Ash-Shu'araa 26:10

Ash-Shu'araa · from ayah 10

26:10

وَاِذْ نَادٰی رَبُّكَ مُوْسٰۤی اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۙوَاِذۡ نَادٰى رَبُّكَ مُوۡسٰۤى اَنِ ائۡتِ الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏

اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] when your Lord called Moses, [saying], "Go to the wrongdoing people -

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:10

اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس وقت کا حال سنو جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو آواز دے کر کہا تھا کہ : اس ظالم قوم کے پاس جاؤ

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی ؑ کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو آواز دی کہ ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ واقعہ یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ : ظالم قوم کے پاس جاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ ظالم قوم کے پاس جائو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کو وہ داستان عبرت بھی سناؤ کہ جب تمہارے رب نے موسیٰ کو پکار کر فرمایا کہ جاؤ تم ان ظالم لوگوں کے پاس

— مولانا اسحاق مدنی

اور (انہیں اس وقت کا قصہ یاد دلائیے) جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ ؑ کو پکارا کہ تم ان ظالم لوگوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب پکار اتھا آپ ﷺ کے رب نے موسیٰ ؑ کو کہ جاؤ ظالم قوم کے پاس

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تمہارے رب نے موسیٰ سے کہا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Recount to them about the time) when Your Lord called Moses: "Go to the wrong-doing people,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remember) when your Lord called Musa saying, :Go to the transgressing people,

— Muhammad Taqi Usmani

(Remember) when your Lord called Musa saying, :Go to the transgressing people,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when your Lord called Musa (saying): "Go to the people who are wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when thy Lord called Moses, saying: Go unto the wrongdoing folk,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] when your Lord called Moses, [saying], "Go to the wrongdoing people -

— Saheeh International

When Your Lord told Moses to go to the unjust people of the Pharaoh

— Muhammad Sarwar

And when your Lord called out to Musa, saying: Go to the unjust people,

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time thy Lord called unto Musa, saying: go thou unto the wrong-doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, thy Lord called Moses: "Go to the people of iniquity,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 7 اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ اولاً ، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی، بخلاف اس کے نبی ﷺ قریش کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

خلاصہ تفسیر اور (ان لوگوں سے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جب آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالم لوگوں کے یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ (اور اے موسیٰ دیکھو) کیا یہ لوگ (ہمارے غضب سے) نہیں ڈرتے (یعنی ان کی حالت عجیب اور شنیع ہے اس لئے ان کی طرف تم کو بھیجا جاتا ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار، (میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں لیکن اس خدمت کی تکمیل کے لئے ایک مددگار چاہتا ہوں کیونکہ) مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو (اپنی پوری بات کہنے سے پہلے ہی) جھٹلانے لگیں اور (طبعی طور پر ایسے وقت میں) میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی اس لئے ہارون کے پاس (بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–12

آگے کا مضمون …آیات 68-10 حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی وہ سرگزشت جس کی طرف پچھلی سورة میں اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا، تفصیل کے ساتھ آرہی ہے۔ یہ سرگزشت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا ہے اور پھر فرعون اور اس کی فوج کی غرقابی پر ختم ہوتی ہے۔ اس دور کے تمام اہم واقعات کی طرف اس میں اشارے ہیں۔ یوں تو اس سرگزشت کا یہ حصہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے بھی سرمایہ تسکین و تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے سبق آموز ہے لیکن سورة کے عمود کے پہلو سے خاص چیز جو اس میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اغراض و شہوات کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10-1یہ رب کی اس وقت کی ندا ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ واپس آرہے تھے، راستے میں انھیں حرارت حاصل کرنے کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی تو آگ کی تلاش میں کوہ طور پہنچ گئے، جہاں نداء غیبی نے ان کا استقبال کیا اور انھیں نبوت سے سرفراز کردیا گیا اور ظالموں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ انکو سونپ دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–17

درس نمبر 162 ایک نظر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–13

آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ” تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد آگے آیات تنزیلیہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اور اس سلسلہ میں اس سورت میں سات اقوام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنہوں نے اپنے رسول کی دعوت قبول کرنے کے بجائے سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور صفحہ ہستی سے ان اقوام کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اور ان آیات کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے کیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آغاز رسالت میں جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ ان حالات سے سنگین تر تھے جو رسول اللہ ﷺ کو پیش آئے تھے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ اس خاندان کے فرد تھے جو کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب بھر میں مقرر و محترم شمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

8۔ (عبرت وموعظت کے لیے) (آیت) ” اذ نادی “۔ اکابر اہل سنت کے درمیان اس پر بحث ہوئی ہے کہ یہ ندا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کان میں آئی کون سی تھی، آیا حق تعالیٰ کا کلام قدیم غیر مخلوق، جیسا کہ امام ابومنصور ماتریدی کا مسلک ہے۔ تفسیر کبیر میں دونوں قول نقل ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین۔ اور جب آپ کے رب نے موسیٰ : ( علیہ السلام) کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالموں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–11

(10۔ 11) اور ان لوگوں سے وہ واقعہ بیان کیجیے جب کہ آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا یا یہ کہ ان کو حکم دیا کہ ان کافر لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ غیر اللہ کی عبادت سے کیوں نہیں ڈرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي : یہاں سے عبرت کے لیے پہلی قوموں کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں، جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کو جھٹلانے اور ان کا مذاق اڑانے کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے پچھلی آیت : (فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) کی تائید اور وضاحت مقصود ہے۔ (شوکانی) اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔ اس کے لیے ابتدا موسیٰ ؑ اور پھر ابراہیم ؑ کے واقعات سے فرمائی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی بہت سی چیزوں میں مشارکت ہے، مثلاً ہجرت، جہاد اور ارض مقدس کو حاصل کرنے کی آرزو وغیرہ۔ موسیٰ ؑ کو وہ کتاب ملی جو قرآن کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–15

(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ ) واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذْ ا [ اور جب ] نَادٰي [ پکارا ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کے رب نے ] مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] اَنِ [ کہ ] ائْتِ [ آپ پہنچیں ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم قوم کے پاس ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا فرعون کے پاس پہنچنا اور گفتگو کرنا یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جو بہت سی آیات پر مشتمل ہے ان میں حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے فرعون کے پاس جانے اور گفتگو کرنے کا تذکرہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ فرعون بنی اسرائیل کا دشمن تھا۔ ان کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور ان کی جو لڑکیاں پیدا ہوتی تھیں انہیں زندہ چھوڑ دیتا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کے دل میں ڈالا کہ اس بچہ کو ایک تابوت میں رکھ کر سمندر میں ڈال دو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل فرعون نے اس تابوت کو پکڑ لیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ یہ پہلی نقلی دلیل ہے جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اول یہ کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ دوم یہ کہ نہ ماننے والوں کو دنیا ہی میں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر حکم دیا کہ اس ظالم قوم یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ۔ ” الا یتقون “ وہ بڑے ہی بیباک ہوچکے ہیں وہ خدا سے نہیں ڈرتے، شرک کرتے، غریبوں پر ظلم ڈھاتے اور تمردو سرکشی میں بد مست ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۝ 10ۙ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–10

واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔ ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

وَاِذْ نَادٰی رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ ط اَلاَ یَتَّـقُوْنَ ۔ (الشعرآء : 10، 11) (یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ جاؤ ظالم لوگوں کے پاس۔ یعنی قوم فرعون کے پاس، کیا وہ ڈریں گے نہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت قریش اور دیگر اہل مکہ کو ان کے عبرتناک انجام سے متنبہ کرنے اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حق و باطل کی اس کشمکش میں کامیابی و کامرانی کی نوید سنانے کے لیے آگے چند انبیائے کرام اور ان کی امتوں کی سرگزشتیں بیان کی جارہی ہیں جن میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون اور آل فرعون کی سرگزشت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–10

فہم القرآن ربط کلام : چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ عنقریب ان کے پاس وہ خبریں یعنی واقعات بیان کیے جائیں گے، کہ جن قوموں نے توحید کے دلائل اور اپنے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا سنیں ان میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی تھے جنہیں موسیٰ نے ان الفاظ میں سمجھایا اور ڈرایا تھا۔ اے پیغمبر ﷺ ! وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ جو فرعون کی قوم ہے انھیں سمجھاؤ کہ وہ اپنے رب سے ڈر جائیں۔ اس موقعہ پر موسیٰ نے یہ عذر پیش کیا الٰہی مجھ سے ان کا بندہ قتل ہوگیا اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے واقعہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 10–11

10، 11: وَاِذْ نَادٰی (اور اس وقت کو یاد کرو جب پکارا) نحو : اذؔ یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے ای واذکر اذ نادیؔ (پکارنا ‘ بتلانا) ۔ رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ (تیرے رب نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہ تم جائو) ۔ نحو : یہاں انؔ ای کے معنی میں ہے۔ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (ظالم قوم کے پاس) اپنے نفوس پر کفر کے سبب ظلم کرنے والے اور بنی اسرائیل پر غلام بنانے کی وجہ سے ظلم کرنے والے اور اسی طرح ان کے بچوں کو ظلم کے طور پر قتل کر کے ان پر ظلم کی دستاویز لکھ دی۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ القوم الظالمین کا عطف بیان ہے گویا قوم ظالمین کا معنی اور ترجمہ ہی قوم فرعون ہے اور گویا دو عبارتیں یکے بعد دیگرے ایک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ واذا نادی ربک موسی، یعنی اس واقعہ کو یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا تھاموسی نے درخت کو اورآگ کودیکھا، اس وقت اللہ نے ان کو ندادی تھی، ان ائت القوم الظالمین، جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کفر اور معیصیت کے ساتھ اور سرائیل کو غلام بنانے والے اور ان کو طرح طرح کا عذاب دلانے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 حضرت موسیٰ کی داستان عبرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب موسیٰ کو آپ کے رب کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ ظالموں کے پاس " یعنی قوم فرعون کے پاس۔ سو اس انداز و اسلوب سے معلوم ہوا کہ ظلم اور ظالمیت میں وہ لوگ اس حد کو پہنچ گئے تھے کہ ظلم ان کا اصل لقب اور ٹائٹل بن گیا تھا۔ اس لئے پہلے ان کو ظالم فرمایا گیا اور پھر قوم فرعون کہہ کر ان کی تعیین و تشخیص فرمائی گئی۔ اور ان کا یہ ظلم بھی ظلم بالائے ظلم تھا کہ ایک طرف تو وہ کفر و شرک کے ارتکاب سے خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ بنی اسرائیل کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

12 ۔ یہ اس واقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر واپس آرہے تھے۔ (دیکھئے سورة طہ : رکوع 1)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:10) وواؤ حرف عطف ہے معطوف علیہ کلام ما قبل ہے اور معطوف وہ کلام ہے جو آگے آر ہی ہے یہ عطف القصہ علی القصہ کی مثال ہے اذ نادی : ای واذکر اذ نادی اور یاد کر جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) یا واذکر لقومک اذ نادی یاد دلا اپنی قوم کو جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) ۔ اذ۔ جب ۔ نادی بمعنی پکارا۔ یا بمعنی امر۔ (حکم دیا) ۔ ان۔ کہ۔ یہ کہ۔ یہ۔ یا تو مصدریہ ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہے یا یہ مفرہ ہے اور بمعنی ای ہے : کہ ائت۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو آ۔ تو پہنچ۔ اثیان (ضرب) سے جانے کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ ملاحظہ ہو (26:16) ائیتا تم دونوں جاؤ۔ القوم الظلمین۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

حضرت موسیٰ کا مطالبہ آزادی 2: حضرت یوسف سے تقریباً چار سو سال بعد بنی اسرائیل کی حالت مصر میں بہت خراب ہوگئی ۔ اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا ۔ کہ ان کی بہتری اور بہبودی کے لئے ایک پیغمبر کو بھیجا جائے ۔ جو ان کی غلامی اور بندگی کی زنجیروں کو توڑا دے ۔ اور جو اپنے الفا میں قدسیہ سے ان لوگوں کے دل میں ایمان کی شمع کو روشن کردے ۔ چناچہ اس خدمت کے لئے حضرت موسیٰ منتخب کیا گیا ۔ اور آپ سے کہا گیا ۔ کہ فرعون کی قوم بہت ظالم ہوچکی ہے ۔ اور اس کی سرکشیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ تم جاؤ۔ اور اس کی رشدوہدایت کی طرف دعوت دو ۔ آخر کیوں ان لوگوں کے دلوں میں نعشیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور ا ے پیغمبر وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ اے موسیٰ تو ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ظالم قوم کی طرف بھیجا گیا : 10۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت پیچھے مختلف مقامات پر گزر چکی ہے اس سرگزشت میں سے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ یاد کریں جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا فرما کر حکم دیا کہ اے موسیٰ ! فرعون کی قوم جو ظلم و زیادتی اور زمین میں فساد پھیلا رہی ہے اس کے پاس جا کر پیغام حق سنا دو ، اب گویا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے کچھ واقعات بیان فرما کر بتایا جارہا ہے کہ جس طرح انہیں قوی اور جابر دشمنوں سے واسطہ پڑا اور ہماری تائید ونصرت سے وہ اپنی بےسروسامانی کے باوجود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

زَوْجٍ كَرِ‌يمٍ (noble pair - 26:7). The word زَوْجٍ (zawj) literally means a pair. That is why man and woman, and male and female are called Zawj. Many species of trees have male and female among them. On this basis they can also be called Zawj (زَوْجٍ ). Sometimes the word Zawj is also used for a special kind. On the basis of this meaning all species of trees can be called Zawj. The meaning of Karim is a nice and favourite thing.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 After a brief introduction, historical events have been presented beginning with the story of Prophet Moses and Pharaoh, and attention has been drawn specifically to the following points: (1) The conditions under which Prophet Moses had to work were much harsher and more severe than those faced by the Holy Prophet Muhammad (Allah's peace be upon him). Prophet Moses belonged to a slave community very much suppressed by Pharaoh and his people. In contrast to them, the Holy Prophet was a member of the clan of Quraish and his family enjoyed an equal status with the other clans. Then Prophet…

Read the full tafseer →