Explained with ayahs 90–104
نیک لوگ اور جنت
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة الشُّعَرَآء 68
اصل میں لفظ کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت 92۔ 93
بدکاروں کا حشر
نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے اور نتصار کے معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ اس وقت دوزخ میں پڑنے والوں سے کہا جائے گا کہ تم خدا کے سوا جن کی پرستش کرتے رہے ہو، بتائو، اب وہ کہاں ہیں ! کیا وہ تمہاری یا خود اپنی ہی کوئی مدافعت کرسکتے ہیں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
93-1یعنی تم سے عذاب ٹال دیں یا خود اپنے نفس کو اس سے بچالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
18: سورة مریم (19: 47) میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آگئی اور معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے بھی اس سے براءت کا اظہار فرمادیا، جیسا کہ سورة توبہ (9: 114) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
10 یعنی اب وہ فرضی معبود کہاں گئے کہ نہ تمہاری مدد کر کے اس عذاب سے چھڑا سکتے ہیں نہ بدلہ لے سکتے ہیں بلکہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”
جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
66 اہل دوزخ سے پوچھا جائے گا۔ بتلاؤ آج تمہارے وہ معبود کدھر ہیں جنہیں تم نے اللہ کے ہاں اپنے سفارشی سمجھ رکھا تھا اور اللہ کے بجائے انہی کی نذر و نیازوں اور نیاز مندیوں میں لگے رہتے تھے آج تو وہ اپنے آپ کو بھی دوزخ سے بچا نہیں سکتے تمہاری کیا خاک مدد کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
67۔ معبودان باطل کی غایت بےبسی وبیچارگی کا بیان ہے۔ کہ وہ دوسروں کو کیا چھڑائیں گے، خود اپنے کو بچانے پر بھی قادر نہیں (آیت) ” قیل ...... تعبدون “۔ یہ سوال ظاہر ہے کہ اہل دوزخ سے انہیں اور زیادہ جلانے کے لیے کیا جائے گا،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →وقیل لہم اینما کنتم تعبدون۔
اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جن کی پوجا
کرتے تھے (اور جن کی شفاعت کے امیدوار تھے آج) وہ کہاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(92۔ 93) اور بتوں کے پجاریوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم جن بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کہاں گئے کیا وہ تمہاری عذاب الہی سے حفاظت کرسکتے ہیں یا عذاب الہی سے خود کا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
وَقِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”یَنْتَصِرُوْنَکُمْ“ ”اِنْتَصَرَ یَنْتَصِرُ“ (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں، یا تمہارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380
وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفت الجنۃ للمتقین “ سے مراد ہے کہ جنت قریب کردی جائے گی۔
2۔ ابن ابی شیبہ نے نبی ح کعب کی بیوی کے بیٹے سے روایت کیا کہ جنت کو قریب کردیا جائے گا پھر اس کو آراستہ کیا جائے گا پھر وہ دیکھیں گے اس کی طرف اللہ کی مخلوق میں سے خواہ مسلمان ہو خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر دو آدمی نہ دیکھیں گے وہ آدمی جس نے قتل کیا ہوگا کسی مومن کا جان بوجھ کر اور ایک وہ آدمی جس نے کسی ذمی کو قتل کیا ہوگا جان بوجھ کر۔
Read the full tafseer →وَقِيْلَ [ اور کہا جائے گا ] لَهُمْ [ ان سے ] اَيْنَ مَا [ کہاں ہیں وہ جن کی ] كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ عبادت کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
دوزخ میں گمراہوں کا پچھتانا اور آپس میں جھگڑنا نیز دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
ان آیات میں اولاً تو قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس دن متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہ لوگوں کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی جس کی وجہ سے اہل ایمان خوش ہوجائیں گے اور اہل کفر ڈر جائیں گے ثانیاً یوں فرمایا کہ کافروں سے سوال کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ تمہیں تو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، وہ یہاں تمہاری مدد نہیں کرسکتے تمہاری تو کیا مدد کرتے عذاب میں خودمبتلا ہونے والے ہیں اس سے اپنے کو بچا نہیں سکتے اس گفتگو کے بعد ان مشرکوں کو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
40:۔ ان مشرکوں اور ان کو گمراہ کرنے والوں کو اور ابلیس کے سارے لشکر کو جو انسانوں کو گمراہ کرتا رہا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ” قالوا وھم فیھا یختصمون “ مشرکین جہنم میں داخل ہونے کے بعد معبودان باطلہ سے جھگڑیں گے اور حسرت و ندامت سے اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے اور معبودان باطلہ سے کہیں گے کہ ہم تو بہت بری گمراہی میں تھے جب استحقاق عبادت میں تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے ” وما اضلانا الا المجرمون “ اور ہماری گمراہی کا سبب مشرک پیشوا بنے انہوں ہی ہمیں گمراہ کیا المجرمون من دعاھم الی عبادۃ الاصنام من الجن والانس (بحر ج 7 ص 27)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
ربط آیات
اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ لَہُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ 92ۙ
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
وَقِیْلَ لَہُمْ اَیْنَمَا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط ھَلْ یَنْصُرُوْنَـکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 92، 93)
(اور ان سے کہا جائے گا کہ اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنا بچائو کریں گے ؟ )
نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے کے ہیں اور انتصارکا معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔
جہنم میں جانے والوں سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں جن لوگوں کی اس خیال سے پیروی کرتے رہے کہ وہ قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے اور تمہیں ہر طرح کے عذاب سے بچا لیں گے۔ بتائو کیا آج وہ تمہاری مدد کریں گے یا کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
فہم القرآن
ربط کلام : گمراہ لوگوں سے قیامت کے دن سوال۔
حساب و کتاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد گمراہ لوگوں سے سوال کیا جائے گا کہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کسی قسم کا بدلہ لے سکتے ہیں ؟
قیامت کے دن گمراہ پیر اور ان کے مرید، عابد اور معبود لیڈر اور ان کے ور کروں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر کے کہا جائے گا کہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا پھر عابد اور معبود تمام کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے جن کے قول وعمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
92: وَقِیْلَ لَھُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ھَلْ یَنْصُرُ وْنَکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ (اور ان سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سواتم جن کی پوجا کرتے تھے۔ وہ کہاں ہیں کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا وہ خود محفوظ ہوسکتے ہیں) ان کو شرک پر تو بیخ کرتے ہوئے کہا جائے گا این الہتکم ؟ تمہارے معبود کہاں ہیں کیا وہ مدد کر کے تمہیں نفع پہنچائیں گے ؟ یا کیا اپنے آپ کو اپنے غلبہ سے فائدہ پہنچا سکیں گے ؟ کیونکہ وہ اور ان کے معبود آگ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
تفسیر۔
92، 93۔ وقیل لھم، قیامت کے دن ، اینما کنتم تعبدون، من دون اللہ ھل ینصرونکم، وہ تمہیں عذاب سے نہیں روک سکیں گے۔ او ینتصرون، یا خود محفوظ ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →54 مشرکوں کی تذلیل و توبیخ کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز کہا جائیگا ان سے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کی تم لوگ پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟ "۔ کیا وہ تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں یا وہ خود اپنی ہی کوئی مدافعت کرسکتے ہیں۔ اس سے مراد صرف لکڑی پتھر کے بت ہی نہیں جس طرح کہ اہل بدعت نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس میں ہر وہ معبود باطل داخل ہے جس کی دنیا میں پوجا کی گئی ہو۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے مصنوعی اور بےجان بت ہوں یا انسانوں وغیرہ کی شکل میں وہ ہستیاں جن کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا گیا ہو۔ اس امید پر کہ کل یہ ہستیاں ہمارا کام بنادیں گی۔ کیونکہ ایک تو کلمہ { ما } عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
7 ۔ یا ” انہیں اس میں ایک دوسرے کے اوپر دھکیل دیا جائے گا۔ “ یا ” انہیں اس میں ایک جگہ جمع کردیا جائیگا “ لفظ ” کبکبوا “ کے یہ سارے معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:92) اینما : این اور ما سے مرکب ہے این کہاں۔ ما موصولہ ہے کہاں ہیں (جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ف 2: یعنی اللہ کے نیک بندے اس کے مقام فضا کے بالکل قریب ہوں گے ۔ وہ دیکھیں گے ۔ کہ جنت کی تمام نعمتیں ان کے سامنے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں ۔ جنہوں کے دنیا میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نہ الفت کی ۔ اور شرک کی لعنتوں میں گرفتار رہے ۔ اپنے کو جہنم کے نزدیک تر پائیں گے ۔ اور محسوس کریں گے ۔ کہ جہنم ان کے روبرو منہ کھولے کھڑا ہے ۔
Read the full tafseer →(92) اور ان منکروں اور گمراہوں سے کہاجائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں یعنی بتائو و ہ تمہارے معبودان باطلہ کہاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–102
ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم عبادت کیا کرتے تھے :
92۔ (اینما) استفہام کے لئے استعمال ہوتا ہے ، دوزخ میں داخل ہونے والوں سے سوال کیا جائے گا کہ جن جن کو تم نے اللہ کے شریک بنا رکھا تھا اور ان کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ اس کی تفصیل پیچھے کتنے ہی مقامات پر گزر چکی ہے ان مقامات میں سے کسی ایک یا سب مقامات کو ایک بار دیکھ لیں انشاء اللہ اس کی حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی ۔ (اینما) کا لفظ قرآن کریم میں 9 بار استعمال ہوا ہے چار بار (اینما) اکٹھا اور پانچ مقامات پر (این ما) کے رسم الخط میں آیا ہے لیکن دونوں کے معنی میں کوئی فرق نہیں ، مفسرین نے جو موشگافیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
68 Kubkibu in the Text has two meanings: (1) They will be hurled into Hell one upon the other; and (2) they will go on rolling down into the depths of Hell.
Read the full tafseer →