Explained with ayahs 1–9
تعارف قرآن کریم
پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 6
یعنی اس کی قدرت تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے، اور عمر بھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کردینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
زَوْجٍ كَرِيْمٍ ، زوج کے لفظی معنے جوڑے کے ہیں اسی لئے مرد و عورت، نر و مادہ کو زوج کہا جاتا ہے بہت سے درختوں میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں ان کو اس مناسبت سے بھی زوج کہا جاسکتا ہے اور کبھی لفظ زوج ایک خاص نوع اور صنف کے معنی میں بھی آتا ہے اس معنے کے لحاظ سے درختوں کی ہر نوع کو زوج کہا جاسکتا ہے اور کریم کے معنی ہیں عمدہ اور پسندیدہ چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 9-8
یعنی اگر یہ کسی نشانی ہی کے طالب ہیں تو اس سے بڑی نشانی اور کیا چاہئے ! یہاں ان تمام دلائل توحید و قیامت و جزا کو ذہن میں مستحضر کر لیجیے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں اور جن کی شہادت میں قرآن نے زمین کو انہی نعمتوں اور برکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ آگے سورة لقمان کی آیت 10 اور سورة سجدہ کی آیت 27 کے تحت اس مضمون کی پوری وضاحت ہوجائے گی۔
وما کان اکثر ھم مئومنین یعنی یہ بات نہیں ہے کہ نشانیوں کی کمی ہے۔ نشانیوں سے تو اس زمین کا چپہ چپہ معمور ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کا کیا علاج !
خدائے عزیز ورحیم کی سنت امہال
وان ربک لھو العزیز الرحیم یہ وہی اوپر والی بات اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →9-1یعنی ہر چیز پر اس کا غلبہ اور انتقام لینے پر وہ ہر طرح قادر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم بھی ہے اس لئے فوراً گرفت نہیں فرماتا بلکہ پوری مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد مؤاخذہ کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔
Read the full tafseer →و……الرحیم (9)
۔ “ یعنی وہ زبردست ہے اور قسم قسم کی معجزانہ مخلوق کی پیدائش ، قسم قسم کے معجزات دکھانے اور مکذبین اور منکرین کو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور وہ الرحیم بھی ہے کہ وہ اپنی کتاب میں اپنی مخلوقات میں سے۔ ان عجائب وغرائب کی کو پیش کرتا ہے اور دلائل و معجزات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اس طرح جن کا دل مائل بہدایت ہوتا ہے وہ ایمان لے آتے ہیں اور پھر وہ مکذبین کو بھی مہلت دیتا ہے اور جب تک ان کے پاس کوئی واضح پیغام دینے والا نہیں بھیجتا۔ اس وقت تک سزا بھی نہیں دیتا۔ حالانکہ اس کائنات کے نشانات میں بہت ہی وافر مقدار میں چیزیں موجود ہیں۔ مزید کسی دلیل وبرہان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ…
Read the full tafseer →7 یعنی زبردست تو ایسا ہے کہ نہ ماننے پر فوراً عذاب بھیج سکتا تھا، مگر رحم کھا کر تاخیر کرتا ہے کہ ممکن ہے اب بھی مان لیں۔ آگے عبرت کے لیے مکذبین کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں جن سے ظاہر ہوگا کہ خدا نے ان کو کہاں تک ڈھیل دی، جب کسی طرح نہ مانے تو پھر کیسے تباہ و برباد کیا۔ ان میں پہلا قصہ قوم فرعون کا ہے جو پیشتر سورة " اعراف " اور سورة " طہٰ " وغیرہ میں بالتفصیل گزر چکا۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”
یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ…
Read the full tafseer →7 یعنی اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایسے ضدی اور معاند لوگوں کو فوراً صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ مگر چونکہ وہ رحیم بھی ہے۔ لہذا وہ انھیں فوراً تباہ نہیں کردیتا بلکہ سمجھنے، سوچنے اور سنبھلنے کے لئے مہلت دیئے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →7۔ (اور اس کی رحمت عام دنیا میں کافروں سے بھی متعلق ہے۔ اس لیے باوجود کمال قدرت انتقام اس نے انہیں مہلت دے رکھی ہے) (آیت) ” العزیز الرحیم “۔ صفت عزیز کا تقاضا یہ تھا کہ سب اس کے بس میں ہیں، وہ سب پر غالب ہے، ان مجرموں کو معا ہلاک کرڈالتا۔ لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے۔ اے ھو الغالب القاھر ومع ذلک فانہ رحیم بعبادہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…
Read the full tafseer →وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بلاشک و شبہ آپ کا رب ہی غالب مہربان ہے۔ یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے لیکن مہربان بھی ہے۔
یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے لیکن مہربان بھی ہے اپنی مہربانی سے اس نے مہلت دے رکھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے اور توبہ کرنے والے مؤمنوں پر مہربان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) ان کے رنگوں کے اختلاف میں بھی ایک بڑی نشانی اور عبرت ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، بدر کے دن جتنے مارے گئے سب کے سب کافر تھے اور آپ کا رب سزا دینے میں غالب اور مومنین پر رحم کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : ”اِنَّ“ کے اسم ”رَبَّكَ“ اور خبر ”الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ“ دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے اور درمیان میں ”لَھُو“ ضمیر لانے سے قصر میں مزید زور پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی تیرا رب ہی ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے سوا کوئی غالب نہیں، وہ زبردست قوت والا ہے، جو چاہے کرسکتا ہے، ان کی نافرمانیوں پر انھیں آنکھ جھپکنے میں پکڑ سکتا ہے، مگر وہ ساتھ ہی رحیم بھی ہے، توبہ کرنے پر عمر بھر کی نافرمانیوں کو معاف کردیتا ہے۔ اس لیے انھیں سنبھلنے کے لیے موقع پر موقع دیے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ )
طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →وَاِنَّ [ اور بیشک ] رَبَّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ الْعَزِيْزُ [ یقینا وہ ہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور آپ کا رب عزیز ہے غلبہ والا ہے) منکرین دین اور معاندین یہ نہ سمجھیں کہ ہم یوں ہی انتقام اور عذاب سے چھوٹے ہوئے رہیں گے نیز اللہ تعالیٰ رحیم بھی ہے جو لوگ ابھی کفر و شرک سے باز آجائیں ایمان قبول کرلیں ان پر رحم فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6:۔ تیرا پروردگار بڑا زبردست ہے وہ جب چاہے منکرین کو پکڑ لے، لیکن وہ رحیم و مہربان ہے اس لیے مجرموں کو مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں سوچنے سمجھنے کا مزید موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ کافروں سے انتقام لینے میں زبردست اور توبہ کرنے والوں کے لیے مہربان ہے۔ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ربط آیات
اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 9ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔
ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 9)
(اور بیشک آپ کا رب بہت زبردست بھی ہے اور مہربان بھی۔ )
غلط فہمی کا ازالہ
انسانوں کی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بےاعتنائی اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت سے سرکشی اور تمرد تو قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ لیکن جب اس طرف سے کوئی گرفت نہیں ہوتی تو انسان سرکشی میں اور بڑھ جاتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں۔ پروردگار اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرما رہا ہے کہ تمہارا رب عزیز یعنی غالب ہے۔ وہ اگر کسی کو سزا دینا چاہے تو کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ وہ ایسا زبردست ہے کہ ہر چیز اس سے پناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فہم القرآن
ربط کلام : چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ عنقریب ان کے پاس وہ خبریں یعنی واقعات بیان کیے جائیں گے، کہ جن قوموں نے توحید کے دلائل اور اپنے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا سنیں ان میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی تھے جنہیں موسیٰ نے ان الفاظ میں سمجھایا اور ڈرایا تھا۔
اے پیغمبر ﷺ ! وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ جو فرعون کی قوم ہے انھیں سمجھاؤ کہ وہ اپنے رب سے ڈر جائیں۔ اس موقعہ پر موسیٰ نے یہ عذر پیش کیا الٰہی مجھ سے ان کا بندہ قتل ہوگیا اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے واقعہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8، 9: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے) یعنی ان اوصاف کے ثابت کرنے میں قدرت الہی کی نشانی ہے کہ ان کا اگانے والا مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثریت کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ ان سے ایمان کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کا رب غالب ہے۔ ) کفار سے اپنے انتقام میں الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) ان کے لئے جو ان میں سے ایمان لائیں۔ ایۃؔ کا لفظ واحدلایا گیا حالانکہ ان کی کثرت کی خبر دی۔ کیونکہ ذلک سے انبتناؔ مصدر…
Read the full tafseer →تفسیر۔
9۔ وان ربک لھوالعزیز ، ، یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ الرحیم، اور توبہ کرنے والوں پر مہربان بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تفسیر سورة الشعراء
آیت 1 سے 9
اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…
Read the full tafseer →8 رب تعالیٰ کی صفت عزیز و رحیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست اور انتہائی مہربان ہے "۔ پس چونکہ وہ عزیز ہے اس لئے کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے نکل نہیں سکتا۔ لیکن چونکہ مہربان بھی ہے اس لئے وہ سرکشوں کی فوری گرفت نہیں فرماتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دئیے جاتا ہے۔ اور صرف ڈھیل ہی نہیں بلکہ اس کی رحمت سامانیوں کا یہ عالم ہے کہ بڑے سے بڑا گنہگار بھی اگر سچے دل سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوجائے تو وہ اس کے عمر بھر کے گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
دعوت توحید کی صداقت کی نشانیاں
تشریح : اس کی تشریح ہم روس کے مشہور ادیب و فلسفی ٹالسٹائی کی زبانی کرتے ہیں جو مذہب سے پھرجانے کے بعد دوبارہ ایمان لایا تو اس کی مدد قدرت کے ان نظاروں نے ہی کی جو ہمارے چاروں طرف بیشمار پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی کتاب ” اے کنفیشن “ "A. Confession" میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے۔” نوع انسانی کسی نہ کسی ایمان کے سہارے جی رہی ہے اور اسی سے منزل کا تعین ہوتا ہے انسانی نفس کی گہرائیوں میں ایک لامحدود فیاض اور بےمثال اللہ کا تصور موجود ہے ‘ جس سے رابطہ ہونے کے بعد دل کو سکون ملتا ہے۔ اللہ سے منحرف ہونے کے بعد میں ایک شام ایک حسین جنگل میں پھر رہا تھا۔ ہر طرف سے پر اسرار آوازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر اسرار التنزیل جلد 05
سورۃ شعراء
اسرار و معارف
سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
11 ۔ یعنی وہ زبردست قوت والا ہے۔ وہ انہیں جو چاہے اور جب چاہے سزا دے سکتا ہے۔ مگر وہ رحم والا بھی ہے۔ لہٰذا انہیں سنبھلنے کے لئے موقع پر موقع دیئے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔ اس کے بعد عبرت کے لئے چند واقعات بیان فرمائے جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کی تکذیب و استہزا کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے آیت سابقہ ” فسوف یاتیھم انبا ما کانو بہ یستھزٔون “ کی تقریر و تائید مقصود ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:9) العزیز۔ زبردست۔ غالب ۔ گرامی قدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 :
الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 :
سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکوں نے قرآن کی آیتوں کو جھٹلانے کے طور پر مسخراپن سے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اور قرآن حق ہے تو ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کامینہ برسے۔ آخر اس شرارت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں زیادہ ذلیل ہوناپڑا۔ اس بات کی حقیقت معلوم ہوگئی جس کو وہ ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے تھے پھر فرمایا کیا منکروں نے زمین کی نشانی کو نہیں دیکھا ہے کہ اس پروردگار کی قدرت جس نے زمین میں قسم قسم کی چیزیں عمدہ سے عمدہ اگائی ہیں یہ منکرین اگر خدا کی نشانیاں دیکھنا چاہیں تو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں زمین کی جڑی بوٹیوں کو دیکھیں کہ کس حکمت سے کس کاریگر نے پیدا کی ہیں باوجود ایسی نشانیوں کے دیکھنے کے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
[3] زبردست ہے کہ چاہے تو مجرموں کو فوراً سزا دے دے لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے کہ باوجود قدرت انتقام کے وہ سوچنے اور سنبھلنے کی مہلت دئیے جاتا ہے اور عمربھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 1: مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ والوں کی گھٹی میں انکار و اتحاد کے جراثیم ہیں ۔ ان کے لئے قرآن حکیم کی کوئی آیت بھی موجب ہدایت و برکت نہیں ۔ جب قرآن نازل ہوتا ہے ۔ ان کا اغراض اور پہلو تہی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور یہ مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی میں حقائق کو ٹال دیتے ہیں ۔
ارشاد ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اللہ کے کلام سے استہزاء کرنے کی سزا کس درجہ کڑی اور سخت ہے ۔
اولم یروا الی الارض ۔ سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کوتاہ نظر ہیں ۔ اگر یہ زمین کی گونا گوں انگڑرایوں پر غور کرتے اور نباتات کے انواع و اقسام اور نفاست کو دیکھتے ۔ تو انہیں معلوم ہوجاتا ۔ کہ فطرت ہمہ افادہ ہے ۔ اور اس کی پیدا…
Read the full tafseer →(9) اور بیشک آپ کا پروردگار ہی کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔
جب ان صاف اور کھلے دلائل پر توجہ نہیں کرتے اور ان میں کے اکثر ایمان نہیں لاتے تو معلوم ہوتا ہے سخت معاند اور متعصب ہیں پھر ان کے پیچھے غم سے جان دینے میں کیا فائدہ اور آپ کا پروردگار کمال قوت کا مالک ہے چاہے تو ابھی ان کی گرفت کرسکتا ہے لیکن قوت کے ساتھ بڑی رحمت والا بھی ہے اس لئے عقوبت میں تعجیل نہیں کرتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نہ ماننے پر جلد عذاب نہیں بھیجتا
Read the full tafseer →ف 4۔ اس کی رحمت عامہ دنیا میں کفار سے بھی متعلق ہے، اس کا اثر یہ ہے کہ ان کو مہلت دے رکھی ہے، ورنہ کفر یقینا مزموم اور مقتضی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ تیرے رب غالب آنے والا نہایت ہی مہربان ہے :
9۔ تیرا پروردگار بہت ہی غالب آنے والا اور بہت ہی قوت والا ہے جسے چاہے پل بھر میں نیست نابود کردے اور جسے چاہے برس ہابرس ڈھیل دیتا چلا جائے بلاشبہ اس نے نیست ونابود کرنے اور ڈھیل دینے کے لئے قانون بنایا ہے اور اس قانون کے تحت سب کچھ عمل میں آتا ہے ہمارا ایمان ہے کہ نیست ونابود وہی ہوتا ہے جس کے لئے اس کا مقررہ وقت آجاتا ہے اور ڈھیل پر ڈھیل اسی کو ملتی ہے جس کے لے ڈھیل دینا اس کے حکم میں طے ہے اور دونوں ہی صورتیں اس کی رحمت بےپایاں کا فیضان ہیں ۔ اسی بات پر غور وفکر کرنے والوں کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت اختصار کے ساتھ سنائی جاتی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
زَوْجٍ كَرِيمٍ (noble pair - 26:7). The word زَوْجٍ (zawj) literally means a pair. That is why man and woman, and male and female are called Zawj. Many species of trees have male and female among them. On this basis they can also be called Zawj (زَوْجٍ ). Sometimes the word Zawj is also used for a special kind. On the basis of this meaning all species of trees can be called Zawj. The meaning of Karim is a nice and favourite thing.
Read the full tafseer →6 That is, "He has the power and ability to annihilate completely anyone whom He wills to punish, but it is His mercy that He dces not hasten to punish the wrung-doer, but gives him respite for years and centuries to allow him time to think, understand and mend his ways, and is ever ready to forgive the sins of a lifetime if the sinner offers repentance but once."
Read the full tafseer →