Explained with ayahs 90–104
نیک لوگ اور جنت
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة الشُّعَرَآء 68
اصل میں لفظ کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 95-94
کتب کے منی منہ کے بل گرانے اور پچھاڑنے کے ہیں۔ اسی سے کبکب ہے جس کے انذر حرف کی زیادتی نے مبالغہ کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ یعنی اس تفضیح کے بعد وہ اور ان کے سارے اصنام والہہ اور ان کے وہ لیڈر جن کی انہوں نے پیروی کی اور ابلیس کا سارا لشکر جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →94-1یعنی معبودین اور عابدین سب کو مال ڈنگر کی طرح ایک دوسرے کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
19: یعنی ان گمراہوں کے ساتھ ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی دوزخ میں ڈالا جائے گا، ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنہوں نے خود اپنی خدائی کا دعوی کیا تھا، اور بعض پتھر کے بت ہیں، ان کو یہ دکھانے کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا کہ جن کو یہ گمراہ لوگ معبود سمجھتے تھے، ان کا حشر بھی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
وازلفت ……من المومنین (98)
جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–101
1 یعنی بت اور بت پرست اور ابلیس کا سارا لشکر، سب کو دوزخ میں اوندھے منہ گرا دیا جائے گا۔ وہاں پہنچ کر آپس میں جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو الزام دے گا اور آخرکار اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے کہ واقعی ہم سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ تم کو (یعنی بتوں کو یا دوسری چیزوں کو جنہیں خدائی کے حقوق و اختیار دے رکھے تھے) رب العالمین کے برابر کردیا۔ کیا کہیں یہ غلطی ہم سے ان بڑے شیطانوں نے کرائی، اب ہم اس مصیبت میں گرفتار ہیں نہ کوئی بت کام دیتا ہے نہ شیطان مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ خود ہی دوزخ کے کندے بن رہے ہیں۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہ خدا کے یہاں ہماری سفارش کر دے یا کم ازکم اس آڑے وقت میں کوئی دوست دلسوزی و ہمدردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”
جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
67 اہل دوزخ کو دوزخ میں پھنکنے کا طریقہ یہ ہوگا پہلے ایک دوزخ کو اوندھے منہ دوزخ میں پھینکا جائے گا، اوپر سے دوسرے کو، پھر اوپر سے تیسرے کو، گویا ان کو دوزخ میں اس بیدردی سے پھینکا جائے جیسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو پھینکا جاتا ہے۔ اور دوزخ میں یوں پھینکے جانے والے لوگ تین طرح کے ہوں گے ایک مشرک لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے، دوسرے ان کے معبود، خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان تاکہ مشرکوں کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ اور۔۔ ابلیس کے لشکر جو ان کی گمراہیوں کا اصل سبب بنے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
68۔ یہ کہنے والے وہی مشرکین اور دیوی دیوتاؤں کے بچاری ہوں گے، اور ان سے کہیں گے جنہیں دنیا میں وہ دیوتا دیوی، ٹھاکر، اوتار وغیرہ مانتے رہے تھے، (آیت) ” وھم فیھا یختصمون “۔ اہل دوزخ، عابد و معبود، برابر باہم لڑتے، جھگڑتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →فکبکبوا فیہا پھر اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کبکبوا کا ترجمہ کیا دوزخ میں ان کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ مجاہد نے ترجمہ کیا اوندھا منہ گرا دیا جائے گا۔ مقاتل نے کہا پھینک دیا جائے گا۔ زجاج نے کہا ایک کو دوسرے پر ڈال دیا جائے گا۔ قتیبی نے کہا سر کے بل ڈال دیئے جائیں گے قاموس میں ہے کبہ اس کو الٹ دیا جیسے اکبہ اور کَبْیَکَبَہٗ فَاکَبَّاس کو الٹ دیا پھر وہ الٹ گیا اس مثال میں اَکْبَّلازم ہے۔ یعنی کَبَّاور کبکب کا ایک ہی معنی ہے۔ بیضاوی نے کہا ہے کبکب میں کاف کی تکرار تکرار معنی کے لئے ہے گویا مطلب یہ ہوگا کہ جس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا وہ لڑھکتا ہوا تہ میں پہنچ جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94۔ 95) پھر یہ کہہ کر کفار مکہ اور تمام کافر خواہ انسانوں میں سے ہوں یا جنات میں سے اور ابلیس کا لشکر سب کے سب دوزخ میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فَكُبْكِبُوْا فِيْهَا هُمْ وَالْغَاوٗنَ۔۔ : ”کَبَّ یَکُبُّ“ منہ کے بل گرانا۔ ”کَبْکَبَ“ میں لفظ کے تکرار سے معنی میں تکرار پیدا ہو رہا ہے، بار بار گرانا۔ یعنی ان کے باطل معبود اوندھے منہ جہنم میں ایک دوسرے کے اوپر بار بار گرائے جائیں گے، یعنی جب انھیں اوندھے منہ ڈالا جائے گا تو بار بار ٹھوکریں کھاتے ہوئے، الٹ پلٹ ہوتے ہوئے نیچے گرتے جائیں گے، حتیٰ کہ اس کی گہرائی تک پہنچ جائیں گے۔ ان کے ساتھ ان کی عبادت کرنے والے گمراہ لوگ اور ابلیس کے تمام لشکر بھی اسی طرح گرائے جائیں گے۔ بتوں کا ذکر پہلے فرمایا، تاکہ پوجنے والوں کو انھیں پہلے گرتے ہوئے دیکھ کر مزید عبرت ہو۔ ابلیس کے لشکروں سے مراد اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(وازلفت الجنۃ للمتقین۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ صحیح مسلم، باب فی صفۃ الجنۃ، جلد 2 ص 380
وازلغت الجتۃ للمتقین یعنی جنت قریب کردی گئی تاکہ وہ اس میں داخل ہوں۔ زجاج نے کہا : ان کا اس میں داخل ہونا قریب ہوگیا۔ وبزرب الجحیم اور جہنم ظاہر کردی گئی للغوین ان کافروں کے لیے ہے جو ہدایت سے گمراہ ہوئے، یعنی جہنم جہنمیوں کے لیے ان کے دخل ہونے سے پہلے ظاہر کردی جائے گی یہاں تک کہ وہ خوف اور حزن محسوس کریں گے جس طرح جتنی محسوس کریں گے کیونکہ انہیں علم ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
وقیل لھم ایتما کنتم تعبدون۔ من دون اللہ، من دون اللہ سے مراد بہت اور شریک ہیں۔ ھل ینصرونکم کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
1۔ ابن جریر وابن المنذنر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی وہ جہنم میں جمع کیے جائیں گے آیت ” ہم والغاوٗن “ سے مراد ہے عرب کے مشرکین اور ان کے معبود باطلہ
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکو فیہا “ سے مراد ہے کہ وہ پھینکے جائیں گے۔
3۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فکبکبوا فیہا “ یعنی آگ میں ڈالے جائیں گے۔” ہم “ یعنی معبود باطل ” والغاون “ یعنی قریش کے مشرکین آیت ” وجنود ابلیس “ سے مراد ہے ابلیس کی اولاد۔
4۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →فَكُبْكِبُوْا [ پھر پھینکے جائیں گے ] فِيْهَا [ اس میں ] هُمْ [ وہ سب ] وَالْغَاوٗنَ [ اور گمراہ ہونے والے ]
ک ب ک ب
(رباعی) کبکبۃ الٹا پچھاڑنا۔ گڑھے میں پھینکنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 94 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–105
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
40:۔ ان مشرکوں اور ان کو گمراہ کرنے والوں کو اور ابلیس کے سارے لشکر کو جو انسانوں کو گمراہ کرتا رہا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ” قالوا وھم فیھا یختصمون “ مشرکین جہنم میں داخل ہونے کے بعد معبودان باطلہ سے جھگڑیں گے اور حسرت و ندامت سے اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے اور معبودان باطلہ سے کہیں گے کہ ہم تو بہت بری گمراہی میں تھے جب استحقاق عبادت میں تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے ” وما اضلانا الا المجرمون “ اور ہماری گمراہی کا سبب مشرک پیشوا بنے انہوں ہی ہمیں گمراہ کیا المجرمون من دعاھم الی عبادۃ الاصنام من الجن والانس (بحر ج 7 ص 27)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
ربط آیات
اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی…
Read the full tafseer →فَكُبْكِبُوْا فِيْہَا ہُمْ وَالْغَاوٗنَ 94ۙ
كب
الْكَبُّ : إسقاط الشیء علی وجهه . قال عزّ وجل : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ
[ النمل/ 90] . والإِكْبَابُ : جعل وجهه مَكْبُوباً علی العمل . قال تعالی: أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22]
والکَبْكَبَةُ :
تدهور الشیء في هوّة . قال : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] . يقال كَبَّ وكَبْكَبَ ، نحو : كفّ وكفكف، وصرّ الرّيح وصرصر .
والکَوَاكِبُ :
النّجوم البادية، ولا يقال لها كواکب إلّا إذا بدت . قال تعالی: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76] ، وقال : كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فَـکُبْکِبُوْا فِیْھَا ھُمْ وَالْغَاوٗنَ ۔ وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 94، 95)
(پھر وہ اس میں اوندھے جھونک دیئے جائیں گے وہ بھی اور دوسرے سارے گمراہ بھی۔ اور ابلیس کی ساری فوجیں بھی۔ )
صاحبِ قاموس کا خیال ہے کہ کَبَّ ، اَکَبَّ ، وَکَبْکَبَ سب کا ایک ہی معنی ہے۔ یعنی سر کے بل اوندھا کرکے نیچے پھینک دینا۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں کہ کَبَّ و مکرر کرکے کَبْکَبَ بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انھیں دوزخ میں پھینکا جائے گا تو لڑھکنیاں کھاتے ہوئے نیچے جا گریں گے۔ کَبْکَبَمیں چونکہ حروف کی زیادتی ہے اس لیے اس میں مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔
گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا۔
جہنمی جب جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے اور ایک حقیقت کا اعتراف کروانے اور ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے کے لیے انہیں آمنے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ مرید اپنے پیروں سے، ور کر اپنے لیڈروں سے، مقتدی اپنے اماموں سے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنے کی کئی صورتیں ہیں بڑوں کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا دینوی مفاد کی خاطر ان کے غیر شرعی حکم ماننا اور عقیدت میں ان کی ایسی تعظیم کرنا جس سے شریعت نے منع کر رکھا ہے۔ جہنمی…
Read the full tafseer →94: فَکُبْکِبُوْا (پس ان کو اوندھے منہ) اوندھے منہ یا ایک دوسرے پر ان کو پھینکا جائے گا۔ فِیْھَا (جہنم میں) ھُمْ یعنی (معبود) وَالْغَاوٗنَ (اور گمراہ) اور جن کی پوجا ان لوگوں نے کی ان کے لئے جہنم ظاہر کی جائے گی۔ الکبکبۃؔ: بار بار اوندھا کرنا۔ لفظ کب کو دوبارہ لانا یہ معنی میں تکریر کی علامت ہے گویا جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ان کو بار بار اوندھا کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے پیندے میں جار کے گا۔ نعوذ باللہ منھا۔
Read the full tafseer →آیت فکبکبوا میں تفسیری اقوال ۔
94۔ فکبکبوفیھا۔ ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا، دوزخ میں ان کو جمع کیا جائے گا، مجاہد کا قول ہے کہ ان کو اوندھا منہ گرادیاجائے گا، مقاتل کا بیان ہے کہ پھینک دیاجائے گا، زجاج نے کہا کہ ایک کو دوسرے پر ڈال دیاجائے گا، قتیبی نے کہا کہ سر کے بل ڈال دیے جائیں گے ، ھم الغاو ون، اس سے مراد شیاطین ہیں۔ قتادہ مقاتل کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد جن کا کفر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
55 مشرکوں کے نہایت ہولناک انجام کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ان کو بھی اور ان گمراہوں کو بھی اور ابلیس کے سب لشکروں کو بھی "۔ کیونکہ یہ سب مجرم تھے۔ پوجا پاٹ کرنے والے بھی اور کرانے والے بھی۔ اس لئے ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور معبودوں کو ان عابدوں سے پہلے اس میں اس لئے ڈالا جائے گا کہ ایک تو وہ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوئے تھے اور وہ اس ضلال و فساد کا اصل منبع ومصدر تھے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح عابدوں کی وہ سب آرزوئیں اور تمام امیدیں ختم ہو کر رہ جائیں گی جو انہوں نے اپنے ان خودساختہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
7 ۔ یا ” انہیں اس میں ایک دوسرے کے اوپر دھکیل دیا جائے گا۔ “ یا ” انہیں اس میں ایک جگہ جمع کردیا جائیگا “ لفظ ” کبکبوا “ کے یہ سارے معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:94) فکبکبوا :تعقیب کا ہے کبکبوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب الکب کے معنی کسی کو منہ کے بل گرانے کے ہیں جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فکبت وجوہہم فی النار (27:90) تو ان کو منہ کے بل اوندھا آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ الکبکبۃ کسی چیز کو اوپر سے لڑھکاکر گڑھے میں پھینک دینا۔ کب ثلاثی مجرد۔ کبکب رباعی مجرد۔ دونوں ایک ہی معنی میں مستعمل ہیں لیکن رباعی مجرد میں آکر معانی میں مبالغہ کا عنصر پایا جاتا ہے ۔ کبکبوا فیہا۔ ای القوافی الجحیم علی وجوہہم مرۃ بعد اخری الی ان یستقروا فیہا کے معنی ہوئے کہ ان کو بار بار منہ کے بل دوزخ میں گرایا جائے گا۔ تاآنکہ اس کی گہرائی میں جا ٹکیں گے۔ فیہا میں ھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–101
(ف 2) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کیے ہیں جنت قریب لائی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ سامنے ظاہر کی جائے گی اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل دہل جائیں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن یہ کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جائیں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا۔ جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے توبہکنے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ اے جھوٹے معبودو تم کو ہم عبادت میں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے پھر اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–102
[18] لیکن ان کا یہ کہنا سراسر جھوٹ ہے۔ چناچہ سورة انعام آیت نمبر 28 میں ارشاد ہوا ہے کہ '' اگر یہ واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی یہ وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا۔ اور یقینا یہ جھوٹے ہیں ''۔
Read the full tafseer →فکبکبو : کے معنے برتن کو اوندھا کردینے کے ہیں ۔ اور کبکب اسی کی تضعیف ہے ۔
Read the full tafseer →(94) پھر وہ خود ساختہ معبود اور ان کے پجاری اور پوجنے والے گمراہ لوگ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–102
ف 6۔ یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ہوگئی، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →سرکشوں کو دوزخ میں اوندھا کرکے ڈال دیا جائے گا :
94۔ زیر نظر آیت میں گزشتہ پکارے جانے والے جن معبودان باطل کا ذکر جاری تھا اس کے متعلق ہمارے مفسرین کے درمیان ایک جھگڑا چل رہا ہے ، ایک فریق خصوصا وہ جو اس وقت اپنے آپ کو سواد اعظم کے نام سے موسوم کرتا ہے اور آج کل لوگ ان کو رضا خانی کہتے ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ سارے ” من دون اللہ “ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے یہ بت ہیں جن کو کفار ومشرکین پوجتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے لیکن دوسرا فریق اگرچہ وہ چھوٹا ہے وہ کہتا ہے کہ ان سے مراد سب لوگ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اس رنگ میں پیش کیا کہ مذہبی رہنما ہیں اور اس لحاظ سے ہمیں پروانہ مل چکا ہے کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
68 Kubkibu in the Text has two meanings: (1) They will be hurled into Hell one upon the other; and (2) they will go on rolling down into the depths of Hell.
Read the full tafseer →