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو ڈال دے۔ الیہم۔ ان کے پاس۔ ان کے سامنے۔ تول عنھم تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی مصدر۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہو تو اس کے درج ذیل معنی ہوسکتے ہیں (1) کسی سے دوستی رکھنے۔ (2) کسی کام کو اٹھانے۔ (3) والی اور حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے (1) ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔ (2) والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے کہ اٹھایا اس بڑی بات کو۔ (3) فہل عسیتم ان تولیہم ۔۔ (47:22) پھر کیا تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو ۔۔ اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ عن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–37

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–31

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس کے نام اور اس کا جواب۔ (ف 1) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ہم یہی دیکھتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولتا ہے چونکہ ہدہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے اب معلوم ہوجائے گا اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہدہد کو دیا اور فرمایا کہ اس خط کو لے جاکر اس کے پاس ڈال دے پھر ذراوہاں سے ہٹ جانا پھر دیکھنا کہ آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں غرض جب ہدہد نے روشن دان میں سے جاکر اس خط کو بلقیس کے سینہ پر ڈال دیا اوہ اپنے خلوت خانہ میں تکیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–37

[8] یہاں سے لے کر آیت 26 کے آخر تک ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے جیسا کہ انداز کلام سے صاف ظاہر ہے۔ یہ اسی قسم کی تضمین ہے جس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) جا میرا یہ خط لے جا اور اس خط کو ان کے پاس ڈال دے خط ڈالنے کے بعد ان کے پاس سے ہٹ جا اور دیکھتا رہ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں اور آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ کو معلوم نکروا لیکن لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ آ ہُد ہُد لے گیا بلقین جہاں اکیلی سوتی تھی روزن سے جاکر اس کی چھاتی پر رکھ دیا 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہدہد علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے دوسروں کا کلام بھی سمجھتا تھا، سو یہ بھی معجزہ سلیمانی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سلیمان (علیہ السلام) نے کہا جاؤ میرا یہ خط لے جاؤ اور ملک کو پیش کرو پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے : 28۔ ہم نے اوپر بیان کیا تھا کہ یہ شخص فوج میں سراغ رسانی کے محکمہ کا فرد معلوم ہوتا ہے اور سراغ رسانی اور پیغام رسانی دونوں لازم وملزوم ہیں اور بلاشبہ پیغام ہی سے سراغ نکل سکتا ہے کہ حالات کیا ہیں اور کیسے ہیں ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا طریقہ اختیار کیا اور بلاشبہ یہ خدادا و ذہانت ہے اور اس سلسلہ مین سلیمان (علیہ السلام) کا مقام بلاشبہ بہت بلند ہے بلکہ قرآن کریم نے آپ کی اس ذہانت کا ذکر خصوصا فرمایا ہے جہاں داؤد (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں ایک بات کا فیصلہ آپ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Letters and writings are enough proof on religious matters in the normal circumstances اذْهَب بِّكِتَابِي هَـٰذَا (Go with this letter of mine - 28). Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) considered it enough to write to the queen of Saba' (Sheba) for the fulfillment of his duty to invite her to faith, and hence sent her a letter. This shows that in the normal circumstances the letter or writing is an acceptable proof. The religious jurists did not accept a letter as an evidence only where a proper personal evidence is required under Islamic law, because testimony is not allowed on telephone or by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–30

36 Here ends the role of the hud-hud (hoopoe). The rationalists deny its being a bird for the reason that a bird could not possibly be endowed with such powers of observation, discrimination and expression that it should pass over a country and should come to know that it is the land of Saba`, it has such and such a system of government, it is ruled by a certain woman, its religion is sunworship, that it should have worshipped One God instead of having gone astray, and then on its return to the Prophet Solomon it should so clearly make a report of aII its observations before him. Due to these…

Read the full tafseer →