Ash-Shu'araa 26:93

Ash-Shu'araa · from ayah 93

26:93

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ— هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَ ۟ؕمِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِؕ هَلۡ يَنۡصُرُوۡنَكُمۡ اَوۡ يَنۡتَصِرُوۡنَؕ

یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Other than Allah? Can they help you or help themselves?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:93

کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ کو چھوڑ کر ، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا خود اپنا بچاؤ کرلیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا بدلہ لیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا وہ اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنا دفاع کریں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کے سوا کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں ؟ یا اپنا ہی کوئی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کے سوا کیا وہ تمہارا ساتھ دے سکتے ہیں یا وہ اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کے سوا۔ کیا اب وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا (تمہاری طرف سے) کوئی بدلہ لے سکتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن کو اللہ کے سوا پوجتے تھے کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

beside Allah? Can they be of any help to you, or even be of any help to themselves?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

beside Allah? Can they help you or help themselves?‘

— Muhammad Taqi Usmani

beside Allah? Can they help you or help themselves?‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Instead of Allah Can they help you or help themselves"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Instead of Allah? Can they help you or help themselves?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Other than Allah? Can they help you or help themselves?"

— Saheeh International

besides God? Will the idols help you? Can they help themselves?"

— Muhammad Sarwar

Besides Allah? Can they help you or yet help themselves?

— Muhammad Habib Shakir

Beside Allah? Can they succour you or succour themselves?

— Abdul Majid Daryabadi

"'Besides Allah? Can they help you or help themselves?'

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–104

نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–94

سورة الشُّعَرَآء 68 اصل میں لفظ کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–104

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92۔ 93 بدکاروں کا حشر نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے اور نتصار کے معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ اس وقت دوزخ میں پڑنے والوں سے کہا جائے گا کہ تم خدا کے سوا جن کی پرستش کرتے رہے ہو، بتائو، اب وہ کہاں ہیں ! کیا وہ تمہاری یا خود اپنی ہی کوئی مدافعت کرسکتے ہیں !

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–93

18: سورة مریم (19: 47) میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آگئی اور معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے بھی اس سے براءت کا اظہار فرمادیا، جیسا کہ سورة توبہ (9: 114) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–102

وازلفت ……من المومنین (98) جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 92–93

10 یعنی اب وہ فرضی معبود کہاں گئے کہ نہ تمہاری مدد کر کے اس عذاب سے چھڑا سکتے ہیں نہ بدلہ لے سکتے ہیں بلکہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 90–98

آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ” جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 92–93

66 اہل دوزخ سے پوچھا جائے گا۔ بتلاؤ آج تمہارے وہ معبود کدھر ہیں جنہیں تم نے اللہ کے ہاں اپنے سفارشی سمجھ رکھا تھا اور اللہ کے بجائے انہی کی نذر و نیازوں اور نیاز مندیوں میں لگے رہتے تھے آج تو وہ اپنے آپ کو بھی دوزخ سے بچا نہیں سکتے تمہاری کیا خاک مدد کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 92–93

67۔ معبودان باطل کی غایت بےبسی وبیچارگی کا بیان ہے۔ کہ وہ دوسروں کو کیا چھڑائیں گے، خود اپنے کو بچانے پر بھی قادر نہیں (آیت) ” قیل ...... تعبدون “۔ یہ سوال ظاہر ہے کہ اہل دوزخ سے انہیں اور زیادہ جلانے کے لیے کیا جائے گا،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من دون اللہ : اللہ کے سوا ہل ینصرونکم کیا (آج) وہ تمہاری مدد کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تم کو بچا لیں گے۔ استفہام انکاری اور توبیخی ہے۔ (یعنی عذاب سے بچا نہیں سکتے) ۔ او ینتصرون۔ یا خود محفوظ ہوسکتے ہیں۔ اپنے اوپر سے عذاب کو دفع کرسکتے ہیں (یعنی ایسا بھی نہیں کرسکتے) بلکہ وہ کافر اور اللہ کے سوا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ سب کے سب جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 92–93

(92۔ 93) اور بتوں کے پجاریوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم جن بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں گئے کیا وہ تمہاری عذاب الہی سے حفاظت کرسکتے ہیں یا عذاب الہی سے خود کا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 92–93

وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”یَنْتَصِرُوْنَکُمْ“ ”اِنْتَصَرَ یَنْتَصِرُ“ (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا تمہارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 90–99

(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380 وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 90–93

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفت الجنۃ للمتقین “ سے مراد ہے کہ جنت قریب کردی جائے گی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے نبی ح کعب کی بیوی کے بیٹے سے روایت کیا کہ جنت کو قریب کردیا جائے گا پھر اس کو آراستہ کیا جائے گا پھر وہ دیکھیں گے اس کی طرف اللہ کی مخلوق میں سے خواہ مسلمان ہو خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر دو آدمی نہ دیکھیں گے وہ آدمی جس نے قتل کیا ہوگا کسی مومن کا جان بوجھ کر اور ایک وہ آدمی جس نے کسی ذمی کو قتل کیا ہوگا جان بوجھ کر۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] هَلْ [ کیا ] يَنْصُرُوْنَكُمْ [ وہ سب مدد کریں گے تمہاری ] اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ [ یا وہ بدلہ لیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 93–105

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 89–94

40:۔ ان مشرکوں اور ان کو گمراہ کرنے والوں کو اور ابلیس کے سارے لشکر کو جو انسانوں کو گمراہ کرتا رہا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ” قالوا وھم فیھا یختصمون “ مشرکین جہنم میں داخل ہونے کے بعد معبودان باطلہ سے جھگڑیں گے اور حسرت و ندامت سے اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے اور معبودان باطلہ سے کہیں گے کہ ہم تو بہت بری گمراہی میں تھے جب استحقاق عبادت میں تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے ” وما اضلانا الا المجرمون “ اور ہماری گمراہی کا سبب مشرک پیشوا بنے انہوں ہی ہمیں گمراہ کیا المجرمون من دعاھم الی عبادۃ الاصنام من الجن والانس (بحر ج 7 ص 27)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–104

ربط آیات اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ 93؀ۭ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–93

وَقِیْلَ لَہُمْ اَیْنَمَا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط ھَلْ یَنْصُرُوْنَـکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 92، 93) (اور ان سے کہا جائے گا کہ اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنا بچائو کریں گے ؟ ) نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے کے ہیں اور انتصارکا معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ جہنم میں جانے والوں سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں جن لوگوں کی اس خیال سے پیروی کرتے رہے کہ وہ قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے اور تمہیں ہر طرح کے عذاب سے بچا لیں گے۔ بتائو کیا آج وہ تمہاری مدد کریں گے یا کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 93–96

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا۔ جہنمی جب جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے اور ایک حقیقت کا اعتراف کروانے اور ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے کے لیے انہیں آمنے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ مرید اپنے پیروں سے، ور کر اپنے لیڈروں سے، مقتدی اپنے اماموں سے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنے کی کئی صورتیں ہیں بڑوں کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا دینوی مفاد کی خاطر ان کے غیر شرعی حکم ماننا اور عقیدت میں ان کی ایسی تعظیم کرنا جس سے شریعت نے منع کر رکھا ہے۔ جہنمی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 92–93

92: وَقِیْلَ لَھُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ھَلْ یَنْصُرُ وْنَکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ (اور ان سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سواتم جن کی پوجا کرتے تھے۔ وہ کہاں ہیں کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا وہ خود محفوظ ہوسکتے ہیں) ان کو شرک پر تو بیخ کرتے ہوئے کہا جائے گا این الہتکم ؟ تمہارے معبود کہاں ہیں کیا وہ مدد کر کے تمہیں نفع پہنچائیں گے ؟ یا کیا اپنے آپ کو اپنے غلبہ سے فائدہ پہنچا سکیں گے ؟ کیونکہ وہ اور ان کے معبود آگ کا ایندھن بنیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 92–93

تفسیر۔ 92، 93۔ وقیل لھم، قیامت کے دن ، اینما کنتم تعبدون، من دون اللہ ھل ینصرونکم، وہ تمہیں عذاب سے نہیں روک سکیں گے۔ او ینتصرون، یا خود محفوظ ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–101

(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 93–94

55 مشرکوں کے نہایت ہولناک انجام کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ان کو بھی اور ان گمراہوں کو بھی اور ابلیس کے سب لشکروں کو بھی "۔ کیونکہ یہ سب مجرم تھے۔ پوجا پاٹ کرنے والے بھی اور کرانے والے بھی۔ اس لئے ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور معبودوں کو ان عابدوں سے پہلے اس میں اس لئے ڈالا جائے گا کہ ایک تو وہ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوئے تھے اور وہ اس ضلال و فساد کا اصل منبع ومصدر تھے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح عابدوں کی وہ سب آرزوئیں اور تمام امیدیں ختم ہو کر رہ جائیں گی جو انہوں نے اپنے ان خودساختہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 92–95

7 ۔ یا ” انہیں اس میں ایک دوسرے کے اوپر دھکیل دیا جائے گا۔ “ یا ” انہیں اس میں ایک جگہ جمع کردیا جائیگا “ لفظ ” کبکبوا “ کے یہ سارے معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:93) ینصرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (کیا) وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کرتے ہیں۔ ینصرون ۔ (یا) وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ انتقام لے سکتے ہیں ۔ اپنے رب کا بچاؤ کرسکتے ہیں۔ انتصار (افتعال) سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–101

(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–102

[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–93

ف 2: یعنی اللہ کے نیک بندے اس کے مقام فضا کے بالکل قریب ہوں گے ۔ وہ دیکھیں گے ۔ کہ جنت کی تمام نعمتیں ان کے سامنے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں ۔ جنہوں کے دنیا میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نہ الفت کی ۔ اور شرک کی لعنتوں میں گرفتار رہے ۔ اپنے کو جہنم کے نزدیک تر پائیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ جہنم ان کے روبرو منہ کھولے کھڑا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(93) کیا وہ معبود تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا وہ اپنی ہی کچھ بچائو کرسکتے ہیں یعنی وہ فرضی اور خود ساختہ معبود نہ تمہاری مدد کسرکتے ہیں نہ اپنا ہی بدلا لے سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 92–102

ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ تمہارا بھلا کرسکتے ہیں یا خود اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں : 93۔ یہ بات ان دوزخیوں سے پوچھی جا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کی باداش میں دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور اس طرح گویا ان کی بےبسی اور بیچارگی کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ وہ دوسروں کو کیا چھڑائیں گے خود اپنی آپ تو مدد کر نہیں سکتے جو خود ہی اندھا ہے وہ دوسروں کو کیا راہ دکھائے گا ، اس کی تفصیل بھی پیچھے گزر چکی ہے ۔ مثلا سورة الاعراف 192 ‘ 197 ‘ سورة ہود کی آیت 113 ‘ سورة الکہف آیت 43 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 39 کی عروۃ الوثقی سے دیکھیں انشاء اللہ تفصیل آپ کو مل جائے گی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–108

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾ The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89] This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–95

68 Kubkibu in the Text has two meanings: (1) They will be hurled into Hell one upon the other; and (2) they will go on rolling down into the depths of Hell.

Read the full tafseer →